Baaghi TV

Tag: عدالت

  • جب کیسز زیر سماعت ہیں تو پھرختم کریں کیوں لٹکا رہے ہیں؟ عدالت

    جب کیسز زیر سماعت ہیں تو پھرختم کریں کیوں لٹکا رہے ہیں؟ عدالت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی دیگر سیاسی جماعتوں کیخلاف فنڈنگ کیسز جلد نمٹانے کی درخواست ہوئی،

    الیکشن کمیشن میں دیگر سیاسی جماعتوں کیخلاف پارٹی فنڈنگ کیسز زیرسماعت ہیں ، تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب نے درخواست دائر کررکھی ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی درخواست گزار کی جانب سے انور منصور،الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی جی لا الیکشن کمیشن ارشد خان عدالت میں پیش ہوئے .پی ٹی آئی وکیل انور منصورنے عدالت میں کہا کہ الیکشن کمیشن کے جواب پر تحریری اعتراض جمع کرا دیا ،ڈی جی لا نے کہا کہ پچھلے ایک ہفتے سے سپریم کورٹ میں مصروف تھا اعتراض پڑھا نہیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ بڑی عدالتوں میں جاتے ہیں چھوٹی عدالتوں میں کہاں آئیں گے عدالت نے استفسار کیا کیا آپ سمجھتے ہیں دیگر سیاسی جماعتوں کے پارٹی فنڈنگ کیسز زیر سماعت ہیں؟ ڈی جی لا نے کہا کہ جی دیگر سیاسی جماعتوں کے پارٹی فنڈنگ سے متعلق کیسز زیرسماعت ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب کیسز زیر سماعت ہیں تو پھرختم کریں کیوں لٹکا رہے ہیں؟ ان کیسز کو نمٹائیں مگر ایسا نہ ہو مزید 2 سال لگائیں عدالت نے کیس کی سماعت 20 مارچ تک کیلئے ملتوی کردی ۔

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے جلد کرنے کے لئے عدالت میں درخواست دائرکر رکھی ہے، درخواست تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب نے دائر کی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے، پی ٹی آئی کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی طرح دیگر جماعتوں کے کیس سننے میں الیکشن کمیشن ناکام رہا پی ٹی آئی کی درخواست میں مزید کہا گیا کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جمہوریت کے تحفظ کیلئے پٹیشن میں اٹھائے گئے سوالات کا فیصلہ کیا جائے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جائے کہ دیگر جماعتوں کے ممنوعہ فنڈنگ کیسز کی روزانہ سماعت کی جائے

  • سکھر ریجن میں کاروکاری سمیت دیگر جرائم سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے؟ عدالت

    سکھر ریجن میں کاروکاری سمیت دیگر جرائم سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے؟ عدالت

    سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ میں امن و امان سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    سیکریٹری داخلہ سعید منگنیجو،آئی جی سندھ غلام نبی میمن عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سکھر میں 3 ہزار100 اہلکاروں میں سے 1600 وی وی آئی پی پروٹوکول میں مامور ہیں ،لاڑکانہ سکھر ریجن میں کاروکاری سمیت دیگر جرائم سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے؟ آئی جی سندھ نے عدالت میں کہا کہ محکمہ پولیس تمام مسائل سے بہتر طریقے سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے پولیس کو کچے میں اغوا برائے تاوان،اسٹریٹ کرائم اور نارکوٹیکس کیسز کا سامنا ہے

    جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایس ایس یو کمانڈو گھوٹکی اور کشمور میں تعینات نہیں ہوسکے ہیں،آر آر ایف کمانڈز کی پلٹون ٹرانسفر کردی گئی ہے جو لڑنے میں ماہر ہیں،ایس ایس یو کا رول ہے کہ وی وی آئی پی پروٹوکول اور عمارتوں پر تعینات ہوں،جسٹس صلاح الدین پنہور نےآئی جی سندھ سے سوال کیا کہ کیا یہ قانون کے تحت ہے یا کابینہ کا فیصلہ ہے؟ آئی جی سندھ نے عدالت میں جواب دیا کہ میرا خیال ہے کہ قانون کے تحت نہیں کابینہ کا فیصلہ ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ہر چیز صرف وی وی آئی پیز کیلئے ہے عام آدمی کیلئے کچھ نہیں ہے،ایس ایس یو جی کے پانچ ہزارجونواں میں سے کیا سب وی وی آئی پیز کے ساتھ تعینات ہیں؟ یہاں اغوا،زیادتی ،اسٹریٹ کرائم ہوتا رہے ،ایس ایس یو جوان صرف وی آئی پی اور میچز پر تعینات ہوں گے؟ وی وی آئی پی ذاتی گارڈز بھی رکھ سکتے ہیں،ایک ہزارایس ایس یو جوان سکھر اورایک ہزار لاڑکانہ میں کیوں تعینات نہیں کیے جاتے؟ ہمیں تین ماہ کیلئے آرمی،رینجرز سمیت بہترین فورس چاہیے،ہمارے پاس دو آپشن ہیں یا جدید ہتھیار دیں یا جوائنٹ آپریشن کریں، جب سیلاب میں آکر مدد کرسکتے ہیں تو یہ مسئلہ توبہت بڑا ہے،یہاں پر ہر محکمے میں سیاسی مداخلت موجود ہے،جو خرابی کی وجہ ہے،

    ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کہ امن و امان قائم کرنے کیلئے لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم پلان اپنانے کی ضرورت ہے،آئی جی سندھ نے عدالت میں کہا کہ 275 ڈاکووں کی سر کی قیمت 52 کروڑ روپے رکھی گئی ہے،ڈاکووں کی سر کی قیمت تو رکھ دی جاتی ہے مگر مل نہیں پاتے،اب فیصلہ ہوا ہے کہ ان سر کی قیمت الگ سے رکھی جائے گی،عدالت نے کہا کہ آئی جی سندھ کو ایک ماہ کےلیے یہاں کیمپ لگانا چاہیے،

    لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    یہ ہے پنجاب،ایک روز میں ایک شہر میں جنسی زیادتی کے چھ کیسزسامنے آ گئے

  • حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے،پہلی بار ایسی صورتحال ہے کہ کنٹینرکھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت میں ریمارکس دیئے کہ حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے لیکن پہلی بار ایسی صورتحال ہے کہ کنٹینرکھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں۔

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے معاملے پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ کوئی بھی آئینی ادارہ انتخابات کی مدت نہیں بڑھا سکتا، عدالت کے علاوہ کسی کو انتخابی مدت بڑھانےکا اختیار نہیں ہےٹھوس وجوہات کا جائزہ لےکر ہی عدالت حکم دے سکتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ معاشی مشکلات کا ذکر1988 کے صدارتی ریفرنس میں بھی تھا آرٹیکل 254 وقت میں تاخیر پر پردہ ڈالتا ہے، مگر لائسنس نہیں دیتا کہ الیکشن میں 90 دن سے تاخیر ہو، قدرتی آفات یا جنگ ہو تو آرٹیکل 254 کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن بروقت نہ ہوئےتواستحکام نہیں آئےگا،حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہےآج صرف تاریخ طے کرنے کا معاملہ دیکھنا ہے، اگر نوے روز سے تاخیر والی تاریخ آئی تو کوئی چیلنج کردےگا لیکن پہلی بارایسی صورتحال ہے کہ کنٹینرکھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں ۔

    عدالت نے حکومت اور پی ٹی آئی کو مشاورت سے ایک تاریخ دینے کا مشورہ دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم فیصلہ کربھی دیں تو مقدمہ بازی چلتی رہے گی جو عوام اور سیاسی جماعتوں کیلئے مہنگی ہوگی۔

    سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو اپنی قیادت سے ہدایت لینے کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین سے مشورہ کرکے الیکشن کی متوقع تاریخ سے آگاہ کریں۔

    فاروق ایچ ناٸیک نے کل تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ،آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے مشاورت کرنی ہے۔ تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ آج مقدمہ نمٹانا چاہتے ہیں ،عدالت کا سارا کام اس مقدمہ کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔

    عدالت نے سماعت میں چار بجے تک وقفہ کر دیا۔

  • لگژری گاڑیاں، ہیلی کاپٹر خریدے لیکن شہید کے ورثا کو ادائیگی نہیں کی،عدالت برہم

    لگژری گاڑیاں، ہیلی کاپٹر خریدے لیکن شہید کے ورثا کو ادائیگی نہیں کی،عدالت برہم

    پشاور کے شہید کانسٹیبل کے لواحقین کو تنخواہ کی عدم ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک شہید قوم کیلئے قربانی دیتا ہے شہید کے ورثا کو انکا حق دینے میں خیبرپختونخوا حکومت نے لاتعلقی کا مظاہرہ کیا ہے، جن پولیس اہلکاروں نے قربانیاں دی ہیں انکے ورثا کو مقدمات کرنے پڑ رہے ہیں ،صوبائی حکومت لگژری گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر تو خرید رہی ہے، خیبر پختونخوا حکومت کے پاس شہدا کے ورثا کو ادائیگی کیلئے رقم کیوں نہیں ہے؟حکومت معاوضہ ادا کرے تا کہ ورثا کو عدالتوں میں دھکے نہ کھانے پڑیں،شہدا پیکج 2003 تک لاگو ہوتا ہے ،اہلکار 2001 میں شہید ہوا، 2001 کی گرانٹ میں پوری تنخواہ اور الاونسز شامل نہیں تھے،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہید کے بھائی کو اے ایس آئی کی نوکری دی گئی جو ترقی پا کر اب ایس ایچ او بن گیا،شہید کے وارث کو نوکری دے دی گئی ہے ، یہ درخواست خارج کی جاتی ہے،عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ فیصلہ خلاف ہونے کی صورت میں عدالت آجائیں،ثبوت کے ساتھ امتیازی سلوک کی درخواست اپنے محکمے کو دیں،

     سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہ

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

  • رکن صوبائی اسمبلی کو نااہل قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار

    رکن صوبائی اسمبلی کو نااہل قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار

    لاہور ہائیکورٹ نے 2013 میں (ن) لیگ کے ٹکٹ پر منتخب رکن صوبائی اسمبلی میاں طارق محمود کو نااہل قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا

    لاہورہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو کسی پرائیوٹ شخص کے ریفرنس پر نااہلی کا اختیار نہیں آرٹیکل 63 ٹو کے تحت کمیشن کو صرف سپیکر یا چیئرمین سینیٹ سے آنے والے ریفرنس پر سماعت کا اختیار ہے یہ اختیارات کا غلط استعمال ہے جس کی قانون میں اجازت نہیں ہے جسٹس شاہد کریم نے میاں طارق کی درخواست منظور کرتے ہوئے قانونی نقطہ طے کر دیا

    پی پی 113 سے طارق محمود کو 2019 میں الیکشن کمیشن نے اثاثے چھپانے کے الزام پر نااہل کیا تھا ،جسٹس شاہد کریم نے اپنے فیصلے میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 218 کلاز تین کی بنیاد پر نااہل کیا جس میں یہ اختیار موجود نہ تھا ،الیکشن کمیشن کے اس اقدام کی منظوری نہیں دی جا سکتی ،آرٹیکل 218(3) کے تحت الیکشن کمیشن کا کام صاف اور شفاف الیکشن کروانا ہے آئین اور قانون نے کمیشن اور عدالتوں پر انتخابی عزرداریوں پر حد بندی کی ہوئی ہے صرف پرائیوٹ شخص کی درخواست پر معاملہ الیکشن کمیشن کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جا سکتا اس سے نہ صرف اراکین کے حقوق بلکہ جمہوری عمل بھی متاثر ہو گا ایسا کرنے سے ارکان پارلیمنٹ لوگوں کے ہاتھوں ایسی درخواستوں کے ذریعے ہراساں ہوں گے، اختیارات کو وسعت دینے کا یہ رجحان قانون کی حکمرانی آئین و جمہوریت کی بنیاد کے خلاف ہے ،یہ الیکشن کمیشن کے قانون میں دیئے گئے اختیارات سے تجاوز کا کلاسک کیس ہے

     پرویز الہی کیلئے لڑکیوں کی سپلائی، شراب کی بوتلیں، اہم ثبوت مل گئے،ا

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

     پرویز الہیٰ عمران خان سمیت تحریک انصاف پر برس پڑے

  • عمران خان سیاسی کیرئیر بچانے کی تگ ودو میں مصروف. برطانوی اخبار کا دعویٰ

    عمران خان سیاسی کیرئیر بچانے کی تگ ودو میں مصروف. برطانوی اخبار کا دعویٰ

    عمران خان سیاسی کیرئیر بچانے کی تگ ودو میں مصروف. برطانوی اخبار کا دعویٰ

    برطانوی اخبارڈیلی میل نے لکھا ہے کہ سابق پاکستانی وزیراعظم اور سربراہ تحریک انصاف عمران خان اس وقت اپنا سیاسی کیرئیر بچانے کی تگ ودو میں مصروف ہیں۔ جبکہ پاکستانی الیکشن قوانین کے مطابق ہرامیدوارکو اپنی بیوی اور بچوں کی تفصیلات کاغذات نامزدگی میں بتانا ہوتی ہیں لیکن عمران خان ایسا کرنے سے قاصر رہے۔

    اخبار کے مطابق عمران خان نے 2018 میں الیکشن انتخابات کے موقع پر اپنی بیوی اور دو بیٹوں کے نام تو کاغذات نامزدگی میں ظاہر کیے لیکن اپنی بیٹی ٹیریان وائٹ جو انکی سابقہ گرل فرینڈ سیتا وائٹ میں سے ہیں انکو ظاہر کرنے سے قاصر رہے اور اب ہائیکورٹ نے عمران خان کواپنی بیٹی ٹیریان وائٹ کو الیکشن کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پرعدالت میں طلب کرلیا ہے۔ لہذا اگر عمران خان قصور وار پائے گئے تو اسکے نتیجہ میں عمران خان اگلے پانچ برس کیلئے الیکشن لڑنے اور کوئی بھی پبلک آفس ہولڈ کرنے کیلئے نااہل قرار دیے جاسکتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ مارچ میں ہونے والے اس سال ہونے والے قومی انتخابات میں شاید حصہ نہیں لے سکیں گے۔


    علاوہ ازیں اخبار لکھتا ہے کہ عمران خان کے حامیوں نے اس مقدمے کو سیاسی طور پر محرک قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، اور حکومتی جماعتوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ اسے عمران خان کو نااہل قرار دینے کے لیے استعمال کر رہی ہیں، اور ایک قدامت پسند مسلم معاشرے میں ان کی ساکھ کو داغدار کر رہی ہے، جہاں شادی کے بغیر بچوں کا پیدا ہونا معیوب سمجھا جاتا ہے۔

    واضع رہے کہ عمران خان کی بیٹی ٹیریان جو اب 27 برس کی ہوچکی ہیں وہ عمران خان کی 1995 میں ارب پتی جیمز گولڈ اسمتھ کی بیٹی 21 سالہ جمائما گولڈ اسمتھ سے شادی سے تین سال قبل پیدا ہوئی تھیں۔ اخبار کے طابق عمران خان نے ٹیریان کی پیدائش کے بعد اسکا والد ہونے کا انکار کیا تھا جس پرانکی سابقہ گرل فرینڈ سیتا وائٹ انہیں امریکی عدالت میں لے گئی تھیں جس نے عمران خان کو ڈی این اے ٹیسٹ کا کہا لیکن عمران خان کے انکار کے بعد 1997 میں فیصلہ دیا تھا کہ عمران خان ہی ٹیریان وائٹ کے والد ہیں۔

    سابقہ گرل فرینڈ اور ٹیریان وائٹ کی والدہ سیتا وائٹ کے انتقال کے بعد عمران خان نے اپنی بیٹی ٹیریان جو اس وقت بارہ برس کی تھیں انکو اپنی کفالت میں لے لیا تھا اوراسکی پرورش لندن میں موجود عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ خان نے کی۔

  • دہشت گردوں کے علاج معالجہ کیس میں ڈاکٹر عاصم کوملا ریلیف

    دہشت گردوں کے علاج معالجہ کیس میں ڈاکٹر عاصم کوملا ریلیف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کے علاج معالجہ کیس میں ڈاکٹر عاصم کو ریلیف مل گیا

    محکمہ داخلہ سندھ نے عدالت میں جواب جمع کروایا جس میں عدالت نے ڈاکٹر عاصم کو کلین چٹ دے دی،محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے عدالت میں دیئے گئے جواب میں کہا گیا کہ دہشت گردوں کے علاج معالجہ کیس میں ڈاکٹر عاصم اور دیگر کیخلاف کوئی گواہ نہیں ملے، محکمہ داخلہ سندھ نے ساتھ درخواست میں استدعا کر دی کہ کیس واپس لیا جائے، تفتیشی افسر نے ابتدائی مراحل میں بھی عدم شواہد پر کیس اے کلاس کردیا تھا تعزیرات پاکستان کی دفعہ 494 کے تحت ملزمان پر کیس ختم کیا جائے عدالت نے محکمہ داخلہ کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مارچ کے دوسرے ہفتے میں جواب طلب کرلیا

    واضح رہے کہ ضیا الدین اسپتال میں دہشتگردوں کے علاج معالجے کا مقدمہ 2015 میں رینجرز کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جس میں ڈاکٹر عاصم، انیس قائمخانی، قادر پٹیل، وسیم اختر، رؤف صدیقی، عثمان معظم اور سلیم شہزاد کوبھی نامزد کیا گیا تھا، ڈاکٹر عاصم گرفتار بھی ہو چکے ہیں تا ہم بعد میں انہیں ضمانت پر رہائی ملی،

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

  • چڑیا گھروں اور جانوروں کی قانونی حیثیت سےمتعلق کیس:عدالت نے تیاری کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دیدی

    چڑیا گھروں اور جانوروں کی قانونی حیثیت سےمتعلق کیس:عدالت نے تیاری کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دیدی

    کراچی: کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے چڑیا گھروں اور جانوروں کی قانونی حیثیت سےمتعلق کیس کی سماعت میں عدالت نے سرکاری وکیل کو تیاری کےلیے ایک ہفتے کی مہلت دیدی-

    باغی ٹی وی: کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے چڑیا گھروں اور جانوروں کی قانونی حیثیت سےمتعلق کیس کی سماعت ہوئی سیکریٹری جنگلات وجنگلی حیات اور چیف کنزرویٹر سندھ ہائیکورٹ میں پیش ہوئے دونوں افسران کی قانون سے لاعلمی کے باعث 21 فروری تک تیاری کےلیے مہلت مانگ لی-

    سرکاری وکیل نے کہا کہ 2020میں نیا قانون بنا ہے ابھی اس پر عملدرآمد میں مسائل ہیں،چیف جسٹس نے وکیل سے سوال کیا کہ 2021میں یہ درخواست آ چکی ہے،آپ کے محکمے کا جواز کیا ہے؟-

    سیکریٹری جنگلات وجنگلی حیات نے عدالت میں انکشاف کیا کہ کے ایم سی اور ڈی ایم سیز نے محکمے سے اجازت نہیں لی،جس پر سندھ ہائیکورٹ نے انکشاف کیا کہ اگر اجازت نہیں لی گئی تو محکمے نے کیا اقدامات کیے ؟-

    کے پی اسمبلی کے انتخابات : الیکشن کمیشن اورگورنر سے تحریری جواب طلب

    چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے اختیارات کا علم ہی نہیں،اختیار کا جب پتہ چلے گا جب آپ قانون پڑھیں گے،ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کا فائدہ نہیں-

    سندھ ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے دونوں افسران اور سرکاری وکیل کو تیاری کےلیے ایک ہفتے کی مہلت دیدی-

    بلدیاتی الیکشن التوا: وزیراعلیٰ سندھ اورسیکٹریری بلدیات کیخلاف توہینِ عدالت کی درخواست نمٹا دی

  • شیخ رشید راہداری ریمانڈ پر مری پولیس کے حوالے

    شیخ رشید راہداری ریمانڈ پر مری پولیس کے حوالے

    اسلام آباد کی عدالت نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو راہداری ریمانڈ پر مری پولیس کے حوالے کردیا۔

    باغی ٹی وی: وفاقی پولیس نے شیخ شید کو اسلام آباد کچہری میں ہتھکڑی لگا کر پیش کیا جہاں کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس سے استفسار کیا کہ کیا پہلے راہداری ریمانڈ کی استدعا کی؟ اس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ پہلی بار کر رہےہیں، اس سے پہلے نہیں کی۔

    فونز کے پاسورڈ پولیس کو دے دیئے،ہمدردی نہیں بدلوں گا، شیخ رشید

    شیخ رشید کے وکیل علی بخاری نے کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نےحال ہی میں شیخ رشید کے راہداری ریمانڈکی استدعا مسترد کی تھی، شیخ رشید جیل میں ہیں،کہیں باہر نہیں جاسکتے۔

    وکیل علی بخاری نے شیخ رشید کے راہداری ریمانڈ کی درخواست کی مخالفت کی جس کے بعد پراسیکیوٹر نے راہداری ریمانڈ سے متعلق کہا کہ شیخ رشید جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں،ان کو مری کی عدالت میں پیش کرنا ہے۔

    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے شیخ رشید کو ایک دن کے راہداری ریمانڈ پر مری پولیس کے حوالے کردیا عدالت نے شیخ رشید کو کل دو بجے متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

    شیخ رشید کے گھر بچے موجود تھے؟ ترجمان اسلام آباد پولیس کا ردعمل

    ہ شیخ رشید 73 سال کے ہیں کئی بیماریوں میں مبتلا 

     شیخ رشید کے خلاف کراچی میں بھی مقدمہ درج

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • لاہور ہائیکورٹ احاطہ میں کتاب میلے کا افتتاح

    لاہور ہائیکورٹ احاطہ میں کتاب میلے کا افتتاح

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی نے لاہور ہائیکورٹ احاطہ میں کتاب میلے کا افتتاح کردیا۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی نے لاہور ہائیکورٹ احاطہ میں کتاب میلے کا افتتاح کردیا۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اکبر ڈوگر اور دیگر عہدیداروں نے چیف جسٹس کا استقبال کیا۔ اس موقع پر نوجوان و سینیئر وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔ کتاب میلے کا اہتمام لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کتاب میلے میں لگائے گئے تمام سٹالز کا دورہ کیا اور مخلتف کتابوں میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

    اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی کا کہنا تھا کہ کتاب میلہ نوجوان وکلاء میں پڑھنے کی عادت کو تقویت دے گا۔ کتاب دوستی بہترین عبادت ہے، جس سے انسان کی علم و شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہر شعبے کا مطالعہ ہمارے لئے لازم و ملزوم ہو چکا ہے۔ انسانی تاریخ، سائنس اور دیگر علوم پر مبنی کتابیں ہماری سوچ کو وسیع اور کشادہ کرتی ہیں۔ فاضل چیف نے کتاب میلے کا اہتمام کرنے پر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کو مبارکباد پیش کی اور اس اقدام کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

    آٹا بحران کیس؛ پشاور ہائیکورٹ کا سیکریٹری فوڈ و دیگر کو مارکیٹ کا دورہ کرنیکا حکم
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ