ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ کہا کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکا واقعی سفارتکاری کے ذریعے تنازع حل کرنے میں سنجیدہ ہے یا نہیں-
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے سہہ ملکی سفارتی دورے کے دوسرے مرحلے میں عمان پہنچ گئے ہیں جہاں وہ خطے کی صورتحال اور جاری کشیدگی پر اہم ملاقاتیں کریں گے عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کا پاکستان کا دور ہ بہت مفید رہا،انہوں نے نے پاکستان کی خطے میں امن کی بحالی کے لیے کی جانے والی برادرانہ کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران ان اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہےتاہم انھوں نے امریکا کے کردار پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکا واقعی سفارتکاری کے ذریعے تنازع حل کرنے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل صدر ٹرمپ نے اپنے وفد کے دورۂ پاکستان کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بے مقصد اور وقت کے ضیاں کے لیے وفد کو 18 گھنٹے کے سفر پر نہیں بھیج سکتا ایران کو ہم سے بات کرنا ہوگی تو کال کرسکتا ہے ایران میں فیصلے کون کر رہا ہے، اس کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے۔
