Baaghi TV

Tag: عدالت

  • چیف الیکشن کمشنر نے کی وکیل اے پی ایم ایل کی سرزنش

    چیف الیکشن کمشنر نے کی وکیل اے پی ایم ایل کی سرزنش

    پارٹی نشان الاٹ کرنے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت سماعت کی

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ 2010 میں اے پی ایم ایل کی پارٹی رجسٹریشن ہوئی، اس پارٹی میں شروع سے آپس میں شدید اختلاف رہا ہے،اس پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ کے مطابق نہیں ہوئے، الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی تفصیلات بوگس ہیں،

    چیف الیکشن کمشنر نے وکیل اے پی ایم ایل کی سرزنش کی، وکیل اے پی ایم ایل نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی تمام ضروریات پوری کر دیں گے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن صدیق مرزا کو ابھی تک پارٹی صدر تسلیم نہیں کر رہا، اگلی تاریخ تک ان کو تمام دستاویزات فراہم کر دیں،اگلی سماعت پر اس کیس کو نمٹا دیں گے کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کر دی گئی

    ملتے جلتے ناموں کی کئی سیاسی جماعتیں موجود ہیں،چیف الیکشن کمشنر
    استحکام پاکستان پارٹی کی رجسٹریشن معاملہ ،الیکشن کمیشن میں سماعت ہوئی،چیف الیکشن کمیشن کی زیر صدارت پانچ رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،

    وکیل نے کہا کہ استحکام پاکستان تحریک بطور پارٹی 2022 سے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے ،اچانک جہانگیر ترین، علیم خان اور دیگر نے لاہور میں پریس کانفرنس کی اور استحکام پاکستان پارٹی کا اعلان کر دیا،ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ کیا آپ اس پارٹی کو چیلنج کر سکتے ہیں، ممبر الیکشن کمیشن بابر بھروانہ نے کہا کہ ملتے جلتے ناموں کی کئی سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں، ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ کیا آپ اس پوائنٹ پر ہمیں مطمئن کر سکتے ہیں کہ ایک پارٹی رجسٹرڈ نہیں اور آپ کی درخواست اس کے خلاف قابل سماعت ہو سکتی ہے،

    سماعت کے دوران استحکام پاکستان پارٹی کے وکیل کی آمد پر خوش آمدید کہنے پر چیف الیکشن کمشنر کا چٹکلا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ویسے تو آپ کو ان کو خوش آمدید کہ رہے ہیں،دونوں استحکام پاکستان کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں لیکن وہاں آپ انہیں خوش آمدید نہیں کہ رہے، وکیل استحکام پاکستان تحریک نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی والے ہر چیز دوسروں سے چرا رہے ہیں، ممبر الیکشن کمیشن اکرام اللہ نے کہا کہ آپ بھی استحکام پاکستان چاہتے ہیں، وہ بھی استحکام پاکستان چاہتے ہیں، ہم بھی استحکام پاکستان چاہتے ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ملتے جلتے ناموں کی کئی سیاسی جماعتیں موجود ہیں، آپ کا پوائنٹ آ گیا ہے، ممبر الیکشن کمیشن بابر بھروانہ نے کہا کہ انتخابی نشان کسی بھی پارٹی کی منفردیت کو بیان کرتا ہے، ممبر الیکشن کمیشن جسٹس ریٹائرڈ اکرام اللہ نے کہا کہ کیا آسٹریلیا میں محمد علی اور احمد علی ہوتا ہے، ،الیکشن کمیشن نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

    سیما کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل گئی 

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • توشہ خانہ کیس، سزا کے خلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    توشہ خانہ کیس، سزا کے خلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    توشہ خانہ کیس،عمران خان کی سزا کے خلاف اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہے

    عمران خان کی اپیل پر سماعت کل ہو گی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پرمشتمل بینچ عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت کرے گا

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی،عمران خان کی طرف سے وکیل خواجہ حارث نے اپیل دائر کی،عدالت سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ خلاف قانون ہے، کالعدم قرار دیا جائے اور مرکزی اپیل پر فیصلے تک سزا معطل کر کے رہائی کا حکم جاری کیا جائے۔

    اپیل دائر کرنے کے بعد وکیل کا کہنا تھا کہ ہم جلد ہی الیکشن کمیشن کے تمام تحفظات دور کرلیں گے ہم انٹراپارٹی الیکشن کرچکے تھے، جو اسٹیٹمنٹ ریکارڈ ہوا اس کی وضاحت الیکشن کمیشن کو دینگے اپیل فائل کررہے ہیں جس سے چیئرمین پی ٹی آئی کو ریلیف مل جائے گا آج اپیل کیساتھ چیئرمین پی ٹی آئی کی تین سال کی نااہلی واپس لینے کی درخواست بھی دائر کررہے ہیں ہماری استدعا ہے کہ آج اگر کیس کو نہیں سنا گیا تو کل اس کو سن لیا جائے چیئرمین تحریک انصاف ہی چیئرمین رہیں گے ،

    دوسری جانب سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل کو نمبر الاٹ کردیا ،رجسٹرار آفس نے توشہ خانہ کیس کے دائرہ اختیار کے خلاف دائر اپیل کو نمبر ,922, 921 الاٹ کیا ،چیئرمین تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا توشہ خانہ کیس واپس ٹرائل کورٹ بھیجنے کا فیصلہ چیلنج کیا تھا، رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے اپیل اعتراضات لگا کر واپس کردی تھی ،چیئرمین تحریک انصاف لیگل ٹیم نے اعتراضات دور کرکے اپیل دوبارہ جمع کرادی

    واضح رہے کہ عمران خان کو تین روز قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • افتخار درانی اسلام آباد پولیس کی حراست میں نہیں،رپورٹ عدالت جمع

    افتخار درانی اسلام آباد پولیس کی حراست میں نہیں،رپورٹ عدالت جمع

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی رہنما افتخار درانی کی مبینہ گرفتاری کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد پولیس نے عدالتی حکم پر پیش رفت رپورٹ جمع کرا دی ، پراسیکیوٹر نے کہا کہ افتخار درانی اسلام آباد پولیس کی حراست میں نہیں ہیں ،افتخار درانی کے اغوا کا مقدمہ متعلقہ تھانے میں درج کرلیا گیا ہے،افتخار درانی کے وکیل شیر افضل مروت راولپنڈی بینچ میں مصروفیات کے باعث پیش نہ ہوسکے عدالت نے وکیل شیر افضل مروت کی واپسی تک سماعت میں وقفہ کردیا

    دوبارہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں افتخار درانی کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی، لاپتا افتخار درانی کی فیملی وکیل شیر افضل مروت کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئی۔ دوسرے فریق کی جانب سے ایس پی سی آئی اے انویسٹی گیشن رخسار مہدی اور وکیل پولیس طاہر کاظم عدالت میں پیش ہوئے پولیس کے وکیل نے بتایا کہ مقدمہ درج ہو چکا ہے پولیس اپنا کام کرے گی ، افتخار درانی کے وکیل شیر افضل مروت نے ایس پی سی آئی اے رخسار مہدی پر اعتماد کا اظہار کیا اور عدالت میں کہا ہمیں ایس پی رخسار مہدی پر پورا اعتماد ہے وہ اسلام آباد پولیس کے واحد اچھی ساکھ والے افسر ہیں ،عدالت نے پولیس کو افتخار درانی کی بازیابی کے لئے چارروز کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ 3 اگست آدھی رات کو افتخار درانی کو مبینہ طور پر گرفتار یا اغوا کیا گیا، 7اگست کواسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی اورچیف جسٹس نے متعلقہ حکام کو نوٹس بھیجتے ہوئے کل افتخار درانی کو پیش کرنے کا کہا ، 8 آگست اسلام آباد پولیس کے مطابق ڈاکٹرافتخار درانی ان کی حراست میں نہیں ہیں

    افتخار درانی تحریک کے دور میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے طور پر بھی کام کیا ،افتخاردرانی نے 2013 میں حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم میں مواصلات کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں

    تحریک انصاف کے رہنما افتخار درانی کی نازیبا ویڈیو سامنے آئی ہے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ویڈیو لیک

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

    عامر لیاقت رات رو رہے تھے، کہہ رہے تھے میں مر جاؤں گا، ملازم

  • فنڈنگ کیس،جواب جمع کرانے کا بھی آٹھ سالہ پروگرام ہے؟ چیف الیکشن کمشنر کا وکیل سے مکالمہ

    فنڈنگ کیس،جواب جمع کرانے کا بھی آٹھ سالہ پروگرام ہے؟ چیف الیکشن کمشنر کا وکیل سے مکالمہ

    ممنوعہ فنڈنگ ضبطگی کیس ،چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت تین رکنی کمیشن نے سماعت کی

    پی ٹی آئی کے معاون وکیل نوید انجم الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، پی ٹی آئی نے ضمنی جواب الیکشن کمیشن میں جمع کرادیا،معاون وکیل نے کہا کہ 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کا ریکارڈ غائب کردیا گیا، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کتنے ضمنی جوابات جمع کرائیں گے؟ معاون وکیل نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے باعث ہم مجبور ہیں، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا ہم پھر آپ کا جواب جمع کرانے کا حق ختم کردیں؟ گزشتہ سماعت پر جواب جمع کرانے کیلئے حتمی وقت دیا گیا تھا، اس کیس میں پہلے متعدد مرتبہ جواب کیلئے موقع دے چکے ہیں،

    معاون وکیل نے کہا کہ انور منصور شدید بیمار ہیں، اس لیے پیش نہیں ہوسکے، حالات کے باعث جواب جمع کرانے میں تاخیر ہورہی ہے،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آخری موقعے کا مطلب آخری موقع ہی ہوتا ہے، الیکشن کمیشن گزشتہ سماعت کے آرڈر پر کیا کرے؟ عام انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن تمام کیسز کو جلد از جلد نمٹانا چاہتا ہے،آپ کا جواب جمع کرانے کیلئے بھی آٹھ سالہ پروگرام لگ رہا ہے، معاون وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمارے دفاتر پر دھاوے بولے گئے، سارا ریکارڈ اٹھا کر لے گئے ہیں، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انور منصور نے اج سے قبل اپنے تمام وعدے پورے کیے، اس کیس میں مزید کاروائی اسلام آباد ہائیکورٹ کی روشنی میں کریں گے،

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا مزید جواب جمع کے حق کرانے پر فیصلہ محفوظ کرلیا،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت سے قبل محفوط فیصلے پر آرڈر جاری کریں گے، الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 22 اگست تک ملتوی کردی

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات،جواب جمع کروانے کے لئے وقت مانگ لیا
    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا معاملہ ،چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت تین رکنی کمیشن نے سماعت کی،پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر بیرسٹر گوہر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، بیرسٹر گوہر نے جواب جمع کرانے کیلئے مزید وقت مانگ لیا، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج مجھے اہم کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ پیش ہونا ہے،الیکشن کمیشن جواب جمع کرانے کیلئے مزید وقت دے،الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات میں مزید وقت دینے کی استدعا منظور کرلی،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کردی،پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی انتخابات پر 15 اگست تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی گئی،

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • جلاؤ گھیراؤ سمیت نو مئی کے چھ مقدمات میں اسد عمر، قریشی کی ضمانت میں توسیع

    جلاؤ گھیراؤ سمیت نو مئی کے چھ مقدمات میں اسد عمر، قریشی کی ضمانت میں توسیع

    لاہور:انسداد دہشت گردی عدالت،جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ سمیت نو مئی کے چھ مقدمات پر سماعت ہوئی

    شاہ محمود قریشی ، فواد چوہدری اور اسد عمر کی عبوری ضمانت میں توسیع کا حکم جاری کر دیا گیا، علیمہ خانم اور عظمی خان کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کا حکم بھی جاری کر دیا گیا،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے سماعت کی ،سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایڈوکیٹ رانا مدثر عمر نے دلائل دئیے ،وکیل نے عدالت میں کہا کہ ملزمان شامل تفتیش ہو چکے ہیں عدالت ملزمان کی عبوری ضمانتیں کنفرم کرنے کا حکم دے، شاہ محمود قریشی ، علیمہ خانم ،عظمی خان اور اسد عمر کسی بھی واقع میں ملوث نہیں ہیں ،

    سیاسی رہنما شاہ محمود قریشی ، اسد عمر ،علیمہ خانم اور عظمی خان عبوری ضمانت کی معیاد ختم ہونے پر عدالت پہنچے ،عدالت نے پولیس سے ریکارڈ طلب کر رکھا ہے

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو شکایت

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو شکایت

    سپریم کورٹ: اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو شکایت بھجوا دی گئی

    بیرسٹر علی طاہر نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کیخلاف شکایت بھیجی ،چیف جسٹس عامر فاروق پر مس کنڈک،عہدے کے غلط استعمال اور جانبداری کے الزامات عائد کئے گئے ہیں ، درخواست میں استدعا کی گئی کہ چیف جسٹس عامر فاروق کیخلاف انکوائری کر کے انکو عہدے سے ہٹایا جائے،چیف جسٹس عامر فاروق تحریک انصاف اور چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف کام کر رہے ہیں،طاقتور حلقوں کیساتھ ملکر چیئرمین پی ٹی آئی کو نشانہ بنایا جارہا ہے،جج ہمایوں دلاور کو توشہ خانہ کیس واپس بھیجنے سمیت جسٹس عامر فاروق متعدد متنازعہ فیصلے دے چکے،شکایت کی کاپی سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ممبران کو ارسال کی گئی ہے

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • اسد قیصر کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    اسد قیصر کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    ‏اسلام آباد ہائیکورٹ: سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیئے گئے

    سابق رکن قومی اسمبلی انور تاج کی درخواست پر بھی نوٹس جاری، عدالت نے جواب طلب کر لیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکرٹری داخلہ اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اسد قیصر اور انور تاج کی درخواستوں پر سماعت کی، وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ درخواست گزاروں کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے گیے، درخواست گزاروں کے ساتھ سیاسی انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں،عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

    واضح رہے کہ چند ہفتوں قبل حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے متعدد موجودہ اور سابق رہنماؤں و قائدین کے نام ای سی ایل ڈالے گئے تھے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے 70 رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالےگئے ۔ذرائع کے مطابق جن رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں شامل کئے گئے ہیں ان میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، شیخ رشید، شہریار آفریدی، مراد سعید، علی محمد خان، قاسم سوری، اسد عمر، اسد قیصر، ملیکہ بخاری اور دیگر سابق ایم این ایز شامل ہیں رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ پولیس کی سفارش پر کیا گیا ۔

  • توشہ خانہ کیس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    توشہ خانہ کیس فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی،

    درخواست میں توشہ خانہ کیس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی، درخواست میں استدعا کی گئی کہ توشہ خانہ کیس کا ٹرائل دوبارہ شروع کیا جائے،توشہ خانہ کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی کو فئیر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا، توشہ خانہ کیس کا فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا ہے،توشہ خانہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے تک سزا معطل کی جائے،درخواست آئین کے آرٹیکل 184 دو کے تحت دائر کی گئی ہے ،درخواست ایڈوکیٹ لاہور ہائیکورٹ صائمہ صفدر نے دائر کی ،درخواست میں درخواست میں پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد، حکومت اور جج ہمایوں دلاور کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ عمران خان کو دو روز قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • رضوانہ تشدد کیس ،ملزمہ کی ضمانت خارج کمرہ عدالت سے گرفتار

    رضوانہ تشدد کیس ،ملزمہ کی ضمانت خارج کمرہ عدالت سے گرفتار

    ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ گھریلو ملازمہ تشدد کیس میں ملزمہ صومیہ عاصم کو ضمانت خارج ہونے پر گرفتار کرلیا گیا۔

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق آئی سی سی پی او نے مقدمہ کی میرٹ پر تفتیش کے لئے ایس جے آئی ٹی قائم کی تھی۔مقدمے کی تفتیش میں تمام پہلوؤں کو مدنظررکھتے ہوئے انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔قانون سب کے لئے برابر ہے، کسی کے ساتھ ناانصافی ہرگز نہیں کی جائے گی۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ، کم عمر ملازمہ رضوانہ تشدد کیس کی سماعت ہوئی ،عدالت نے ملزمہ سومیا کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے گرفتار کرنے کا حکم جاری کردیا ،جج فرخ فرید نے پراسیکیوشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سچ کو تلاش کرنے میں ڈر نہیں ہونا چاہیے، شواہد ایمانداری سے جمع کریں، پریشر نہ لیں، تفتیش میرٹ پر ہونی چاہیے،

    عدالت نے ضمانت خارج کی تو ڈی آئی جی اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ پہنچ گئے ،جج فرخ فرید بلوچ نے کہا کہ ملزمہ کو کمرہ عدالت سے باہر لے جائیں ،میرے لیے بھی مشکل ہے میرے کولیگ کی اہلیہ ہیں،لیکن جہاں انصاف کی بات ہو گی تو میں نے انصاف کرنا ہے،ملزمہ سومیا عاصم کے وکلا نے جج فرید فرید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ 5 منٹ تک لے کر جا رہے ہیں،ڈی آئی جی شہزادہ بخاری نے اہلکاروں کو حکم دیا کہ ملزمہ کو فوری طور پر گرفتار کریں کہیں جانے کی اجازت نہیں دینی ۔عدالت سے باہر نکلتے ہی پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کر لیا،

    مجھے انصاف ملنا چاہئے کسی سے پیسے نہیں لوں گی،والدہ رضوانہ
    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں رضوانہ تشدد کیس کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمسن بچی کی والدہ کا کہنا تھا کہ مجھے انصاف ملنا چاہئے کسی سے پیسے نہیں لوں گی میری بچی بھوکی پیاسی رہی اسے کمروں میں بند رکھتے تھے،رضوانہ کی وکیل کا کہنا تھا کہ رضوانہ کی والدہ کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ کیس سے پیچھے نہیں ہٹی ہم پر الزام لگایا گیا کہ ہم نے ہی رضوانہ پر تشدد کیا ہے تشدد کا آلہ برآمد کرنا ضروری ہے اس لئے ملزمہ کی گرفتاری ضروری تھی اس کیس میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے اور انصاف ہونا چاہئے

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ ، کم عمر ملازمہ رضوانہ تشدد کیس .سول جج کی اہلیہ ملزمہ سومیا عاصم کی درخواست ضمانت پر سماعت وقفہ کے بعد ہوئی ،ڈیوٹی جج ایڈیشنل سیشن جج فرخ فرید بلوچ نے سماعت کی، ملزمہ عدالت کے سامنے پیش ہو گئی،پولیس نے ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کر دیا جس کے بعد عدالت نے ملزمہ کے وکیل کی استدعا پر کیس کی سماعت میں دس بجے تک کا وقفہ کردیا۔

    دوبارہ سماعت ہوئی تو جج نے استفسار کیا کہ ملزمہ سومیاعاصم کے خلاف کیس کا ریکارڈ کدھر ہے؟ ملزمہ سومیاعاصم کو روسٹرم پر بلا لیاگیا، وکیل ملزمہ بھی پیش ہو گئے، اور کہا کہ ملزمہ سومیاعاصم جی آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئی اور اپنی بے گناہی کا اظہار کیا،ریکارڈ میں پولیس نے لکھا کہ ملزمہ سومیاعاصم نے تشدد نہیں کیا،سومیاعاصم نے ملازمہ کو واپس بھیجنے کا بار بار کہا،ڈھائی گھنٹے بچی بس اسٹاپ پر بیٹھی جو اس وقت اٹھ نہیں پارہی تھی، سومیاعاصم نے کم سن بچی کو اس کی ماں کو صحیح سلامت دیا، آج دوپہر کو جی آئی ٹی نے بچی کی ماں اور ڈرائیور کو بلایا ہوا ہے،شام تک انتظار کرلیا جائے تو بہتر ہوگا، جے آئی ٹی کی تفتیش مکمل ہو جائےگی،

    وکیلِ صفائی نے کہا کہ کیا سومیاعاصم کو جیل بھیجا ضروری ہے؟ پراسیکیوشن نے ملزمہ سومیاعاصم کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا کردی جج فرخ فرید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزمہ سومیاعاصم تو ہر حال میں شامل تفتیش ہونے کی پابند ہے، وکیل صفائی نے کہا کہ تفتیشی افسر نے تمام پہلوؤں پر تفتیش نہیں کی، کیا تفتیشی افسر نے وقوعہ کی وڈیو حاصل کی؟ جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عبوری ضمانت کا کیس ہے آپ دلائل شروع کریں ،آپ کے دفاع میں جو بھی ثبوت ہیں وہ آپ تفتیش میں سامنے لا سکتے ہیں ،

    ملزمہ کے وکیل نے جے آئی ٹی رپورٹ آنے تک کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے کہا کہ عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ملتوی کرنے کے لیے یہ گراؤنڈ نہیں ، پراسیکوٹر نے کہا کہ ہماری اب تک تفتیش مکمل ہے، اب گرفتاری کے بعد تفتیش کرنی ہے ،وکیل ملزمہ نے کہا کہ ہم کہتے ہیں ویڈیو موجود ہے ویڈیو لیں ،کیا تفتیشی نے ویڈیو حاصل کی،بس سٹاپ پر تین گھنٹے کی ویڈیو موجود ہے،کل آخری دن ہے پھر وہ ویڈیو کا ڈیٹا ختم ہو جائے گا پھر کہا جائے گا کہ پتہ نہیں یہ اس کیمرے کی ویڈیو ہے یا نہیں ؟ عدالت نے تفتیشی کو ویڈیو لینے کی ہدایت کر دی جج فرخ فرید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تفتیشی کا کام دونوں سائیڈ سے ثبوت حاصل کرنا ہے،جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے تک کیس ملتوی کرنا ممکن نہیں ،ملزمہ کے وکیل کی جانب سے ویڈیو یو ایس بی عدالت کے سامنے پیش کر دی گئی.

    رضوانہ تشدد کیس، آپ کیا کہتے جو زخم بچی کو آئے ہیں وہ کیا اس کی والدہ نے پہنچائے ؟ جج کا ملزمہ کے وکیل سے استفسار

    کمرہ عدالت میں بچی کی ویڈیو لگا دی گئی عدالت نے ملزمہ کے وکیل کو دلائل دینے کی ہدایت کر دی، ملزمہ کے وکیل ایف آئی آر کا متن پڑھ کر سنایا ،عدالت نے ملزمہ کے وکیل کی طرف سے فراہم کردہ ویڈیو دیکھی ،وکیل ملزمہ نے کہا کہ ویڈیو میں لڑکی اور اسکی ماں نظر آرہی ہے ، جج نے استفسار کیا کہ کیا لڑکی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی ؟ وکیل ملزمہ نے کہا کہ جی لڑکی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی ،یہ بہت بڑا بیان ہے کہ جج کی بیوی نے رضوانہ کو دھکا مارا حالانکہ ایسا کچھ نہیں ، عدالت نے کہا کہ ہم نے میڈیا کو نہیں بلکہ ایف آئی آر کو دیکھنا ہے ،جج نے ملزمہ کے وکیل سے استفسارکیا کہ آپ کیا کہتے جو زخم بچی کو آئے ہیں وہ کیا اس کی والدہ نے پہنچائے۔؟

    ملزمہ کے وکیل کی جانب سے فراہم کردہ ویڈیو عدالت نے دیکھیں . وکیل ملزمہ نے کہا کہ مجھے بلیک میل کرکے پیسے بھی مانگے جتنے میں میں دے سکتا تھا دئیے ،وکیل صفائی نے کہا کہ تفتیشی افسر نے سرگودھا میں بس اسٹینڈ کی ویڈیو نہیں لی، ویڈیو میں دو کردار اور بھی ہیں جن کی ویڈیو مقامی ہوٹل سے ملی، عدالت سے پہلے سومیاعاصم کا میڈیا ٹرائل شروع کردیا گیارپورٹ کے مطابق بچی ہسپتال 3 بجے صبح پہنچتی ہیں، یہ والی رپورٹ کہاں ہے؟ طبی رپورٹ کے مطابق 23 جولائی 5 بجے انجری ہوئی،پولیس کو کہا گیا کہ بچی اپنا بیان دینے کے حال میں نہیں،سرگودھا تک بچی بلکل ٹھیک گئی، کوئی ٹریٹمنٹ کی ضرورت نہیں تھی، 3 بجے سرگودھا پہنچنے کے بعد طبی معائنے کی ضرورت کیسے اچانک پڑ گئی بچی کو،اگر گرفتاری کے بعد بھی ضمانت ملنی ہی ہے تو ملزمہ کو جیل نہیں بھیجنا چاہیے،قانون کے مطابق عورت کو ضمانت ضرور ملنی چاہیے، کیس میں حقائق مسخ کیے گئے،جے آئی ٹی کیوں بنی ہے؟ کیا مقصد ہے؟ ممبران کون ہیں؟ کیا جے آئی ٹی کے ممبران پولیس افسران ہیں؟ جب ممبران پولیس اہلکار نہیں تو جے آئی ٹی میں کون شامل ہے؟ جج فرخ فرید نے کہا کہ
    ابھی تو آپ کہہ رہے تھے کہ جے آئی ٹی کے سامنے دوپہر میں پیش ہوناہے، وکیل صفائی نے کہا کہ میں کس کس کے پاس جاؤں تا کہ اصل حقائق منظرعام پر آئیں،شفاف تفتیش کا مطلب ہی دونوں طرف سے حقائق کو منظرعام پر لانا ہوتا ہے،

    رضوانہ تشدد کیس، ملزمہ سومیا عاصم نے ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ملزمہ سومیا عاصم نے کہانی من گھڑت قرار دے دی،سومیا عاصم نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا کہ رضوانہ اپنے والدین کی مرضی سے میرے گھر میں ملازمہ تھی ، ایف آئی آر میں بیان کی گئی کہانی درست نہیں ، رضوانہ پر کبھی بھی تشدد نہیں کیا، تفتیش میں اپنے موقف کو درست ثابت کروں گی،رضوانہ کی عمر سترہ سال سے زائد ہے، رضوانہ کیساتھ اپنے نو سے بارہ سال کے تین بچوں کی طرح ہمیشہ نرمی سے پیش آتی رہی ہوں ،مبینہ وقوع سے پہلے جب سے رضوانہ میرے پاس کام کررہی ہے کبھی کوئی شکایت نہیں تھی، حقائق کو توڑ مروڑ کر میرے خلاف استعمال کیا جارہا ہے،میں بھی منفی مہم کی متاثرہ ہوں جو میرے اچھی شہرت کے حامل شوہر سول جج کیخلاف چلائی جارہی ہے، اس ذہنی ٹراما کی وجہ سے مجھے شدید مشکلات کا سامنا ہے،تعلیم یافتہ اور باوقار خاتون ہوں بدنیتی کی بنیاد پر کیس میں پھنسایا جارہا ہے، پولیس کے سامنے شامل تفتیش ہونے کو تیار ہوں ،ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    پولیس نے بچی اور اسکے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا

    میری اہلیہ سخت مزاج ہے لیکن اس نے مارپیٹ نہیں کی ہے

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ بچی کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہم کی جائیں

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • ریاست کو عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دینگے،عدالت

    ریاست کو عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دینگے،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ: سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی سے ملاقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے ایڈیشنل ہوم سیکرٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل جواب طلب کرلیا ،سرکاری وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظر بندی سزا کے طور پر نہیں ہوتی ریاست کو عوام کی زندگیوںسے کھیلنے کی اجازت نہیں دینگے ریاست کے رولز ملاقات کی اجازت دیتے ہیں ، عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں شوہر سے بیوی کی ملاقات سے حکومت کو کیا خطرہ ہے ؟آپ ملاقات کے لیے بنائی کی لسٹ پر نظر ثانی کرسکتے ہیں ،سرکاری وکیل نے کہا کہ درخواست گزار نے ملاقات کے لیے درخواست نہیں دی ،جسٹس راحیل کامران نے پرویز الہی کی اہلیہ قیصرہ الہی کی درخواست پر سماعت کی

    پرویز الٰہی کی اہلیہ نے نظر بندی کے احکامات کو چیلنج کررکھا ہے

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    پرویز الہیٰ کو سیکورٹی خدشات کی وجہ سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے ، پرویز الہیٰ کو عدالت نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا تا ہم ڈی سی لاہور کے حکم پر پرویز الہیٰ کو نظر بند کر دیا گیا، پرویز الٰہی کو ہائی پروفائل کیس کی وجہ سے حکومت کی منظوری سے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے