Baaghi TV

Tag: عدالت

  • جنوری کے آخر تک ہفتے کے روز تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا حکم

    جنوری کے آخر تک ہفتے کے روز تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے اسموگ کے باعث جنوری کے آخر تک ہفتے کے روز تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا حکم دے دیا

    عدالت نے ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر کو سکول ،کالجز اور یونیورسٹیز بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کردی ،جسٹس شاہد کریم نے اسموگ کے تدارک کے لیے دائر درخواستوں کا تحریری حکم جاری کردیا ، تحریری حکم میں عدالت نے کہا کہ پنجاب حکومت ہفتے کے دو روز ورک فرام ہوم کرنے کے حوالے سے اقدامات کررہی ہے،نوٹیفکیشن میں جم بند کرنے کا لفظ معطل کیا جاتا ہے ،یہ نوٹیفکیشن کرونا کی شق کے تحت کیا گیا اسے مزید لاگو نہیں کیا جاسکتا،اسموگ کے خلاف کاروائیاں نہ کرنے والے محکمہ ماحولیات ایسے افسران کے خلاف محکمانہ کاروائی کرے،

    نیب میں اکثر سوالوں کے جواب میں شہباز شریف نے کہا مجھے نہیں پتہ ،ارشاد بھٹی

    سائیکل کرائے پر دینے کے لیے مختلف پوائنٹ بنانے کے لیے اسیکم بنائی جائے

    آلودگی پھیلانے والی فیکٹروں کو سیل کرنے کا حکم

     ہفتے میں 2روز گھر سے کام کرنے کی پالیسی پر عمل کرائیں

    گھروں میں گاڑیاں دھونے والوں کے خلاف بھی کارروائی یقینی بنائی جائے

    وکیل نے کہا کہ محکمہ ماحولیات کا کہنا ہے کہ ا سموگ کا 40 فیصد بھارت سے آیا ہے ،عدالت نے کہا کہ محکمہ ماحولیات کو کچھ پتہ نہیں ہے ،برطانیہ میں ججز آج بھی سائیکل پر دفتر آتے ہیں،آپ سائیکلنگ کو فروغ دیں لاہور والے 5 ماہ بعد آپ کو سائیکلوں پر نظر آئیں گے، یہ سب حکومتی ادارے کرسکتے ہیں .

  • ڈیفنس کار حادثہ،ملزم  کی جیل سے طلبی کے معاملے پر قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت

    ڈیفنس کار حادثہ،ملزم کی جیل سے طلبی کے معاملے پر قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور،ڈیفنس کار حادثے میں ایک ہی فیملی کے 6 افراد کو ہلاک کرنے کا مقدمہ ،عدالت نے ملزم افنان کی جیل سے طلبی کے معاملے پر قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کردی

    عدالت نے پراسکیوشن کو ہدایت کی کہ جیل سے طلبی کے معاملے پر تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں ،عدالت نے ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کردی ،پولیس ملزم افنان کو لیکر مجسٹریٹ کی عدالت میں روانہ ہو گئی،انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جج عبہر گل نے پولیس کی درخواست پر سماعت کی،ملزم کو منہ پر کپڑا ڈال کر عدالت پیش کیا گیا ،پولیس کی بھاری نفری نے ملزم کو عدالت پیش کیا،

    قبل ازیں لاہور کی سیشن عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج شاہد محمود کے سامنے ملزم افنان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔ مدعی مقدمہ کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات کا اندارج ہو چکا ہے, 7 اے ٹی اے کے اندارج کے بعد درخواست قابل سماعت نہیں ہے،عدالت نے پولیس سے دفعات کے اندارج سے متعلق رپورٹ طلب کرلی

    واضح رہے کہ ملزم افنان نے ضمانت بعدازگرفتاری کی درخواست سیشن کورٹ لاہور میں دائر کی تھی، ملزم افنان نے قتل کی دفعات کے تحت سیشن کورٹ میں ضمانت دائر کی، ملزم کیخلاف ڈیفنس سی پولیس نے مقدمہ درج کررکھا ہے، اب اس مقدمے میں پولیس نے دہشت گردی کی دفعات شامل کردی ہیں

    واضح رہے کہ ملزم افنان کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں‌ دائردرخواست میں نگران وزیراعلیٰ اور سی سی پی او لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نگران وزیراعلیٰ سمیت دیگر کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کیا جائے، کم عمر ہوں میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے ،کم عمر بچوں کے قوانین کی خلاف وزری کی جارہی ہے ،مجھے تحفظ فراہم کیا جائے،

    واضح رہے کہ ڈیفنس لاہور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا،کم عمر نوجوان نے گاڑی چلاتے ہوئے دوسری گاڑی کو ٹکر ماری جس سے دو بچوں سمیت چھ افراد کی موت ہو گئی ہے. ریسکیو حکام کے مطابق ٹریفک حادثے میں مرنیوالوں میں 45 سالہ رخسانہ، 4 سالہ عنابیہ، 4 ماہ کا حذیفہ، 27 سالہ محمد حسین، 30 سالہ سجاد، 23 سالہ عائشہ شامل ہیں،حادثہ ڈرائیور کی تیز رفتاری، غفلت اور زگ زیگ کے باعث پیش آیا،ڈرائیور کی شناخت افنان شفقت کے نام سے ہوئی، پولیس نے کم عمر ڈرائیور کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کرلیا

     عدالت نے حکم دیا کہ بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے والوں کو گرفتار کیاجائے

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

    کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

    طیارے کا کپتان جہاز اڑانے کے قابل نہیں تھا،مبشر لقمان کھرا سچ سامنے لے آئے

  • رضوانہ تشدد کیس، سول جج کی اہلیہ فرد جرم کے لئے طلب

    رضوانہ تشدد کیس، سول جج کی اہلیہ فرد جرم کے لئے طلب

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،کمسن گھریلوملازمہ رضوانہ پر تشدد کیس کی سماعت ہوئی

    ملزمہ سول جج کی اہلیہ سومیہ عاصم کو فرد جرم کی کاروائی کیلئے طلب کرلیاگیا۔کیس کی سماعت سول جج عمر شبیرکی عدالت نے کی۔ملزمہ سومیہ عاصم عدالت پیش نہ ہوئی جبکہ ملزمہ کے وکیل عدالت پیش ہوئے، پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر ریکارڈ سمیت عدالت پیش ہوئے، تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ چالان رپورٹ عدالت جمع کرادی گئی ہے، جوفائل میں موجود ہے۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ چالان عارضی ہے حتمی نہیں ہے،لیکن ٹرائل شروع کرنے اور فردجرم کیلئے کافی ہے۔

    عدالت نے چالان نقول کی تقسیم کیلئے ملزمہ کو طلب کرلیا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت9 دسمبر تک ملتوی کردی۔

    24 جولائی کو تھانہ ہمک میں سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ پر ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ درج ہوا ،کمسن بچی رضوانہ کو ملازمت پر رکھنے کے الزام کی صفائی دینے تاحال سول جج شامل تفتیش نہ ہوئے۔ کمسن بچی کو ملازمت پر رکھنے اور تشدد سے محفوظ رکھنے کے الزام میں سول جج کو شامل تفتیش کرنا تھا۔ پہلے لاہور ہائیکورٹ پھر سیشن جج راولپنڈی کے ذریعے سول جج سے تفتیش کا کہا گیا۔ سول جج عاصم حفیظ جے آئی ٹی سربراہ اور تفتیشی کو بلا کر تحقیق کا حصہ بننا چاہتے ہیں،سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ بچی پر سونا چوری کرنے اور بچے کو نیند کی گولیاں دینے پر تشدد کرتی رہیں۔

    عاصم حفیظ کو لاہور ہائیکورٹ او ایس ڈی بنا چکی ہے، جس کے بعد انہیں طلب کیا گیا تھا، تا ہم وہ نہیں پیش ہو رہے،جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • ڈاکٹر شکیل آفریدی کی اہلیہ اور بچوں کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    ڈاکٹر شکیل آفریدی کی اہلیہ اور بچوں کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی اہلیہ اور بچوں کے نام عدالت نے ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا

    پشاور ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے وفاقی حکومت کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے اہلخانہ کے نام ای سی ایل سے نکالے جائیں،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس عبدالشکور اور جسٹس سید ارشد علی پر مشتمل بینچ نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی اہلیہ عمرانہ شکیل اور ان کے تین بچوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے وزارت داخلہ کے فیصلے کے خلاف مشترکہ طور پر دائر درخواست کو منظور کر لیا،کیس کی سماعت کے بعد عدالت نے مختصر حکم نامہ سناتے ہوئے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا،

    ڈاکٹر شکیل آفریدی پر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں امریکی سی آئی اے کی مدد کرنے کا الزام ہے اور وہ پنجاب کی ساہیوال سینٹرل جیل میں 23 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں،

    پشاور ہائیکورٹ میں درخواست گزار کی جانب سے وکیل محمد عارف جان آفریدی پیش ہوئے اور موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل قانون کی پاسداری کرنے والے شہری ہیں اور وہ حکومت کو کسی جرم میں درکار نہیں، حکومت نے غیر قانونی طریقے سے درخواست گزاروں کے نام بغیر کوئی معقول وجہ بتائے ای سی ایل میں شامل کئے،ڈاکٹر شکیل آفریدی کی اہلیہ عمرانہ شکیل، ان کے دو بیٹوں اور ایک بیٹی سمیت درخواست گزاروں نے اگر کوئی جرم نہیں کیا تو ان کے نام ای سی ایل میں نہیں ڈالے جا سکتے،دوران سماعت عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ درخواست گزار کسی بھی مقدمے میں مطلوب نہ تھے تو ان کے نام ای سی ایل میں کیوں ڈالے گئے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سیکیورٹی اداروں کی سفارش پر ڈاکٹر شکیل آفریدی کے اہل خانہ کے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے اہلخانہ کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست کی مخالفت کی اور کہا کہ نام گزشتہ وفاقی حکومت نے ای سی ایل میں ڈالے تھےاب نگران حکومت ہے اسکو نام ای سی ایل سے نکالنے کا اختیار نہیں، نگران حکومت کا کام محدود ہے،

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

  • نومئی جلاؤ گھیراؤ،9 ملزمان کی ضمانت خارج

    نومئی جلاؤ گھیراؤ،9 ملزمان کی ضمانت خارج

    نو مئی کو عسکری ٹاور حملہ اور جلاؤ گھیراؤ کا معاملہ ،انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 ملزمان کی عبوری ضمانت خارج کر دی

    ملزمان وقاص یونس ، بینا ذیشان ٫عامر علی٫ محمد اویس وغیرہ کی عبوری ضمانت خارج ہوئی، عدالت نے عدم پیروی کی بنیاد پر ملزمان کی عبوری ضمانت خارج کی ،ملزمان حاضری کیلیے عدالت میں پیش نہیں ہو رہے تھے

    دوسری جانب پنجاب حکومت نے نو مئی واقعات میں ملوث تمام ملزمان کے جیل ٹرائل کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ،نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ملزمان کا ٹرائل لاہور کی سینٹرل جیل میں ہوگا عسکری ٹاور پر حملے کے مقدمے کا ٹرائل بھی جیل میں ہوگا،تھانہ شادمان پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے کا ٹرائل بھی جیل میں ہوگا،جناح ہاؤس حملے کے مقدمے کا ٹرائل بھی جیل میں ہی ہو گا،

    واضح رہے کہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان کا جیل کے اندر ٹرائل کیا جائے گا،۔ اجلاس میں 9 مئی کے واقعات میں ملوث شرپسندوں کے خلاف قانونی کارروائیوں کوتیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ نگران وزیر اعلی محسن نقوی نے پولیس اور محکمہ پراسیکیوشن کو ملزمان کے خلاف مضبوط شہادتیں پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث کسی بھی شرپسند کو معاف نہیں کیا جائے گا اورکسی بے گناہ کو سزا نہیں ہونے دی جائے گی-نگران وزیر اعلی محسن نقوی نے مفرور شرپسندوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے کارروائیاں تیز کرنے کا حکم دیا۔

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

  • عمران خان سے فیملی ممبران کی ملاقات کی اجازت دی جائے، درخواست دائر

    عمران خان سے فیملی ممبران کی ملاقات کی اجازت دی جائے، درخواست دائر

    احتساب عدالت اسلام آباد ،190 ملین پاؤنڈ سکینڈل نیب کیس،چیئرمین پی ٹی آئی سے جیل میں اہلیہ بشری بی بی ، بہنوں کی ملاقات کے لیے درخواست دائر کر دی گئی

    وکیل شیراز رانجھا نے درخواست دائر کی ، وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں گرفتار ہیں ، چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ ، انکی تین بہنیں جیل میں ملنا چاہتی ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق آج جیل میں سماعت ہے، چیئرمین پی ٹی آئی سے فیملی ممبران کی ملاقات کی اجازت دی جائے ،جج احتساب عدالت نے کہا کہ فیملی سے ملاقات کی درخواست کو بھی آج جیل میں سن لینگے ، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت کی

    دوسری جانب ،چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ بشری بی بی کی آج ہم نے ضمانت قبل از گرفتاری مانگی ہوئی ہے ، نیب کی جانب سے چیرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی ،مجھے لگتا ہے ہے کہ چیرمین پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ استدعا قبول نہیں ہو گی ،عدالت نے پہلے ہی نیب کو چیرمین سے تفتیش کی اجازت دے رکھی ہے ،چیرمین پی ٹی آئی ویسے بھی جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں ،بشری بیگم کے حوالے سے اگر چیرمین نیب نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہوئے ہیں تو اس پر بحث ہو گی ،نیب نے کہا ہے کہ القادر ٹرسٹ پراپرٹی کیس ہمیں بشری بیگم مطلوب نہیں ہیں،القادر ٹرسٹ پراپرٹی کیس کا ٹرائل ابھی شروع نہیں ہوا ،القادر ٹرسٹ پراپرٹی کیس ابھی زیر تفتیش ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    بشری بی بی کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت

  • سموگ تدارک کیس،جتنا کردار فیکٹریوں کا اتنا ہی ماحولیات کے افسران کا ہے،عدالت

    سموگ تدارک کیس،جتنا کردار فیکٹریوں کا اتنا ہی ماحولیات کے افسران کا ہے،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ، اسموگ کے تدراک سے متعلق کیس کی سماعت 22نومبر تک ملتوی کر دی گئی

    درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے گزارشات پیش کی گئیں، وکیل نے کہا کہ ریسٹورنٹ کو جلد بند کیا جائے گا ،سینما ہال جم وغیرہ بھی بند رہیں گے،عدالت نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ گزارشات غیر ضروری ہیں ،جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ جم کے بند کرنے کا حکم تو کورونا کے دوران دیا تھا،ا سموگ پھیلانے میں جتنا کردار فیکٹریوں کا ہے اتنا ہی ماحولیات کے افسران کا ہے، ہمیں ان افسران کی نشان دہی کروائیں ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی،گھروں میں گاڑیاں دھونے والوں کے خلاف بھی کارروائی یقینی بنائی جائے،ڈولفن والے اور کچھ نہیں کرتے تو گاڑیاں دھونے والے کی تصویر ہی اتار لیں،

    وکیل ایل ڈی اے نے کہا کہ شاہدرہ والا پروجیکٹ ہوگیا ، کیولری گراؤنڈ والا تکمیل کے مراحلےمیں ہے،اکبر چوک والا پراجیکٹ بھی مکمل ہونے کوہے،وکیل ایل ڈی اے نے عدالت کو آگاہ کردیا،جسٹس شاہد کریم نے وکیل ایل ڈی اے سے استفسار کیا کہ وہاں کتنے درحت لگائے ہیں ؟وکیل ایل ڈی اے نے کہا کہ درخت لگانے سے متعلق معاملے پر بھی کام جاری ہیں ،عدالت نے کہا کہ بڑی کمپنیوں سے بات کریں وہ گرین بیلٹس کو بھرنے میں کام کریں کچھ انویسٹ کریں ،اسموگ کے روک تھام کےلیے چین کو خط لکھا وہاں سے جواب آچکاہے ، چین کی جانب سے جو جواب آیا وہ چیف سیکریٹری کے پاس موجود ہے عمل کروائیں،

    وکیل نے کہا کہ محکمہ ماحولیات کا کہنا ہے کہ ا سموگ کا 40 فیصد بھارت سے آیا ہے ،عدالت نے کہا کہ محکمہ ماحولیات کو کچھ پتہ نہیں ہے ،برطانیہ میں ججز آج بھی سائیکل پر دفتر آتے ہیں،آپ سائیکلنگ کو فروغ دیں لاہور والے 5 ماہ بعد آپ کو سائیکلوں پر نظر آئیں گے، یہ سب حکومتی ادارے کرسکتے ہیں .

    نیب میں اکثر سوالوں کے جواب میں شہباز شریف نے کہا مجھے نہیں پتہ ،ارشاد بھٹی

    سائیکل کرائے پر دینے کے لیے مختلف پوائنٹ بنانے کے لیے اسیکم بنائی جائے

    آلودگی پھیلانے والی فیکٹروں کو سیل کرنے کا حکم

     ہفتے میں 2روز گھر سے کام کرنے کی پالیسی پر عمل کرائیں

  • عدالت   کا بغیر لائسنس گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

    عدالت کا بغیر لائسنس گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ میں ڈیفنس میں چھ افراد کی ہلاکت کے واقعہ پر ملزم افنان کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ یہ درخواست کیسے قابل سماعت ہے؟ جسٹس علی ضیا باجوہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ عدالت کو بتائیں لائسنس کے بغیر گاڑی چلانا کون سا جرم بنتا ہے؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ بغیر لائسنس گاڑی چلانا جرم ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ڈرائیور کے علاوہ گاڑی کے مالک کیخلاف کارروائی ہو سکتی ہے؟کیا ٹریفک حادثے کے مقدمہ میں دفعہ 302 لگ سکتی ہے؟یہ دیکھنا پڑے گا کہ مقدمہ میں دفعہ 302 لگ سکتی ہے یا نہیں، لاہور ہائیکورٹ نے سی ٹی او لاہور اور ایس ایس پی آپریشنز کو فوری طلب کرلیا.

    وقفے کے بعد سماعت ہوئی، عدالتی حکم پر سی ٹی او لاہور اور ایس ایس پی ہائیکورٹ میں پیش ہوئے ، عدالت نے حکم دیا کہ بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے والوں کو گرفتار کیاجائے،جسٹس علی ضیاء باجوہ نے سی ٹی او لاہور کوہدایت کی کہ بغیر لائسنس کوئی گاڑی روڑ پر نہ آئے، عدالت نے لائسنس کے بغیر گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کرنے کا حکم دے دیا،اور کہا کہ تمام شہریوں کے ساتھ ایک سلوک کیا جائے ،جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کار حادثہ بہت افسوسناک واقعہ ہے،اگر سڑک پر10 لاکھ گاڑیاں ہیں تو لائسنس صرف 2 لاکھ ہیں، سی ٹی او لاہور نے عدالت میں کہا کہ 73لاکھ گاڑیاں ہیں اور13 لاکھ لائسنس ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ بغیر لائسنس کے گاڑیوں کے خلاف کیا اقدامات کر رہے ہیں؟ واقعے کے بعد ہی بتا دیں کہ کیا کارروائی کی ہے؟ سی ٹی او لاہور نے کہا کہ گزشتہ 3دن ہم نے کریک ڈاؤ ن کیا ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹریفک وارڈن کسی کوروکتا ہے تو اگلا بندہ کہہ دیتا ہے میں وکیل ہوں،بغیر لائسنس گاڑیوں کوچلانے والوں کے خلاف کارروائی بلا تفریق ہونی چاہیے،جو لوگ بچوں کو گاڑیاں دیتے ہیں انکے خلاف کیا کر رہے ہیں؟ سی ٹی او نے عدالت میں جواب دیا کہ قانون موجود ہے انکے خلاف کارروائی ہوتی ہے، بغیر لائسنس کے گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف 999 مقدمات درج کیے گئے ہیں

    واضح رہے کہ ملزم افنان کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں‌ دائردرخواست میں نگران وزیراعلیٰ اور سی سی پی او لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نگران وزیراعلیٰ سمیت دیگر کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کیا جائے، کم عمر ہوں میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے ،کم عمر بچوں کے قوانین کی خلاف وزری کی جارہی ہے ،
    مجھے تحفظ فراہم کیا جائے،

    واضح رہے کہ تحقیقات کے مطابق چھ افراد کی جان لینے والے کم عمر ڈرائیور افنان کی حادثے سے قبل جاں بحق افراد کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی، افنان وائی بلاک سے گاڑی میں بیٹھی خواتین کا کافی دیر تک پیچھا کرتا رہا۔متاثرہ گاڑی کے ڈرائیور حسنین نے کئی بار گاڑی کی اسپیڈ تیز کی کہ افنان پیچھا چھوڑ دے تاہم ملزم افنان نے گاڑی کا پیچھا نہیں چھوڑا اور مسلسل خواتین کو ہراساں کرتا رہا۔وائی بلاک نالے پر متاثرہ گاڑی کے ڈرائیور حسنین نے گاڑی روک کر افنان کو ڈانٹا اور دوسری گاڑی سے حسنین کے والد نے بھی ملزم افنان کو سمجھایا کہ خواتین کو ہراساں مت کرو لیکن اس دوران ملزم افنان انہیں دھمکیاں اور گالیاں دیں ، ملزم نے دھمکی دی کہ میں دیکھتا ہوں تم لوگ ڈیفنس میں گاڑی اب کیسے چلاتے ہو۔ حسنین اپنی بہن اور بیوی کو لے کر آگے نکلا تو ملزم نے دوبارہ پیچھا شروع کر دیا اور میکڈونلڈ چوک پر گھوم کر ملزم افنان نے 160 کی اسپیڈ سے گاڑی خواتین والی گاڑی سے ٹکرا دی، حادثے کے بعد حسنین کی گاڑی 70 فٹ روڈ سے دور جا گری اور سوار تمام افراد جاں بحق ہو گئے

    واضح رہے کہ ڈیفنس لاہور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا،کم عمر نوجوان نے گاڑی چلاتے ہوئے دوسری گاڑی کو ٹکر ماری جس سے دو بچوں سمیت چھ افراد کی موت ہو گئی ہے. ریسکیو حکام کے مطابق ٹریفک حادثے میں مرنیوالوں میں 45 سالہ رخسانہ، 4 سالہ عنابیہ، 4 ماہ کا حذیفہ، 27 سالہ محمد حسین، 30 سالہ سجاد، 23 سالہ عائشہ شامل ہیں،حادثہ ڈرائیور کی تیز رفتاری، غفلت اور زگ زیگ کے باعث پیش آیا،ڈرائیور کی شناخت افنان شفقت کے نام سے ہوئی، پولیس نے کم عمر ڈرائیور کو حراست میں لے کر مقدمہ درج کرلیا

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

    کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

    طیارے کا کپتان جہاز اڑانے کے قابل نہیں تھا،مبشر لقمان کھرا سچ سامنے لے آئے

  • سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سائفر کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو سامنے رکھتے ہوئے سماعت 21نومبر تک بغیر کارروائی کے ملتوی کردی، سماعت کے بعد ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم امتناع کی روشنی میں عدالت نے سماعت ملتوی کی ہے، سرکاری پراسکیوشن کی جانب سے گواہ بھی پیش نہیں کیا گیا

    دوسری جانب گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سائفر کیس کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی جس میں مقدمہ خارج کرنے کی استدعا کی گئی ، درخواست وکیل لطیف کھوسہ نے دائر کی جس میں وفاقی حکومت، ایف آئی اے اور تفتیشی افسر کو فریق بنایا گیا، علاوہ ازیں سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت سپریم کورٹ نے 22 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں بنچ سماعت کرے گا جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بنچ کا حصہ ہیں عمران خان کی فرد جرم کی کاروائی کے خلاف بھی سماعت ہو گی

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت ہفتے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کر دی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    واضح رہے کہ سائفرکیس میں عمران خان جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، جیل میں ہی کیس کی سماعت ہوتی ہے، عمران خان پر فردجرم عائد ہو چکی ہے، اگلی سماعت پر گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوں گے، شاہ محمود قریشی بھی سائفر کیس میں ریمانڈ پر ہیں.

  • القادر ٹرسٹ کیس، بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 21 نومبر تک توسیع

    القادر ٹرسٹ کیس، بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 21 نومبر تک توسیع

    190 ملین پاؤنڈ کرپشن اسکینڈل القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت 21 نومبر تک ملتوی کردی گئی ۔
    عدالت نے عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی عبوری ضمانت میں بھی 21 نومبر تک توسیع کردی۔ کیس کی مساعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے اڈیالہ جیل میں کی، بشریٰ بی بی بھی عدالت میں پیش ہوئیں،اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران نیب عدالت کے جج بشیر نے نیب پراسیکیوٹر سے بشریٰ بی بی کی گرفتاری حوالے سے استفسار کیا جس پر نیب پراسکیوٹر نے بشریٰ بی بی کیخلاف وارنٹس یا گرفتاری کی تردید کردی،نیب حکا م نے عدالت میں کہا کہ
    بشری بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں ۔عدالت نے بشریٰ بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کرتے ہوئے 21 نومبر بروز منگل دوپہر 2 بجے اڈیالہ جیل میں ہی سماعت مقرر کردی۔

    قبل ازیں ،احتساب عدالت،بشری بی بی کی توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کیسز میں ضمانت کا کیس ،بشری بی بی کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت کی، عدالت نے استفسار کیا کہ لطیف کھوسہ صاحب کدھر ہیں ؟ وکیل نے بتایا کہ وہ ہائیکورٹ میں مصروف ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کب تک کھوسہ صاحب ہائیکورٹ سے فری ہو جائیں گے ؟ وکیل نے کہا کہ آدھے گھنٹے تک فری ہو جائیں گے ، وکیل انتظار حسین پنجوتھہ نے کہا کہ جیل میں ہی سماعت رکھ لیں ، جج محمد بشیر نے کہا کہ ٹھیک میں جیل میں ہی سماعت کر لیتے ہیں ،آدھے گھنٹے تک میں جیل کے لئے نکلتا ہوں ،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی