Baaghi TV

Tag: عدالت

  • علی امین گنڈا پورکے خلاف اقدام قتل کے تحت درج مقدمے میں ضمانت منظور

    علی امین گنڈا پورکے خلاف اقدام قتل کے تحت درج مقدمے میں ضمانت منظور

    علی امین گنڈا پورکے خلاف اقدام قتل کے تحت درج مقدمے میں ضمانت منظور کرلی گئی-

    باغی ٹی وی : ایڈیشنل سیشن جج بھکر ارشد محمود کی عدالت نےایک لاکھ روپے کےضمانتی مچلکے جمع کروانےکا حکم دیتے ہوئے اقدام قتل کے تحت درج مقدمے میں علی امین گنڈاپور کی ضمانت منظور کرلی،عدالت نےمقدمہ سے اقدام قتل سمیت دیگردفعات بھی ختم کردیں-

    علی زیدی کی گرفتاری لندن پلان کا حصہ ہے،عمران خان

    واضح رہے کہ گذشتہ روز سول جج کی عدالت نےانہیں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالےکیا تھا۔

    دوسری جانب داجل چیک پوسٹ ہنگامہ آرائی کیس میں علی امین گنڈاپور کو سرگودھا کی انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیاگیا عدالت نے علی امین گنڈا پور کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر بھکر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔

    حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات پر آمادہ

    علی امین گنڈا پور اور ساتھیوں پر داجل چیک پوسٹ پر پولیس اہلکاروں پر فائرنگ،گاڑی سےکچلنے کی کوشش اور جان سےمارنے کی دھمکیاں دینے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا درج ایف آئی آر میں انسدادِ دہشت گردی سمیت 11 دفعات شامل ہیں۔

  • آصف زرداری کے خلاف متنازع بیان، شیخ رشید پر فرد جرم کی کاروائی ایک بار پھر موخر

    آصف زرداری کے خلاف متنازع بیان، شیخ رشید پر فرد جرم کی کاروائی ایک بار پھر موخر

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ، شیخ رشید کیخلاف سابق صدر آصف علی زرداری پر الزامات کے حوالے سے مقدمے کی سماعت ہوئی

    شیخ رشید اپنے وکیل نعیم پنجوتھہ کے ہمراہ کمرہ عدالت پیش ہوئے، وکیل شیخ رشید نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اخراج مقدمات کی درخواستیں دائر ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ سے مقدمات کے حوالے سے فیصلہ آنے تک سماعت ملتوی کی جائے، جوڈیشل مجسٹریٹ نے استفسارکیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیا معاملہ چل رہا ہے؟ وکیل نے کہا کہ شکایت کسی سرکاری افسر نے فائل نہیں کیا، شیخ رشید کے خلاف شکایت پیپلز پارٹی کے ایک عام ورکر نے دائر کی ہے،شیخ رشید کے خلاف موچکو، کراچی، اسلام آباد اور مری میں مقدمات درج ہیں، شیخ رشید کے خلاف کیس کی سماعت تیسرے ہفتے تک ملتوی کردیں،جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست کی کاپیاں فراہم کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواستوں کی کاپیاں آنے تک سماعت میں وقفہ کردیا گیا

    بعد ازاں دوبارہ سماعت ہوئی، شیخ رشید پر فرد جرم کی کارروائی ایک بار پھر موخر کر دی گئی،شیخ رشید کے وکلا کی جانب سے ہائیکورٹ میں دائر اخراج مقدمے کی کاپی جمع کروا دی گئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں معاملہ زیر سماعت ہونے پر عدالت نے سماعت ملتوی کر دی ،عدالت نے کیس کی سماعت 3 جون تک ملتوی کر دی

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    جس میں وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور سگار پی رہے ہیں، شیخ رشید احمد کو لاک اپ میں بندنہیں کیا

     15 کلو ہیروئن نہیں ڈالی گئی

    عدالت پیشی کے موقع پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ خوف کس چیز کا ہے انتخابات کروائیں، آصف زرداری چاہتےہیں کہ شہبازشریف نااہل ہوجائیں تا کہ راستہ کھلے،شطرنج کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، ملک مزاق نہیں ہے، قوم سڑکوں پر فیصلہ کرے گی، آپ بھاگ نہیں سکیں گے،پاکستان آئین اور قانون کی عظیم ترین جنگ لڑ رہا ہے، قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے، سٹیٹ بینک نے پیسے جمع کروانے ہیں یہ اعلیٰ عدلیہ کا فیصلہ ہے، عوام پاکستان کے ہیں اور پاکستان عوام کا ہے، کئی کیسز میرے اوپر بنائے گئے، ان سے گھبرانے والے نہیں، صرف ایک مطالبہ ہے کہ الیکشن کروا دیئے جائیں، یہ گھبراتے کیوں ہیں مہنگائی کی وجہ سے قوم کا برا حال ہے، ایک سال ہو گیا ہے انکے کشکول لگے ہوئے ہیں،

  • عثمان بزدار کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں ایک اور انکوائری کا آغاز

    عثمان بزدار کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں ایک اور انکوائری کا آغاز

    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن نے انکوائری کا آغاز کر دیا
    ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی ہدایت پرڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ڈیرہ غازی خان ریجن کی سربراہی میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے خلاف انکوائری نمبر224/23 شروع کر دی گئی ہے اور انہیں مزید تحقیقات کے لئے 17اپریل کو طلب کرلیا گیا ہے۔

    محکمہ اینٹی کرپشن کے ترجمان کے مطابق 2022ء میں 2کروڑ 44لاکھ کی مالیت سے سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے قصبہ بارتھی میں اپنی رہائش کے قریب نجی قطہ اراضی پر سرکاری خرچ سے جرگہ ہال تعمیر کرا یا۔اس ہال کی تعمیر کے لئے لینڈ ایکوزیشن کی کوئی کارروائی نہ کی گئی اور نہ ہی پرائیویٹ فریقین سے سرکار کے نام کوئی انتقال درج کرایا گیا۔ عثمان خان بزداراس جرگہ ہال کو ذاتی استعمال میں لارہے ہیں۔جرگہ ہال عثمان بزدار کے والد کی قبر کے ساتھ تعمیر کرایا گیا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ محکمہ بلڈنگ تونسہ شریف کی جانب سے ورک آرڈر عثمان بزدار کے قریبی عزیز غلام اکبر بزدار اینڈکمپنی کو دیا گیا تھا۔ اینٹی کرپشن نے اس حوالے سے تمام ضروری شواہد حاصل کر لیے ہیں تاہم ہائیکورٹ کی رٹ پٹیشن نمبر23/5784 میں معزز عدالت عالیہ کی طرف سے مورخہ 9-5-2023 تک کسی قسم کی انضباطی کارروائی سے روک دیا گیا ہے

    عثمان بزدار اور انکے بھائیوں سمیت انکے مبینہ فرنٹ مین طور بزدار کے خلاف انٹی کرپشن میں انکوائری شروع

    زرتاج گل اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اینٹی کرپشن نے طلب کر لیا۔

    عثمان بزدار کے آبائی علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    وزیراعلیٰ پنجاب کی نیب میں طلبی،ترجمان پنجاب حکومت کا موقف آ گیا

    حمزہ شہباز کو جیل میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ مریم اورنگزیب نے کیا بڑا انکشاف

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

  • میاں اسلم اقبال کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل پرفیصلہ محفوظ

    میاں اسلم اقبال کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل پرفیصلہ محفوظ

    تحریک انصاف کے رہنما میاں اسلم اقبال کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے اپیلوں پر سماعت کی ،لاہورہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے بطور الیکشن ٹربیونل تحریک انصاف کے رہنما میاں اسلم کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا ریٹرننگ افسر نے میاں اسلم اقبال کے پی پی 170 سے کاغذات نامزدگی منظور کئے،جس کیخلاف ٹربیونل میں اپیل کنندہ نے موقف اختیار کیا کہ ریٹرننگ آفیسر نے درخواست گزار وں کے اعتراضات کو قواعد وضابطہ کے مطابق نہیں سنا ، میاں اسلم اقبال کو 9 کروڑ روپے سے زائدرقم چیک کے ذریعے دی اوراس رقم کو میاں اسلم اقبال نے اپنے اثاثوں میں چھپایا اور اس رقم پر ٹیکس بھی ادا نہیں کیا اس بنیاد پر میاں اسلم اقبال کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا حکم دیا جائے اور میاں اسلم اقبال کو پی پی 170 سے نااہل قرار دیا جائے

    دوسری جانب پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا آر او کا حکم کالعدم قرار دے دیا گیا، لاہور ہائیکورٹ میں پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے آراو کے حکم کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس شہرام سرور نے پرویزالٰہی اور مونس الٰہی کی درخواست پر سماعت کی ۔ ٹربیونل نے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا آر او کا حکم کالعدم قرار دے دیا،ٹربیونل نے پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،عدالت نے پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کی اپیلوں کو منظور کرلی

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

  • چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس/شکایت دائر کر دی گئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے 8ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائرکر دیا گیا ہے، معروف قانون دان میاں دائود ایڈووکیٹ کی طرف سے دائر ریفرنس میں آئین کے آرٹیکل 209 اور ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی دفعات تین تا چھ اور نو کی خلاف ورزی کو بنیاد بنایا گیا ہے

    سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس میں چیف جسٹس بندیال کے علاوہ 8ججز جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر ، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک ، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید کو بطور فریق شامل کیا گیا ہے۔ ریفرنس کے متن میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس بندیال نے پارلیمنٹ کے منظورکردہ بل کو سماعت کیلئے مقرر کرکے اختیارات سے تجاوز کیاہے، چیف جسٹس نے پارلیمنٹ کے بل کی سماعت کیلئے اپنی سربراہی میں غیرآئینی طور پر8 رکنی بنچ تشکیل دیا ، چیف جسٹس درخواستوں کی سماعت کیلئے بنچ کی خود سربراہی کر کےمس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے جبکہ باقی سات ججز بھی پارلیمنٹ کے بل پر سماعت اور اسے معطل کر کے آئین ، قانون اور کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔ریفرنس کے متن میں مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ ڈاکٹر مبشر حسن کیس میں 17رکنی فل کورٹ اور اعتزاز احسن کیس میں 12 رکنی بنچ بل کیخلاف حکم امتناعی جاری نہ کرنے کا اصول طے کرچکا ہےلیکن اس کے باوجود کم تعداد کے حامل 8 ججز نے پارلیمنٹ کے بل کیخلاف حکم امتناعی جاری کرکے ڈاکٹر مبشر حسن اور اعتزاز احسن کیس کی بطور اکثریتی ججز کے فیصلے کی پابندی نہ کر کے قانون کی خلاف ورزی کی۔ ریفرنس میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس بندیال نےاپنے ذاتی، سیاسی اور مفادات کا تحفظ کر کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ مستقبل کے ممکنہ چیف جسٹس صاحبان جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب، جسٹس عائشہ اور جسٹس شاہد وحید نے آٹھ رکنی بنچ میں شامل ہو کر کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق جہاں ججز کا مفاد سامنے آجائے، وہاں لازمی پابندی عائد کی گئی ہے کہ ججز اس کیس سے خود کو الگ کر لیں گے لیکن چیف جسٹس بندیال سمیت مستقبل کے مذکورہ بالا تینوں جج صاحبان نے اس لازمی آئینی پابندی کو نظرانداز کر کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔ ریفرنس میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان بندیال نے کرپشن الزامات کا سامنا کرنیوالے جسٹس مظاہر نقوی کو تحفظ فراہم کے آئین اور مس کنڈکٹ کیا اور اوپن کورٹ میں بیان دیا کہ جسٹس مظاہر نقوی کو ساتھ بٹھا کر کسی کو پیغام دیا گیا کہ وہ اپنے جج کے ساتھ کھڑے ہیں، ٹیکس تنازع پر جج کیخلاف ٹرائل نہیں کر سکتے، چیف جسٹس بندیال کا یہ بیان عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے کیونکہ جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف صرف ٹیکس تنازع کا نہیں بلکہ باقی سنگین بدعنوانیوں کے الزامات بھی ثبوتوں کے ساتھ ریفرنس میں شامل تھے۔میاں دائود ایڈووکیٹ نے اپنے ریفرنس میں مزید الزام عائد کیا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب، جسٹس مظاہر نقوی نے غیرقانونی طور پر خود کو غلام محمود ڈوگر کیس میں اسمبلیوں کے الیکشن تنازع میں بھی ملوث کیا اورچیف جسٹس بندیال کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے الیکشن ازخود نوٹس کیس کا اکثریتی فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کیا جو مس کنڈکٹ کےزمرے میں آتا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطابندیال انتظامی اختیارات کے بدترین ناجائز استعمال کےمرتکب ہوئے ہیں جبکہ تمام متنازع بنچوں کی تشکیل کے مرکزی ذمہ دار چیف جسٹس عمر عطا بندیال ہی ہیں۔ چیف جسٹس بندیال جونیئر ججز کی سپریم کورٹ تعیناتی کرکے الجہاد ٹرسٹ اور ملک اسد کیس کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، چیف جسٹس بندیال سمیت8 ججز اعلی معیار پر مبنی ایماندار کردار برقرار رکھنے میں ناکام رہے، چیف جسٹس بندیال سمیت8 ججزمفادات کے ٹکرائو کے اصول پر عملدرآمد میں بھی ناکام رہے، چیف جسٹس بندیال سمیت8 ججزذاتی سیاسی دلچسپی کے مقدمات کی سماعت کے مرتکب ہوئے ، سپریم کورٹ کے 8ججز خود کو مقدمات پر اثرورسوخ استعمال کرنے کیلئے اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب ہوئے، چیف جسٹس بندیال سمیت8 ججزباقی ججز کے ساتھ باہمی تعلقات بہتررکھنے میں ناکام ہوئے اور اس طرح چیف جسٹس بندیال سمیت 8ججز سپریم کورٹ کی عوام میں بدنامی کا باعث بنے ہیں۔

    ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل سے استدعا کی گئی ہے کہ چیف جسٹس عمر عطابندیال سمیت 8ججز کو انکوائری کے بعد برطرف کرنے کا حکم دے اور ریفرنس کے حتمی فیصلے تک انہیں فوری کام سے روکا جائے۔آٹھ ججز کیخلاف ریفرنس کی کاپی جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ کو بھجوائی گئی ہے۔ چیف جسٹس بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن کیخلاف ریفرنس آنے کے بعدان کی جگہ ممکنہ اگلے ممبر سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس منصور علی شاہ ہونگے۔ ریفرنس کی کاپی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھی بھجوائی گئی ہے۔

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

  • تھانہ رمنا اسلام آباد مقدمہ،عمران خان نے ضمانت کی درخواست کی دائر

    تھانہ رمنا اسلام آباد مقدمہ،عمران خان نے ضمانت کی درخواست کی دائر

    تھانہ رمنا اسلام آباد مقدمہ کے حوالہ سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ںے حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ چار اپریل کو سیاسی بنیادوں پر مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمہ میں پاک فوج کے خلاف گھٹیا زبان استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا،متعلقہ عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں، خدشہ ہے پولیس گرفتار کر لے گی، عدالت اسلام آباد ٹرائل کورٹ تک رسائی کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کرے،عدالت پولیس کو ممکنہ گرفتاری سے روکنے کا حکم دے،

    ایف آئی آر کے مطابق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے انٹرویو میں حساس ادارے کے آفیسر سے متعلق نازیبا الفاظ کا استعمال کیا۔ حساس اداروں کے مختلف افسران کے نام لے کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ عمران خان مذموم ارادوں کے مقاصد کے لیے سوشل میڈیا کا بھی سہارا لیتے ہیں۔ عمران خان کا یہ عمل ملک و ریاست کی سالمیت کے لیے خطرہ ہے۔ مقدمے کے مطابق عمران خان نے اپنی تقاریر سے فوج، مختلف گروہوں اور طبقوں میں انتشار پھیلایا ہے عمران خان نے اپنی تقریرمیں فوجی افسران کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے انہوں نے فوجی افسران اوران کے اہلخانہ کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    زمان پارک، اسلحہ ملا،شرپسند عناصر تھے،آئی جی سب دکھائینگے،وزیر داخلہ

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

    عمران خان موو کرتے ہیں تو انکے ساتھ سیکیورٹی ہوتی ہے؟حکومت سے جواب طلب

    واضح رہے کہ عمران خان اپنی حکومت جانے کے بعد سے لے کر اب تک اداروں پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں اور کارکنان کو بھی اکسا رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ نہ صرف عمران خان بلکہ پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف بھی مقدمے درج ہو چکے ہیں،،کئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا تو انہوں نے معافیاں مانگیں اور پی ٹی آئی کا کوئی رہنما گرفتار کارکنان کا حال پوچھنے تک بھی نہیں گیا، عمران خان کئی مقدموں میں ضمانت پر ہیں اور زمان پارک میں مقیم ہیں، پولیس نے عمران خان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی مگر کامیاب نہیں ہو سکی

  • پرویز الہیٰ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    پرویز الہیٰ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    پرویز الٰہی اور دیگر کیخلاف اربوں روپے کی کرپشن کا معاملہ ،کرپشن کیس میں سابق وزیر اعلی پرویز الٰہی کی عبوری ضمانت ہر سماعت ہوئی

    اینٹی کرپشن کورٹ نے پرویز الٰہی کی 27 اپریل تک عبوری ضمانت منظور کر لی ،عدالت نے اینٹی کرپشن حکام کو گرفتاری سے روک دیا ،عدالت نے ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ،اینٹی کرپشن کورٹ کے جج علی رضا نے سماعت کی ،پرویز الٰہی پر ایل ڈبلیو ایم سی غیر ملکی کمپنی کے معاہدہ میں رشوت کا الزام ہے دو ارب نوے کروڑ کی ادائیگی کے عوض ساڑھے بارہ کروڑ رشوت کا الزام ہے مقدمہ میں محمد خان بھٹی اور مونس الٰہی شریک ملزمان ہیں

    چوہدری پرویزالہی،مونس الہی، محمد خان بھٹی اور زبیر خان اینٹی کرپشن پنجاب کے ریڈار پرآ گئے،اینٹی کرپشن پنجاب نے سابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا-پرویز الہی اینڈ کمپنی نے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ذریعے ایک غیرملکی کمپنی کی واجب الادا رقم 2 ارب90کروڑ کی ادائیگی کے عوض ساڑھے بارہ کروڑ روپے رشوت وصول کی، چوہدری پرویز الہی کے خلاف مقدمہ ٹھوس شواہد کی بنا پر درج کیا گیا ہے سابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی، مونس الہی اور محمد خان بھٹی کی ڈیل مونس الہی کے دوست زبیر خان نے کروائی- غیرملکی کمپنی کی واجب الادارقم کے عوض چوہدری پرویز الہی نے ساڑھے چھ کروڑ روپے وصول کئے- مونس الہی اور محمد خان بھٹی نے پانچ کروڑ جبکہ زبیر خان نے پچاس لاکھ روپے لئے- ملزمان پرویزالہی، مونس الہی، محمد خان بھٹی اور زبیر خان نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سابق سی ای او چوہدری پرویز الہی نے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی علی عنان قمر پر دباؤ ڈال کر 2 ارب 90کروڑ روپے کی فوری ادائیگی کروائی ،

    سرکاری خزانے کو 300 ارب کا نقصان سابق وزیر اعلی چوہدری پرویز الہی کے گرد گھیرا تنگ 

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    پرویز الہیٰ کے پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کی نئی ویڈیو،تہلکہ خیز انکشافات

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الہیٰ کی آڈیو لیک

     پرویز الہیٰ عمران خان سمیت تحریک انصاف پر برس پڑے

    ودھری پرویز الہی کیلئے لڑکیوں کی سپلائی، شراب کی بوتلیں، اہم ثبوت مل گئے،ا

  • سپریم کورٹ کااسٹیٹ بینک کو 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ کااسٹیٹ بینک کو 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے فنڈز سے متعلق پیر تک رپورٹ مانگ لی سپریم کورٹ نے اسٹیٹ بینک کو 21 ارب روپے جاری کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک وزارت خزانہ کو 21 ارب روپے دے وزارت خزانہ الیکشن کمیشن کو فنڈز فراہم کرے اسٹیٹ بینک حکام نے سپریم کورٹ سے حکم جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

    سپریم کورٹ نے سٹیٹ بنک کو الیکشن کمیشن کو فنڈز جاری کرنے کا حکم دے دیا وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز دینے معذوری ظاہر کرنے پر احکامات دیے گئے،اسٹیٹ بنک کو فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈز سے 21 ارب روپے کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے،وزارت خزانہ حکام نے خراب معاشی حلات سے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ، وزارت خزانہ حکام نے کہا کہ قرضے زیادہ ہیں فنڈز فراہمی میں مشکلات آسکتی ہیں

    وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں انتخابات کیس کی ان چیمبر سماعت میں جمع کروایا گیا تحریر ی مؤقف سامنے آیا ہے،وفاقی حکومت نے عدالتی احکامات پر عمل کر دیا، وفاقی حکومت کا جواب فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے پیسے جاری کرنے کیلئے ایکٹ آف پارلیمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے لیے بل پارلیمان نے مسترد کر دیا بل مسترد ہونے کے بعد وفاقی حکومت کے پاس فنڈ جاری کرنے کا اختیار نہیں ،وفاقی حکومت سٹیٹ بینک کو فنڈ جاری کرنے کا حکم نہیں دے سکتی ،وفاقی حکومت نے عدالتی حکم کے تحت اپنی قانونی ذمہ داری پوری کر دی

    قبل ازیں پنجاب انتخابات کیس، فنڈز کی عدم فراہمی پران چیمبر سماعت ہوئی ، اٹارنی جنرل، وزارت خزانہ کے حکام چیف جسٹس کے چیمبر میں پیش ہوئے ،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ان چیمبر سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی سماعت میں موجود تھے ، اویس منظور سمرا (خصوصی سیکرٹری خزانہ) ، جناب عامر محمود (ایڈیشنل سیکرٹری فنانس) ،جناب تنویر بٹ (ایڈیشنل سیکرٹری فنانس) ، سیما کامل (قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان) ، عنایت حسین چوہدری (ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک )، سیکرٹری الیکشن کمیشن ، ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان، ڈی جی/قانون الیکشن کمیشن آف پاکستان، قدیر بخش (ڈائریکٹر اسٹیٹ بینک ) ،جہانگیر شاہ (پروٹوکول آفیسر اسٹیٹ بینک ) ،محسن افضل (پروٹوکول آفیسر اسٹیٹ بینک آف پاکستان) سپریم کورٹ مین پیش ہوئے ،سیکرٹری خزانہ یعقوب حامد امریکہ دورے پر ہیں۔رجسٹرار کے مراسلے میں تمام افسران کو انتخابات اور فنڈز سے متعلق ریکارڈ سمیت پیش ہونے کے احکامات دئیے گئے تھے ،تمام فریقین نے اپنی اپنی رپورٹس چیف جسٹس چیمبر میں پیش کردیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے چیمبر میں سماعت ختم ہوئی، اٹارنی جنرل واپس روانہ ہوئے تو صحافیوں نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ سر کیا فیصلہ ہوا،؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جو بھی فیصلہ ہوا تحریری آرڈر آ جائے گا،

    نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کے لیے گورنر اسٹیٹ بینک کو الیکشن کمیشن کو براہ راست فنڈز جاری کرنے کا حکم دے دیا، دوران سماعت ججز نے الیکشن کے لیے فنڈز جاری نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ عدالتی حکم پرعمل کرنا پڑے گا سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کو حکومتی مؤقف پیش کرنے پرسخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا

    صحافیوں نے اٹارنی جنرل سے کیس کی سماعت کے بعد سوال کیا کہ کیا حکومت توہین عدالت کا سامنا کرے گی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ کس چیز کی توہین عدالت،وفاقی حکومت نے کابینہ سے قانون پاس کروایا ہے،فنڈز کے معاملے پر حکومتی موقف سے عدالت کو آگاہ کیا،پارلیمنٹ نے فنڈز دینےکی اجازت نہیں دی ،دیگر اداروں نے تمام صورتحال سے آگاہ کیا، فیڈرل کونسولیڈیٹڈ فنڈز قومی اسمبلی کی منظوری سے ہی پیسہ جاری ہوتا ہے ،حکومت کو بھی ہدایات جاری کرنے کیلٸے قومی اسمبلی کی منظوری درکار ہوتی ہے

    قبل ازیں سپریم کورٹ، پنجاب انتخابات کا معاملہ، چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت اوپن کورٹ میں کردی تھی تا ہم اوپن کورٹ میں سماعت نہیں ہوئی،دوسری جانب وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کو مشاورت کے لیے طلب کیا تھا،اٹارنی جنرل سپریم کورٹ سے وزیراعظم آفس کے لیے روانہ ہوئے تھے،اٹارنی جنرل نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم سے آج ان چیمبر سماعت کے حوالے سے ملاقات کرنے جا رہا ہوں، پارلیمنٹ نے حکومت کو فنڈز جاری کرنے سے روک دیا ہے،وفاقی حکومت کے پاس الیکشن کے لیے فنڈز جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں حکومتی مؤقف ان چیمبر سماعت کے دوران پیش کریں گے،

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

  • تنویر الیاس کی وزارت عظمی کے عہدے پر فوری بحالی کی درخواست مسترد

    تنویر الیاس کی وزارت عظمی کے عہدے پر فوری بحالی کی درخواست مسترد

    سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کی وزارت عظمی کے عہدے پر فوری بحالی کی درخواست مسترد کر دی

    سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کی اپیل کی سماعت آزاد کشمیر سپریم کورٹ میں چیف جسٹس راجہ سعید اکرم کی سربراہی میں فل بنچ نے کی، بنچ میں جسٹس رضا علی خان اور جسٹس خواجہ نسیم شامل تھے ،سردار تنویر الیاس کی جانب سے لیگل ٹیم کی قیادت ایڈووکیٹ رازق خان نے کی ،چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم نے معذرت نہیں کی سابق وزیرِ اعظم نے کہا اگر توہین ہوئی ہے تو معافی مانگتا ہوں ،سابق وزیرِ اعظم ایوان اوروزارت عظمیٰ کا عہدہ بھی جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں ججز کو نکال دوں گا سابق وزیرِ اعظم ایک چپڑاسی کو بغیر پراسس کے نہیں نکال سکتے اسمبلی قانون بناتی ہے ہم صرف اس کی تشریح کرتے ہیں

    سابق وزیرِ اعظم تنویر الیاس کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میرے موکل کو وضاحت کا موقع نہیں دیا گیا آئین ہر شہری کو خود پر لگے الزامات کا جواب دینے کا موقع دیتا ہے ،آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملٹی میڈیا پر ان کے تمام الفاظ چلائے تو نہوں نے تسلیم کیا انہوں نے عدالت کے سامنے ہی توہین آمیز الفاظ کو تسلیم کیا ان کے تسلیم کر لینے کے بعد کیا عدالت ان سے معافی مانگتی؟ سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ اگر یہ توہین ہے تو معذرت کرتے ہیں وہ ویسے بڑے اسٹیٹ فارورڈ ہیں، مان لیا کہ انہوں نے ہی یہ کہا جج بھی کوئی ایسا کام کرتا ہے تو اس کے خلاف بھی توہین کی کارروائی ہو سکتی ہے

    قبل ازیں مظفر آباد ہائی کورٹ نے سردار تنویر الیاس کو عہدے سے ہٹا دیا۔ ہائی کورٹ کے فل کورٹ نے وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس کو ڈس کوالیفائی کردیا ،سردار تنویر الیاس کو توہین عدالت پر نااہل قرار دیا گیا،۔ ہائی کورٹ نے توہین عدالت کیس میں ان کی معافی کی درخواست قبول نہیں کی ، سردار تنویر الیاس کو عدالت برخاست ہونے تک سزا سنائی گئی،عدالت نے تنویر الیاس کو کسی بھی پبلک عہدے کے لیے نا اہل قرار دیا عدالت نے نئے وزیراعظم آزاد کشمیر کے انتخاب کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو بھی حکم جاری کردیا

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

  • چینی سپریم کورٹ؛ جج کو لاکھوں ڈالرز رشوت لینے کے جرم میں سزا کا سامنا

    چینی سپریم کورٹ؛ جج کو لاکھوں ڈالرز رشوت لینے کے جرم میں سزا کا سامنا

    چینی سپریم کورٹ؛ جج کو لاکھوں ڈالرز رشوت لینے کے جرم میں سزا کا سامنا

    چین میں سپریم کورٹ کے جج کو دو دہائیوں کے دوران 22.7 ملین یوآن (3.3 ملین امریکی ڈالر) کی رشوت لینے کے جرم میں 12 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سپریم کورٹ کے جج مینگ ژیانگ کو رشوت ستانی کیس میں پچھتاوا ظاہر کرنے اور خود سے دیگر جرائم کا بھی اعتراف کرنے کے باعث جرم کی کم سے کم سزا 12 سال قید اور 20 لاکھ یوآن کا جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

    سپریم پیپلز کورٹ کے انفورسمنٹ بیورو کے سابق ڈائریکٹر اور ٹرائل کمیٹی کے رکن مینگ ژیانگ پر 2003 سے 2020 کے درمیان 33 لاکھ ڈالرز بطور رشوت لینے کے مختلف مقدمات کا سامنا تھا۔ 58 سالہ جج مینگ ژیانگ نے عدالتی فیصلوں اور قانون کے نفاذ جیسے معاملات میں دوسروں کی مدد کرنے، فرموں کے لیے تعمیراتی ٹھیکے حاصل کرنے اور کیڈر کے انتخاب کو متاثر کرنے کے لیے رشوت لی اور اپنے عہدے اور طاقت کا ناجائز استعمال کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    خیال رہے کہ جج مینگ ژیانگ نے اپنا عدالتی کیریئر 30 سال قبل بطور کلرک شروع کیا تھا اور ترقی کرتے کرتے سپریم کورٹ کے جج تک پہنچے تھے۔ گزشتہ ماہ چین کے سابق چیف جسٹس ژو کیانگ نے مقننہ کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں انکشاف کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے سیکڑوں ججز اور انتظامی افسران کرپشن الزامات میں زیر تفتیش ہیں اور درجنوں کو سزا بھی دی گئی ہے۔