Baaghi TV

Tag: طالبان

  • اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    افغانستان کے وزیراعظم مولوی محمد حسن اخوند نے تمام حکومتوں بالخصوص مسلم ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں۔

    باغی ٹی وی: افغان اردو کے مطابق طالبان کے افغانستان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مقرر کردہ نگراں وزیر اعظم ملا حسن اخوندزادہ نے عہدے سنبھالنے کے 4 ماہ بعد پہلی پریس کانفرنس کی اس اہم پریس کانفرنس میں وزیراعظم ملا حسن اخوند زادہ کے ہمراہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے پروجیکٹس کے انتظامی امور کی نگرانی کرنے والے ارکان بھی موجود تھے۔


    افغان حکومت کی اکنامک کانفرنس میں 20 ممالک کے نمائندوں نے کانفرنس میں شرکت کی، 40 ممالک کے نمائندوں نے کانفرنس کو آن لائن جوائن کیا،افغانستان کی معاشی صورتحال، نجی شعبہ اور بینکنگ سیکٹر کے مسائل پر بات چیت ہوئی-

    افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

    وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند نے کابل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہماری حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے میں پہل کریں، اس افغانستان کو تیزی سے ترقی کرنے میں مدد ملے گی ایسا ہم اپنی سیاست کے لیے نہیں بلکہ افغان عوام کے لیے چاہتے ہیں، افغانستان کے وزیراعظم کے مطابق طالبان نے امن اور سلامتی کی بحالی کے لیے تمام شرائط پوری کی ہیں۔


    وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند نے پہلی اقتصادی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تسلیم کروانے کے لیے طالبان نے دنیا کی تمام شرائط پوری کی ہیں، اب بالخصوص اسلامی ممالک کو طالبان حکومت تسلیم کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔


    وزیراعظم ملا محمد حسن اخند نے کہا کہ جو لوگ ہم پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہیں وہ خود پابندیاں لگا کر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اگر انہیں واقعی انسانی معاشرے کا درد ہے تو آئیں افہام و تفہیم کے ذریعے انسانی مسائل پر قابو پانے کی طرف حقیقی قدم اٹھائیں۔


    وزیراعظم ملا محمد حسن اخند نے کہا کہ ہم عالمی برادری کی انسانی امداد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ افغانستان کو موجودہ بحران پر قابو پانے کے بعد بھی ترقیاتی امداد کی ضرورت ہوگی لیکن ہمیں ترقیاتی امداد کے بارے میں مختلف انداز میں سوچنے کی ضرورت ہے۔


    جبکہ وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ امریکہ افغانستان کے مرکزی بینک کے اثاثوں کو بحال کرے اور افغانستان کو پیسے کی منتقلی میں امدادی تنظیموں اور افغانوں کے لئے تمام رکاوٹیں ختم کرے –


    قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کا اقتصادی کانفرنس میں خطاب کہا کہ افغانستان میں سرمایہ کاری کا اچھا موقع ہے، غیر ملکیوں سرمایہ داروں کو سمجھنا چاہیے کہ امارت اسلامیہ نے تسلیم کی تمام شرائط پوری کی ہیں-


    اقوام متحدہ کی ایلچی ڈیبورا لیونز نے کہا کہ اقوام متحدہ افغانستان کی معیشت کو بحال کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ انسانی امداد ایک عارضی حل ہے۔ معاشی مسائل کو بنیادی طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے مزید کہا کہ خواتین اور لڑکیاں معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں-

    منشیات کےعادی افراد طالبان کے لئے بڑا چیلنج بن گئے

    واضح رہے کہ ابھی تک کسی حکومت نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے، کیونکہ افغانستان نے نئی حکومت میں ایسے کئی افراد کو اپنی عبوری حکومت کو شامل کیا ہے جن کے نام بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

    طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے

    افغانستان میں شدید زلزلہ،12 افراد جاں بحق

  • منشیات کےعادی افراد طالبان کے لئے بڑا چیلنج بن گئے

    منشیات کےعادی افراد طالبان کے لئے بڑا چیلنج بن گئے

    کابل:منشیات کے عادی افراد طالبان کے لئے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا "الجزیرہ” کے مطابق منشیات کے عادی بے گھر افغان منشیات لینے کے لیے پلوں کے نیچے جمع ہوتے ہیں اور طالبان اکثر انہیں پکڑتے اور مار تے پیٹتے ہوئے زبردستی علاج کے مراکز میں لے جاتے ہیں تاکہ سخت سردی کے باعث جانی نقصان سے بچایا جا سکے۔

    طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سینکڑوں ارکان کو برطرف کردیا

    رپورٹ کے مطابق دارالحکومت کابل کے بحالی مرکز میں تقریباً 350 افراد پر مشتمل عملہ ہے اور یہ تقریباً ایک ہزارمریضوں کی دیکھ بھال کررہا ہے جبکہ نئے مریضوں کی آمد کے بعد وسائل محدود ہوگئے ہیں اس کے باوجود طالبان تقریباً 3 ہزار 500 منشیات کے عادی افراد کو بھی اسی بحالی مرکز میں لے آئے ہیں گنتی کے چند بحالی مراکز دوسرے شہروں میں بھی نجی خیراتی ادارے کے تعاون سے چلا رہے ہیں۔

    واں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

    افغانستان ان چند ایک ممالک کے فہرست میں شامل ہے جہاں ہیروئن اور میتھم فیٹامین کی بڑی مقدار موجود ہے، اس میں زیادہ تر دنیا کی بلیک مارکیٹوں میں برآمد کی جاتی ہے۔

    ایک ہسپتال کے سربراہ احمد ظاہر سلطانی منشیات کے عادی افراد کے علاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان نے دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے منشیات کے عادی افراد کو گرفتار کیا اور انہیں کابل میں منشیات کے بحالی سینٹر میں ڈال دیا گیا۔

    طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے

    واضح رہے کہ اس سے قبل شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے طالبان حکومت نے ایسے 2 ہزار 840 ارکان کو برطرف کردیا ہے جو اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث امارت اسلامیہ کی بدنامی کا باعث بن رہے تھے طالبان حکومت کے وزیر لطیف اللہ حکیمی نے عالمی میڈیا کو بتایا کہ عوامی شکایات اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونےوالی معلومات کےبعد ان ارکان کےخلاف شفاف جانچ پڑتال کی گئی مکمل تحقیقات کےبعد 2 ہزار 480 ارکان کوبرطرف کیا گیا یہ لوگ کرپشن، منشیات کی اسمگلنگ اور لوگوں کی نجی زندگیوں میں مد اخلت کرنے میں ملوث تھے اور بعض داعش کے ساتھ بھی منسلک تھے۔

    لطیف اللہ حکیمی نے مزید بتایا تھا کہ یہ افراد اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث اماراتِ اسلامی کی بدنامی کا باعث بن رہے تھے تنظیم میں تطہیر کا عمل جارہے گا تاکہ مستقبل میں ایک شفاف عوام دوست پولیس اور فوج بنائی جاسکے۔

    سیکیورٹی کیوں نہیں دی،شہزادہ ہیری برطانوی حکومت کیخلاف عدالت پہنچ گئے

  • طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے

    طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے

    کابل:تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین نے بتایا کہ ایک گروپ پر طالبان نے کالی مرچ کا اسپرے فائر کیا-

    باغی ٹی وی :غیرملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق افغانستان میں تین مظاہرین نے کہا ہے کہ طالبان فورسز نے کابل میں کام اور تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین کے ایک گروپ پر کالی مرچ کا اسپرے فائر کیا۔

    رواں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

    رپورٹ کے مطابق کابل یونیورسٹی کے سامنے تقریباً 20 خواتین جمع ہوئیں، جو ’مساوات اور انصاف‘ کے نعرے لگا رہی تھیں اور بینرز اٹھائے ہوئے تھیں جن پر ’خواتین کے حقوق، انسانی حقوق‘ لکھا ہوا تھا تین خواتین مظاہرین نے اے ایف پی کو بتایا کہ احتجاج کو بعد میں طالبان نے منتشر کر دیا جو کئی گاڑیوں میں وقوعہ پر پہنچے تھے۔

    مظاہرے میں شریک ایک نے کہا کہ جب ہم کابل یونیورسٹی کے قریب تھے، طالبان کی 3 گاڑیاں آئیں اور ایک گاڑی کے جنگجوؤں نے ہم پر کالی مرچ کااسپرے استعمال کیا میری دائیں آنکھ جلنے لگی، میں نے ان میں سے ایک سے کہا ’تم شرم کرو‘ اور پھر اس نے اپنی بندوق کی نوک میری طرف کردی۔

    دو دیگر مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک خاتون کو اسپرے کے کی وجہ سے آنکھوں اور چہرے پر الرجی سے ہسپتال جانا پڑا جبکہ اے ایف پی کے ایک نمائندے نے ایک جنگجو کو ایک ایسے شخص کا موبائل فون ضبط کرتے دیکھا جو مظاہرے کی فلم بندی کر رہا تھا۔

    ادھر امارات اسلامیہ افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات اور ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا ہے کہ رواں برس مارچ سے ملک بھر میں لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے لڑکیوں کے اسکول کھولنے کے انتظامات آخری مراحل میں داخل ہوگئے ہیں افغانستان کے نئے سال کا آغاز 21 مارچ سے ہوتا ہے اور رواں برس نئے سال کی شروعات سےلڑکیوں اور خواتین کےلیے اسکول کالجز کھول دیئے جائیں گے تاہم مخلوط تعلیم کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی ہم لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں تاہم مخلوط نظام تعلیم کے خاتمے اور علیحدہ عمارتوں کے انتظامات سمیت نصاب میں تبدیلی کے باعث لڑکیوں کے اسکول کھولنے میں کچھ وقت لگا۔

    طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سینکڑوں ارکان کو برطرف کردیا

    واضح رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خواتین کو حکومت میں شامل کرنے اور لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے پر طالبان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاتھا اقوام متحدہ کےجنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نےمیڈیا سے گفتگو میں طالبان حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ میں خاص طور پر افغان خواتین اور لڑکیوں سے متعلق کیے گئے وعدے پورا ہوتے نہ دیکھ کر گھبرا گیا ہوں۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے طالبان سے خواتین اور لڑکیوں سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی انسانی حقوق اور قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور جب تک وعدے پورے نہیں ہوتے طالبان سے مطالبے جاری رکھیں گے۔

    برطانوی الزامات بہت زیادہ 007 ٹائپ فلمیں دیکھنے کا نتیجہ ہیں ،چین

    انتونیو گوتریس نے خبردار کیا تھا کہ 2001 سے 30 لاکھ لڑکیوں نے اسکول میں داخلہ لیا ہے جن کے خواب طالبان کی وعدہ خلافی کے باعث ادھورے رہ جانے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ افغان معیشت میں بھی خواتین کا نمایاں کردار ہے جن کے بغیر معیشت کی بحالی ناممکن ہے۔

    اقوام متحدہ کے سربراہ نے عالمی قوتوں سے اپیل کی تھی کہ افغانستان کو معاشی تباہی سے بچانے کے لیے مزید رقم عطیہ کریں کیوں کہ تاحال افغانستان کے بیرون ملک مقیم ملکی اثاثے منجمد اور ترقیاتی امداد معطل ہیں۔

    بھارت میں انتہا پسند ہندو وکیلوں کا اذان پر پابندی کا مطالبہ

  • طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سینکڑوں ارکان کو برطرف کردیا

    طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سینکڑوں ارکان کو برطرف کردیا

    کابل: طالبان حکومت نے عوامی شکایات پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث 2 ہزار 840 ارکان کو برطرف کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے طالبان حکومت نے ایسے 2 ہزار 840 ارکان کو برطرف کردیا ہے جو اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث امارت اسلامیہ کی بدنامی کا باعث بن رہے تھے۔

    افغانستان میں سخت انسانی بحران ہے:امریکا افغان اثاثوں کی بحالی پرعمل کرے:افغان…

    طالبان حکومت کے وزیر لطیف اللہ حکیمی نے عالمی میڈیا کو بتایا کہ عوامی شکایات اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے بعد ان ارکان کےخلاف شفاف جانچ پڑتال کی گئی مکمل تحقیقات کے بعد 2 ہزار 480 ارکان کو برطرف کیا گیا یہ لوگ کرپشن، منشیات کی اسمگلنگ اور لوگوں کی نجی زندگیوں میں مد اخلت کرنے میں ملوث تھے اور بعض داعش کے ساتھ بھی منسلک تھے۔

    اسرائیل کا افغان مہاجرین کے لیے 5 لاکھ ڈالرمدد کا اعلان

    لطیف اللہ حکیمی نے مزید بتایا کہ یہ افراد اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث اماراتِ اسلامی کی بدنامی کا باعث بن رہے تھے تنظیم میں تطہیر کا عمل جارہے گا تاکہ مستقبل میں ایک شفاف عوام دوست پولیس اور فوج بنائی جاسکے۔

    اگرمالی امداد نہ دی گئی توافغانستان میں لوگ بھوک و افلاس سے مرجائیں گے،اقوام متحدہ

    دوسری جانب طالبان حکومت نے جوبائیڈن انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سربراہ کے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے امریکا میں منجمد افغان فنڈز کی فوری بحالی کے مطالبے پر توجہ دے ترجمان طالبان اور نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے مطالبے کو پورا کرتےہوئےامریکا انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے منجمد افغان فنڈز کو فوری طور پر بحال کرے۔

    عالمی برادری کسی سیاسی تعصب کے بغیر افغان عوام کی مدد کرے،ملا عبدالغنی برادر

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ذبیح اللہ مجاہد نے مزید لکھا کہ امریکا کو عالمی آواز کا مثبت جواب دینا چاہیے اور افغانستان کے فنڈز جاری کردینے چاہیئے تا کہ انسانی بحران کے شکار ملک اپنے عوام کو سہولیات اور آسانی فراہم کرسکے۔

    افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    ترجمان طالبان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں رونما ہونے والے ڈراؤنے خواب کو روکنے کے لیے منجمد فنڈز بحالی میں پہل کرے۔

    کامیاب مذاکرات کےباوجودطالبان حکومت کوباضابطہ طورپرتسلیم کرنےکا کوئی ارادہ نہیں،…

  • افغان حکومت اور قومی مزاحمتی اتحاد کے احمد مسعود کے درمیان مذاکرات ناکام:مگرامید پھربھی باقی رہی

    افغان حکومت اور قومی مزاحمتی اتحاد کے احمد مسعود کے درمیان مذاکرات ناکام:مگرامید پھربھی باقی رہی

    کابل:افغان حکومت اور قومی مزاحمتی اتحاد کے احمد مسعود کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ،اطلاعات کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں افغانستان کے قومی مزاحمتی محاذ (NRF) اور طالبان کے درمیان شروع ہوئی بات چیت شر بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئی ہے ۔

    ذرائع کے مطابق مزاحمتی محاذ کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر منگل کے روز کہا کہ امارت اسلامیہ کی ٹیم نے میٹنگ کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلنے پر مزاحمتی محاذ کے رہنماؤں سے کہا کہ وہ افغانستان واپس چلے جائیں۔

    یہ بھی خبریں گردش کررہی ہیں کہ مذاکرات میں ناکامی کو چھپایا جارہا تھا دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں امارت اسلامیہ کے نمائندے ہفتے کے روز ایران گئے اور پیر کو کابل واپس آگئے تھے لیکن اتنے دن گزرنے کے باوجود مذاکرات کوخفیہ رکھا گیا ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بہت جلد مذاکرات کا اگلہ دور بھی شروع کرنے پراتفاق ہوگیا ہے

    ذرائع کے مطابق شمالی اتحاد کے اہم رکن نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے تہران کے زیر اہتمام طالبان حکام کے ساتھ اپنی دو روزہ میٹنگ کے دوران افغانستان میں ایک ثانوی حکومت کے قیام کی تجویز پیش کی۔ ٹیم کے رکن نے کہا کہ ان کے لیے ہماری تجویز واضح ہے اورایک ثانوی حکومت قائم کی جانی تھی جو اگلی حکومت کے لیے کام کرے گی اور عوام کو مساوی حقوق اور آزادی حاصل ہوگی۔ لیکن اگر طالبان کی رضا مندی نہ ہونے کی وجہ سے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے ہیں ۔

    دوسری طرف مذاکرات کی ناکامی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ اس کی شمالی اتحاد کی ٹیم کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ بات چیت کرنے والی ٹیموں میں امارت اسلامیہ کے چار عہدیداران اور مزاحمتی محاذ کے پانچ ارکان نے شرکت کی۔

    ذرائع کے مطابق امارت اسلامیہ کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی، قائم مقام وزیر اقتصادیات دین محمد حنیف، قائم مقام وزیر صنعت و تجارت نورالدین عزیزی، قائم مقام نائب وزیر سرحد و قبائلی امور حاجی گل محمد نیکا، جب کہ اسماعیل خان، سابق جہادی رہنما مولوی حبیب اللہ حسام، عبدالحفیظ منصور، حسام الدین شمس بڈگی کے سابق گورنر او رغور کے سابق گورنر عبدالظاہر فیض زادہ کی جانب سے نمائندگی کی۔

  • کامیاب مذاکرات کےباوجودطالبان حکومت کوباضابطہ طورپرتسلیم کرنےکا کوئی ارادہ نہیں، ایران

    کامیاب مذاکرات کےباوجودطالبان حکومت کوباضابطہ طورپرتسلیم کرنےکا کوئی ارادہ نہیں، ایران

    تہران: ایران نے طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے لیکن تاحال طالبان کو ’باضابطہ طور پر تسلیم‘ نہیں کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب خبررساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ طالبان کے نمائندوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات “مثبت” رہے لیکن ایران اب بھی طالبان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

    افغان وزیر خارجہ امیر اللہ متقی ایران کے دورے پر پہنچ گئے

    انہوں نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال ایران کے لیے ایک بڑی تشویش ہے اور افغان وفد کا دورہ انہی خدشات کے حوالے سے تھا افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں طالبان کے وفد نے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان کی قیادت میں اپنے ایرانی ہم منصبوں سے ملاقات کی۔

    واضح رہے کہ اگست میں امریکا کے انتشار انگیز انخلا کے بعد طالبان کے وفد کا ایران کے لیے یہ پہلا دورہ تھا ایران کا سرکاری مؤقف ہے کہ وہ طالبان کو صرف اس صورت میں تسلیم کریں گے جب وہ ایک “جامع” حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے ایران کے خصوصی ایلچی حسن کاظمی قومی نے حالیہ مہینوں میں افغانستان کے کئی دورے کیے ہیں تب سے ایران اور طالبان رابطے میں ہیں۔

    ایران کی جوابی کارروائی:امریکی فوج کے اعلیٰ افسران پرپابندی لگا دی

    خیال رہے کہ وزیر خارجہ امیر اللہ متقی نے وفد کے ہمراہ پڑوسی ملک ایران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے افغان مہاجرین اور معاشی بحران سمیت اہم باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا وفد کا پُرتپاک استقبال کیا گیا اس حوالے سے عبدالقہار بلخی نے ٹویٹر پر لکھا تھا کہ یہ دورہ ایران کی دعوت پر کیا جا رہا ہے جس کا مقصد افغانستان اور ایران کے درمیان سیاسی، اقتصادی، راہداری اور پناہ گزینوں کے مسائل پر بات چیت کرنا ہے ایران اور افغانستان کے درمیان ابتدائی ملاقات وزارت خارجہ کی سطح پر ہوچکی ہے تاہم اب وزیر خارجہ بہ نفس نفیس ایران جا رہے ہیں۔

    افغانستان: ننگرہارمیں پھل فروش کےٹھیلےمیں دھماکا،9 بچےجاں بحق اور 4 شدید زخمی

    افغانستان کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد رکھنے والا پڑوسی ملک ایران پہلے ہی لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دے چکا ہے اور اب مزید مہاجرین کی آمد کا اندیشہ لیے ہوئے طالبان کے ساتھ تعلقات کا خاکہ تیار کرنے کی کوششں کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران نے 1996 سے 2001 تک طالبان کی پہلی حکومت کو بھی تسلیم نہیں کیا تھا اور دو دہائیوں کے بعد دوبارہ قائم ہونے والی طالبان کی نئی حکومت کو بھی تاحال تسلیم نہیں کیا تاہم اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

    روس کا امریکہ کو منہ توڑ جواب:امریکی دیکھتے ہی رہ گئے

  • افغان حکومت کا دکانداروں کولباس آویزاں کرنے والی پلاسٹک ڈمیز کےسرقلم کرنے کاحکم

    افغان حکومت کا دکانداروں کولباس آویزاں کرنے والی پلاسٹک ڈمیز کےسرقلم کرنے کاحکم

    کابل :افغان حکومت کا دکانداروں کولباس آویزاں کرنے والی پلاسٹک ڈمیز کےسرقلم کرنے کاحکم ،اطلاعات کے مطابق افغآن طالبان نے کپڑوں کی دکانوں میں رکھی خواتین کی پلاسٹک کی ڈمیز کا سر قلم کرنے کا حکم دیدیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے ایک حکم جاری کیا ہے جس میں تصویر کی ممانعت اور بت تراشی کا حوالہ دیتے ہوئے دکانداروں کو کپڑوں کی دکانوں میں رکھیں ڈمیز کا سر قلم کرنے کا حکم دیدیا۔

     

    وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مقامی سربراہ عزیز رحمان نے کہا ہے کہ یہ اسلامی قوانین کے خلاف ہیں اس لیے مجسموں کے سر کاٹ دیئے جائیں، جس کے بعد سے افغان صوبے ہرات میں اس حکم پر عمل درآمد بھی شروع کردیا گیا ہے۔

    سوشل میڈیا پرویڈیو وائرل ہورہی ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان اہلکار دکانوں میں رکھیں ڈمیز کا سرقلم کر رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے بیوٹی پارلرز سے خواتین کے اشتہار والے بینرز اور بورڈز ہٹانے کا حکم بھی دیا تھا اور ان کے ایک شہر سے دوسرے شہر بغیر محرم کے سفر پر پابندی عائد کردی تھی۔

     

    یاد رہے کہ اس سے پہلے افغان طالبان نے بازاروں میں لگی خواتین کی قدرآورتصاویر بھی اتارنے کا حکم دیا تھا اور کہا کہ تھا کاروبار کریں لیکن خواتین کے جسم کی تجازت نہیں

  • افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    افغانستان کی حکومت کو کیسے قانونی حیثیت دی جا سکتی؟ اشرف غنی کا مشورہ

    سابق افغان صدر اشرف غنی نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویومیں کہا ہے کہ پندرہ اگست کی صبح تک گمان نہیں تھا یہ میرا افغانستان میں آخری دن ہو گا

    اشرف غنی کا کہنا تھا کہ افغانستان چھوڑنے سے پہلے نہیں جانتا تھا کہ کہاں جائیں گے،کابل چھوڑنے کا فیصلہ منٹو ں میں کیا گیا تھا،پندرہ اگست کو صدارتی محل پر تعینات سیکیورٹی ہار مان گئی تھی اگر میں اسٹینڈ لیتا تو یہ سب مارے جاتے،کابل کو بچانے کے لیے اپنے تئیں قربانی دینے کا سوچا صدارتی محل پر تعینات سیکیورٹی میں میرے دفاع کی صلاحیت نہیں تھی،بد قسمتی سےمجھے مکمل اندھیرے میں رکھا گیا ،یہ افغانستان کا نہیں امریکا کا مسئلہ تھا،مجھے قربانی کا بکرا بنایا گیا،میری ساری زندگی کی محنت برباد ہو گئی افغانستان چھوڑنے پر افغان عوام کے غصے کو سمجھتا ہوں،

    اشرف غنی کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی امریکا سمیت کسی ملک کے لیے کام نہیں کیا۔دوسرے لیڈروں کے برعکس انہیں امریکہ، نیٹو یا کسی دوسرے ملک سے پیسے نہیں ملے ، طالبان پناہ کے بغیر، مدد کے بغیرکبھی کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔

    سابق صدر اشرف غنی نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومت کو قانونی حیثیت دینے کے لیے لویہ جرگہ بلائیں دنیا کی اقوام لویہ جرگہ کے بغیر طالبان کو تسلیم کرنے سے گریز کریں گی۔ انہوں نے لویہ جرگہ کو ایک جمہوری ادارہ قرار دیا۔ اشرف غنی کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات قابل فہم ہے کہ افغانستان کے عوام افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے اور اس ملک کے حالات پر طالبان سے ناراض ہیں۔

    اشرف غنی 15 اگست کو کابل سے روانہ ہوئے تھے اور روسی سفارت خانے کے حکام کے مطابق ہیلی کاپٹر میں لاکھوں ڈالر لے گئے تھے، لیکن اشرف غنی نے اب ایک بیان جاری کیا ہے جس میں الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اور اپنے قریبی ساتھیوں کے اثاثوں کا احتساب کرنے کے لیے تیار ہیں اور اقوام متحدہ یا دیگر اداروں کی جانب سے آزاد انکوائری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

    مریم نواز کی خواہش؟ عید پر کتنی ہوں گی چھٹیاں؟ شیخ رشید کا بڑا اعلان

    وزیرداخلہ بننے کا مطلب یہ نہیں کہ اوقات بھول جاؤں،،بارڈرپرجاوَں گا، شیخ رشید

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    خیال رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے داخلے کے بعد سابق صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہوگئے تھے ان کے فرار کے بعد رپورٹس سامنے آئیں تھیں کہ وہ تاجکستان فرار ہوئے تاہم تاجک وزارت خارجہ نے تردید کی تھی۔

  • طالبان حکومت نے افغان الیکشن کمیشن  کو تحلیل کر دیا

    طالبان حکومت نے افغان الیکشن کمیشن کو تحلیل کر دیا

    کابل: طالبان حکومت نے افغان الیکشن کمیشن کو تحلیل کر دیا۔

    باغی ٹی وی :طالبان حکومت کے ترجمان بلال کریمی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ آزاد الیکشن کمیشن اور آزاد انتخابی شکایات کمیشن کے وجود اور کام کرنے کی اب کوئی ضرورت نہیں رہی ہے اگر ہم نے کبھی ضرورت محسوس کی تو اسلامی امارت ان کمیشنوں کو بحال کردے گی۔

    بلال کریمی نے مزیدبتایا ہے کہ حکام نے رواں ہفتے دوسرکاری محکموں یعنی وزارتِ امن اور پارلیمانی امور کی وزارت کو بھی تحلیل کردیا ہےطالبان نے سابق انتظامیہ میں خواتین کے امور کی وزارت کو پہلے ہی بند کردیا تھا اور اس کی جگہ امربالمعروف اورنہی عن المنکرکی نئی وزارت قائم کردی تھی۔

    کیا فلسطینوں کے قتل عام کا لائسنس جاری کردیا گیا ہے؟ فلسطینیوں کا عالمی برادری سے…

    اس وزارت نے 1990ء کی دہائی میں طالبان حکومت کے پہلے دورمیں مذہبی اصول وضوابط کے سختی سے نفاذ کی وجہ سے بدنامی حاصل کی تھی اب طالبان عالمی برادری پردباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اربوں ڈالر کی معطل شدہ امداد بحال کرے طالبان نے اس مرتبہ اعتدال پسند حکمرانی کے علاوہ خواتین اور اقلیتوں کے احترام کا وعدہ کیا ہے۔

    دوسری جانب انتخابی پینل کے سربراہ رہنے والے اورنگ زیب نے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کو تحلیل کرنے کے بہت برے نتائج برآمد ہوں گے طالبان نے عجلت میں یہ فیصلہ کیا ہے اگریہ ڈھانچہ موجود نہیں تو مجھے سو فی صد یقین ہے کہ افغانستان کے مسائل کبھی حل نہیں ہوں گے کیونکہ کوئی انتخابات نہیں ہوں گے۔

    کابل: طالبان نے پاسپورٹ جاری کرنا شروع کر ديئے

    یاد رہے کہ ماضی میں اسی الیکشن کمیشن کے زیرنگرانی مغرب کی حمایت یافتہ سابق انتظامیہ کے دور میں انتخابات منعقد ہوتے رہے تھے الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق 2006 میں قائم شدہ آئی ای سی کو صدارتی سمیت ہر قسم کے انتخابات کا انتظام اور نگرانی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

    گذشتہ دورحکومت میں چارصوبوں کے گورنر رہنے والے ایک سینیرسیاستدان حلیم فدائی کا کہنا ہے کہ’’انتخابی کمیشن کو تحلیل کرنے کے فیصلے سےظاہرہوتا ہے کہ طالبان جمہوریت میں یقین نہیں رکھتے طالبان تمام جمہوری اداروں کے خلاف ہیں کیونکہ انھیں ووٹوں کے ذریعے نہیں،بلکہ گولیوں کے ذریعے اقتدار ملتا ہے۔

    واضح رہے کہ طالبان کے کابل میں افغان حکومت پر قبضے سے قبل انتہاپسند گروہوں نے انتخابی کمیشن کے متعدد عہدے داروں کو قاتلانہ حملوں میں ہلاک کردیا تھا۔

    اقوام متحدہ میں سفیر کی تعیناتی کے لئے طالبان کی دوبارہ درخواست

  • کابل: طالبان نے پاسپورٹ جاری کرنا شروع کر ديئے

    کابل: طالبان نے پاسپورٹ جاری کرنا شروع کر ديئے

    کابل: طالبان نے پاسپورٹ جاری کرنا شروع کر دیئے،لاکھوافغان ملک سے نقل مکانی کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کے لئے یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔

    باغی ٹی وی : افغان طالبان نے بروز ہفتہ اعلان کیا تھا کہ اتوار سے درخواست دہندگان کو پاسپورٹ جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے گاخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس سے ان شہریوں کو امید ملے گی جو طالبان کی حکومت میں رہتے ہوئے خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ میں سفیر کی تعیناتی کے لئے طالبان کی دوبارہ درخواست

    طالبان کی وزارت داخلہ میں پاسپورٹ جاری کرنے والے محکمے کے سربراہ عالم گل حقانی نے بتایا ہے کہ تمام تکنیکی مسائل دور کر دیے گئے ہیں اور اتوار سے ان افراد کے پاسپورٹ کا اجراء شروع ہو جائے گا، جنہوں نے پہلے سے درخواستیں دے رکھی ہیں جبکہ نئی درخواستیں 10 جنوری سے جمع کرائی جا سکتی ہیں-

    یو این جنرل اسمبلی میں افغان نشست نہ ملنے پر طالبان کا ردعمل

    پاسپورٹ کے اجرا کو طالبان کی جانب سے بین الاقوامی برادری کے ساتھ کیے گئے عہد کے تناظر میں ایک ٹیسٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے درمیان اہل افراد کو ملک سے جانے کی اجازت دی جائے-

    عالمی بینک نے افغانستان کو بڑی خوشخبری سُنا دی

    طالبان اربوں ڈالر کی امداد کی بحالی کے لیے ڈونرز پر دباؤ ڈال رہے ہیں ڈونرز نے مغربی حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان کے لیے امداد روک دی تھی مالی بحران کی وجہ سے کابل میں لوگوں نے اپنا گھریلوں سامان فروخت کرنا شروع کر دیا تھا تاکہ اپنے خاندانوں کا پیٹ پال سکیں۔

    ڈرون حملہ،کسی امریکی فوجی یا عہدیدار کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی ،امریکا

    واضح رہے کہ طالبان کی طرف سے پندرہ اگست کو کابل پر قبضے کے بعد سے دیگر انتظامی و سیاسی معاملات میں تعطل کی طرح پاسپورٹس کے اجراء کا عمل بھی رک گیا تھا اس وقت ہزاروں افغان شہری کابل کی واحد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے ملک سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے افغانستان پر طالبان کے تیزی سے کنٹرول کے وقت پاسپورٹ کے دفاتر پر رش دیکھا گیا تھا۔

    طالبان نے کابل پر قبضہ نہیں کیا بلکہ انہیں دعوت دی گئی تھی ،حامد کرزئی