Baaghi TV

Tag: طالبان

  • حق مانگنے پر شہری طالبان رجیم کی دہشتگردی کا نشانہ بن گیا

    حق مانگنے پر شہری طالبان رجیم کی دہشتگردی کا نشانہ بن گیا

    اقتدارپرقابض طالبان رجیم نےقانون اورانصاف کو پس پشت ڈال کراپنےہی شہریوں کی زندگی جہنم بنادی ہے افغان میڈیا اورسوشل میڈیاپروائرل ویڈیوز نےطالبان رجیم کی دہشتگردی اورانتہا پسندی کوبےنقاب کردیا ہے۔

    افغان میڈیا کے مطابق صوبہ ہرات میں طالبان فورسزنےرجیم کےمظالم کیخلاف احتجاج کرنےوالےمظاہرین پرسیدھی گولیاں چلا دیں، جہاں طالبان فورسزکی اندھادھند فائرنگ سےایک شخص ہلاک اور22 افراد شدید زخمی ہوئے۔

    رپورٹس کے مطابق ہرات میں احتجاج حالیہ دنوں میں طالبان رجیم کی جانب سےخواتین کی گرفتاریوں کیخلاف کیاجارہا تھا ۔ کشیدگی بڑھنے پر قابض طالبان رجیم نےاحتجاج کو دبانے کے لیے علاقے میں اضافی نفری بھیج دی ہے سوشل میڈیا پروائرل ویڈیومیں دیکھا جاسکتا ہےکہ طالبان اہلکارافغان شہریوں کو تلاشی کے نام پرہراساں کررہےہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ شریعت کا لبادہ اوڑھےطالبان رجیم اپنےحق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کوبندوق کےزورپردبانےکی ناکام کوشش کررہی ہے ہرات کی سڑکوں پربہتا معصوم شہریوں کاخون افغان طالبان رجیم کےظلم وجبرکے خاتمےکاپیش خیمہ ثابت ہوگا۔

  • بی ایل اے، القاعدہ اور طالبان کا گٹھ جوڑ،پاکستان کیخلاف خواتین کو دہشتگردی کی تربیت دیئے جانے کا انکشاف

    بی ایل اے، القاعدہ اور طالبان کا گٹھ جوڑ،پاکستان کیخلاف خواتین کو دہشتگردی کی تربیت دیئے جانے کا انکشاف

    بلوچستان میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ اب خواتین اور نوجوانوں کو منظم انداز میں انتہا پسند ی کی جانب راغب کر کے خودکش حملوں اور دیگر دہشتگرد سرگرمیوں میں استعمال کر رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف شدت پسند تنظیموں کے درمیان بڑھتا ہوا اشتراک دہشتگردوں کو لاجسٹک سہولتیں، تربیتی وسائل، مالی معاونت اور بھرتی کے وسیع نیٹ ورکس فراہم کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور شہری آبادیوں کو مسلسل خطرات لاحق ہیں حالیہ برسوں میں دہشتگرد تنظیموں نے معاشی مشکلات، سماجی کمزوریوں اور نفسیاتی عوامل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نوجوانوں اور خواتین کی بھرتی پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔

    ماہرین کے مطابق ان افراد کو نظریاتی طور پر تیار کرنے کے بعد خودکش حملوں، سہولت کاری اور تنظیمی نیٹ ورکس کو وسعت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے سیکیورٹی اداروں کا ماننا ہے کہ نوجوانوں اور خواتین کو استعمال کرنے کی یہ حکمت عملی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔

    مارچ 2026 میں سیکیورٹی اداروں نے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ لائبہ عرف فرزانہ کے مبینہ خودکش حملے کی منصوبہ بندی ناکام بنا دی تحقیقا ت کے مطابق لائبہ جولائی 2025 میں کالعدم بی ایل اے میں شامل ہوئی تھی اسے سابق ٹی ٹی پی کمانڈر ابراہیم عرف قاضی ماما کے نیٹ ورک کے ذر یعے انتہا پسند نظریات کی طرف مائل کیا گیا اور بعد ازاں بی ایل اے کے حوالے کر دیا گیا لائبہ کو نہ صرف ایک ممکنہ خودکش کارروائی کے لیے تیار کیا جا رہا تھا بلکہ اسے مالی طور پر کمزور نوجوان خواتین کو تنظیم میں شامل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا تھا سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ کیس اس رجحان کی ایک اہم مثال ہے جس میں خواتین کو دہشت گرد نیٹ ورکس کی توسیع کے لیے فعال کردار دیا جا رہا ہے۔

    ایک اور کیس میں رحیمہ بی بی کے بیان نے دہشتگرد تنظیموں کے باہمی روابط کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے بیان کے مطابق اس کے شوہر نے زرینہ رفیق نامی ایک خاتون خودکش بمبار کی معاونت کی، جس کا تعلق کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) سے بتایا گیا حملے سے قبل زرینہ کو افغانستان منتقل کیا گیا، جہاں اسے عسکری تربیت فراہم کی گئی۔

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بی ایل اے کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کی ایک وجہ ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے منسلک نیٹ ورکس کے ساتھ مبینہ تعاون بھی قرار دیا جا رہا ہے ماہرین کے مطابق یہ گٹھ جوڑ دہشتگرد تنظیموں کو اسلحہ اور بارودی مواد تک رسائی، تربیتی سہولتیں، مالی معاونت، آپریشنل رہنمائی اور بھرتی کے مؤثر نیٹ ورکس فراہم کرتا ہے۔

    ان کے مطابق افغانستان کے راستے موجود سہولت کار مختلف دہشت گرد تنظیموں کے درمیان رابطوں اور کارروائیوں میں معاونت کرتے ہیں، جس سے حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد نسبتاً آسان ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض سیکیورٹی ماہرین اس رجحان کو خطے میں دہشتگردی کی بدلتی ہوئی حکمت عملی کا اہم پہلو قرار دیتے ہیں۔

    کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے حملے نے ایک بار پھر یہ واضح کیا کہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس اب بھی ایک سنجیدہ خطرہ ہیں اس حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ قریبی گھروں اور املاک کو بھی نقصان پہنچا سیکیورٹی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں مختلف نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور معاون گروہوں کے ذریعے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کے باعث امن و امان کے قیام کی کوششوں کو مسلسل چیلنجز درپیش رہتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باوجود اب سب سے بڑا چیلنج صرف دہشتگرد حملوں کو روکنا نہیں بلکہ ان بھرتی نیٹ ورکس کو توڑنا بھی ہے جو نوجوانوں اور خواتین کو انتہا پسندی کی طرف لے جا رہے ہیں، آن لائن انتہا پسندی کا مقابلہ، نوجوانوں میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا، خواتین کو معاشی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا، اور دہشت گرد بھرتی نیٹ ورکس کا خاتمہ انسدادِ دہشتگردی کی حکمت عملی کے اہم ستون بن چکے ہیں ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف عسکری اقدامات کافی نہیں بلکہ سماجی، تعلیمی اور معاشی سطح پر بھی مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے منسلک عناصر کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون دہشتگردی کے ایک نئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں خواتین اور نوجوانوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ لائبہ عرف فرزانہ اور رحیمہ بی بی جیسے کیسز اس بات کی مثال سمجھے جا رہے ہیں کہ کس طرح سرحد پار تربیتی نیٹ ورکس، مقامی سہولت کار اور انتہا پسند تنظیموں کے درمیان تعاون دہشتگردی کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ رجحان نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے ایک پیچیدہ، کثیر جہتی اور طویل المدتی چیلنج بنتا جا رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی، سماجی اور سیاسی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

  • طالبان رجیم کی نام نہاد اسلامی امارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    طالبان رجیم کی نام نہاد اسلامی امارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    طالبان رجیم کی نام نہاد اسلامی امارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب

    افغان طالبان رجیم کے جنسی اورانسانیت سوزمظالم دنیا کے سامنے بے نقاب ہونے لگے اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رہنما اورجنگجوؤں نے خواتین کے جنسی تشدد کا ارتکاب کیا افغان انٹرنیشنل کے طالبان حکام اورجنگجوؤں نے افغان خواتین کوانفرادی اوراجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا،طالبان حکام خواتین کی جبری شادیوں میں ملوث ہیں ۔

    یوناما رپورٹ کے مطابق طالبان حکام نے احتجاجی خواتین کو حراست میں لے کرتشدد،بدسلوکی اورجنسی استحصال کا نشانہ بنایا افغانستان کی قومی سلامتی کے ادارے کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے کہا کہ معاملے کی آزاد، شفاف اورغیر جانبدارانہ تحقیقات کی جانی چاہئیں ۔

  • برطانیہ کا مسترد افغان پناہ گزینوں کو  افغانستان بھیجنے کے امکانات پر غور ، طالبان سے رابطوں کا انکشاف

    برطانیہ کا مسترد افغان پناہ گزینوں کو افغانستان بھیجنے کے امکانات پر غور ، طالبان سے رابطوں کا انکشاف

    برطانیہ کا مسترد افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے طالبان سے رابطوں کا انکشاف ہوا ہے-

    برطانیہ نے اپنی امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے ایسے افغان شہریوں کو دوبارہ افغانستان بھیجنے کے امکانات پر غور شروع کردیا ہے جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہوچکی ہیں اس سلسلے میں کابل میں برطانوی حکام اور طالبان نمائندوں کے درمیان ابتدائی رابطوں اور بات چیت کا انکشاف ہوا ہے، جس نے برطانیہ سمیت عالمی سطح پر انسانی حقوق کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    افغان وزارت داخلہ کے ترجمان مفتی عبدالمتین غنی نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکومت واپس بھیجے جانے والے اپنے شہریوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے برطانوی حکام کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے۔

    دوسری جانب برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے بھی حکومتی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ ان افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے تمام قانونی اور عملی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے جن کے پاس برطانیہ میں قیام کا اب کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہا۔

    ماہرین اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس ممکنہ فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کی پامالی، آزادیِ اظہار پر پابندیوں اور غیر یقینی سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر پناہ گزینوں کی جبری واپسی ایک انتہائی خطرناک اور متنازع قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران 7 ہزار 330 افغان شہریوں کی پناہ کی درخواستیں مسترد کی گئیں، لیکن سیکیورٹی اور سفارتی پیچیدگیوں کے باعث صرف 135 افراد کو ہی رضاکارانہ یا جبری طور پر واپس بھیجا جاسکا-

  • افغانستان ایک بار پھر علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بن چکا ہے،  این آر ایف

    افغانستان ایک بار پھر علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بن چکا ہے، این آر ایف

    طالبان حکومت مؤثر انداز میں انتظام چلانے میں ناکام ،افغانستان میں سیاسی، انسانی اور سیکیورٹی بحران بدستور سنگین ہوتا جا رہا ہے-

    افغانستان کے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) کے لیے خارجہ تعلقات کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے علی میثم نظری نے بی بی سی ورلڈ نیوز سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان اگست 2021 سے ایک دہشتگرد تنظیم کے قبضے میں ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ سیاسی، اقتصادی، انسانی اور سیکیورٹی بحران بدتر ہوتا جا رہا ہے۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان ایک بار پھر علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بن چکا ہے، جہاں قریباً 21 گروپ سرگرم ہیں جو خطے اور عالمی سطح پر براہِ راست خطرہ ہیں،نظری نے طالبان کی حکومتی صلاحیت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل طور پر نااہل ہیں اور ملک میں قانون و انتظام کا فقدان ہے، فی الوقت بنیادی طور پر ملک میں انارکی کی صورتحال ہے۔

    ایرانی صدر کا پڑوسی ممالک کیخلاف حملے روکنے کا اعلان

    جب ایران میں حالیہ عوامی احتجاجات کے مقابلے میں افغانستان میں بڑے پیمانے پر بغاوت نہ ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو نظری نے کہا کہ افغا نستا ن کی تاریخی اور سماجی صورتحال مختلف ہے اور عوام روایتی طور پر قلیل وقت میں حکمرانوں کے خلاف نہیں اٹھتے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف)، جو بنیادی طور پر پنج شیر و دیگر شمالی علاقوں میں فعال ہے، گزشتہ سال کے دوران اپنی وسعت بڑھانے میں کامیاب رہی، جو ظاہر کرتا ہے کہ عوام کو یقین ہے کہ دہشتگرد گروپ کے خلاف مزاحمت ہی ملک کے لیے حل ہے۔

    کمانڈر 12 کورکا آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے ہمراہ پاک افغان سرحدی علاقوں کا جائزہ

    واضح رہے کہ این آر ایف کی بنیاد سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں اور سیاسی رہنماؤں نے رکھی، جو طالبان کے اقتدار کے مخالف ہیں اور یہ ملک میں فعال مزاحمت کرنے والی چند منظم قوتوں میں سے ایک ہے، نظری نے کہا کہ این آر ایف اہم فوجی اور لاجسٹک مشکلات کے باوجود سرگرم ہے، جس سے افغا نستان میں جاری بے چینی اور حکومت کی نازک صورتحال کا پتا چلتا ہے۔

    دبئی ایئر پورٹ ایک بار پھر نشانہ بن گیا

  • آپریشن غضب للحق:افغان طالبان کا بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز 205 کور قندھار تباہ

    آپریشن غضب للحق:افغان طالبان کا بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز 205 کور قندھار تباہ

    آپریشن غضب للحق کے تحت آفغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے خلاف پاک فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے کامیاب فضائی کارروائی کرتے ہوئے قندھار میں افغان طالبان کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز 205 کور کو تباہ کر دیا،پاک فوج نے اس مؤثر کارروائی میں افغان طالبان کے ایمونیشن ڈیپوز کو بھی نشانہ بنایا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی مؤثر اور طاقتور کارروائیوں میں افغان طالبان کو بھاری فوجی نقصانات کا سامنا ہے۔

    مس کنڈکٹ کی بنیاد پر 3 سول ججز عہدوں سے برطرف

    عراقی کردوں نے ایران پر زمینی حملہ شروع کردیا، امریکی حکام کا دعویٰ

    ایران جنگ میں ہرگز شریک نہیں ہوں گے، اسپین نے وائٹ ہاؤس کا دعویٰ مسترد کردیا

  • آئندہ ہماری سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی،ذبیح اللہ مجاہدکی پاکستان سے سیز فائر کی اپیل

    آئندہ ہماری سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی،ذبیح اللہ مجاہدکی پاکستان سے سیز فائر کی اپیل

    افغانستان کی طالبان حکومت کے سرکاری ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان جاری کیا جس میں پاکستان پر ننگرہار (بشمول جلال آباد) اور قندھار صوبوں پر راتوں رات فضائی حملوں میں ہتھیاروں کے بڑے ڈپو کو تباہ کرنے کا الزام لگایا گیا، جبکہ یکطرفہ جنگ بندی کے اعلان کا اعادہ کیا۔

    افغا ن طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاید کا کہنا ہے کہ امریکہ اور نیٹو جو اسلحہ چھوڑ کر گیا تھا وہ اسلحہ ہمارے دفاع کے لئے تھا ہم نے اسے پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کرنا تھا لیکن پاکستان وہ تمام اسلحہ تباہ کر رہا ہے۔

    ترجمان نے بتایا کہ آج صبح ننگر ہار، جلال آباد اور قندھار پر بمباری کے دوران ہمارے مذید اسلحے کے بڑے ڈپو تباہ کر دئے گے ہیں عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے ہم پچھلے 24 گھنٹے سے سیز فائر کا باقاعدہ اعلان کر چکے ہیں اور تمام دوست ممالک کو یہ پیغام پہنچا چکے ہیں کہ آئندہ ہماری سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، دو اسلامی ممالک کا آپس میں لڑنا درست عمل نہیں ہے۔

    خامنہ ای کی شہادت:دنیابھر میں احتجاجی مظاہرے،عراق میں امریکی سفارتخانے پر ہجوم کا حملہ

    خامنہ ای کی شہادت کی اطلاع دیتے ہوئے ٹی وی اینکر رو پڑے

    وزیراعظم شہباز شریف کا 2 روزہ دورہ روس ملتوی

  • سابق سیکیورٹی اہلکار طالبان رجیم  کے نشانے پر،سابق پولیس کمانڈر قتل

    سابق سیکیورٹی اہلکار طالبان رجیم کے نشانے پر،سابق پولیس کمانڈر قتل

    افغان طالبان رجیم کے نام نہاد عام معافی کے دعوے بےنقاب،سابق سیکیورٹی اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آرہے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں افغان طالبان نے سابق پولیس کمانڈر کو اس کے گھر کے باہر گولیاں مار کر قتل کر دیا چار سالہ جلاوطنی کے بعد سابق پولیس کمانڈر رمضان اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ گزارنے وطن لوٹاتھا سول سوسائٹی نے افغان طالبان رجیم کے نام نہاد عام معافی کے دعووں کو دھوکہ قرار دے دیا۔

    افغان طالبان پہلے بھی سابق پولیس افسران کی قبروں کی بے حرمتی اور انہیں مسمار کر چکے ہیں، اقوام متحدہ کی معاونت برائے افغانستان مشن(یوناما) کے مطابق گذشتہ سال کے آخری3 مہینوں میں 14 سابق سیکیورٹی اہلکار افغان طالبان رجیم کی ریاستی دہشتگردی کا نشانہ بنے۔

    ہانیہ عامر نےسوشل میڈیا پر نیا ریکارڈ قائم کر دیا

    ماہرین کے مطابق طالبان رجیم سابق سیکیورٹی اہلکاروں کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہا ہے تاکہ خوف اور دہشت کے ذریعے جابرانہ اقتدار برقرار رکھا جا سکے۔

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہو گا، عمانی وزیرِ خارجہ

  • افغان طالبان کی منافقانہ پالیسی اور دہشتگردوں کی پشت پناہی بے نقاب

    افغان طالبان کی منافقانہ پالیسی اور دہشتگردوں کی پشت پناہی بے نقاب

    پاکستان نے انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں دہشتگردوں کے مرکزی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تاہم فضائی کارروائی کے فوری بعد طالبان رجیم نے متا ثر ہ علاقوں تک افغان میڈیا اور شہریوں کی رسائی روک دی-

    دی ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے مطابق، افغان ریاستی زیر انتظام میڈیا نے صرف ضلع بہسود کے ایک ملبے کی فوٹیج دکھائی، جبکہ دیگر تباہ شدہ ٹھکانوں کی رپورٹ جاری نہیں کی گئی، پکتیکا، خوست، اور ننگرہار کے مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ طالبان فورسز نے فضائی حملوں کے فوری بعد کئی علاقوں کو گھیر لیا۔

    مقامی شہریوں کے مطابق دہشتگرد کئی برس سے یہاں اپنے خاندانوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں خوگانی، ننگرہار، خوست اور دیگر متاثرہ مقامات پر صحافیوں کی جانے کی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کارروائیوں میں ہلاکتوں کی اصل تعداد اور مکمل اثرات کیا ہیں۔

    پی ٹی آئی احتجاج کے باعث راستوں کی بندش کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری

    ماہرین کے مطابق آزاد میڈیا کو رسائی نہ دینا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ طالبان رجیم زمینی حقائق کو چھپانے میں مصروف ہے مستند شواہد سے واضح ہے کہ افغانستان فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان سمیت عالمی دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ ہے میڈیا پر پابندی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ طالبان رجیم کی مکمل سرپرستی میں دہشتگردوں کے ٹھکانے افغانستان میں قائم ہیں۔

    غیر فعال بینک اکاؤنٹس کی رقم کیسے حاصل کریں؟

  • طالبان نے نائن الیون سے پہلے کے دور سے زیادہ خطرناک حالات پیدا کر دیئے ہیں،صد مملکت

    طالبان نے نائن الیون سے پہلے کے دور سے زیادہ خطرناک حالات پیدا کر دیئے ہیں،صد مملکت

    صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مشرقی ہمسایہ طالبان رجیم کی مدد کر رہا ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

    ایک بیان میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بعض ہمسایہ ممالک اپنی سرزمین سے دہشت گرد عناصر کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی اجازت دے کر جرائم میں شراکت دار بن گئے ہیں، کچھ ممالک ناصرف ان کی براہِ راست مالی معاونت کرتے ہیں بلکہ انہیں تکنیکی اور عسکری ذرائع بھی فراہم کرتے ہیں۔

    صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ طالبان رجیم نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو نائن الیون سے پہلے کے دور سے بھی زیادہ خطرناک ہیں صدرِ پاکستان نے حالیہ دہشت گردی کے واقعے کے بعد پاکستان سے اظہارِ یکجہتی کرنے پر عالمی رہنماؤں اور ممالک کا شکریہ ادا کیا۔

    صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کو عالمی رہنماؤں، حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ملنے والی ہمدردی اور حمایت نے مشکل وقت میں پاکستانی عوام اور متاثرہ خاندانوں کو حوصلہ دیا ہےان کے مطابق یہ پیغامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی اور اس کے پیچھے موجود پرتشدد نظریات کے خلاف جنگ ایک عالمی جدوجہد ہے۔

    صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ دہشتگردی کا مقابلہ کوئی ایک ملک اکیلے نہیں کر سکتا پاکستان کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ جب دہشت گرد تنظیموں کو سرحد پار پناہ، سہولت یا آزادی دی جاتی ہے تو اس کے نتائج دنیا بھر کے بے گناہ شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں نماز جمعہ کے دوران مسجد و امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں خودکش دھماکا ہوا تھا جس میں 33 افراد شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔