Baaghi TV

Tag: عدالت

  • انتخابات کی تاریخ دینے میں صدر نہ ہی الیکشن کمیشن نے ذمہ داری نبھائی، جسٹس اطہرمن اللہ

    انتخابات کی تاریخ دینے میں صدر نہ ہی الیکشن کمیشن نے ذمہ داری نبھائی، جسٹس اطہرمن اللہ

    سپریم کورٹ ،عام انتخابات کا معاملہ،جسٹس اطہر من اللہ نے 41 صفحات کا اضافی نوٹ جاری کر دیا

    جسٹس اطہرمن اللہ نے اضافی نوٹ میں کہا کہ پاکستانی ووٹرز کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا بنیادی حقوق کے منافی ہے، آئین و قانون کے بر خلاف نگران حکومتوں کے زریعے امور چلائے جا رہے ہیں، مقررہ وقت میں انتخابات آئینی تقاضا ہے، انتخابات نہ کروا کر عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ثابت ہو چکی،12 کروڑ 56 لاکھ 26 ہزار 390 رجسٹرڈ ووٹرز کو انکے حق رائے دہی سے محروم رکھا گیا، انتخابات میں تاخیر کو روکنے کیلئے مستقبل میں ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد عام انتخابات 7 نومبر تک ہونا آئینی تقاضہ ہے، انتخابات کی تاریخ دینا آرٹیکل 48 شق پانچ کے تحت صدر مملکت کا ہی اختیار ہے، یہ یقینی بنانا صدر مملکت کی ذمہ داری تھی کہ پاکستان کی عوام اپنے ووٹ کے حق سے 90 دن سے زیادہ محروم نا رہیں، الیکشن کمیشن اور صدر مملکت نے 8 فروری کی تاریخ دے کر خود کو آئینی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا، نوے روز میں انتخابات نا کرنے کی آئینی اور عوامی حقوق کی خلاف ورزی اتنی سنگین ہے کہ اس کا کوئی علاج ممکن نہیں، اگر صدر مملکت یا گورنر انتخابات کی تاریخ دینے کی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے تو الیکشن کمیشن کو اپنا کردار ادا کرنا تھا، الیکشن کمیشن کو آئین بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تھا،صدر مملکت اور گورنرز کو اپنے منصب کے مطابق نیوٹرل رہنا چاہئے، الیکشن کمیشن صدر یا گورنرز کے ایکشن نا لینے پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتا، انتخابات میں 90 دن سے اوپر ایک بھی دن کی تاخیر سنگین آئینی خلاف ورزی ہے،آئینی خلاف ورزی اب ہو چکی اور اس کو مزید ہونے سے روکا بھی نہیں جا سکتا، انتخابات کی تاریخ دینے میں صدر نہ ہی الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری نبھائی،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ آئین میں انتخابات میں تاخیر پر کوئی بھی شہری اگر عدالت سے رجوع کرے تو اس کی داد رسی ہونی چاہیے۔الیکشن کمیشن نے انتخابات صاف شفاف نا کرائے تو اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہو گا، ملک کے ساڑھے 12 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز اپنے نمائندے منتخب کرنے کے بِیش قیمت آئینی حق سے محروم رکھے جانے کے اذیت ناک اقدام کے ازالے کیلئے چارہ جوئی کر کے مستقبل کیلئے اس اقدام کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں

  • ڈیفنس کار حادثہ،ملزم افنان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع

    ڈیفنس کار حادثہ،ملزم افنان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع

    ڈیفنس کارحادثہ میں ٹکر سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد کو ہلاک کرنے کے مقدمے کی سماعت انسداد دہشتگردی لاہور کی عدالت میں ہوئی۔

    انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل نے سماعت کی، پولیس نے ملزم افنان کو عدالت پیش کیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،دوران سماعت عدالت نے ملزم کی تفصیلی تفتیشی رپورٹ طلب کر لی،مقدمہ مدعی کی جانب سے انکے وکیل رانا مدثر عمر عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ پانچ دن میں کیا پراگرس ہے ؟تفتیشی افسر نے عدالت کے روبرو بتایا کہ جائے وقوعہ سے ویڈیو دیکھی ہیں ،پولی گرافک ٹیسٹ کرانے کے لیے وقت درکار ہے ، عمر کے تعین کا جزوی ٹیسٹ ہوا ہے مکمل ٹیسٹ کے لیے وقت درکار ہے ۔ملزم کے وکیل نے کہا کہ ملزم کے جسمانی ریمانڈ پر اعتراض ہے ۔ پولیس نے ملزم کے ٹیسٹ مکمل کرانے کے لیے مزید تیس دن کا جسمانی ریمانڈ مانگ لیا،عدالت نے تین سن کے ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزم کا مزید 5 روزہ جسمانی ریمانڈ مںظور کرلیا،

    واضح رہے کہ ڈیفنس لاہور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا،کم عمر نوجوان نے گاڑی چلاتے ہوئے دوسری گاڑی کو ٹکر ماری جس سے دو بچوں سمیت چھ افراد کی موت ہو گئی ہے. ریسکیو حکام کے مطابق ٹریفک حادثے میں مرنیوالوں میں 45 سالہ رخسانہ، 4 سالہ عنابیہ، 4 ماہ کا حذیفہ، 27 سالہ محمد حسین، 30 سالہ سجاد، 23 سالہ عائشہ شامل ہیں،حادثہ ڈرائیور کی تیز رفتاری، غفلت اور زگ زیگ کے باعث پیش آیا،ڈرائیور کی شناخت افنان شفقت کے نام سے ہوئی، پولیس نے کم عمر ڈرائیور کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کرلیا

     عدالت نے حکم دیا کہ بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے والوں کو گرفتار کیاجائے

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

     ٹریفک حادثے میں 6 افراد کی تفتیش میں اہم پیش رفت 

  • لاپتہ افراد کیس، سندھ ہائیکورٹ کا وزیراعظم کو طلب کرنے کا عندیہ

    لاپتہ افراد کیس، سندھ ہائیکورٹ کا وزیراعظم کو طلب کرنے کا عندیہ

    سندھ ہائی کورٹ میں لاپتہ شہریوں کے اہلِ خانہ کو معاوضے کی ادائیگی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی

    سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ حکومت نے 18 لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے،محکمہ داخلہ سندھ نے لاپتہ شہریوں کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دینے کی سمری وزیرِ اعلیٰ کو بھجوائی ہے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد اہلِ خانہ کو رقم کی ادائیگی کر دی جائے گی،سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ جے آئی ٹی اور صوبائی ٹاسک فورس کے متعدد اجلاسوں کے بعد ان شہریوں کو جبری گمشدہ قرار دیا گیا

    عدالت نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی کا آخری اجلاس کب ہوا تھا؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ مارچ 2022 میں جے آئی ٹی کا آخری اجلاس ہوا تھا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کا اجلاس تو کیا جائے تاکہ تلاش کی کوئی امید تو رہے،عدالت نے تفتیشی افسران کو پھر ہدایت کی کہ شہریوں کی تلاش کے لیے جدید ڈیوائسز استعمال کی جائیں ، شہریوں کی بازیابی سے متعلق معاملات میں سیکریٹری داخلہ اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن دلچسپی لیں،عدالت نے شہریوں کی بازیابی سے متعلق آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی اور سماعت 10جنوری تک ملتوی کر دی

    دوسری جانب لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،دوران سماعت سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نعمت اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس اور انتظامیہ کے ہاتھ کچھ نہیں تو ہم وزیرِ اعظم کو بلا لیں گے،کراچی کے مسنگ پرسنز کے کیسز کو دس دس سال ہو گئے لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، جے آئی ٹیز اور ٹاسک فورس کے اجلاس نتیجہ خیز نہیں ہوتے،جسٹس امجد سہتو نے کہا کہ ہم 10سال سے ہر روز 10، 15 لاپتہ افراد کے کیسز سنتے ہیں، اتنا وقت دیگر کیسز کو دیتے تو بہت معاملات نمٹ جاتے،

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی

  • شہریار آفریدی،شاندانہ گلزار کی ایم پی او آرڈرز کالعدم قراد دینے کی درخواست، فیصلہ محفوظ

    شہریار آفریدی،شاندانہ گلزار کی ایم پی او آرڈرز کالعدم قراد دینے کی درخواست، فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی ایم پی او آرڈرز کالعدم قراد دینے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے ایم پی او آرڈر جاری کرنے کے اختیار پر بھی دلائل مکمل ہو گئے، درخواست گزار کے وکیل شیر افضل مروت عدالت میں پیش نہ ہوئے، عدالت نے تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کر دی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے درخواستوں پر سماعت کی،

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے اختیارات سے متعلق عدالت نے دو عدالتی معاونین مقرر کیے تھے،عدالتی معاونین بیرسٹر صلاح الدین اور وقار رانا عدالت میں دلائل دے چکے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کے خلاف ایم پی او آرڈر معطل کر رکھا ہے،عدالت نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو مزید ایم پی او آرڈر جاری کرنے سے روک رکھا ہے

    ابھی ایم پی او کو کالعدم تو نہیں کیا بلکہ کچھ شرائط عائد کی ہیں

    پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

     شہریار آفریدی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا یے

  • 73 برس عمر،کینسر کی مریضہ،پھر بھی قائم اور الیکشن لڑوں گی،ڈاکٹر یاسمین راشد

    73 برس عمر،کینسر کی مریضہ،پھر بھی قائم اور الیکشن لڑوں گی،ڈاکٹر یاسمین راشد

    انسداد دہشت گردی عدالت ، عسکری ٹاور حملہ اور جلاؤ گھیراؤ کیس کا ٹرائل شروع ہو گیا

    عمر سرفراز چیمہ ، اعجاز چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد ، خدیجہ شاہ سماعت 65 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا،9 ملزمان کی غیر حاضری کے باعث ملزمان کو چالان کی کاپیاں تقسیم نہیں ہو سکیں ،عدالت نے عسکری ٹاور حملہ کیس پر سماعت 24 نومبر تک ملتوی کر دی ،عدالت نے تمام ملزمان کو آئندہ سماعت پر دوبارہ طلب کر لیا ،عدالت نے کہا کہ چالان کی کاپیاں تقسیم ہونے کے بعد ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی، ملزمان کے خلاف تھانہ گلبرگ میں مقدمہ درج ہے

    عدالت پیشی کے موقع پر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ میں 73 سال کی ہوں،کینسر کی مریضہ ہوں،اس کے باجود قائم ہوں الیکشن لڑوں گی، لیول پلیئنگ فیلڈ کا مطلب یہ نہیں کہ پی ٹی آئی کے تمام لوگوں کو جیل میں ڈال دیں ،پارٹی کو الیکشن لڑنے کا پورا موقع ملنا چاہیے نواز شریف جب بیمار تھے تو ان کے ساتھ مکمل ہمدردی کا اظہار کیا تھا ،

    دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت ، نو مئی کو گلبرگ میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کا معاملہ ، ڈاکٹر یاسمین راشد کی درخواست ضمانت پر سماعت 27 نومبر تک ملتوی کر دی گئی، عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی وکیل سے دلائل طلب کر لیے ،انسداد دھشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے سماعت کی،ڈاکٹر یاسمین راشد پر عوام کو فسادات پر اکسانے اور بغاوت کا الزام ہے ،گلبرگ پولیس نے ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر کیخلاف مقدمہ درج کیا

    عدالت پیشی کے موقع پر تحریک انصاف کے رہنما، سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں،نو مئی کا فائدہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو ہوا اور جو کہتے تھے عمران خان فتنہ ہے وہ سب سے بڑا فتنہ ہیں اور وہ لوگ 9 مئی کے واقعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں

    قبل ازیں انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہورنو مئی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات،عمران خان کی بہنوں ،اسد عمر سمیت دیگر کی عبوری ضمانتوں پر سماعت ہوئی،اسد عمر اور زین قریشی عدالت پیش نہ ہوئے ،حاضری معافی کی درخواست دائر کی گئی،عدالت نے دونوں ملزمان کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی ،عدالت نے علیمہ خان اور عظمی خان کی عبوری ضمانتوں میں 9 دسمبر تک توسیع کردی ، تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمان شامل تفتیش نہیں ہورہے،تفتیش بھی مکمل نہیں ہوئی مہلت دی جائے،انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے عبوری ضمانتوں پر سماعت کی

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • خدیجہ شاہ کو دوسرے صوبہ منتقلی سے روکنے کی درخواست،جواب طلب

    خدیجہ شاہ کو دوسرے صوبہ منتقلی سے روکنے کی درخواست،جواب طلب

    خدیجہ شاہ کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر سماعت 27 نومبر تک ملتوی کر دی ،عدالت نے خدیجہ شاہ کو دوسرے صوبہ منتقل کرنے سے روکنے کی متفرق درخواست پر حکومت پنجاب سے جواب طلب کر لیا ،عدالت نے درخواست گزار کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کے روبرو نظر بندی کے خلاف نظر ٹانی کی درخواست دینے کی ہدایت کر دی ،عدالت نے حکم دیا کہ جمعہ کے روز ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم درخواست گزار کو سن کر فیصلہ کرے ،عدالت نے خدیجہ شاہ کو دوسرے صوبہ منتقل کرنے سے روکنے کی استدعا سے اتفاق نہ کیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مناسب ہے؟ کہ اگر خدیجہ شاہ کو اسکے گھر پر نظر بند کر دیا جائے، سرکاری وکیل نے کہا کہ مجھے ہدایات لینے کی مہلت دی جائے،عدالت نے خدیجہ شاہ کے وکیل سے کہا کہ اگر اپ مجاز اتھارٹی سے مطمن نہیں ہوتے تو دوبارہ عدالت آجائیں، درخواست گزار کے وکیل نے اس سے اتفاق نہ کیا .

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ڈی سی لاہور نے قانون کے مطابق نظر بندی کا فیصلہ نہیں کیا ،سرکاری وکلا نے کہا کہ درخواست گزار پہلے ڈی سی لاہور کو نظر بندی پر نظر ثانی کی درخواست دیں ۔عدالت نے خدیجہ شاہ کے پروڈکش آرڈرجاری کرنے سے اتفاق نہ کیا ،وکیل نے استدعا کی کہ عدالت خدیجہ شاہ کے پروڈکش آرڈرجاری کرئے،عدالت اسکے بیان کی روشنی میں رہا کرے، خدیجہ شاہ ضمانتوں کے باوجود چھ ماہ سے جیل میں ہے، خدیجہ شاہ کریمنل نہ ہے ۔نہ وہ کسی گینگ سے تعلق رکھتی ہے ۔

    عدالت میں ڈی سی لاہور نے جواب جمع کروا دیا،جواب میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے خلاف تین مقدمات ہیں، سیکورٹی اداروں اور ایس پی کینٹ کی رپورٹ کی روشنی میں نظر بند کیا ،درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی جائے،حکومت پنجاب کی طرف سے ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ملک سرود اور غلام سرور پیش ہوئے ،درخواست گزار کی طرف سے سمیر کھوسہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے،

    جسٹس علی باقر نجفی نے خدیجہ شاہ کے شوہر جہانزیب امین کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں وفاقی حکومت ،ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ خدیجہ شاہ کی نظر بندی بدنیتی پر مبنی ہے۔خدیجہ شاہ کو قانون کے منافی نظر بند کیا گیا ۔پولیس نے مختلف مقدمات میں نامزد تاخیر سے کیا ۔مقدمات میں تفتیش بھی میرٹ پر نہیں ہوئی ۔ عدالت خدیجہ شاہ کو لاہور کی حدود سے باہر لیکر جانے سے روکنے کا حکم دے ۔ عدالت نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دے

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

  • شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سابق وزیر شیریں مزاری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی ،وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے، پولیس کی جانب سے وکیل طاہر کاظم عدالت میں پیش ہوئے

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پورے اسلام آباد میں کئی لوگوں پرکریمنل کیسز ہیں صرف شیریں مزاری کا نام کیوں شامل کیا گیا ، پولیس کے وکیل نے کہا کہ شیریں مزاری کے خلاف سات مقدمات درج ہیں ،جن کے پاس کھانا پینا نہیں ہوتا انھوں نے تو بیرون ملک نہیں جانا ہوتا ،شیریں مزاری کی ٹریول ہسٹری کافی زیادہ ہے،ان لوگوں سے کوئی ڈر نہیں ہوتا جن کی ٹریول ہسٹری نہ ہو یا کھانے پینے کی کمی ہو،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیسز درج ہیں یا ٹریول ہسٹری زیادہ ہے یہ تو کوئی بات نہ ہوئی ،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد شیریں مزاری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    واضح رہے کہ چند ہفتوں قبل حکومت کی جانب سے شیریں مزاری سمیت پی ٹی آئی کے متعدد موجودہ اور سابق رہنماؤں و قائدین کے نام ای سی ایل ڈالے گئے تھے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے 70 رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالےگئے ۔ذرائع کے مطابق جن رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں شامل کئے گئے ہیں ان میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، شیخ رشید، شہریار آفریدی، مراد سعید، علی محمد خان، قاسم سوری، اسد عمر، اسد قیصر، ملیکہ بخاری اور دیگر سابق ایم این ایز شامل ہیں رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ پولیس کی سفارش پر کیا گیا ۔

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • بلوچ طلبا گمشدگی کیس، آئندہ سماعت پر نگراں وزیراعظم طلب

    بلوچ طلبا گمشدگی کیس، آئندہ سماعت پر نگراں وزیراعظم طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ جبری گمشدگی کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی،

    اسلام آبا دہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی،عدالتی حکم پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ دوگل صاحب پہلے تو آپ کو بتا دیں کہ یہ کیس ہے کیا تاکہ صورتحال واضح ہو جائے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آج اس کیس کی 21ویں سماعت ہے،اس سے قبل جسٹس اطہر من اللہ جو چیف جسٹس تھے ان کے پاس تھا یہ کیس،عدالت کے حکم پر کمیشن بنا، اس میں سوالات پیش کئے گئے،جبری گمشدگیوں کا معاملہ وفاقی حکومت کو بھیجا گیا، صرف ایک کا نہیں 55بلوچ طلبہ کا معاملہ تھ ہہم نے ملک کے وزیراعظم کو معاملہ بھیجا تھ، وزیراعظم کو خود احساس ہونا چاہئے تھا، ہم سمجھے وہ آ کر کہیں گے یہ ہمارے بچے ہیں،اگر ان کے خلا کوئی کرمنل کیس تھا تو رجسٹرڈ کرتے،آپ رپورٹ پڑھیں جو ہمیں پیشی کی گئی ہے

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ جو بھی معاملہ ہو متعلقہ وزارت دیکھتی ہے یا سب کمیٹی کو بھیجا جاتا ہے ،کمیٹی پھر معاملہ وزیراعظم اور کابینہ کے ساتھ شیئر کرتی ہے،عدالت نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم وزارا کمیٹی کی رپورٹ مسترد کردی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کی عدم بازیابی پر 29نومبر کو وزیراعظم کو طلب کرلیا،عدالت حکم دیا نے کہاکہ وزیر دفاع، وزیر داخلہ، سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ بھی پیش ہوں،عدالت نے کہاکہ 55لاپتہ افراد پیش کریں ورنہ وزیراعظم پیش ہوں

    دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کمیشن بنا کر پاکستان میں لاپتہ افراد کو تلاش کرے، آپ ملک اور اداروں کی بدنامی کروا رہے ہیں، پہلے بھی سیکریٹری ڈیفنس اور داخلہ کو کروڑ کروڑ روپیہ جرمانہ ہوا مگر دو رکنی بنچ میں عمل درآمد رک گیا اور لوگ بھی بازیاب نہیں ہوئے، وزیر اعظم نے کیوں آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ یا تو لاپتہ طالب علم کو یہاں لا کر کھڑا کر دیں اور جیسے کہ ہو رہا ہے وہ آ کر کہہ دیتا ہے کہ میں غلطی سے چلا گیا تھا اور عدالتوں کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذاق ہو رہا ہے

    ایک ماہ میں بلوچ طلباء کی ہراسگی روکنے سے متعلق کمیشن رپورٹ پیش کرے ،عدالت

     دو ہفتوں میں بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے سے روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ طلب

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

  • سائفر کیس، کچھ دفعات میں سزا 2 سال ،کچھ میں سزائے موت ،عمر قید ہے، جسٹس سردار طارق مسعود

    سائفر کیس، کچھ دفعات میں سزا 2 سال ،کچھ میں سزائے موت ،عمر قید ہے، جسٹس سردار طارق مسعود

    چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بنیچ کا حصہ ہیں ،چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر روسٹرم پر موجود تھے، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے ایف آئی آر پڑھ کر سنا دی ، جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ یہ معاملہ کب کا ہے،؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ معاملہ 2022 کا ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس پر آپ نے پورا سال ہی لگا دیا ہے،کچھ دفعات میں سزا دو سال ہے،کچھ میں سزائے موت اور عمر قید ہے

    ایف آئی اے تفتیشی کے بغیر نوٹس پیش ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہارکیا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ آپ کو کس نے بلایا ہے،پیچھے جا کے بیٹھ جائیں،سلمان صفدر نے انکوائری رپورٹ اور مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی پر لگے الزامات پڑھ کر سنائے اور کہا کہ الزام لگایا گیا ہے کہ چیئرمین نے اعظم خان کو سائفر کو غلط رنگ دینے کا کہا ،مقدمہ کا بہت سارا ریکارڈ تو فراہم ہی نہیں کیا گیا، الزام لگایا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے بل واسطہ یا بلا واسطہ ریاست کو نقصان پہنچایا،اعظم خان اور اسد عمر بھی ملزم تھے لیکن انکے خلاف کارروائی نہیں ہوئی،جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ شریک ملزمان کے کردار کا تعین ہوا؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اسد عمر کو چھوڑ دیا گیا اور اعظم خان کو ملزم سے گواہ بنادیا گیا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پہلے کیس پر کہا گیا کہ اعظم خان ملزم ہیں ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اسد عمر کو ضمانت قبل از گرفتاری مل چکی ہے، ایف آئی آر کے مطابق اعظم خان نے بنی گالہ میٹنگ کے منٹس تیار کئے تھے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ اعظم خان کے حوالے سے تفتیشی افسر نے کیا حتمی رائے دی؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان کے حوالے سے کوئی حتمی رائے نہیں دی گئی، اعظم خان لاپتہ ہوگئے تھے اہلخانہ نے مقدمہ بھی درج کرایا ، اعظم خان اچانک بازیاب ہوئے اور ملزم سے گواہ بن گئے، جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سچ ایسے ہی سامنے آتا ہے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان کے بیان کے مطابق انہیں بار بار مانگنے پر سائفر کی کاپی نہیں دی گئی، چیئرمین پی ٹی آئی کی عمر 71 سال اور سابق وزیراعظم ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اعظم خان ملزم سے استغاثہ کا گواہ بن چکا ہے،ماتحت عدالت کے سامنے کئی گھنٹے دلائل دئیے،

    جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ مقدمات کو سیاسی طور پر چلائیں گے تو یہی ہو گا،کسی نے کہا تھا کہ اخراج مقدمہ اور ضمانت کو ایک ساتھ چلائیں،ملزم 60 سال سے کم نہیں ہے اور کیس مزید انکوائری کا ہے تو اس طرف لائیں،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے کیس کی مرکزی گراونڈز کیا ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہمارا کیس یہ ہے کہ کیس بنتا ہی نہیں،جو دفعات لگائی گئیں وہ جاسوسی جیسے جرائم پر لگتی ہیں،تحقیقات میں کہیں نہیں بتایا گیا کہ کہاں جاسوسی ہوئی یا کسی دشمن ملک کو فائدہ پہنچا،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں آپ نے سائفر کا کوڈ کمپرومائز کردیا،کوڈ اگرچہ تبدیل ہوتا رہتا ہے کئی بار ہفتے بعد بھی تبدیل ہو سکتا ہے،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ سائفر ایک سیکرٹ دستاویز تھا،یا نہیں ؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر ڈی کلاسیفائی ہونے کے بعد سیکرٹ دستاویز نہیں تھا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ ڈی کلاسیفائی ہونے سے پہلے کیا سائفر کو ملزم نے دکھایا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس دوران سائفر کسی کو نہیں دکھایا گیا،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کو ہوا میں لہرا کر بتادیا جائے اس میں یہ لکھا ہے تو کیا وہ ابلاغ کے زمرے میں نہیں آتا؟جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم الزامات کا ٹرائل نہیں کر رہے صرف الزامات کو دیکھ رہے ہیں،کیا ہیں،

    سائفر کیس، عمران خان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے وفاق سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔ سماعت غیر معینہ مدت کےلئے ملتوی کر دی گئی

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • ذکا اشرف کی تقرری کیخلاف درخواست،جواب کے لئے ایک اور مہلت

    ذکا اشرف کی تقرری کیخلاف درخواست،جواب کے لئے ایک اور مہلت

    لاہور ہائیکورٹ میں چیئرمیں پاکستان کرکٹ بورڈ ذکا اشرف کی تقرری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی،عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان ،وزرارت بین الصوبائی امور اورذکا اشرف کو جوابات داخل کرانے کے لیے ایک اور مہلت دے دی ،جسٹس انوار حسیں نے شہری حافظ سکندر ہمایوں کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کی طرف سے چوہدری اصف شہزد ایڈووکیٹ پیش ہوئے

    ذکا اشرف کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ذکا اشرف سیاسی جماعت کے راہنما ہیں ذکا اشرف اس پوسٹ کی کوالیفیشن پر پورا نہیں اترتے ،انکو سیاسی بنیادوں پر چیرمین مینجمنٹ کمیٹی پی سی بی لگا دیا گیا ،پاکستان کرکٹ بورڈ آئین کے تحت یہ تقرری نہین ہو سکتی،الیکشن کمیشن پہلے ہی سیاسی تقرریاں ختم کرنے کا حکم دے رکھا ہے عدالت ذکا اشرف کی تقرری کالعدم قرار دے

    ،نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ انڈین میڈیا نے اس حوالے سے غلط خبریں چلائی

    پی سی بی نے کھلاڑیوں کو این او سی دینے کے لیے شرط رکھ دی

    پی سی بی کے بورڈ آف گورننس کے لئے دو اراکین کی منظوری دی گئی