Baaghi TV

Tag: عدالت

  • این اے 246 کی نشست خالی قرار دینے کا نوٹیفکیشن معطل

    این اے 246 کی نشست خالی قرار دینے کا نوٹیفکیشن معطل

    پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی شکور شاد کی استعفیٰ منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    وکیل نے کہا کہ شکور شاد لیاری سے 2018 میں ممبر قومی اسمبلی بنے،شکور شاد نے پارٹی سے اظہار یکجہتی کیلئے استعفے پر دستخط کیے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا اسپیکر قومی اسمبلی نے شکور شاد کو بلایا تھا؟ وکیل نے کہا کہ ایک نوٹس بھیجا گیا تھا لیکن وہ طبیعت ناسازی کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بغیر پیش ہوئے ہی اسپیکر نے استعفیٰ منظور کر لیا؟ کیا آپ نے اس ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ پڑھا ہے؟کیا یہ تحریک انصاف سے ممبر قومی اسمبلی تھے؟ پھر تو پی ٹی آئی کے سارے استعفے مشکوک ہو گئے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے این اے 246 کی نشست خالی قرار دینے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ہفتے میں جواب طلب کرلیا ،وکیل نے کہا کہ شکور شاد تو پارلیمنٹ کی کارروائی میں شامل بھی ہو رہے تھے،جولائی میں بھی شکور شاد کارروائی میں شامل تھے، جو ریکارڈ پر ہے،

    واضح رہے کہ گزشتہ روزپی ٹی آئی کے سابق ایم این اے شکور شاد نے استعفیٰ منظوری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا شکور شاد نے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ میں نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ نہیں دیا،پارٹی ہیڈ آفس کے کمپیوٹر آپریٹر کے لکھے استعفوں پر 123 ارکان سے دستخط لیے گئے، استعفے اسپیکر کو بھیجے، نام لکھا اور نہ تاریخ ڈالی، پی ٹی آئی نے بتایا کہ یہ استعفے پارٹی ڈسپلن کو برقرار رکھنے کے لیے ہیں،عمران خان سے اظہار یک جہتی اور سیاسی مقاصد کیلئے دستخط کیے،استعفوں کی منظوری عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی ہے

    پی ٹی آئی کے ایم این اے شکور شاد نے عدالت سے استدعا کی کہ الیکشن شیڈول معطل، سیٹ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے،

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے فلور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا،شاہ محمود قریشی نے وزارتِ عظمیٰ کے الیکشن کے دوران تقریر میں کہا تھا ہم اس ایوان سے مستعفی ہوتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے الیکشن کروائے جائیں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 30 مئی کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا تھا

  • توہین عدالت کیس: عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نئی درخواست دائر کردی

    توہین عدالت کیس: عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نئی درخواست دائر کردی

    توہین عدالت کیس میں عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نئی درخواست دائر کردی ہے.

    پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان نے توہین عدالت کیس میں تحریری دلائل جمع کرانے کی متفرق درخواست دائر کردی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سو مو ٹو ہائی کورٹ کا اختیار نہیں۔ توہین عدالت کیس ناقابل سماعت ہونے پر دلائل کو ریکارڈ پر رکھا جائے۔ تحریری دلائل کی وضاحت سماعت کے دوران زبانی دلائل میں بھی کی جائے گی۔

    کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ ( چیف جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیر اور جسٹس بابر ستار) کیس کی سماعت کی، عمران خان اس کیس میں آج دوسری بار عدالت کے سامنے پیش ہونے تھے۔ گزشتہ سماعت میں دیئے گئے عدالتی حکم کے تحت عمران خان کی جانب سے آج دوبارہ جواب جمع کرایا گیا ہے.

    اس سے قبل ہونے والی سماعت کا 2 صفحات پر مشتمل عبوری حکم نامے جاری کیا گیا تھا، جس میں لکھا گیا تھا کہ عمران خان کا جواب غیر تسلی بخش ہے، اس لئے شوکاز نوٹس واپس نہیں لے رہے۔ یکم ستمبر کو ہونے والی سماعت میں عدالت کی جانب سے پاکستان بار کونسل، منیر اے ملک اور مخدوم علی خان کو عدالتی معاونین بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    واضح‌ ریے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے رجسٹرار کی رپورٹ پر 22 اگست کو معاملے کا نوٹس لیا تھا، جس کے بعد 23 اگست کو تین رکنی بینچ نے کیس پر پہلی سماعت کی تھی ۔ عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 31 اگست کو طلب کیا گیا تھا۔ عدالت نے معاملے پر لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ دوسری جانب عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کے نوٹس پر جواب داخل کرادیا گیا ہے۔ عمران خان کی جانب سے ایڈووکیٹ حامد خان اور بیرسٹر سلمان صفدر نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس پر جواب جمع کرایا۔

    اپنے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ میں سمجھا تھا کہ زیبا چوہدری جوڈیشل نہیں ایگزیکٹو مجسٹریٹ ہیں، مجھ سے سمجھنے میں غلطی ہوئی، تاہم اپنے جواب میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے بینچ پر اعتراض بھی لگایا گیا۔ پی ٹی آئی کے سربراہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے استدعا کی کہ جن ججوں نے کیس شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی وہ خود کو بینچ سے دستبردار ہونے پر غور کریں، کیونکہ انہوں نے اس معاملے کا پہلے سے فیصلہ کرلیا تھا۔ ساتھ ہی پی ٹی آئی کے سربراہ نے اپنے ساتھی کے بارے میں کہا کہ حکومت شہباز گل کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور انہیں پامال کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

    جواب میں استدلال کیا گیا کہ مدعا علیہ کی طرف سے کوئی توہین نہیں کی گئی اور ڈپٹی رجسٹرار نے 20 اگست کو اسلام آباد کے ایف 9 پارک میں جلسہ عام کے دوران کی گئی تقریر سے چن کر لفظوں کا انتخاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان الفاظ کو سیاق و سباق سے بالکل ہٹ کر لیا گیا اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر یہ تاثر دینے کے لیے چھیڑ دیا گیا کہ گویا مدعا علیہ (عمران خان) قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔

    عمران خان نے 20 اگست کو اسلام آباد میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ دینے والی ایڈیشنل جج زیبا چوہدری کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ آپ کے خلاف کارروائی کریں گے۔ شہباز گل کی گرفتاری اور جسمانی ریمانڈ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ شہباز گل کو جس طرح اٹھایا اور دو دن جو تشدد کیا، اس طرح رکھا جیسا ملک کا کوئی بڑا غدار پکڑا ہو، آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی کو ہم نے نہیں چھوڑنا، ہم نے آپ کے اوپر کیس کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ مجسٹریٹ زیبا صاحبہ آپ بھی تیار ہوجائیں، آپ کے اوپر بھی ہم ایکشن لیں گے، آپ سب کو شرم آنی چاہیے کہ ایک آدمی کو تشدد کیا، کمزور آدمی ملا اسی کو آپ نے یہ کرنا تھا، فضل الرحمان سے جان جاتی ہے۔

    دوسری طرف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے 25 مئی کے لانگ مارچ میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی عبوری ضمانت میں 27 ستمبر تک توسیع کردی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کامران بشاورت مفتی نے توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے کیس میں عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، جس میں وکیل بابر اعوان نے عمران خان کی حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کردی۔

    جج نے استفسار کیا کہ عمران خان کب پیش ہو سکتے ہیں؟، کیا عمران خان نے شامل تفتیش ہوئے ہیں؟۔ جس پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ جی بذریعہ کونسل عمران خان شامل تفتیش ہو گئے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے لانگ مارچ میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے کیس میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں 27 ستمبر تک توسیع کرتے ہوئے حاضری سے استثنا کی درخواست بھی منظور کرلی۔

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف تھانہ کوہسار میں مقدمہ نمبر 425 درج ہے۔

  • واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغام ملنے کے بعد 17 سالہ لڑکے نے خوف سے خود کشی کر لی

    واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغام ملنے کے بعد 17 سالہ لڑکے نے خوف سے خود کشی کر لی

    اسپین: 17 سالہ نوجوان نے واٹس ایپ پر دھمکی آمیز پیغام ملنے کے بعد خوف سے خود کشی کر لی تھی۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق 60 سالہ شخص نے 17 سالہ نوجوان لڑکے کوکے ذریعے ایک ہی دن میں 119 دھمکی آمیز پیغام بھیجے جس پر اس نے خوف سے خود کشی کر لی تھی اس الزام میں پولیس نے دھمکی بھیجنے والے شخص کو گرفتار کر لیا تھا اور اب اسپین کی ایک عدالت نے ساٹھ سالہ شخص کو دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    ایران میں دو ہم جنس پرست خواتین کو موت کی سزا

    رپورٹ کے مطابق یہ 2016ء کی بات ہے جب تین گھنٹے کے دوران مسلسل اس شخص نے 119 واٹس ایپ میسجز بھیجے تھےدھمکی آمیز پیغامات بھیجنے والےشخص کو خودکشی کرنے والے نوجوان نے کہا بھی تھا کہ وہ اسےخودکشی پر مجبورکر رہا ہے اگر اس نے دھمکانے کا یہ سلسلہ جاری رکھا تو وہ خود کشی کر لے گا-

    عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ساٹھ سالہ شخص پوری طرح آگاہ تھا کہ اس کی وجہ سے ایک نو عمر خود کشی پر مجبور ہو سکتا ہےاس کے باوجود وہ اسے مسلسل دھمکاتا رہا بلیک میل کرتا رہا کہ وہ اس کے والدین کو اس امر سے آگاہ کر دے گا کہ اس نے بالغوں والی ایک سائٹ وزٹ کی ہے۔

    ٹِک ٹاک پر مبینہ سائبر حملہ، ایک ارب سے زائد لوگوں کا ڈیٹا لیک ہونے کا امکان…

    اس صورت حال میں لڑکے نے بار بار اس سے معافی مانگی اور اسے کہا کہ وہ اسے میسج نہ کرے اگر اس نے یہ سلسلہ نہ روکا تو مجبورا خودکشی کر لے گا اس دوران سترہ سالہ لڑکے نے اسی روز اپنے گھر کی اوپر والی منزل سے گھر کے اندرونی صحن میں چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی۔

    عدالت نے اس واقعے کے کئی سال بعد مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے دس سال قید سنانے کے علاوہ 173000 یورو کا کی رقم زرتلافی کے طور پر نو عمر کے والدین اور بھائی کو ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

    کینیڈا میں ہونے والے چاقو حملے کے ایک ملزم کی لاش برآمد

  • چھریوں کے وار کر کے بھانجے نے ماموں سمیت تین افراد کو قتل کر دیا

    چھریوں کے وار کر کے بھانجے نے ماموں سمیت تین افراد کو قتل کر دیا

    لاہور میں چھریوں کے وار کر کے بھانجے نے ماموں سمیت تین افراد کو قتل کر دیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں تین افراد کو قتل کر دیا گیا

    لاہور مغلپورہ کے علاقہ میں تہرے قتل کی واردات ہوئی ہے، بھانجے نے اپنی ممانی ماموں اور کزن کو چھریوں کے وار سے قتل کر دیا مقتولہ کی لاشیں گھر سے ہاتھ پاؤں بندھی ہوئی برآمد ہوئی مقتولین کی شناخت کے ثاقب، مریم اور عبد اللہ کے ناموں سے ہوئی .پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود ہے، پولیس و تحقیقاتی ٹیم شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہے ،پولیس حکام کے مطابق بھانجے نے ماموں،ممانی اور کزن کو قتل کردیا ملزم شان نےتینوں کو چھریوں کے وار کر کے قتل کیا،ملزم موقع سے فرار ہو چکا ہے

    آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے مغل پورہ لاہور میں تہرے قتل کی واردات کا نوٹس لے لیا اور آئی جی پنجاب نے سی سی پی او لاہور سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ۔آئی جی پنجاب نے ملزم کی فوری گرفتاری کیلئے سپیشل ٹیم تشکیل دینے کا حکم دے دیا، اور کہا کہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزم کی گرفتاری کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ سفاک ملزم کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے سپروائزری افسران مقتولین کے لواحقین سے قریبی رابطہ رکھیں لواحقین کو انصاف کی فراہمی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے۔

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    یہ ہے پنجاب،ایک روز میں ایک شہر میں جنسی زیادتی کے چھ کیسزسامنے آ گئے

  • پی ٹی آئی کی استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے خلاف درخواست مسترد

    پی ٹی آئی کی استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے خلاف درخواست مسترد

    پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے خلاف درخواست مسترد کر دی،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ موجودہ اسپیکر کا کردار بڑا مشکوک ہے،عدالت نے کہا کہ آپ اسپیکر کے بارے میں ایسے الفاظ نہیں کہہ سکتے،وکیل نے کہا کہ میں اپنے الفاظ واپس لے لیتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی اسپیکر آفس سے لیٹر آ گئے تھے تو جا کر تصدیق کر دیتے،وکیل نے کہا کہ یہ 11 نہیں گئے تو باقی 112 بھی تو تصدیق کیلئے نہیں گئے، پھر پہلے والے گیارہ کو بھی واپس بھیجیں، انکے الیکشن کیوں ہو رہے ہیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت کا اسی نوعیت کے ظفر علی شاہ کیس میں بڑا تفصیلی فیصلہ موجود ہے، وکیل نے کہا کہ پارلیمان سپریم ہے لیکن 123 میں سے 11 ممبران کے استعفے منظور کر لیے گئے،اگر منظور کرنے ہیں تو استعفیٰ دینے والے تمام ممبران کے منظور کیے جائیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت فیصلہ دے چکی کہ رکن اسمبلی استعفٰی دے بھی دے تو کس صورت میں منظور کیا جائے گا،وکیل نے کہا کہ یہاں صورتحال مختلف ہے، ہمارے ممبران کے استعفے پہلے ہی منظور ہو چکے تھے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے استعفے منظور کرتے وقت طریقہ کار پر عمل نہیں کیا،یہ عدالت اسپیکر کو کبھی ہدایت نہیں دے گی اور اسکی منشا اپنے فیصلے میں لکھ چکے،استعفیٰ دینے والے ہر ممبر کو ذاتی طور پر اسپیکر کے پاس جانا چاہیے تھا، ڈپٹی اسپیکر نے جو کیا وہ اس عدالت کے فیصلے کے بالکل خلاف تھا، یہ عدالت عوام کے منتخب نمائندوں کا احترام کرتی ہے،کیا اسپیکر نے استعفیٰ دینے والے ممبران اسمبلی کو بلا کر اپنا اطمینان کیا تھا؟ عرفان قادر نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں کہ عدالت وہ اطمینان کرے کیونکہ انہوں نے ان نمائندوں کو فریق بنا دیا ،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ کیا موجودہ اسپیکر نے جو استعفے منظور کیے انکو بلایا گیا تھا؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعت یا پارلیمان میں بیٹھے اشخاص اتنے اہم نہیں جتنے وہ لوگ جن کی وہ نمائندگی کرتے ہیں، یہ عدالت فیصلہ دے چکی کہ اسپیکر نے طریقہ کار پر عمل کر کے خود کو مطمئن کرنا ہے،کیا پی ٹی آئی نے اسپیکر کو ریپریزنٹیشن بھیجی کہ استعفیٰ دینے والے ممبران کو بلا کر اپنا اطمینان کر لیں؟ کیا ممبران کو استعفے طریقہ کار کے تحت منظور ہونے اور الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن تک نمائندگی نہیں کرنی چاہیے تھی؟ ڈپٹی اسپیکر کے پاس استعفوں کی منظوری کا کوئی اختیار نہیں تھا،اگر اسپیکر بھی ہوتا تو اس نے بھی اپنے آپ کو مطمئن کرنا چاہیے تھا،یہ عدالت اب بھی سابق ڈپٹی اسپیکر کو بصد احترام مخاطب کر رہی ہے .وکیل نے کہا ہک موجودہ اسپیکر نے بھی ممبران کو طلب کر کے خود کو مطمئن نہیں کیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے خود کو مطمئن کرنے کے بعد 11 ممبران کے استعفے منظور کیے، یہ پارلیمان کی اندرونی کارروائی ہے، عدالت مداخلت نہیں کر سکتی،آپ کے استعفے دینے والے ممبران پارلیمان میں جا کر اسپیکر کو مطمئن کر دیتے،اداروں پر اعتماد کریں، ورنہ تو سب کہیں کہ جج بات نہیں سنتے تو میں فیصلہ نہیں مانوں گا،

    اپوزیشن کا بڑا یوٹرن، پی ٹی آئی کی ایک حکومت کو خود ہی بچا لیا

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے فلور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا،شاہ محمود قریشی نے وزارتِ عظمیٰ کے الیکشن کے دوران تقریر میں کہا تھا ہم اس ایوان سے مستعفی ہوتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے الیکشن کروائے جائیں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 30 مئی کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا تھا

  • فواد چوہدری کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کل ہو گی

    فواد چوہدری کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کل ہو گی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدلیہ مخالف بیانات پر فواد چوہدری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی۔ ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار کل درخواست پر سماعت کریں گے۔

    عمران خان کے فوج مخالف بیانات،حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں نے کی شدید مذمت

    وکیل سلیم اللہ خان نے ذاتی حیثیت میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی، درخواست کے ساتھ فواد چوہدری کے مختلف بیانات کا ٹرانسکرپٹ بھی منسلک کیا گیا ہے۔درخواستگزار کے مطابق فواد چوہدری نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کے خلاف توہین آمیز بیان دیا، فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کو توہین عدالت میں سزا ممکن نہیں کیونکہ وہ ایک پاپولر لیڈر ہیں۔

     

    پاک فوج میں چیئرمین پی ٹی آئی کے بیان پر شدید غم و غصہ ہے، آئی ایس پی آر

     

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ فواد چوہدری کے خلاف توہین آمیز بیانات کی وجہ سے توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

  • عدالت صحافی سے سورس نہیں پوچھے گی،رانا شمیم توہین عدالت کیس میں عدالت کے ریمارکس

    عدالت صحافی سے سورس نہیں پوچھے گی،رانا شمیم توہین عدالت کیس میں عدالت کے ریمارکس

    عدالت صحافی سے سورس نہیں پوچھے گی،رانا شمیم توہین عدالت کیس میں عدالت کے ریمارکس

    سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے بیان حلفی کی خبر پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے رانا شمیم کو 7 ستمبر تک گواہوں کی فہرست جمع کرانے کا حکم دیدیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت پر یہ داغ ہے ہم نے اس کو بھی صاف کرنا ہے، آپ نے بیان حلفی میں ایک الزام لگایا اب اپنے الزام کو ثابت کریں، جب تک بیان حلفی موجود ہے، یہ عدالت غیر مشروط معافی کو تسلیم نہیں کریگی، یہ اہم ہے کہ جو بات کی جا رہی ہے وہ کر کون رہا ہے، آپ سابق چیف جج رہ چکے آپکو معاملے کی سنگینی کا احساس ہونا چاہیے عام آدمی ایسی توہین عدالت کرے تو وہ اتنی سنگین نہیں ہو گی، یہ بیان حلفی اب پبلک ہو چکا ہے یہ اس عدالت میں زیرالتوا مقدمات کے فیئر ٹرائل کو متاثر کریگا،

    رانا شمیم نے عدالت میں کہا کہ بیان حلفی اگر پبلش نہ ہوتا تو یہ تو میرا پرسنل ڈاکیو منٹ تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت آپکو شفاف ٹرائل کا مکمل موقع دیگی ،آپ جس کو بھی گواہ بلانا چاہتے ہیں بلائیں، یہ عدالت نہیں روکے گی،7 ستمبر تک رانا شمیم اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل اپنے گواہوں کی تفصیل فراہم کریں،یہ عدالت سزا ہونے تک ہر ملزم کو بے گناہ سمجھتی ہے، عدالت صحافی سے سورس نہیں پوچھے گی، ہو سکتا ہے کہ آپکو احساس ہو جائے اور عدالت آپکو ایک موقع دیدے،رانا شمیم نے کہا کہ مجھے احساس تو ہو چکا ہے یہ بیان حلفی پبلک میں نہیں آنا چاہیے تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے رانا شمیم پر فرد جرم عائد کی تھی رانا شمیم نے صحت جرم سے انکارکر دیا ،رانا شمیم نے کہا کہ آپ مجھے سنیں تو صحیح ایک ایک کرکے الزامات کا جواب دینا چاہتا ہوں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک تاریخ دے دیتے ہیں،آپ جواب جمع کرادیں انصار عباسی سمیت دیگر میڈیا نمائندوں پر فرد جرم کی کارروائی موخر کر دی گئی تھی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    عدالت کو مطمئن نہ کیا گیا تو فرد جرم عائد ہوگی،رانا شمیم کو ملا آخری موقع

    رانا شمیم کے الزامات پر انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    بیان حلفی پر توہین عدالت کیس،رانا شمیم، انصارعباسی ایکبار پھر طلب

    یاد رہے کہ ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی اور عامر غوری کو الگ الگ شوکاز نوٹس جاری کیے تھے ۔سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری کے خلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین کو 30 نومبر کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا،شوکاز نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عدالت آرڈیننس 2003 سیکشن 5 کے تحت مجرمانہ توہین کے ارتکاب پر سزا دے سکتی ہے۔

    رانا شمیم توہین عدالت کیس، اہم شخصیت بیمار،استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی

    رانا شمیم مشرف طیارہ کیس میں ن لیگ کا وکیل رہا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    رانا شمیم پر فرد جرم عائد،انصار عباسی سمیت دیگر میڈیا نمائندوں پر فرد جرم کی کارروائی موخر

  • حکومتیں آزادی اظہار سے کیوں گھبراتی ہیں؟ اس سے تو احتساب ہوتا ہے،عدالت

    حکومتیں آزادی اظہار سے کیوں گھبراتی ہیں؟ اس سے تو احتساب ہوتا ہے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پی ایف یو جے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملک بھر میں صحافیوں کو ہراساں کرنے سے روک دیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکریٹری اطلاعات کو 30 ستمبر تک رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیدیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سیکرٹری اطلاعات کو ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آزادی اظہار پر کوئی پابندی نہ ہو،عدالت سمجھنے سے قاصر ہے کہ صحافیوں کیلئے خوف کا ماحول کیوں بنایا جا رہا ہے، عدالت نے چیف سیکرٹری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ خوف کا یہ ماحول کیسے ختم ہو گا؟ اس حکومت کے آنے سے پہلے صحافیوں کا ایک گروپ ریلیف لینے اس عدالت آیا ،اس حکومت کے آنے کے بعد دیگر صحافیوں کو اس عدالت سے ریلیف لینا پڑا،اس صورتحال سے لگتا ہے کہ کچھ خوفناک حد تک غلط ہو رہا ہے، صحافیوں کا یہ خوف وفاقی حکومت نے دور کرنا ہے، یہ بہت اہم مسئلہ ہے،جتنی معلومات ہونگی لوگ اتنے باشعور ہونگے اور احتساب بہتر ہو سکے گا، مہذب دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ صحافیوں کی پکڑ دھکڑ کی جائے،کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو وہ الگ بات لیکن صحافت پر ایسی کارروائیاں نہیں ہونی چاہئیں، ایک صحافی کے خلاف پورے پاکستان میں پچاس مقدمے بنا دیئے جاتے ہیں،یہ ان کے حقوق سے زیادہ پورے ملک کے لوگوں کے حقوق کی بات ہے،عوام تک یہ معلومات جانے دیں کہ انکے حقوق کے ساتھ ریاست کیا کر رہی ہے پکڑ دھکڑ اور تھانیداری سے کچھ نہیں ہو سکتا، آج کے زمانے میں زبان بندی نہیں کی جا سکتی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومتیں آزاری اظہار سے کیوں گھبراتی ہیں؟ اس سے تو احتساب ہوتا ہے، پنجاب میں بھی کسی صحافی کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوا ہے؟ یہ عدالت صحافی پر توہین مذہب کے مقدمےکے معاملے پر کوئی کمیشن بھی بنا سکتی تھی،اس عدالت کو وزیراعظم اور وفاقی حکومت پر اعتماد ہے کہ وہ اس خوف کو ختم کرینگے،جب سے پاکستان بنا ہے یہی حربے ہیں لیکن کبھی کارگر ثابت نہیں ہوئے، حکومتوں کو تو آزادیِ اظہار کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے،

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

  • 8 ستمبرکو نہال ہاشمی اور طلال چودھری کورٹ جائیں گے، محمد زبیر

    8 ستمبرکو نہال ہاشمی اور طلال چودھری کورٹ جائیں گے، محمد زبیر

    8 ستمبرکو نہال ہاشمی اور طلال چودھری کورٹ جائیں گے، محمد زبیر

    مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے کہا ہے کہ شوکت ترین کہہ رہے تھے کہ آئی ایم ایف پروگرام کو سبوتاژ کرنا ہے،آئی ایم ایف کی میٹنگ طے تھی، آپ کو پتہ تھا اس کی اہمیت کیا تھی،شوکت ترین کی گفتگو پر حیرت ہوئی ،وہ وزیرخزانہ رہ چکے ہیں،بہت سے لوگ کہتے ہیں یہ سوچ عمران خان کی ہے،

    کراچی پریس کلب میں نہال ہاشمی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ن لیگی رہنما محمد زبیر کا کہنا تھا کہ معاہدے کو سبوتاز کرنا پاکستان کے مفاد میں نہیں تھا،حکومت میں آنے کے راستے واضح ہیں، الیکشن کا انتظار کریں،سیلابی صورتحال میں 3 کروڑ لوگ متاثر ہوئے ہیں،عمران خان جلسوں میں حکومت پر حملوں کے بجائے ان کا ساتھ دیں رسیدیں دکھا دیتے ہیں تو پھر 5ارب روپےجمع کرنے کے دعوے پر یقین کریں گے 8 ستمبرکو نہال ہاشمی اور طلال چودھری اسلام آباد ہائی کورٹ جائیں گے،پی ٹی آئی کو آئی ایم ایف پروگرام پر اختلاف تھاتو کھل کر کہتے،

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    قبل ازیں ن لیگی رہنما، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کون دیوار سے لگارہا ہے عمران خان نام بتا ہی دیں تو بہتر ہے انتظار کیوں کررہے ہیں پہلے امریکی سازش تھی پھر قتل کی دھمکی تھی اقتدار چلا جائے تو آدمی ایسی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے آپ کے پاس صوبائی حکومتیں ہیں عوام کی بہتری کیلئے کام کریں دیوار سے کون لگا رہا ہےعوام کو بتا دیں انہیں دیوار سےعوام لگائیں گے

  • کیا آپ سمجھتے ہیں لڑکی سے ریپ ہوا؟ دعا زہرہ کیس میں عدالت کا استفسار

    کیا آپ سمجھتے ہیں لڑکی سے ریپ ہوا؟ دعا زہرہ کیس میں عدالت کا استفسار

    سندھ ہائی کورٹ میں کراچی سے جا کر لاھور میں پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کا کیس کی سماعت ہوئی

    سندھ ہائی کورٹ نے مبینہ مغویہ کے ایم ایل او فیصلے پر حکم امتناعی جاری کردیا ،عدالت نے سیشن عدالت کا فیصلہ معطل کردیا ، عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ حکم تک ایم ایل او نہ کروایا جائے، عدالت نے سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کردی کر دی

    دوسری جانب عدالت نے مبینہ مغویہ کے ایم ایل او فیصلے، ملزمان کی ضمانت درخواستوں کی سماعت کی، وکلا ملزمان نے کہا کہ ایم ایل او فیصلے پر حکم امتناعی جاری کیا جائے، جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ آپ میڈیکل کیوں نہیں کروانا چاہتے؟ وکلا ملزمان نے کہا کہ مدعی وکیل نے 16, 17 اپریل کو زیادتی کا خدشہ ظاہر کیا، عدالت نے استفسار کیا کہ میڈیکل کروانے سے کیا لڑکی کے عزت پر حرف آئے گا؟ وکلا ملزمان نے کہا کہ میڈیکل لڑکی کی اجازت سے مشروط ہوتا ہے،لڑکی کی عمر کا تعین بورڈ کرچکا، عدالت نے مدعی مقدمہ وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں لڑکی سے ریپ ہوا؟ وکیل مدعی مقدمہ نے کہا کہ نہیں میرے فاضل دوست کیس کو نہیں سمجھ رہے،

    کراچی سے لاہور جا کر پسند کی شادی کرنے کا کیس مبینہ مغویہ لڑکی نے ایم ایل او سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ،درخواست مین کہا گیا کہ سیشن عدالت کا فیصلہ حقائق کے منافی ہے،ایک ہی درخواست پر دو عدالتیں فیصلہ نہیں کر سکتیں،جوڈیشنل مجسٹریٹ ایم ایل او کرانے سے متعلق درخواست مسترد کر چکی،مبینہ مغویہ لاہور اور کراچی میں بیانات دے چکی،مبینہ مغویہ کے مطابق اس نے مرضی سے شادی کی،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز عدالت نے مبینہ اغوا کے مقدمے میں نامزد ظہیر کی والدہ سمیت 6 دیگر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی نے دعازہرہ کے مبینہ اغوا کے مقدمے میں نامزد مفرور ملزمان نور بی بی سمیت 6 کے ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کرتے ہوئے چالان کی منظوری اور مدعی مقدمہ کی جانب سے ایم ایل او کرانے کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔عدالت نے تحریری حکم میں مفرور ملزمان نور بی بی سمیت 6 کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے کہا کہ چالان میں زیادتی شامل نہیں کی گئی۔ چالان میں سندھ چائلڈ ایسٹرن میرج ایکٹ، اغوا، انسانی اسمگلنگ اور دیگر سنگین دفعات شامل کی گئیں ہیں۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو متاثرہ بچی کا ایم ایل او کرانے کا حکم دیدیا

    دعا زہرا کو کراچی منتقل کردیا گیا۔

    والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان

    دعا کیجیے گا ہماری دعا ظالموں کے چنگل سے آزاد ہو،دعا زہرہ کے والدین کی اپیل

    دعا زہرہ کیس،عمر کے تعین کیلئے ایک بار پھر میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم

     دعا زہرہ کو عدالت نے دارالامان بھجوانے کا حکم 

    واضح رہے کہ دعا زہرہ نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی تھی، دعا زہرہ کے شوہر ظہیر احمد کا کہنا ہے کہ کہ دعا اور میرا رابطہ پب جی گیم کے ذریعے ہوا اور پچھلے تین سال سے ہمارا رابطہ تھا دعا زہرہ کراچی سے خود آئی ہے دعا نے میرے گھر کے باہر آکر مجھے میسج کیا وہ رینٹ کی گاڑی پر آئی تھی میرے گھر والے شادی پر آمادہ تھے میرے گھر والے بھی چاہتے تھے کہ دعاکے گھر والے رضامند ہوں لیکن دعا کے گھر والوں نے شادی کیلئے مثبت جواب نہیں دیا اسی وجہ سے یہ خود اپنا گھر چھوڑ کر آ گئی

     دعا زہرہ کی پرائیویٹ تصاویر لیک کر دی گئیں