Baaghi TV

Tag: عدالت

  • خاکروب کے بعد وکیل عمران خان کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے پہنچ گیا

    خاکروب کے بعد وکیل عمران خان کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے پہنچ گیا

    انسداد دہشت گردی عدالت میں عمران خان کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا معاملہ ، ایڈوکیٹ محمد حبیب عمران خان کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے پہنچ گیا

    عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم عمران خان کدھر ہے جس کی جانب سے مچلکے جمع کرانے ہیں ، ضمانتی نے عدالت میں کہا کہ اگر عدالت حکم دے تو میں ابھی عمران خان کو لے آتا ہوں ،عدالت نے کاروائی کچھ دیر تک ملتوی کردی ،گزشتہ روز عمران خان کا خاکروب مچلکے جمع کرانے آیا تھا جو عدالت نے مسترد کر دیئے تھے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے کیس پر سماعت کی، ضمانتی نے کہا کہ میں تینوں مقدمات میں ایک ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکہ جمع کرانے ہیں ، ضمانتی نے گاڑیوں کے کاغذات ضمانتی مچلکے کے لیے عدالت پیش کیے ,عمران خان نے لاہور کی اے ٹی سی عدالت سے 9 مئی کے تینوں واقعات میں عبوری ضمانت کروائی تھی

    اسد عمر  اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار 

    ملک بھر میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ 

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    واضح رہے کہ گذشتہ روذ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عمران خان کی ضمانتی مچلکے مسترد کر دیئے تھے، عمران خان کا سویپر انکے ضمانتی مچلکے جمع کرانے دہشتگردی عدالت گیا تھا ،عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کیا کرتے ہیں ؟ضمانتی شہروز نے بیان دیا کہ میں عمران خان کے گھر پر خاکروب ہوں، عدالت نے استفسار کیا کہ یہ مچلکے کیسے منظور کر لیں، عمران خان پیش نہ ہوئے تو آپ ذمہ دار ہونگے؟ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج اعجاز بٹر نے کیس کی سماعت کی ،سویپر نے تین لاکھ روپے ضمانتی مچلکے دینے کے بعد واپس لے لیے ،عمران خان نے لاہور کی اے ٹی سی عدالت سے 9 مئی کے تینوں واقعات میں عبوری ضمانت کروائی تھی

  • عمران خان گھر کا سرچ وارنٹ کالعدم کرانے کیلیے عدالت پہنچ گئے

    عمران خان گھر کا سرچ وارنٹ کالعدم کرانے کیلیے عدالت پہنچ گئے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان گھر کا سرچ وارنٹ کالعدم کرانے کے لیے عدالت پہنچ گئے

    عمران خان نے انسداد دہشت گردی عدالت میں درخواست دائر کر دی، عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کمشنر لاہور اورڈی سی لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے، عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشتگردی عدالت سے 18 مئی کو پولیس نے سرچ وارنٹ حاصل کیے پولیس سمیت دیگر نے سرچ وارنٹ بدنیتی کی بنیاد پر حاصل کیے

    عمران خان کی جانب سے عدالت میں دائردرخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت 18 مئی کو جاری سرچ وارنٹ کالعدم قرار دے ،عدالت نے نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرلیا

    واضح رہے کہ پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات عامر میر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کے گھر دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں،چالیس کے قریب شرپسند جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے وہ زمان پارک موجود ہیں،جس کے بعد تلاشی کے لئے حکومت نے سرچ وارنٹ لئے تھے، اسکے بعد کمشنر لاہور زمان پارک گئے تھے، پولیس بھی ساتھ تھی تا ہم عمران خان کی گھر کی تلاشی نہیں لی جا سکی تھی، جس کے بعد حکام واپس آ گئے تھے

    عمران خان زمان پارک میں موجود ہیں، تحریک انصاف کے رہنما پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر رہے ہیں

    عمران خان کو ملک سے نکالنے کی تیاری، جمائما کو سگنل مل گیا. مبشر لقمان

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

  • عمران خان اور اسکی بیوی کو عدالتوں میں پیش ہونا ہو گا،کیپٹن (ر) صفدر

    عمران خان اور اسکی بیوی کو عدالتوں میں پیش ہونا ہو گا،کیپٹن (ر) صفدر

    مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن ر صفدر کی شاد باغ آمد ہوئی ہے،

    کیپٹن ر محمد صفدر نے ایک پرائیوٹ کالج کا افتتاح کیا، اس موقع پر کیپٹن ر صفدر کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک فتنہ ہے, اس سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے,یہ سمجھ رہے تھے کہ فیض حمید جماعت چلائے گا، باجوہ کا اوپر ہاتھ ہو گا مگر یہ ہاتھ اُٹھ گئے،عمران خان کو ملک کی تباہی کیلئے تیار کیا گیا، عمران خان کو چھوڑنے والے یہ نظریاتی لوگ نہیں، کسی بھی جماعت میں نہیں رہ سکتے،پاکستان کی ڈرائیونگ سیٹ پر نواز شریف کو لائیں گے تو ترقی ہوگی, عمران خان نے نوجوانوں کی جو تربیت کی ہے, وہ ظلم پر مبنی ہے,

    کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے ضلع کچہری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے بغیر پاکستان نہیں چلے گا،حکومت مسلم لیگ کی نہیں تیرہ جماعتوں کی ہے، نواز شریف اپنی جرات سے واپس آئیں گے، پاکستان مسلم لیگ ن ایک سیاسی جماعت اور پی ٹی آئی ایک دہشتگرد تنظیم ہے اصل حقائق دیکھے تو یہ لوگ بھاگ گئے میاں صاحب کے بغیر پاکستان نہیں چلے گا جو لوگ پی ٹی آئی چھوڑ رہے انکا پرانا نکال کر نیا سوفٹ وئیر ڈالا گیا ،یہ سخن فروش ہے ان کو قدر نہیں ہے ،22 کروڑ عوام میں سے کسی کا بھائی کسی کا بیٹا بارڈر پر کھڑا ہے ،60 لاکھ شہدا کی قربانیوں سے یہ وطن حاصل کیا گیا ،جعلی پیر کے جعلی بچوں کو احتساب کے لیے کھڑا ہونا ہو گا ،عمران خان اور اس کی بیوی کو عدالتوں میں پیش ہونا ہو گا ،قوم پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے

    دوسری جانب ن لیگی رہنما کیپٹن (ر) صفدر پولیس اہلکاروں سے لڑائی جھگڑا کرنے کے کیس میں لاہور کی مقامی عدالت میں پیش ہوئےعدالت نے ان کے خلاف کیس میں دلائل سن کر فیصلہ محفوظ کرلیا ،کیپٹن (ر) صفدر کیخلاف مقدمہ نمبر 1698/2019 بجرم 16mpo/506/24A تھانہ اسلام پورہ تھانے میں مقدمات درج ہیں۔ کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل فرہاد علی شاہ اورخاور محبوب نے عدالت میں دلائل دیئے، عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا

    واضح رہے کہ تھانہ اسلامپورہ پولیس نے کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف انتشار انگیز تقریر اورمریم نواز کی پیشی کے موقع پر پولیس سے لڑائی جھگڑے کا مقدمہ درج کر رکھا ہے کیپٹن (ر) صفدر کے عدالت میں پیشی کے موقع پر وکلاء اور ایک شہری کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد وکلاء کی جانب سے شہری کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    ن لیگی قیادت پر غداری کا مقدمہ درج کروانے والے بدر رشید کی گورنر پنجاب کے ساتھ تصاویر وائرل

    جاوید لطیف محب وطن،مجھے گرفتار کیا گیا تو قیادت کون کریگا؟ مریم نواز نے اعلان کردیا

  • جناح ہاؤس حملہ کیس،عمران خان کی ضمانتی مچلکے مسترد

    جناح ہاؤس حملہ کیس،عمران خان کی ضمانتی مچلکے مسترد

    انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں جناح ہاؤس حملہ کیس کی سماعت ہوئی

    انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عمران خان کی ضمانتی مچلکے مسترد کر دیئے ، عمران خان کا سویپر انکے ضمانتی مچلکے جمع کرانے دہشتگردی عدالت گیا ،عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کیا کرتے ہیں ؟ضمانتی شہروز نے بیان دیا کہ میں عمران خان کے گھر پر خاکروب ہوں، عدالت نے استفسار کیا کہ یہ مچلکے کیسے منظور کر لیں، عمران خان پیش نہ ہوئے تو آپ ذمہ دار ہونگے؟ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج اعجاز بٹر نے کیس کی سماعت کی ،سویپر نے تین لاکھ روپے ضمانتی مچلکے دینے کے بعد واپس لے لیے ،عمران خان نے لاہور کی اے ٹی سی عدالت سے 9 مئی کے تینوں واقعات میں عبوری ضمانت کروائی تھی

    اسد عمر  اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار 

    ملک بھر میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ 

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    دوسری جانب عسکری ٹاور حملہ٫ فائرنگ اور جلاؤ گھیراؤ کا معاملہ ،عدالت نے اعجاز چوہدری کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کر لیا ،انسداد دھشت گردی عدالت کی جج عبہر گل خان نے سماعت کی ،تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ اعجاز چوہدری کی عسکری ٹاور حملہ کیس میں گرفتاری ڈالی گئی ہے، تھانہ گلبرگ کے مقدمہ نمبر 2171 مین اعجاز چوہدری اعجاز نامزد ہے ،انسپکٹر زاہد سلیم نے اعجاز چوہدری کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ،اور کہا کہ ملزم سے اسلحہ برامد کرنا ہے فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کرانا ہے، ڈپٹی ہراسیکیوٹر امجد جاوید نے بھی جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ،

  • سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں،چیف جسٹس

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،مبینہ آڈیو لیکس تحقیقاتی کمیشن کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی، وفاقی حکومت نے پانچ رکنی لارجر بنچ پر اعتراض اٹھا دیا ،حکومت کی جانب سے اعتراض اٹارنی جنرل نے کیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف جسٹس کو اس بنچ میں شامل نہیں ہونا چاہیے، بنچ سے الگ ہونے کا فیصلہ کرنا چیف جسٹس کا استحقاق ہے، مناسب یہی ہے کہ چیف جسٹس اس مقدمے کو نہ سنیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنچ پر اعتراض کا آپ کو پورا موقع دیا جائے گا، 9 مئی کے سانحے کے بعد عدلیہ کے خلاف بیان بازی بند ہو گئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے انتظامی اختیار میں مداخلت نہ کریں ہم حکومت کا مکمل احترام کرتے ہیں،عدلیہ بنیادی انسانی حقوق کی محافظ ہے،حکومت نے چیف جسٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کی قانون سازی جلدی میں کی،
    حکومت کسی جج کو اپنی مرضی کے مطابق بینچ میں نہیں بٹھا سکتیاگر آپ نے ہم سے مشورہ کیا ہوتا تو ہم آپ کو بتاتے،9 مئی کے واقعہ کا فائدہ یہ ہوا کہ جوڈیشری کے خلاف جو بیان بازی ہو رہی تھی وہ ختم ہو گئی،حکومت ہم سے مشورہ کرتی تو کوئی بہتر راستہ دکھاتے ،آپ نے ضمانت اور فیملی کیسز کو بھی اس قانون سازی کا حصہ بنا دیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن میں نامزدگی کیلئے مشاورت بھی نہیں کی گئی عدلیہ میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی گئی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے عدلیہ میں تقسیم کی کوشش نہیں کی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اگر کوشش نہیں کی تو بھی ایسا ہوا ضرور، ہر بات کھل کر قانون میں نہیں دی گئی ہوتی، آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے، آرٹیکل 175 کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، عدلیہ اصلاحات بل کس کے مشورے سے لایا گیا؟ حکومت نے فیملی سمیت ہر مقدمہ ہی کمیٹی کو بھجوا دیا تھا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدلیہ اصلاحات بل کیس میں بھی فل کورٹ کی استدعا کی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کی استدعا خود عدلیہ اصلاحات بل کیخلاف ہے، عدلیہ اصلاحات قانون خود کہتا ہے 184/3 کے مقدمات پانچ رکنی بنچ سنے گا، اگر لارجر بنچ نے اپیل سننی ہو تو ججز کئی دستیاب نہیں ہونگے،ہمارے انتظامی امور میں مداخلت کرینگے تو کیسے ریلیف ملے گا؟

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدلیہ اصلاحات بل پر اعتراض دور کر دینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اعتراض دور کریں کس نے روکا ہے؟ اعتراضات دور ہوگئے تو شاید ریلیف بھی مل جائے، آٹھ رکنی بنچ بنانے کی یہی وجہ ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اختیارات سے متعلق قانون میں حکومت نے پانچ ججز کے بینچ بنانے کا کہہ دیا، نئے قانون میں اپیل کیلئے پانچ سے بھی بڑا بینچ بنانے کا کہہ دیا،ہمارے پاس ججز کی تعداد کی کمی ہے، حکومت بتائے اس نے سپریم کورٹ کے بارے میں قانون سازی کرتے وقت کس سے مشورہ کیا، سپریم کورٹ کے انتظامی امور میں پوچھے بغیر مداخلت ہوگی تو یہ ہوگا،ہمیں احساس ہے کہ آپ حکومت پاکستان کے وکیل ہیں، تمام اداروں کو مکمل احترام ملنا چاہیے، یہ سب انا کی باتیں نہیں آئین کی باتیں ہیں،آئین اختیارات کی تقسیم کی بات کرتا ہے،

    دوران سماعت 9 مئی کے واقعات کا بھی تذکرہ ہوا،. چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نفیس آدمی ہیں آپکا اور حکومت کا احترام کرتے ہیں،اب شدت سے سب کو احساس ہو رہا ہے کہ اداروں کا احترام ضروری ہے، 9 مئی کے واقعات کا فائدہ عدلیہ کو ہوا،عدلیہ کو فائدہ ایسے ہوا کہ ہمارے خلاف ہونے والی بیان بازی رک گئی، بدقسمتی سے عدلیہ کیخلاف بیان بازی رکنے کیلئے اتنے بڑے سانحہ کی ضرورت پڑی،ہر آئینی و قانونی ادارے کا تحفظ اور احترام ضروری ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اگر جھگڑا کرنا ہے تو تیاری کرکے آئیں،سپریم کورٹ کے انتظامی اختیارات میں مداخلت بند کی جائے،عدلیہ وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ، ہم انا کی بات نہیں آئین کی بات کر رہے ہیں ،

    صدر سپریم کورٹ بار کے وکیل شعیب شاہین نے درخواست پر دلائل کا آغاز کر دیا ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آڈیو لیک کمیشن کی تشکیل میں مشاورت کا حصہ نہیں تھا۔ معاملہ آپ سے متعلقہ تھا اس لئے سینئر جج کو کمیشن کا سربراہ بنایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس ادارے کا سربراہ ہوتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ 2017 کے قانون کے مطابق چیف جسٹس سے مشاورت ضروری نہیں ،کمیشن کی تشکیل کا 2017 کا قانون کسی نے چیلنج نہیں کیا۔ا چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو آئینی روایات کی پاسداری کرنی چاہیے کمیشن کی تشکیل کیلئے مشاورت کا 1956 کے قانون میں بھی نہیں لکھا تھا۔ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ساری آڈیو ایک ہی ٹوئیٹر اکاونٹ سے جاری ہوتی ہے۔آڈیو لیک ہونے کے بعد وفاقی وزراء اس پر پریس کانفرنسز کرتے ہیں۔ ٹوئیٹر پر ہیکر کے نام سے گمنام اکاونٹ ہے،ہیکر کے نام سے اکاونٹ سے آڈیو ویڈیو ریلیز ہوتی ہیں۔یہ اکاونٹ ستمبر 2022 میں بنایا گیا۔ فروری 2023 سے گمنام اکاؤنٹ سے آڈیو ویڈیوز لیک ہوئی۔ ہماری درخواست کمیشن کی تشکیل کیخلاف ہیں۔ فون ٹیپنگ بذات خود غیر آئینی عمل ہے، انکوائری کمیشن کے ضابطہ کار میں کہیں نہیں لکھا کہ فون کس نے ٹیپ کیے، حکومت تاثر دے رہی ہے فون ٹیپنگ کا عمل درست ہے،حکومت تسلیم کرے کہ ہماری کسی ایجنسی نے فون ٹیپنگ کی،

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فون ٹیپنگ پر بے نظیر بھٹو حکومت کیس موجود ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بھی اصول طے کیے ہیں، کس جج نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اس کا تعین کون کرے گا؟ وکیل شعیب شاہین نے کہاکہ آرٹیکل 209 کے تحت یہ اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کا اختیار انکوائری کمیشن کو دے دیا گیا، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹیلی فون پر گفتگو کی ٹیپنگ غیر قانونی عمل ہے، آرٹیکل 14 کے تحت یہ انسانی وقار کے بھی خلاف ہے اس کیس میں عدلیہ کی آزادی کا بھی سوال ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ حکومت پہلے تسلیم کرے کہ آڈیوز اس کے اداروں نے ریکارڈ کرکے لیک کی ہیں، اگر آڈیوز کی ریکارڈنگ قانون کے مطابق ہے تو اعتراض نہیں،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ فرض کیا گیا ہے کہ ریکارڈنگ قانون کے مطابق کی گئی،سپریم کورٹ کا بینظیر بھٹو کیس میں 1998 کا فیصلہ کچھ اور کہتا ہے، فیصلے کے مطابق کالز کی ریکارڈنگ عدالت کی اجازت سے ہی ہوسکتی ہیں، ججز کی آڈیوز کو بطور شواہد تسلیم کرکے مس کنڈکٹ کا تعین کیا جا رہا ہے، کیا اب کمیشن سفارش کرے گا کہ جج مس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا ہے؟فیئر ٹرائل ایکٹ بھی ریکارڈنگ کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ریکارڈنگ پیکا ایکٹ 2016 اور ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996 کی بھی خلاف ورزی ہے، بینظیر بھٹو کیس بھی 1996 کے قانون کی خلاف ورزی پر بنا تھا، فیئرٹرائل ایکٹ کے مطابق مشکوک افراد کی ریکارڈنگ کی جا سکتی ہے، ریکارڈنگ کیلئے متعلقہ پولیس یا حساس ادارے کا مجاز افسر درخواست دے سکتا ہے،مشکوک افراد کا متعلقہ کیس سے تعلق ہونا بھی ضروری ہے،قانون کے مطابق جاسوسی کے اجازت نامہ پر دستخط ہائی کورٹ کا جج کر سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس فائز عیسی کیس میں بھی قرار دیا گیا کہ ججز کی جاسوسی قانون کیخلاف ہے، جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم سوال عدلیہ کی آزادی کا ہے، کالز ریکارڈنگ آئین کے آرٹیکل 14 کی بھی خلاف ورزی ہے،

    وکیل شعیب شاہین نے عدالت میں کہا کہ ایک نجی چینل نے ایک ادارے کے سربراہ کی ویڈیو چلائی تو اس پر دس لاکھ کا جرمانہ ہوا، نجی چینل نے کہا ہمیں انفارمیشن ملی اور ہم نے چلایا،ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا جب تک تصدیق نہ ہو آڈیو ویڈیو نہیں چلائی جاسکتی ہے، اگر ایسی آڈیو ویڈیو کسی دشمن تک پہنچ جائے تو ملک کی کیا عزت رہے گی،اس وقت عدلیہ کو سب سے زیادہ کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،اس وقت تمام لوگوں کی توجہ کا مرکز عدلیہ ہے، عوام کا ہجوم اب خود انصاف کرنے لگا ہے، کمیشن نے پورے پاکستان کو نوٹس کیا کہ جس کہ پاس جو مواد ہے وہ جمع کروا سکتا ہے،کوئی قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا کہ کمیشن کا قیام آرٹیکل 209کی بھی خلاف ورزی ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ سپریم کورٹ افتحار چوہدری اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں فیصلے دے چکی ہے آرٹیکل 209 ایگزیکٹو کو اجازت دیتا ہے کہ صدراتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج سکتی ہے،جسٹس منیب اخترنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججز کے خلاف مواد اکٹھا کر کے مس کنڈیکٹ کیا ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ جس ملک کا عدالتی نظام مضبوط ہوتا ہے وہاں حقوق کا تحفظ ہوتا ہے، اگر ہم تماشائی بن کر بیٹھے رہے گے تو ریاستی ادارے تباہ ہو جائیں گے، کمیشن اپنے ٹی او آرز سے باہر نہیں جا سکتا ہے، یہ بھی دیکھنا ہو گا یہ آڈیوز ریکارڈ کس نے کی ہیں،

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے آئین میں اختیارات کی تقسیم کی خلاف ورزی کی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے انکوائری کمیشن نے ہر کام جلدی میں کیا ہے جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز اپنی مرضی سے کیسے کیمشن کا حصہ بن سکتے ہیں،میٹھے الفاظ استعمال کر کے کور دینے کی کوشش کی جارہی ہے بظاہر اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے، یہ انتہائی پریشان کن صورتحال ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ آڈیو چلائی جا رہی تھی تو کیا حکومت یا پیمرا نے اسے روکنے کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی؟ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ پیمرا نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی، حکومت نے بھی پیمرا سے کوئی بازپرس نہیں کی،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پیمرا کی حد تک عدالت سے متفق ہوں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کی تقسیم کے آئینی اصول سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے، عدلیہ کی آزادی کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، آج ہی عبوری ریلیف اور سماعت پر حکمنامہ جاری کرینگے،سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے حکومت نے کمیشن جلد بازی میں بنایا،جلد بازی میں کیے گئے کام اکثر غلط ہو جاتے ہیں،آرٹیکل 209 کا معاملہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ کمیشن کے آرڈر میں ذکر نہیں آڈیو کیسے ریکارڈ کی گئی کمیشن اپنے ٹی او آرز کا پابند ہے کمیشن نے پہلے اجلاس پر پورے پاکستان کو بزریعہ اشتہار نوٹس جاری کردیا، آڈیوز کو کس نے بنایا وہ کسی کو معلوم نہیں۔ معاملہ کے جائزہ کیلئےکمیشن کی کاروائی کو معطل کر دیا جائے۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس دائر کرنا ایگزیکٹیو کا اختیار ہے۔ جج سے متعلق معاملہ تو پہلے ہی جوڈیشل کونسل میں زیر التواء ہے۔ بظاہر یہ معاملہ اختیارت کی تقسیم کے آئینی اصول سے منافی ہے۔ جج کیخلاف انکوائری صرف جوڈیشل کونسل کر سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے تحقیقات کیلئے طلبی کے نوٹس جاری کرنا شروع کردیے 4 شخصیات کو 27 مئی کو طلب کرلیا گیا ہے جن میں صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری اور خواجہ طارق رحیم ایڈوکیٹ بھی شامل ہیں انکوائری کمیشن کا اجلاس 27 مئی کی صبح 10 سپریم کورٹ میں ہو گا۔

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں۔

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

  • 121 مقدمات کے اخراج کی درخواست،سرکاری وکیل نے کی مخالفت

    121 مقدمات کے اخراج کی درخواست،سرکاری وکیل نے کی مخالفت

    لاہور ہائیکورٹ میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی 121 مقدمات کے اخراج کی درخواست سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل نے دلائل دیئے ،سرکاری وکیل نے کہا کہ اسطرح کا کیس سپریم کورٹ فائل کیا گیا ہے، لہذا یہ درخواستیں غیر موثر ہوگئی ہیں ،عدالت میں سرکاری وکیل نے عمران خان کی درخوستوں کی مخالفت کر دی اور کہا کہ پٹیشنر نے 245 مقدمات چلینج کیے ہیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے صرف 9 کیسز کی لسٹ فراہم کی ہے، آج جو آپ بات کر رہے یہ ان کیسز پر عمل دخل نہیں ہیں ،عدالت نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ آج ان پر دلائل دیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں مقدمات کی تفصیل فراہم کی جائے وہ ہم نے کر دی ہیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ کہا ہے کہ مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں ،سرکاری وکیل نے کہا کہ انہوں نے اپنی پٹیشن میں ذکر کیا ہے یہ حکومت غیر قانونی طریقے سے کر رہے ہیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساری استدعا پڑھ کر آپ اس پر دلائل دیں،عجب یہ درخواست دائر ہوئی وہ تب کے حالات کے مطابق تھی شاید،باقی جو استدعا ہے اسکا سکوپ علیحدہ ہیں،

    وکیل عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کی درخواست ہٹ کر ہے اور ان درخوستوں سے مختلف ہے،یہ سیاسی بنیادوں پر مقدمات درج کیے گئے اور جو پٹیشنر کا حقوق ہے انکو متاثر کیا گیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم آپکی بات کو آگے لیکر چلے تو اپریل میں جو آپ نے درخواست دائر کی وہ استدعا کیا تھی آپ پڑھیں اسے،

    سابق وزیراعظم عمران خان نے 121 مقدمات کو خارج کرانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ، وزارت قانون، دفاع، سیکرٹری کیبنیٹ ڈویژن، چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب، اینٹی کرپشن، نیب، ایف آئی اے، وزیر اعظم، پیمرا اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملک میں مجھ پر 121 ایف آئی آر درج کی گئیں، مقدمات کوئٹہ، کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں درج کیےگئے ہیں، نگران صوبائی حکومت کی جانب سے انتقامی کاروائیاں کی گئی ہیں تحریک انصاف کے سپورٹرز اوررہنماؤں کو نظربند اور گرفتار کیا جا رہا ہے-درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ درخواست کےفیصلے تک عدالت درج مقدمات میں کارروائی روکنےکا حکم دے پہلے سے درج مقدمات میں تادیبی کارروائی سے روکا جائے، عدالت بغیرنوٹس فوجداری کارروائی کرنے سے روکنے کا حکم جاری کرے

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

  • پولیس مقابلہ،دو طرفہ فائرنگ ، دو ملزمان زخمی حالت میں گرفتار‌

    پولیس مقابلہ،دو طرفہ فائرنگ ، دو ملزمان زخمی حالت میں گرفتار‌

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف پولیس کاروائیاں جاری ہیں

    ویسٹ، تھانہ پاکستان بازار کے علاقے ہوا گوٹھ میں پولیس اور ملزمان کے درمیان مقابلہ ہوا ہے،دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں دو ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار‌ کرلیا گیا۔ ملزمان سے 2 پسٹلز بمعہ ایمونیشن، چلیدہ خولز، نقدی اور زیراستعمال موٹرسائیکل برآمد کر لی گئی، زخمی ملزمان کی شناخت شاہ عالم ولد محبوب عالم اور دانیال ولد محبوب علی کے ناموں سے ہوئی۔زخمی حالت میں گرفتار ملزمان کو طبی امداد کے لئے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔پولیس کی جانب سے ضابطے کی کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے، مزید تفصیلات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔

    ایک اور کاروائی میں ضلع ویسٹ پولیس نے موٹرسائیکل لفٹنگ میں ملوث انتہائی متحرک گروہ کو ماسٹر مائنڈ سمیت گرفتار کرلیا۔تین رکنی ملزمان گینگ سے کراچی کے علاقوں سے چوری ،چھینی گئی 6 موٹرسائیکلز برآمد کر لیں، تھانہ سرجانی پولیس نے خفیہ اطلاع پر سیکٹر 5/10 کے واقع خالی مکان میں کاروائی کرکے ملزمان کو گرفتار کیا۔ملزمان گینگ کے قبضے سے 06 مکمل موٹرسائیکلز سمیت موٹرسائیکلوں کا کھلا ہوا سامان/پارٹس برآمد، تفصیل ذیل ہیں۔
    1. موٹرسائیکل نمبری LRP-2633 تھانہ شاہراہِ فیصل کے علاقے سے سرقہ کی گئی تھی۔
    2. موٹرسائیکل نمبری KMT-5989 تھانہ سرجانی کے علاقے سے سرقہ کی گئی تھی۔
    3. موٹرسائیکل نمبری KES-8360 تھانہ گلبرک کے علاقے سے سرقہ کی گئی تھی۔
    4. موٹرسائیکل نمبری KIT-4037 تھانہ سچل کے علاقے سے سرقہ کی گئی تھی۔
    دیگر برآمدہ 02 بلا نمبری موٹرسائیکلوں کے متعلق معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔

    گرفتار ملزمان کے خلاف ضابطے کے تحت مقدمات درج، مزید تفتیش کے لئے متعلقہ تفتیشی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔گرفتار ملزمان میں مقبول احمد عرف بلو ولد شیخ مقصود، گل حسن ولد علی نواز اور تیمور حسین ولد محمد عیسیٰ شامل ہیں۔

    کپتان کے ایک اور کھلاڑی مراد راس کی بھی چھوڑنے کی باری آ گئی

    نو مئی حملے، ملزمان کے کیسز ملٹری کورٹ میں چلانے کیخلاف درخواست دائر

    عمران خان کی رہائشگاہ سے پکڑے گئے 7 ملزموں کا تعلق کالعدم تنظیموں سے نکلا

    پی ٹی آئی چھوڑنے والے رہنماؤں کی فہرست

    عمران خان سمیت دیگر رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں

  • نگران پنجاب حکومت کو کام سے روکنے کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری

    نگران پنجاب حکومت کو کام سے روکنے کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری

    لاہو رہائیکورٹ نے نگران پنجاب حکومت کو کام سے روکنے کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے جاری تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست کو باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کیا جاتا ہے لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت، الیکشن کیشن کو نوٹس جاری کردیئے عدالت نے کہا کہ تمام فریقین 6 جون کو تحریری طور پر جواب جمع کرائیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کیلئے 27 اے کا نوٹس جاری کر دیا گیاہے، عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق اسمبلی تحلیل کے 90 روز کے اندر الیکشن ہونا تھے  درخواست گزارکے مطابق نگران حکومت غیرآئینی ہے ۔

    لاہور ہائیکورٹ میں نگران حکومت کو کام سے روکنے اور غیر آئینی قرار دینے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی ،جسٹس شاہد کریم نے درخواستوں پر سماعت کی .عدالت نے وفاقی حکومت سمیت گورنر پنجاب کو نوٹس جاری کردئیے۔ عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی ۔عدالت نے استفسار کیا کہ اگر الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوتا تو حکومت کون چلائے گا ۔ وکیل نے کہا کہ الیکشن نہ ہونے کی صورت میں سابق وزیراعلی ہی برقرار رہیں گے۔حکومت جان بوجھ کر الیکشن نہیں کروا رہی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعدآ 90 روز میں الیکشن لازمی کروانے ہوتے ہیں ۔عدالت نگران حکومت کو کام سے روکنے کے احکامات جاری کرے ۔عدالت نگران حکومت کو غیر آئینی قرار دے ۔

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی نازیبا آڈیو لیک ہوئی ہے

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

  • پنجاب اسمبلی بحالی کی درخواست،عدالت کا فیصلہ آ گیا

    پنجاب اسمبلی بحالی کی درخواست،عدالت کا فیصلہ آ گیا

    لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب اسمبلی کی بحالی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی، عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آپ کیسے متاثرہ فریق ہیں، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ اعلی عدلیہ کے فیصلے ہیں کہ مفاد عامہ کے مقدمات میں براہ راست متاثرہ فریق ہونا ضروری نہیں، اسمبلی کی تحلیل کا معاملہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے،لاہور ہائیکورٹ نے پہلے بھی سیاسی ورکروں کی درخواست پر اسمبلی کی تحلیل کے معاملات کو دیکھا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سپریم کورٹ جائیں۔ مناسب فورم سپریم کورٹ ہے،عدالت نے پنجاب اسمبلی بحالی کی درخواست نمٹا دی

    واضح رہے کہ عمران خان نے دو صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل کر دی تھیں جہاں انکی حکومت تھی، اسکے بعد سے نگران حکومت ہے اور اسکی مدت ختم ہو چکی مگر الیکشن نہیں ہو رہے، سپریم کورٹ نے الیکشن کا پنجاب میں 14 مئی کو حکم دیا تھا تا ہم ابھی تک الیکشن نہیں ہو سکے، اب آنے والے دنوں میں الیکشن کا سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، کچھ نہیں کہا جا سکتا، سپریم کورٹ میں بھی سماعت چل رہی ہے، ابھی تک سپریم کورٹ نے دوبارہ کوئی فیصلہ نہیں دیا، 14 مئی کے حکمنامے کے بعد الیکشن کمیشن نے دوبارہ اپیل کی تھی، آج سپریم کورٹ نے 29 مئی تک سماعت ملتوی کی ہے

    علی امین گنڈا پور کی مشکلات میں اضافہ

    علی امین گنڈا پور کی جانب سے داجل چیک پوسٹ بھکر پر فائرنگ

    گنڈا پور کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا گیا

  • عمران خان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

    عمران خان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،خاتون جج دھمکی کیس میں عمران خان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقراررکھے گئے

    عدالت نے فیصلہ سنا دیا، عدالت نے حکم دیا کہ عمران خان کی رہائشگاہ پر وارنٹ کی تعمیل قانونی طریقہ کار سے نہیں ہوسکی، عدالت کی جانب سے عمران خان کے قابلِ ضمانت وارنٹ کی قانونی طریقہ کار سے تعمیل کروانے کا حکم دیا گیا، عدالت نے حکم دیا کہ عمران خان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار ہیں عمران خان 8 جون کو عدالت پیش ہوں،جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت 8 جون تک ملتوی کردی ،خاتون جج دھمکی کیس میں آج عمران خان کی حاضری سے استثنا کی درخواست منظور کر لی گئی

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

     زمان پارک پر ایک بار پھر پولیس آپریشن کا خدشہ

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پارٹی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خاتون جج اور انتظامی افسروں کو دھمکی دی تھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور توہین عدالت کا کیس چلا تھا تاہم ایک سماعت پر عدالت نے توہین عدالت ختم کر دی تھی

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ