Baaghi TV

Tag: عدالت

  • شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل

    شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل

    احتساب عدالت اسلام آباد ،سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر کیخلاف ایل این جی ریفرنس اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل کر دیا گیا،

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریفرنس کی منتقلی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا، عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ قانون کے مطابق احتساب عدالت کے پاس ایل این جی ریفرنس کی سماعت کا اختیار نہیں بنتا،پراسیکیوٹر کے مطابق بھی احتساب عدالت کا اس ریفرنس پر دائرہ اختیار نہیں، ایل این جی ریفرنس کو اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل کیا جاتا ہے، تفتیشی افسر مقدمے کا تمام ریکارڈ اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں جمع کرائیں،اس کیس میں 5 ملزمان کی جانب سے بریت کی درخواستیں دائر کی گئیں، دیگر ملزمان کے وکلاء کی جانب سے بھی عدالتی دائرہ اختیار پر قانونی سوالات اٹھائے گئے، شاہد خاقان عباسی کی جانب سے بریت کی درخواست دائر نہیں کی گئی،تاہم شاہد خاقان عباسی کے وکیل نے بھی نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت دلائل دیئے،

    کندھ کوٹ: ایک ماہ قبل اغواء ہونے والی تینوں لڑکیاں ڈاکوؤں کے چنگل سے بازیاب

    مسلم لیگ ن آفس اور عسکری ٹاور حملہ کیس: یاسمین راشد کے جوڈیشل ریمانڈ میں …

    اگرایس ایچ اوکی شان میں گستاخی نہ ہوتواسےعدالت میں طلب کرکے وضاحت طلب کریں،وکیل شیخ …

    ریفرنس میں تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی،شاہد خاقان عباسی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور وزیر اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے دیگر ملزمان کو فائدہ پہنچایا، ریفرنس میں نیب ترمیمی آرڈیننس کی سیکشن 9 کے تحت غیر قانونی طور پر رقم وصول کرنے کے شواہد موجود نہیں، ریفرنس انسدادِ کرپشن ایکٹ 1947 کے سیکشن 5 کے زمرے میں آتا ہے، احتساب عدالت اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت مقدمات کی بھی سماعت نہیں کر سکتی،اسپیشل جج سینٹرل ہی انسدادِ کرپشن اور انسدادِ منی لانڈرنگ قوانین کے تحت مقدمات کی سماعت کر سکتے ہیں،

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو 18 جولائی 2019 کو قومی احتساب بیورو نے مائع قدرتی گیس کیس میں گرفتار کیا تھا اور انہیں فروری 2020 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ضمانت پر رہا گیا گیا تھا۔ان پر الزام ہےکہ انہوں نے اس وقت قوائد کے خلاف ایل این جی ٹرمینل کے لیے 15 سال کا ٹھیکہ دیا، یہ ٹھیکہ اس وقت دیا گیا تھا جب سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں شاہد خاقان عباسی وزیر پیٹرولیم تھے۔

    بعدازاں 3 دسمبر 2019 کو نیب نے احتساب عدالت میں ایل این جی ریفرنس دائر کیا تھا، جس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شیخ عمران الحق اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے سابق چیئرمین سعید احمد خان سمیت 10 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔

  • جج اور صحافی ہمیشہ سچ کی تلاش میں رہتے ہیں، نامزد چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

    جج اور صحافی ہمیشہ سچ کی تلاش میں رہتے ہیں، نامزد چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

    سپریم کورٹ: پریس ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی تقریب حلف برداری ہوئی

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پریس ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے حلف لے لیا ،اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے، معلومات تک رسائی ہر شہری کا حق ہے، صحافی ہر وہ چیز معلوم کرسکتے ہیں جس میں پبلک انٹرسٹ ہو، میڈیا کا بنیادی مقصد عوام تک درست معلومات پہنچانا ہوتا ہے، جج اور صحافی ہمیشہ سچ کی تلاش میں رہتے ہیں،آئین پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا حق دیا گیا ہے، یہ حق نہ صرف صحافیوں بلکہ ہر شہری کو حاصل ہے،دوسرا حق کہ مفاد عامہ میں عوام سے متعلق چیزوں کے بارے میں آپ معلومات لے سکتے ہیں، ایک بات جس کا آئین میں براہ راست ذکر نہیں لیکن معنوی اعتبار سے ذکر ہے وہ ہے سچ،

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سچ کی تلاش کے حوالے سے قرآنی آیات اور مختلف احادیث کے حوالے دیئے گئے، انکا کہنا تھا کہ جج آئین و قانون کے دائرے میں کام کرتا ہے سچ اور انصاف کا گہرا تعلق ہے،میں آپ کے سچ سے انکار نہیں کر سکتا لیکن رائے سے اختلاف کر سکتا ہوں، میڈیا میں سچ اور رائے میں تفریق نہیں کی جاتی جس سے مجھے اختلاف ہے، دنیا میں رائے دینے والوں کو صحافی نہیں کہا جاتا، صحافیوں کو معلومات پہنچانی چاہیئے لیکن اگر وہ اپنی رائے دے رہے ہیں تو بتائیں کہ یہ میری رائے ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • افغان باشندے کو پاکستانی شناختی کارڈ بارے کیس کی سماعت ملتوی

    افغان باشندے کو پاکستانی شناختی کارڈ بارے کیس کی سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ میں افغان باشندے کو پاکستانی شناختی کارڈ جاری کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر احمان نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار کہاں کا باشندہ ہے تاحال شناخت نہیں ہو سکی ؟ افغانستان اور ڈنمارک میں بھی درخواست گزار کا ٹھکانہ نہ مل سکا، درخواستگزار پاکستانی نہیں افغان شہری ہے سیکیورٹی کلیٸرنس کے بغیر اجازت نہیں دی جا سکتی،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ افغان شہری قابل احترام ہیں بہت سے افغان شہری لاہور میں مقیم ہیں سیکیورٹی معاملات بھی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں درخواست گزار کی اہلیہ پاکستانی شہری ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواستگزار حیات اللہ کو تمام معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کردی،عدالت نے حکم دیا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل متعلقہ اداروں سے ریکارڈ چیک کروائیں اور آئندہ سماعت پر عدالت کو پیش رفت رپورٹ سے آگاہ کیا جائے

    افغان شہری حیات اللہ نے پاکستانی شہری سے شادی کر رکھی ہے حیات اللہ نے پاکستان اوریجن کارڈ کی تجدید کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے

    لیڈی ہیلتھ ورکرز کو رات کے وقت بلانے پر سپریم کورٹ کے ریمارکس،بیان حلفی میں کیا کہا گیا؟

    جعلی ڈگریوں پرملازمت کیس میں سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس

    اکیلی عورت لفٹ لے کر فرنٹ سیٹ پر کیسے بیٹھ گئی، عدالت کے ریمارکس

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

  • بابراعوان،لطیف کھوسہ کی عمران خان سے ملاقات کروائی جائے،عدالت

    بابراعوان،لطیف کھوسہ کی عمران خان سے ملاقات کروائی جائے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا

    چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے تحریری حکم نامہ جاری کیا، تحریری حکمنامہ میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے اپیل پر تیاری کیلئے 2 ہفتوں کا وقت مانگا، درخواست گزار وکلا نے الیکشن کمیشن کی وقت حاصل کرنے کی استدعا کی مخالفت کی، انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دو دن کا وقت دیا جاتا ہے، درخواست کو 24 اگست کو دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کیا جائے، وکیل ڈاکٹر بابر اعوان نے چیئرمین پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کی درخواست دی، ڈاکٹر بابر اعوان کی درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کیے، حبابر اعوان نے موقف اپنایا کہ اگر ملاقات کی اجازت مل جائے تو وہ اعتراضات کیخلاف نہیں جائیں گے،بابر اعوان کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھے جاتے ہیں،اٹک جیل حکام بابر اعوان کی چیئرمین پی ٹی آئی سے 23 اگست دوپہر 1 سے 3 بجے کے درمیان ملاقات کرائیں، وکیل لطیف کھوسہ کی جانب سے بھی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست کی گئی، لطیف کھوسہ کی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست منظور کی جاتی ہے،جیل حکام 23 اگست دوپہر 2 بجے لطیف کھوسہ کی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کروائیں،

    واضح رہے کہ عمران خان کو  توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ میں چیرمین پی ٹی ائی کا توشہ خانہ کیس ٹرائل کو بھجوانے کے ہائیکورٹ حکم کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کی جانب اسلام آباد ہائیکورٹ کے مختلف احکامات کے خلاف تین درخواستیں دائر کی ہیں، چیرمین پی ٹی ائی 2018 انتخابات میں میانوالی سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے، الیکشن ایکٹ ہر رکن اسمبلی کو اثاثہ جات کی تفصیل جمع کروانے کا کہتا ہے،6 اراکین اسمبلی نے چیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کیلئے سپیکر اسمبلی کے پاس ریفرنس بھیجا ،اراکین اسمبلی نے چیرمین پی ٹی پر اثاثوں کی غلط ڈیکلریشن کا الزام لگایا سپیکر اسمبلی نے ریفرنس الیکشن ایکٹ کے سیکشن 137 کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو بھجوا دیا

    جسٹس مظاہر علی اکبرنے لطیف کھوسہ کو ہدایت کی کہ آپ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 137 پڑھیں ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ قانون کے مطابق الیکشن کمیشن 120 دنوں میں ہی کاروائی کرسکتا یے،جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا ایک ممبر دوسرے کے خلاف ریفرنس بھیج سکتا ہے ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ کوئی ممبر ریفرنس نہیں بھیج سکتا الیکشن کمیش خود بھی ایک مقررہ وقت میں کاروائی کرسکتا ہے ،چیئیرمین پی ٹی آئی کیخلاف سپیکر نے ریفرنس بھیجا لیکن 120 دن گزرنے کے بعد، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کا کیس تو ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف ہے شکایت کی قانونی حیثیت پر نہیں، ٹرائل کورٹ سے مقدمہ ختم ہوچکا اب کس کو ریمانڈ کیا جا سکتا ہے؟ موجودہ کیس کا سزا کیخلاف مرکزی اپیل پر کیا اثر ہوگا؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالت کو گھڑی کی سوئیاں واپس پہلے والی پوزیشن پر لانی ہونگی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر مرتبہ غلط بنیاد پر بنائی گئی عمارت نہیں گر سکتی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 21 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی کو نااہل کرکے شکایت درج کرانے کا فیصلہ کیا،الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا، لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا نہ کوئی فوجداری کارروئی تاحکم ثانی نہیں ہوگی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست وہاں ہی دائر ہوسکتی جس عدالت کی توہین ہوئی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے فوجداری شکایت درج کرائی،ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کو الیکشن کمیشن نے مقدمہ درج کرانے کی اتھارٹی نہیں دی تھی،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ اپ نے شکایت کی قانونی حیشت کو چیلنج ہی نہیں کیا؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے شکایت کی قانونی حیشت کو ہی چیلنج کیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کا کیس اب ٹرائل کورٹ میں زیر التوا نہیں، آپ کا کیس سن کر اب ہم کہاں بھیجیں گے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ اس ساری مشق کو سپریم کورٹ کالعدم قرار دے سکتی ہے ،انصاف تک کی رسائی کو روکا جاتا رہا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہتے ہیں شکایت ایڈیشنل سیشن کے بجائے مجسٹریٹ کے پاس جانی چاہیے تھی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے فیصلے پبلک ہوتے ہیں، فیصلوں پر تنقید ہوتی ہے اور فیصلوں تک ہی رہنی چاہیے، ادارے ایسے ہی کام کر سکتے ہیں،جسٹس مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کرپٹ پریکٹس کا فیصلہ دینے کے کتنے دن بعد شکائت بھیجی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ قانون میں دنوں کا تعین اثاثوں کے تفصیل جمع کرانے کے بعد سے لکھا ہے، سردار لطیف کھوسہ نے قانون پڑھ کر سنا دیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 342 اسمبلی ممبران پھر صوبائی ممبران سب کی تفصیل الیکشن کمشن 120 دن میں کیسے دیکھ سکتا ہے ؟ 120 دن کہاں سے شروع ہوں گے کے یہ دیکھنے کے لیے اپنا مائنڈ اپلائی کرنا ہو گا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرا مقدمہ بار بار ایک ہی جج کو بھجوایا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کسی عدالت پر تعصب کا الزام نہیں لگا سکتے، سپریم کورٹ یہاں سول جج تک اپنے تمام ججز کا دفاع کرے گی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے اس عدلیہ کے لیے اپنا خون بہایا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس لیے تو آپ سے توقعات زیادہ ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم آپ کے لیے حاضر ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے لیے نہیں اس چئیر کے لیے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے معاملہ ٹرائل کورٹ بھیجا تھا جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے فیصلہ کیا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ وہ جج فیصلہ دیکر لندن روانہ ہو گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لندن والی بات نہ کریں، آپ صرف یہ بتائیں ہائی کورٹ کے بتائے نکات پر ٹرائل کورٹ نے فیصلہ کیا یا نہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ان نکات پر فیصلہ نہیں کیا کیس قابل سماعت ہونے کا اپنا سابقہ فیصلہ بحال کردیا،ان جج صاحب نے فیس بک پر چئیرمیں پی ٹی آئی کیخلاف زہر اگلا ہوا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہو گئے ،سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی.

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں غلطیاں ہیں، عمران خان کو غلط طریقے سے سزا سنائی گئی،عمران خان کو سزا سنانے میں کوئی ایک نہیں کئی بڑی غلطیاں ہوئیں، عمران خان کا حق دفاع ختم کرنا غلط تھا، ٹرائل کورٹ کے جج نے اس فیصلے پر انحصار کیا، جو کالعدم ہو چکا تھا، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ملک کی کسی اور عدالت میں یہ سب ہوتا ہے جو جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں ہوا؟

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ کی سرزنش کی اور کہا کہ آپ ہر بات پر اسلام آباد ہائیکورٹ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ اعتراض نہ کریں تو پھر کیا کریں ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے فیصلہ کردیا تو آپ اپیل کردیں، عدالت کا ہر فیصلہ پبلک ڈومین میں جاتا ہے،
    عدالت کا فیصلہ ڈسکس ہونا چاہیے ججز نہیں، لطیف کھوسہ نے جواب دیا ،ٹھیک ہے سر، چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ ہائیکورٹ نے چار اگست کو آپ کی درخواستوں پر فیصلہ کردیا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ پانچ اگست کو ٹرائل کورٹ کے جج ہمایوں دلاور نے ہمارے خلاف فیصلہ دے دیا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ سیشن عدالت کے خلاف کوئی حکم امتناع نہیں تھا اس نے فیصلہ ہی کرنا تھا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ قانون میں پھر 120 کی حد کیوں دی گئی ہے ؟ کیا ساری عمر یہ تلوار لٹکتی رہے گی ؟ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ قانون میں لکھا ہے کہ جب ڈیکلریشن کا جھوٹا ہونے کا پتہ چلے گا اس کے 120 دن تک شکایت درج ہوسکتی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 800 سے زیادہ ارکان ہیں، الیکشن کمیشن نے سینکڑوں ارکان اسمبلی کے اثاثوں کا جائزہ 120 دن میں تو نہیں لے سکتا،120 دن کب شروع ہوں گے اس کے لیے مائنڈ آپلائی کرنا پڑتا ہے، پانچ اگست کو اپیل کا فیصلہ ہوگیا آپ نے چینلج بھی کردیا،ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ کو تعصب کے ساتھ ٹرائل کی تیز رفتاری پر بھی اعتراض تھا،اگر کوئی فیصلہ غلط ہے اس میں مداخلت کرسکتے ہیں، سپریم کورٹ یہاں ہر جج کے تحفظ کے لیے بیٹھی ہے،سپریم کورٹ کے جج سے لے کر ماتحت عدالت تک ہر جج کی عزت برابر ہے،جب فیصلہ آجاتا ہے تو وہ عوام کی ملکیت ہوتی ہے، تنقید عدالتی فیصلے پر کریں ادارے پر نہیں،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلے چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف کرپٹ پریکٹس ثابت ہوئی پھر شکایت بھیجی گئی، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ٹرائل کورٹ یا اپیلٹ کورٹ نے کسی معاملے کو نہیں دیکھا تو ہم اس کو دیکھ سکتے،اگر متعلقہ کورٹ نے کسی معاملے پر فیصلہ کرلیا ہے تو اپیل میں ہم دیکھ سکتے ہیں،قومی اسمبلی کے 342 ارکان ہوتے ہیں،120دن میں شکایت بھیجنا مشکل ہے،آپ عدالتی فیصلے پر بات کریں، جج پر بات نا کریں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج سے لے کر ٹرائل کورٹ تک سب کی برابر عزت و تکریم ہے، ہم نے آپ کیلئے خون دیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے ہمارا ساتھ دیا، آئین کیلئے ہم گواہ ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ نے آئین کیلئے جدوجہد کی، کسی جج کیلئے نہیں،

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی واپس ہائیکورٹ بھیج دیا،سپریم کورٹ ہمارے اعتراضات کو سن کر فیصلہ کرے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ ہائیکورٹ کے فورم کو کیوں ضائع کررہے ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ
    ہائیکورٹ کا فورم ضائع ہوتا ہے تو ہونے دیں،ہم خوار ہورہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ جزباتی ہونے کی بجائے قانون کے مطابق دلائل دیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہائیکورٹ میں اپیلیں زیرسماعت ہیں انہیں فیصلہ کرنے دیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بہتر نہیں ہوگا ہائیکورٹ مائنڈ اپلائی کرکے فیصلہ دے، بار بار کیسز عدالتوں میں آتے رہے، امجد پرویز وکیل الیکشن کمیشن نےکہا کہ اس کیس میں پیش ہونے کیلئے میرے پاس اٹارنی نہیں ہے، عدالت نے وکیل الیکشن کمیشن سے کہا کہ آپ پہلے بھی پیش ہوتے رہے ہیں، اس کیس پر آپ سے معاونت لیں گے، ہائیکورٹ نے خود فیصلہ کرنے کی بجائے پھر ریمانڈ بیک کردیا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے 3سے4 مرتبہ کیس میں وقفہ کیا لیکن ملزم کی طرف سے کوئی پیش نہیں ہوا، پھر سیشن کورٹ نے فیصلہ کردیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کتنے دن کے مواقع دئیے گئے، اگر ٹرائل کورٹ یا اپیلٹ کورٹ نے کسی معاملے کو نہیں دیکھا تو ہم اس کو دیکھ سکتے،اگر متعلقہ کورٹ نے کسی معاملے پر فیصلہ کرلیا ہے تو اپیل میں ہم دیکھ سکتے ہیں،

    توشہ خانہ کیس میں جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کو سزا سنائی ،جس کے بعد عمران خان اٹک جیل میں ہیں، جج ہمایوں دلاور پر پی ٹی آئی نے اعتراض عائد کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی تا ہم عدالت نے دو بار یہی فیصلہ دیا تھا کہ جج ہمایوں دلاور ہی کیس کو سنیں گے جس کے بعد پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جج ہمایوں دلاور کیس کا فیصلہ سنا چکے ہیں اور عمران خان جیل میں ہیں

    عمران خان کو جب زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل لے جایا گیا تھا تو ابتدائی ایام میں عمران خان کو جیل میں مشکلات کا سامنا تھا ، انکو ایک چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا تھا اور واش روم بھی اسی بیرک کے اندر ہی موجود تھا تا ہم اب عمران خان کو جیل میں سہولیات ملنے لگ گئی ہیں،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • ایمان مزاری کی ضمانت منظور،علی وزیر کو جیل بھجوا دیا

    ایمان مزاری کی ضمانت منظور،علی وزیر کو جیل بھجوا دیا

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،ایمان مزاری اور علی وزیر کے خلاف تھانہ ترنول میں کارسرکار اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا کیس کی سماعت ہوئی

    علی وزیر کو تھانہ ترنول میں درج مقدمہ میں دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت پیش کر دیا گیا،ایمان مزاری کی وکیل زینب جنجوعہ کمرہ عدالت میں موجود تھیں،ڈیوٹی جج وقاص احمد راجہ نے کیس کی سماعت کی،پراسیکیوٹر عاطف الرحمان عدالت میں پیش ہوئے، سماعت کے آغاز پر کیس میں شریک ملزمان کی حاضری لگائی گئی، پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ علی وزیر کی حد تک پہلے دو روزہ جسمانی ریمانڈ مل چکا ہے ،ملزم علی وزیر کی جانب سے پولیس سے تعاون نہیں کیا جا رہا،علی وزیر سے پولیس کٹ اور ہتھیار ریکور کرنے ہیں،پراسیکیوٹر کی جانب سے ملزمان کا مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی

    علی وزیر کے وکیل کی جانب سے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی گئی، وکیل صفائی نے کہا کہ دو روز کا جسمانی ریمانڈ مل چکا ہے لیکن کوئی چیز ریکور نہیں ہوئی،وکیل صفائی کی جانب سے ایف آئی آر کا متن پڑھا گیا، پراسیکیورٹر عاطف الرحمن نے کہا کہ علی وزیر سے چںد ثبوت برآمد بھی ہوئے ہیں،وکیل صفائی عطا اللہ کنڈی نے کہا کہ علی وزیر کے خلاف درج مقدمے میں 3 ناقابلِ ضمانت دفعات ہیں، دیگر قابلِ ضمانت ہیں، ریلی کے شرکاء کوئی بھی ہوسکتے ہیں، علی وزیر کا ریلی کے شرکاء سے کچھ لینا دینا نہیں، پولیس والے آخر علی وزیر سے آخر کیا اگلوانا چاہتے ہیں؟ پراسیکیورٹر عاطف الرحمن نے کہا کہ شریک ملزمان سے اسلحہ بھی برآمد ہواہے، ملزم تعاون نہیں کررہا،

    اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کیا کہتے لیکن فٹ بال پر توجہ دینی چاہئے. زیدان
    پاکستانی ہائی کمشنر کی کینیڈین وزیر سے ملاقات؛ کثیر الجہتی باہمی شراکت داری کو مضبوط بنانے پر زور
    ایف بی آر نے چھوٹے تاجروں کیلیے سادہ انکم ٹیکس ریٹرن فارم متعارف کروا دیا
    ارشد شریف کا قتل دو الگ ممالک کا معاملہ ہے، ابھی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی ضرورت نہیں،چیف جسٹس

    سابق ممبر قومی اسمبلی علی وزیر روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ جلسہ کرنے جارہے تھے تو کافی پکڑ دھکڑ ہورہی تھی،نگراں حکومت کی کال آئی، بات چیت چل رہی تھی،جلسہ کرلیا تو نگراں وزیرداخلہ نے شکریہ کا ٹویٹ کیا،جلسے کے بعد چںد شرکاء سپریم کورٹ کی طرف پہنچ گئے،عدالت نے علی وزیر کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ

    محسن داوڑ اور علی وزیر کا سی ٹی ڈی نے ریمانڈ مانگا تو عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر پر غداری کا مقدمہ بنایا جائے،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    ایک بیان کی بنیاد پر کیسے کسی کو نااہل کر دیں؟ علی وزیر نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کے ریمارکس

    ایمان مزاری کی ضمانت منظور،علی وزیر کو جیل بھجوا دیا
    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ایمان مزاری اورعلی وزیر کے خلاف تھانہ ترنول میں کارسرکار اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے کیس کی سماعت کی ۔ڈیوٹی جج وقاص احمد راجہ نے محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا ۔عدالت نے ایمان زینب مزاری کی درخواست ضمانت منظور کرلی ہے عدالت نے ایمان زینب مزاری کی 30 ہزار کےضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی کی جبکہ عدالت نے علی وزیر کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا ہے۔

  • عمران خان کے وکیل کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب

    عمران خان کے وکیل کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب

    اسلام آباد ہائی کورٹ ،چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کے رکن اور وکیل شیر افضل مروت کی کیسوں کی تفصیلات فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے شیر افضل مروت کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات 30 اگست تک طلب کرلیں ،عدالت نے مقدمات کی تفصیلات آنے تک شیر افضل مروت کے خلاف مزید تادیبی کاروائی سے روک دیا عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 30 اگست تک جواب طلب کرلیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی،عدالت نے شیر افضل مروت کی درخواست پر اعتراضات دور کردیے ،وکیل شیر افضل مروت ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ میری درخواست پر بایومیٹرک نہ کرانے کا عتراض تھا ، جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکو بائیو میٹرک کی کیا ضرورت ہے ، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ درخواست دائر کرنے کے لیے بائیو میٹرک تصدیق لازمی ہوتی ہے ، عدالت نے استفسارکیا کہ آپکو کیس چاہیے کیا درخواست ہے آپکی ، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ فریقین کے خلاف کیسز کرتے ہیں تو وہ ہراساں کرتے ہیں ،جنھیں فریق بناتے ہیں وہ ہمارے خلاف ہوجاتے ہیں،روزانہ کی بنیاد کیسز بن رہے ہیں،میرے خلاف اٹک میں ایف آئی آر درج کی گئی، عدالت کیسوں کی تفصیلات طلب کرے اور گرفتاری سے روکنے کے احکامات جاری کرے ،

    عدالت نے کیسوں کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ،عدالت نے فریقین کو شیر افضل مروت کے خلاف تادیبی کاروائی سے روکتے ہوئے کیس کی سماعت 30 اگست تک ملتوی کر دی،

    آئین پر عمل سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا،شازیہ مری

    آفیشل سیکرٹ ترمیمی ایکٹ کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • سپریم کورٹ،توشہ خانہ کیس میں اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،توشہ خانہ کیس میں اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف کی اپیل 23 اگست کو سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس جمال مندوخیل بنچ کا حصہ ہونگے ،چیئرمین پی ٹی آئی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی،چیرمین تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 اگست کے فیصلوں کو چیلنج کیا تھا اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ قابل سماعت ہونے کا معاملہ واپس جج ہمایوں دلاور کو بھجوادیا تھا ،سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کو سزا سنائی ،جس کے بعد عمران خان اٹک جیل میں ہیں، جج ہمایوں دلاور پر پی ٹی آئی نے اعتراض عائد کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی تا ہم عدالت نے دو بار یہی فیصلہ دیا تھا کہ جج ہمایوں دلاور ہی کیس کو سنیں گے جس کے بعد پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جج ہمایوں دلاور کیس کا فیصلہ سنا چکے ہیں اور عمران خان جیل میں ہیں

    عمران خان کو جب زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل لے جایا گیا تھا تو ابتدائی ایام میں عمران خان کو جیل میں مشکلات کا سامنا تھا ، انکو ایک چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا تھا اور واش روم بھی اسی بیرک کے اندر ہی موجود تھا تا ہم اب عمران خان کو جیل میں سہولیات ملنے لگ گئی ہیں،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کا شیرافضل مروت کی ٹویٹ کا نوٹس

    تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کا شیرافضل مروت کی ٹویٹ کا نوٹس

    پاکستان تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کے رکن شیرافضل مروت ایڈووکیٹ کی ٹویٹ کا معاملہ ، تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے شیرافضل مروت کی ٹویٹ کا نوٹس لے لیا

    شیرافضل مروت ایڈووکیٹ کے تاثرات کی مکمل چھان بین کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، ترجمان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اپنی سیاسی جدوجہد کے نازک ترین دور سے گزر رہی ہے، چیئرمین عمران خان کی منظوری سے تحریک انصاف کی کورکمیٹی نہایت پیچیدہ صورتحال میں فیصلہ سازی کا حسّاس فریضہ سرانجام دے رہی ہے،نہایت قابل، محنتی اور وفاشعار قانونی ماہرین پر مشتمل قانونی ٹیم چیئرمین سمیت قائدین اور کارکنان کیخلاف لاقانونیت اور بدترین انتقام کی یلغار میں حصولِ انصاف کیلئے کوشاں ہے، جبر و فسطائیت کے ماحول میں قانون کی حکمرانی اور حصولِ انصاف کی ان کی کوششوں کو پارٹی کے تمام کارکنان اور قائدین خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں،شیرافضل مروت ایڈووکیٹ کو اپنے تاثرات کا اظہار ٹویٹر کی بجائے پارٹی پلیٹ فارمز پر کرنا چاہئے تھا، فی الوقت ان کے خیالات کو ان کے نجی تاثرات ہی کے زُمرے میں رکھ کر ان کا جائزہ لیا جائے گا،تحریک انصاف کو کچلنے کے ریاستی عزائم کے پیشِ نظر داخلی منافرت و تقسیم کی سازش کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا، تحریک انصاف کی اجتماعی فیصلہ سازی کے عمل میں رخنہ اندازی یا تحریکی وحدت کو نقصان پہنچانے کی ہر مذموم دانستہ یا نادانستہ کوشش کو مکمل اتحاد، یگانگت اور اعتمادِ باہمی سے ناکام بنائیں گے، شیر افضل مروت ایڈووکیٹ اپنے خیالات و تاثرات کی پڑتال کیلئے تحریکی نظم سے معاونت کریں،قانونی ٹیم اسی محنت، لگن، جذبے اور ہمّت سے اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھے جو ان نامساعد حالات میں ان کی پہچان اور طُرّۂ امتیاز بن چکا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی اور کہا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی اور خان کی قانونی ٹیم میں غدار ،خان لیگل ٹیم اور پی ٹی آئی کور کمیٹی کے غداروں نے میری جان خطرے میں ڈال دی ہے۔ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی میں غداروں کی موجودگی کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کور کمیٹی کے اجلاسوں کی ریکارڈنگ مخالفین اور حتیٰ کہ میڈیا والوں تک بھی پہنچائی ہے۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ لیگل ٹیم کی زوم میٹنگز کی تفصیلات ،ریکارڈنگ باہر کے لوگوں کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں، جس نے میری زندگی اور آزادی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ میں پہلی بار زیر زمین گیا ہوں، اور مجھے کسی بھی وقت نامزد ٹیم کے ہاتھوں پکڑا جا سکتا ہے۔ میں نے پارٹی میں موجود لوگوں کو بتایا اور میرا پیچھا کرنے والوں کے بارے میں صوتی پیغامات ریکارڈ کئے۔ کل، میں روپوش ہو گیا تھا، اور مجھے یقین نہیں ہے کہ میں محفوظ ہوں، لیکن میں نے اپنے پیچھا کرنے والوں کی شناخت کر لی ہے اور ان کے نام وکلاء کے ایک گروپ کو بھیجے ہیں تاکہ میں لاپتہ ہو جاؤں تو قانونی کارروائی کی جا سکے۔ پارٹی کے انتہائی قریبی حلقوں میں لوگوں پر بھروسہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر پارٹی کے متعلقہ افراد نے مجھے اجازت دی اور اگر میں شکار سے بچ گیا تو بہت جلد غداروں کے نام بتاؤں گا

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • وکلا کو ہراساں کرنا بند،مقدمے واپس لئے جائیں،پاکستان بار کونسل

    وکلا کو ہراساں کرنا بند،مقدمے واپس لئے جائیں،پاکستان بار کونسل

    پاکستان بار کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں وکلاء کے خلاف درج مقدمات واپس لئے جائیں، نہیں تو مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا

    پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے وائس چیئرمین ہارون الرشید اور حسن رضا پاشا نے ملک بھر میں وکلاء کی رہائش گاہوں اور دفاتر پر پولیس کے بلاجواز چھاپوں اور ایف آئی آر کے اندراج کی شدید مذمت کی ہے۔ اور کہا ہےکہ پاکستان بار کونسل وکلاء اور انکے اہلخانہ کے خلاف پولیس کی غیرقانونی کاروائیوں پر خاموش نہیں رہ سکتی

    پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے وائس چیئرمین ہارون الرشید اور حسن رضا پاشا نے وکلاء کی رہائش گاہوں پر چھاپوں اور ان کی گرفتاریوں پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کو کسی سیاسی جماعت سے منسلک نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ وہ قانون کے مطابق صرف اپنے متعلقہ مؤکلوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ . انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر چھاپے بند کریں اور وکلاء کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کریں اور ان پر دباؤ ڈالنے سے گریز کریں، قانون نافذ کرنے والے ادارے وکلاء کے اہل خانہ کو کسی بھی طرح سے ہراساں نہ کریں، ایسا نہ کرنے کی صورت میں پاکستان بار کونسل مستقبل کا لائحہ عمل طے کرے گی،

    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی

    دوسری جانب لاہور کے وکلاء نے پولیس کے چھاپوں کے خلاف سیشن کورٹ میں سائلین اور پولیس کا داخلہ بند کردیا عدالتوں میں سیکٹروں کیسز بغیر کاروائی ملتوی کردیے گئے،‏لاہور کی سیشن کورٹ میں لاہوربار کی کابینہ اور وکلاء نے تالہ بندی کردی ہے ‏وکلاء کا کہنا ہے کہ پولیس کیجانب سے وکلاء کے گھروں پرچھاپے مارے جا رہے ہیں،‏چادراورچار دیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے پولیس کیجانب سے کئی وکلا کے گھر چھاپہ مارا گیا ہے،صدر لاہوربار انتظار حیسن ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وکلاء کے گھروں پر چھاپوں توڑ پھوڑ کو فوری طور پر بند کیا جائے