Baaghi TV

Tag: عدالت

  • پولیس حراست سے فرار ہونیوالا عمران خان کا سیکرٹری دوبارہ گرفتار

    پولیس حراست سے فرار ہونیوالا عمران خان کا سیکرٹری دوبارہ گرفتار

    لاہور ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کے پولٹیکل سیکرٹری سجاد علی خان کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت میں ایس ایس پی ڈاکٹر انوش سمیت دیگر افسران عدالت پیش ہوئے،پولیس نے سجاد علی خان کو عدالت پیش کردیا ، پولیس نے عدالت میں کہا کہ سجاد علی خان کینٹ کچہری سے پولیس حراست سے فرار ہوا،گزشتہ روز ملزم کو زمان پارک ناکے پر گرفتار کیا گیا،جسٹس محمد وحید خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے علم میں آنے کے بعد آپ نے گرفتاری ڈال دی ،عدالت نے پولیس سے استفسارکیا کہ آپ ایسی غیر قانونی چیزیں کیوں کرتے ہو ؟

    عدالت نے کہا کہ ملزم کو آگے آنے دو ،ملزم آگے آیا تو عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ پولیس کی حراست میں بھاگے تھے،ملزم سجاد نے جواب دیا کہ جی میں پولیس حراست سے فرار ہوا تھا،ملزم کے وکیل اشتیاق اے خان نے کہا کہ میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں،عدالت نے کہا کہ آپ نے اب عرض کیا کرنا ہے چھوڑیں اور ریمانڈ میں جا کر پیش ہوں،عدالت نے درخواست نمٹا دی ،جسٹس محمد وحید خان نے شہزاد خان کی درخواست پر سماعت کی

    صدر مملکت نے ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس مانگ لئے

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

  • برطانیہ میں دس سالہ بچی قتل کیس،ملزمان کے رشتے داروں کو ہراساں نہ کرنیکا حکم

    برطانیہ میں دس سالہ بچی قتل کیس،ملزمان کے رشتے داروں کو ہراساں نہ کرنیکا حکم

    لاہور ہائیکورٹ،راولپنڈی بینچ ،برطانیہ میں پاکستانی نژاد دس سالہ بچی سارہ شریف قتل کیس کا معاملہ،مقتولہ کے فرار والد ملک عرفان کے والد محمد شریف، بھائیوں ملک عمران اور ملک ظریف کی جہلم پولیس کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    کیس کی سماعت ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس صداقت علی خان نے کی ،درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ حق نواز کیانی عدالت میں پیش ہوئے،درخواست گزار نے کہا کہ ملک عرفان کی تلاش کیلئے جہلم پولیس نے ہمیں حراست میں رکھا، جہلم پولیس ملک عرفان کے بارے بار بار پوچھ گچھ کیلئے تنگ کررہی ہے، ملک عرفان برطانیہ سے پاکستان آیا ہے لیکن انکے بارے کوئی معلومات نہیں،

    جہلم پولیس نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ سارہ شریف قتل کیس کے بارے انٹرپول کی درخواست پر فیملی کے ارکان سے پوچھ گچھ کررہے ہیں، ملزمان کی تلاش کیلئے برطانوی پولیس ایف آئی اے اور پاکستان حکام سے رابطے میں ہیںعدالت نے دلائل سننے کے بعد جہلم پولیس کو ملزم کے والد اور بھائیوں کی گرفتاری سے روک دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کے خاندان کے افراد سے پوچھ گچھ کیلئے انہیں حراست میں نہ رکھا جائے،عدالت نے ملزم ملک عرفان کے دونوں بھائیوں کی رہائی کے بعد درخواست نمٹا دی۔

    واضح رہے کہ برطانیہ میں دس سالہ بچی کو قتل کر کے والد، سوتیلی ماں اور بہن بھائی پاکستان میں آ کر روپوش ہو گئے ہیں ،برطانیہ میں دس سالہ بچی سارہ شریف کو قتل کیا گیا تھا، سرے پولیس واقعہ کی تحقیقات کر رہی تھی، دوران تحقیقات پولیس اس نتیجے پر پہنچی کہ بچی کو اسکے والد، سوتیلی ماں اور چچا نے قتل کیا اور برطانیہ سے پاکستان فرار ہو گئے، پولیس حکام کے مطابق ملزمان میں 41 سالہ عرفان شریف، 29 سالہ بینش بتول اور 28 سالہ فیصل شہزاد ملک شامل ہیں، تینوں ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے تا ہم انکی تلاش جاری ہے،

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

  • بروقت الیکشن کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    بروقت الیکشن کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

    بروقت الیکشن کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی

    درخواست گزار نے وکلا شاہد کمال ، چوہدری امجد کے ذریعے آئینی سوالات اٹھائے، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ کیا مشترکہ مفادات کونسل کا 5 اگست 2023 کا اجلاس آئینی تھا؟ کیا پنجاب ، کے پی کے نگران وزرائے اعلٰی اجلاس میں شرکت کے مجاز تھے؟ کیا اپیلٹ فورم کی موجودگی میں اجلاس منعقد کیا جاسکتا تھا؟ کیا نگران حکومت 90 دن سے زیادہ برقرار رہ سکتی ہے؟ کیا الیکشن کمیشن 90 دن میں الیکشن کا آئینی حکم نظر انداز کرسکتا ہے؟

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ کیا آئینی حکم نظر انداز کرکے حلقہ بندیاں شروع کی جا سکتی ہیں؟ کیا پارلیمنٹ آئینی ترمیم کے بغیر صدر کا آئینی اختیار کم کرسکتی ہے؟

    قبل ازیں ایک اور درخواست بھی اسی طرز کی سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی،سپریم کورٹ میں عام انتخابات 90 روز میں کرانے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی،درخواست سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کے خلاف دائر کی، سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ وہ 90 روز میں عام انتخابات کرائے، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے نگران وزرائے اعلیٰ کی مشترکہ مفادات کونسل میٹنگ میں شرکت کو غیر قانونی قرار دیا جائے، سپریم کورٹ حکم دے کہ الیکشن کمیشن ہر صورت 90 روز کے اندر انتخابات کرائے، قومی اسمبلی کی تحلیل سے ایک ہفتہ قبل مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر نئی مردم شماری کے اجراء کی منظوری لینے کا مقصد انتخابات میں تاخیر کرنا ہے، درخواست میں وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن، مشترکہ مفادات کونسل اور چاروں صوبوں کو فریق بنایا گیا ہے

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • نوے دن میں انتخابات کروائیں،کوئی شکایت نہیں ہوگی،علی ظفر

    نوے دن میں انتخابات کروائیں،کوئی شکایت نہیں ہوگی،علی ظفر

    الیکشن کمیشن کی جانب سے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے،

    تحریک انصاف کے وفد نے الیکشن کمیشن میں حکام سے ملاقات کی اور تحریک انصاف نے نوے دن میں انتخابات کرانے کا مطالبہ کردیا،آئین کے آرٹیکل 224کے تحت نوے روز میں انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی آئینی زمہ داری ہے،پی ٹی آئی وفد کی جانب سے نوے روز میں انتخابات بارے قوانین اور عدالتی فیصلوں کا حوالہ بھی دئیے گئے،پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ آئین مقدم ہے ایکٹ آئین کے ماتحت ہوتا ہے،ملاقات میں پی ٹی آئی وفد نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی قیادت ویڈیولنک پر شریک ہونا چاہتی تھی مگر اجازت نہیں دیشاہ محمود قریشی،عمرایوب،سینیٹر شبلی فراز،عون بپی اور اعجاز چودھری کو ویڈلنک پر شریک کرنا چاہیئے تھا،وقت کی کمی کے باعث ویڈیولنک سہولت میسر نہیں تھی،

    پی ٹی آئی وفد نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کی ہے، سینیٹر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ خوش آئند ہے کہ الیکشن کمیشن نے مشاورت کے لئے بلایا،تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے سامنے تین نکات رکھے،الیکشن کمیشن کو بتایا کہ نوے دن میں انتخابات ہونے ہیں،آئین اور سپریم کورٹ کے دو فیصلے نوے دن انتخابات کا کہتا ہے،نوے دن میں انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،ہم نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ آپ آئین کی پاسداری کریں،پی ٹی آئی ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے،90دن میں شفاف الیکشن کرائیں تو ہم سے کوئی شکایت نہیں ملے گی،ہم آئین کے مطابق پورا تعاون کریں گے.

    واضح رہے کہ پاکستان میں اس وقت نگران حکومت ہے، الیکشن کمیشن نے آئین کے مطابق نوے دن میں الیکشن کروانے ہین تا ہم الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا اعلان کر دیا ہے جس کی وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہو گی، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ الیکشن نوے روز میں ہی ہونے چاہئے، اس ضمن میں شاہ محمود قریشی نے نگران وزیراعظم کو خط بھی لکھا ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کے لئے بلایا ہے تو وہیں الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو مشاورت کے لئے بلا لیا ہے، الیکشن کب ہوں گے ، ابھی تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • بچوں سے جنسی جرائم  پر پرنسپل کو 15 برس قید کی سزا

    بچوں سے جنسی جرائم پر پرنسپل کو 15 برس قید کی سزا

    آسٹریلیا: الٹرا آرتھوڈوکس یہودی اسکول کے سابق پرنسپل کو دو طالب علموں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں 15 سال قید کی سزا سنائی ہے-

    باغی ٹی وی : اس سزا سے بہنوں ڈیسی ایرلِچ اور ایلی سیپر کی طرف سے انصاف کے لیے کئی دہائیوں سے جاری لڑائی کا خاتمہ ہو گیا ہے سزا سنائے جانے پرلیفر رو پڑی، ملکا لیفر کو اپریل میں 18 جنسی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا تھا اس وقت ان کی عمر 37 اور 41 کے درمیان تھی جس میں 16 یا 17 سال کی عمر کے بچے کی عصمت دری اور غیر اخلاقی حملے شامل تھے اسے نو دیگر الزامات سے بری کر دیا گیا، جن میں بہن بھائیوں کی بڑی بہن نکول میئر کے خلاف پانچ الزامات بھی شامل ہیں۔

    تینوں بہنیں جمعرات کو وکٹورین کاؤنٹی کی عدالت میں تھیں جب جج مارک گیمبل نے ان کی سزا سنائی اور لیفر کو کم از کم 15سال قید کی سزا سنائی لیفر ذاتی طور پر وہاں نہیں تھی، اور اس کے بجائے میلبورن کیحفاظتی جیل ڈیم فلس فراسٹ سینٹر سے ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی دیکھی۔

    بھارت میں زیر تعمیر ریلوے پل گرنے سے 17 افراد ہلاک متعدد زخمی

    سابق پرنسپل، 56 سالہ لیفر نے تمام الزامات کے لیے قصوروار نہ ہونے کی استدعا کی تھی لیفر، جس کے پاس اسرائیلی شہریت بھی ہے، پر 2008 میں یہ الزامات سامنے آئے تھے، اسے 2021 میں اسرائیل سے آسٹریلیا کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

    تین بہنوں نے لیفر پر الزام لگایا ہے کہ اس نے انہیں میلبورن کے اسکول ، بند عملے کے دفاتر میں، اسکول کے کیمپوں میں اور لیفر کے گھر پر 2003 اور 2007 کے درمیان، جب وہ نوعمر تھے، جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھاعدالت نے لیفر کو ان میں سے دو کے خلاف جرائم کا مجرم پایا۔

    یوکرین کے ماسکو پرڈرون حملے،زیر تعمیر عمارت نشانہ

    شکایت کنندگان میں سے ایک نے فیصلےکے بعد عدالت کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہماری توقعات بہت کم تھیں کیونکہ خواتین مجرموں کی بہت کم اطلاع دی جاتی ہے اور ہمارے پاس اس کے ثبوت کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور ہم صرف اس بات پر بہت شکر گزار ہیں کہ ہم نے اس عین لمحے میں درست محسوس کیا-

    بینک میں خواتین کے باتھ روم میں خفیہ کیمرے کا انکشاف

  • سانحہ نو مئی،عمران خان کو چھ مقدمات میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت

    سانحہ نو مئی،عمران خان کو چھ مقدمات میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت

    انسداد دہشت گردی عدالت ، سانحہ نو مئی کے چھے مقدمات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے

    تفتیشی افسران کو چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کو چھ مقدمات میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت مل گئی،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے تفتیشی افسران کی درخواست منظور کر لی ،چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کو شادمان تھانہ جلانے ، کلمہ چوک کینٹینر جلانے ، مسلم لیگ ن ہاوس حملہ کیس میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت دے دی گئی،چئیرمین تحریک انصاف کوعسکری ٹاور حملہ کیس اور پولیس تشدد کیس میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت مل گئی، پولیس کو مقدمہ1271/23 گلبرگ ، 366/23 ماڈل ٹاؤن ، 768/23 شادمان ، 1078/23 نصیر آباد ، 1280/23 گلبرگ اور 367/23 تھانہ ماڈل ٹاون میں شامل تفتیش کرنے کی اجازت مل گئی

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

  • عمران خان جیل میں اہلیہ سے علیحدگی میں بات نہیں کر سکا، وکیل

    عمران خان جیل میں اہلیہ سے علیحدگی میں بات نہیں کر سکا، وکیل

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی اور ضمانت کے خلاف اپیلوں پر سماعت چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نےکی،چیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجہ، لطیف کھوسہ، بابر اعوان، بیرسٹر علی ظفر، بیرسٹر گوہر، شعیب شاہین سمیت دو درجن سے زائد وکلا عدالت پیش ہوئے، الیکشن کمیشن کی جانب سے امجد پرویز و دیگر عدالت پیش ہوئے،،دوران سماعت چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر ہمیں موصول ہوا ہے، سپریم کورٹ نے آج سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کا کہا ہے،عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ سب سے پہلے عدالت نے دائرہ اختیار کو طے کرنا ہے، اس کیس میں سیکرٹری الیکشن کمیشن ڈسڑکٹ الیکشن کمشنر کو اتھارٹی دے رہا ہے، سیکرٹری الیکشن کمیشن آگے اختیار نہیں دے سکتا۔

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ صدر پاکستان نے 14 اگست کو قیدیوں کی 6 ماہ سزا معاف کی،عمران خان کی 6 ماہ کی سزا معاف کی جا چکی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کا حکم مل گیا ہے ہم آج فیصلہ دینے کے پابند ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ عمران خان کی سزا معطل کر کے فوری رہا کیا جائے

    سردار لطیف کھوسہ نے خواجہ حارث کا بیان حلفی عدالت میں جمع کروا دیا، لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ دائرہ کار کا معاملہ تا حال طے نہیں ہوا۔الیکشن کمیشن شکایت کر سکتی ہے ،یہاں ایک پرائیویٹ سیکریٹری نے شکایت کی ،الیکشن ایکٹ کے مطابق سیکرٹری کمشین کی تعریف پر پورا نہیں اترتا،عمران خان کی سزا معطل کر کے فوری رہا کیا جائے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کھوسہ صاحب ماتحت عدلیہ سے غلطی ہوئی ہے تو اس کو اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ مائی لارڈ بس غلطی؟ سیشن کورٹ ڈائرکٹ کمپلینٹ نہیں سن سکتی،الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کو شکایت دائر کرنے کا اختیار دیتا ہے۔چیئرمین الیکشن کمیشن اور چار ممبران کمیشن ہی شکایت دائر کرنے کا مجاز ہے۔میرے موکل کے خلاف شکایت سیکرٹری الیکشن کمیشن نے دائر کی۔سیکرٹری کو یہ اختیار نہیں۔ آپ کی معزز عدالت نے دو بار کیس ٹرائل کورٹ کو واپس بھیجا مگر ٹرائل کورٹ نے آرڈر کو اگنور کر دیا۔

    لطیف کھوسہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹک جیل میں عمران خان کے سیل کے باہر ایک پولیس والا بیٹھا تھا، میں نے پوچھا تو خان صاحب نے کہا میں تو اپنی اہلیہ سے بھی علیحدگی میں بات نہیں کر سکا، یہ سر پر بیٹھا رہا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو آٹھ سوالات پر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دیا،ٹرائل کورٹ نے اُن سوالات کا جواب دیے بغیر اپنے پہلے آرڈر کو ہی درست قرار دیا، سپریم کورٹ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو بھی نہیں مانا،

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں پتہ ہے ہم نے کیا کرنا ہے؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ ہمیں سُن تو لیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا کمپلینٹ دائر کرنے کا اجازت نامہ قانون کے مطابق نہیں؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی بالکل، وہ اجازت نامہ درست نہیں ہے، ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں بہت غلطیاں ہیں،میں اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈرز کا حوالہ دیتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو 8 سوالات پر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دیا،ٹرائل کورٹ نے اُن سوالات کا جواب دیئے بغیر اپنے پہلے فیصلے کو ہی درست قرار دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل منظوری کا فیصلہ 4 اگست کی شام ملا، 5 اگست کو خواجہ حارث کے منشی کو اغواء کیا گیا، خواجہ حارث کا بیانِ حلفی موجود ہے،خواجہ حارث نے وجہ لکھی کہ کیوں وہ ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہیں ہو سکے،ہم سیشن کورٹ کی جانب سے ٹرائل کو تو چیلنج ہی نہیں کر رہے، ٹرائل سیشن کورٹ ہی کرے گی لیکن براہ راست نہیں کر سکتی، اس کیس کو سیشن کورٹ میں کیوں لیکر جایا گیا ؟ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ اس نوعیت کے کیس مجسٹریٹ کے پاس جائیں گے پہلے

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپکو میں بتاتا ہوں کہ کس طرح ہمایوں دلاور کا کیس سننا نہیں بنتا تھا آپ کتاب کھولیں اور سیشن 190(2) اور 193 پڑھیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جی ٹھیک، لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں آپکو سپریم کورٹ کی ججمنٹ دیتا ہوں ،2022 SCMR 356،

    کمرہ عدالت میں رش کے باعث اے سی کام کرنا چھوڑ گئے،گرمی کے باعث لطیف کھوسہ نے معاون وکیل کو قانونی نکات پڑھنے کیلئے بلا لیا،چیف جسٹس عامر فاروق نے اے سی کے وینٹ کے سامنے سے وکلا کو ہٹنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اے سی کے وینٹ کے سامنے سے تو جگہ چھوڑ دیں، کچھ تو ہوا آئے گی، لطیف کھوسہ صاحب کو پانی پلائیں، لطیف کھوسہ کی معاون خاتون وکیل نے قانونی نکات پڑھنا شروع کر دیئے

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالت کے مطابق گواہان کا تعلق انکم ٹیکس معاملات سے ہے، عدالت نے کہا کہ یہ عدالت انکم ٹیکس کا معاملہ نہیں دیکھ رہی، عدالت نے کہا وکیل دفاع گواہان کو کیس سے متعلقہ ثابت کرنے میں ناکام رہے،اس بنیاد پر ٹرائل عدالت نے گواہان کی فہرست کو مسترد کیا، جج صاحب نے کہا گواہان آج عدالت میں بھی موجود نہیں،گواہ اس روز کراچی میں موجود تھے، عدالت نے پوچھا آپ کیوں پیش کرنا چاہتے ہیں گواہان کو؟میرے گواہ ہیں، میں اپنے خرچے پر پیش کر رہا ہوں، آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے؟

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق سے شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ میں نے پچاس سال میں ایسا کام ہوتے نہیں دیکھا جو ٹرائل جج نے کیا ہے،حق دفاع کی ہماری درخواست آج بھی آپ کے پاس زیر التوا ہے۔ معذرت کے ساتھ آپ نے بھی ٹرائل کورٹ کو حتمی فیصلہ دینے سے نہیں روکا ،چیف صاحب حیران کن بات یہ ہے کہ ہمایوں دلاور نے 30 منٹ میں 30 صفحات کا فیصلہ کیا، 30 منٹ میں 30 صفحات سن کر چیف جسٹس عامر فاروق مسکرا دئیے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جج ہمایوں نے اس وقت شارٹ آرڈر لکھوایا اور 12 بج کر 34 منٹ پر خان کو اٹھا لیا گیا خان نے مجھے کل بتایا کہ انہوں نے کہا میں آرہا ہوں وہ نہا رہے تھے واش روم کا دروازہ توڑا گیا،4 اگست کو آپ کا آرڈر آیا، آپ نے قابل سماعت کا معاملہ ریمانڈ بیک کیا، 5 تاریخ کو میں نے آپ کا آرڈر سپریم کورٹ چیلنج کردیا، خواجہ حارث کے کلرک کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی، خواجہ حارث نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام درخواست لکھی اور معاملہ بتایا،خواجہ صاحب 12 بج کر 15 منٹ پر ٹرائل کورٹ پہنچ گئے، جج صاحب نے کہا اب ضرورت نہیں، آپ آرڈر سنیں، 12 بج کر 30 منٹ پر جج صاحب نے شارٹ آرڈر سناتے ہوئے تین سال کی سزا سنا دی،12 بج کر 35 منٹ پر پتہ چلا لاہور پولیس گرفتار کرنے پہنچ گئی،جج ہمایوں دلاور نے اپنا جوڈیشل مائنڈ استعمال ہی نہیں کیا۔

    لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہوئے تو وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ لطیف کھوسہ میرے نکاح کے گواہ ہیں ،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو پھر اہم گواہ بن گئے ہیں اور یہ غیر متعلقہ بھی نہیں،جس پرعدالت میں قہقے گونج اٹھے

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے وقفے کے بعد دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو 5 اگست کو سزا سنائی گئی،8 اگست کو فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے حق دفاع ختم کرنے کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری کیے تھے،انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ ڈویژن بینچ ٹرائل کورٹ اور سپریم کورٹ کے درمیان سینڈوچ بن چکا ہے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ملزم 342 کے بیان میں کہتا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں گواہان پیش کرنا چاہتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ ملزم نے مانا کہ پراسیکیوشن نے اپنا کیس ثابت کردیا اب دفاع میں گواہ پیش کرنے چاہیئں، الیکشن کمیشن کے فارم بی پر تحریر کرنے کیلئے معلومات تو ملزم نے خود دینا ہوتی ہیں،اکاؤنٹینٹ، ٹیکس کنسلٹینیٹ نے خود سے تو معلومات پر نہیں کرنا ہوتیں، یہ مس ڈیکلیریشن کا کیس ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے خلیفہ راشد دوم حضرت عمر رضی الله عنه کا حوالہ دیا اور کہا کہ حضرت عمر فاروق نے سب پہلے فارم بی کا کنسیپٹ دیا تھا،حضرت عمر نے قرار دیا کہ ارباب اختیار کو اپنے اثاثے ظاہر کرنا لازمی ہیں،اپیل الیکشن ایکٹ کے سیکشن 190 کے تحت دائر کی گئی،یہ سیکشن صرف اپیل کا فورم بیان کر رہا ہے، ااس سیکشن کے تحت حتمی فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی، اپیل کی نوعیت، سماعت کے طریقہ کار سے متعلق الیکشن ایکٹ کے حصہ 7 میں پورا چیپٹر موجود ہے،

    وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی جیولری یا گاڑی تو ڈیکلیئر نہیں کی،چیئرمین پی ٹی آئی کی ریٹرن میں چار بکریاں مسلسل ظاہر کی جاتی رہی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت اس وقت سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کر رہی ہے، سزا معطلی کی درخواست پر عدالت میرٹس پر گہرائی میں نہیں جائے گی، یہ سوالات تو آئیں گے کہ ملزم کو حقِ دفاع ہی نہیں دیا گیا،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے گواہوں کو غیرمتعلقہ قرار دیا،گوشوارے تو اپنے کنسلٹنٹ کی مشاورت سے جمع کرائے جاتے ہیں نا،یہ تو کلائنٹ نے بتانا ہوتا ہے کہ اُس کے اثاثے کیا تھے،چیئرمین پی ٹی آئی کی فیملی کے پاس تین سال تک کوئی جیولری یا موٹرسائیکل تک نہیں تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو کوئی اپنے ریٹرنز فائل کرنے کا کہے تو میں تو خود نہیں کر سکتا، ان کے تین سوالات ہیں ایک مجسٹریٹ والا ہے ایک دورانیے والا ہے ایک اتھارٹی والا ہے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ان کا سوال یہ بھی ہے ان کو آخری دن سنا نہیں گیا ان کا حق دفاع بھی ختم ہوا، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ان کا یہ کہنا ہے اگرچہ اسٹے نہیں تھا اس کے باوجود نوٹس تو اس عدالت نے کر رکھا تھا، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بھی معاملہ زیر التوا تھا سنگل بنچ میں بھی ان کی پٹیشن زیر التوا تھی، اکاؤنٹنٹ اپنی طرف سے تو کچھ نہیں لکھتا کلائنٹ ہی بتاتا ہے، عدالت نے کہاکہ ہم اگرچہ لیگل کمیونٹی سے ہیں لیکن ٹیکس ریٹرن تو نہیں بھر سکتے، وکیل نے کہا کہ انہوں نے گوشواروں میں چار بکریاں ظاہر کیں لیکن باقی متعلقہ چیزیں ظاہر نہیں کیں، اپیل الیکشن ایکٹ کے سیکشن 190 کے تحت دائر کی گئی،یہ سیکشن صرف اپیل کا فورم بیان کر رہا ہےاس سیکشن کے تحت حتمی فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی، اپیل کی نوعیت، سماعت کے طریقہ کار سے متعلق الیکشن ایکٹ کے حصہ 7 میں پورا چیپٹر موجود ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ آپ کا اصل میں نقطہ کیا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ درخواست گزار ریاست کی قید میں ہے، سزا سنائے جانے کے بعد اب سٹیٹس تبدیل ہو گیا ہے، ریاست کی قید میں ہونے پر ریاست کو فریق بنانا ضروری ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تو ہم ضمانت کے معاملے پر چل رہے ہیں، اپیل پر بات نہیں کررہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اس بنیاد پر اپیل خارج کر دی جائے،کہہ رہا ہوں کہ ریاست کو نوٹس جاری کر دیا جائے، قانون کی متعلقہ دونوں شقیں کہتی ہیں کہ ریاست کو نوٹس جاری کیا جانا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر آپ کی بات لی جائے، حکومت کو نوٹس جاری کر دیئے جائیں تو حکومت آ کر کیا کرے گی؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ ملزم تو حکومت کی تحویل میں ہے نہ،یہ قانون کا تقاضا ہے، قانون آپ کے سامنے ہے، سادہ زبان ہے، ریاست کے پاس فیصلے کے دفاع کا حق موجود ہے،ریاست نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ فیصلے کا دفاع کرے گی یا نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ کو لگتا ہے کہ ریاست آ کر کہے گی کہ سزا غلط دی گئی؟ یہ مختصر سزا ہے اور یہ بغیر نوٹس بھی معطل ہو جاتی ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسا کوئی فیصلہ موجود نہیں ہے کہ بغیر نوٹس سزا معطل ہوئی ہو، ‏مختصر سزا پر سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے احکامات موجود ہیں، ایک کیس میں ملزم کو ٹرائل کے بعد ساڑھے 2 سال کی سزا سنائی گئی تھی،ملزم نے ہائیکورٹ میں شارٹ سینٹس کی بنیاد پر معطلی کی اپیل کی، ہائیکورٹ نے اس کی اپیل خارج کی، معاملہ سپریم کورٹ گیا،
    ‏سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے کہا کہ قابل ضمانت دفعات کے تحت مقدمات میں بھی سزا معطل نہیں ہوسکتی،3 سال کی سزا معطلی حق نہیں، عدالت کے استحقاق پر منحصر ہے،

    ‏اسلام آباد ہائیکورٹ ، توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل ،عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کل 11:30 پر دوبارہ سنیں گے،

    واضح رہے کہ عمران خان کو  توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • توشہ خانہ کیس، خواجہ حارث عمران خان کی قانونی ٹیم چھوڑ گئے

    توشہ خانہ کیس، خواجہ حارث عمران خان کی قانونی ٹیم چھوڑ گئے

    خواجہ حارث توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم سے الگ ہوگئے

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قانونی ٹیم میں ڈسپلن کے حوالے سے تحفظات کے بعد خواجہ حارث نے علیحدگی کا فیصلہ کیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق خواجہ حارث نے کیس کی تمام فائلیں چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کو بھجوا دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کیلئے خواجہ حارث پیش نہیں ہونگے،توشہ خانہ کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر سماعت درخواست میں بھی خواجہ حارث وکیل نہیں ہونگے،سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نمائندگی سردار لطیف کھوسہ اور دیگر کریں گے،

    دوسری جانب ہائیکورٹ، توشہ خانہ کیس،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث کے کیس سے الگ ہونے کا معاملہ، چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کے رکن بیرسٹر گوہر نے تردید کی اور کہا کہ خواجہ حارث کیس سے الگ نہیں ہوئے، ان کے معاونین آتے رہتے ہیں،خواجہ حارث کی مہارت اور قابلیت سے ہم استفادہ کرتے ہیں، خواجہ حارث کا پاوور آف اٹارنی سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ دونوں جگہ موجود ہے،

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو سزا ہو چکی ہے اور عمران خان اٹک جیل میں ہیں، توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وکیل خواجہ حارث تھے، سابق وزیراعظم نواز شریف کو جب سزا ہوئی تھی تب انکے وکیل بھی خواجہ حارث تھے، یوں خواجہ حارث نے کیس لڑتے ہوئے دو سابق وزیراعظم کو سزا سنوائی اور جیل بھجوایا، اب توشہ خانہ کیس میں عمران خان نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے سپریم کورٹ میں بھی ایک درخواست زیر سماعت ہے

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • وکیل قتل کیس،عمران خان کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع

    وکیل قتل کیس،عمران خان کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع

    سپریم کورٹ نے کوئٹہ میں وکیل قتل کیس چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتاری سے روکنے کے حکم میں توسیع کردی

    مدعی مقدمہ کے وکیل کی عدم موجودگی پر سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل موسم گرما کی تعطیلات کے بعد سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ پچھلی سماعت پر جو بدمزگی ہوئی اس پر عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا، آج شکر ہے پرسکون ماحول ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ کے حکم پر کیا آپ شامل تفتیش ہوئے؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے شامل تفتیش ہونا بھی نہیں ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ یہ آپ نے طے کرنا ہے کہ شامل تفتیش ہوں گے یا نہیں؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی پر دہشتگردی کی دفعات نہیں لگتیں، جے آئی ٹی میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے افسران شامل ہیں وہاں پیش نہیں ہوں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں اور بھی سوالات ہم نے سوچ رکھے ہیں،شکایت کنندہ کی غیر موجودگی میں کیس نہیں سن سکتے، لطیف کھوسہ نے استدعا کی کہ کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،عدالت نے کہا کہ کیس کو عدالتی چھٹیوں کے بعد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،

    پی ٹی آئی وکیل علی اعجاز بٹر کا کہنا ہے کہ کوئٹہ وکیل قتل کیس میں دوسری طرف مدعی کے وکیل آج بیماری کی وجہ سے پیش نہیں ہوۓ اس وجہ سے کیس ملتوی ہو گیا لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے عبوری حکم کو برقرار رکھا ہے،اس کیس میں خان صاحب کو گرفتار نہیں کیا جائے گا،

    بلوچستان میں وکیل کے قتل کا معاملہ ،چیئرمین پی ٹی آئی نے قتل کے مقدمہ میں نامزدگی سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھی ہے،بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست وکیل لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی ،درخواست میں ایف آئی ار کو کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو سیاسی مقاصد کیلئے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے، درج کیا گیا مقدمہ آئین کے آرٹیکل 9,10 اور 14 کی خلاف ورزی ہے،ٹھوس شواہد کے بغیر سابق وزیراعظم کو مقدمہ میں طلب بھی نہیں کیا جا سکتا، انسدادِ دہشتگردی عدالت کی جانب سے جاری کئے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری قانون کے خلاف ہیں ،بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقات میں مداخلت نہ کرنے کا کہتے ہوئے درخواست خارج کردی تھی کوئٹہ کے شہید جمیل کاکڑ پولیس اسٹیشن میں چیئرمین تحریک انصاف کو قتل کے مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا

    واضح رہے کہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایڈوکیٹ عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا جس پر عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان پر قتل کا الزام عائد کیا تھا، بعد ازاں قتل کا مقدمہ بھی عمران خان کے خلاف درج کیا گیا تھا،وکیل عبدالرزاق نے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے حوالہ سے درخواست دے رکھی تھی،

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • نئی حلقہ بندیوں کیخلاف درخواست،فریقین سے جواب طلب

    نئی حلقہ بندیوں کیخلاف درخواست،فریقین سے جواب طلب

    لاہور ہائیکورٹ: الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں کے نوٹیفکیشن کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کرلیا ،عدالت نے سماعت 6 ستمبر تک ملتوی کردی ،عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی معاونت کے لیے نوٹس جاری کردیا ،عدالت نے سرکاری وکیل کو عام انتخابات کی تاریخ کی بابت ہدایات لیکر پیش ہونے کی ہدایت کردی ،وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ چار ماہ کے اندر حلقہ بندیاں ہونا ناممکن ہے، الیکشن کروانے کی آڑ میں تیس ملین لوگوں کو الیکشن سے نکال نہ دیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق صدر پاکستان نوے روز میں الیکشن کرانے کی تاریخ دینے کا پابند ہے ،وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں ضروری ہیں یہی معاملہ سپریم کورٹ میں چلا گیا ہے ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے شہری مقسط سلیم کی درخواست پر سماعت کی ،شہری نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا گیا ہے ،درخواست میں عام انتخابات کی تاریخ کے لیے بھی استدعا کی گی

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا،موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے غیرقانونی اقدامات کرتے ہوئے مقررہ مدت میں الیکشن نہیں کرائے، نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا، عدالت حلقہ بندیوں سے متعلق نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے اور پٹیشن کے حتمی فیصلے تک نئی حلقہ بندیوں کیخلاف حکم امتناعی جاری کرے۔

    الیکشن کمیشن یونین کونسلز کی تعداد کے مطابق حلقہ بندی کا پابند ہے، تحریری فیصلہ

     غیر حاضری کی صورت میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی نشان کے حصول کے لئے پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے 

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے