Baaghi TV

Tag: عدالت

  • سائفر کیس، کچھ دفعات میں سزا 2 سال ،کچھ میں سزائے موت ،عمر قید ہے، جسٹس سردار طارق مسعود

    سائفر کیس، کچھ دفعات میں سزا 2 سال ،کچھ میں سزائے موت ،عمر قید ہے، جسٹس سردار طارق مسعود

    چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بنیچ کا حصہ ہیں ،چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر روسٹرم پر موجود تھے، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے ایف آئی آر پڑھ کر سنا دی ، جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ یہ معاملہ کب کا ہے،؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ معاملہ 2022 کا ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس پر آپ نے پورا سال ہی لگا دیا ہے،کچھ دفعات میں سزا دو سال ہے،کچھ میں سزائے موت اور عمر قید ہے

    ایف آئی اے تفتیشی کے بغیر نوٹس پیش ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہارکیا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ آپ کو کس نے بلایا ہے،پیچھے جا کے بیٹھ جائیں،سلمان صفدر نے انکوائری رپورٹ اور مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی پر لگے الزامات پڑھ کر سنائے اور کہا کہ الزام لگایا گیا ہے کہ چیئرمین نے اعظم خان کو سائفر کو غلط رنگ دینے کا کہا ،مقدمہ کا بہت سارا ریکارڈ تو فراہم ہی نہیں کیا گیا، الزام لگایا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے بل واسطہ یا بلا واسطہ ریاست کو نقصان پہنچایا،اعظم خان اور اسد عمر بھی ملزم تھے لیکن انکے خلاف کارروائی نہیں ہوئی،جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ شریک ملزمان کے کردار کا تعین ہوا؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اسد عمر کو چھوڑ دیا گیا اور اعظم خان کو ملزم سے گواہ بنادیا گیا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پہلے کیس پر کہا گیا کہ اعظم خان ملزم ہیں ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اسد عمر کو ضمانت قبل از گرفتاری مل چکی ہے، ایف آئی آر کے مطابق اعظم خان نے بنی گالہ میٹنگ کے منٹس تیار کئے تھے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ اعظم خان کے حوالے سے تفتیشی افسر نے کیا حتمی رائے دی؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان کے حوالے سے کوئی حتمی رائے نہیں دی گئی، اعظم خان لاپتہ ہوگئے تھے اہلخانہ نے مقدمہ بھی درج کرایا ، اعظم خان اچانک بازیاب ہوئے اور ملزم سے گواہ بن گئے، جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سچ ایسے ہی سامنے آتا ہے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان کے بیان کے مطابق انہیں بار بار مانگنے پر سائفر کی کاپی نہیں دی گئی، چیئرمین پی ٹی آئی کی عمر 71 سال اور سابق وزیراعظم ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اعظم خان ملزم سے استغاثہ کا گواہ بن چکا ہے،ماتحت عدالت کے سامنے کئی گھنٹے دلائل دئیے،

    جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ مقدمات کو سیاسی طور پر چلائیں گے تو یہی ہو گا،کسی نے کہا تھا کہ اخراج مقدمہ اور ضمانت کو ایک ساتھ چلائیں،ملزم 60 سال سے کم نہیں ہے اور کیس مزید انکوائری کا ہے تو اس طرف لائیں،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے کیس کی مرکزی گراونڈز کیا ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہمارا کیس یہ ہے کہ کیس بنتا ہی نہیں،جو دفعات لگائی گئیں وہ جاسوسی جیسے جرائم پر لگتی ہیں،تحقیقات میں کہیں نہیں بتایا گیا کہ کہاں جاسوسی ہوئی یا کسی دشمن ملک کو فائدہ پہنچا،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں آپ نے سائفر کا کوڈ کمپرومائز کردیا،کوڈ اگرچہ تبدیل ہوتا رہتا ہے کئی بار ہفتے بعد بھی تبدیل ہو سکتا ہے،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ سائفر ایک سیکرٹ دستاویز تھا،یا نہیں ؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر ڈی کلاسیفائی ہونے کے بعد سیکرٹ دستاویز نہیں تھا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ ڈی کلاسیفائی ہونے سے پہلے کیا سائفر کو ملزم نے دکھایا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس دوران سائفر کسی کو نہیں دکھایا گیا،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کو ہوا میں لہرا کر بتادیا جائے اس میں یہ لکھا ہے تو کیا وہ ابلاغ کے زمرے میں نہیں آتا؟جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم الزامات کا ٹرائل نہیں کر رہے صرف الزامات کو دیکھ رہے ہیں،کیا ہیں،

    سائفر کیس، عمران خان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے وفاق سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔ سماعت غیر معینہ مدت کےلئے ملتوی کر دی گئی

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • ذکا اشرف کی تقرری کیخلاف درخواست،جواب کے لئے ایک اور مہلت

    ذکا اشرف کی تقرری کیخلاف درخواست،جواب کے لئے ایک اور مہلت

    لاہور ہائیکورٹ میں چیئرمیں پاکستان کرکٹ بورڈ ذکا اشرف کی تقرری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی،عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان ،وزرارت بین الصوبائی امور اورذکا اشرف کو جوابات داخل کرانے کے لیے ایک اور مہلت دے دی ،جسٹس انوار حسیں نے شہری حافظ سکندر ہمایوں کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کی طرف سے چوہدری اصف شہزد ایڈووکیٹ پیش ہوئے

    ذکا اشرف کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ذکا اشرف سیاسی جماعت کے راہنما ہیں ذکا اشرف اس پوسٹ کی کوالیفیشن پر پورا نہیں اترتے ،انکو سیاسی بنیادوں پر چیرمین مینجمنٹ کمیٹی پی سی بی لگا دیا گیا ،پاکستان کرکٹ بورڈ آئین کے تحت یہ تقرری نہین ہو سکتی،الیکشن کمیشن پہلے ہی سیاسی تقرریاں ختم کرنے کا حکم دے رکھا ہے عدالت ذکا اشرف کی تقرری کالعدم قرار دے

    ،نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ انڈین میڈیا نے اس حوالے سے غلط خبریں چلائی

    پی سی بی نے کھلاڑیوں کو این او سی دینے کے لیے شرط رکھ دی

    پی سی بی کے بورڈ آف گورننس کے لئے دو اراکین کی منظوری دی گئی

  • اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت پیر تک ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت پیر تک ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں العزیزیہ ریفرنس اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی دونوں اپیلوں پر 4 سال بعد سماعت ہوئی

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ میں العزیزیہ ریفرنس اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی دونوں اپیلوں پر 4 سال بعد سماعت جاری ،سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس گل حسن اورنگزیب کر رہے ہیں-

    نواز شریف کے وکلا اور نیب پراسیکوٹر روسٹرم پر آگئے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ چار سے چھ گھنٹے مجھے ایون فیلڈ ریفرنس اپیل پر دلائل کے لیے چاہیں ہوں گے،ہمیں دلائل کے لیے آدھا گھنٹہ چاہیے ہو گا ، نیب پراسیکیوٹر کی بات پر عدالت میں قہقے لگ گئے- چیف جسٹس نے نیب پراسیکوٹر سے مکالمہ میں کہا کہ ہم خود آدھے گھنٹے سے دو گھنٹے کر دیتے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف کی اپیلوں پر مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی ، پیر کو نواز شریف کے وکیل امجد پرویز دلائل دیں گے-

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت ” بنیادی حقوقِ کا معاملہ ہے ہماری استدعا ہے اپیلوں پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے ریکارڈ کی باتیں ہیں عدالت کا ایک منٹ بھی ضائع نہیں کریں گے "-اعظم نذیر تارڑ نے عدالت کو کہا کہ ان اپیلوں کے (زیر التو رہنے سے اپیل کنندہ ) نواز شریف کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں، چیف جسٹس عامر فاروق کے نواز شریف کی اپیلوں پر سماعت کے دوران اہم ریمارکس میں کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو اس اپیل کو روزانہ کی بنیاد پر چلا لیں گے -اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آج ہم ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کیخلاف اپیل پر دلائل دینا چاہیں گے، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو دلائل کیلئے کتنا وقت، کتنے گھنٹے درکار ہوں گے؟ ہمیں کیس کے حقائق سے متعلق کچھ چیزیں یاد ہیں لیکن آپ ہمیں شروع سے لے کر چلیں گے،

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل کا آغاز کردیا، امجد پرویز نے کہا کہ ہم نے آج کے لیے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس کی تیاری کی ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو دلائل دینے کے لئے کتنا وقت چاہئے گا؟ امجد پرویز نے کہا کہ یہاں دو اپیلیں ہیں، ایون فیلڈ اپارٹمنٹس اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس زیر سماعت ہیں،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ اپیلیں سپریم کورٹ کے سامنے نہیں دی گئی، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی ہم کیس کی میرٹس پر نہیں جارہے ہیں،امجد پرویز نے کہا کہ مجھے زیادہ سے زیادہ دو سماعتوں کا وقت چاہیے ہوگا،عدالت نے کہا کہ اتنا بھی نہیں کہ دو سماعتوں میں دلائل ختم ہو، ہم نے پورے کیس کو دیکھنا ہے،اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ 4 سے 6 گھنٹے درکار ہوں گے، امجد پرویز نے کہا کہ میری کوشش ہوگی کہ کم سے کم وقت میں اپنے دلائل مکمل کرلو، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کے بھی دلائل دینے ہیں، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں دلائل بالکل نہیں ہوئے وہ الگ ہے،العزیزیہ میں انکی اپیل غیر موجودگی پر خارج ہوئی تھی، آپ فی الوقت العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کو بھول جائیں، آپ صرف ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس کی حد تک رہیں، ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس کی حد تک بتائے کتنا وقت دلائل کے لیے چاہیے ہوگا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نیب سے استفسار کیا کہ نیب کو دلائل کے لیے کتنا وقت درکار ہے ؟ نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ ہمیں دلائل کے لیے تقریباً آدھا گھنٹہ چاہیے ہوگا،عدالت نے کہا کہ کیا ہم اسکا یہ مطلب لیں کہ نیب نے کچھ نہیں کہنا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کیس میں اپیل کنندہ کے حقوق کا معاملہ بھی ہے،عدالت نے کہا کہ ہمارے مدنظر ہے لیکن ہم دیکھ لیتے ہیں ،روزانہ کی بنیاد پر چلنا ہے کس طرح چلنا ہے یہ دیکھ لیتے ہیں ،ہم آئندہ پیر سے دلائل شروع کرتے ہیں، ساڑھے 12 سماعت شروع کرتے ہیں اور دو ڈھائی گھنٹے آپ کو سنتے ہیں،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے چونکہ معاملہ 2018، 2019 کا ہے، ہم یقین دلاتے ہیں کہ عدالت کا رتی برابر بھی وقت ضائع نہیں کریں گے،عدالت نواز شریف کے بنیادی حقوق کا معاملہ بھی دیکھ لے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہمیں دیکھ لیں گے اگر ضرورت پڑی تو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر لیں گے، اِس کیس کے دن ہم ریگولر ڈویژن بنچ بھی منسوخ کر دیں گے، نوازشریف کی دو نیب ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی.

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • کس ٹائپ کا آدمی ہے جو عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کر رہا؟ عدالت برہم

    کس ٹائپ کا آدمی ہے جو عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کر رہا؟ عدالت برہم

    اسلام آباد ہائیکورٹ: القادر ٹرسٹ کی چیریٹی رجسٹریشن میں تاخیر اور نئی ٹرسٹ ایکٹ کی رجسٹریشن سے متعلق کیس ،عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل کو القادر ٹرسٹ کی دوبارہ رجسٹریشن کی درخواست پر دو روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،عدالت نے احکامات کے ساتھ کیس اگلے ہفتے تک ملتوی کردیا،ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت عدالت میں پیش ہوئے،اسلام آباد ہائی کورٹ ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز کے رویے پر برہم ہو گئی، جسٹس میاں‌گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹر لیبر اینڈ انڈسٹریز درخواست گزار کی درخواست پر دو روز میں فیصلہ کریں، یہ کون شخص ڈائیریکٹر لیبر تعینات ہے اس آدمی کو اس سیٹ پر نہیں ہونا چاہیے ، اکتوبر سے کہا ہوا ہے انکی درخواست پر فیصلہ کریں ، درخواست کو مسترد کریں یا منظور کریں جو بھی ہے فیصلہ کریں ،ہم بھی تو یہاں بیٹھ کر فیصلے کر رہے ہیں ناں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پاکستان کو ایسے چلانا ہے,یہ کیا کہ اگر ایسا کیا تو کوئی ناراض نہ ہو جائے، یہ کیا بات ہے،ڈائریکٹر لیبر پبلک کے پیسے کھاتا ہے تنخواہ لیتا ہے یا نہیں ؟ وہ تنخواہیں پبلک کے پیسوں کی ہوتی ہے ناں، میں اسکی شکل تو دیکھوں کس ٹائپ کا آدمی ہے جو عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کر رہا ، کئی ماہ سے کہہ رہے ہیں فیصلہ کرو فیصلہ کرو ،ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ہم نے ریمانڈر بھیجا ہوا ہے ہم دو روز میں فیصلہ کردیتے ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ دو دن میں آرڈر دیں اور میں کیس اگلے ہفتے لگاتا ہوں ،

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس،جسٹس سردار طارق مسعود کیخلاف شکایت خارج

    سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس،جسٹس سردار طارق مسعود کیخلاف شکایت خارج

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں جس میں جسٹس سردار طارق مسعود ،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف شکایت کا جائزہ لیا گیا،جسٹس مظاہر نقوی سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں پہنچ گئے ،سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کے اعتراضات پر غور کر رہی ہے۔ جسٹس نقوی بھی ایس جے سی اجلاس میں موجود ہیں۔ خواجہ حارث نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کی نمائندگی کی۔ جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی روکنے کی استدعا کر دی، وکیل خواجہ حارث نے جسٹس مظاہر نقوی کا خط سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے رکھ دیا. جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف شکایت پر کارروائی آج مکمل نہ ہو سکی. سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کل تین بجے تک ملتوی کر دی گئی

    قبل ازیں سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس طارق مسعود کے خلاف شکایت کو خارج کر دیا گیا، سپریم جوڈیشل کونسل نے شکایت کنندہ آمنہ ملک کو بھی نوٹس جاری کیا تھا، اجلاس کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس سردار طارق مسعود کیخلاف جوڈیشل کمیشن میں دائر ہونیوالی شکایت متفقہ طور پر خارج کی گئی جس کے بعد اجلاس میں وقفہ کر دیا گیا

    جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کے خلاف شکایت کنندہ میاں‌داؤد ایڈوکیٹ کو بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا وہ سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں، اور جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں اپنا بیان دیں گے،میاں داؤد ایڈوکیٹ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ثبوت لے کر پہنچے ہیں

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس سردار طار ق مسعود کیخلاف ریفرنس صدر سول سوسائٹی نیٹ ورک آمنہ ملک کی طرف سے دائر کیا گیا تھا ،ریفرنس میں جسٹس سردار طارق کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کاروائی کی استدعا کی گئی ہے، ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ کفر والا معاشرہ قائم رہ سکتا ہے لیکن وہ نہیں جہاں ناانصافی ہو،سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج کے لیے اپنے مالیاتی،ٹیکس معاملات کو قوم اور ریونیو ڈویژن سے چھپانا غیر مناسب بلکہ حیران کن ہے،معلومات کے مطابق جسٹس سردار طارق مسعود نے اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں دو کروڑ 46 لاکھ روپے کا دعویٰ کیا، انکم ٹیکس کے قواعد کے تحت کسی دستاویزی ثبوت کے ساتھ اس رقم کی تائید نہیں ہوتی،معزز جج قانونی طور پر رقم سے متعلق دستاویزی ثبوت ظاہر کرنے اور فراہم کرنے کا پابند ہے،رقم کس سے اور کیسے حاصل کی گئی یہ بتانا ضروری ہے،رقم کی حقیقت ثابت کرنے کے لیے بینکنگ چینل، دستاویزات سے ثابت کرنا ضروری ہے، اتنی بڑی رقم کے ثبوت فراہم نہ کرنے پر سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے فوری کارروائی کی ضرورت ہے

    ریفرنس میں جسٹس اخلاق حسین کیس کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے سینئر جج کے عہدے پر بیٹھے ایک شخص کا سے یہ عمل حیران کن ہے، کوئی بھی ملک کے قوانین سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے،سپریم جوڈیشل کونسل کسی جج کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی رائے قائم کرنے کے لیے مزید مواد/ڈیٹا/ثبوت حاصل کر سکتی ہے،پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی نمائندگی کرنے والا شخص جان بوجھ کر مکمل طور پر غیر آئینی، غیر قانونی اقدام کا انتخاب کر رہا ہے،ریفرنس میں ججز کے حلف کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ آئین پاکستان ججز سمیت سب کو اپنی حدود میں رہنے کا حکم دیتا ہے،جج کی طرف رقم اکے ذرائع چھپانا عملی طور پر آرٹیکل 4 اور 5(2) کی صریح خلاف ورزی ہے جسٹس سردار طارق مسعود سنگین مس کنڈڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں،سپریم کورٹ کے سینئر جج کے طور پر بیٹھے جسٹس سردار طارق مسعود نے مالی مجرمانہ ذہنیت دکھائی،اثاثے اور ذرائع چھپانے پر سردار طارق مسعود کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے، جسٹس سردار طارق مسعود کو عہدے سے ہٹایا جائے،

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • 16کم عمر بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانیوالے کو 707 برس قید کی سزا

    16کم عمر بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانیوالے کو 707 برس قید کی سزا

    بچوں کی دیکھ بھال کے لئے کام کے دوران کم سن بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے کو عدالت نے 707 برس کی سزا سنا دی ہے

    کیلی فورنیا کی عدالت نے ملزم کو سزا سنائی،ملزم پر کم سن بچوں کے ساتھ زیادتی، چھیڑ چھاڑ کا الزام ہے، ملزم مرد آیا کے طور پر کام کر رہا تھا، اس نے اس دوران 16 کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کی، زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں کی عمریں 12 برس تک تھیں، جبکہ ملزم نے 34 جرائم کا اعتراف کیا،

    ملزم میتھیوز کرزیو سکی، جسے بچوں کے اہلخانہ نے بچوں کی دیکھ بھال کے لئے رکھا ہوا تھا ملزم کئی گھروں میں جاتا تھا، اسی دوران اس نے بچوں کو اپنا نشانہ بنایا، بچوں‌کے اہلخانہ ملزم کو مونسٹرنینی کہہ کر پکارتے رہے،ملزم نے بچوں کے ساتھ جو سلوک کیا اسکو لے کر والدین نے ملزم کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا،والدین کا کہنا تھا کہ ملزم نے انکے بچوں‌کا بچپن خراب کیا،کیس کی سماعت کے دوران اورنج کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی ٹوڈ سپیسر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میتھیو نے ان بچوں کا بچپن چھین لیا.

    ملزم میتھیوز نے خود کو بیبی سیٹر کہا اور بیبی گائیڈنگ کے حوالہ سے اپنی خدمات پیش کی تھی، اس نے اس کے لئے ایک ویب سائٹ بھی بنائی تھی جہاں اس نے معلومات دیں تو بچوں کے والدین نے اس سے رابطہ کیا تھا، ملزم نے 2014 سے لے کر 2019 تک بچوں کے ساتھ زیادتی کی،ملزم کو 34 مقدمات میں قصور وار ٹھہرایا گیا جن میں بچوں سے زیادتی، چھیڑ چھاڑ، فحش مواد دکھانا شامل ہیں، 34 میں سے 27 مقدمے 14 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے ہیں،دو مقدمات کے مطابق ملزم نے دس برس کے کم عمر بچوں کے ساتھ بھی زیادتی کی،ملزم نے پانچ برسوں میں یہ گھناؤنا عمل سرانجام دیا،

    متاثرہ افراد میں سے ایک کے خاندان نے اس کے بارے میں شکایت کی تو اس پر مقدمہ چلایا گیا،خاندان کا الزام ہے کہ میتھیو ان کے 8 سالہ بچے کے ساتھ بدتمیزی کرتا تھا اور اسے نامناسب طریقے سے چھوتا تھا،درخواست کے بعد17 مئی 2019 کو میتھیو کو گرفتار کیا گیا تھا، پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا تو کافی شواہد ملے،انکشاف سامنے آیا کہ ملزم پانچ سالوں سے بچوں کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے،

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    ماں بیٹی سے زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی

    دس سالہ بیٹی کے ساتھ زیادتی کرنیوالے سفاک ملزم کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور کی سڑک پر کار میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی

    اسلام آباد جرائم کا گڑھ بن گیا، روز پولیس مقابلے، ڈکیتیاں، وجہ کیا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اسلام آباد ڈاکوؤں کیلیے جنت بن گیا، یکے بعد دیگرے آٹھ وارداتیں

    اسلام آباد،ایک رات میں 14 وارداتیں،پولیس اہلکار بنیادی سہولیات سے محروم

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

  • سائفر کیس،ضمانت کیلئے شاہ محمود قریشی کی سپریم کورٹ میں درخواست

    سائفر کیس،ضمانت کیلئے شاہ محمود قریشی کی سپریم کورٹ میں درخواست

    سپریم کورٹ: وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے سائفر کیس میں ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    درخواست میں ضمانت بعد از گرفتاری کی استدعا کر دی گئی،درخواست ایڈوکیٹ علی بخاری کے توسط سے دائر کی گئی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 8 نومبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا،درخواست گزار کیخلاف بے بنیاد اور سیاسی مقدمہ بنایا گیا ہے، درخواست میں وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی،،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تحریری فیصلہ جاری کردیا،فیصلے میں کہا گیا کہ شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت نامزد کیا گیا ہے، شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں جرم کی حوصلہ افزائی اور معاونت کے الزامات ہیں، قانون کے مطابق جرم کی معاونت کرنے والے پر بھی اتنی ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جتنی جرم کرنے والے ہر ہوتی ہے، سائفر کیس میں مرکزی ملزم چیئرمین پی ٹی آئی کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی سیکشن 5 کے تحت نامزد کیا گیا ہے، سیکشن 5 کے تحت جرم کے ارتکاب کی سزا عمر قید یا سزائے موت ہے،آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا سیکشن 9 کہتا ہے کہ جرم پر اکسانے یا معاونت پر بھی وہی سزا ہوگی جو سیکشن 5 میں درج ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ مرکزی ملزم چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواست 16 اکتوبر کو مسترد کر چکی ہے،شاہ محمود قریشی کی ضمانت بھی مرکزی ملزم سے جڑی ہوئی ہے، درخواست گزار کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ بھی مانگا گیا ہے،آرٹیکل 248 شاہ محمود قریشی کے کیس میں لاگو ہی نہیں ہوتا، آرٹیکل 248 کا اطلاق سرکاری ذمہ داریاں نبھانے کے حوالے سے کیا جاتا ہے، شاہ محمود قریشی پر الزام ہے کہ انہوں نے 27 مارچ 2023 کو جلسے میں تقریر کے دوران جرم کی حوصلہ افزائی، معاونت کی،ایک جلسے میں تقریر کرنا سرکاری ذمہ داریوں میں شامل نہیں، لحاظہ آرٹیکل 248 کا اطلاق نہیں ہوتا،شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے،خصوصی عدالت یہ حکم نامہ موصول ہونے کے 4 ہفتوں کے اندر اندر ٹرائل مکمل کرے،

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • نواز شریف کی عدالت پیشی،اسلام آباد ہائیکورٹ کا سیکورٹی سرکلر جاری

    نواز شریف کی عدالت پیشی،اسلام آباد ہائیکورٹ کا سیکورٹی سرکلر جاری

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی نیب کیسز میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کل ہو گی

    کمرہ عدالت میں صرف مخصوص افراد، وکلا اور صحافیوں کو داخلے کی اجازت ہو گی، صدر اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کو سماعت کی کوریج کیلئے 30 کورٹ رپورٹرز کے نام جمع کرانے کی ہدایت کر دی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے قواعد و ضوابط سے متعلق سرکلر جاری کردیا،جاری سرکلر میں کہا گیا کہ چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب 21 نومبر کو اپیلوں پر سماعت کریں گے، آئی جی اسلام آباد نواز شریف کی پیشی کے موقع پر مناسب سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنائیں، کمرہ عدالت نمبر ایک میں داخلہ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری سکیورٹی پاسز سے مشروط ہوگا، درخواست گزار کی قانونی ٹیم کے 15 وکلاء کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی، اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کے 5، 5 سرکاری وکلاء کو کمرہ عدالت میں داخلہ کی اجازت ہوگی،اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے 30 صحافیوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے ملازمین ان انٹری پاسز سے مستثنیٰ ہوں گے،

    سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی ،نواز شریف آج لاہور سے مری پہنچیں گے، نواز شریف کل مری سے اسلام آباد آئیں گے،نواز شریف اپنی اپیلوں کی وجہ سے اسلام آباد میں قیام کریں گے،نواز شریف کی رواں ہفتے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات متوقع ہے، نواز شریف کی خیبرپختونخوا کی لیڈر شپ سمیت دیگر اہم شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں کا بھی امکان ہے،

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • سارہ انعام قتل کیس،شاہنواز امیر نے سارہ کے ساتھ ظالمانہ سلوک رکھا،پراسیکیوٹر

    سارہ انعام قتل کیس،شاہنواز امیر نے سارہ کے ساتھ ظالمانہ سلوک رکھا،پراسیکیوٹر

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،سارہ انعام قتل کیس کی سماعت ہوئی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ناصرجاویدرانا نے کیس کی سماعت کی،پراسیکیوٹر راناحسن عباس کی جانب سے حتمی دلائل کا آغاز کر دیا گیا،پراسیکیوٹررانا حسن عباس نے عدالت میں کہا کہ سارہ انعام کو ایک انجری نہیں، متعدد انجریاں ہیں، سارہ انعام کو ٹارچر کیاگیا، جسم پر بیشتر زخموں کے نشانات ہیں،تفتیش میں کسی تیسرے شخص کا ڈی این اے نہیں آیا، تفتیش میں شاہنواز امیر کا ڈی این اے میچ ہوا ہے،شاہنواز امیر نے ثبوتوں کو ختم کرنے کی بھی کوشش کی،فارم ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج دو دن قبل ڈس کنکٹ کردی تھی، شاہنواز امیر نے سارہ انعام کے ساتھ ظالمانہ سلوک رکھا،سارہ انعام کو واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغامات بھی بھیجے تھے شاہ نواز امیر کی سارہ انعام کے ساتھ ہونے والی واٹس ایپ چیٹ ریکور ہو چکی ہے سارہ انعام ملزم سے پوچھتی رہیں کہ میرے ساتھ ایسی بد سلوکی کیوں کر رہے ہیں طلاق کے میسجز بھی ریکور ہو چکے ہیں ملزم نے پیغامات کو ڈیلیٹ کیا تھا,سارہ انعام کو ساری رات ٹارچر کیا گیا، منہ پر تھپڑوں کے نشانات جبکہ بازوؤں پر بھی زخم تھے جنہیں دیکھ کر قتل سے پہلے تشدد ثابت ہوتا ہے سارہ انعام کی لاش پر متعدد جگہ بری طرح نیل بھی پڑے ہوئے تھے رپورٹ کےمطابق موت پوسٹ مارٹم کے وقت سے 12 سے 24 گھنٹے پہلے ہوئی, شاہ نواز امیر کی والدہ گھر پر موجود تھیں کیسے ہو سکتا ہے کہ سارہ کی آواز نہ آئی ہو، ملزمہ ثمینہ شاہ نے پولیس کو آگاہ کرنے کی بجائے ملزم کے والد ایاز امیر کو کال کی, ملزم کی والدہ نے والد کو کال کی، پولیس کو کال کیوں نہیں کی؟سارہ انعام ابوظبی میں اعلیٰ عہدے پر نوکری کرتی تھیں، اُنہیں پاکستان بلا کر بری طرح ٹارچر کیا گیا، وہ ایک اہم زندگی تھیں جو ضائع ہو چکی، واپس نہیں آ سکتی,پراسیکیوٹر رانا حسن عباس نے عدالت سے ملزم شاہ نواز امیر کے لیے سزائے موت کی استدعا کرتے ہوئے اپنے حتمی دلائل مکمل کر لیے

    واضح رہے کہ صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر نے اپنی اہلیہ سارہ کو قتل کردیا تھا ایاز میر کی بہو دبئی سے واپس آئی تھی شاہنواز نشے کا عادی تھا اس نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کا قتل کیا۔ سارہ کا قتل بھی بالکل نور مقدم والے وحشیانہ طریقے سے کیا گیا۔ لوہے کا راڈ مارا پھر پانی کے ٹپ میں ڈبودیا۔ شاہنواز امیر کی کینیڈین نژاد سارہ سے تیسری شادی تھی مقتولہ سارہ دبئی میں ملازمت کرتی تھی اور دونوں کی تین ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی مقتولہ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شاہنواز سے رابطہ ہوا تھا، پھر دونوں نے شادی کر لی

    قتل کے بعد ملزم نے اپنے والد ایاز امیر کو لاش کی تصویر بھیجی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر رکھا ہے، پولیس نے ایاز امیر کو بھی گرفتار کیا تھا تا ہم عدالت نے اس مقدمے سے ایاز امیر کو ڈسچارج کیا ہے

    شک تھا سارہ کا کسی کے ساتھ کوئی افیئر ہے۔ ایاز امیر کے بیٹے کا بیوی کو قتل کرنے کے بعد بیان،

    ایاز میر کے بیٹے کی خوفناک درندگی :سارہ انعام ،کینیڈین شہری،دبئی آئی،گاڑی خریدی ،مگرپھرکیاہوا؟ہولناک انکشافات

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

  • سائفر کیس،دستاویزا ت کے مطابق سیکورٹی خطرات کے باعث جیل ٹرائل کا فیصلہ ہوا،عدالت

    سائفر کیس،دستاویزا ت کے مطابق سیکورٹی خطرات کے باعث جیل ٹرائل کا فیصلہ ہوا،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی.

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس گل حسن کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی، عمران خان کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے،،اٹارنی جنرل منصور اعوان بھی عدالت میں پیش ہوئے،عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ اور لیگل ٹیم کے ارکان اور شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہربانو قریشی عدالت میں موجود تھیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آ گئے،جج کی تعیناتی کے معاملے پر سائفر کیس میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان اہم مکالمہ ہوا، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اسلام آباد میں سینکڑوں ماتحت عدلیہ کے ججز موجود ہیں حکومت نے ایک مخصوص جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا چارج دیدیا ، جسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اس عدالت کے سامنے ریکارڈ پیش کیا تھا ہم نے دستاویزات دیکھے ہیں تعیناتی کیلئے کارروائی کا آغاز اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہوا، وکیل عمران خان نے کہا کہ ہمیں تو وہ دستاویزات بھی نہیں دکھائے گئے،عدالت نے کہا کہ ہمارے ذہن میں بھی یہی سوال تھا لیکن دستاویزات دیکھنے کے بعد صورتحال واضح ہوئی، آپ پہلے اٹارنی جنرل کے اپیل ناقابلِ سماعت ہونے کے اعتراض کا جواب دیں.

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 16 اگست کو اوپن کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کا ریمانڈ دیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی اٹک جیل میں تھے انکی عدم موجودگی میں ریمانڈ ہوا،بعد میں سائفر کیس کی جیل سماعت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، 29 اگست کو سائفر کیس کی جیل سماعت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، میڈیا کو عمران خان کا نام لینے سے بھی روک دیا گیا،یہ سب عمران خان کو عوام میں لانے سے روکنے کیلئے کیا گیا،شاہ محمود قریشی ریمانڈ کے وقت کمرہِ عدالت میں موجود تھے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپکے یہ دلائل بعد کے ہیں پہلے اپیل قابلِ سماعت ہونے پر دلائل دیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نے کچھ دستاویزات دکھائیں جس میں سپیشل رپورٹس بھی ہیں سی سی پی او کا لیٹر بھی ان دستاویزات کا حصہ ہے سیکورٹی خطرات کے باعث جیل ٹرائل کا فیصلہ ہوا،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مجھے اس لیٹر کا تب پتہ چلا ہے جب اٹارنی جنرل نے دستاویزات جمع کرائی ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن میں لائف تھریٹ کا ذکر بھی موجود نہیں نا ہی وزارت داخلہ کی اسپیشل رپورٹ کا ذکر ہے ،اٹارنی جنرل کے دستاویزات کے مطابق سی سی پی او نے خط لکھا کہ عمران خان کو لاحق سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے ٹرائل جیل میں کیا جائے لیکن اس وقت تو ٹرائل شروع بھی نہیں ہوا تھا،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے کہا کہ حکومت جیل ٹرائل کے لیے پراسیکیوشن کے ذریعے بھی درخواست دے سکتی ہے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جیل ٹرائل کی درخواست آئے تو عدالت نوٹس کر کے دوسرے فریق کو سننے کے بعد فیصلہ کر سکتی ہے،سیکشن 9 کے تحت جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جا سکتا،اِس سیکشن کے تحت عدالت کا وینیو تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن جیل ٹرائل کا ذکر نہیں،یہ سزائے موت یا عمر قید کا کیس ہے اس میں سختی سے قانون کے مطابق چلنا چاہیئے، جسٹس ثمن رفعت امتیار نے استفسار کیا کہ اگر سیکیورٹی خدشات ہوں تو حکومت کو کیا کرنا چاہیئے تھا؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حکومت کو یہ معاملہ متعلقہ جج کے سامنے رکھنا چاہیئے تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ راجہ صاحب، آپ اپیل قابلِ سماعت ہونے پر اپنے دلائل دیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جج کی جانب سے دو اکتوبر کو لکھا گیا خط بھی پڑھنا چاہتا ہوں جو بہت اہم ہے،جج نے اس خط میں پوچھا کہ کیا ملزم کو پیش کرنے میں کوئی مشکلات تو نہیں؟جج اس خط کے ذریعے پوچھ رہا کہ آپ مناسب سمجھیں تو جیل ٹرائل کے لیے تیار ہوں، جج نے کہا کہ جو آپ کا حکم وہی میری رضا، وزارت قانون کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن بھی درست نہیں ، یہ بھی کنفیوژن ہے کہ جیل ٹرائل کا مقصد کیا ہے؟ ایسا سیکورٹی خدشات کے باعث ہے یا حساس کیس سے پبلک کو اس سے دور رکھنا مقصد ہے،اوریجنل آرڈر کے خلاف انٹراکورٹ اپیل قابلِ سماعت ہوتی ہے، سیکشن 9 سیشن عدالتوں کے وینیوز تبدیل کرنے سے متعلق ہے جیل ٹرائل کا نہیں لکھا ہوا ، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی سیکشن 14 کے حوالے سے پراسیکیوشن کی درخواست ٹرائل کورٹ نے مسترد کی ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کے بعد ہم اٹارنی جنرل نے جوابی دلائل سنیں گے، عدالت کیس قابلِ سماعت ہونے پر اپنا مائنڈ کلیئر کرنا چاہتی ہے،یقین دہانی کراتے ہیں کہ آپ نے دلائل دینے ہوئے تو دوبارہ موقع دیا جائے گا، آپ تھوڑا وقفہ کر لیں ہم اٹارنی جنرل کو قابلِ سماعت ہونے پر سن لیتے ہیں

    وکیل سلمان اکرم راجہ اپنی نشست پر بیٹھ گئے ،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس کا ٹرائل 23 اکتوبر کو فرد جرم عائد ہونے سے شروع ہوا، اس سے پہلے کی تمام عدالتی کارروائی پری ٹرائل پروسیڈنگ تھی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سیکیورٹی تھریٹس سے متعلق رپورٹ ٹرائل کورٹ کے جج کے سامنے رکھی گئی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں، وہ وہ رپورٹ ٹرائل کورٹ کے جج کے سامنے نہیں رکھی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے کس مواد کی بنیاد پر پہلا خط لکھا ؟ اگر میرٹ پر دلائل سنتے ہیں تو آپ کو اِس نکتے پر عدالت کو مطمئن کرنا ہو گا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ یہ بات عمومی طور پر پبلک ڈومین میں تھی اور عدالت کو بھی اس کا علم تھا،

    جیل ٹرائل بھی ہو تو کم از کم جج تبدیل کیا جائے، عمران خان کے وکیل کی استدعا،سماعت میں وقفہ
    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جیل سماعت کے نوٹیفیکیشنز جاری ہوتے رہے اور جج تیزی سے کاروائی آگے بڑھاتے رہے لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس اہم ترین معاملے میں ہماری درخواست پر کئی ہفتوں کیلئے فیصلہ محفوظ رکھا،سماعت مکمل ہونے کے ایک ماہ بعد تک فیصلہ محفوظ رکھا گیا ،اس دوران یہ سارے ایونٹس ہوئے جن کا ذکر کیا گیا ، ٹرائل کورٹ کی کارروائی بھی جاری رہی ،سائفر کیس میں پندرہ نومبر تک کی تمام کارروائی غیر قانونی تھی ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہمیں ابھی تک نہیں پتہ کہ سائفر کیس میں الزام کیا ہے؟ہم صرف جیل میں ٹرائل اور جج کی تعیناتی کے معاملے پر قانونی نکات دیکھ رہے ہیں ، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی بیٹی کو بھی جیل ٹرائل دیکھنے کی اجازت نہیں ملی، پھر یہ کہہ رہے ہیں کہ جیل ٹرائل اوپن ٹرائل ہے،میری استدعا ہو گی کہ اگر جیل ٹرائل بھی ہو تو کم از کم جج کو تبدیل کیا جائے،

    کابینہ منظوری سے پہلے ہونے والا ٹرائل کالعدم قرار دیا جائے،وکیل عمران خان کی استدعا
    سلمان اکرم راجہ نے 1947کے ایک مقدمے کا حوالہ دیا اور کہا کہ جیل ٹرائل کے قواعد پورے نہ کرنے پر جج کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیاگیا تھا ،عدالت نے قرار دیا کہ جیل ٹرائل جاری رہے لیکن کوئی اور جج کارروائی کو آگے بڑھا سکتا ہے ،عدالت نے نوٹ کیا کہ ہے کہ 25ستمبر کے نوٹیفکیشن میں وزارت قانون نے لفظ جیل شامل نہیں کیا ،عمران خان کے جیل ٹرائل کو اِن کیمرہ ٹرائل بنا دیا گیا ہے،اِس ٹرائل میں فیملی ممبرز کو بھی جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس عدالت نے ایک سوال اپنے پہلے تحریری آرڈر میں بھی رکھا تھا،وفاقی کابینہ کی منظوری سے پہلے ہونے والے ٹرائل کا سٹیٹس کیا ہوگا؟آپ اپنے دلائل میں واضح کر دیں کہ آپ اس ٹرائل سے متعلق کیا چاہتے ہیں؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے پہلے ہونے والا ٹرائل خلاف قانون ہے، کابینہ منظوری سے پہلے ہونے والا ٹرائل کالعدم قرار دیا جائے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا آپ ڈکلیئریشن چاہ رہے ہیں؟پبلک کو عدالتی کارروائی سے باہر رکھنے کا اختیار متعلقہ جج کا ہے،اٹارنی جنرل کہہ رہے ہیں کہ جج کی طرف سے پبلک کو باہر رکھنے کا کوئی آرڈر موجود نہیں،اٹارنی جنرل کے مطابق ایسا آرڈر نہ ہونے کے باعث اسے اوپن ٹرائل تصور کیا جائے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پراسیکیوشن نے ٹرائل کورٹ میں پبلک کو ٹرائل سے باہر رکھنے کی درخواست دائر کی، جج نے آرڈر میں لکھا کہ ابھی تو پبلک کیس کی سماعت میں موجود ہی نہیں،جج نے لکھا کہ جب پبلک موجود ہوئی تو پھر اس معاملے کو دیکھیں گے،چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل فیملی اور پبلک کو دور رکھنے کیلئے ہی کیا جا رہا ہے،میڈیا،فیملی اور پبلک کو ٹرائل سے دور رکھنامحض بےضابطگی نہیں،استدعا ہے کہ پہلے ہو چکا ٹرائل کالعدم قراردیاجائے،عمران خان پر فرد جرم سے پہلے کچھ بہت اہم ہوا ، کچھ ایسا اہم ہوا کہ ہمیں دستاویزات تک فراہم نہیں کیے گئے، بغیر دستاویزات فراہم کئے فرد جرم عائد کی گئی اسے معمولی بے ضابطگی نہیں کہہ سکتے،

    سائفر کیس جیل ٹرائل اور جج تعیناتی معاملے میں اہم موڑ آ گیا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے رجسٹرار ہائیکورٹ سردار طاہر صابر کو طلب کر لیا ، رجسٹرار عدالت کے سامنے پیش ہو گئے، عدالت نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ آپ سے صرف دو سوالات پوچھنے ہیں 20 جون 2023 کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا وزارت قانون کے سیکرٹری کے نام کا لیٹر ہے کیا جج کی تعیناتی کا یہ پہلا لیٹر ہے ؟ یا وزارت قانون نے پہلے ریکوئسٹ بھیجی؟ چیک کرکے بتائیں ، دوسرا سوال یہ ہے کہ جیل ٹرائل سے متعلق کسی بھی اسٹیج پر ٹرائل کورٹ نے ہائیکورٹ کو کبھی بتایا ہے چیک کرکے بتائیں ،

    اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس اسپیشل کورٹس کی حالت زار پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب برہم
    سائفر کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس اسپیشل کورٹس کی حالت زار پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب برہم ، عدالت نے اٹارنی جنرل منصور اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جب میں اسپیشل کورٹس کا ایڈمنسٹریٹو جج تھا تو مجھے شکایات موصول ہوئیں تھیں ،جوڈیشل کمپلیکس اسپیشل کورٹس میں تعینات کردہ اسٹاف وزارت قانون کا ہے وہ اسٹاف نہ ججز کی سنتا ہے نہ وہ ججز ،اس اسٹاف کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لے سکتے ہیں وزارت قانون کے تعینات کردہ اس اسٹاف کو کم سے کم ان ججز کی تو سننی چاہیے بار بار ، بار بار وزارت قانون کو لیٹرز لکھے گئے لیکن وزارت قانون نے کچھ نہیں کیا ،اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے میں اس کو دیکھ لوں گا ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ تین احتساب عدالتیں گزشتہ حکومت کے دور سے خالی پڑی ہیں ، ہم نے تین ججز کی تعیناتی کا کہا لیکن وہ بھی نہیں لگائے گئے ، یہ جو کہہ رہے ہیں ہمارے پاس کنٹرول ہے یہ ایسے اپنا کنٹرول استعمال کرتے ہیں ، اگر آپ ان معاملات کو دیکھیں تو وفاقی دارالحکومت کی عدالتوں کے لیے بڑی سروس ہو گی ، اٹارنی جنرل نے حکومت کے سامنے معاملہ رکھنے کی یقین دہانی کروائی.

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کے حکم میں کل دن گیارہ بجے تک توسیع کردی ہے،عمران خان کی جیل ٹرائل اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی.

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہیں، چند روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر سے بارودی مواد بھی ملا تھا، عمران خان اور تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اوپن کورٹ میں ٹرائل کیا جائے، حکومت کا موقف ہے کہ ٹرائل جیل میں ہی ہو گا، اب تک عمران خان اوپن ٹرائل کے لئے تین درخواستیں دائر کر چکے ہیں