Baaghi TV

Tag: عدالت

  • نگران پنجاب حکومت کو کام سے روکنے کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری

    نگران پنجاب حکومت کو کام سے روکنے کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری

    لاہو رہائیکورٹ نے نگران پنجاب حکومت کو کام سے روکنے کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست کو باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کیا جاتا ہے لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت، الیکشن کیشن کو نوٹس جاری کردیئے عدالت نے کہا کہ تمام فریقین 6 جون کو تحریری طور پر جواب جمع کرائیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کیلئے 27 اے کا نوٹس جاری کر دیا گیاہے، عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق اسمبلی تحلیل کے 90 روز کے اندر الیکشن ہونا تھے  درخواست گزارکے مطابق نگران حکومت غیرآئینی ہے ۔

    لاہور ہائیکورٹ میں نگران حکومت کو کام سے روکنے اور غیر آئینی قرار دینے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی ،جسٹس شاہد کریم نے درخواستوں پر سماعت کی .عدالت نے وفاقی حکومت سمیت گورنر پنجاب کو نوٹس جاری کردئیے۔ عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی ۔عدالت نے استفسار کیا کہ اگر الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوتا تو حکومت کون چلائے گا ۔ وکیل نے کہا کہ الیکشن نہ ہونے کی صورت میں سابق وزیراعلی ہی برقرار رہیں گے۔حکومت جان بوجھ کر الیکشن نہیں کروا رہی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعدآ 90 روز میں الیکشن لازمی کروانے ہوتے ہیں ۔عدالت نگران حکومت کو کام سے روکنے کے احکامات جاری کرے ۔عدالت نگران حکومت کو غیر آئینی قرار دے ۔

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی نازیبا آڈیو لیک ہوئی ہے

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

  • پنجاب اسمبلی بحالی کی درخواست،عدالت کا فیصلہ آ گیا

    پنجاب اسمبلی بحالی کی درخواست،عدالت کا فیصلہ آ گیا

    لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب اسمبلی کی بحالی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی، عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آپ کیسے متاثرہ فریق ہیں، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ اعلی عدلیہ کے فیصلے ہیں کہ مفاد عامہ کے مقدمات میں براہ راست متاثرہ فریق ہونا ضروری نہیں، اسمبلی کی تحلیل کا معاملہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے،لاہور ہائیکورٹ نے پہلے بھی سیاسی ورکروں کی درخواست پر اسمبلی کی تحلیل کے معاملات کو دیکھا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سپریم کورٹ جائیں۔ مناسب فورم سپریم کورٹ ہے،عدالت نے پنجاب اسمبلی بحالی کی درخواست نمٹا دی

    واضح رہے کہ عمران خان نے دو صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل کر دی تھیں جہاں انکی حکومت تھی، اسکے بعد سے نگران حکومت ہے اور اسکی مدت ختم ہو چکی مگر الیکشن نہیں ہو رہے، سپریم کورٹ نے الیکشن کا پنجاب میں 14 مئی کو حکم دیا تھا تا ہم ابھی تک الیکشن نہیں ہو سکے، اب آنے والے دنوں میں الیکشن کا سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، کچھ نہیں کہا جا سکتا، سپریم کورٹ میں بھی سماعت چل رہی ہے، ابھی تک سپریم کورٹ نے دوبارہ کوئی فیصلہ نہیں دیا، 14 مئی کے حکمنامے کے بعد الیکشن کمیشن نے دوبارہ اپیل کی تھی، آج سپریم کورٹ نے 29 مئی تک سماعت ملتوی کی ہے

    علی امین گنڈا پور کی مشکلات میں اضافہ

    علی امین گنڈا پور کی جانب سے داجل چیک پوسٹ بھکر پر فائرنگ

    گنڈا پور کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا گیا

  • عمران خان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

    عمران خان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،خاتون جج دھمکی کیس میں عمران خان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقراررکھے گئے

    عدالت نے فیصلہ سنا دیا، عدالت نے حکم دیا کہ عمران خان کی رہائشگاہ پر وارنٹ کی تعمیل قانونی طریقہ کار سے نہیں ہوسکی، عدالت کی جانب سے عمران خان کے قابلِ ضمانت وارنٹ کی قانونی طریقہ کار سے تعمیل کروانے کا حکم دیا گیا، عدالت نے حکم دیا کہ عمران خان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار ہیں عمران خان 8 جون کو عدالت پیش ہوں،جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت 8 جون تک ملتوی کردی ،خاتون جج دھمکی کیس میں آج عمران خان کی حاضری سے استثنا کی درخواست منظور کر لی گئی

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

     زمان پارک پر ایک بار پھر پولیس آپریشن کا خدشہ

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پارٹی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خاتون جج اور انتظامی افسروں کو دھمکی دی تھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور توہین عدالت کا کیس چلا تھا تاہم ایک سماعت پر عدالت نے توہین عدالت ختم کر دی تھی

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

  • اعجاز چودھری  اڈیالہ جیل سے رہائی کے فوراً بعد پھر گرفتار

    اعجاز چودھری اڈیالہ جیل سے رہائی کے فوراً بعد پھر گرفتار

    سینیٹر اعجاز چودھری کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے فوراً بعد پھر گرفتار کرلیا گیا

    پولیس اہلکار سینیٹر اعجاز چودھری کو جیل کے عقبی دروازے سے لیکر نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہو گئے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سینیٹر اعجاز چودھری کی رہائی کا حکم دیا تھا ،سینیٹر اعجاز چودھری کے اہلِ خانہ جیل کے باہر ان کی رہائی کے منتظر رہ گئے ،

    جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما سینیٹر اعجاز چودھری کو اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا، اعجاز چودھری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر رہا گیا گیا، عدالتی احکامات موصول ہونے کے بعد اعجاز چودھری کو رہا کیا گیا تھا،

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری کی گرفتاری کے خلاف درخو است پر سماعت کی عدالت نے سینیٹر اعجاز چوہدری کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دیا-

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • الیکشن کمیشن کو اختیارات استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہی نہیں ،چیف جسٹس

    الیکشن کمیشن کو اختیارات استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہی نہیں ،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں پنجاب انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل تھے، الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی نے دلائل کا آغاز کردیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تیسرا دن ہے الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل سن رہے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن کے دلائل مختصر ہوں،بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کافی وقت ضائع ہوا،ہمیں بتائیے کہ آپ کا اصل نقطہ کیا ہے، سجیل سواتی وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ سپریم کورٹ رولز آئینی اختیارات کو کم نہیں کرسکتے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ رولز عدالتی آئینی اختیارات کو کیسے کم کرتے ہیں، اب تک کے نقاط نوٹ کر چکے ہیں آپ آگے بڑھیں،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابات کیلئے نگران حکومت کا ہونا ضروری ہے،نگران حکومت کی تعیناتی کا طریقہ کار آئین میں دیا گیا ہے، نگران حکمرانوں کے اہلخانہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے، آئین میں انتخابات کی شفافیت کے پیش نظر یہ پابندی لگائی گئی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر صوبائی اسمبلی چھ ماہ میں تحلیل ہو جائے تو کیا ساڑھے چار سال نگران حکومت ہی رہے گی،ساڑھے چار سال قومی اسمبلی کی تحلیل کا انتظار کیا جائے گا،؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ساڑھے چار سال نگران حکومت ہی متعلقہ صوبے میں کام کرے گی, آئین کے ایک آرٹیکل ہر عمل کرتے ہوئے دوسرے کی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی، آرٹیکل 254 سے نوے دن کی تاخیر کو قانونی سہارا مل سکتا ہے، انتخابات میں نوے دن کی تاخیر کا مداوا ممکن یے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مداوا ایسے بھی ہو سکتا ہے کہ ساڑھے چار سال کے لیے نئی منتخب حکومت آ سکتی ہے، آئین میں کیسے ممکن ہے کہ منتخب حکومت چھ ماہ اور نگران حکومت ساڑھے چار سال رہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 90 دن کا وقت بھی آئین میں دیا گیا ہے،نگران حکومت 90 دن میں الیکشن کروانے ہی آتی ہے آئین میں کہاں لکھا ہے کہ نگران حکومت کا دورانیہ بڑھایا جا سکتا ہے،نگران حکومت کی مدت میں توسیع آئین کی روح کے منافی ہے ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشن سے متفق ہوں،آئین کی منشاء منتخب حکومتیں اور جہموریت ہی ہے۔ملک منتحب حکومت ہی چلا سکتی ہے۔ جہموریت کو بریک نہیں لگائی جا سکتی 1973 میں آئین بنا تو نگران حکومتوں کا تصور نہیں تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین بنا تو مضبوط الیکشن کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔نگران حکومتیں صرف الیکشن کمیشن کی سہولت کے لیے آئین میں شامل کی گئیں۔ شفاف انتحابات کروانا الیکشن کمیشن کی زمہ داری ہے،الیکشن کمیشن فنڈز اور سیکورٹی کی عدم فراہمی کا بہانہ نہیں کرسکتا۔ کیا الیکشن کمیشن بااختیار نہیں ہے ۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اپنے آئینی اختیارات سے نظر نہیں چرا سکتے۔

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ بتائیں 90 دن کی نگران حکومت ساڑھے چار سال کیسے رہ سکتی ہے،آئین پر اسکی روح کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پنجاب اور کے پی کے دونوں صوبوں میں ہی اسمبلیاں تحلیل ہوئیں،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کا پنجاب انتحابات سے متعلق فیصلہ چیلنج ہوا تھا،سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا اس پر آپ نظر ثانی پر دلائل دے رہے ہیں،آپ کہہ رہے ہیں کے پی کے کی اسمبلی بھی تحلیل ہوئی تھی ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میرے کہنے کا مطلب تھا کے پی کے اور پنجاب پورے ملک کا ستر فیصد ہیں جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بلوچستان اسمبلی وقت سے پہلے تحلیل ہو تو کیا اس پر آئین کا اطلاق نہیں ہوگا،نشستیں جتنی بھی ہوں ہر اسمبلی کی اہمیت برابر ہے،حکومت جو بھی ہو شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،کیا الیکشن کمیشن کہہ سکتا منتحب حکومت کے ہوتے ہوئے الیکشن نہیں ہوں گے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات سے معذوری ظاہر نہیں کر سکتا ،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن تو کہتا تھا فنڈز اور سیکورٹی دیں تو انتحابات کروا دیں گے،آئین کے حصول کی بات کر کے خود اس سے بھاگ رہے ہیں،

    وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ آٹھ اکتوبر کی تاریخ حقائق کے مطابق دی تھی۔جسٹس مینب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آٹھ ستمبر کو الیکشن کمیشن کہے کہ اکتوبر میں الیکشن ممکن نہیں تو کیا ہوگا؟ انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کا فرض ہے، صوابدید نہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے خود کہا آئین کی روح جمہوریت ہے، کب تک انتخابات آگے کرکے جمہوریت قربان کرتے رہیں گے، تاریخ میں کئی مرتبہ جمہوریت قربان کی گئی، جب بھی جمہوریت کی قربانی دی گئی کئی سال نتائج بھگتے، عوام کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے، الیکشن کمیشن کے جواب میں صرف وسائل نہ ہونے کا زکر تھا، الیکشن کمیشن کب کہے گا کہ اب بہت ہوگیا انتخابات ہر صورت ہونگے،اب الیکشن کمیشن سیاسی بات کررہا ہے، بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں ٹرن آوٹ ساٹھ فیصد تھا، سیکیورٹی خدشات کے باوجود بلوچستان کے عوام نے ووٹ ڈالا، انتخابات تاخیر کا شکار ہوں تو منفی قوتیں اپنا زور لگاتی ہیں،بطور آئین کے محافظ عدالت کب تک خاموش رہے گی، آرٹیکل 224 کو سرد خانے میں کتنے عرصے تک رکھ سکتے ہیں .وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نو مئی کے واقعات سے الیکشن کمیشن کے خدشات درست ثابت ہوئے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے خدشات کی نہیں آئین کے اصولوں کی بات کرنی ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات کا مطلب صرف قومی اسمبلی کا الیکشن نہیں ہوتا، ایک ساتھ انتخابات میں پانچ جنرل الیکشن ہوتے ہیں، وزیر اعظم اور وزاء اعلی چھ ماہ بعد اسمبلیاں تحلیل کر دیں تو الیکشن کمیشن کیا کرے گا ،وزیر اعظم اور وزیر اعلی جب چاہیں اسمبلیاں تحلیل کر سکتے ہیں،آئین کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر بتائیں الیکشن کمیشن کا موقف کیا ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت صرف اس لیے آتی ہے کہ کسی جماعت کو سرکاری سپورٹ نہ ملے، کیا نگران حکومت جب تک چاہے رہ سکتی ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نگران حکومت کی مدت کا تعین حالات کے مطابق ہو گا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہائیکورٹ میں انتخابات سے معذوری ظاہر کی نہ سپریم کورٹ میں ، سپریم کورٹ کو بھی کہا کہ وسائل درکار ہیں، اب الیکشن کمیشن کہتا ہے آئین کے اصولوں کے مطابق انتخابات ممکن نہیں ہیں، پہلے کیوں نہیں کہا کہ وسائل ملنے پر بھی انتخابات ممکن نہیں ہیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اپنے تحریری موقف میں بھی یہ نقطہ اٹھایا تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صدر اور گورنر کو بھی حقائق سے آگاہ نہیں کیا، دو دن تک آپ مقدمہ دوبارہ سننے پر دلائل دیتے رہے، ایک دن انتخابات سے آئین کی کون سی شقیں غیر مؤثر ہوں گی، لیڈر آف ہاؤس کو اسمبلی تحلیل کرنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے ، نظام مضبوط ہو تو شاید تمام انتخابات الگ الگ ممکن ہوں، فی الحال تو اندھیرے میں ہی سفر کر رہے ہیں جس کی کوئی منزل نظر نہیں آ رہی،

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سیاسی ماحول کو دیکھ کر ہی آٹھ اکتوبر کی تاریخ دی تھی، نو مئی کو جو ہوا اس خدشے کا اظہار کر چکے تھے، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نہیں ہوسکتا جو آپکو سوٹ کرے وہ موقف اپنا لیں۔جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو نو مئی پر بات کرنے سے روک دیا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کبھی الیکشن کی کوئی تاریخ دیتے ہیں کبھی کوئی تاریخ دیتے ہیں پھر کہتے ہیں ممکن ہی نہیں۔ ہر موڑ پر الیکشن کمیشن نیا موقف اپنا لیتا ہے۔ آپ ماضی کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دے رہے ہیں ماضی اور آج کے حالات میں فرق ہے۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ موجودہ حالات میں انتحابات ممکن نہیں۔ جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ پھر آئینی اصولوں سے موجودہ حالات پر آگئے ہیں۔ کیا پانچوں اسمبلیوں کے الیکشن الگ الگ ہوسکتے ہیں؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ نگران حکومتیں ہوں تو الگ الگ انتحابات ممکن ہیں۔ موجودہ حالات میں الگ الگ انتحابات ممکن نہیں۔ پنجاب میں منتخب حکومت آ گئی تو قومی اسمبلی کے انتحابات کیسے شفاف ہوں گے؟ الیکشن کمیشن تمام سرکاری مشینری حکومت سے لیتا ہے۔نیوٹرل انتظامیہ نہیں ہوگی تو شفاف انتحانات کیسے ہوں گے؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو وزارت خزانہ کے بہانے قبول نہیں کرنے چاہیے، الیکشن کمیشن کو حکومت سے ٹھوس وضاحت لینی چاہیے،کل ارکان اسمبلی کے لیے 20 ارب کی سپلیمنٹری گرانٹس منظور ہوئیں، الیکشن کمیشن کو بھی 21 ارب ہی درکار تھے، ارکان اسمبلی کو فنڈ ملنا اچھی بات ہے، الیکشن کمیشن خود غیر فعال ہے، الیکشن کمیشن کے استعدادکار میں اضافے کی ضرورت ہے، الیکشن کمیشن نے چار لاکھ پچاس ہزار سیکیورٹی اہلکار مانگے، الیکشن کمیشن کو بھی ڈیمانڈ کرتے ہوئے سوچنا چاہیے، فوج کی سیکیورٹی کی ضرورت کیا ہے؟ فوج صرف سیکیورٹی کے لیے علامتی طور پر ہوتی ہے، فوجی اہلکار آرام سے کسی کو روکے تو لوگ رک جاتے ہیں۔ جو پولنگ سٹیشن حساس یا مشکل ترین ہیں وہاں پولنگ موخر ہوسکتی ہے،ہوم ورک کرکے آئیں، پتہ تو چلے کہ الیکشن کمیشن کی مشکل کیا ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن مکمل بااختیار ہے، کارروائی کرسکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اختیارات استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہی نہیں۔ الیکشن کیس کی سماعت سوموار 29 مئی تک ملتوی کر دی گئی،

    نگران پنجاب حکومت نے صوبہ پنجاب میں فوری الیکشن کی مخالفت کر دی

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

  • کور کمانڈر ہاؤس دراصل جناح ہاؤس اور قانونی طور پرسویلین عمارت ہے، عمران خان

    کور کمانڈر ہاؤس دراصل جناح ہاؤس اور قانونی طور پرسویلین عمارت ہے، عمران خان

    عمران خان نے پارٹی تحلیل کی کوشش اور رہنمائوں کو پارٹی چھوڑنے پر مجبور کرنے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا،

    چیئرمین پی ٹی آئی نے حامد خان کے ذریعے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ،درخواست میں غیر اعلانیہ مارشل لاء اور آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی طلبی کالعدم قرار دینے کی استدعا کر دی،عدالت سے استدعا کی گئی کہ سویلین افراد کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل اور گرفتاریاں روکی جائیں،ایم پی او کے تحت گرفتار کارکنوں اور رہنمائوں کو رہا کرنے کو حکم دیا جائے، تحریک انصاف کو تحلیل کرنے کی کوششیں کالعدم قرار دی جائیں، نو مئی کے واقعہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے،پارٹی کو ختم کرنے کی کوشش آئین کی خلاف ورزی ہے،پارٹی قائدین اور کارکنوں کو جماعت سے علیحدہ ہونے پر مجبور کرنا قانون کیخلاف ہے، سپریم کورٹ ماضی میں اس حوالے سے اہم فیصلے صادر کر چکی ہے،گھروں پر چھاپے مار کر بغیر مقدمات گرفتاریاں کی جا رہی ہیں

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ کور کمانڈر ہائوس لاہور دراصل جناح ہائوس اور قانونی طور پر سویلین عمارت ہے، جناح ہائوس حملے کے مبینہ ملزمان کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل خلاف قانون ہے، خوف اور گرفتاریوں کے ذریعے تحریک انصاف کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،عمران خان کی درخواست میں وفاق، نوازشریف، شہباز شریف، مریم نواز کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں آصف زرداری، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان کو فریق بنایا گیا ہے، عمران خان کی درخواست میں نگران وزیر اعلی محسن نقوی، اعظم خان سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 245 کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دے۔ سپریم کورٹ آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سویلینز کا کورٹ مارشل غیر قانونی قرار دے۔ عدالت تحریک انصاف رہنماوں کی پارٹی سے جبری علیحدگیوں کو غیر آئینی قرار دے۔ یہ سارا ڈرامہ نواز شریف اور مریم نواز کا رچایا ہے، نوازشریف اور مریم نواز نے پروپیگنڈہ کیا کہ عمران خان اپنا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے ہمیشہ اداروں کا احترام کیا اور ان کے ساتھ کھڑے رہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

  • اسد عمر کی ضمانت  29 مئی تک منظور

    اسد عمر کی ضمانت 29 مئی تک منظور

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،اسد عمر کے خلاف تھانہ ترنول اور تھانہ مارگلہ میں درج مقدمات پر سماعت ہوئی

    اسد عمر کی جانب سے وکلاء بابر اعوان اور آمنہ علی عدالت پیش ہوئے،اسد عمر کی درخواستِ ضمانت پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج طاہرعباس سِپرا کی عدالت میں ہوئی، وکیل بابر اعوان نے کہا کہ کچہری کی نئی عمارت شفٹ ہونے جا رہی ہے، جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 6 جون کا وقت رکھا ہے لیکن کچہری 6 جون کو بھی شفٹ نہ ہوتی دکھائی دے رہی، اسد عمر کی ضمانت 10 ہزار مچلکوں کے عوض 29 مئی تک منظور کرلی گئی

    وکیل بابراعوان نے جج طاہرعباس سِپرا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں چند دوستوں سے ملاقات ہوئی تو آپ کا زکر ہوا،دوستوں نے اچھے الفاظ میں آپ کو یاد کیا، ایڈیشنل سیشن جج طاہرعباس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں عدالت کا احترام کرنا بڑی بات ہے، ججز نے تو کیس سننا ہوتاہے، ہم جواب نہیں دے سکتے،آپ کے پاس تو اپنی رائے دینے کا پلیٹ فارم ہوتا ہے،ججز اپنا دفاع نہیں کر سکتے،وکیل بابراعوان نے جواب دیا کہ ججز کا دفاع کرنے کے لیے وکلاء موجود ہیں، بابراعوان کے جواب پر جج طاہرعباس سِپرا نے ہاتھ جوڑ لیے، کمرہ عدالت میں قہقہہ گونج اٹھا،جج طاہرعباس سِپرا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال ایسی ہے کہ گاڑی کا ایک ٹائر ٹریکٹر اور دوسرا گاڑی کا ہے،

    اے دشمن دیں تو نے کس قوم کو ہے للکارا

    ملک بھر میں آج یوم تکریم شہدائے پاکستان منایا جارہا ہے-

    یوم تکریم شہدائے پاکستان کے موقع پر جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں مرکزی تقریب 

    یوم تکریم شہدائے پاکستان کی مناسبت سے نغمہ جاری

  • عالیہ حمزہ کو عدالت نے شناحت پریڈ کیلئے جیل بھیج دیا

    عالیہ حمزہ کو عدالت نے شناحت پریڈ کیلئے جیل بھیج دیا

    لاہور انسداد ہشت گردی عدالت میں جلاوگھیروا کا معاملہ کیس کی سماعت ہوئی،سابق ایم این اے عالیہ حمزہ کو عدالت نے شناحت پریڈ کیلئے جیل بھیج دیا ، وکیل عالیہ حمزہ نے کہا کہ عدالت ملزمہ کو عدالت پیش کرنے کا حکم دے،

    پولیس کی جانب سےعدالت میں ورانٹ جمع کروایا گیا ،انسداد دہشت گردی کی جج عمبر گل خان نے کیس پر سماعت کی عدالت نے عالیہ حمزہ کو شناحت پریڈ کے بعد 29 مئی کو پیش کرنے کا حکم دے دیا عالیہ حمزہ کے خلاف تھانہ فیکٹری ایریا میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہیں

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ، ملائکہ بخاری اور علی محمد کی نظر بندی کے خلاف اور دوبارہ گرفتاری پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے ملائکہ بخاری اور علی محمد خان کی درخواستیں نمٹا دیں ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی ،وکیل درخواست گزار تیمور ملک ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، وکیل تیمور ملک نے کہا کہ ملائکہ بخاری اور علی محمد خان کو ڈی سی راولپنڈی کے احکامات پر دوبارہ گرفتار کیا گیا ، دونوں رہنماؤں کو تھری ایم پی او کے تحت ڈی سی پنڈی کے حکم پر گرفتارکیا گیا ، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنڈی کا کیس ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ، آپ متعلقہ فورم لاہور ہائیکورٹ پنڈی بنچ سے رجوع کریں ، عدالت نے ہدایت کے ساتھ درخواستیں نمٹا دیں

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،

  • 9 مئی واقعات کی تحقیقات کیلئےجے آئی ٹی کی تشکیل،پنجاب حکومت سے جوب طلب

    9 مئی واقعات کی تحقیقات کیلئےجے آئی ٹی کی تشکیل،پنجاب حکومت سے جوب طلب

    لاہور: عدالت نے 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کی تشکیل پر پنجاب حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: نگراں حکومت پنجاب نے 9 مئی کو جناح ہاؤس پر حملے کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی، جس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی جسٹس شاہد بلال حسن نے درخواست پر سماعت کی درخواست میں نگران وزیر اعلیٰ، سیکرٹری ہوم، چیف سیکرٹری کو فریق بنایا گیا ہے۔

    اعجاز چوہدری کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کالعدم قرار

    جے آئی ٹی کی تشکیل کے خلاف درخواست پر عدالت نے پنجاب حکومت سے جواب طلب کر لیا۔

    وضح رہے کہ 19 مئی کو نگراں حکومت پنجاب نے 9 مئی کو جناح ہاؤس پر حملے کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی، اور محکمہ داخلہ پنجاب نے نوٹی فکیشن بھی جاری کیا تھا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی کا سربراہ ڈی آئی جی کامران عادل کو مقرر کیا گیا ہے، جب کہ ایس ایس پی صہیب اشرف، ڈی ایس پی رضا زاہد، اے ایس پی تیمورخان اور انچارج انویسٹی گیشن محمد سرور بھی جے آئی ٹی میں شامل ہوں گے۔

    پہلے بتا دیتے شیریں مزاری کی گرفتاری کا ایم پی او کے ساتھ کوئی تعلق …

    محکمہ داخلہ پنجاب نے لاہور کے مختلف تھانوں میں درج دیگر 9 مقدمات پر بھی جی آئی ٹی تشکیل دی تھی، اور محکمہ داخلہ نے آئی جی پولیس کی سفارشات پر نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔

  • حسان نیازی،زلفی بخاری،اعظم سواتی،مراد سعید سمیت دیگر کی درخواست ضمانت مسترد

    حسان نیازی،زلفی بخاری،اعظم سواتی،مراد سعید سمیت دیگر کی درخواست ضمانت مسترد

    انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد ،اے ٹی سی اسلام آباد نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی استثنا کی درخواستوں پر محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا ،

    اے ٹی سی جج راجہ جوادعباس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی آج استثنا کی درخواستیں مسترد کردیں ،اے ٹی سی نے حسان نیازی، فرخ حبیب، اسد قیصر اور شبلی فراز کی ضمانت قبل از گرفتاری خارج کردی ،زلفی بخاری، اعظم سواتی، عاطف خان کی بھی ضمانت قبل از گرفتاری خارج کر دی گئی، اے ٹی سی نے مراد سعید، علی نواز اعوان اور راجہ خرم کی بھی ضمانت قبل از گرفتاری خارج کردی اےٹی سی جج راجہ جواد عباس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی غیر حاضری کے باعث استثنا کی درخواستیں مسترد کر دیں ،پی ٹی آئی رہنماؤں پر تھانہ گولڑہ اور سی ٹی ڈی میں دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہیں

    قبل ازیں انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد ،اسدعمر اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے خلاف دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کیسزکے حوالہ سے درخواست کی سماعت ہوئی ،عامرمحمود کیانی انسدادِ دہشت گردی عدالت پیش ہوئے،انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس کی عدالت میں سماعت ہوئی، وکیل سردار مصروف نے کہا کہ میں سیاسی رہنماؤں کی طرف سے استثنا کی درخواستیں دائر کروں گا،اے ٹی سی جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج ضمانت کنفرمیشن پر بحث ہونی ہے ورنہ درخواست ضمانت خارج کردی جائے گی، عدالت کو درخواست ضمانت کنفرمیشن پر بحث کرنے کا وقت بتا دیا جائے، جج نے تفتیشی سے استفسار کیا کہ کیا عامر محمود کیانی تفتیش کے لیے درکار ہیں؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ عامرمحمود کیانی کو شاملِ تفتیش کرنا باقی ہے،

    حماداظہر اور عمرایوب کی جانب سے وکیل حسن سجاد نے حاضری سے استثنا کی درخواستیں دائر کر دیں، وکیل حسن سجار نے کہا کہ عمرایوب آج لاہور ہائیکورٹ پیش ہوں گے،حماد اظہر لاہور میں مصروف ہیں،جج نے ہدایت کی کہ لاہور ہائیکورٹ کی حاضری کی کاپی عدالت میں جمع کروا دیجیے گا، ساڑھے تین بجے تک انتظار کریں گے، اس کے بعد انتظار ختم ہے،

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

     پاکستان میں 2018 سے قبل ٹرانسجینڈر قانون نہیں تھا،