Baaghi TV

Tag: طالبان

  • کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    امریکی کانگریس کے رکن ٹم برچیٹ نے کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ سے طالبان کو غیر ملکی امداد دینے کے بارے میں سوال کیا تھا جس پر وزیر خارجہ نے تسلیم کیا کہ غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے طالبان کو تقریباً 10 ملین ڈالر کی امداد دی جا رہی ہے۔ لیکن برچیٹ کے مطابق، یہ اس مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ وہ نقد رقم ہے جو امریکہ کے مرکزی بینک سے افغانستان کے مرکزی بینک میں بھیجی جاتی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ نقد رقم افغانستان کے مرکزی بینک کو نیلام کی جاتی ہے، جس کے بعد ان رقموں کا پتہ لگانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس طریقے سے طالبان دہشت گردی کی مالی معاونت حاصل کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

    ٹم برچیٹ نے 2023 میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں امریکی محکمہ خارجہ کو طالبان کو مالی یا مادی امداد فراہم کرنے والے غیر ملکی ممالک کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس بل میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکی حکومت افغانستان کے مرکزی بینک پر طالبان کے اثر و رسوخ اور نقد امدادی پروگراموں کی رپورٹ پیش کرے۔ یہ بل امریکی ایوان نمائندگان سے متفقہ طور پر منظور ہو گیا تھا، مگر سینٹ میں اس بل کو مزید غور و بحث کے لیے پیش نہیں کیا جا سکا کیونکہ اس وقت کے اکثریتی رہنما چک شومر نے اس پر ووٹنگ نہیں ہونے دی۔

    برچیٹ نے اعلان کیا کہ وہ اس بل کو آئندہ کانگریس میں دوبارہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور صدر ٹرمپ کی حمایت کی امید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "امریکہ کو اپنے دشمنوں کو بیرون ملک امداد نہیں دینی چاہیے۔” برچیٹ کا کہنا تھا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو دہشت گردوں کو فنڈ کرنے کے لیے استعمال کرنا ایک بے وقوفانہ اقدام ہے۔ٹم برچیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر 2024 میں ہونے والی انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی اور کہا کہ مشرقی ٹینسی کے لوگ وائٹ ہاؤس میں مضبوط قیادت کے منتظر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے دوسرے دورِ حکومت میں ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں تاکہ امریکہ کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

    ٹم برچیٹ کا خط امریکی سیاست میں طالبان کی امداد کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے اور امریکی پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ برچیٹ کا موقف ہے کہ امریکی حکومت کو اپنے ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرنے کی بجائے امریکی مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے صدر ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔یہ خط امریکی سیاست میں غیر ملکی امداد کے بارے میں جاری بحث کو مزید شدت دے سکتا ہے، خاص طور پر جب طالبان جیسے دہشت گرد گروپوں کو امداد دینے کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہو رہے ہیں

    https://x.com/elonmusk/status/1876436915479843239

    ٹم کے اس خط پر دنیا کے معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے سی ای او،ایلون مسک نے سنسنی خیز سوال اٹھایا ہے: "کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟” ایلن مسک کا یہ سوال اس وقت منظر عام پر آیا جب افغانستان کے حوالے سے امریکی حکومت کی امداد اور امدادی فنڈز پر بات چیت ہو رہی تھی۔ امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مختلف امدادی پروگرامز شروع کیے ہیں تاکہ انسانی بحران اور معاشی عدم استحکام سے نمٹا جا سکے۔ اس امداد میں غذائی اشیاء، ادویات، اور دیگر امدادی سامان شامل ہے، جس کا مقصد افغان عوام کی مدد کرنا ہے۔تاہم، بہت سے حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ امداد طالبان کی حکومت کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ طالبان براہ راست افغان حکومت پر قابض ہیں اور ان کی جانب سے اس امداد کا استعمال دہشت گردی کے لئے بھی ممکن ہے۔

    ایلن مسک نے اپنی ٹویٹس اور عوامی بیانات میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر امریکہ طالبان کے حوالے سے امداد فراہم کر رہا ہے تو کیا یہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کا غلط استعمال نہیں ہو رہا؟ ایلن مسک کا یہ سوال امریکہ کے امدادی پروگرامز پر ایک اہم سوالیہ نشان ہے، جس نے عالمی سطح پر افغان بحران کی پیچیدگیوں کو اجاگر کیا ہے۔یہ مسئلہ مستقبل میں بھی عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن سکتا ہے، اور اس پر مزید فیصلے اور اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

    تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

    پاکستان میں سکواش کے فروغ کے حوالے سے ایک بڑی خوشخبری

  • افغانستان ،خواتین    کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات

    افغانستان ،خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات

    افغانستان :خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی سے صحت اور تعلیم پر سنگین اثرات سامنے آئے ہیں

    خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی کا فیصلہ ہیبت اللہ اخوند زادہ کی جانب سے کیا گیا،خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی کے باعث افغانستان میں شرح اموات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، خواتین اور بچوں کی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی محدود ہو گئی ہے،اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق; حمل اورولادت کے دوران ہر ایک لاکھ پیدائشوں میں 600 سے زیادہ اموات ہوتی ،طالبان نے بعض صوبوں میں خواتین کے مرد مریضوں کے علاج پر پابندی عائد کردی، خواتین کی میڈیکل تعلیم پر پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، خواتین کی میڈیکل تعلیم پرپابندی سے انسانی زندگیوں کو بھی داؤ پر لگا دیاگیا،2021ء میں افغان طالبان نے چھٹی جماعت سے لیکر یوینورسٹی تک لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کی تھی،افغانستان میں یہ غیر انسانی اقدامات عالمی برادری کیلئے ایک چیلنج ہیں ،افغانستان میں غیرانسانی اقدامات طالبان کے پرتشدد اور انتہاپسند ایجنڈے کو آشکار کر رہے ہیں، افغانستان کی خواتین اور بچوں کو بنیادی حقوق کیلئے عالمی برادری کی حمایت کی ضرورت ہے

    دو بھگوڑے، بے شرم چوہے،معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔شیر افضل مروت

    بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت سے انکار دیرینہ پالیسی ہے،امریکی محکمہ خارجہ

  • طالبان کے حمایتی عمران خان کے ساتھ امریکی ہمدردیاں کیوں؟

    طالبان کے حمایتی عمران خان کے ساتھ امریکی ہمدردیاں کیوں؟

    افغانستان میں امریکہ کی شکست پر طالبان کی فتح کا جشن منانے والے عمران خان کے لئے اب امریکہ سے ہی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی لابنگ فرم نے کام دکھانا شروع کر دیا ۔ امریکی غلامی سے آزادی لینے کے دعویدار امریکہ سے مدد مانگ رہے تو وہیں امریکی بھی عمران خان کے لیے لابنگ کرنے لگے

    طالبان جنہوں نے دو دہائیوں تک امریکی افواج کے خلاف جنگ لڑی اور 2,400 سے زائد امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا۔ 2021 میں جب طالبان افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آئے، عمران خان نے اس فتح کو خوشی کے ساتھ سراہا اور طالبان کے قبضے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس موقع پر امریکی تربیت یافتہ افغان فوجیوں کی شکست کا مذاق اُڑایا اور طالبان کو ایک عظیم کامیابی قرار دیا۔یہاں تک کہ عمران خان نے طالبان کی کامیابی کو ایک علامتی فتح کے طور پر پیش کیا، جسے اس وقت کے عالمی سیاست میں ایک غیر معمولی موقف کے طور پر دیکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے نہ صرف امریکہ کی فوجی طاقت کو شکست دی بلکہ افغانستان کی آزادی اور خود مختاری کے لیے بھی ایک بڑا قدم اُٹھایا ہے۔

    مگر آج کچھ عجیب سی صورتحال سامنے آئی ہے۔ امریکی کانگریس کے کئی اہم ارکان اب عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہیں ایک ایسے ہیرو اور جمہوریت کے علمبردار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس نے امریکہ کے دشمنوں کی حمایت کی۔ ایک ایسا شخص جو کبھی طالبان کے حق میں بول رہا تھا، آج وہ امریکہ میں اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک محبوب شخصیت بن چکا ہے۔ یہ تبدیلی کس طرح آئی؟اس تبدیلی کا ایک بڑا سبب واشنگٹن کا لابنگ نظام ہے۔ وہ طاقتور لابنگ جو طالبان کے حمایتی کو بھی امریکہ کا دوست بنا دیتی ہے اور ناقدین کو بھی حامیوں میں تبدیل کر دیتی ہے۔ امریکہ کا لابنگ سسٹم نہایت حیرت انگیز طریقے سے اپنے مخالفین کو اپنے اتحادیوں میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وقت نہیں آیا کہ ہم اس لابنگ سسٹم کی ذہانت اور اس کے کمالات کو تسلیم کریں؟ ایک ایسی قوت جو اپنے مخالفین کو بھی اپنے کیمپ میں شامل کر لیتی ہے، کیا یہ ایک سیاسی جادو نہیں؟ اس کا جواب شاید آنے والے دنوں میں ہمیں مزید واضح ہو سکے گا۔

  • مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے  دشمن

    مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے دشمن

    فتنتہ الخوراج پاکستان کی عوام و ترقی کےدشمن ہیں

    فتنتہ الخوراج پاکستان کی تاریخ میں ایک ناسور کی حیثیت رکھتی ہے ،مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے یہ دہشتگرد پاکستان کی عوام کے کھلے دشمن ہیں ،مساجد، امام بارگاہوں، اقلیتوں،کھیل، سکول،کاروباری و سیاحتی مقامات اور پاکستان کے دفاعی ادارےفتنتہ الخوارج کی دہشتگردی کا نشانہ رہے ہیں ،فتنتہ الخوراج کے قیام کیساتھ ہی اس نے معصوم پاکستانی عوام کیخلاف طبل جنگ بجا دیا ،فتنتہ الخوراج نے پاکستانی قبائلی کم عمر نوجوانوں کوہتھیار کے طور پر خودکش حملوں میں استعمال کیا ،فتنتہ الخوراج نے پاکستان کی معصوم عوام کا خون بہایا ،فتنتہ الخوراج نےخواتین کی تعلیم کیخلاف گرلز سکولوں پر حملے شروع کر دئیے

    سکولوں کی بندش اور خواتین کی تعلیم خلاف پر تشدد حملوں نے صرف وادی سوات میں 8000 خواتین اساتذہ کو ملازمتوں سے محروم کر دیا ، 2011 میں کے پی اور سابقہ فاٹا میں 1600 سکولوں کو منہدم یا نقصان پہنچایا گیا جس سے 7لاکھ 21 ہزار طلباء جن میں 3 لاکھ 71 ہزار 604 لڑکیاں متاثر ہوئیں،لڑکیوں کی سکول تک رسائی غیر متناسب طور پر متاثر ہوئی اور لڑکیوں کے زیادہ تر سکول فتنتہ الخوارج کے حملوں سے تباہ ہو گئے ،”فتنتہ الخوارج نے 2009 سے 2013 تک قبائلی علاقوں میں 838 حملوں میں 500 سے زائد سکولوں کو مسمار کیا”.2009 میں اسلام آباد میں قائم بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں خود کش حملےمیں 6 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے

    فتنتہ الخوراج نے 16 دسمبر 2014ء کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے میں 149 افراد جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے، کو شہید کر دیا

    2005 سے 2018 تک فتنتہ الخوارج نے صرف خیبر پختونخواہ میں 227 خودکش حملوں میں 3009 پاکستانیوں کو شہید جبکہ 5374 کو زخمی کیا ،2013 میں پشاور کینٹ میں مسجد پر فتنتہ الخوراج کےخودکش حملے میں 18 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے ،مارچ 2015 میں فتنتہ الخوارج نے بنوں کی مسجد میں خودکش دھماکے میں 15 افراد کو شہید جبکہ 20 کو زخمی کر دیا ،2016 میں کوئٹہ میں کرکٹ گراؤنڈ پر خودکش حملے میں 6 افراد شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوئے .2018 میں کوئٹہ میں سپورٹس گراونڈ میں فٹبال میچ کے دوران وحشیانہ حملے میں 8 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہو گئے.جولائی 2018 میں بنوں اور مستونگ میں سیاسی ریلیوں پر حملوں میں 133 افراد شہید کر دئیے گئے.30 جنوری2023کو، فتنتہ الخوارج نے پشاور پولیس لائنز مسجد پر حملے میں 80 سے زائد افراد کوشہید کردیا .17 فروری2023 کو ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں نے کراچی پولیس آفس پر حملہ کیا، جس میں 4 افراد شہید اور 19 زخمی ہوئے.افغانستان میں طالبان کے قبضے سے پہلے 2020 میں پاکستان میں 3 حملوں میں 25 افراد شہید، 2021 میں 4 حملوں میں 21 افراد شہید ہوئے،افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد2022 میں 13حملوں میں 96افراد شہید ہوئے،سال 2023 میں پاکستان میں 30 خودکش حملوں میں 238 افراد شہید ہوئے،

    2021 میں افغان طالبان کے اقتدارپر قبضےکےبعدفتنتہ الخوارج کو افغانستان میں جدید ترین ہتھیاروں اورجنگجوؤں تک آسان رسائی حاصل ہوگئی،فتنتہ الخوارج کا مذہب سے دور دور تک تعلق نہیں بلکہ یہ مکروہ عناصر پاکستان دشمن قوتوں کے ایما پر پاکستان کو تباہ کرنے کے درپے ہیں

    سعودی عرب کی اسرائیل کی گولان میں آبادکاری کی توسیع کی مذمت

    جی ایچ کیو حملہ کیس،شاہ محمود قریشی سمیت مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    نیویارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں دوران خطاب ٹرمپ کے مشیر گرپڑے

  • ٹی ٹی پی اہم کمانڈر افغانستان میں حملے میں ہلاک

    ٹی ٹی پی اہم کمانڈر افغانستان میں حملے میں ہلاک

    کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اہم کمانڈر رحیم اللہ عرف شاہد عمر افغانستان کے صوبے کنڑ کے علاقے شرنگل میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے رہنما کی ہلاکت کے حوالے سے ابھی تک افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم عسکریت پسند تنظیم نے اپنے کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

    افغان سیکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق شاہد عمر کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کیا گیا جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ افغان طالبان کی جانب سے دیے گئے ظہرانے میں شرکت کے بعد واپس اپنے مقام پر جا رہے تھے۔ حملے کی نوعیت اور حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں ابھی تک کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔پاکستانی سیکیورٹی حکام کے مطابق، ٹی ٹی پی کمانڈر شاہد عمر کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی۔ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کا ایک سینئر کمانڈر تھا اور پاکستان میں دہشت گردی کی کئی کارروائیوں میں ملوث رہا۔ اس کے علاوہ وہ ایک طویل عرصہ تک افغان طالبان کی جانب سے بگرام جیل میں قید رہا، جہاں اس نے آٹھ سال گزارے۔

    رحیم اللہ عرف شاہد عمر، ٹی ٹی پی کے عسکریت پسند تنظیم کے فوجی کمیشن کا رکن بھی تھا اور اس نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے لئے ٹی ٹی پی کا شیڈو گورنر ہونے کا بھی عہدہ سنبھالا تھا۔رپورٹس کے مطابق ٹی ٹی پی کے مزید کمانڈروں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم اس خبر کے شائع ہونے تک ان کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔رحیم اللہ عرف شاہد عمر کی ہلاکت نہ صرف ٹی ٹی پی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ افغانستان میں طالبان حکومت کے لیے بھی شرمندگی کا باعث بن رہی ہے۔ پاکستان نے بار بار اس بات کا الزام عائد کیا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ سرحد پار پاکستان میں حملے کر رہے ہیں، لیکن افغان طالبان حکومت نے ان دہشت گردوں کی افغانستان میں موجودگی کی تردید کی تھی۔ شاہد عمر کی ہلاکت نے ایک مرتبہ پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔

    کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے تعلقات کی نوعیت بھی اس واقعے کے بعد مزید زیر بحث آ سکتی ہے، کیونکہ یہ دونوں گروہ ماضی میں ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں اور ٹی ٹی پی کے کئی کمانڈر افغان طالبان کے زیرِ اثر علاقوں میں پناہ گزین ہیں۔یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ ابھی تک پوری طرح سے قابو میں نہیں آ سکے، اور یہ پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، خاص طور پر جب پاکستان کی سرحد کے قریب دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافے کی خبریں آ رہی ہوں۔

    کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر کو قتل کرنے کی ذمہ داری جبھتہ الرباط نے قبول کرلی
    افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ میں قتل ہونے والے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے انتہائی سینئر کماںدر شاھد عمر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کھانا کھارہے تھے۔شاھد عمر ٹی ٹی پی کے بانیوں میں شمار ہونے والے رہنما فقیر محمد کے بھتیجے تھے اور ٹی ٹی پی میں ان کو اہم مقام حاصل تھا وہ 8 سال سابقہ افغان حکومت کی قید میں بھی گزار چکے تھے، ذرائع کے مطابق ان کو کنڑ میں ٹی ٹی پی کے ایک اور رکن نے کھانے کی دعوت پر بلا کر کھانے کے دوران ہی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والا کمانڈر پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو مطلوب تھا اور حکومت نے ان کے سر پر ایک کروڑ پاکستانی کرنسی کا انعام بھی رکھا تھا۔

  • برطانیہ میں طالبان  نے اپنے عملے کی برطرفی کے بعد سفارت خانہ بند کر دیا

    برطانیہ میں طالبان نے اپنے عملے کی برطرفی کے بعد سفارت خانہ بند کر دیا

    لندن: افغانستان کی طالبان پر مشتمل عبوری حکومت نے لندن میں اپنا سفارتخانہ بند کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانیہ میں افغانستان کے سفیر زلمے رسول نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر کہا کہ سفارت خانہ 27 ستمبر کو ”میزبان ملک کی سرکاری درخواست پر“ بند ہو جائے گا،ہم تمام ساتھیوں، شہریوں اور متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کی تعریف کرتے ہیں جنہوں نے اس عرصے کے دوران لندن میں افغان سفارت خانے کے ساتھ مخلصانہ تعاون کیا،طالبان کی طرف سے اپنے عملے کی برطرفی کے بعد سفارت خانہ بند کیا جا رہا ہے۔“

    واضح رہے کہ مذکورہ اقدام جولائی میں طالبان کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے سابقہ حکومت کے قائم کردہ سفارت خانوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

    وفاقی حکومت نے پنشن رولز میں ترامیم کر دیں

    خیال رہے کہ اگست 2021 میں کابل کے سقوط کے بعد یورپ میں بہت سے افغان سفارت خانے کام کرتے رہے لیکن واشنگٹن ڈی سی میں پوسٹنگ سمیت دیگر کو بند کرنے پر مجبور کر دیا گیاطالبان کو برطانیہ نے افغانستان کی قانونی حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کیا اور اپنا سفارت خانہ کابل سے قطر منتقل کر دیا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کا عید میلاد النبیؐ پر فول پروف سیکیورٹی کا حکم

  • فتنہ الخوارج کی وسیع پیمانے پرڈاکہ زنی اور بھتہ خوری کی ہوشربا تفصیلات

    فتنہ الخوارج کی وسیع پیمانے پرڈاکہ زنی اور بھتہ خوری کی ہوشربا تفصیلات

    فتنہ الخوارج کی وسیع پیمانے پرڈاکہ زنی اور بھتہ خوری کی ہوشربا تفصیلات منظر عام پر آ گئی ہیں

    سیکیورٹی فورسز کی جانب سےفتنہ الخوارج کے حالیہ مارے جانے والے دہشت گردوں سےرونگٹے کھڑے کر دینے والے دستاویزی ثبوت بر آمد ہوئے ہیں،فتنہ الخوارج کے دہشت گرد پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے ساتھ ساتھ ڈاکہ زنی اور بھتہ خوری کی سنگین وارداتوں میں بھی ملوث ہیں،جنوبی خیبر پختونخوا کے علاقےڈیرہ اسماعیل خان میں خارجی دہشت گردوں نے بینک لوٹنا شروع کر دیے، ڈیرہ اسماعیل خان میں بینک کی رقم لے جانے والی گاڑیوں پر خوارج نے9 جولائی، 30 جولائی اور 8 اگست کو 3 حملے کیے اور 56 ملین روپے سے زائد رقم لوٹ لی, دہشت گردوں نےرقم لے جانے والی گاڑیوں کوبھی مکمل خاکستر کر دیا،لوٹی ہوئی رقم سے خارجی نور ولی کے حکم پر 4 لاکھ روپے خارجی سیلاب کو دیے گئے ،خارجی عباس کے 13 دہشت گردوں میں 17 لاکھ سے زائد کی رقم تقسیم کی گئی ،دستاویزی ثبوت کے مطابق لوٹی ہوئی رقم حوالہ ہنڈی کے ذریعے پاکستان سے افغانستان کے علاقوں لامان اور خوست میں چھپے خارجی دہشت گردوں کو بھیجی جاتی ہیں،

    فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے نام نہاد مقدس جنگجوؤں کا روپ دھار رکھا ہے،
    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج دراصل غنڈوں اور ڈاکوؤں کا گروہ ہے جو معصوم پاکستانی عوام کی جان و مال کے دشمن ہیں ، فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے نام نہاد مقدس جنگجوؤں کا روپ دھار رکھا ہے، فتنا الخوارج کے بھتہ خوری اور ڈاکوں کا مقصد پاکستانی عوام کا پیسہ لوٹ کر خوارج کے سرپرستوں کو عیاشی کروانا ہے، یہ خارجی سرپرست افغانستان کے بڑے شہروں میں بیٹھ کر معصوم پاکستانی عوام سے لوٹی ہوئی رقم پر عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں، لوٹی ہوئی رقم پاکستان میں دہشت گردی کی بڑی وجہ ہے، خوارج کے سرپرستوں کی عیاشی کی خاطر حملوں میں براہ راست ملوث گمراہ چھوٹے درجے کے خارجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں،

    لوٹی ہوئی رقم کی غیر منصفانہ تقسیم کے نتیجے میں خوارج کےگروپوں کے درمیان لڑائی بھی جاری رہتی ہے،دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ خارجیوں کی یہ کارروائیاں ثابت کرتی ہیں کے ان دہشت گردوں کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں،نہ جھٹلائے جاسکنے والے شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کے خارجی لوٹا ہوّا مال افغانستان بھیجتے ہیں جہاں بڑے خارجی اُس حرام مال پر عیاشی کرتے ہیں

    خارجی نور ولی محسود کے خلاف کاروائی شروع،مقدمہ درج

    خارجی نور ولی محسود اور احمد حسین عرف غٹ حاجی کے گرد قانونی گھیرا تنگ

    نور ولی محسود کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

    بنوں واقعہ،تحقیقات کر کے ذمہ داران کو سز ا دی جائیگی،بیرسٹر سیف

    بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    دہشت گرد عثمان اللہ عرف کامران کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔

     بنوں میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی حافظ گل بہادر گروپ نے کی ہے،

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

    بنوں،امن مارچ کو انتشاری ٹولے نے پرتشدد بنایا،عوام شرپسندوں سے رہیں ہوشیار

    بنوں واقعہ پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اعلان

  • بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    بنوں کینٹ میں حملہ کرنیوالے ایک اور دہشت گرد کی شناخت ہو گئی ہے، دوسرا حملہ آور بھی افغان شہری نکلا

    بنوں کنٹونمنٹ بورڈ پر دہشتگردوں نے قبل حملہ کیا تھا جس میں پاک فوج کے آٹھ جوان شہید ہو گئے تھے، جبکہ دس حملہ آوروں کو پاک فوج کے جوانوں نے جہنم رسید کر دیا تھا،حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان کے نائب سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا او ر احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ افغانستان حملہ آوروں کے خلاف کاروائی کرے.

    بنوں حملے کے حوالہ سے تحقیقات جاری ہیں،دہشت گردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے، بنوں میں حملہ کرنے والے دہشت گردوں میں سے ایک اور دہشت گرد کی شناخت ہوئی ہے ، وہ بھی افغانی نکلا،سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر "محاذ” نامی اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بنوں کنٹونمنٹ حملے کے ایک اور حملہ آور کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی ہے۔ قاری فضل عمر کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر کے ضلع سرخ سے تھا۔ قاری فضل افغان طالبان کا موجودہ جنگجو بھی تھا اور اس نے حافظ گل بہادر سے وابستہ جیش فرقان محمد گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی اور بنوں چھاؤنی پر حملے میں حصہ لیا تھا۔ وہ سیکورٹی فورسز کی فائرنگ میں جہنم واصل ہو گیا۔ اس کی شناخت کر لی گئی ہے اور دیگر حملہ آوروں کی شناخت کی تحقیقات کی جا رہی ہیں جنہیں جلد ہی جاری کر دیا جائے گا۔

    قبل ازیں ایک دہشت گرد کی پہلے شناخت ہو چکی ہے وہ بھی افغان شہری تھا، دہشت گرد عثمان اللہ عرف کامران کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔ عثمان اللہ افغان طالبان کا موجودہ جنگجو بھی تھا اور اس نے حافظ گل بہادر سے وابستہ جیش فرقان محمد گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بنوں میں دہشت گردوں نے‌حملہ کیا تھا جس میں پاک فوج کے آٹھ جوان شہید ہو گئے تھے،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بنوں میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی حافظ گل بہادر گروپ نے کی ہے، جو افغانستان سے کام کرتا ہے اور ماضی میں بھی پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرتا رہا ہے۔ پاکستان نے عبوری افغان حکومت کے ساتھ مسلسل اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، ان سے کہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی جانب سے افغان سرزمین کے مسلسل استعمال سے انکار کرے اور ایسے عناصر کے خلاف موثر کارروائی کرے۔

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

  • قندھار،طالبان نے صحافی کو تیسری بار گرفتار کر لیا

    قندھار،طالبان نے صحافی کو تیسری بار گرفتار کر لیا

    طالبان نے قندھار میں مقامی صحافی کو تیسری بار گرفتار کر لیا ہے

    افغان میڈیا کے مطابق قندھار کے ایک مقامی صحافی محمد یار مجروح کو طالبان حکومت نے گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا ہے، صحافی محمد یار مجروح کی یہ تیسری گرفتاری ہے اور اب گرفتار کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی، محمد یار مجروح کو طالبان کی انٹیلی جنس نے چند روز قبل بھی گرفتار کیا تھا ،انہیں رہائی ملی تھی تا ہم رہائی کے چند روز بعد ہی دوبارہ گرفتار کر لیا گیا، محمد یار مجروح قندھار سنٹرل جیل میں ہیں، انکے اہلخانہ پر کسی قسم کی بات چیت کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے

    صحافی کے ایک دوست نے میڈیا کو بتایا کہ محمد یار مجروح کی گرفتاری کی وجہ معلوم نہیں ہے،محمد یار مجروح اس سے قبل طلوع نیوز ٹی وی کے رپورٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ ایک ہفتے تک طالبان کی حراست میں رہنے کے بعد اس نے طلوع نیوز نیٹ ورک کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دیا تھا.

  • ٹی ٹی پی نے اسلام آباد کی خاتون سے ایک ارب بھتہ مانگ لیا

    ٹی ٹی پی نے اسلام آباد کی خاتون سے ایک ارب بھتہ مانگ لیا

    کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی، پاکستان میں دہشت گردی کے بعد اب شہریوں سے بھتہ مانگنے لگ گئی، اسلام آباد کی خاتون کو ایک ارب روپے بھتے کی کال وصول، مقدمہ درج کر لیا گیا،

    کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کی جانب سے ایک ارب روپے بھتے کا مطالبہ، گولڑہ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ متاثرہ خاتون کی مدعیت میں درج کر لیا ،درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کی رہائشی خاتون کو کال موصول ہوئی جس میں اس سے ایک بلین بھتہ طلب کیا گیا ہے،کال تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے کی گئی اور کہا گیا کہ وزیرستان تحریک کے لئے پیسے دیں، خاتون کی جانب سے درج مقدمے کے مطابق دو الگ الگ نمبروں سے کال موصول ہوئی ،ایک نمبر افغانستان جبکہ دوسرا نمبر ایران کا تھا، خاتون نے دعویٰ کیا کہ اسے واٹس ایپ پر اسکے گھر، اور اسکی بیٹی کے گھر کی تصاویر بھی بھیجی گئی ہیں.

    بدمعاشوں، ٹارگٹ کلرز،شوٹرز اور بھتہ خور بچنے نہیں چاہئے، سی سی پی او کا حکم

    بھتہ خوری میں ملوث جعلی صحافی بے نقاب

     شہر قائد کراچی میں جعلی صحافیوں کا ٹولہ جرائم اور چوری میں ملوث نکلا

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام