نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس 7 میں شرکت کے لیے نیویارک آتے ہیں تو ان کی انتظامیہ ان کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق قانونی اختیارات کا جائزہ لے رہی ہے۔
ظہران ممدانی جو کہ اسرائیل کو ایک نسل پرستانہ حکومت قرار دیتے ہیں، نے ہفتے کو نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ نیتن یاہو ایک جنگی مجرم ہے جس پر بین الاقوامی فوجداری عدالت نے فرد جرم عائد کی ہوئی ہے یہ صرف میری رائے نہیں ہے بلکہ بہت سے لوگوں کا یہی ماننا ہے اور اس کی وجہ نیتن یاہو کے گزشتہ کئی سالوں میں کیے گئے اقدامات ہیں۔
ممدانی نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ آیا ان کے پاس نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کو کسی غیر ملکی لیڈر کو حراست میں لینے کا حکم دینے کا اختیار ہے یا نہیں لیکن وہ شہر کی قانونی ٹیم کے ساتھ اس معاملے پر بات کر رہے ہیں،قانون مجھے نیویارک شہر میں جو کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے، ہم وہی کریں گے۔
رہے کہ نومبر 2024 میں آئی سی سی نے غزہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت بنیامین نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا، جسے اسرائیل مسترد کر چکا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب توقع کی جا رہی ہے کہ نیتن یاہو ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے لیے نیویارک کا دورہ کریں گے ممدانی نے انتخابی مہم کے دوران بھی وعدہ کیا تھا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ ان کی گرفتاری کی کوشش کریں گے، تاہم اب بطور میئر انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ اس حوالے سے ان کے قانونی اختیارات مکمل طور پر واضح نہیں ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام نے ممدانی کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے اسرائیلی نمائندوں کا کہنا ہے کہ امریکا بین الاقوامی فوجداری عدالت کا رکن نہیں ، اس لیے آئی سی سی کے وارنٹ کی بنیاد پر کسی کارروائی کا قانونی جواز موجود نہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ قانونی سے زیادہ سیاسی نوعیت اختیار کر سکتا ہے، جب کہ حتمی صورت حال کا انحصار ستمبر میں نیتن یاہو کے ممکنہ دورۂ نیویارک اور امریکی حکام کے مؤقف پر ہوگا۔
