Baaghi TV

Tag: عباس عراقچی

  • ایران لبنان کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا،عباس عراقچی

    ایران لبنان کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا،عباس عراقچی

    ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایک بار پھر امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی یکطرفہ یا نئی کارروائی سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے عمل میں تاخیر کا سبب بنے گی۔

    بغداد میں عراقی وزیر خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عباس عراقچی نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے اور خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی، عراقی وزیر خارجہ نے عباس عراقچی کا بغداد آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عراق اور ایران کے درمیان تعلقات انتہائی گہرے ہیں اور بغداد ہر ملک کے خلاف جنگ اور جار حیت کو مسترد کرتا ہے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت ایک مثبت پیشرفت ہے ، آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا پورے خطے کے لیے نہایت اہم ہے، آبنائے ہرمز میں فوجی کشیدگی بڑھانے سے گریز کیا جانا چاہیے عراق کو اس وقت شدید تیل بحران کا سامنا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بعد عباس عراقچی کا دورۂ عراق غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شاندار استقبال پر عراقی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تہران بغداد کی نئی حکومت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہےموجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر ان کا دورہ عراق غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے،عراقی حکومت نے ایران پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی ،عراقی عوام نے ہر مشکل وقت میں ایرانی عوام کا ساتھ دیا۔

    عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران لبنان کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گاعراقی وزیر خارجہ کو جنگ کی صورتحال اور ایران، امریکا مفاہمتی یادداشت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے، آبنائے ہرمز ایران کے انتظامی کنٹرول میں ہے اور بحری آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنا تہران کی ذمہ داری ہے انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی یک طرفہ یا نئی کارروائی سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے عمل میں تاخیر ہو سکتی ہے اسرائیل کا لبنان سے انخلاء اور وہاں حملے روکنا امریکا کیساتھ عبوری معاہدے کا لازمی حصہ ہے۔

  • ایرانی وزیرِ خارجہ کا کل پاکستان آنے کا امکان

    ایرانی وزیرِ خارجہ کا کل پاکستان آنے کا امکان

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کل پاکستان کا دورہ متوقع ہے۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورۂ پاکستان متوقع ہے، جس کا مقصد پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی خلیجی کشیدگی کے خاتمے اور معاہدے کے حوالے سے یورپی ملک میں ایک تقریب منعقد ہونے کا عندیہ دیا جا چکا ہے اس ممکنہ معاہدے میں پاکستان نے کلیدی ثالثی کا کردار ادا کیا ہے بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں اس یادداشت کو پاکستان کے کردار کی مناسبت سے "اسلام آباد ڈکلیریشن” کا نام بھی دیا جا رہا ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جنیوا میں امریکا ایران معاہدہ پاکستان کی موجودگی میں ہو گا امریکا اور ایران کے وفود کی جنیوا میں ملاقات ممکن ہے۔

    دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک "شان دار تصفیے” پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا اور توقع ہے کہ دستخط چند دنوں کے اندر ہو جائیں گے۔

    ٹرمپ نے جمعرات کے روز اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک شان دار تصفیے تک پہنچ چکے ہیں، انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے نائب جے ڈی وینس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کریں گے، امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے معاہدے کے حوالے سے خطے کے رہنماؤں بشمول اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات چیت کی ہے۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو با ضابطہ طور پر کھول دیا جائے گایہ معاہدہ ممکنہ طور پر بہت جلد، شاید یورپ میں اگلے ہفتے کے آغاز میں ہو سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ اس معاہدے کی منظوری دے د ی ہےجس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرہ ختم ہو جائے گا، جب وائٹ ہاؤس میں ایک صحافی نے پو چھا کہ کیا خامنہ ای نے معاہدے کی منظوری دی ہے، تو ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں اس کا جواب ہاں میں ہے۔

    ٹرمپ نے معاہدے کو ایک "انتہائی مضبوط مفاہمت کی یاد داشت” قرار دیا اور کہا کہ یہ کچھ حد تک ابتدائی نوعیت کی ہے، لیکن یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو مکمل کر لیا جائے گا۔

  • اگر خود محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارا خطہ چھوڑ دو،ایران کا امریکا کو انتباہ

    اگر خود محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارا خطہ چھوڑ دو،ایران کا امریکا کو انتباہ

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر جاری بیان میں امریکا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ میدان جنگ میں شکست کے باوجود امریکا ہمارے عزم کو آزما رہا ہے، اگر خود محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارا خطہ چھوڑ دو، ہماری طاقتور افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا جواب دیے بغیر نہیں رہیں گی کیونکہ خلیج فارس کی تاریخ مداخلت کے عبرتناک انجام سے بھری پڑی ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے خطے میں موجود تمام بیرونی طاقتوں کو نکل جانے کا مشورہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ایران کے قریب موجود غیرملکی افواج مسلسل خطرے میں ہیں اور خطرات کو کم کرنے کا بہترین حل یہ ہے کہ غیرملکی افواج یہاں سے نکل جائیں کیونکہ آبنائے ہرمز کوئی بین الاقوامی علاقہ نہیں بلکہ یہ ایران اور عمان کا مشترکہ علاقہ ہے۔

  • محسن نقوی نے ایرانی سپریم لیڈر کیلئے خصوصی خط عباس عراقچی کے حوالے کر دیا

    محسن نقوی نے ایرانی سپریم لیڈر کیلئے خصوصی خط عباس عراقچی کے حوالے کر دیا

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی ، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور مختلف تنازعات میں ثالثی کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

    ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن و امان اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی، وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے نام ایک خصوصی خط بھی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حوالے کیا گیا ہے۔

    محسن نقوی مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیغامات لے کر گزشتہ شب ایران کے دارالحکومت پہنچے تھے ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے ایرانی قیادت کے لیے خصوصی پیغامات اور ایک خط پہنچائیں گے۔

    محسن نقوی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں حالیہ کشیدگی میں تیزی آئی ہے، خاص طور پر امریکا کی جانب سے ایران کے ساحلی نگرانی کے ریڈار تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہےجواباً ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، جن میں کویت اور بحرین شامل ہیں، جس سے وسیع علاقائی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    محسن نقوی کی عباس عراقچی سے اہم ملاقات کو خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور پاکستان و ایران کے درمیان سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا، ایران کا لبنانی صدر کو جواب

    لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا، ایران کا لبنانی صدر کو جواب

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایران پر لبنان کے معاملات میں مداخلت کرنے کے لبنانی صدر جوزف عون کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا ہے کہ صدر عون کے بیانات سن کر ایسا لگتا ہے جیسے لبنان کے پانچویں حصے پر ایران نے قبضہ کر رکھا ہو، چوتھائی لبنانی آبادی کو ایران نے بے گھر کیا ہو اور روزانہ بمباری بھی ایران ہی کر رہا ہوایرانی وزیرِ خارجہ نے لبنانی صدر جوزف عون کو مخاطب کر کے کہا کہ جنابِ صدر! لبنان کو اصل دشمن سے بچائیں، امریکا کے ساتھ لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا۔

    واضح رہے کہ لبنانی صدر جوزف عون نے سی این این کو حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں لبنان کو سودے بازی کے مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے، ایران کو لبنان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

  • ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے ختم نہیں ہوئے، عباس عراقچی

    ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے ختم نہیں ہوئے، عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے منقطع نہیں ہوئے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تبادلہ کیے گئے متن اور تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    لبنانی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج امریکی مفادات یا استعمال ہونے والے مقامات کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایران کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، اگر اسرائیل نے بیروت یا لبنان کے کسی حصے پر حملہ کیا تو ایران سخت اور فیصلہ کن ردعمل دے گا۔

    اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے خطے کے متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی ٹیلیفونک رابطے کیے جن میں پاکستان، سعودی عرب، فرانس، ترکی، قطر اور مصر شامل ہیں ان رابطوں میں خطے کی تازہ صورتحال اور کشیدگی میں کمی کے امکانات پر بات چیت کی گئی جبکہ جاپان میں ایرانی سفارت خانے کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں علاقائی امن و سلامتی سے متعلق امور زیر بحث آئے۔

    ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کا جاری رہنا اس بات کی علامت ہے کہ اگرچہ خطے میں کشیدگی موجود ہے، تاہم سفارتی چینلز مکمل طور پر بند نہیں ہوئے اور کسی ممکنہ مذاکراتی عمل کی گنجائش اب بھی برقرار ہے۔

  • امریکا کے ساتھ مذاکرات کا تبادلہ جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،عباس عراقچی

    امریکا کے ساتھ مذاکرات کا تبادلہ جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اور پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے تاہم بات چیت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے کسی بھی قسم کی قیاس آرائی کو اہمیت نہیں دینی چاہیے اور جب تک واضح نتائج سامنے نہ آئیں، اس عمل کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی،ان کے بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے کے ذرائع بدستور فعال ہیں۔

    ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو ایرانی عوام کے حقوق کی مکمل ضمانت فراہم نہ کرے ایران کے لیے اصل معیار ٹھوس اور عملی نتائج کا حصول ہے اور اس وقت تک کسی معاہدے کی توثیق نہیں کی جائے گی جب تک قوم کے حقوق کے تحفظ کا مکمل یقین نہ ہو جائے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس بات کی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک بہت اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور ان کے بقول تہران اس نکتے سے اتفاق کر چکا ہے تاہم ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

    ادھر تہران نے بامعنی مذاکرات شروع کرنے سے قبل اپنے منجمد تقریباً 12 ارب ڈالر کے اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور توانائی کی عالمی ترسیل بھی ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے-

  • عباس عراقچی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    عباس عراقچی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے ۔

    تفصیلات کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ،دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال، بالخصوص خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا دونوں جانب سے نیو یارک میں جاری جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے جائزہ اجلاس سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی۔

    عباس عراقچی نے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی عمل کی تازہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی بداعتمادی پر مبنی پالیسی، خصوصاً سفارتی وعدوں کی بار بار خلاف ورزی، ایران کے خلاف فوجی جارحیت، متضاد مؤقف اور حد سے زیادہ مطالبات، پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

  • وزیر خارجہ  اسحاق ڈار سے ایرانی  ہم منصب کا  ٹیلیفونک رابطہ

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ایرانی ہم منصب کا ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی حالیہ صورتحال اور امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نائب وزیراعظم کو اپنے حالیہ دورہ چین اور وہاں علاقائی و بین الاقوامی امور پر ہونے والی مشاورت کے حوالے سے اعتماد میں لیا گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا،ایرانی وزیر خارجہ نے قبضے میں لیے گئے بحری جہازوں سے ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور اس ضمن میں پاکستان کی مسلسل سفارتی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی حمایت کو سراہا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ٹیلیفون پر گفتگو کی دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں جاری حالیہ پیش رفت اور بدلتی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیادونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات اور سفارت کاری کے عمل کو جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے، گفتگو کے دوران علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران امریکا کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی نئی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، جب کہ پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان پائیدار حل کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران آج کسی بھی وقت ثالثوں کے ذریعے امریکی امن تجویز پر اپنا جواب جمع کرا سکتا ہے۔

  • ایرانی وزیر خارجہ عمان کے دورے کے بعد دوبارہ پاکستان آئیں گے،ایرانی میڈیا

    ایرانی وزیر خارجہ عمان کے دورے کے بعد دوبارہ پاکستان آئیں گے،ایرانی میڈیا

    تہران: ہفتے کو پاکستان کا دورہ مکمل کرنےکے بعد عمان روانہ ہونے والے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے دورے کے بعد دوبارہ پاکستان آئیں گے۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے وزارتِ خارجہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد اور روس روانگی سے قبل ایک بار پھر پاکستان کا دورہ کریں گے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے اعلان کردہ منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے آئی آر این اے نے بتایا کہ ایرانی وفد کا ایک حصہ جنگ کے خاتمے سے متعلق ضرور ی امور پر مشاورت کے لیے تہران واپس جا چکا ہے یہ نمائندے اتوار کی رات اسلام آباد میں دوبارہ عباس عراقچی سے ملیں گے۔

    واضح رہے کہ ایرانی وزیرِ خارجہ گزشتہ روز پاکستان کا دورہ مکمل کرکے سلطنت عمان روانہ ہوئے تھےپاکستان کے دورے پر ایران کے وزیرخارجہ عباس عرا قچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کو "انتہائی مفید” قرار دیا، تاہم یہ بھی کہا کہ انہیں "ابھی دیکھنا ہے کہ آیا امریکا واقعی سفارت کاری کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں”۔