Baaghi TV

Tag: ظہران ممدانی

  • مئیر نیویارک کے  وعدے کی تکمیل کے لیے بیزوس فیملی کا 10 کروڑ ڈالر کا تحفہ

    مئیر نیویارک کے وعدے کی تکمیل کے لیے بیزوس فیملی کا 10 کروڑ ڈالر کا تحفہ

    امریکی ارب پتی اور ایمازون کے بانی جیف بیزوس کے والدین نے نیویارک میں بچوں کی ابتدائی تعلیم اور مفت چائلڈ کیئر منصوبوں کیلئے 10 کروڑ ڈالر عطیہ کرنے کا اعلان کردیا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق نیویارک کی معروف فلاحی تنظیم رابن ہڈ نے اعلان کیا ہے کہ اسے جیف بیزوس کے خاندان کی جانب سے 10 کروڑ ڈالر کا عطیہ موصول ہوا ہے اس رقم سے’’جیکی بیزوس انڈاؤمنٹ فار ارلی چائلڈ ہڈ‘‘ قائم کیا جائے گا، جو ابتدائی تعلیم اور بچوں کی نشوونما کے منصوبوں پر خرچ ہوگی۔

    تنظیم کے مطابق مزید 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی اضافی رقم بھی فراہم کی جائے گی، بشرطیکہ اتنی ہی رقم دیگر ذرائع سے جمع کی جائے، جس کے بعد مجموعی فنڈ 15 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائے گا جیکی بیزوس، جو جیف بیزوس کی والدہ ہیں، ماضی میں رابن ہڈ تنظیم کے بورڈ کا حصہ بھی رہ چکی ہیں۔

    یہ عطیہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیویارک کے میئر ظہران ممدانی شہر بھر میں ’’2-K پروگرام‘‘ متعارف کراچکے ہیں، جس کے تحت دو سال کی عمر سے بچوں کیلئے مفت ابتدائی تعلیم اور نگہداشت کو سال بھر کیلئے عام اور قابل رسائی بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    اگرچہ یہ منصوبہ بیزوس خاندان کی مالی معاونت سے تقویت پا رہا ہے، تاہم میئر ممدانی ماضی میں ارب پتی طبقے پر تنقید کرتے رہے ہیں حالیہ دنوں انہوں نے ارب پتی کاروباری شخصیت کین گرفن کی پرتعیش جائیداد کے باہر ویڈیو جاری کرکے لگژری سیکنڈ ہومز پر نئے ٹیکس کی تجویز دی تھی، جس پر دونوں کے درمیان لفظی جنگ بھی دیکھنے میں آئی۔

    میئر ممدانی نے گزشتہ ہفتے مشہور ’’میٹ گالا‘‘ تقریب میں شرکت بھی نہیں کی تھی اور کہا تھا کہ وہ شہر کو مزید سستا اور عام شہریوں کیلئے قابل رہائش بنانے پر توجہ دے رہے ہیں دوسری جانب سٹی ہال کی ترجمان جینا لائل نے کہا کہ پورے نیویارک میں مفت چائلڈ کیئر کا خواب پورا کرنے کیلئے حکومت، فلاحی اداروں، ورکنگ فیملیز اور نجی شعبے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

    رابن ہڈ تنظیم 1988 میں ہیج فنڈ ارب پتی پال ٹیوڈر جونز نے قائم کی تھی، جبکہ اسے وال اسٹریٹ کی کئی بڑی شخصیات کی حمایت حاصل رہی ہے تنظیم اب تک نیویارک کے پانچوں بورو میں 300 سے زائد فلاحی اداروں کو فنڈنگ فراہم کرچکی ہےرابن ہڈ کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ بیوری جونیئر کا کہنا ہے کہ چائلڈ کیئر منصوبوں کیلئے بنیادی ذمہ داری حکومت کی ہے، تاہم فلاحی عطیات ایسے منصوبوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ نیویارک اس وقت شدید بجٹ بحران کا سامنا کررہا ہے اور شہر کو تقریباً 12 ارب ڈالر کے مالی خسارے کا سامنا ہے تاہم میئر ممدانی نے حالیہ بجٹ میں چائلڈ کیئر اور تعلیمی منصوبوں کیلئے تقریباً 6 کروڑ ڈالر مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نئے بجٹ سے مالی خسارہ پورا کرلیا جائے گا۔

  • ٹرمپ  اپنی ناکامی چھپانے کے لیے مجھ پر حملے کر رہے ہیں،ممدانی

    ٹرمپ اپنی ناکامی چھپانے کے لیے مجھ پر حملے کر رہے ہیں،ممدانی

    نیویارک میئر کی دوڑ میں ڈیموکریٹک اُمیدوار ظہران ممدانی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ محنت کش مڈل کلاس کے خلاف صدارتی اقدامات سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں اور اسی لیے مجھ پر وار کر رہے ہیں۔

    ظہران ممدانی نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے مجھے گرفتار کرنے، ملک بدر کرنے اور امریکی شہریت ختم کرنے کی دھمکی دی ہیں صدر ٹرمپ نہیں چاہتے کہ میں کام کرنے والے لوگوں کی حقوق کی بات کروں، اُن لوگوں کی بات کروں جنہیں مہنگائی کے باعث نیو یارک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں مہنگائی کم کرنے کا وعدہ کیا تھا جس سے اب وہ منحرف ہو رہے ہیں اِس لیے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے مجھ پر حملے کر رہے ہیں۔

    اتوار کو این بی سی سے ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کمیونسٹ ہیں تو ممدانی نے انکار کیامیں نہیں سمجھتا کہ دنیا میں ارب پتی ہونے چاہییں میں سب کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں۔‘

    رپبلکنز کی جانب سے شدید تنقید کی قیادت خود ٹرمپ کر رہے ہیں، جنہوں نے منگل کو کہا: ’سچ کہوں تو، میں نے سنا ہے کہ وہ مکمل پاگل ہیں۔‘

    انہوں نے نشاندہی کی کہ 2024 کے انتخابات میں ٹرمپ کو نیویارک سٹی میں غیر معمولی حمایت ملی اور بتایا کہ انہوں نے اقلیتوں، محنت کش طبقے اور تارکین وطن کی بستیوں میں بلا توقف مہم چلائی، جس سے ناراض ووٹرز کو دوبارہ ڈیموکریٹک کیمپ میں لایا جا سکا۔ہم ان ووٹروں کو واپس لا سکتے ہیں جنہیں سب نے نظر انداز کر دیا اگر ہم انہیں صرف یہ نہ بتائیں کہ کس کے خلاف ووٹ دیں، بلکہ یہ بھی بتائیں کہ وہ کس کے حق میں ووٹ دیں-

    واضح ہے کہ ظہران ممدانی اب باضابطہ طور پر نیویارک سٹی کے میئر کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار نامزد ہو گئے ہیں اور اس کا اعلان منگل کو پرائمری انتخاب کے سرکاری نتائج جاری کرتے ہوئے کیا گیا 33 سالہ، خود کو ڈیموکریٹک سوشلسٹ کہلانے والے ممدانی نے اپنے قریبی حریف، سابق گورنر اینڈریو کوومو کو نمایاں فرق سے شکست دی۔ تیسرے مرحلے کی گنتی میں ممدانی نے 56 فیصد جبکہ کوومو نے 44 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

    چونکہ 25 جون کو ہونے والے پرائمری میں کسی بھی امیدوار نے واضح اکثریت حاصل نہیں کی تھی، اس لیے انتخابی حکام نے کم ووٹ حاصل کرنے والے امیدواروں کو خارج کر کے رینکڈ-چوائس ووٹنگ کے تحت دوبارہ گنتی کی تاہم جب ممدانی نے ابتدائی طور پر ہی 43 فیصد ووٹ حاصل کر لیے، تو جنسی سکینڈل کے بعد واپسی کی کوشش کرنے والے کوومو نے مکمل نتائج کا انتظار کیے بغیر رات ہی کو شکست تسلیم کر لی — جو ڈیموکریٹس کے لیے حیران کن نتیجہ تھا۔

    اسرائیل کے بھرپور حامی کوومو انتخابی دوڑ کے زیادہ تر عرصے میں پولز میں آگے رہے، انہیں سابق صدر بل کلنٹن سمیت بااثر اعتدال پسند شخصیات کی حمایت بھی حاصل تھی۔

    یوگنڈا میں جنوبی ایشیائی والدین کے ہاں پیدا ہونے والے ممدانی، جو اس وقت نیویارک سٹیٹ اسمبلی کے رکن ہیں، اگر نومبر میں عام انتخابات جیت جاتے ہیں تو نیویارک سٹی کے پہلے مسلم میئر ہوں گے۔

  • ٹرمپ کی ایک بار پھر  ظہران ممدانی پر تنقید

    ٹرمپ کی ایک بار پھر ظہران ممدانی پر تنقید

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر نیو یارک کے میئر کےلیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ظہران ممدانی پر تنقید کی۔

    باغی ٹی وی : امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ظہران ممدانی بہت خوفناک ہوگا، وہ ایک کمیونسٹ ہے ‘مجھے لگتا ہے یہ بہت بری خبر ہے لیکن وہ ممدانی کے ساتھ بہت مزہ کرنے جا رہے ہیں، میں دیکھنا چاہوں گا کہ ممدانی کو پیسے لینے کیلئے وائٹ ہاؤس آنا پڑے گا، اگر نیو یارک کے لوگ ظہران ممدانی کی طرف جاتے ہیں تو وہ پاگل ہیں، میرے خیال میں ظہران ممدانی پاگل شخص ہے-

    امریکی صدر نے کہا کہ غزہ میں آئندہ ہفتے سیز فائر تک پہنچ سکتے ہیں، صحافیوں نے سوال کیا کہ 7 جولائی کو نیتن یاہو کے وائٹ ہاؤس کے دورے سے پہلے غزہ میں جنگ بندی ہوسکتی ہے؟،اس پر صدر ٹرمپ نے کہا ہمیں امید ہے کہ ایسا ہونے والا ہے، ہم اگلے ہفتے تک ایسا ہونے کی تلاش میں ہیں-

    بھارت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی صلاحیتوں سے سیکھے، بلاول بھٹو

    واضح رہے کہ اگر نومبر 2025ء میں وہ کامیاب ہوئے تو نیو یارک کے پہلے مسلمان اور پہلے جنوبی ایشیائی میئر ہوں گے 2021ء سے کوئنز کے 36 ویں ڈسٹرکٹ سے نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن ممدانی پہلے جنوبی ایشیائی مرد، پہلے یوگنڈن اور تیسرے مسلم رکن ہیں 33 سالہ ظہران ممدانی نے نیویارک سٹی کے میئر بننے کی دوڑ میں ڈیموکریٹک پرائمری میں سابق گورنر اینڈریو کومو کو حیران کن شکست دی تھی، جس کے بعد وہ نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بننے کے لیے مضبوط امیدوار بن چکے ہیں، ظہران ممدانی یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں نیویارک منتقل ہوئے وہ نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں اور ”Democratic Socialists of America“ کے سرگرم رکن ہیں۔

    کراچی میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے منصوبے جلد مکمل کئے جائیں گے،شرجیل میمن

    ظہران ممدانی کا ماننا ہے کہ نیویارک ایک ایسا شہر ہے جہاں ایک چوتھائی آبادی غربت میں زندگی گزار رہی ہے، اور 5 لاکھ بچے بھوکے سوتے ہیں اور اسی حقیقت کو بدلنے کا عزم انہوں نے اپنے منشور میں ظاہر کیا ہے،ممدانی نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کی کھل کر تنقید کی اور فلسطینی حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔