Baaghi TV

Tag: عدالت

  • سائفر،درخواست پر اعتراضات دور، مقرر کرنے کی ہدایت

    سائفر،درخواست پر اعتراضات دور، مقرر کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر انکوائری کالعدم قرار دینے کی درخواست پر اعتراضات دور کر دیئے گئے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر اعتراضات دور کردیے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے رجسٹرار آفس کو درخواست سماعت کیلیے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی،چیئرمین پی ٹی آئی نے ایف آئی اے انکوائری کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی تھی چیئرمین پی ٹی آئی نے ایف آئی اے نوٹسز بھی کالعدم قرار دینے کی استدعا کر رکھی ہے،عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا ہے،

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر انکوائری کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ ہماری درخواست پر 2 اعتراضات عائد کئے گئے ہیں ،مرکزی اعتراض ہے کہ اسی نوعیت کی ایک درخواست پہلے سے دائر ہے،ہماری وہ درخواست بالکل الگ نوعیت کی تھی، اعتراض نہیں بنتا ایف آئی اے نے طلب کیا تو چیئرمین پی ٹی آئی پیش ہو گئے ہم نے تو نیک نیتی کیلئے کہا تھا کہ بھاگ نہیں رہے پیش ہوں گے، سائفر کا معاملہ اٹھایا ہی نہیں جا سکتا ، وزیراعظم کو استثنیٰ کو حاصل ہوتا ہے، وزیراعظم اور کابینہ کے فیصلوں کو آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ ہوتا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ تو کیا اب آپ ایف آئی اے کی انکوائری کو چیلنج کررہے ہیں؟لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی بالکل، چیئرمین پی ٹی آئی جس دن ایف آئی اے میں پیش ہوئے اسی دن نیا نوٹس بھیجا گیا، اس سے زیادہ بدنیتی کیا ہو سکتی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی سے 3 گھنٹے تفتیش کی گئی، اسی دن نیا نوٹس بھیج دیاگیا،ایسی کون سی بات رہ گئی تھی جو بعد میں یاد آئی اور دوبارہ نوٹس کردیا ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فارق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تو ہم آپ کی درخواست کو اعتراضات کے ساتھ سن رہے ہیں،میں ریکارڈ منگوا کر دیکھ لیتا ہوں پھراعتراضات دور کر دیتا ہوں،وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہماری پہلی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری کی تھی،اس درخواست پر ہمیں اس عدالت سے ریلیف بھی نہیں ملا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے دلائل سننے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر اعتراضات دور کرنے کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو اب سنا دیا ہے،

    واضح رہے کہ ایف آئی اے نے سائفر انکوائری میں چیئرمین پی ٹی آئی کو آج طلب کررکھا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر انکوائری کالعدم قرار دینے کی استدعا کررکھی ہے

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    واضح ریے کہ عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان سائفر کے حوالہ سے عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں، اعظم خان نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے، اعظم خان اور عمران خان کی ایک آڈیو بھی سائفر کے حوالہ سے لیک ہوئی تھی جس کے بعد ایف آئی اے نے عمران خان کو طلب کیا تھا تا ہم عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی اور تحقیقات رکوانے کی کوشش کی، گزشتہ سماعت پر عدالت نے تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا، جس کے بعد ایف آئی اے نے دوبارہ عمران خان کو طلب کر رکھا ہے

  • اسپیکر قومی اسمبلی نے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا جو بدنیتی پر مبنی تھا،عمران خان

    اسپیکر قومی اسمبلی نے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا جو بدنیتی پر مبنی تھا،عمران خان

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت ہوئی،

    ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے کیس کی سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان مقررہ وقت 9 بجے تک عدالت پیش نہیں ہوئے ،معاون وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے نیب کورٹ میں پیش ہونا ہے کچھ وقت دیا جائے ،عدالت نے سماعت میں ساڑھے 12 بجے تک کا وقفہ کر دیا

    عمران خان عدالت میں پیش ہوئے، معزز جج نے چیئرمین پی ٹی آئی کو روسٹرم پر بلا لیا ،چئرمین پی ٹی آئی نے اپنا 342 کا بیان ریکارڈ کروانا شروع کردیا ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ فردجرم میرے یا میرے کونسل کی موجودگی میں نہیں عائد کی گئی ۔جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں سوالات سنا رہا ہوں، جوابات دینا چاہیں تو دیں،عدالت سوالات آپ کو پڑھ کر سنائےگی، باقی اپ کی مرضی، کیا آپ نے شکایت کنندہ کے الزامات پڑھے؟ چیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ میں نے شکایت کنندہ کے بیانات نہیں سنے کیونکہ میری موجودگی میں ریکارڈ نہیں ہوئے، میری موجودگی میں فردجرم عائد نہیں کیا گیا،مجھے فردجرم پڑھ کر نہیں سنایا گیا،میں نے کسی کو نمائندہ مقرر کیا ہی نہیں کیس میں، سیشن عدالت نے خود ہی میرا نمائندہ مقرر کردیا، سیشن عدالت نے میرا نمائندہ مقرر کرکے گواہان کے بیانات ریکارڈ کروائے، میں نے نمائندہ مقر کرنے کی کوئی درخواست عدالت جمع نہیں کروائی، میرے وکلاء نے سیشن عدالت کی جانب سے نمائندہ مقرر کرنے کی مخالفت بھی کی، توشہ خانہ کیس میں ملزم صرف ایک ہے،سیشن عدالت خود سے میرا نمائندہ مقرر نہیں کرسکتی،

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان عدالت کی جانب سے مہیا کیے گئے سوالنامے کے جوابات عدالت میں تحریر کروا رہے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ مجھے گواہان کے بیانات قلمبند کرتے وقت ہر ماعت پر استثنا دیا گیا، سیشن عدالت کے فیصلے کے مطابق میرے مقرر نمائندہ کا موقف ٹھیک طرح نہیں لکھا گیا، میری غیر موجودگی میں گواہان کا بیان ریکارڈ کرنے کا قانون اجازت نہیں دیتا،میری غیر موجودگی میں قلمبند کیا گیا گواہان کا بیان میرے سامنے نہیں پڑھا جاسکتا،عاشورہ کی چھٹیوں کے دوران گواہان کے بیانات مجھے مہیا کیے گئے،17 جولائی کو مجھے گواہان کے بیانات کی کاپی فراہم کی گئی،31 جولائی کو مکمل دن میں عدالت رہا اور گواہان کے بیانات پڑھے،الیکشن کمیشن نے شکایت دائر کرنے کے لیے کسی کو نامزد نہیں کیا،الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر شکایت 120 دنوں کے بعد دائر کی گئی،میں نے 2018-17 کے اپنے اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع کروائے تھے،میں نے 2018-19 کے اپنے اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع کروائے تھے،میں نے 2019-20 کے اپنے اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع کروائے تھے، میں نے 2020-21 کے اپنے اثاثہ جات الیکشن کمیشن میں جمع کروائے تھے،اسپیکر قومی اسمبلی نے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا جو بدنیتی پر مبنی تھا، اسپیکر قومی اسمبلی کے بھیجے گئے ریفرنس میں قانون کو غلط طریقہ کار سے سمجھا گیا تھا،مجھ پر ریفرنس میں 2017-18 اور 2018-19 کے اثاثہ جات کا زکر کیا گیا،الیکشن کمیشن نے اگلے سالوں کے بھی اثاثہ جات تک رسائی حاصل کی جو پی ڈی ایم کی بدنیتی ظاہر کرتی ،

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے عدالت میں بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں درج تحائف کے حوالے سے دستاویزات کا کبھی مجھ سے پوچھا ہی نہیں گیا،کیبینٹ ڈویژن کی جانب سے کوئی گواہ شکائت کنندہ عدالت میں نہیں لایا،دستاویزات 160 صفحات پر مشتمل ہیں لیکن شکائت کنندہ اس حوالے سے کوئی گواہ سامنے نہیں لایا،شکایت کنندہ نہ کوئی ایسا گواہ سامنے لایا جس کے سامنے تحائف کے حوالے سے دستاویزات تشکیل دیے گئے ہوں،تحائف کے حوالے سے دستاویزات کو بطور ثبوت عدالت میں شامل نہیں کیا جاسکتا،جنوری 2019 میں کوئی توشہ خانہ کاچالان میں نے جمع نہیں کروایا،22 جنوری2019 سے 30 جون2019 کے دستاویزات شکائت کنندہ نے جمع نہیں کروائے،دستاویزات سے 30 ملین روپے کا ڈیپازٹ ظاہر ہوتا جو شکائت کنندہ نے بطور ثبوت پیش نہیں کیا، الیکشن کمیشن نے خود ہی بینک اکاؤنٹ کے دستاویزات کو اخذ کرلیا اور مجھ سے تصدیق بھی نہیں کی،2018-19 میں 58 ملین روپے کی وصول رقم بینک میں جمع نہ کرنے کی بات الیکشن کمیشن نے خود سے اخذ کرلی،تحائف بیچنے کے بعد میرے پاس وصول رقم صرف 28 ملین روپے رہ گئی تھی،

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے عدالت میں بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ پہلے تحائف رکھنے کی قیمت 20٪ ہوا کرتی تھی جو پی ٹی آئی حکومت نے 50٪ کردی تھی،کیبینٹ ڈویژن کو توشہ خانہ تحائف کا بتایا جن کو الیکشن کمیشن میں ظاہرکیا گیا ہے،ذاتی استعمال کے لیے تحائف کا ذکر فارم بی میں کہیں نہیں،الیکشن کے لیے امیدوار کو اپنے اثاثہ جات ظاہر کرنا ضروری ہوتےہیں،شکایت کنندہ نے مجھ ہر الزام سیاسی بنیادوں پر لگایا جو جھوٹا ہے،شکائت کنندہ نے جھوٹا الزام لگایا کہ میں نے اثاثہ جات کے حوالے سےجھوٹا بیان الیکشن کمیشن میں دائر کیا،

    چیئرمین پی ٹی آئی نے حلف پر بیان دینے سے انکار کر دیا ،عمران خان نے عدالت میں کہا کہ میں اپنی طرف سے شواہد عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہوں گا

    چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی قانونی ٹیم نے 342 کے دیے گئے بیان پر نظرثانی کرلی ،توشہ خانہ کیس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی، جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ کیا آپ نے جو جوابات دیئے اس سے مطمئن ہیں ؟ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ جی میں سوالات کے دئیے گئے اپنے جوابات سے مطمئن ہوں، جج ہمایوں دلاور نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے آپ رات گئے جاگتے رہے ہیں؟ تیری زلف کہہ رہی ہے تیری رات کا یہ حال ہے، جج ہمایوں دلاور کے شعر پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جج ہمایوں دلاور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کا ہی آج کل یہ حال ہے سر، چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے

    بیرسٹر گوہر نے استدعا کی کہ گواہان کو پیش کرنا ہے تو تھوڑا سا ٹائم دیا جائے، عدالت نے بیرسٹر گوہر سے استفسار کیا کہ
    کیا آپ کو نہیں پتہ کہ کیس کس کو بلانا ہے،بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ابھی لسٹ تیار نہیں کی ، لسٹ تیار کرنی ہے اسی لیے ٹائم چاہیئے،متعلقہ گواہان جن کا تعلق بنتا ہے ان کو بلائیں گے،دو دن کا ٹائم دیا جائے،3 اگست کا ٹائم دے دیں ہم گوہان کی لسٹ دے دیں گے،الیکشن کمیشن کی جانب سے مخالفت کی گئی، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ گواہان دو اقسام ہیں،ایک سرکاری اور ایک پرائیویٹ گواہ ہوتے ہیں،جج ہمایوں دلاورنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کل ایسا کریں کل پرائیویٹ گواہان کی لسٹ فراہم کر دیں،عدالت نے کیس کی سماعت کل صبح 9:30 تک ملتوی کردی

    دوسری جانب احتساب عدالت: 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل اور توشہ خانہ نیب کیسز ،چیئرمین پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی عبوری ضمانت پر سماعت آج ہو گی ،نیب پراسیکویشن ٹیم احتساب عدالت پہنچ گئی ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر کی سربراہی میں نیب ٹیم احتساب عدالت پہنچی تفتیشی افسر بھی ریکارڈ سمیت عدالت پہنچ گئے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کیس کی سماعت کرینگے

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • عمران خان کی عبوری ضمانت میں 15 اگست تک توسیع

    عمران خان کی عبوری ضمانت میں 15 اگست تک توسیع

    اسلام آباد سیشن کورٹ ،چیرمین پی ٹی آئی کے کیسز ،لسٹ کے بغیر وکلاء کی عدالت میں آمد پر عدالت برہم ہو گئی

    جج طاہر عباس سپرا نے ہدایت کی کہ جن وکلا کے نام لسٹ میں شامل نہیں انہیں عدالت سے نکالا جائے ،اگر وکلا باہر نہ گئے تو پھر ہم ہدایت دیں گے جن وکلا کے وکالت نامہ پر دستخط ہیں وہ کمرہ عدالت میں رہیں گے پی ٹی آئی کے وکلا کی لسٹ فراہمی پر آپس میں تلخی ہوئی،

    جج طاہر عباس سپرا کی عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ہم نے شامل تفتیش ہونے کی پوری کوشش کی لیکن شامل تفتیش نہیں کیا۔پولیس نے آف دی ریکارڈ بتایا وہ محرم ڈیوٹیاں کریں دہشتگردی سے نمٹیں یا آ پکو شامل تفتیش کریں ،10محرم کو بھی ہم نے شامل تفتیش ہونے کے لئے پولیس کو لکھا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ ویڈیو لنک انہوں نے نہیں کرنا بیان یہ ریکارڈ نہیں کر رہے۔ پورے پاکستان کے لئے چھٹیاں ہیں ہمارے لیے نہیں ،ہماری بس ہو گئی ہے ہم بھی انسان ہیں ،پولیس لاہور آ کر تفتیش کر لے جیسے کرنا ہے کر لے

    جج طاہر عباس سپرا نے پراسکیوٹر کو ہدایت کی اور کہا کہ میرے معمولات میں آپ دخل اندازی نہ کریں ۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ آج کسی نے ایس پی انویسٹی گیشن کو کال کی ہے کے ہم شامل تفتیش ہونا ہے ؟محرم میں تفتیشی افسر دستیاب نہیں ہوتے یہ ثبوت دیں انہوں نے شامل تفتیش ہونے کی کوشش کی ۔

    طاہر عباس سپرا کی عدالت سے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 15 اگست تک توسیع کر دی گئی

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

  • شہباز گل کی جائیداد کی تفصیلات جمع نہ کروانے پرڈی سی اسلام آباد کو توہین عدالت کا نوٹس

    شہباز گل کی جائیداد کی تفصیلات جمع نہ کروانے پرڈی سی اسلام آباد کو توہین عدالت کا نوٹس

    شہباز گل کیخلاف اداروں کو بغاوت پر اکسانے کا کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا، عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر نوٹس جاری کیا گیا،عدالتی حکم کے باوجود شہباز گل کی جائیداد کی تفصیلات جمع نہ کروائی جا سکیں، عدالت نے حکم دیا کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور فیصل آباد کو جائیداد کی تفصیلات جمع کروانے کا حکم دیا تھا، عدالت نے جائیداد ضبطگی کی کارروائی شروع کررکھی ہے، دونوں افسران نے شہباز گل کی جائیداد کی تفصیلات جمع نہیں کروائیں ، عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر دونوں افسران کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتی ،عدالت نے کیس کی سماعت گیارہ ستمبر تک ملتوی کردی عدالت نے شہباز گل کو اشتہاری قرار دیکر جائیداد ضبطگی کی کارروائی شروع کررکھی ہے

    واضح رہے کہ عدالت نے مسلسل عدم حاضری پرتحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کو اشتہاری قرار دے دیا،جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کیخلاف اشتہاری کی کارروائی تب منسوخ ہو جب وہ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں شہباز گل 4 ہفتوں کا بتا کر ملک سے گئے تھے انہوں نے چالاکیوں سے کام لینا شروع کر دیا انہیں ملک سے بھگا دیا گیا ہے۔

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے  ستمبرمیں بغاوت پر اکسانے کے مقدمے میں شہباز گل کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ یاد رہے کہ شہباز گل کو اشتعال انگیز تقاریرکے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ایک ماہ جیل میں رہے تھے۔ شہباز گل کی ضمانت کے خلاف اکتوبر میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی.

  • توشہ خانہ کیس، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو آخری مہلت دے دی

    توشہ خانہ کیس، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو آخری مہلت دے دی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت شروع ہو گئی

    الیکشن کمیشن کے وکلاء سعدحسن اور امجد پرویز عدالت پہنچ گئے ،ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاورنے کیس کی سماعت کی ،معاون وکیل نے کہا کہ خواجہ حارث سپریم کورٹ مصروف ہیں کچھ دیر تک پہنچ جائیں گے،جج ہمایوں دلاورنے استفسار کیا کہ کس ٹائم تک پہنچیں گے،معاون وکیل نے کہا کہ ٹائم کنفرم نہیں لیکن فری ہوتے ہی پیش ہو جائیں گے،عدالت نے کیس کی سماعت میں 12 بجے تک وقفہ کردیا

    دوبارہ سماعت ہوئی تو کمرہ عدالت میں وکلا کی زیادہ تعداد پر عدالت نے اظہار برہمی کیا،وکیل شیر افضل نے کہا کہ عاشورہ میں وکلا کام نہیں کرتے ،توشہ خانہ کیس کے بیان ریکارڈ کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے ،ریکارڈ کرنے کا مناسب وقت دیا جائے ،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے 35سوالات پوچھے ہیں،تحریری جواب بھی دینا ہے ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سوالنامہ مہیا کرنا ملزم کیلئے ایک طرح کا ریلیف ہے،وکیل شیر افضل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت سے کوئی ریلیف نہیں لیا جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ برائے مہربانی ریلیف کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کریں

    وکیل شیر افضل نے کہا کہ گارنٹی دیتا ہوں آئندہ سماعت پر چیئرمین پی ٹی آئی بیان ریکارڈ کروائیں گے ، وکیل الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کا آج 342 کا بیان ریکارڈ کروانے کی استدعا کی، جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ حارث صاحب ! آپ کو وقت دیا گیا ،آپ نے بیان ریکارڈ نہیں کروایا ، 3 بجے تک آپ کے پاس بیان ریکارڈ کروانے کا وقت ہے ، خواجہ حارث نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کہہ رہے ہیں میں نے ابھی دستاویزات مکمل نہیں پڑھیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے جج ہمایوں دلاور سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تو کل سوالنامہ دیا گیا ابھی تک تو میں نے ایک ایک سوال پڑھ کر جواب دینا ہے، میرے نام سے بیان ہوگا میں مطمئن ہو کر دوں گا، آپ جو مثالیں دے رہے ہیں وہ عام کیسز میں تو ٹھیک ہے لیکن میں 180 مقدمات کی تفتیش بھگت رہا ہوں، یہ کوئی معمولی بات نہیں،جج ہمایوں دلاور نے عمران خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی لیگل ٹیم آپ کیساتھ زیادتی کررہی ہے، عمران خان نے کہا کہ 35 سوالات دیے، میں کوئی وکیل تو نہیں ہوں،مجھے تو بیانات کو خود پڑھنا ہے ابھی، جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ اگر خواجہ حارث چاہیں تو ایک ایک سوالات آپ کو بتایا اور سمجھایا جا سکتا ہے، خواجہ حارث، انتظار پنجوتھا اور شیرافضل کے ہوتے کیا فکر ہے؟ عمران خان نے کہاکہ مجھے کوئی ڈر نہیں، میں سب پڑھ کر بیان ریکارڈ کروانا چاہتا ہوں،

    جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب وکلاء کو کمرہ عدالت سے رخصت کردیں، چیرمین پی ٹی آئی کو سمجھائیں اور بیان ریکارڈ کروائیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ گن پوائنٹ پر کیسز نہیں سنے جاتے، چیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ ڈیڑھ سو سے زائد کیسز ہیں، شاملِ تفتیش بھی ہونا، معمول کے مطابق حالات نہیں،میں مطمیئن ہوں گا تو بیان ریکارڈ کرواؤں گا نا، جج ہمایوں دلاورنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے کافی وقت دیا آپ کو،آج عدالت آپ کو مزید وقت نہیں دےگی، 3 بجے تک کا وقت ہے، عدالت نے 3 بجے تک چیرمین پی ٹی آئی کو بیان ریکارڈ کروانے کی مہلت دےدی

    توشہ خانہ کیس کی سماعت تیسری بار شروع ہوئی تو چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے 342 بیان کی کارروائی ملتوی کرنے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ ہائیکورٹ میں معاملہ پنڈنگ تھا اور یہاں کاروائی چلائی جاتی رہی،چیئرمین پی ٹی آئی کو ہائیکورٹ کی ڈائری برانچ سے نیب نے اٹھایا،اگلے دن پولیس لائن میں عدالت لگا کر پیش کر دیا گیا،مجھے غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا اور اس عدالت میں پیش کیا گیا ،پولیس لائن پیشی پر فرد جرم عائد کی گئی،فرد جرم کی کارروائی پر ہمارے تین اعتراضات ہیں،،جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ یہ اسی دن کا واقع ہے جب فرد جرم عائد ہوا اور آپ کی جانب سے کہا گیا کہ اٹھیں اٹھیں ،وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویزنے تصدیق کی اور کہا کہ اسی دن کا واقعہ ہے جب فرد جرم عائد کی گئی تھی،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سیشن عدالت نے چیرمین پی ٹی آئی کے سامنے فردجرم بھی نہیں پڑھا، جج ہمایوں دلاور نے کہاکہ یہ وہی دن ہے جب فردجرم پڑھایا گیا اور آپ نے کہا اٹھیں اور چلیں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ فردجرم عائد کرتے وقت جرم چیرمین پی ٹی آئی کو پڑھایاگیا، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں نے کبھی سماعت کی بائیکاٹ نہیں کی، ایسا کہہ بھی کیسے سکتے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی پر کوئی فردجرم عائد نہیں ہوا، میں بار بار کہتا ہوں،

    جج نے استفسار کیا کہ کیا آپ اپنا افیڈیوٹ جمع کروائیں گے کہ فردجرم عائد نہیں ہوا؟ کیا افیڈیوٹ جمع کروا سکتے ہیں کہ فردجرم آپ کے سامنے نہیں پڑھا گیا، وکیل خواجہ حارث نے کہاکہ تین اپیل کی درخواستیں اعلی عدلیہ میں زیر التوا ہیں، فرد جرم کبھی چیرمین پی ٹی آئی کو پڑھ کر ہی نہیں سنایا گیا،نہ فردجرم پڑھا، نہ سیشن عدالت نے چیرمین پی ٹی آئی کا جواب لیا گیا تھا،

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ جاری کرنا ہوتا تو پہلے لکھا جاتاہے، آپ نے زبانی فیصلہ سنا دیا، کیا عدالت نے پہلے سے مائنڈ بنایا ہوا کہ دلائل سنائیں تاکہ جلد فیصلہ سنایاجائے؟ اس عدالت سے کیس منتقل کرنے کی درخواست بھی دی لیکن عدالت نے اپنی کاروائی موخر نہیں کی،تاثر آرہا ہے کہ یہ عدالت بائسڈ ہے گواہ ان اوتھ عدالت میں جھوٹ بول رہے ہیں،اگر گواہ عدالت میں بتا دے کیس سے متعلق کوئی دستاویزی ثبوت موجود ہے،میں نے گواہ کو کہا وہ ریکارڈ عدالت میں دیکھائے جو ملزم کیخلاف ہے،آپ کی عدالت نے کیس قابلِ سماعت ہونے کے معاملے پرتین روز میں فیصلہ سنا دیامیں نے کہا پانچ روز میں فیصلہ سنا دیں، ہماری آپ نے نہیں سنیاسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس قابلِ سماعت ہونے پر 7 روز کا وقت تعین کیا، آپ تین دن میں فیصلہ سنا رہے،آپ ہمیشہ تاریخیں گنتے ہیں، چھٹیوں کو کون گنتا ہے، عید اور عاشورے کی چھٹیوں میں کیسے وکلاء سے کام کرنے کی توقع کی جا سکتی ہے؟

    وکیل خواجہ حارث سیشن عدالت کے قابلِ سماعت ہونے کے فیصلے کے مختلف پہلوؤں پر اعتراض پڑھ رہے ہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کیا توشہ خانہ کیس میں جانبداری نظر نہیں آ رہی ؟چیئرمین پی ٹی آئی کے دماغ میں عدالت کی جانب سے ایسا تاثر بنا دیاگیاہے،چیئرمین پی ٹی آئی کا عدالتی حق متاثر کیا جارہا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کے سامنے ایک تاثر ہے کہ سیشن عدالت جلد فیصلہ سنا کر چاہتی ہےکہ تمام اپیلیں غیر موثر ہو جائیں،آپ کہتےہیں آج فیصلہ سنا دوں گا، کل نہیں سنوں گا، کل فیصلہ ہوجائےگا،سیشن عدالت نے خودہی مجھے گواہان کے بیان ریکارڈ کرتے وقت نمائندہ مقرر کردیایسے حالات میں سیشن عدالت سے انصاف کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے،ملزم کو حق دیاجاتا ہےکہ وہ خود اپنا نمائندہ مقرر کرے،سیشن عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو تو اپنا نمائندہ مقرر کرنے کا حق ہی نہیں دیاسیشن عدالت کے فیصلوں پراعتراضات کو اعلیٰ عدلیہ میں درخواستیں دائر کی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی 342 کے بیان ریکارڈ کروانےسے قبل کچھ وقت چاہتے ہیں،

    جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ آج چیئرمین پی ٹی آئی کا 342 کا بیان قلمبند کرنے کے لیے سماعت مقرر تھی، آج تیسرا دن 342 کا بیان ریکارڈ کروانے کے لیے تعین تھا،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء نے 342 کے بیان کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر کی،چیئرمین پی ٹی آئی اپنے وکیل خواجہ حارث کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے بیان قلمبند کرنے کے لیے کچھ وقت مانگنے کی درخواست دائر کی گئی،چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق آج کل 180 کیسز میں پیش ہورہے ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق عاشورہ کی چھٹیوں کے باعث 342 کا بیان نہیں بنایا جاسکا،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء نے 342 کے بیان کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر کی،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء کے مطابق سیشن عدالت تیزی سے ٹرائل چلا رہیچیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء کے مطابق تیزی سے ٹرائل چلنے پر غیر جانبداری سے ٹرائل نہیں چل رہا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بھی سیشن عدالت پر اعتماد کا اظہار نہیں کیا،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء کامقصد تاخیری حربے استعمال کرنا تھا،چیرمین پی ٹی آئی اور ان کے وکلاء عدالت کو مزید مایوس کرنا چاہتے تھے

    توشہ خانہ کیس میں سیشن عدالت نے خواجہ حارث کی 342 کا بیان ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کر دی، سماعت کل صبح 9 بجے تک ملتوی کر دی گئی، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو آخری مہلت دے دی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو کل صبح نو بجے بیان ریکارڈ کرانے کے طلب کر لیا

    سماعت سے قبل جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں سیکیورٹی چیک کیا گیا،اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری کمرہ عدالت کے باہر تعینات ہے، الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی کے متعلقہ وکلاء کو عدالت میں داخلے کی اجازت دی گئی، توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران مخصوص صحافیوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت دی گئی،جج ہمایوں دلاور نے غیر متعلقہ افراد کو توشہ خانہ کیس کے دوران کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی عائد کردی چیئرمین پی ٹی آئی آج توشہ خانہ کیس میں عدالت پیش ہوں گے

    توشہ خانہ، ٹرائل کورٹ کو کاروائی آگے بڑھانے سے روکا جائے،عمران خان سپریم کورٹ پہنچ گئے
    دوسری جانب توشہ خانہ ٹرائل کیس،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی لیگل ٹیم نے ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف اپیل دائر کردی، درخواست میں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو کاروائی سے نہیں روکا حکم امتناع نہ دینے سے ٹرائل کورٹ میں سماعت مکمل ہو جائے گی ٹرائل مکمل ہونے کے بعد ہائیکورٹ میں اپیلیں غیر موثر ہو جائے گی۔ ہائیکورٹ کو حکم امتناع پر منظور یا مسترد کا آرڈر کرنا چاہیے تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کیخلاف اپیل سماعت کیلئے منظور کی جائے ٹرائل کورٹ کو کاروائی آگے بڑھانے سے روکا جائے، چیئرمین تحریک انصاف نے اپیل پر فوری سماعت کی درخواست بھی دائر کردی

    دوسری جانب اسلام آباد احتساب عدالت ،چئیرمین پی ٹی آئی اور بُشریٰ بی بی 190 ملین پاونڈ کیس ،چئیرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ نیب انکوائری کیس کی آج سماعت ہونی تھی تا ہم احتساب عدالت کے جج جسٹس محمد بشیر چھٹی پر ہیں

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کا ٹرائل روکنے کے لئے سپریم کورٹ عدالت نے چئیرمین پی ٹی آئی کی درخواست کو نمٹا دیا ، جسٹس یحیٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی کہنا ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے کہیں، سماعت سے قبل چیئرمین پی ٹی کی موجودگی میں کمرہ عدالت کے باہر شور شرابا ہوا، جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی احترام برقرار رکھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ باہر سے شور شرابا ختم کرائیں ورنہ ہم کیس نہیں سنیں گے ،عدالتی احترام کو مدنظر رکھیں

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

  • سمابیہ طاہرعدالت پیش ،جیل بھجوانے کا حکم

    سمابیہ طاہرعدالت پیش ،جیل بھجوانے کا حکم

    راولپنڈی: پی ٹی آئی کی سابق ایم پی اے سمابیہ طاہر کو مقامی عدالت پیش کر دیا گیا

    سمابیہ طاہر کو ڈیوٹی مجسٹریٹ خالد حیات کی عدالت میں پیش کیا گیا ،پولیس کی جانب سے سمابیہ طاہر کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی عدالت نے سمابیہ طاہر کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کر دیا ،عدالتی حکم پر سمابیہ طاہر کو 3 اگست تک شناخت پریڈ کے لیے اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ،سمابیہ طاہر پر 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں میں ملوث ہونے کا الزام ہے پی ٹی آئی کی سابق ایم پی اے کو گزشتہ رات حراست میں لیا گیا تھا

    ایڈیشنل جنرل سیکرٹری شمال پنجاب سیمابیہ طاہر ستی کو کل رات گرفتار کیا گیا تھا،سمابیہ طاہر ستی کو اسلام آباد پولیس نے گھر سے گرفتار کیا تھا ،سیمابیہ طاہر ستی پر نو مئی کے واقعات میں ملوث ہونے کے شواہد ہیں

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے، حکومت کی جانب سے فیصلہ ہوا کہ حملے کرنیوالے تمام شرپسندوں کے مقدمے ملٹری کورٹ میں چلائے جائیں گے ,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ،ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد دن بدن بے نقاب ہو رہے ہیں، واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ،جناح ہاؤس لاہور میں حملہ کرنیوالے ایک اور شرپسند کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں شرپسند نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تحریک انصاف کا کارکن اور قیادت کے کہنے پر حملہ کیا ہے،

  • چئیر مین عمران خان پر ایک اور مقدمہ درج

    چئیر مین عمران خان پر ایک اور مقدمہ درج

    چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف پیشی کے دوران جے آئی ٹی کے سربراہ اورممبران کو دھمکانے پر رپورٹ درج کرلی گئی ۔ لاہور کے تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں درج کی گئی رپورٹ انچارج انویسٹی محمد سرور کی مدعیت میں درج کی گئی ہے، جس کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو تھانہ سرور روڈکےمقدمہ 96/23 میں تفتیش کیلئے بلایا،جہاں پیشی کے دوران انہوں نےانگلی کیساتھ سربراہ جےآئی ٹی عمران کشوراوردیگر ممبران کو دھمکایا۔ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ عمران خان کو تھانہ سرور روڈ کے مقدمہ 96/23 میں تفتیش کے لیے بلایا گیا، چئیرمین پی ٹی آئی نے جے آئی ٹی سربراہ عمران کشور اور ممبران کو انگلی کے ساتھ ڈرایا دھمکایا اور کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت واپس آ رہی ہے، آپ سن لیں آپ نے رہنا نہیں ہے۔
    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ تفتیش کے دوران کسی بھی افسر کو ڈرانا اور کہنا کہ میں انتقامی کارروائی کا نشانہ بناوں گا، آزادانہ اور غیر جانبدرانہ تفتیش کو روکنا ہے۔۔ ملزم کا یہ عمل قانونی ضابطہ کی خلاف ورزی ہے۔

  • پارلیمنٹ لاجز ،عالیہ حمزہ کا سامان باہر نکال دیا گیا

    پارلیمنٹ لاجز ،عالیہ حمزہ کا سامان باہر نکال دیا گیا

    پی ٹی آئی ارکان سے پارلیمنٹ لاجز خالی کروانے کیلئے آپریشن شروع کیا گیا ہے،

    سی ڈی اے کے عملے نے پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کا سامان اور اہلخانہ کو باہر نکال کر لاج خالی کرا دیا ،سامان باہر نکالنے کے بعد عملے نے لاج کو تالے لگا دیئے گئے عالیہ حمزہ کے سامان کی فہرست بھی تیار کی گئی ،پی ٹی آئی کی خاتون رہنما اس وقت جیل میں ہیں ،

    خاتون رہنما عالیہ حمزہ کا لاج سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی ہدایات پر خالی کرایا گیا ہے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عالیہ حمزہ کی رہائشگاہ کسی اور رکن کو الاٹ کی گئی ہے،پی ٹی آئی کے ارکان کو لاجز خالی کرنے کے نوٹس جاری کئے جا چکے ہیں،

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی سے مستعفی ہو چکے ہیں اور انہوں نے ابھی تک پارلیمنٹ لاجز کو خالی نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے حکام کو آپریشن کرنا پڑا،آپریشن سے قبل سی ڈی اے نے خط لکھا تھا خط کے متن کے مطابق آپریشن میں کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے معاونت کی جائے،رہائشیں خالی نہ کرنے پر آپریشن کرنا ہے لہٰذا کسی بھی ناخوشگوار واقع سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ پی ٹی آئی ارکان اپریل میں قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفے دے چکے ہیں تاہم ابھی تک کئی ارکان سرکاری رہائش گاہیں اور مراعات لے رہے.

    مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ 

    :نورمقدم کی مظلومیت کیوں بیان کی: ظاہر جعفر کے دوست ماہر عزیز کے وکیل نے مبشرلقمان کونوٹس بھجوا دیا

    نور مقدم قتل کیس،فیصلہ آ گیا،مرکزی ملزم سفاک ظاہر جعفر کو سزائے موت کا حکم

    نور مقدم کیس زندہ رکھنے پر مبشر لقمان کا شکریہ، جویریہ صدیق

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

  • پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھنے کی درخواست پر فیصلہ

    پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھنے کی درخواست پر فیصلہ

    سندھ ہائیکورٹ ،محکمہ پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھنے کے متعلق سول سوسائٹی کی درخواست پر فیصلہ سنادیا

    عدالت نے 38 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنمامہ جاری کردیا ،سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کے معاملا ت میں وزیر اعلی کے اختیارات کم کرکے آئی جی کو مزید بااختیار بنا دیا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ آئی جی پولیس اپنے عہدے کی مدت مکمل کریں گے تین سال سے قبل تبادلہ نہیں کیا جاسکے گا، تبادلہ ضروری ہو تو سپریم کورٹ کے کیس کے طے شدہ اصولوں کو مدنظر رکھا جائے، پولیس میں ڈی آئی جی سمیت مختلف بنیادی عہدوں پر تقرری کیلیے آئی جی پولیس وزیر اعلی سے مشاورت کرسکتے ہیں، دونوں میں اختلاف کی صورت میں آئی جی تین افسران کا پینل وزیر اعلی کو ارسال کریں گے ، وزیر اعلی کو ان تین ناموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا،آئی جی صوبائی حکومت کے ساتھ مشاورتی اجلاس میں شرکت کے پابند نہیں ،صوبائی قانون کے مطابق محکمہ پولیس میں کسی ماہر کی تقرری ہوسکتی ہے لیکن یہ صرف معاونت کیلے ہوگی ،

    عدالت نے کہا کہ آئی جی سندھ کو اختیار ہوگا کہ کسی بھی معاملے پر ماہر کی خدمات سے مستفید ہو یا نا ہو، کوئی بھی ماہر افسران آئی جی پولیس کے کام میں مداخلت نہیں کرسکے گا،عدالت نے پولیس آرڈر کے سیکشن 15(1) ختم کردیا گیا جس کے تحت ڈی آئی جی کی تقرری کے متعلق وزیر اعلی کی منظوری ضروری تھی،محکمہ پولیس سے ریجنز اور ڈویژنز کے قیام کیلیے وزیر اعلی کی منظوری لازمی نہیں ،محکمہ پولیس کی کارکردگی کے جائزے کیلیے پبلک سیفٹی کمیشن کا اجلاس باقاعدگی سے نہیں ہورہا، پبلک سیفٹی کمیشن کو فعال بنایا جائے اور ہر مہینے اسکا اجلاس لازمی قراردیاجائے، ہر ضلع میں سیفٹی اور پولس کے متعلق شکایات کے ازالے کیلیے کمیشن تشکیل دیے جائیں،

    احتساب سب کا ہو گا،وقت دیتے ہیں، ذمہ داران کا تعین کر کے عدالت کو بتائیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اہم پوسٹوں پر سیاسی مداخلت ناقابل برداشت ہے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

    اتنی تباہی کہ اللہ کی پناہ،آنکھوں دیکھا حال،دل خون کے آنسو روتا ہے

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

  • توشہ خانہ کیس،سپریم کورٹ کا حکمنامہ جاری

    توشہ خانہ کیس،سپریم کورٹ کا حکمنامہ جاری

    سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف کی اپیل پر گذشتہ سماعت کا حکم نامہ جاری کردیا

    حکم نامہ جسٹس یحیی آفریدی نے تحریر کیا ،حکمنامے میں کہا گیا کہ وکیل چیئر مین تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا 4 جولائی کا حکم نامہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ہائیکورٹ کے چار جولائی کے حکم پر عمل در آمد ہو چکا ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ چیئر مین تحریک انصاف کیطرف سے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا عدالت کو بتایا گیا کہ ٹرائل کورٹ فیصلہ کے خلاف اپیل ہائیکورٹ میں زیر التواء ہے۔فریقین اس بات پر متفق ہے کہ تمام درخواستوں کو یکجا کرکے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہو۔ہائیکورٹ انصاف کے تقاضوں کیلئے تمام توشہ خانہ سے متعلق تمام درخواستوں کو یک جا کرکے سماعت کرے چیئر مین تحریک انصاف نے توشہ خانہ مقدمہ کا قابل سماعت قرار دینے کا فئصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے عدالتی دائرہ اختیار کو بھی ہائیکورٹ مین چیلینج کیا گیا ہے جج ہمایوں دلاور کیخلاف درخواست بھی ہائیکورٹ میں دائر کی گئی ہے توشہ خانہ مقدمہ کسی دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست بھی کی چیئر مین تحریک انصاف نے دائر کر رکھی ہے

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے