Baaghi TV

Tag: طالبان

  • افغان طالبان پہلے سے زیادہ ناقابلِ اعتماد ہو چکے ہیں،عالمی تجزیہ کار

    افغان طالبان پہلے سے زیادہ ناقابلِ اعتماد ہو چکے ہیں،عالمی تجزیہ کار

    عالمی تجزیہ کاروں نے افغانستان میں قائم طالبان حکومت کو خطے اور عالمی امن کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیا ہے۔

    افغان جریدے افغان انٹرنیشنل کے مطابق مختلف بین الاقوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت نہ صرف ناقابلِ اعتماد ہے بلکہ اس کی پالیسیاں خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہیں عالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ طالبان حکومت غیر مستحکم بنیادوں پر قائم ہے اور اس کا اقتدار وقتی نوعیت کا ہو سکتا ہے۔

    سینئر روسی تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کی حکمرانی کا انداز غیر پائیدار ہے، جس کے باعث افغانستان میں عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہےطالبان کی پالیسیاں داخلی عدم استحکام کی عکاس ہیں جبکہ روسی محقق آندرے سرینکو کا کہنا ہے کہ طالبان کی سوچ اور طرزِ عمل میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی بلکہ وہ پہلے سے زیادہ ناقابلِ اعتماد ہو چکے ہیں۔

    سینٹر فار کنٹیمپریری ایرانی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر رجب سفاروف نے کہا ہے کہ طالبان کا خراب سیاسی طرزِ عمل زیادہ عرصے تک اقتدار کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے گا، طالبان ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھے ہیں جہاں انتہا پسندانہ اقدامات کو فروغ دیا جاتا رہا ہے۔

    عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر طالبان کی موجودہ پالیسیاں جاری رہیں تو افغانستان پورے خطے میں عدم استحکام اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے، جس سے عالمی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

  • طالبان کا بگرام ایئربیس امریکا کے حوالے کرنے سے انکار

    طالبان کا بگرام ایئربیس امریکا کے حوالے کرنے سے انکار

    طالبان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بگرام ایئربیس دوبارہ لینے کے بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کسی صورت یہ ایئربیس امریکا کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

    اسکائی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغان کسی بھی صورت میں اپنی سرزمین کسی کو نہیں دیں گے۔ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی کہ طالبان بگرام ایئربیس کا کنٹرول چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں، تاہم امریکی حکام کے ساتھ سفارتی مشن دوبارہ کھولنے کے معاملے پر بات چیت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان چاہتے ہیں کہ کابل اور واشنگٹن میں سفارت خانے دوبارہ کھولے جائیں۔اقتدار میں واپسی کے چار سال بعد بھی طالبان بین الاقوامی سطح پر تنہا ہیں، اب تک صرف روس نے ان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔ تاہم طالبان ترجمان نے کہا کہ کئی ممالک نے نجی سطح پر ان کی حکومت کو تسلیم کیا ہے، اگرچہ عوامی اعلان نہیں کیا گیا۔

    بین الاقوامی تعلقات کی خواہش کے باوجود طالبان خواتین اور لڑکیوں پر سخت پابندیاں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر اب بھی پابندی عائد ہے، جبکہ خواتین کو بیشتر سرکاری اداروں اور صحت کے شعبے سمیت دیگر ملازمتوں سے بھی روک دیا گیا ہے۔

    کراچی میں ستمبر کے دوران جرائم کی صورتحال، سی پی ایل سی رپورٹ جاری

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اسپیکر سے استعفیٰ کا مطالبہ، بابر سلیم سواتی کا انکار

    ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف فیصلہ دینے والی جج کے گھر میں پراسرار آگ، شوہر اور بیٹا زخمی

    بھارت،مغربی بنگال میں مودی پارٹی پر عوام کا حملہ، رکن پارلیمنٹ زخمی

  • افغان شہری کا  دنیا کا معمر ترین شخص ہونے کا دعویٰ

    افغان شہری کا دنیا کا معمر ترین شخص ہونے کا دعویٰ

    خوست: افغانستان کے صوبے خوست کے رہائشی عاقل نظیر نے دنیا کا معمر ترین شخص ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی عمر 140 سال ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی میڈیا کے مطابق عاقل نظیر نے کہا کہ ان کی پیدائش 1880 کی ہے وہ 1919 میں لڑی جانے والی تیسری اینگلو افغان جنگ کے وقت 30 سال سے زائد عمر کا تھا اور کابل کے شاہی محل میں بادشاہ امان اللہ خان کے ساتھ برطانوی افواج کے انخلاء کا جشن منایا تھامجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں اُس وقت بادشاہ امان اللہ خان کے ساتھ محل میں موجود تھا سب لوگ خوش تھے اور انگزیزوں کو بے دخل کرنے پر بادشاہ کا شکریہ ادا کر رہے تھے،اُس وقت میرے ساتھ جتنے بھی لوگ تھے، اب وہ سب فوت ہو چکے ہیں۔

    آئی ایم ایف بھی پاکستان کی ترقی کی معترف ہے، خواجہ آصف

    تاہم مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بزرگ شہری کے پاس اپنے دعوے کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہے،طالبان حکومت کی ایک خصوصی سول رجسٹریشن ٹیم نے شہری کے 140 سال عمر ہونے کے دعوے کی تصدیق کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے-

    ترجمان طالبان نے کہا کہ اگر مذکورہ شخص کا دعویٰ دستاویزات یا سائنسی طور پر درست ثابت ہوگیا تو دنیا کے معمر ترین شخص کے طور پر رجسٹر کروائیں گے اگرعاقل نظیر کی عمر کی تصدیق ہو جاتی ہے تو وہ فرانسیسی خاتون جین کالمین کا ریکارڈ توڑ دیں گے جنھوں نے 122 سال کی عمر پائی تھی۔

    13 سالہ لڑکے کے ساتھ زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار

    واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب کسی نے دنیا کے سب سے معمر شخص ہونے کا دعویٰ کیا ہو رواں برس کے آغاز میں برازیل کی ایک خاتون نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ 120 سال کی ہونے کے قریب ہیں تاہم گنیز ورلڈ ریکارڈز نے ان کا دعویٰ ابھی تک تسلیم نہیں کیا۔

  • امریکا نے افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی گرفتاری پر انعام ختم کردیا

    امریکا نے افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی گرفتاری پر انعام ختم کردیا

    امریکا نے افغان طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور تحریک کے دیگر عہدیداروں کے سر پر رکھے گئے انعامات کو منسوخ کر دیا۔

    باغی ٹی وی: امریکی "ریوارڈز فار جسٹس” ویب سائٹ کے مطابق امریکہ نے سراج الدین حقانی کے نام حذف کر دیئے، سراج الدین کی گرفتاری پر 10 ملین ڈالر کا انعام رکھا گیا تھا۔ یحییٰ اور عبد العزیز حقانی کی گرفتاری کرانے پر انعام 50 لاکھ ڈالر تھا اسے بھی ختم کر دیا گیا ہے۔

    "العربیہ ” کو حقانی کے قریبی ذرائع نے حقانی اور دو دیگر رہنماؤں سے انعامات ہٹانے کے بارے میں معلومات کے درست ہونے کی تصدیق کی ہے خیال کیا جاتا ہے کہ ان تین رہنماؤں کی گرفتاری پر انعامات کا خاتمہ امریکی زیر حراست جارج گلیزمین کی رہائی کے بدلے عمل میں آیا۔

    اسرائیل میں نیتن یاہو کیخلاف مظاہرے شدت اختیار کر گئے

    جمعرات کے روز طالبان نے یرغمالی امور کے لیے امریکی ایلچی ایڈم بوہلر اور کابل میں طالبان حکام کے درمیان بات چیت کے بعد دو سال سے زیادہ عرصے سے افغانستان میں قید امریکی شہری کو رہا کر دیا تھاگلیزمین کو 2022 میں اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ بطور سیاح کابل گئے تھے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو ایک بیان جاری کرکے گلیزمین کی رہائی کی تصدیق کی تھی۔

    جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد جمعرات کو کابل میں ہونے والی بات چیت امریکہ اور طالبان کے درمیان اعلیٰ سطح کی پہلی براہ راست ملاقات تھی۔

    سندھ میں اراضی ریکارڈ کو جدید ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ

  • طالبان نے امریکی یرغمالی جارج گلیزمن کورہا کر دیا

    طالبان نے امریکی یرغمالی جارج گلیزمن کورہا کر دیا

    طالبان نے امریکی یرغمالی جارج گلیزمن کو امریکہ اور قطر کے ساتھ مذاکرات کے بعد رہا کر دیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے آج امریکی یرغمالی جارج گلیزمن کو دو سال سے زائد عرصے بعد رہا کر دیا۔ یہ رہائی ٹرمپ انتظامیہ اور قطری حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔فاکس نیوز ڈیجیٹل کو سفارتی ذرائع نے بتایا کہ اس رہائی میں قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ جارج گلیزمن کو طالبان نے افغانستان میں حراست میں لے رکھا تھا، اور کئی مہینوں کی بات چیت کے بعد انہیں آزاد کر دیا گیا۔امریکی حکام نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیگر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بھی اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

    جارج گلیزمن بدھ کی شام کابل ایئرپورٹ سے دوحہ روانہ ہوئے، جہاں انہیں امریکی یرغمالیوں کے ایلچی ایڈم بوہلر اور قطری وزارت خارجہ کی ایک ٹیم خوش آمدید کہے گی۔65 سالہ امریکی شہری گلیزمن کو 5 دسمبر 2022 کو کابل میں بطور سیاح دورہ کرنے کے دوران اغوا کر لیا گیا تھا۔یاد رہے کہ قطر نے 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ امریکہ کے افغانستان کے ساتھ سرکاری تعلقات نہیں ہیں۔

    اس ھوالے افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا ہے کہ افغانستان متوازن خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے، امریکا سمیت تمام ممالک کے ساتھ تعمیری تعلقات کے خواہاں ہیں۔افغان وزیر خارجہ سے امریکی وفد کی ملاقات کے حوالے سے افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ اس سے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت ہوگی۔مولوی امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ امریکا کو مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہئیں تاکہ اعتماد بحال ہو سکے، دونوں ممالک کو 20 سال کی جنگ کے اثرات سے نکلنے کی ضرورت ہے۔

    افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کو مستقبل میں مثبت سیاسی و اقتصادی تعلقات بنانے کی ضرورت ہے۔افغان میڈیا کے مطابق ایڈم بوہلر نے افغانستان میں سیکیورٹی کی بہتری اور منشیات کے خلاف اقدامات کو سراہا۔ امریکی خصوصی ایلچی ایڈم بوہلر نے کہا کہ افغانستان اور امریکا کے تاریخی تعلقات رہے ہیں، جن میں بعض اوقات چیلنجز درپیش رہے، اب وقت آگیا ہے کہ مستقبل کی طرف مثبت راہ اپنائی جائے۔

    دوسری جانب افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی کابل میں امریکی خصوصی ایلچی ایڈم بویہلر سے ملاقات ہوئی۔کابل سے افغان وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات میں افغان امریکا باہمی تعلقات، قیدیوں کی رہائی اور افغان شہریوں کےلیے امریکی قونصلر سروس پر تبادلہ خیال ہوا۔ملاقات میں افغانستان کےلیے سابق امریکی نمائندہ خصوصی ذلمے خلیل زاد بھی موجود تھے۔

    مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں 10ہزار افراد کا اعتکاف

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

  • افغان وزارت داخلہ کی سراج الدین حقانی کے وزارت سے مستعفی ہونےکی تردید

    افغان وزارت داخلہ کی سراج الدین حقانی کے وزارت سے مستعفی ہونےکی تردید

    کابل: افغان وزارت داخلہ نے وزیرداخلہ سراج الدین حقانی کے استعفے سے متعلق خبروں کی تردید کردی۔

    باغی ٹی وی : افغانستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق افغان وزارت داخلہ کے ترجمان مفتی عبدالمتین قانع نے میڈیا کو بتایا ہے کہ سراج الدین حقانی کے استعفے کے حوالے سے شائع ہونے والی خبریں غلط ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

    افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے میڈیا سے درخواست کی ہےکہ وہ حقائق کو پیش کریں اور افواہوں اور پروپیگنڈےکو پھیلانے سےگریز کریں۔

    کراچی:سی ٹی ڈی کی کارروائی ، ٹی ٹی پی الخوارج کا اہم کارکن گرفتار، اسلحہ برآمد

    واضح رہے کہ گزشتہ روز خبر سامنے آئی تھی کہ سراج الدین حقانی نے افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کو استعفیٰ بھجوادیا ہے جو انہوں نے منظور بھی کرلیا ہے طالبان قیادت کے اندرونی اختلافات اور وزارت کی ذمہ داریوں سے طویل غیرحاضری ان کے استعفے کی وجہ بنی، حقانی نیٹ ورک اور طالبان کی مرکزی قیادت کے درمیان خواتین کے حقوق کے معاملے پر بھی اختلافات ہیں۔

    حماس سے شکست تسلیم کرنے والا اعلیٰ فوجی افسر نوکری سے فارغ

  • افغانستان کے وزیرداخلہ سراج حقانی عہدے سے مستعفی ہوگئے

    افغانستان کے وزیرداخلہ سراج حقانی عہدے سے مستعفی ہوگئے

    کابل: افغانستان کے وزیرداخلہ سراج الدین حقانی عہدے سے مستعفی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : افغان میڈیا رپورٹ کے مطابق سراج الدین حقانی نے افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کو استعفیٰ بھجوادیا جو انہوں نے منظور کر لیا طالبان قیادت کے اندرونی اختلافات استعفے کی وجہ بتائی جارہی ہے اور سراج الدین حقانی کی وزارت کی ذمہ داریوں سے طویل غیرحاضری بھی استعفے کی وجہ ہے،حقانی نیٹ ورک اور طالبان کی مرکزی قیادت کے درمیان خواتین کے حقوق کے معاملے پر بھی اختلافات ہیں۔

    میڈیارپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سراج الدین حقانی کے مستعفی ہونے سے متعلق طالبان حکومت کا کوئی بیان نہیں آیا، افغان طالبان کی جانب سے سراج الدین حقانی کے مستعفی ہونے کی تصدیق یا تردید نہیں ہوسکی ہےگزشتہ روز سراج الدین حقانی نے صوبہ خوست کا دورہ کیا تھا اور جمعہ کی نماز ادا کی جہاں انہوں نے شہریوں سے بھی ملاقات کی تھی۔

  • طالبان کو کوئی پیسہ نہیں دیں گے  ،ٹرمپ

    طالبان کو کوئی پیسہ نہیں دیں گے ،ٹرمپ

    نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء پر صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ "ہم طالبان کو کوئی پیسہ نہیں دیں گے جب تک وہ ہمارا فوجی سامان واپس نہیں کرتے۔” ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے افغانستان سے انخلاء کے دوران طالبان کو ” اربوں ڈالر” مالیت کا فوجی سامان دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "انہوں نے طالبان کو یہ سامان دیا، اور ہمارے فوجی سامان کا ایک بڑا حصہ دشمن کو دے دیا۔”ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء ایک غیر منظم اور بے ترتیب عمل تھا جس نے امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اس انخلاء کی وجہ سے طالبان کو جدید ترین فوجی سامان مل گیا، جو کہ ایک سنگین غلطی تھی۔

    ٹرمپ کی یہ تنقید اس وقت سامنے آئی ہے جب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد امریکی فوجی سامان کی بڑی مقدار طالبان کے ہاتھوں میں آئی۔ یہ سامان جدید ہتھیاروں، گاڑیوں اور دیگر فوجی آلات پر مشتمل تھا، جو افغان فورسز کے ہاتھوں سے چھن کر طالبان کے قبضے میں آیا۔اس بیانیے کے ذریعے ٹرمپ نے ایک بار پھر بائیڈن انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے افغانستان سے غیر محفوظ طریقے سے انخلاء کیا اور اپنے فوجی وسائل دشمن کے حوالے کر دیے۔

    کرم ، آپریشن کے متاثرین کے لیے عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ

    پالپا کا پائلٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ

  • کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    امریکی کانگریس کے رکن ٹم برچیٹ نے کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ سے طالبان کو غیر ملکی امداد دینے کے بارے میں سوال کیا تھا جس پر وزیر خارجہ نے تسلیم کیا کہ غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے طالبان کو تقریباً 10 ملین ڈالر کی امداد دی جا رہی ہے۔ لیکن برچیٹ کے مطابق، یہ اس مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ وہ نقد رقم ہے جو امریکہ کے مرکزی بینک سے افغانستان کے مرکزی بینک میں بھیجی جاتی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ نقد رقم افغانستان کے مرکزی بینک کو نیلام کی جاتی ہے، جس کے بعد ان رقموں کا پتہ لگانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس طریقے سے طالبان دہشت گردی کی مالی معاونت حاصل کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

    ٹم برچیٹ نے 2023 میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں امریکی محکمہ خارجہ کو طالبان کو مالی یا مادی امداد فراہم کرنے والے غیر ملکی ممالک کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس بل میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکی حکومت افغانستان کے مرکزی بینک پر طالبان کے اثر و رسوخ اور نقد امدادی پروگراموں کی رپورٹ پیش کرے۔ یہ بل امریکی ایوان نمائندگان سے متفقہ طور پر منظور ہو گیا تھا، مگر سینٹ میں اس بل کو مزید غور و بحث کے لیے پیش نہیں کیا جا سکا کیونکہ اس وقت کے اکثریتی رہنما چک شومر نے اس پر ووٹنگ نہیں ہونے دی۔

    برچیٹ نے اعلان کیا کہ وہ اس بل کو آئندہ کانگریس میں دوبارہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور صدر ٹرمپ کی حمایت کی امید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "امریکہ کو اپنے دشمنوں کو بیرون ملک امداد نہیں دینی چاہیے۔” برچیٹ کا کہنا تھا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو دہشت گردوں کو فنڈ کرنے کے لیے استعمال کرنا ایک بے وقوفانہ اقدام ہے۔ٹم برچیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر 2024 میں ہونے والی انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی اور کہا کہ مشرقی ٹینسی کے لوگ وائٹ ہاؤس میں مضبوط قیادت کے منتظر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے دوسرے دورِ حکومت میں ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں تاکہ امریکہ کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

    ٹم برچیٹ کا خط امریکی سیاست میں طالبان کی امداد کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے اور امریکی پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ برچیٹ کا موقف ہے کہ امریکی حکومت کو اپنے ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرنے کی بجائے امریکی مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے صدر ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔یہ خط امریکی سیاست میں غیر ملکی امداد کے بارے میں جاری بحث کو مزید شدت دے سکتا ہے، خاص طور پر جب طالبان جیسے دہشت گرد گروپوں کو امداد دینے کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہو رہے ہیں

    https://x.com/elonmusk/status/1876436915479843239

    ٹم کے اس خط پر دنیا کے معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے سی ای او،ایلون مسک نے سنسنی خیز سوال اٹھایا ہے: "کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟” ایلن مسک کا یہ سوال اس وقت منظر عام پر آیا جب افغانستان کے حوالے سے امریکی حکومت کی امداد اور امدادی فنڈز پر بات چیت ہو رہی تھی۔ امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مختلف امدادی پروگرامز شروع کیے ہیں تاکہ انسانی بحران اور معاشی عدم استحکام سے نمٹا جا سکے۔ اس امداد میں غذائی اشیاء، ادویات، اور دیگر امدادی سامان شامل ہے، جس کا مقصد افغان عوام کی مدد کرنا ہے۔تاہم، بہت سے حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ امداد طالبان کی حکومت کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ طالبان براہ راست افغان حکومت پر قابض ہیں اور ان کی جانب سے اس امداد کا استعمال دہشت گردی کے لئے بھی ممکن ہے۔

    ایلن مسک نے اپنی ٹویٹس اور عوامی بیانات میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر امریکہ طالبان کے حوالے سے امداد فراہم کر رہا ہے تو کیا یہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کا غلط استعمال نہیں ہو رہا؟ ایلن مسک کا یہ سوال امریکہ کے امدادی پروگرامز پر ایک اہم سوالیہ نشان ہے، جس نے عالمی سطح پر افغان بحران کی پیچیدگیوں کو اجاگر کیا ہے۔یہ مسئلہ مستقبل میں بھی عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن سکتا ہے، اور اس پر مزید فیصلے اور اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

    تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

    پاکستان میں سکواش کے فروغ کے حوالے سے ایک بڑی خوشخبری

  • افغانستان ،خواتین    کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات

    افغانستان ،خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات

    افغانستان :خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات سامنے آئے ہیں

    خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی کا فیصلہ ہیبت اللہ اخوند زادہ کی جانب سے کیا گیا،خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی کے باعث افغانستان میں شرح اموات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خواتین اور بچوں کی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی محدود ہو گئی ہے،اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق; حمل اورولادت کے دوران ہر ایک لاکھ پیدائشوں میں 600 سے زیادہ اموات ہوتی ،طالبان نے بعض صوبوں میں خواتین کے مرد مریضوں کے علاج پر پابندی عائد کردی، خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، خواتین کی میڈیکل تعلیم پرپابندی سے انسانی زندگیوں کو بھی داؤ پر لگا دیاگیا،2021ء میں افغان طالبان نے چھٹی جماعت سے لیکر یوینورسٹی تک لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کی تھی،افغانستان میں یہ غیر انسانی اقدامات عالمی برادری کیلئے ایک چیلنج ہیں ،افغانستان میں غیرانسانی اقدامات طالبان کے پرتشدد اور انتہاپسند ایجنڈے کو آشکار کر رہے ہیں، افغانستان کی خواتین اور بچوں کو بنیادی حقوق کیلئے عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے

    دو بھگوڑے، بے شرم چوہے،معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔شیر افضل مروت

    بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت سے انکار دیرینہ پالیسی ہے،امریکی محکمہ خارجہ