Baaghi TV

Tag: طالبان

  • کابل: طالبان نے 2 غیرملکی صحافیوں کورہا کردیا

    کابل: طالبان نے 2 غیرملکی صحافیوں کورہا کردیا

    کابل: طالبان حکومت کے زیرحراست 2 غیرملکی صحافیوں اورایک افغان شہری کو رہا کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ عالمی ادارے کے لئے کام کرنے والی غیرملکیوں کوشناختی کارڈ، لائسنس اوردیگردستاویزات نہ ہونے پرگرفتارکیا گیا تھا تاہم اب غیرملکیوں کی شناخت کی تصدیق ہونے کے بعد انہیں رہا کردیا گیا ہے۔

    دو غیرملکی صحافی افغانستان میں غائب کردیئے گئے

    دوسری جانب اقوام متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے 2 گرفتارصحافیوں اورایک افغان شہری کی رہائی قابل اطمینا ن ہے ہم ان تمام لوگوں کے مشکور ہیں جنہوں نے تشویش کا اظہار کیا اور مدد کی پیشکش کی۔ہم افغانستان کے عوام کے ساتھ پرعزم ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں صحافی اقوام متحدہ کے مہاجرین کے لئے کام کرنے والے کمیشن کے اسائنمنٹ پرافغانستان میں موجود ہیں جبکہ افغان شہری ان کی معاونت کررہے ہیں۔

    امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم کرنےکا فیصلہ


    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کیلئے کام کرنے والے دو غیرملکی صحافیوں کو مبینہ طور پر کابل میں حراست میں لے لیا گیا تاہم طالبان نے اس معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ افغان حکام معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں اوراس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان صحافیوں کو حراست میں لیا گیا ہے یا نہیں۔

    کابل ائیر پورٹ دھماکے:امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے پنٹاگون کے دعووں کو جھٹلا…

  • تین سال تک طالبان کی قید میں رہنےوالےآسٹریلوی لیکچرارکا افغانستان جانے کا اعلان

    تین سال تک طالبان کی قید میں رہنےوالےآسٹریلوی لیکچرارکا افغانستان جانے کا اعلان

    سڈنی:طالبان کی قید میں اسلام قبول کرنے والے آسٹریلوی لیکچرار نے حکومت کی مدد کرنے کے لیے افغانستان جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے لیکچرار ٹموتھی ویکس تین سال طالبان کی قید میں رہنے کے بعد اہم کمانڈرز کی رہائی کے بدلے آزاد ہوئے تھے قید کے دوران ٹموتھی نے اسلام قبول کرکے اپنا نام جبرائیل عمر رکھ لیا تھا قید سے آزادی ملنے کے بعد سے وہ آسٹریلیا میں ہی مقیم ہیں تاہم اب انہوں نے طالبان حکومت کی مدد کا فیصلہ کیا ہے۔

    طالبان حکومت کا 2 فروری سے تمام یونیورسٹیز کھولنے کا اعلان

    اپنے ایک انٹرویو میں آسٹریلوی لیکچرار کا کہنا تھا کہ میں افغانستان کے بچوں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا ہے میں ان کی تعلیم کے لیے حکومت کی مدد کرنا چاہتا ہوں آسٹریلوی لیکچرار نے سکھ برادری سے افغانستان واپس آنے کی اپیل بھی کی اور ایک سابق رکن اسمبلی نریندر سنگھ خالصہ کی طالبان وزیر سراج الدین حقانی سے ملاقات بھی کرانے کا دعویٰ کیا۔

    واضح رہے کہ آسٹریلوی لیکچرار کو 2016 میں کابل یونیورسٹی کے دروازے سے اغوا کیا گیا تھا جب کہ 2019 میں انس حقانی اور خلیل حقانی کے رہائی کے بدلے آزادی ملی تھی۔

    رواں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

    دوسری جانب افغانستان سے غیرملکیوں کے انخلا کے لئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ ہوگیا ”الجزیرہ” کے مطابق معاہدے کے کابل ائیرپورٹ سے چارٹرپروازوں کے ذریعے غیرملکیوں کا انخلا دوبارہ سےشروع ہوگا کابل ائیرپورٹ سے قطر ائیرویز کی ہفتے میں 2 چارٹرڈ پروازیں چلائی جائیں گی۔

    چارٹرپروازوں سے امریکا اور دیگر ممالک اپنے شہریوں کو افغانستان سےنکالیں گے۔ ان پروازوں کے ذریعے جان کےخطرے سے دوچار افغانوں کا بھی انخلا کرایا جائےگا قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمان الثانی نے طالبان سے معاہدے کی تصدیق کر دی ہے۔

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

  • غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

    دوحہ: افغانستان سے غیرملکیوں کے انخلا کے لئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے”الجزیرہ” کے مطابق معاہدے کے کابل ائیرپورٹ سے چارٹرپروازوں کے ذریعے غیرملکیوں کا انخلا دوبارہ سےشروع ہوگا کابل ائیرپورٹ سے قطر ائیرویز کی ہفتے میں 2 چارٹرڈ پروازیں چلائی جائیں گی۔

    امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: روس

    چارٹرپروازوں سے امریکا اور دیگر ممالک اپنے شہریوں کو افغانستان سےنکالیں گے۔ ان پروازوں کے ذریعے جان کےخطرے سے دوچار افغانوں کا بھی انخلا کرایا جائےگا قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمان الثانی نے طالبان سے معاہدے کی تصدیق کر دی ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق Axios نیوز ایجنسی نے قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی کے ساتھ ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے پیر کو اطلاع دی کہ قطر اور طالبان نے ہر ہفتے قطر ایئرویز کی دو چارٹرڈ پروازیں چلانے پر اتفاق کیا ہے۔

    توقع ہے کہ اس معاہدے سے ہزاروں کمزور افغانوں اور غیر ملکی شہریوں کو ملک سے نکالنے کی اجازت دی جائے گی جب گزشتہ سال اگست میں امریکی فوجیوں اور دیگر غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد، طالبان نے دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ اپ ڈیٹ گزشتہ ہفتے Axios کی رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے کہ امریکہ اپنے انخلاء اور آباد کاری کی کوششوں کو دوبارہ بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    طالبان حکومت کا 2 فروری سے تمام یونیورسٹیز کھولنے کا اعلان

    قطر نے ستمبر سے کابل سےچارٹرڈ پروازیں چلائی تھیں تاہم، خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، طالبان کے ساتھ اس تنازعہ کے درمیان دسمبر کے اوائل میں یہ چارٹرڈ پروازیں بند ہو گئی تھیں جس پر مسافروں کو پروازوں میں جانے کی اجازت دی جا رہی تھی مہینوں میں انخلاء کی پہلی پرواز 26 جنوری کو کابل سے دوحہ کے لیے روانہ ہوئی۔

    شیخ محمد کے ساتھ Axios کا انٹرویو پیر کو امریکی صدر جو بائیڈن اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد ہوا۔

    امریکی حکام نے بارہا طالبان کے ساتھ ثالثی کے طور پر کام کرنے میں قطر کے کردار کی تعریف کی ہے، جس نے افغانستان میں 20 سال تک امریکہ کے خلاف جنگ کی۔ واشنگٹن، جو ملک میں طالبان کو سرکاری طور پر جائز حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کرتا، نومبر میں اعلان کیا کہ قطر افغانستان میں اس کے نمائندے کے طور پر کام کرے گا۔

    تھائی ایئرویز کا پاکستان کیلئے فلائٹ بحالی کا اعلان،شیڈول جاری

    پیر کی میٹنگ کے دوران، بائیڈن نے قطر کے رہنما کو یہ بھی مطلع کیا کہ ان کی انتظامیہ خلیجی ملک کو نامزد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو خطے میں امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کا گھر ہے، ایک "بڑا نان نیٹو اتحادی”۔ کویت کے بعد قطر خلیج کا دوسرا ملک ہے جسے یہ عہدہ ملا ہے یہ درجہ دوحہ کو واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں خصوصی اقتصادی اور فوجی مراعات دے گا۔

    امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کا دباؤ ہے کہ وہ ان افغانوں کے انخلاء میں اضافہ کریں جنہوں نے ملک میں غیر ملکی افواج کے ساتھ کام کیا اور خاص طور پر طالبان کی طرف سے انہیں نشانہ بنائے جانے کا امکان سمجھا جاتا ہے وکلاء کا کہنا ہے کہ ہزاروں افغان باشندے جن کے امریکی فوج سے قریبی تعلقات ہیں ملک میں موجود ہیں۔

    پیر کےروز، اقوام متحدہ نے کہا کہ اسے طالبان کے ذریعے سابق حکومت سے منسلک تقریباً 100 افغان باشندوں کے قتل کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جو اس گروپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہیں جبکہ ملک ایک انسانی بحران کا بھی شکار ہے جس نے 23 ملین افراد کو فاقہ کشی کے خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    رواں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

  • طالبان حکومت کا 2 فروری سے تمام یونیورسٹیز کھولنے کا اعلان

    طالبان حکومت کا 2 فروری سے تمام یونیورسٹیز کھولنے کا اعلان

    کابل:طالبان حکومت نے 2 فروری سے تمام یونیورسٹیز کھولنے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان حکومت کے وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن شیخ عبدالباقی حقانی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملک بھر کی اگست سے بند جامعات کو فوری طور پر کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے2 فروری سےتمام جامعات کھول دی جائیں گی تاہم سرد علاقوں کی یونیورسٹیز میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز 26 فروری سے ہوگا۔

    شیخ عبدالباقی نے مزید بتایا کہ گرم علاقوں میں یونیورسٹیز 2 فروری سے کھل جائیں گی البتہ سرد علاقوں میں موسم کی سختیوں کے باعث تدریسی عمل کا آغاز 26 فروری سے ہوگا تاہم وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن نے یہ واضح نہیں کیا کہ جامعات میں طالبات کے لیے کیا پالیسی رکھی گئی ہے۔

    امارات اسلامیہ افغانستان میں امریکی شہری دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے

    قبل ازیں طالبان حکام اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ جامعات کے نہ کھلنے کی وجہ طالبات کے لیے اساتذہ اور علیحدہ کلاسوں کا انتظام نہ ہونا ہے ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے 15 جنوری کو میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ لڑکیوں کے لیے تعلیمی ادارے افغانستان کے نئے سال سے کھول دیئے جائیں گے-

    طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ رواں برس مارچ سے ملک بھر میں لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے لڑکیوں کے اسکول کھولنے کے انتظامات آخری مراحل میں داخل ہوگئے ہیں افغان سال نو 21 مارچ کو ہوتا ہے رواں برس نئے سال کی شروعات سےلڑکیوں اور خواتین کےلیے اسکول کالجز کھول دیئے جائیں گے تاہم مخلوط تعلیم کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی ہم لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں تاہم مخلوط نظام تعلیم کے خاتمے اور علیحدہ عمارتوں کے انتظامات سمیت نصاب میں تبدیلی کے باعث لڑکیوں کے اسکول کھولنے میں کچھ وقت لگا۔

    رواں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

    واضح رہے کہ افغانستان عالمی قوتوں نے افغان فنڈز کی بحالی کو لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کی ملازمتوں پر واپسی سے مشروط کیا ہے گزشتہ برس اکتوبر میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خواتین کو حکومت میں شامل کرنے اور لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے پر طالبان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاتھا اقوام متحدہ کےجنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نےمیڈیا سے گفتگو میں طالبان حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ میں خاص طور پر افغان خواتین اور لڑکیوں سے متعلق کیے گئے وعدے پورا ہوتے نہ دیکھ کر گھبرا گیا ہوں۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے طالبان سے خواتین اور لڑکیوں سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی انسانی حقوق اور قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور جب تک وعدے پورے نہیں ہوتے طالبان سے مطالبے جاری رکھیں گے۔

    طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے

  • نیوزی لینڈ کے انکار کے بعد حاملہ صحافی نے مدد کیلئے طالبان سے رجوع کر لیا

    نیوزی لینڈ کے انکار کے بعد حاملہ صحافی نے مدد کیلئے طالبان سے رجوع کر لیا

    افغانستان میں مقیم نیوزی لینڈ کی حاملہ صحافی نے کہا ہے کہ ان کے اپنے ملک کی جانب سے کورونا وائرس کی پابندیوں کے باعث ان کو ملک واپس آنے سے روکنے کے بعد انہوں نے مدد کے لیے طالبان سے رجوع کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :نیوزی لینڈ ہیرالڈ میں شائع اپنے ایک مضمون میں شارلٹ بلیز نے لکھا کہ میرا نام شارلٹ بلیز ہے اور میں کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ سے ہوں، لیکن افغانستان میں مقیم ہوں آپ شاید مجھے اس کیوی صحافی کے طور پر جانتے ہوں گے جس نے اپنی افتتاحی پریس کانفرنس میں طالبان سے پوچھا؛ "آپ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیا کریں گے؟-

    برطانیہ کے مختلف علاقوں میں طوفان :ہرطرف تباہی :ہزاروں گھر بجلی سے محروم

    شارلٹ نے لکھا کہ یہ بہت ستم ظریفی ہے کہ کبھی وہ طالبان کے خواتین کے ساتھ سلوک کے بارے میں سوال اٹھاتی تھیں اور اب وہ اپنی حکومت کے خواتین کے ساتھ رویے کے بارے میں سوال اٹھا رہی ہیں جب طالبان ایک غیر شادہ شدہ، حاملہ خاتون کو محفوظ پناہ دیتے ہیں اس سے آپ کا مؤقف کمزور ہوتا ہے۔

    شارلٹ نے کالم میں لکھا کہنیوزی لینڈ کے کورونا وائرس ریسپانس کے وزیر کرس ہپکنز نے انہیں بتایا کہ انہوں نے حکام سے کہا ہے کہ کیا شارلٹ بلیز کے کیسز میں مناسب طریقہ کار پر عمل کیا ہے جسے ابتدائی طور پر دیکھنے سے لگتا ہے کہ معاملے کی مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔

    نیوزی لینڈ نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اچھے انتظامات کیے ہیں، 50 لاکھ کی آبادی کے ملک نیوزی لینڈ میں وبا کے دوران صرف 52 اموات ریکارڈ ہوئیں تاہم قومی سطح پر پابندی ہے کہ ملک کے اپنے شہری بھی ملک واپسی پر افواج کے زیر انتظام قرنطینہ ہوٹلز میں 10 روز علیحدگی میں گزاریں گے جس کی وجہ سے وطن واپس آنے والے ہزاروں لوگ جگہ ملنے کے انتظار میں ہیں۔

    بھارت نے جاسوسی کیلئے اسرائیل سے پیگاسس اسپائی وئیرخریدا،رپورٹ

    بیرون ملک برے حالات میں پھنسے شہریوں کی کہانیاں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن اور ان کی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث ہے لیکن شارلٹ بلیز کی صورتحال خاص طور پر کافی الگ ہے۔

    بلیز نے بتایا کہ گزشتہ سال امریکی افواج کے انخلا کی کوریج کے لیے وہ الجزیرہ کے لیے کام کر رہی تھیں اور انہوں نے طالبان سے ان کے خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ سلوک سے متعلق سوالات پوچھ کر عالمی توجہ حاصل کی تھی جب وہ ستمبر میں قطر گئیں تو انہیں اپنے ساتھی جم کے ساتھ حاملہ ہونے کا معلوم ہوا جو نیویارک ٹائمز کے ساتھ کام کرنے والے ایک فری لانس فوٹوگرافر ہیں۔

    انہوں نے اپنے حاملہ ہونے کو ایک معجزہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ڈاکٹرز کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ان کے بچے نہیں ہوسکتے، اب وہ مئی میں بچی کو جنم دیں گی قطر میں بغیر شادی کے جنسی تعلقات غیر قانونی ہیں –

    چین میں پاکستان کے نوادرات کی نمائش

    اپنے کلام میں انہوں نے لکھا کہ قہ اطر میں گائناکالوجسٹ کے پاس گئیں جس میں ڈاکٹر نے انہیں حاملہ ہونے کا بتایا تو انہوں نے ڈاکٹر سے پوچھا فرضی طور پر، اگر میں حاملہ ہوں، تو کیا آپ پولیس کو بتائیں گے ڈاکٹر نے کہا "میں نہیں کروں گی، لیکن میں آپ کا علاج نہیں کر سکتی اور میں صرف اتنا کہہ سکتی ہوں کہ آپ کو جلد از جلد شادی کرنے یا ملک سے باہر جانے کی ضرورت ہے۔”

    بلیز نے لکھا کہ اس لیے انہوں نے سوچا کہ انہیں واپس جانا چاہیے، انہوں نے کئی مرتبہ نیوزی لینڈ کے قرعہ اندازی کے نظام کے تحت بھی وطن واپس جانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوسکیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے نومبر میں الجزیرہ سے استعفیٰ دے دیا تھا اپنی آمدنی، ہیلتھ انشورنس اور رہائش کھو دی اور وہ اپنےساتھی کے آبائی ملک بیلجیئم چلی گئی تھیں لیکن وہ وہاں زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکیں کیونکہ وہ بیلجئم کی رہائشی نہیں تھیں، اس کے بعد ان دونوں کے پاس رہنے کے لیے واحد دوسری جگہ افغانستان تھی کیونکہ ان کے پاس صرف افغانستان کا ویزہ تھا۔

    کورونا ویکسین لگوانے سے انکار،نوواک جوکووچ دبئی ٹینس ٹورنامنٹ کھیلیں گے؟

    شارلٹ بلیز نے کہا کہ انہوں نے طالبان کے سینئر رہنما کے ساتھ بات کی جنہوں نے انہیں بتایا کہ وہ افغانستان میں آرام سے رہ سکتی ہیں۔

    شارلٹ بلیز نے بتایا کہ انہیں طالبان نے کہا کہ آپ لوگوں کو بتادیں کہ آپ شادی شدہ ہیں اور اگر کوئی سنگین معاملہ ہو تو ہمیں آگاہ کریں اور پریشان نہ ہوں میں نے –

    انہوں نے لکھا کہ ہمیں نیوزی لینڈ کے زچگی کے ماہرین اور طبی ماہرین کے خطوط موصول ہوئے ہیں تاکہ افغانستان میں بچے کی پیدائش کے خطرات اور حمل کے دوران زیادہ تناؤ کے اثرات کی تصدیق کی جا سکے۔ ہم نے الٹراساؤنڈز، اپنے تعلقات کی حمایت میں خطوط، بینک سٹیٹمنٹس، ہماری کوویڈ ویکسینیشن بشمول بوسٹرز، میرے استعفیٰ کے شواہد اور تب سے ہمارا سفری سفرنامہ شامل کیا۔ ہم نے MIQ اور امیگریشن نیوزی لینڈ کو 59 دستاویزات جمع کرائیں، جن میں ہمارے وکیل کی طرف سے لکھا گیا ایک کور لیٹر بھی شامل ہے جس میں ہماری صورتحال کا خلاصہ کیا گیا ہے لیکن انہوں نے ہنگامی واپسی کے لیے ان کی درخواست مسترد کر دی۔

    افغانستان میں امدادی کارروائیاں محدود کرنے والے قوانین معطل کئے جائیں،اقوام متحدہ

    نیوزی لینڈ کے قرنطینہ سینٹر اور قرنطینہ نظام کے مشترکہ سربراہ کرس بنی نے ہیرالڈ کو بتایا کہ شارلٹ بلیز کی ہنگامی درخواست اس شرط کے تحت نہیں آتی جس کے مطابق وہ 14 دن کے اندر سفر کریں حکام نے شارلٹ بلیز سے رابطہ کیا ہے اور ان سے مطلوبہ شرائط کے مطابق درخواست تیار کرنے کا کہا ہے۔

    کرس بنی نے لکھا کہ یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے اور نیوزی لینڈ کے مشکل میں پھنسے شہریوں کی مدد کے لیے کام کرنے والی ٹیم کی ایک مثال ہے۔

    اسرائیلی صدرمتحدہ عرب امارات کا دورہ کریں گے

  • افغانستان میں امدادی کارروائیاں محدود کرنے والے قوانین معطل کئے جائیں،اقوام متحدہ

    افغانستان میں امدادی کارروائیاں محدود کرنے والے قوانین معطل کئے جائیں،اقوام متحدہ

    نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے کہا ہے کہ افغانستان میں روزمرہ کی زندگی جہنم بن چکی ہے۔

    باغی ٹی وی : سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھاکہ افغانستان میں روزمرہ کی زندگی جہنم بن چکی ہےافغانستان میں امدادی کارروائیاں محدود کرنے والے قوانین معطل کئے جائیں اورعالمی امداد سے سرکاری ورکرز کی تنخواہیں ادا کی جائیں۔

    امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا بیان پر طالبان کا ردعمل

    انتونیوگوتریس نے مزید کہا کہ ایسے اصولوں اور شرائط کو معطل کرنے کی ضرورت ہے جو نہ صرف افغانستان کی معیشت بلکہ زندگی بچانے والی کارروائیوں کو بھی محدود کرتے ہیں۔

    طالبان دہشتگردی کے خطرات کم کرنے کیلئےعالمی برادری اورسکیورٹی کونسل کےساتھ مل کر کام کریں۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں افغانستان کے وزیراعظم مولوی محمد حسن اخوند نے تمام حکومتوں بالخصوص مسلم ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں افغانستان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مقرر کردہ نگراں وزیر اعظم ملا حسن اخوندزادہ نے عہدے سنبھالنے کے 4 ماہ بعد حال ہی میں پہلی پریس کانفرنس کی اس اہم پریس کانفرنس میں وزیراعظم ملا حسن اخوند زادہ کے ہمراہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے پروجیکٹس کے انتظامی امور کی نگرانی کرنے والے ارکان بھی موجود تھے۔

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند نے کابل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ممالک سےمطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہماری حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے میں پہل کریں، اس افغانستان کو تیزی سے ترقی کرنے میں مدد ملے گی ایسا ہم اپنی سیاست کے لیے نہیں بلکہ افغان عوام کے لیے چاہتے ہیں-

    طالبان نے یورپی ممالک کے دورے کو کامیابی کی پہلی سیڑھی قراردیا

  • طالبان نے  یورپی ممالک کے دورے کو کامیابی کی پہلی سیڑھی قراردیا

    طالبان نے یورپی ممالک کے دورے کو کامیابی کی پہلی سیڑھی قراردیا

    اوسلو: طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار یورپی ممالک کے دورے کو کامیابی کی پہلی سیڑھی قراردیا کہا کہ اوسلو میں مغربی سفارت کاروں کے ملاقات ساتھ بذات خود ایک بڑی کامیابی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اوسلو میں طالبان کا وفد وزیر خارجہ کی سربراہی میں مغربی ممالک کے سفارت کاروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں مذاکرات کا مقصد دو دہائیوں کے جنگ زدہ افغانستان میں انسانی بحران کا حل ڈھونڈنا ہے۔

    امارات اسلامیہ افغانستان میں امریکی شہری دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے

    میٹنگ میں یورپی یونین، امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور ناروے کے نمائندوں نے طالبان کے وفد کے ساتھ اس کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں ملاقات کی تین روزہ اجلاس میں طالبان کے مندوب نے مغربی مذاکرات کاروں پر زور دیا کہ وہ افغان اثاثوں کو غیر منجمد کریں اور سیاسی گفتگو کی وجہ سے عام افغانوں کو سزا نہ دیں۔

    منشیات کےعادی افراد طالبان کے لئے بڑا چیلنج بن گئے

    طالبان کے مندوب شفیع اللہ اعظم نے مزید کہا کہ فاقہ کشی، شدید سردیوں کی وجہ سے، میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری افغانیوں کی حمایت کرے، نہ کہ ان کے سیاسی تنازعات کی وجہ سے انہیں سزا دی جائے ان ملاقاتوں سے ہمیں یقین ہے کہ افغانستان کے انسانی ہمدردی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مدد ملے گی۔

    امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا بیان پر طالبان کا ردعمل

    اوسلو کی برفانی پہاڑی کی چوٹی پر واقع سوریا موریا ہوٹل میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے وزیر خارجہ ملا امیر اللہ متقی کا کہنا تھا کہ ملاقات کا کوئی نتیجہ نکلے یا نہیں لیکن مغرب میں مغربی ممالک کے سفارت کاروں سے مذاکرات کا آغاز ہی ہوجانا اپنی ذات میں ایک بڑی کامیابی ہے ان ملاقاتوں سے ہمیں یقین ہے کہ افغانستان کے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی مغربی ممالک کا تعاون حاصل ہوگا۔

    دوسری جانب عالمی برادری کا اصرار ہے کہ طالبان امداد کی بحالی سے پہلے افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائیں جن میں لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کی ملازمتوں میں واپسی اور تمام طبقات کو حکومت میں جگہ دینا شامل ہیں۔

    طالبان سے فائرنگ کے تبادلے میں قومی اپوزیشن گروپ کے 8 مزاحمتی جنگجو ہلاک

    طالبان کے گزشتہ برس اگست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کے بیرون ملک اثاثوں اور اربوں ڈالرز کے فنڈز کو منجمد کردیا گیا تھا جو افغان بجٹ کا 80 فیصد بنتے ہیں۔ فنڈز اچانک رک جانے سے کار مملکت ٹھپ اور آدھی سے زیادہ آبادی بھوک کا شکار ہوگئی ہے۔


    مذاکرات کے آغاز سے قبل اتوار کے روز افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے تھامس ویسٹ نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ایک مستحکم، حقوق کا احترام کرنے والی اور کثیر النسلی افغان حکومت کے قیام کے لیے ہم اپنے اتحادیوں، شراکت داروں اور امدادی اداروں کے ساتھ مل کر نہ صرف انسانی بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ طالبان کے ساتھ اپنے خدشات کے حوالے سے بھی ڈپلومیسی جاری رکھیں گے۔

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    ناروے نے طالبان اور مغربی ممالک کو مذاکرات کے لیے پلیٹ فارم تو فراہم کیا ہے تاہم اب تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے البتہ مذاکرات کی میزبانی کرنے پر ناروے کو کہیں کہیں تنقید کا بھی سامنا ہے اور وزارت خارجہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئےجس پر ناروے کے وزیر خارجہ نے وضاحت کی کہ ان مذاکرات کا مقصد طالبان کو قانونی حیثیت دینے یا تسلیم کرنا نہیں بلکہ جنگ زدہ ملک کو درپیش انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔

    افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

    طالبان کے ساتھ ملاقات کے پہلے دور میں شامل خواتین کے حقوق کی کارکن جمیلہ افغانی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ ایک مثبت ملاقات تھی جہاں طالبان نے خیر سگالی کا مظاہرہ کیا لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ طالبان کے اقدامات کیا ہوں گے۔

    مذاکرات کے پہلے دور میں شریک ایک اور خاتون کارکن محبوبہ سراج نے کہا کہ طالبان نے ہمارا خیر مقدم کیا اور ہماری بات سنی۔ میں پر امید ہوں کہ فریقین ایک دوسرے کے بارے میں شکوک کا خاتمہ کرکے افہام و تفہیم پر قائل ہوجائیں گے۔

    طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے

  • مذاکرات کیلئے افغان طالبان کا وفد ناروے روانہ:امریکی سینیٹرز نے بھی جوبائیڈن کو کہہ دیا

    مذاکرات کیلئے افغان طالبان کا وفد ناروے روانہ:امریکی سینیٹرز نے بھی جوبائیڈن کو کہہ دیا

    کابل :امریکا حکام سے مذاکرات کیلئے افغان طالبان کا وفد ناروے روانہ:امریکی سینیٹرز نے بھی جوبائیڈن کو کہہ دیا،اطلاعات کے مطابق امریکا حکام سے مذاکرات کیلئے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں طالبان وفد ناروے روانہ ہوگیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کا وفد اوسلو میں امریکی حکام سے ملاقاتیں کرےگا، افغان طالبان ناروے کےحکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے، افغان طالبان کاوفد چار روزہ دورے پرناروے گیا ہے،افغان طالبان وفد کےناروے میں قیام میں توسیع کا بھی امکان ہے۔

    امریکی کانگریس کے 13 ارکان نے افغانستان کو انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے صدر جو بائیڈن کو خط لکھاہے۔خط میں لکھا گیا ہے کہ افغان عوام کی مدد نہ کی تو افغانستان ایک بار پھر ہمارے دشمنوں کا محفوظ ٹھکانہ نہ بن جائےگا۔

    دوسری جانب افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقھار بلخی نے امریکی صدر بائیڈن کے اس بیان کو مسترد کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان متحد ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

    افغان وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اختلاف رائے غیر ملکی حملہ آوروں نے اپنی بقاء کیلئے پیدا کیا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ افغانستان سے افواج اس لئے واپس بلالیں کیونکہ افغانستان کو ایک حکومت کے تحت متحد کرنا ممکن نہیں

  • امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا  بیان پر طالبان کا ردعمل

    امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا بیان پر طالبان کا ردعمل

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن افغانستان سے انخلا کے سوال پربھڑک اٹھے اور الٹا صحافیوں پر ہی سوال داغ دیا کہ کیا آپ افغانوں کو ایک حکومت پر متحد کرسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر جوبائیڈن افغانستان سے فوجیوں کے انخلا اور 20 سالہ جنگ کو ضائع کرنے کے سوال پر صحافیوں پر برس پڑے اور جواب میں صحافیوں سے کہا ہے کہ افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کی وجہ یہ بھی تھی کہ جنگ زدہ ملک میں سب کو ایک حکومت کے تحت متحد کرنا ممکن نہیں رہا تھا اور اگر آپ میں سے کوئی ایسا کرسکتا ہے تو ہاتھ کھڑا کرے۔

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    صدر جوبائیڈن نے مزید کہا کہ افغانستان حکومتوں کا قبرستان اسی لیے رہا ہے کیوں کہ وہاں اتحاد ناپید ہے ہم ہر ہفتے اس 20 سالہ جنگ پر ایک ارب ڈالر خرچ کر رہے تھے اور مزید اس خرچے کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ افغانستان سے فوجی انخلا کا فیصلہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہوا تھا اور ہم نے اسے عملی جامہ پہنایا ہے تاکہ قیمتی جانوں، وسائل اور اخراجات کو بچایا جا سکے۔

    دوسری جانب امارت اسلامیہ افغانستان نے امریکی صدر جوبائیڈن کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اپنے اتحاد سے ہی بیرونی حملہ آوروں اور طاقتور ممالک کو شکست دی۔

    افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

    افغانستان میں طالبان حکومت کے وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے اپنی ٹوئٹ میں افغانوں کے درمیان تقسیم اور اتحاد نہ ہونے کے امریکی صدر جو بائیڈن کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔


    ترجمان وزارت خارجہ نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان غیر ملکی تسلط کے دوران کبھی متحد نہیں رہا بلکہ اکثریت حملہ آوروں کے خلاف اپنی قانونی جدوجہد میں مضبوطی سے متحد رہی ہے افغانستان کے بارے میں مسٹر بائیڈن کا "حکومت کا قبرستان” ہونے کا تبصرہ بذات خود افغان اتحاد کا اعتراف ہے۔


    ترجمان نے کہا کہ تقسیم نہیں بلکہ صرف "متحدہ” قومیں حملہ آوروں اور عظیم سلطنتوں کے زوال کا سبب بنتی ہیں قبضے کے خاتمے کے بعد، ہم نے دیکھا کہ کس طرح ہم نےمحدود وسائل کے باوجود مختصر مدت میں امن قائم کیا مجموعی سلامتی کو یقینی بنایا، اور ملک میں مرکزی حکومت قائم کرکے افغان قوم کو متحد کیاہم نے اتحاد کے ذریعے ہی خود سے بڑی قوتوں کو شکست دی۔


    ترجمان عبدالقہار بلخی نے مزید کہا کہ افغانوں کے درمیان معمولی اختلافات بھی بیرونی حملہ آوروں کی جانب سے اپنی بقا کے لیے اکسانے کے باعث ہوا تھا اور ایسا تب ہی ہوا ہے جب افغانستان پر بیرونی حملہ آور حکومت کر رہے ہوافغانوں نے اپنے مشترکہ اسلامی عقائد، وطن اور معروف تاریخ کے ذریعے بڑی بڑی طاقتوں کو شکست دی اور اب ایک برابری کی قوم بننے کی جانب گامزن ہیں-

  • طالبان سے فائرنگ کے تبادلے میں قومی اپوزیشن گروپ کے 8 مزاحمتی جنگجو ہلاک

    طالبان سے فائرنگ کے تبادلے میں قومی اپوزیشن گروپ کے 8 مزاحمتی جنگجو ہلاک

    کابل: طالبان سے فائرنگ کے تبادلے میں 8 افغان مزاحمت کار ہلاک ہو گئے-

    باغی ٹی وی : غیرملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق طالبان نے افغانستان کے شمال میں ایک جھڑپ میں قومی اپوزیشن گروپ کے 8 مزاحمتی جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا پولیس کے مطابق طالبان اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے جنگجو کے مابین صوبہ بلخ میں لڑائی ہوئی تھی۔

    منشیات کےعادی افراد طالبان کے لئے بڑا چیلنج بن گئے

    صوبائی پولیس کے ترجمان آصف وزیری نے ایک آڈیو پیغام میں صحافیوں کو بتایا کہ این آر ایف کے 8 جنگجو طالبان کے ساتھ ’براہ راست جھڑپ‘ میں مارے گئے طالبان فورسز نے این آر ایف کے جنگجوؤں سے گولہ بارود اور مشین گنیں بھی قبضے میں لے لیں۔ این آر ایف کے ترجمان نے تاحال تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

    یہ لڑائی طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی تہران میں احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کے ساتھ بات چیت کے دو ہفتے سے بھی کم وقت کے بعد ہوئی ہے۔

    افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

    اس سربراہی اجلاس کے بعد مزاحمتی دھڑے کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ این آر ایف اور طالبان ’الگ الگ صفحات‘ پر ہیں اور مفاہمت کا کوئی امکان نہیں ہے
    این آر ایف فورسز نے گزشتہ برس طالبان کے قبضے کے خلاف آخری جنگ لڑی اور وادی پنجشیر کی طرف پسپائی اختیار کی جو کہ ستمبر میں حکومتی دستوں کے ہتھیار ڈالنے کے ہفتوں بعد گر گئی تھی۔

    واضح رہے کہ این آر ایف کی قیادت طالبان مخالف کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے کر رہے ہیں۔

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    قبل ازیں افغانستان کے صوبے کنٹرمیں فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک ہوگئے تھےمقامی حکام کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں کمانڈرکا بیٹا بھی شامل ہے واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے فائرنگ کے واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں افغانستان میں فائرنگ کے واقعات میں لوگوں کی ہلاکت میں اضافہ ہوا ہے۔

    افغانستان میں شدید زلزلہ،12 افراد جاں بحق