Baaghi TV

Tag: عدالت

  • عمران خان سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے

    عمران خان سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کل جمعرات کو اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔

    باغی ٹی وی: عمران خان کے خلاف کل 3 عدالتوں میں کیس سماعت کیلئے مقرر ہیں، ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی قانونی ٹیم اور سینئر قیادت سے مشاورت کے بعد کل اسلام آباد نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    زمان پارک ، راستے بند، پولیس کی بھاری نفری، عمران خان کی گرفتاری متوقع

    ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ان کی ٹیم کی جانب سے سیکورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جس کے بعد سینئر قیادت نے رائے دی کہ سکیورٹی خطرات ہیں کل اسلام آباد نہ جایا جائے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر عمران خان کل اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔

    عمران خان کی لیگل ٹیم سیکیورٹی خدشات پر استثنیٰ کی درخواستیں دائر کرے گی۔

    پنجاب پولیس کے تشدد سے ایک کارکن جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے، پی ٹی …

    پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف کچہری میں خاتون جج کو دھمکانے کا کیس مقرر ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں اقدام قتل، انسداد دہشت گردی عدالت میں تھانہ سنگجانی کا کیس مقرر ہےاسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کےخلاف کیس کی سماعت 3 بجے ہوگی۔

  • ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے

    ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے

    بند ہونے والی پرائیویٹ ایکویٹی کمپنی ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی بدھ کو دھوکہ دہی کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے لندن سے امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے-

    باغی ٹی وی: برطانیہ کی ایک عدالت نے پاکستان کی مشہور کاروباری شخصیت اور ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی کی امریکہ کے حوالے کیے جانے کے خلاف درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد عارف نقوی نے عدالت کا یہ فیصلہ چیلنج کر دیا تھا-

    ٹوئٹر کے دفتر میں محافظ ہروقت یہاں تک کہ باتھ روم میں بھی ایلون مسک …

    مقدمہ ہارنے کے بعد ایک وقت میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے سرمایہ کار گروپ کے بانی کو امریکہ میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    امریکی استغاثہ نے الزام لگایا کہ پاکستانی تاجر عارف نقوی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن سمیت امریکی سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کی سازش میں ملوث رہے ہیں۔

    عالمی خبررساں ادارے کے مطابق عارف نقوی پبلک ریلیشنز فرم کے ذریعے ان الزامات سے انکار کر چکے ہیں۔

    برطانوی جج جوناتھن سوئفٹ نے بدھ کو عارف نقوی کو ان کی امریکہ حوالگی کی 2021 کے مقدمے کے فیصلے کا عدالتی جائزہ لینے کی درخواست مسترد کر دی۔

    عارف نقوی کے وکیل ایڈورڈ فٹزجیرالڈ نے ایک روز قبل لندن کی ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ ان کے مؤکل کو ممکنہ طور پر نیو جرسی کی جیل میں پرتشدد مجرموں کے ساتھ رکھا جا سکتا ہےعارف نقوی شدید ڈپریشن کا شکار ہیں اور حوالگی کی صورت میں ان کو خودکشی کا ’حقیقی خطرہ‘ لاحق ہے۔

    ہماری حکومت گرانے میں تاجروں کا ہاتھ تھا،پی ٹی آئی کا ایک اور یوٹرن

    تاہم امریکی حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکلا نے کہا کہ عارف نقوی کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ استغاثہ مقدمے کی سماعت سے قبل ضمانت کی مخالفت نہیں کرے گا۔

    امریکی حکومت کے سرکاری وکیل مارک سمرز نے عدالتی فائلنگ میں کہا کہ عارف نقوی کے مقدمے کے امریکی ڈسٹرکٹ جج لیوس کپلان ہیں جنہوں نے ایف ٹی ایکس کے بانی سیم بینک مین فرائیڈ کی بھی ضمانت کی منظوری دی تھی جو ’مضبوط اشارہ‘ ہے کہ نقوی کو ضمانت مل جائے گی۔

    برطانوی جج سوئفٹ نے بدھ کو جاری فیصلے میں کہا کہ عارف نقوی کی حوالگی کی منظوری کے 2021 کے فیصلے کے بعد سے جیل کے حالات میں کوئی ’مادی تبدیلی‘ نہیں آئی ہے اگر عارف نقوی کو جیل میں رکھا گیا تو ان کی خودکشی کے ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے مناسب انتظام کیا جا سکتا ہے۔

    اسلام آباد میں عورت مارچ کے شرکا پر تشدد کرنے والے تین اہلکارمعطل

    عارف نقوی کے وکیل نے فوری طور پر اس فیصلے پر تبصرہ کرنے کی روئٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

    یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) نے الزام لگایا ہے کہ عارف نقوی اور ان کی فرم نے ابراج گروتھ مارکیٹس ہیلتھ فنڈ کے لیے رقم اکٹھی کی جنہوں نے تین سالوں میں امریکی خیراتی اداروں اور دیگر امریکی سرمایہ کاروں سے 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم جمع کی۔

    امریکی استغاثہ نے سابق ایگزیکٹو پر مالیاتی بحران کے دوران فنڈز کی پوزیشن کے حوالے سے سچ چھپانے کا الزام بھی عائد کیا، جب کہ لاکھوں ڈالرز ان کے اپنے ہی خاندان کو چوری چھپے منتقل کیے گئے۔

    عارف نقوی دبئی میں قائم ابراج کے بانی تھے پاکستان میں بھی ابراج گروپ کے اثاثے موجود ہیں۔ کراچی کو بجلی فراہم کرنے والا ادارہ کے الیکٹرک ابراج گروپ کی ملکیت ہے جب کہ اسلام آباد میں موجود ایک لیبارٹری میں بھی ابراج گروپ کے حصص موجود ہیں۔

    ماضی میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ عارف نقوی ایک وقت میں ان کی حکومت کو بے ضابطہ مشاورت فراہم کر رہے تھے۔

    اس کے علاوہ عارف نقوی سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کئی اجلاسوں میں بھی نظر آئے تھے اور برطانیہ کی عدالت میں ایک موقع پر جج یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’عارف نقوی کے پاکستان میں اعلیٰ بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات ہیں جن میں وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی شامل ہیں۔

    ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی نے کس طرح بل گیٹس سمیت بڑوں بڑوں‌ سے فراڈ کیا: تفصیلات آگئیں

    پاکستان کے احتساب ادارے نیب کے مطابق عارف نقوی تحریک انصاف کو فنڈنگ بھی کر چکے ہیں جب کہ امریکہ میں اس وقت ان کے خلاف کیسز چل رہے ہیں سال 2018 میں فرم کے خاتمے کے وقت ابراج ایک ارب ڈالر سے زائد کا مقروض تھا۔

    امریکہ میں عارف نقوی پر فراڈ کے الزامات ہیں اور مبینہ متاثرین میں بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن بھی شامل ہے 2019 میں برطانیہ میں میٹروپولیٹن پولیس نے ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی کو سرمایہ کاروں سے دھوکہ دہی کے الزام میں لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    عارف نقوی کے کاروباری ساتھی عبدالودود کو امریکہ میں گرفتار کیا گیا تھا، اور استغاثہ کے وکلاء نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے ہزاروں ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا غلط استعمال کیا امریکہ کے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے عارف نقوی کو لندن میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    نیویارک کے جنوبی ڈسٹرکٹ کے اسسٹنٹ یو ایس اٹارنی نے عارف نقوی کے خلاف تحریری درخواست میں سنہ 2014 سے سنہ 2018 کے دوران فراڈ اور منی لانڈرنگ کے 16 مبینہ جرائم کا ارتکاب کرنے کے الزمات لگائے تھے۔

    مبینہ بیٹی ظاہر نہ کرنےکا کیس:عمران خان کی متفرق درخواست سماعت غیر معینہ مدت تک …

    عدالتی دستاویزات میں کہا گیا تھا کہ استغاثہ کی طرف سے لگائے گئے الزامات کے مطابق ابراج گروپ کو جب 2014 میں مالی مشکلات پیش آنا شروع ہوئیں تو اس وقت مبینہ طور پر فراڈ شروع ہوا تھا۔ گروپ کی آمدنی روزمرہ کے اخراجات اٹھانے کے لیے ناکافی پڑنے لگی تو مبینہ طور پر عارف نقوی اور اس کے ساتھ شامل کچھ لوگوں نے مبینہ طور پر گڑ بڑ کرنا شروع کی۔

    کہا گیا تھا کہ امریکہ کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ فراڈ کے دو طریقے تھے۔ پہلے طریقہ جو مبینہ طور پر اختیار کیا گیا وہ ابراج گروپ کی مالی مشکلات کو چھپانے کے لیے سرمایہ کاروں کا پیسہ ادھر سے ادھر کیا گیا یا جس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا اسے دوسری جگہوں پر استعمال کیا جانا شروع کیا گیا۔ دوسرا طریقہ گروپ کے اثاثوں کی قدر بڑھا چڑھا کر ظاہر کی گئی۔ گروپ کی مالی حالت کے بارے میں سرمایہ کاروں کے سامنے غلط تصویر پیش کر کے ان سے مزید سرمایہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

    گروپ کے اندر جاری اس مبینہ بدعنوانی اور فراڈ سنہ 2017 میں اس وقت سامنے آیا جب ایک نامعلوم ای میل پیغام سرمایہ کاروں کو موصول ہوا۔ اس پیغام میں کہا گیا ‘کیش’ کو ابراج کے ‘ورکنگ کیپٹل’ کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    اس کے علاوہ یہ الزام بھی عائد کیا گیا تھا کہ جو پیسہ ادھر اُدھر کیا جا رہا تھا اس کو ابراج گروپ کی مالی حالت کو چھپانے کے ساتھ ساتھ عارف نقوی کے خاندان کو فائدہ پہنچانے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا تھا انھوں نے پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنی میں اپنے شیئر کو فروخت کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے ایک پاکستانی سیاست دان کو بھی رشوت دی۔

    ای سی سی نے گندم کی امدادی قیمت 3900 روپے فی من مقرر کرنے کی …

    عارف نقوی سنہ 1960 میں کراچی کےایک متوسط طبقے میں پیدا ہوئے، انھوں نے لندن اسکول آف اکنامکس سےگریجوئیشن کی، جس کے بعد کراچی میں امریکن ایکسپریس سے منسلک ہوگئے۔

    سنہ 1994 میں عارف نقوی نے 50 ہزار امریکی ڈالر کی خطیر رقم سے دبئی میں سرمایہ کاری کا آغاز کیا۔ انھوں نے پہلے دبئی میں کپولا کے نام سے کمپنی بنائی اور اس کے ساتھ ابراج کے نام سے سرمایہ کار گروپ قائم کیا جو ابھرتی ہوئی منڈیوں میں سرمایہ کاری کرنے والا پہلا گروپ تھاسنہ 2016 میں ابراج نے کریم کار میں بھی سرمایہ کاری کی اور دو سال کے بعد وہاں سے سرمایہ نکال لیا۔

    ابراج گروپ مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ میں سب سے بڑا سرمایہ کار گروپ تھا۔ سنہ 2002 میں قائم اس گروپ کے 25 ممالک کے ساتھ ساتھ دبئی، استنبول، میکسیکو سٹی، ممبئی، نیروبی اور سنگاپور میں ریجنل دفاتر ہیں۔

    پوری دنیا میں گروپ کی 17 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری تھی جس میں سنہ2017 کے اختتام تک کمی آتی گئی اور یہ 3 عشاریہ 8 بلین ڈالر تک پہنچ گئی اور اس کی وجہ سرمایہ کاروں کی بےاعتمادی بنی جن میں عالمی بینک اور بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن بھی شامل ہیں۔

    دونوں اداروں نے بھارت، پاکستان اور نائیجریا میں سکول اور ہسپتالوں کے قیام کے لیے فنڈز فراہم کیے تھے، عارف نقوی پر الزام ہے کہ دونوں اداروں کے فنڈ ابراج گروپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے جس کے بعد عارف نقوی کے اکاؤنٹ میں منتقل کردیئے گئے اور سرمایہ کاروں کو اس سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

    ابراج گروپ نے سنہ 2009 میں 1.4 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری سے کے الیکٹرک کے اکثریتی شیئر خرید کر انتظامی اختیار حاصل کیا۔ پاکستان کے سب سے گنجان آبادی والے شہر کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے اس ادارے کے 25 لاکھ صارفین ہیں اور یہ ادارہ نہ صرف بجلی کی پیداوار کرتا ہے جبکہ بجلی کی فراہمی اور منتقلی بھی اسی کے ذمے ہےابراج گروپ نے جب کے الیکٹرک کا انتظام سنبھالا تو اس وقت بجلی کے بحران کا سامنا تھا۔

    پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات: الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ اور خزانہ حکام کو طلب کر …

    عارف نقوی نے اپنی پاکستانی شہریت برقرار رکھی ہے۔ وہ پاکستان کے سب سے بڑے بزنس اسکول انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹرینش کے طلب علموں کی مالی معاونت کرتے اس کے علاوہ انھوں نے کراچی میں امن فاؤنڈیشن کے نام سے فلاحی ادارا قائم کیا ہے، جو نہ صرف جدید ایمبولینس کی سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ نوجوانوں کو جدید فنی تعلیم بھی دیتا ہے۔ عارف نقوی کے ساتھ ان کی اہلیہ فائزہ نقوی بھی اس ادارے کو چلاتی ہیں۔

    حکومت پاکستان نے سنہ 2011 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔ اس کے علاوہ انھیں اوسلو بزنس فار پیس ایوارڈ دیا گیا۔ وہ انٹرپول فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی اور اقوام متحدہ کے بعض بورڈز کے رکن بھی ہیں۔

  • پہلےعمران خان کو لیکرعدالت پہنچیں پھر سماعت ہو گی،ایڈیشنل رجسٹرارلاہورہائیکورٹ

    پہلےعمران خان کو لیکرعدالت پہنچیں پھر سماعت ہو گی،ایڈیشنل رجسٹرارلاہورہائیکورٹ

    تحریک انصاف نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت سے متعلق درخواستوں پر فوری سماعت کی اپیل کی ہے

    تحریک انصاف نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ 3 مقدمات میں عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواستوں کو آج ہی سماعت کیلئے مقرر کیا جائے ، ایڈیشنل رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ حفاظتی ضمانت کا اصول ہے کہ ملزم پہلے عدالت میں موجود ہو،تمام ججز گھر جا چکے ہیں آپ کی درخواستوں کیلئے ججز واپس آئیں گے،پہلے عمران خان کو لے کر لاہور ہائیکورٹ پہنچیں ،پھر درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کریں گے پہلے بھی آپ نے درخواست مقرر کروا کر عمران خان کو پیش نہیں کیا تھا،

    پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ آپ اس طرح پہلے ہماری دفعہ 144کے نفاذ کیخلاف درخواست کو مقرر کردیں،زمان پارک کو چاروں اطراف سے پولیس نے گھیر رکھا ہے،دفعہ144کے نفاذ کیخلاف پٹیشن کو آج ہی سماعت کے لیے مقرر کیا جائے ، ایڈیشنل رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ جج صاحب کہتے ہیں گھر بیٹھے شخص کو بیل نہیں دے سکتے ،کل آجائیں کل درخواست سماعت کے لیے لگا دیتے ہیں،وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان3 دن سے آنا چاہتے ہیں لیکن سیکیورٹی فراہم نہیں کی جارہی،ہمارے سیکیورٹی والی درخواست ہی سماعت کے لیے مقرر کردی جائے،راستے بند ہیں، لا اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب ہے

    زمان پارک میں عورتوں کے ساتھ زیادتی

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    زمان پارک بارے آڈیو لیک،مولانا فضل الرحمان بھی خاموش نہ رہ سکے

  • سپریم کورٹ کو کسی کاروبار میں نہیں پڑنا چاہیے،جسٹس اطہر من اللہ

    سپریم کورٹ کو کسی کاروبار میں نہیں پڑنا چاہیے،جسٹس اطہر من اللہ

    سپریم کورٹ میں منسٹری آف انٹیرئیر کوآپرییٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس اطہر من اللہ نے ہاؤسنگ سوسائٹیز اداروں کے نام پر بنانے پر اظہار برہمی کیا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی کا نام منسٹری کے نام پہ کیسے رکھا جا سکتا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ ایسے تو سپریم کورٹ ہاوسنگ سوسائٹی بھی ہے،جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ "امپلائز” کو آپریٹیو ہاوسنگ سوسائٹی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں سپریم کورٹ کا نام بھی ہاوسنگ سوسائٹی کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے،سپریم کورٹ کو کسی کاروبار میں نہیں پڑنا چاہیے،نجی کاروبار میں منسٹری کا نام کیسے استعمال کیا گیا ہے؟

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اگر عدالت فیصلہ کر دے تو ہم ہاوسنگ سوسائٹی کا نام بھی بدل دیں گے، جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ہاوسنگ سوسائٹی کے نام تبدیلی کا ذکر ہائیکورٹ میں ہوا ہی نہیں تو عدالت کیسے حکم دے؟ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ "ایمپلائز” کو آپریٹیو ہاوسنگ سوسائٹی ہے،سپریم کورٹ نے وزارت داخلہ کوآپریٹیو ہاوسنگ سوسائٹی کی درخواستیں خارج کر دیں

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    مدرسے کی طالبات نے خاتون معلمہ کو گلی میں مبینہ طور پر ذبح کر دیا

    خواب دیکھا،استانی نے توہین مذہب کی، اسلئے ذبح کر دیا، ملزمہ طالبات کا بیان

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ،عدالت نے منسٹری آف انٹیرئیر ہاوسنگ سوسائٹی کی جانب سے سرکاری کالج کی زمین کے قبضے کیخلاف فیصلہ دیا ،منسٹری آف انٹیرئیر ہاوسنگ سوسائٹی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا

  • عمران خان نااہلی کیس،سماعت بغیرکاروائی ملتوی

    عمران خان نااہلی کیس،سماعت بغیرکاروائی ملتوی

    عمران خان کی نااہلی کیس،سماعت بغیر کاروائی ملتوی
    اسلام آبادہائیکورٹ ،ذاتی معلومات چھپانے پر عمران خان کی نااہلی کا کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی نااہلی کی درخواست پر سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی ,جسٹس محسن اختر کیانی کے رخصت پر ہونے کے باعث سماعت آج نہیں ہوسکے گی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں لارجربینچ نے آج کیس کی سماعت کرنی تھی

    لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے دائر متفرق درخواستوں پر سماعت بھی بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی،لاپتہ افراد کیس میں وزارت دفاع کی اپیلوں پر سماعت بھی بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی،

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے شہری محمد ساجد نے عمران خان کی نااہلی کی درخواست دائر کر رکھی ہے ,درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے کاغذاات نامزدگی جمع کراتے وقت غلط معلومات فراہم کیں ،عمران خان نے بچوں کی تفصیل میں ایک بچے کی معلومات چھپائیں، عمران خان نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیٹی کا ذکر نہیں کیا درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولنے پر عمران خان کو نااہل قرار دے، عدالت آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کو نااہل قرار دے۔

    انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی کیس میں عدالت کے ریمارکس

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • سپریم کورٹ نے نیب رضا کارانہ واپسی از خود نوٹس کیس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ نے نیب رضا کارانہ واپسی از خود نوٹس کیس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ نے نیب رضا کارانہ واپسی از خود نوٹس کیس نمٹا دیا

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ نے رقم کی واپسی کے بعد عہدیداران کی بحالی پر از خود نوٹس لیا تھا 2022 نیب کے سیکشن 25اے کو بھی اب جرم تصور کیا جائے گا جو سزا پلی بارگین میں تھی وہی اب رضاکارانہ واپسی میں بھی ہے، رقم کی رضاکارانہ واپسی کے بعد سرکاری عہدہ پر 10سال کیلئے پابندی ہوگی ،پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ موجودہ کیس کو نیب ترامیم کے بعد سنا جائے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ از خود نوٹس کا مقصد پورا ہو چکا ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کی ساری ترامیم کو چیلنج نہیں کیا گیا ،پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ 25 بی کا ذکر نیب ترامیم کیس میں کیا گیا تھا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازم پیسے دے کر کلین چٹ لیتا تھا پھر وہی کرتا تھا قانون میں جو سقم تھا وہ دور کردیا گیا،یہ اچھی ترمیم ہے،کیس کے ساتھ منسلک کیے گئے کیس کو علیحدہ سنا جائے گا

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،فیصلہ کرنے میں کوئی عجلت نہیں کرینگے،چیف جسٹس

     سپریم کورٹ مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

  • اسلام آباد،عورت مارچ کی اجازت دینے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد،عورت مارچ کی اجازت دینے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ،عورت مارچ کی اجازت دینے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

    نزاکت حسین عباسی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ڈی سی کے اجازت نامہ کا نوٹیفکیشن آئین کی خلاف ورزی ہے، اجازت نامہ دیتے ہوئے آرٹیکل 16 کو نظر انداز کیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینرز اور پلے کارڈ ماضی کی بات ہے، عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ ابھی آپکو کیا خدشہ ہے ؟کیا فریڈم آف اسمبلی آئین پاکستان نے ان کو یہ حق نہیں دیا؟ نزاکت حسین ایڈوکیٹ نے کہا کہ فریڈم آف اسمبلی میں کچھ پابندیاں لگائی گئی ہیں ،اسلامی ریاست میں ایسا ممکن نہیں،

    عورت مارچ نا منظور،مردان میں "مرد مارچ” کے نعرے

    مرد دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کو گھر سے نکال دیتا ہے،وزیراعظم

    تاثر غلط ہے کہ ہراسمنٹ کا قانون صرف خواتین کے لیے ہے،کشمالہ طارق

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

    ہر سال خواتین کے عالمی دن کے موقع پر لاہور، اسلام آباد، کراچی سمیت کئی شہروں میں عورت آزادی مارچ کا انعقاد کیا جاتا ہے،سماجی تنظیمیں بھی عورتوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتی ہیں، دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور اس حوالے سے عورت مارچ منعقد کیا جاتا ہے،عورت مارچ انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عورت مارچ پر امن ہو گا، جس میں خواتین اپنے حقوق کے لئے بات کریں گی، عورت مارچ کا آغاز دو بجے ہو گا جبکہ اختتام شام پانچ بجے ہو گا،درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس عورت مارچ کو دھمکیاں ملی تھیں، اس لئے رواں برس عورت مارچ کی سیکورٹی کا بھی انتظام کیا جائے، عورت مارچ میں ایک ہزار سے دو ہزار شرکاء کی تعداد متوقع ہے

  • سیکشن 402 سی کسی حد تک صدر کے اختیارات میں رکاوٹ ڈالتا ہے،عدالت

    سیکشن 402 سی کسی حد تک صدر کے اختیارات میں رکاوٹ ڈالتا ہے،عدالت

    صدر مملکت کی جانب سے آرٹیکل 45 کے تحت سزا معافی کیس کی سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا،عدالت نے کہا کہ سیکشن 402 سی کسی حد تک صدر کے اختیارات میں رکاوٹ ڈالتا ہے ،لاہور ہائیکورٹ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 402 سی کو آئین کے خلاف قرار دے دیا، عدالت نے کہا کہ آئین آرٹیکل 45 کے تحت صدر کو سزا معاف یا ختم کرنے کا اختیار برتر ہے،اس ضمن میں سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے جس پر 4 سال بعد بھی عمل نہ ہو سکا، چیف سیکریٹری سپریم کورٹ فیصلے پر عمل کا معاملہ وزیراعلیٰ کے نوٹس میں لائے،آئی جی جیل خانہ جات کو یہ رپورٹ مناسب احکامات کیلئے صوبائی حکومت کو بھیجی جائے،سپریٹنڈنٹ جیل بیمار قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کیلئے رپورٹ آئی جی جیل کو بھیجنے کا ذمہ دار ہے،حکومت مبارک علی کی سزا میں کمی کیلئے کیس آرٹیکل 45 کے تحت صدر کو بھیج سکتی ہے،

    عدالتی معاون نے کہا کہ صدر کو آرٹیکل 45 کے تحت سزا معاف کرنے کا اختیار ہے،402سی کے تحت صدر کو روکا نہیں جا سکتا، سرکاری وکیل نے کہا کہ حکومت کے ہاتھ بندھے ہونے کی وجہ سے ریلیف نہیں دیا جا سکتا، عدالت نے کہا کہ سیکشن 402 سی کے تحت صدر یا حکومت کو ورثا کی مرضی کے بغیر سزا کم یا ختم کرنے کا کوئی اختیار نہیں، مبارک علی کو 2006 میں قتل کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی ملزم مبارک علی نے طبی بنیادوں پر سزا معاف کرنے اپیل دائر کی تھی

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی،

  • توشہ خانہ کیس،13 مارچ تک عمران خان گرفتاری سے بچ گئے

    توشہ خانہ کیس،13 مارچ تک عمران خان گرفتاری سے بچ گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کا رروائی کے کیس میں عمران خان کی وارنٹ منسوخی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا عمران خان 13مارچ تک گرفتاری سے بچ گئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی وارنٹ معطل کرنے کی درخواست منظور کرلی ،عدالت نےعمران خان کو توشہ خانہ کیس میں 13 مارچ کو ٹرائل کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ، عمران خان کے وکیل قیصر امام، علی بخاری اور بیرسٹر گوہر عدالت کے سامنے پیش ہوئے ، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون بھی عدالت میں موجود تھے۔وکیل عمران خان نے کہا کہ 28 فروری کیلئے عمران خان کی طلبی کا کیس سماعت کیلئے مقرر تھا،عمران خان 28 فروری کو 2 سپیشل کورٹس اور ایک ہائیکورٹ میں پیش ہوئے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کئے جس کے بعد منسوخی کی درخواست بھی خارج ہو گئی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وارنٹ گرفتاری کے تو نہیں تھے؟ وکیل عمران خان نے کہا کہ وارنٹ گرفتاری کے تھے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قیصر صاحب!اب ایسی بات نہ کریں، یہ وارنٹ ان کی پیشی یقینی بنانے کیلئے تھا ،وکیل عمران خان نے کہا کہ ابھی ہم نے 2 درخواستیں قابل سماعت ہونے سے متعلق دائر کرنی ہیں، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ کورٹ فریم آف چارج کیلئے ہی تو بلا رہی ہے،عدالت نے عمران خان کی حاضری یقینی بنانے کیلئے حکم دیا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ پیش نہیں ہوئے،وکیل عمران خان نے کہا کہ جووارنٹ لے کر کھڑے ہیں وہ چاہتے ہیں گرفتار کیا جائے،2 مقدمے اسی بنیاد پر درج کئے گئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ مقدمے کسی اور وجہ سے درج ہوئے،عدالت نے استفسار کیا آپ نے اس آرڈر کے تحت پیش ہونا تھا اب یہ بتائیں کب پیش ہونا ہے؟وکیل عمران خان نے کہا کہ اس وقت عمران خان کے خلاف 4 مقدے درج ہوئے ہیں۔عدالت نے کہا کہ چارج فریم کیلئے آپ کب ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش ہوں گے؟ابھی عدالت ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روکنے کا کوئی حکم نہیں دے رہی،چارج فریم ہو جائے اس کے بعد جتنی مرضی آپ استثنیٰ لے لیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو ہائیکورٹ میں 9 مارچ کو پیش ہونا ہے کیا آپ عدالت کو یقین دہانی کرا سکتے ہیں آپ نے واقعی اس دن عدالت پیش ہونا تھا،عدالت نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جس دن پیش ہو سکتے ہیں وہ تاریخ دے دیں ،سسٹم کے ساتھ مذاق نہ کریں ،آپ کو سہولت دیتا ہوں توپھر ہر کسی کو یہ سہولت دوں گا،آپ صبح یا ابھی ہدایات لے کر آجائیں عدالت سن لے گی،ایڈووکیٹ جنرل نے کہا یہ ایک طرف سکیورٹی ایشو اٹھا رہے ہیں دوسری طرف مہم شروع کررہے ہیں،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ سیاسی بات نہ کریں

    وکیل بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کو سکیورٹی خدشات بھی ہیں،عدالت نے کہا کہ عمران خان کب ٹرائل کورٹ پیش ہوں گے؟عدالت کو ہدایات لے کر بتا دیں ، عدالت نے کہا ہمیں روزانہ تھریٹس آ رہے ہیں کیا میں یہ عدالت بند کر دوں ؟ آئی جی میرے پاس آئے کہ ججز کو سکیورٹی تھریٹس ہیں، میں آپ کے ساتھ سکیورٹی تھریٹس خطوط شیئر کر دیتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے ہائیکورٹ میں کیا ہوا؟ کیا بے نظیر بھٹو کے واقعہ کو دہرانا چاہتے ہیں؟ آپ کچھ لوگ آئیں تاکہ ایسی صورتحال ہی نہ بنے۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں فرد جرم کے لئے دو ماہ کی مہلت کی پیش کش کردی ، کہا کہ آپ بیان حلفی دیں کہ عدالت میں پیش ہوں گے میں دو ماہ کے لئے ٹرائل روک دیتا ہوں۔ عمران خان سے مشورہ کرلیں۔ چیف جسٹس نے سماعت میں نصف گھنٹے کا وقفہ کردیا

    بعد ازاں دوبارہ سماعت ہوئی، تو عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ہم نے مشاورت کی ہے عمران خان چار ہفتے میں پیش ہو جائیں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یعنی میری دو ہفتے والی بات درست ثابت ہوئی،وارنٹ منسوخ نہیں کرسکتے پھر ٹرائل کورٹ کو کارروائی مکمل کرنے دیتے ہیں چار ہفتے بعد بھی کچہری ایف ایٹ میں ہی رہے گی کوئی نئے حالات نہیں ہونگے ،پھر میں ٹرائل کورٹ سے کہتا ہوں وہ اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرے،اس طرح چار ہفتے میں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی بھی مکمل ہو جائے گی،اسکا مطلب ہے عمران خان 9 مارچ کو ہائیکورٹ میں بھی پیش نہیں ہونگے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی مناسب بات کریں،ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ عمران خان پیش نہیں ہورہے، تاخیری حربے اپنائے جارہے ہیں ،اب یہ کہیں گے جج ہمارے گھر آجائیں ان کے کہنے پر اب ہم یہ گزارش کر دیتے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 9مارچ کو آپ کا کیس 3 بجے سماعت کے لیے مقرر ہوا ہے،وکیل عمران خان نے کہا کہ سیکیورٹی کے حوالے سے مناسب انتظامات کا حکم دے دیں عمران خان پر وزیر آباد میں قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے، عدالت نے کہا کہ جان اللہ کی امانت ہے ایک دن دینی ہے،مقامی عدالت پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتظامات کرے گی آپ فکر نہ کریں، کچہری جہاں بھی ہوگی وہاں مجمع ہوتا ہے ہمیں خود کو خود گارڈ کرنا ہے ،ہم مناسب آرڈر جاری کریں گے،

  • ای سی ایل، شہبازشریف،اسحاق ڈارکے نام کس پالیسی کے تحت نکالے گئے؟ عدالت

    ای سی ایل، شہبازشریف،اسحاق ڈارکے نام کس پالیسی کے تحت نکالے گئے؟ عدالت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں سرمایہ کاری کے نام پر عوام کو لوٹنے کے کیس میں نیب کیس میں ملزم آدم امین چودھری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف، اسحاق ڈار ، سلیمان شہباز کے نام کس پالیسی کے تحت نکالے گئے؟ یہ دوہرا معیار نہیں چل سکتا، ان سب کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے تو درخواست گزار کا نام کیوں برقرار رکھا گیا؟ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب اور وفاقی حکومت سب کیساتھ ایک جیسا سلوک کرے،

    عدالت نے ملزم کی ای سی ایل سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا

    واضح رہے کہ شہباز شریف سمیت کئی ن لیگی رہنماؤں کے نام ای سی ایل میں تھے تا ہم پی ڈی ایم کی حکومت آنے کے بعد ن لیگی رہنماؤں کے نام ای سی ایل سے نکال دیئے گئے، پی ڈی ایم کی حکومت آنے کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤن کے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے ہیں، شہباز گل کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے، مونس الہیٰ کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا تا ہم عدالت نے نام نکالنے کا حکم دے دیا تھا،عمران خان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے، فرح گوگی کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کا کہا گیا تھا تاہم فرح گوگی بیرون ملک چلی گئیں

    شیخوپورہ سے ہمیں اسلام آباد لا کر چھوڑ دیا گیا، خاتون کی دکھ بھری کہانی

    بڑے اسکولز میں کس طرح کے بگڑے بچے پڑھتے ہیں؟

    فاٹا کے جرگوں میں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 15 لاکھ میں ڈیل ڈن

    مردانہ کمزوری کی حقیقت کیا؟ہم ایسے سوالات کیوں نہیں اٹھاتے؟