Baaghi TV

Tag: عباس عراقچی

  • وزیر خارجہ  اسحاق ڈار سے ایرانی  ہم منصب کا  ٹیلیفونک رابطہ

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ایرانی ہم منصب کا ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی حالیہ صورتحال اور امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نائب وزیراعظم کو اپنے حالیہ دورہ چین اور وہاں علاقائی و بین الاقوامی امور پر ہونے والی مشاورت کے حوالے سے اعتماد میں لیا گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا،ایرانی وزیر خارجہ نے قبضے میں لیے گئے بحری جہازوں سے ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور اس ضمن میں پاکستان کی مسلسل سفارتی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی حمایت کو سراہا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ٹیلیفون پر گفتگو کی دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں جاری حالیہ پیش رفت اور بدلتی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیادونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات اور سفارت کاری کے عمل کو جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے، گفتگو کے دوران علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران امریکا کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی نئی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، جب کہ پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان پائیدار حل کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران آج کسی بھی وقت ثالثوں کے ذریعے امریکی امن تجویز پر اپنا جواب جمع کرا سکتا ہے۔

  • ایرانی وزیر خارجہ عمان کے دورے کے بعد دوبارہ پاکستان آئیں گے،ایرانی میڈیا

    ایرانی وزیر خارجہ عمان کے دورے کے بعد دوبارہ پاکستان آئیں گے،ایرانی میڈیا

    تہران: ہفتے کو پاکستان کا دورہ مکمل کرنےکے بعد عمان روانہ ہونے والے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے دورے کے بعد دوبارہ پاکستان آئیں گے۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے وزارتِ خارجہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد اور روس روانگی سے قبل ایک بار پھر پاکستان کا دورہ کریں گے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے اعلان کردہ منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے آئی آر این اے نے بتایا کہ ایرانی وفد کا ایک حصہ جنگ کے خاتمے سے متعلق ضرور ی امور پر مشاورت کے لیے تہران واپس جا چکا ہے یہ نمائندے اتوار کی رات اسلام آباد میں دوبارہ عباس عراقچی سے ملیں گے۔

    واضح رہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ گزشتہ روز پاکستان کا دورہ مکمل کرکے سلطنت عمان روانہ ہوئے تھےپاکستان کے دورے پر ایران کے وزیرخارجہ عباس عرا قچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کو "انتہائی مفید” قرار دیا، تاہم یہ بھی کہا کہ انہیں "ابھی دیکھنا ہے کہ آیا امریکا واقعی سفارت کاری کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں”۔

  • پاکستان کا دور ہ مفید رہا،عباس عراقچی

    پاکستان کا دور ہ مفید رہا،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ کہا کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکا واقعی سفارتکاری کے ذریعے تنازع حل کرنے میں سنجیدہ ہے یا نہیں-

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے سہہ ملکی سفارتی دورے کے دوسرے مرحلے میں عمان پہنچ گئے ہیں جہاں وہ خطے کی صورتحال اور جاری کشیدگی پر اہم ملاقاتیں کریں گے عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کا پاکستان کا دور ہ بہت مفید رہا،انہوں نے نے پاکستان کی خطے میں امن کی بحالی کے لیے کی جانے والی برادرانہ کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران ان اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہےتاہم انھوں نے امریکا کے کردار پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکا واقعی سفارتکاری کے ذریعے تنازع حل کرنے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔

    واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل صدر ٹرمپ نے اپنے وفد کے دورۂ پاکستان کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بے مقصد اور وقت کے ضیاں کے لیے وفد کو 18 گھنٹے کے سفر پر نہیں بھیج سکتا ایران کو ہم سے بات کرنا ہوگی تو کال کرسکتا ہے ایران میں فیصلے کون کر رہا ہے، اس کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے۔

  • ایرانی وزیرخارجہ اسلام آباد سے عمان روانہ

    ایرانی وزیرخارجہ اسلام آباد سے عمان روانہ

    پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتوں کے بعد اسلام آباد سے مسقط روانہ ہوگئے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کا وفد نور خان ائیربیس سے واپس روانہ ہوا، اس موقع پر پاکستانی اعلیٰ حکام، ایرانی سفیر اور ایرانی سفارت خانہ کے عہدید ارو نے وفد کو الوداع کہا، ایرانی وزیر خارجہ عمان کے دارالحکومت مسقط کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے جہاں روسی حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔

    قبل ازیں ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے وفد کے ہمراہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی جہاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کے بعد بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد سے ملاقات کر کے خوشی ہوئی۔

  • اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان نے ایک بار پھر کشیدگی میں کمی کے لیے تمام سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

    گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ بحران کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے جبکہ طاقت کے استعمال سے حالا ت مزید بگڑ سکتے ہیں، دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھے جائیں گے اور با ہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا بھتیجاہیوسٹن میں فائرنگ سےقتل

    امریکا میں گرفتار خواتین کا قاسم سلیمانی سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں،زینب سلیمانی

  • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ

    اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں کشیدگی فوری روکنے پر زور دیا گیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی جانب سے اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ کیا گیا، جس میں ایران اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا،دونوں رہنماؤں نے ایران اور وسیع تر خطے میں ابھرتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے ایران کے خلاف بلاجواز حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کشیدگی میں فوری کمی پر زور دیا انہوں نے کہاکہ بحران کے پرامن اور مذاکراتی حل کے لیے سفارتی عمل کی فوری بحالی ناگزیر ہےتنازع کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتکاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملہ کردیا ہے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر بھی میزائل داغے ہیں۔

  • میزائل پروگرام پر کسی صورت مذاکرات نہیں کریں گے، ایرانی وزیرِ خارجہ

    میزائل پروگرام پر کسی صورت مذاکرات نہیں کریں گے، ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران اپنے میزائل پروگرام سے دستبرداری کی کسی کوشش کو قبول نہیں کرے گا۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے زیرِ اہتمام دوحہ میں غزہ کے معاملے پر منعقدہ فورم میں کئی ممالک کے سیاسی رہنماؤں اور نمائندوں نے شرکت کی، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی حال ہی میں عمان میں امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے بعد فورم میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات ایک اچھا آغاز ضرور ہیں تاہم اعتماد سازی کے لیے ابھی طویل سفر باقی ہےحالیہ بات چیت بالواسطہ تھی اور اس میں میزائل یا دیگر دفاعی معاملات شامل زیرِ غور نہیں آئے یورینیم افزودگی پر پابندی ایران کے لیے کسی صورت قابلِ قبو ل نہیں، یورینیم کی افزودگی ایران کا حق ہے اور یہ عمل جاری رہے گا، امریکا بمباری کے ذریعے بھی ایران کی اس صلاحیت کو ختم نہیں کرسکا ہے۔

    عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران یورینیم افزودگی کے معاملے پر ایک قابلِ اعتماد اور پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے جوہری معا ملہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے تاہم میزائل پروگرام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یہ قومی دفاع کا معاملہ ہے اس پر کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو سکتی۔

    امریکی حملے کے ممکنہ ردعمل سے متعلق سوال پر عباس عراقچی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکی اڈوں اور ہمسایہ ریاستوں میں فرق کرتا ہے اور پڑوسی ممالک کو نشانہ نہیں بنائے گا جنگ کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے اور ایران ہر صورتحال کے لیے تیار ہے۔

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا نیا دور جمعے کی صبح عمان کی ثالثی میں اس کے دارالحکومت مسقط میں شروع ہوا تھا یہ بات چیت چند گھنٹے جاری رہی، اس دوران دونوں فریقین نے اپنے مؤقف عمان کے وزیرِ خارجہ کےذریعے ایک دوسرے تک پہنچائے دونوں ملکوں کے وفود نے مشا ورت کے لیے ایک دن کا وقفہ لیا ہے عمانی وزارتِ خارجہ کے مطابق دوسرے دور میں بھی عمان کے وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی ثالث کا کردار ادا کریں گے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام اور منجمد اثاثوں کی واپسی جیسے پیچیدہ معاملات پر بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔

  • امریکا اور اسرائیل کے اقدامات نے عالمی نظام کو عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے،عباس عراقچی

    امریکا اور اسرائیل کے اقدامات نے عالمی نظام کو عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے اقدامات نے عالمی نظام کو عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے-

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برکس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حالیہ فوجی حملوں کو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ اسرائیل نے امریکا کی مدد اور شرکت سے ایران پر 12 روزہ حملے کیے، جس میں سیکڑوں افراد جاں بحق اور جوہری و بنیادی تنصیبات تباہ ہوئیں،13 جون کو اسرائیل نے ایرانی فوجی اور جوہری سائنس دانوں کو نشانہ بنایا جبکہ 22 جون کو امریکا نے براہ راست ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے شروع کر دیے۔

    وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ IAEA کی نگرانی میں چلنے والے ایرانی جوہری پروگرام کو نشانہ بنانا بین الاقوامی امن کے لیے خطرناک نظیر ہے، امریکی و اسرائیلی حملے اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی ہیں ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن اور عالمی نگرانی میں ہے اسرائیل کے خلاف کارروائی کی بجا ئے اسے بین الاقوامی پشت پناہی حاصل ہے امریکا اور اسرائیل کے اقدامات نے عالمی نظام کو عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے۔

    عباس عراقچی نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ وہ یکطرفہ جارحیت، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کی پامالی کرنے والوں کو جواب دہ بنائیں، انہوں نے برکس کو گلوبل ساؤتھ کی آواز قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کثیرالجہتی نظام، انصاف، اور پرامن حل کے اصولوں کا دفاع کیا جائے۔