Baaghi TV

Tag: عدالت

  • معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے،سپریم کورٹ

    معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے،سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے۔

    سپریم کورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی اپیل خارج کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا عدالت نے واضح کیا کہ ملازمت سے معطلی برطرفی، خاتمہ یا علیحدگی نہیں ہے اور معطل ملازم اپنے عہدے پر برقرار رہتا ہے، چاہے وہ ڈیوٹی نہ بھی کر رہا ہو ملازمت کے معاہدے کے برقرار رہنے تک تنخواہ اور تمام فوائد بھی برقرار رہتے ہیں۔

    عدالت نے قرآن کی سورۃ المائدہ کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اے ایمان والو، اپنے معاہدوں کو پورا کرو، سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ قانونی اجازت کے بغیر ملازم کی تنخواہ روکنا تقرری کی شرائط کی خلاف ورزی ہے اور معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے سپریم کورٹ نے اسلام کے اصولوں اور حدیث نبوی کی روشنی میں کہا کہ مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے مزدوری دی جائے اور معطلی کی مدت کے دوران ملازم سے کسی بھی قسم کی ریکوری غیر قانونی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کا اسرائیل میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری فنڈ قائم کرنے کا اعلان

    واضح رہے کہ اس کیس میں فریق ارشد حسین ایف بی آر میں ملازم تھے، جنہیں میڈیکل بورڈ نے بیماری کی بنیاد پر سروس کے لیے ان فٹ قرار دیا محکمہ نے ملازم کو جبری ریٹائر کرتے ہوئے معطلی کے دوران ادا کی گئی رقم واپس مانگی تھی، لیکن ٹربیونل نے فیصلہ دیا تھا کہ ملازم معطلی کے دورانیے کی مکمل تنخواہ اور الاؤنسز کا حقدار ہے۔

    عمران خان کی بہن نورین نیازی زیرِ تعمیر نالے میں گر کر زخمی

  • 33 بچوں سے زیادتی کیس: میاں بیوی کو سزائے موت

    33 بچوں سے زیادتی کیس: میاں بیوی کو سزائے موت

    بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع باندا میں خصوصی پوکسو عدالت نے 33 کم سن بچوں سے جنسی زیادتی کے لرزہ خیز مقدمے میں میاں بیوی کو سزائے موت سنا دی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے اس کیس کو ’نایاب ترین جرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے جرائم کی نوعیت اس قدر سنگین اور منظم تھی کہ اصلاح کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی،اتر پردیش کے ضلع باندا کی خصوصی عدالت نے رام بھاون اور اس کی اہلیہ درگاوَتی کو بچوں کے تحفظ کے قانون (POCSO ایکٹ) کی مختلف دفعات کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئےسزائے موت سنائی ہے دونوں پر 33 بچوں، جن میں بعض کی عمر صرف 3 سال تھی، کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام ثابت ہوا ،عدالت نےریاستی حکومت کو ہدایت کی کہ ہر متاثرہ بچے کو 10 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کیے جا ئیں، جبکہ ملزمان کے گھر سے برآمد ہونے والی رقم بھی متاثرین میں برابر تقسیم کی جائے۔

    امریکی طیاروں نے ایران کی جانب پوزیشن سنبھال لیں

    سی بی آئی نے اکتوبر 2020 میں اس کیس کا اندراج کیا تھا تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزمان 2010 سے 2020 کے درمیان باندا اور چترکوٹ کے علاقوں میں سرگرم رہے رام بھاون محکمہ آبپاشی میں جونیئر انجینئر تھا اور بچوں کو آن لائن گیمز، تحائف اور رقم کا لالچ دے کر ورغلاتا تھا بعض متاثرہ بچوں کو شدید جسمانی چوٹیں آئیں اور کئی کو طویل عرصے تک اسپتال میں رہنا پڑا، جبکہ متعدد بچے ذہنی صدمے کا شکار ہیں عدالت نے قرار دیا کہ جرم کا پھیلاؤ، درندگی اور منظم طریقہ کار اسے ’ریرسٹ آف دی رئیر‘ بناتا ہے۔

    پاکستان اور امریکا کا رواں برس سرمایہ کاری فورم کا اعلان

    سی بی آئی حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمات کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے اور متاثرین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا۔

  • صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف کیس میں اہم پیشرفت

    صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف کیس میں اہم پیشرفت

    اسلام آباد: سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات و دہشت گردی کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے-

    کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کی اسلام آباد پولیس نے فرانزک رپورٹ کی کاپی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروا دی ہے، جس کے مطابق مبینہ طور پر ریکور شدہ آئس کی فرانزک رپورٹ نیگیٹیو آ گئی ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برآمد کردہ مواد آئس نہیں ہے، مقدمے میں منشیات کا چارج فریم ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ اس حوالے سے عدالت نے معاملہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا۔

  • ہتکِ عزت کیس: شہباز شریف کیخلاف عمران خان کی درخواست ، 3رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم

    ہتکِ عزت کیس: شہباز شریف کیخلاف عمران خان کی درخواست ، 3رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کرتے ہوئے تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔

    ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کے خلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی،سماعت کے دوران جسٹس شاہد بلال حسن نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کی کیا پوزیشن ہے؟ جس پر وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ کیس اس وقت لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت ہے عدالت نے فریقین کے مؤقف سننے کے بعد کارروائی مؤخر کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی، جبکہ آئندہ سماعت پر تشکیل دیے گئے بینچ کے روبرو کیس کو دوبارہ سنا جائے گا۔

    دوسری جانب، القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی جبکہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخی کی درخوا ستیں غیر مؤثر ہونے پر خارج کر دی گئیں سپریم کورٹ نے 9 مئی لاہور واقعات میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر تین رکنی بینچ بنانے کا حکم دیا،عدالت نے سائفر کیس اور 9 مئی واقعات میں ضمانت منسوخی کی درخواستوں پر سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔

  • جرح کے نام پر گواہوں  کو ہراساں کرنا  ناقابل قبول ہے،سپریم کورٹ

    جرح کے نام پر گواہوں کو ہراساں کرنا ناقابل قبول ہے،سپریم کورٹ

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جرح کے نام پر گواہوں کو ہراساں کرنا اور غیر متعلقہ سوالات کرنا ناقابل قبول ہے۔

    سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جرح کا حق نہ تو لامحدود ہے اور نہ ہی بے لگام، بلکہ ٹرائل کورٹ کو غیر ضروری جرح کو محدود یا ختم کرنے کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے، تاکہ عدالتی کارروائی کو منصفانہ اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

    سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں گواہوں کو غیر ضروری تضحیک اور دباؤ سے محفوظ رکھنے کی پابند ہیں، ٹرائل کورٹ نے مشاہدہ کیا تھا کہ کیس میں مزید جرح غیر ضروری، غیر متعلقہ اور ہراساں کرنے کے مترادف ہے، جس کے بعد مدعا علیہ کا مزید جرح کا حق ختم کر دیا گیا تھا۔

    عدالت نے نشاندہی کی کہ لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کر دیا تھا یہ فیصلہ قانونی دائرہ اختیار کے اندر ر ہتے ہوئے کیا گیا گواہوں کو طویل جرح کے ذریعے تھکا کر غلطی پر مجبور کرنا انصاف کے منافی ہے ۔ عدالتی نظام ایسے طرزِ عمل کی اجازت نہیں دے سکتا عدالتی ریکارڈ کی درستگی کا ایک قوی قانونی مفروضہ موجود ہوتا ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ کو سیکشن 151 سی پی سی کے تحت کارروائی کو منظم کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، جس کا استعمال اس کیس میں درست طور پر کیا گیا۔

    واضح رہے کہ یہ مقدمہ لاہور کے علاقے موہلنوال میں واقع 53 کنال 3 مرلہ اراضی سے متعلق تھا، جس میں مدعی بطور گواہ پیش ہوا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق 2 ماہ کے عرصے میں 7 سماعتوں کے دوران گواہ پر 30 صفحات پر مشتمل جرح کی گئی، جسے ٹرائل کورٹ نے غیر ضروری قرار دیا۔

    کیس میں سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے جاری کیا۔

  • ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی کی قانون میں کوئی جگہ نہیں،وفاقی آئینی عدالت

    ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی کی قانون میں کوئی جگہ نہیں،وفاقی آئینی عدالت

    اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے کہا ہے کہ عدالتیں ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی کی بنیاد پر قانون کی جگہ کوئی اور معیار لاگو نہیں کر سکتیں۔

    مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ججز کو جذبات نہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے عدالتیں ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی کی بنیاد پر قانون کی جگہ کوئی اور معیار لاگو نہیں کر سکتیں،عدالتی فیصلوں کی بنیاد ذاتی عقائد یا سیاسی حقائق نہیں بن سکتے عد التی ساکھ جذباتی فیصلوں میں نہیں بلکہ قانون پر عمل درآمد میں مضمر ہے۔

    عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت ایک طالبعلم کو اسپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی عدالت نے واضح کیا کہ قانون، ضابطے یا ریگولیشن میں اسپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان کی اجازت موجود نہیں، اس لیے ہائی کورٹس ہمدردی، مساوات یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر ایسے احکامات جاری نہیں کر سکتیں۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ججز کو بلا خوف و امتیاز قانون کے مطابق انصاف کرنا ہوتا ہے کیوں کہ پاکستان افراد نہیں بلکہ آئین کے تحت چلنے والی ریاست ہے ججز نجی افراد نہیں بلکہ غیرجانبدار منصف ہوتے ہیں ۔ ہمدردی کو قانونی ذمہ داری پر ترجیح دینا عدالتی منصب سے انحراف کے مترادف ہے۔

    عدالت نے قرار دیا کہ ہائی کورٹس خود آئین کی تخلیق ہیں پاکستان کا آئینی سفر ہمیشہ قانون کے دائرے میں طے ہوا ہے، جہاں ذاتی نیک نیتی یا بے لگام اختیار آئینی نظام کا حصہ نہیں، ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت محدود دائرہ اختیار رکھتی ہیں وہ صرف وہی اختیار استعمال کر سکتی ہیں جو آئین یا قانون میں دیا گیا ہو عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی عدالتی فورم کو آئینی حدود سے تجاوز کا اختیار حاصل نہیں۔

    واضح رہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے ایک طالبعلم گردے کی پیوندکاری کے باعث سالانہ امتحان میں شریک نہ ہو سکے تھے طبی وجوہات کی بنا پر وہ سپلیمنٹری امتحان بھی مس کر گئے طالبعلم نے اس سلسلے میں وائس چانسلر کو 2 درخواستیں دی تھیں، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے دونوں درخواستیں مسترد کر دیں۔

    بعد ازاں طالبعلم نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں انہیں اسپیشل / سپر سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی اجازت دی گئی، تاہم وفاقی آئینی عدالت نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسے احکامات قانون اور آئین کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔

    یہ اہم فیصلہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے 18 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے کی صورت میں جاری کیا۔

  • شیخ حسینہ کو دو کیسز میں 10 سال قید کی سزا

    شیخ حسینہ کو دو کیسز میں 10 سال قید کی سزا

    بنگلہ دیش کی ایک خصوصی عدالت نے کرپشن کے دو مقدمات میں شیخ حسینہ کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے اور جرمانے بھی عائد کیے ہیں۔

    بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ڈھاکا کی خصوصی عدالت نے پیر کو پُرباچل نیو ٹاؤن منصوبے میں پلاٹوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ سے متعلق دو مقدمات کا فیصلہ سنا دیا ہے جس کے تحت شیخ حسینہ اور ان کے اہلِ خانہ کے علاوہ مزید 11 ملزمان کو بھی سزا سنائی گئی ہے۔

    عدالت میں پلاٹس کی الاٹمنٹ میں بے ضابطگیوں کے دو الگ الگ مقدمات زیرِ سماعت تھے شیخ حسینہ کو پہلے مقدمے میں 5 سال، ان کی بھانجی اور برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ٹیولپ صدیق کو 2 سال اور ان کی بہن عظمیٰ صدیق کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    دوسرے مقدمے میں شیخ حسینہ کو مزید 5 سال، ٹیولپ صدیق کو 2 سال اور ان کے بھائی رضوان مجیب صدیق کو 7 سال قید کی سزا دی گئی، جس کے بعد شیخ حسینہ کی دونوں کیسز میں مجموعی سزا 10 سال جبکہ ٹیولپ صدیق کی مجموعی سزا 4 سال ہوگئی ہے۔

    انسداد بدعنوانی کمیشن (اے سی سی) کے مطابق شیخ حسینہ نے اپنے دورِ اقتدار میں اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دارالحکومت کے قریب پُرباچل کے علاقے میں اپنے خاندان کے لیے ’10 کٹھا‘ کے قیمتی پلاٹ غیر قانونی طور پر حاصل کیے۔

    چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانوی رکن پارلیمنٹ ٹیولپ صدیق نے اپنی خالہ شیخ حسینہ کے ذریعے اپنے بھائی اور بہن کے لیے سرکاری پلا ٹ الاٹ کروانے میں سہولت فراہم کی، شیخ حسینہ واجد نے مبینہ طور پر سینئر افسران کے ساتھ مل کر ڈپلومیٹک زون کے سیکٹر 27 میں پُرباچل نیو ٹاؤن پر وجیکٹ کے چھ پلاٹس حاصل کیے، ہر پلاٹ دس کٹھا (7 ہزار 200 مربع فٹ) کا تھا۔

    دسمبر 2024 کے آخر میں اے سی سی نے شیخ حسینہ اور ان کے خاندان کے خلاف پُرباچل پلاٹ الاٹمنٹ میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کیں، گزشتہ سال جنوری میں بے ضابطگیاں ثابت ہونے پر 6 مقدمات درج کیے گئے شیخ حسینہ کو تمام کیسز میں مرکزی ملزم اور ٹیولپ صدیق سمیت دیگر افراد کو بھی قصوروار ٹھہرایا گیا۔

    واضح رہے کہ بنگلادیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل پہلے ہی شیخ حسینہ کو 2024 کے احتجاجی مظاہروں کے دوران انسانیت سوز جرائم اور طالب علموں کے قتل عام کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا چکی ہے-

  • علیمہ خان  کو گرفتار کرکے عدالت پیش کرنےکا حکم

    علیمہ خان کو گرفتار کرکے عدالت پیش کرنےکا حکم

    انسدادِ دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے ایس پی راول کو ملزمہ کو گرفتار کرکے کل تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    بانیٔ پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کے خلاف تھانہ صادق آباد میں 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت ہوئی علیمہ خان کے وکیل فیصل ملک نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان کے اکاؤنٹ، شناختی کارڈ جب تک ڈی فریز نہیں ہوں گے وہ عدالت پیش نہیں ہوں گی۔

    اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ ملزمہ عدالت کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتیں، نہ عدالت کو ہائی جیک کر سکتی ہیں، ملزمہ پیش ہی نہیں ہو رہیں تو شناختی کارڈ یا بینک اکاؤنٹ کیسے ڈی فریز کیے جائیں؟،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد علیمہ خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہو ئے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیئے۔

    عدالت نے کہا کہ ملزمہ جب تک عدالت میں پیش نہیں ہوں گی بینک اکاؤنٹ اور شناختی کارڈ بلاک رہیں گے ، بعد ازاں عدالت نے علیمہ خان کے ضامن کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

  • آئینی عدالت میں  ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس متعارف

    آئینی عدالت میں ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس متعارف

    وفاقی آئینی عدالت میں سائلین اور وکلاء کے لیے ایس ایم ایس نوٹیفکیشن سروس متعارف کروا دی گئی۔

    وفاقی آئینی عدالت نے شفافیت اور سہولت بڑھانے کے لیے اہم قدم اٹھایا ہے اس حوالے سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مقدمات کے اندراج اور سماعت کی تاریخ سے آگاہی اب ایس ایم ایس کے ذریعے ہوگی، عدالتی کارروائیوں سے متعلق معلومات اب بروقت موبائل پر دستیاب ہوں گی۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ ایس ایم ایس سروس سے عدالتوں میں غیر ضروری غیر حاضری میں کمی متوقع ہے موجودہ اور نئے تمام مقدمات کے لیے ایس ایم ایس سہولت دستیاب ہوگی،فاقی آئینی عدالت میں ڈیجیٹل اصلاحات کا نیا مرحلہ شروع ہوگیا جس کے تحت عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر زور دیا گیا ہے۔

    جلد پاکستان سے پولیو جیسے موذی مرض کے مکمل خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں،وزیراعظم

    اس اقدام کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا، معلومات تک رسائی کو آسان بنانا اور معمولی نوعیت کی معلومات کے لیے عدالت کے غیر ضروری دوروں میں کمی لانا ہے’ایس ایم ایس نوٹیفیکیشن سروس عدالتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کو استعمال میں لا کر عدالتی انتظامی امور کو مزید مؤثر اور عوامی خدمات کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔‘

    ایلون مسک نے واٹس ایپ کو صارفین کے لیے غیر محفوظ قرار

    اعلامیے کے مطابق اس سہولت کے ذریعے مقدمات کے انتظام اور متعلقہ فریقین کے درمیان رابطے کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا، جبکہ عدالتی عمل کی شفافیت، بروقت اطلاع رسانی اور بہتر ہم آہنگی کو بھی یقینی بنایا جائے گا،عدالت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے ادارہ جاتی کارکردگی کو مضبوط بنایا جائے گا، ساتھ ہی عدالتی عمل کی رازداری اور وقار کا مکمل تحفظ بھی یقینی رکھا جائے گا، یہ ایس ایم ایس سروس وفاقی آئینی عدالت میں درج پرانے اور نئے دونوں طرح کے مقدمات کے لیے دستیاب ہے، جبکہ آئندہ مرحلہ وار مزید ڈیجیٹل سہولیات متعارف کرانے کا بھی منصوبہ ہے۔

    عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں تاریخی اضافہ

  • انجینیئر محمد علی مرزا کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف کیس کی سماعت  ملتوی

    انجینیئر محمد علی مرزا کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے انجینیئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی کر دی ہے –

    جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں اسلم خاکی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل پیش نہ ہو سکے، جس پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن نے بتایا کہ اٹارنی جنرل دیگر مصروفیات کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتے، لیکن عدالت کی ہدایت پر آئندہ سماعت میں پیش ہو جائیں گے۔

    عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی،اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کو آئندہ سماعت پر پیش ہو کر عدالتی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    اسپین کا تقریباً پانچ لاکھ تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ

    درخواست گزار اسلم خاکی، اسلامی نظریاتی کونسل کے وکیل اور متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے درخواست میں ڈاکٹر محمد اسلم خاکی نے انجینیئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے والی اسلامی نظریاتی کونسل کی فتویٰ نما رائے کو چیلنج کیا ہوا ہے۔

    امریکی مسلم رکن کانگریس الہان عمر پر خطاب کے دوران حملہ