Baaghi TV

Tag: عباس عراقچی

  • نیتن یاہو نے امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلنے کا اعتراف کرلیا،عباس عراقچی

    نیتن یاہو نے امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلنے کا اعتراف کرلیا،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو ’سانپ‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے مفاد میں دھوکا دے کر امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلا۔

    عباس عراقچی نے نیتن یاہو کے ایک خطاب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے عبرانی زبان میں گفتگو کے دوران خود اعتراف کیا کہ انہوں نے امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے کے لیے اسے ’بیوقوف بنایا‘، نیتن یاہو اس بات پر واضح طور پر ہنس رہے تھے کہ انہوں نے امریکی ٹی وی پر تقریباً ایک ہزار گھنٹے کا ایئر ٹائم حاصل کرکے امریکی رائے عامہ اور پالیسی پر کس طرح اثر ڈالانیتن یاہو کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کئی برس سے ایران کے معاملے پر امریکا کو اپنے مؤقف کے مطابق چلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ وہ گزشتہ 40 سال سے ایران کے معاملے سے نمٹ رہے ہیں اور انہیں ایران کے خلاف کارروائی پر اپنی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو آمادہ کرنے میں بہت وقت لگا، ایران کے خلاف کارروائی کے لیے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو قائل کرنا ایک طویل عمل تھا۔

    عباس عراقچی نے نیتن یاہو کے بیان کو اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل کرنے کے لیے اثرانداز ہونے کے اعتراف کے طور پر پیش کیا ہے۔ تاہم، نیتن یاہو کی گفتگو میں امریکی حکومت کو ’بیوقوف بنانے‘ کے الفاظ شامل تھے یا نہیں، یہ بات عراقچی کی تشریح سے متعلق ہے۔

    علاوہ ازیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے متحدہ عرب امارات کی سرزمین سے ایران کے جزائر خارک اور ابوموسیٰ پر راکٹ حملے کیے،امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ گزشتہ رات ایران کے دونوں جزائر کو HIMARS راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا۔

    عراقچی کے مطابق ایرانی فورسز نے حملوں کے لانچ پوائنٹس کا سراغ لگایا جن میں راس الخیمہ اور دبئی کے قریب ایک مقام شامل تھا، اب یہ واضح ہے کہ راکٹ متحدہ عرب امارات سے فائر کیے گئے، اور پڑوسی ملک کی سرزمین کو ایران کے خلاف حملے کے لیے استعمال کرنا بالکل ناقابل قبول ہے گنجان آباد علاقوں کے قریب سے راکٹ داغنا انتہائی خطرناک عمل ہے۔

  • امریکی حکام میڈیا کے ذریعے توانائی کی منڈیوں اور قیمتوں پر اثرانداز ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں،عباس عراقچی

    امریکی حکام میڈیا کے ذریعے توانائی کی منڈیوں اور قیمتوں پر اثرانداز ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی حکام میڈیا کے ذریعے توانائی کی منڈیوں اور قیمتوں پر اثرانداز ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں،ان تمام کوششوں کا اصل بوجھ امریکی صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے-

    عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی حکام ایسی سرگرمیوں کے ذریعے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ میں مزید الجھانے کی کوشش کررہے ہیں، جس کے نتیجے میں توا نا ئی کی عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے،توانائی کی منڈیوں کومتاثر کرنے کی ان تمام کوششوں کا اصل بوجھ امریکی صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے،امریکی شہری توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات براہ راست محسوس کر رہے ہیں اور قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال سے ان کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے میڈیا کے ذریعے مارکیٹ کے بارے میں مختلف بیانات اور قیاس آرائیاں عالمی توانائی کی منڈیوں میں دباؤ پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہیں،اس طرزعمل کے اثرات صرف عالمی منڈیوں تک محدود نہیں بلکہ امریکی عوام بھی اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔

    عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکام کی کوششیں خطے میں جاری کشیدگی اورجنگ کے حوالے سے سیاسی دباؤ بڑھانے سے بھی جڑی ہوئی ہیں توانائی کی قیمتوں میں اتارچڑھاؤ کے باعث عام امریکی شہری متاثر ہو رہے ہیں جبکہ منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت برقراررکھنے کی کوششیں بالآخر خود امریکی معیشت اور صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔

  • ایران کے خلاف  امریکا کا’معاشی اعلانِ جنگ‘ کوئی نئی حکمت عملی نہیں،عباس عراقچی

    ایران کے خلاف امریکا کا’معاشی اعلانِ جنگ‘ کوئی نئی حکمت عملی نہیں،عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کا معاشی گھیراؤ دراصل امریکا کی اقتصادی دہشت گردی ہے، ایران کے خلاف ’معاشی اعلانِ جنگ‘ کوئی نئی حکمت عملی نہیں-

    ایرانی وزیر خارجہعباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی دراصل ’اقتصادی دہشتگردی‘ ہے جو نہ صرف ایران بلکہ عالمی معیشت اور ممالک کی خودمختاری کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔

    انہوں نے نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں امریکی قومی قرضہ تقریباً 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا ذکر کیا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اپنی داخلی معاشی مشکلات سے توجہ ہٹانے کے لیے ایران کے خلاف جارحانہ معاشی اقدامات کو ہوا دے رہا ہے،ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کے خلاف ’معاشی اعلانِ جنگ‘ کوئی نئی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک ایسی پالیسی کا تسلسل ہے جو ماضی میں بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی، ناکام پالیسیوں کو مزید سخت بنانا مزید ناکامیوں ہی کو جنم دے گا۔

    واضح رہے کہ عباس عراقچی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف غیر معمولی معاشی جنگ کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک تہران کے ساتھ مالی، تجارتی یا لاجسٹک تعاون جاری رکھیں گے انہیں بھی سخت اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • فرانس کا دوہرا معیار واضح اور شرمناک ہے،عباس عراقچی

    فرانس کا دوہرا معیار واضح اور شرمناک ہے،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فرانس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے حوالے سے دنیا کو لیکچر دینے سے باز رہنا چاہیے۔

    عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا کہ فرانس کا دوہرا معیار واضح اور شرمناک ہے، غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں اور ایران کے خلاف جارحیت کی فرانس نے حمایت کی، اس حمایت نے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون پر بات کرنے کا فرانس کا اخلاقی جواز ختم کر دیا ہے،ایران تمام تر دباؤ کے باوجود مزاحمت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اپنے شہدا کے خون کو کبھی فراموش نہیں کرے گا عظیم شہدا کا خون بہانے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

    امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے عباس عراقچی ن کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس وقت کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی تاہم ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ اگر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع نہیں کرے گا۔

    انہوں نے واضح کیا کہ امریکی خلاف ورزیوں کے خاتمے تک بات چیت کا امکان نہیں ہےآبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ حتمی مراحل میں ہے. تاہم اس معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز فوری طور پر نہیں کھولا جائے گا۔

  • وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ،خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ،خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا،جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور علاقائی امن و استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا، دونوں وزرائے خارجہ نے موجودہ علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر خیالات کا تبادلہ کیا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق اس موقع پر اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریق جون 2026 میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) کے مطابق کشیدگی میں کمی لانے، تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازعات کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری ہی واحد مؤثر اور قابلِ عمل راستہ ہیں، لہٰذا تمام متعلقہ فریقوں کو اختلافات کے حل کے لیے بات چیت کو ترجیح دینی چاہیے۔

    دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی خطے میں امن، استحکام اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر قریبی رابطے برقرار رکھنے اور باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

  • ایران لبنان کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا،عباس عراقچی

    ایران لبنان کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا،عباس عراقچی

    ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایک بار پھر امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی یکطرفہ یا نئی کارروائی سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے عمل میں تاخیر کا سبب بنے گی۔

    بغداد میں عراقی وزیر خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عباس عراقچی نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے اور خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی، عراقی وزیر خارجہ نے عباس عراقچی کا بغداد آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عراق اور ایران کے درمیان تعلقات انتہائی گہرے ہیں اور بغداد ہر ملک کے خلاف جنگ اور جار حیت کو مسترد کرتا ہے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت ایک مثبت پیشرفت ہے ، آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا پورے خطے کے لیے نہایت اہم ہے، آبنائے ہرمز میں فوجی کشیدگی بڑھانے سے گریز کیا جانا چاہیے عراق کو اس وقت شدید تیل بحران کا سامنا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بعد عباس عراقچی کا دورۂ عراق غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شاندار استقبال پر عراقی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تہران بغداد کی نئی حکومت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہےموجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر ان کا دورہ عراق غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے،عراقی حکومت نے ایران پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی ،عراقی عوام نے ہر مشکل وقت میں ایرانی عوام کا ساتھ دیا۔

    عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران لبنان کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گاعراقی وزیر خارجہ کو جنگ کی صورتحال اور ایران، امریکا مفاہمتی یادداشت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے، آبنائے ہرمز ایران کے انتظامی کنٹرول میں ہے اور بحری آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنا تہران کی ذمہ داری ہے انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی یک طرفہ یا نئی کارروائی سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے عمل میں تاخیر ہو سکتی ہے اسرائیل کا لبنان سے انخلاء اور وہاں حملے روکنا امریکا کیساتھ عبوری معاہدے کا لازمی حصہ ہے۔

  • ایرانی وزیرِ خارجہ کا کل پاکستان آنے کا امکان

    ایرانی وزیرِ خارجہ کا کل پاکستان آنے کا امکان

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کل پاکستان کا دورہ متوقع ہے۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورۂ پاکستان متوقع ہے، جس کا مقصد پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی خلیجی کشیدگی کے خاتمے اور معاہدے کے حوالے سے یورپی ملک میں ایک تقریب منعقد ہونے کا عندیہ دیا جا چکا ہے اس ممکنہ معاہدے میں پاکستان نے کلیدی ثالثی کا کردار ادا کیا ہے بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں اس یادداشت کو پاکستان کے کردار کی مناسبت سے "اسلام آباد ڈکلیریشن” کا نام بھی دیا جا رہا ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جنیوا میں امریکا ایران معاہدہ پاکستان کی موجودگی میں ہو گا امریکا اور ایران کے وفود کی جنیوا میں ملاقات ممکن ہے۔

    دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک "شان دار تصفیے” پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا اور توقع ہے کہ دستخط چند دنوں کے اندر ہو جائیں گے۔

    ٹرمپ نے جمعرات کے روز اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک شان دار تصفیے تک پہنچ چکے ہیں، انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے نائب جے ڈی وینس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کریں گے، امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے معاہدے کے حوالے سے خطے کے رہنماؤں بشمول اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات چیت کی ہے۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو با ضابطہ طور پر کھول دیا جائے گایہ معاہدہ ممکنہ طور پر بہت جلد، شاید یورپ میں اگلے ہفتے کے آغاز میں ہو سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ اس معاہدے کی منظوری دے د ی ہےجس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرہ ختم ہو جائے گا، جب وائٹ ہاؤس میں ایک صحافی نے پو چھا کہ کیا خامنہ ای نے معاہدے کی منظوری دی ہے، تو ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں اس کا جواب ہاں میں ہے۔

    ٹرمپ نے معاہدے کو ایک "انتہائی مضبوط مفاہمت کی یاد داشت” قرار دیا اور کہا کہ یہ کچھ حد تک ابتدائی نوعیت کی ہے، لیکن یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو مکمل کر لیا جائے گا۔

  • اگر خود محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارا خطہ چھوڑ دو،ایران کا امریکا کو انتباہ

    اگر خود محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارا خطہ چھوڑ دو،ایران کا امریکا کو انتباہ

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر جاری بیان میں امریکا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ میدان جنگ میں شکست کے باوجود امریکا ہمارے عزم کو آزما رہا ہے، اگر خود محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارا خطہ چھوڑ دو، ہماری طاقتور افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا جواب دیے بغیر نہیں رہیں گی کیونکہ خلیج فارس کی تاریخ مداخلت کے عبرتناک انجام سے بھری پڑی ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے خطے میں موجود تمام بیرونی طاقتوں کو نکل جانے کا مشورہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ایران کے قریب موجود غیرملکی افواج مسلسل خطرے میں ہیں اور خطرات کو کم کرنے کا بہترین حل یہ ہے کہ غیرملکی افواج یہاں سے نکل جائیں کیونکہ آبنائے ہرمز کوئی بین الاقوامی علاقہ نہیں بلکہ یہ ایران اور عمان کا مشترکہ علاقہ ہے۔

  • محسن نقوی نے ایرانی سپریم لیڈر کیلئے خصوصی خط عباس عراقچی کے حوالے کر دیا

    محسن نقوی نے ایرانی سپریم لیڈر کیلئے خصوصی خط عباس عراقچی کے حوالے کر دیا

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی ، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور مختلف تنازعات میں ثالثی کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

    ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن و امان اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی، وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے نام ایک خصوصی خط بھی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حوالے کیا گیا ہے۔

    محسن نقوی مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیغامات لے کر گزشتہ شب ایران کے دارالحکومت پہنچے تھے ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے ایرانی قیادت کے لیے خصوصی پیغامات اور ایک خط پہنچائیں گے۔

    محسن نقوی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں حالیہ کشیدگی میں تیزی آئی ہے، خاص طور پر امریکا کی جانب سے ایران کے ساحلی نگرانی کے ریڈار تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہےجواباً ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، جن میں کویت اور بحرین شامل ہیں، جس سے وسیع علاقائی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    محسن نقوی کی عباس عراقچی سے اہم ملاقات کو خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور پاکستان و ایران کے درمیان سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا، ایران کا لبنانی صدر کو جواب

    لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا، ایران کا لبنانی صدر کو جواب

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایران پر لبنان کے معاملات میں مداخلت کرنے کے لبنانی صدر جوزف عون کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا ہے کہ صدر عون کے بیانات سن کر ایسا لگتا ہے جیسے لبنان کے پانچویں حصے پر ایران نے قبضہ کر رکھا ہو، چوتھائی لبنانی آبادی کو ایران نے بے گھر کیا ہو اور روزانہ بمباری بھی ایران ہی کر رہا ہوایرانی وزیرِ خارجہ نے لبنانی صدر جوزف عون کو مخاطب کر کے کہا کہ جنابِ صدر! لبنان کو اصل دشمن سے بچائیں، امریکا کے ساتھ لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا۔

    واضح رہے کہ لبنانی صدر جوزف عون نے سی این این کو حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں لبنان کو سودے بازی کے مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے، ایران کو لبنان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔