Baaghi TV

Tag: عدالت

  • جرح کے نام پر گواہوں  کو ہراساں کرنا  ناقابل قبول ہے،سپریم کورٹ

    جرح کے نام پر گواہوں کو ہراساں کرنا ناقابل قبول ہے،سپریم کورٹ

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جرح کے نام پر گواہوں کو ہراساں کرنا اور غیر متعلقہ سوالات کرنا ناقابل قبول ہے۔

    سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جرح کا حق نہ تو لامحدود ہے اور نہ ہی بے لگام، بلکہ ٹرائل کورٹ کو غیر ضروری جرح کو محدود یا ختم کرنے کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے، تاکہ عدالتی کارروائی کو منصفانہ اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

    سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں گواہوں کو غیر ضروری تضحیک اور دباؤ سے محفوظ رکھنے کی پابند ہیں، ٹرائل کورٹ نے مشاہدہ کیا تھا کہ کیس میں مزید جرح غیر ضروری، غیر متعلقہ اور ہراساں کرنے کے مترادف ہے، جس کے بعد مدعا علیہ کا مزید جرح کا حق ختم کر دیا گیا تھا۔

    عدالت نے نشاندہی کی کہ لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کر دیا تھا یہ فیصلہ قانونی دائرہ اختیار کے اندر ر ہتے ہوئے کیا گیا گواہوں کو طویل جرح کے ذریعے تھکا کر غلطی پر مجبور کرنا انصاف کے منافی ہے ۔ عدالتی نظام ایسے طرزِ عمل کی اجازت نہیں دے سکتا عدالتی ریکارڈ کی درستگی کا ایک قوی قانونی مفروضہ موجود ہوتا ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ کو سیکشن 151 سی پی سی کے تحت کارروائی کو منظم کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، جس کا استعمال اس کیس میں درست طور پر کیا گیا۔

    واضح رہے کہ یہ مقدمہ لاہور کے علاقے موہلنوال میں واقع 53 کنال 3 مرلہ اراضی سے متعلق تھا، جس میں مدعی بطور گواہ پیش ہوا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق 2 ماہ کے عرصے میں 7 سماعتوں کے دوران گواہ پر 30 صفحات پر مشتمل جرح کی گئی، جسے ٹرائل کورٹ نے غیر ضروری قرار دیا۔

    کیس میں سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے جاری کیا۔

  • ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی کی قانون میں کوئی جگہ نہیں،وفاقی آئینی عدالت

    ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی کی قانون میں کوئی جگہ نہیں،وفاقی آئینی عدالت

    اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے کہا ہے کہ عدالتیں ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی کی بنیاد پر قانون کی جگہ کوئی اور معیار لاگو نہیں کر سکتیں۔

    مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ججز کو جذبات نہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے عدالتیں ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی کی بنیاد پر قانون کی جگہ کوئی اور معیار لاگو نہیں کر سکتیں،عدالتی فیصلوں کی بنیاد ذاتی عقائد یا سیاسی حقائق نہیں بن سکتے عد التی ساکھ جذباتی فیصلوں میں نہیں بلکہ قانون پر عمل درآمد میں مضمر ہے۔

    عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت ایک طالبعلم کو اسپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی عدالت نے واضح کیا کہ قانون، ضابطے یا ریگولیشن میں اسپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان کی اجازت موجود نہیں، اس لیے ہائی کورٹس ہمدردی، مساوات یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر ایسے احکامات جاری نہیں کر سکتیں۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ججز کو بلا خوف و امتیاز قانون کے مطابق انصاف کرنا ہوتا ہے کیوں کہ پاکستان افراد نہیں بلکہ آئین کے تحت چلنے والی ریاست ہے ججز نجی افراد نہیں بلکہ غیرجانبدار منصف ہوتے ہیں ۔ ہمدردی کو قانونی ذمہ داری پر ترجیح دینا عدالتی منصب سے انحراف کے مترادف ہے۔

    عدالت نے قرار دیا کہ ہائی کورٹس خود آئین کی تخلیق ہیں پاکستان کا آئینی سفر ہمیشہ قانون کے دائرے میں طے ہوا ہے، جہاں ذاتی نیک نیتی یا بے لگام اختیار آئینی نظام کا حصہ نہیں، ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت محدود دائرہ اختیار رکھتی ہیں وہ صرف وہی اختیار استعمال کر سکتی ہیں جو آئین یا قانون میں دیا گیا ہو عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی عدالتی فورم کو آئینی حدود سے تجاوز کا اختیار حاصل نہیں۔

    واضح رہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم گردے کی پیوندکاری کے باعث سالانہ امتحان میں شریک نہ ہو سکے تھے طبی وجوہات کی بنا پر وہ سپلیمنٹری امتحان بھی مس کر گئے طالبعلم نے اس سلسلے میں وائس چانسلر کو 2 درخواستیں دی تھیں، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے دونوں درخواستیں مسترد کر دیں۔

    بعد ازاں طالبعلم نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں انہیں اسپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی، تاہم وفاقی آئینی عدالت نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسے احکامات قانون اور آئین کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔

    یہ اہم فیصلہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے 18 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے کی صورت میں جاری کیا۔

  • شیخ حسینہ کو دو کیسز میں 10 سال قید کی سزا

    شیخ حسینہ کو دو کیسز میں 10 سال قید کی سزا

    بنگلہ دیش کی ایک خصوصی عدالت نے کرپشن کے دو مقدمات میں شیخ حسینہ کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے اور جرمانے بھی عائد کیے ہیں۔

    بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ڈھاکا کی خصوصی عدالت نے پیر کو پُرباچل نیو ٹاؤن منصوبے میں پلاٹوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ سے متعلق دو مقدمات کا فیصلہ سنا دیا ہے جس کے تحت شیخ حسینہ اور ان کے اہلِ خانہ کے علاوہ مزید 11 ملزمان کو بھی سزا سنائی گئی ہے۔

    عدالت میں پلاٹس کی الاٹمنٹ میں بے ضابطگیوں کے دو الگ الگ مقدمات زیرِ سماعت تھے شیخ حسینہ کو پہلے مقدمے میں 5 سال، ان کی بھانجی اور برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ٹیولپ صدیق کو 2 سال اور ان کی بہن عظمیٰ صدیق کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    دوسرے مقدمے میں شیخ حسینہ کو مزید 5 سال، ٹیولپ صدیق کو 2 سال اور ان کے بھائی رضوان مجیب صدیق کو 7 سال قید کی سزا دی گئی، جس کے بعد شیخ حسینہ کی دونوں کیسز میں مجموعی سزا 10 سال جبکہ ٹیولپ صدیق کی مجموعی سزا 4 سال ہوگئی ہے۔

    انسداد بدعنوانی کمیشن (اے سی سی) کے مطابق شیخ حسینہ نے اپنے دورِ اقتدار میں اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دارالحکومت کے قریب پُرباچل کے علاقے میں اپنے خاندان کے لیے ’10 کٹھا‘ کے قیمتی پلاٹ غیر قانونی طور پر حاصل کیے۔

    چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانوی رکن پارلیمنٹ ٹیولپ صدیق نے اپنی خالہ شیخ حسینہ کے ذریعے اپنے بھائی اور بہن کے لیے سرکاری پلا ٹ الاٹ کروانے میں سہولت فراہم کی، شیخ حسینہ واجد نے مبینہ طور پر سینئر افسران کے ساتھ مل کر ڈپلومیٹک زون کے سیکٹر 27 میں پُرباچل نیو ٹاؤن پر وجیکٹ کے چھ پلاٹس حاصل کیے، ہر پلاٹ دس کٹھا (7 ہزار 200 مربع فٹ) کا تھا۔

    دسمبر 2024 کے آخر میں اے سی سی نے شیخ حسینہ اور ان کے خاندان کے خلاف پُرباچل پلاٹ الاٹمنٹ میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کیں، گزشتہ سال جنوری میں بے ضابطگیاں ثابت ہونے پر 6 مقدمات درج کیے گئے شیخ حسینہ کو تمام کیسز میں مرکزی ملزم اور ٹیولپ صدیق سمیت دیگر افراد کو بھی قصوروار ٹھہرایا گیا۔

    واضح رہے کہ بنگلادیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل پہلے ہی شیخ حسینہ کو 2024 کے احتجاجی مظاہروں کے دوران انسانیت سوز جرائم اور طالب علموں کے قتل عام کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا چکی ہے-

  • علیمہ خان  کو گرفتار کرکے عدالت پیش کرنےکا حکم

    علیمہ خان کو گرفتار کرکے عدالت پیش کرنےکا حکم

    انسدادِ دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے ایس پی راول کو ملزمہ کو گرفتار کرکے کل تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    بانیٔ پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کے خلاف تھانہ صادق آباد میں 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت ہوئی علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان کے اکاؤنٹ، شناختی کارڈ جب تک ڈی فریز نہیں ہوں گے وہ عدالت پیش نہیں ہوں گی۔

    اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ ملزمہ عدالت کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتیں، نہ عدالت کو ہائی جیک کر سکتی ہیں، ملزمہ پیش ہی نہیں ہو رہیں تو شناختی کارڈ یا بینک اکاؤنٹ کیسے ڈی فریز کیے جائیں؟،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد علیمہ خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہو ئے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیئے۔

    عدالت نے کہا کہ ملزمہ جب تک عدالت میں پیش نہیں ہوں گی بینک اکاؤنٹ اور شناختی کارڈ بلاک رہیں گے ، بعد ازاں عدالت نے علیمہ خان کے ضامن کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

  • آئینی عدالت میں  ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس متعارف

    آئینی عدالت میں ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس متعارف

    وفاقی آئینی عدالت میں سائلین اور وکلاء کے لیے ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس متعارف کروا دی گئی۔

    وفاقی آئینی عدالت نے شفافیت اور سہولت بڑھانے کے لیے اہم قدم اٹھایا ہے اس حوالے سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مقدمات کے اندراج اور سماعت کی تاریخ سے آگاہی اب ایس ایم ایس کے ذریعے ہوگی، عدالتی کارروائیوں سے متعلق معلومات اب بروقت موبائل پر دستیاب ہوں گی۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ ایس ایم ایس سروس سے عدالتوں میں غیر ضروری غیر حاضری میں کمی متوقع ہے موجودہ اور نئے تمام مقدمات کے لیے ایس ایم ایس سہولت دستیاب ہوگی،فاقی آئینی عدالت میں ڈیجیٹل اصلاحات کا نیا مرحلہ شروع ہوگیا جس کے تحت عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر زور دیا گیا ہے۔

    جلد پاکستان سے پولیو جیسے موذی مرض کے مکمل خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں،وزیراعظم

    اس اقدام کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، معلومات تک رسائی کو آسان بنانا اور معمولی نوعیت کی معلومات کے لیے عدالت کے غیر ضروری دوروں میں کمی لانا ہے’ایس ایم ایس نوٹیفیکیشن سروس عدالتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کو استعمال میں لا کر عدالتی انتظامی امور کو مزید مؤثر اور عوامی خدمات کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔‘

    ایلون مسک نے واٹس ایپ کو صارفین کے لیے غیر محفوظ قرار

    اعلامیے کے مطابق اس سہولت کے ذریعے مقدمات کے انتظام اور متعلقہ فریقین کے درمیان رابطے کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا، جبکہ عدالتی عمل کی شفافیت، بروقت اطلاع رسانی اور بہتر ہم آہنگی کو بھی یقینی بنایا جائے گا،عدالت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے ادارہ جاتی کارکردگی کو مضبوط بنایا جائے گا، ساتھ ہی عدالتی عمل کی رازداری اور وقار کا مکمل تحفظ بھی یقینی رکھا جائے گا، یہ ایس ایم ایس سروس وفاقی آئینی عدالت میں درج پرانے اور نئے دونوں طرح کے مقدمات کے لیے دستیاب ہے، جبکہ آئندہ مرحلہ وار مزید ڈیجیٹل سہولیات متعارف کرانے کا بھی منصوبہ ہے۔

    عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں تاریخی اضافہ

  • انجینیئر محمد علی مرزا کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف کیس کی سماعت  ملتوی

    انجینیئر محمد علی مرزا کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے انجینیئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی کر دی ہے –

    جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں اسلم خاکی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل پیش نہ ہو سکے، جس پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن نے بتایا کہ اٹارنی جنرل دیگر مصروفیات کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتے، لیکن عدالت کی ہدایت پر آئندہ سماعت میں پیش ہو جائیں گے۔

    عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی،اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کو آئندہ سماعت پر پیش ہو کر عدالتی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    اسپین کا تقریباً پانچ لاکھ تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ

    درخواست گزار اسلم خاکی، اسلامی نظریاتی کونسل کے وکیل اور متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے درخواست میں ڈاکٹر محمد اسلم خاکی نے انجینیئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے والی اسلامی نظریاتی کونسل کی فتویٰ نما رائے کو چیلنج کیا ہوا ہے۔

    امریکی مسلم رکن کانگریس الہان عمر پر خطاب کے دوران حملہ

  • گلی محلوں میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اشیا فروخت کرنے والوں کے خلاف بڑا حکم

    گلی محلوں میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اشیا فروخت کرنے والوں کے خلاف بڑا حکم

    راولپنڈی کی عدالت نے گلی محلوں میں سبزی، پھل اور دیگر اشیا فروخت کرنے کے لیے لاؤڈ ا سپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کردی اور خلاف ورزی کی صورت میں مقدمات درج کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔

    راولپنڈی کی مقدمی عدالت میں لاؤڈ اسپیکر پر سبزیاں اور پھل بیچنے والوں کیخلاف دائر مقدمے کی سماعت ہوئی ،ایڈیشنل سیشن جج مقصود قریشی نے سماعت کی،عدالت نے سینئر وکیل انوار ڈار کی جانب سے دائر درخواست کو منظور کیا جبکہ ایڈیشنل سیشن جج نے خود اس کا نوٹس بھی لیا تھا۔

    ایڈیشنل سیشن جج مقصود قریشی نے گلی محلوں میں لاؤڈ اسپیکر پر اشیاء فروخت والوں خلاف مقدمات حکم جاری کیا اس کے علاوہ عدالت نے سینئر وکیل انوار ڈار کی درخواست منظور کر لی۔

    درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیاکہ صبح سویرے سے رات گئے تک ہاکرز لاؤڈ اسپیکر پر اپنی اشیا فروخت کرتے ہیں، جس سے رہائشی علاقوں میں شور اور نیند میں خلل پیدا ہوتا ہے حکومت پہلے ہی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی لگا چکی ہے، تاہم خلاف ورزی جاری ہے۔

    عدالت نے لاؤڈ اسپیکر پر گلی محلوں اشیاء فروخت پر پابندی لگا دی،ایڈیشنل سیشن جج نے کہاکہ شہری علاقوں میں گلی محلوں میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے دکانداری کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔

  • متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا

    متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے متنازع ٹوئٹس کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کو 10، 10 سال قید کی سزا سنادی۔

    یڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کمرہ عدالت میں مختصر فیصلہ سنایا، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دس دس سال قید کی سزا سنائی گئی، سیکشن 10 میں دس سال قید کی سزا جبکہ سیکشن 9 میں 5 سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ سیکشن 26اے میں 2 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

    فیصلہ سنانے کے وقت اسپیشل پراسیکیوٹرز بیرسٹر فہد، رانا عثمان عدالت میں موجود تھے، ایمان مزاری، ہادی علی کی جانب سے کوئی بھی وکیل فیصلے کے وقت کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھا۔

    واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹ کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کی، سماعت کے دوران عدالت نے ایس ایس پی آپریشن اور ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی کو ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ملزمان کو صبح 10 بجے عدالت میں پیش کیا جائے۔

    جج محمد افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے کہ آج ہائیکورٹ کے آرڈر کی روشنی میں جرح کا آخری دن ہے، جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت میں 10 بجے تک وقفہ کر دیا۔

    کیس کی مزید سماعت کے دوران پولیس حکام نے عدالت میں اپنا جواب جمع کرا دیا، جس میں پولیس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سیکیورٹی ایشوز اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر 5 سے 6 گھنٹے کا وقت درکار ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ ملزمان کو بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

    عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ساڑھے 10 بجے بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم دے دیا، جب کہ کیس کی سماعت میں 10:30 بجے تک وقفہ کر دیا گیا۔

    بعد ازاں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا جج افضل مجوکہ نے ملزمان سے استفسار کیا کہ کیا آپ جرح شروع کریں گے؟، جس پر ایمان مزاری نے پوچھا کہ کیا میڈیا عدالت میں ہے؟۔ ایمان مزاری نے بتایا کہ ہم پر تشدد کیاجارہاہے ہمیں پانی کھانا نہیں دیاجارہا انہوں نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تم اپنی نوکری کررہےہو۔ تمہاری وجہ سے سارا کچھ ہورہاہے۔ ہم عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرتےہیں۔

    جج افضل مجوکہ نے سوال کیا کہ آپ کا مطلب کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے؟ فیصلے کا انتظار کریں اس موقع پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سماعت ختم ہونے سے قبل کرسی سے اٹھ کر چلے گئے جب کہ جج نے عدالتی عملے کو حکم دیا کہ سب ریکارڈ کرکے مجھے دیں۔

    دوران سماعت وکیل اشرف گجر نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کو عدالت میں طلب کریں، جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ وہ آن لائن پیش ہوئے ہیں آپ کی ریکویسٹ کو دیکھ لیتا ہوں ساری سماعت کا ریکارڈ موجود ہے، دیکھ لیتے ہیں۔ آپ کی درخواست پر تحریری آرڈر کرتا ہوں

  • عمران خان تفتیش میں تعاون نہیں کررہے،این سی سی آئی اے کی رپورٹ عدالت میں پیش

    عمران خان تفتیش میں تعاون نہیں کررہے،این سی سی آئی اے کی رپورٹ عدالت میں پیش

    اسلام آباد:بانی پی ٹی آئی کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر این سی سی آئی اے کی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی گئی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ سے متعلق انویسٹی گیشن کی تفصیلات سے عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے۔

    این سی سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ سے کی جانے والی ٹویٹس پر 2 الگ انکوائریز شروع کر رکھی ہیں بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ کے خلاف این سی سی آئی اے میں 2 انکوائریز زیر التوا ہیں، یہ دونوں انکوائریز 19 مئی اور 13 ستمبر 2024 کو این سی سی آئی اے میں رجسٹرڈ کی گئیں۔

    رپورٹ کے مطابق این سی سی آئی اے کی انویسٹی گیشن ٹیم نے اڈیالہ جیل میں انویسٹی گیشن کے سلسلے میں کافی بار دورہ کیا، تاہم بانی پی ٹی آئی سے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ان کا ایکس اکاؤنٹ کون چلا رہا ہے این سی سی آئی اے کا مؤقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے انویسٹی گیشن ٹیم کے ساتھ تعاون نہیں کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کون استعمال کر رہا ہے، بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ کو چلانے سے متعلق سوالات کے باوجود بانی نے تعاون کرنے سے انکار کیا، جس کے باعث انویسٹی گیشن تاحال جاری ہے۔

  • اسلام آباد میں سرکاری اراضی کے استعمال کی مشروط اجازت

    اسلام آباد میں سرکاری اراضی کے استعمال کی مشروط اجازت

    وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے پوش سیکٹر میں واقع 2 گھروں کے درمیان سرکاری اراضی کے استعمال کے تنازع پر فیصلہ سنادیا۔

    عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل نمٹاتے ہوئے گھروں کو ملحقہ سرکاری اراضی کو بطور راستہ استعمال کی مشروط اجازت د ے دی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے گھروں کے ساتھ سرکاری اراضی کے استعمال کو درست قرار دیا تھا، کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں آئینی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے کی۔

    سی ڈی اے کے وکیل کے مطابق، درخواست گزار نے اراضی استعمال کرنے اور ضرورت پڑنے پر اسے واپس کرنے کا بیان حلفی دے رکھا ہے، عدا لت نے بھی مشروط اجازت کی منظوری دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صرف متعلقہ کیس کی بات زیر غور آئے۔

    سماعت کے دوران وکیل فیصل چوہدری نے حکومت کے آپریشنز اور کچی آبادیوں کی ہٹائی جانے والی اراضی کا ذکر کیا،تاہم جسٹس عامر فاروق نے انہیں ہدایت کی کہ وہ صرف اپنے کیس کی تفصیلات پر بات کریں،وکیل فیصل چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق کسی کو ملحقہ سرکاری اراضی کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    ان کا مؤقف تھا کہ سی ڈی اے کے پاس بیان حلفی پر اجازت دینے کی قانونی اتھارٹی نہیں ہے،عدالت نے اس معاملے میں مشروط اجازت دیتے ہوئے ممکنہ قانونی اثرات پر غور کے لیے ہدایات بھی جاری کیں۔