Baaghi TV

Tag: عدالت

  • شہباز گل کیس، تحقیقات کا دائرہ وسیع،کراچی میں بھی چھاپے

    شہباز گل کیس، تحقیقات کا دائرہ وسیع،کراچی میں بھی چھاپے

    شہبازگل کیس میں پیش رفت سامنے آئی ہے

    اسلام آباد پولیس کی ٹیم نے کراچی میں مطلوب ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے ہیں، اسلام آباد پولیس کی ٹیم نے کراچی کے تھانہ آرٹلری میدان کے علاقہ اور دیگر مقامات پر چھاپے مارے ہیں، نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق شہر قائد کراچی میں پولیس چھاپوں میں کوئی گرفتاری ہوئی یا نہیں اس پر ابھی تک کچھ نہیں کہا جا سکتا، پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا ہے

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شہباز گِل نے جسمانی ریمانڈ کے خلاف اپیل خارج کرنے کا عدالتی فیصلہ اور دو روزہ ریمانڈ کے لیے سرکار کی اپیل منظور کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے، سپریم کورٹ میں شہباز گِل کی دائر اپیلوں میں ایڈیشنل سیشن جج وفاق،ایس ایس پی انویسٹی گیشن کو فریق بنایا گیا ہے اپیل میں آئی جی اسلام آباد، ایس ایچ او تھانہ کوہسار، بیرسٹر غلام مصطفیٰ چانڈیو کو بھی فریق بنایا گیا ہے،شہباز گل کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسمانی ریمانڈ کے خلاف اپیل خارج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے سیشن جج زیبا چوہدری کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کا فیصلہ بھی کالعدم دیا جائے شہباز گِل پر تشدد کی انکوائری کے لیے آزاد، غیرجانبدار میڈیکل بورڈ بنایا جائے

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    کہا گیا ضمانت ہو گئی،اور عدالت لے آئے، شہباز گل کا بیان

    واضح رہے کہ شہباز گل کو گزشتہ روز عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا ہے ،شہباز گل نے عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انکے ساتھ جنسی زیادتی نہیں ہوئی بلکہ جنسی تشدد ہوا ہے، شہباز گل کو گرفتار کیا گیا تھا تو دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد انہیں اگلے ریمانڈ سے قبل ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا تا ہم پولیس نے شہباز گل کے ساتھ چال چلی اور پھر دو روز کا مزید ریمانڈ لے لیا، شہباز گل کے کمرے پر چھاپہ مارا گیا تو وہاں سے پستول برآمد ہوا جس کے بارے میں شہباز گل نے کہا کہ یہ میرا نہیں ہے، پستول کی برآمدگی کا مقدمہ بھی شہباز گل کے خلاف درج کیا جا چکا ہے

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے کہا ہے کہ شہباز گل پر تشدد کی من گھڑت مہم چلائی جا رہی ہے۔اسلام آباد پولیس نے کہا ملزم شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا ہے۔ شہباز گل پر تشدد اور جنسی زیادتی سے متعلق بعض افراد کی طرف سے من گھڑت مہم چلائی جارہی ہے۔ عدالتی حکم پر تشدد سے متعلق ابتدائی رپورٹ پر کام شروع ہوچکا ہے اور بیانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • ایسے لگ رہا ہے یہاں کوئی قانون رہ ہی نہیں گیا،عمران خان

    ایسے لگ رہا ہے یہاں کوئی قانون رہ ہی نہیں گیا،عمران خان

    ایسے لگ رہا ہے یہاں کوئی قانون رہ ہی نہیں گیا،عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ شہباز گل کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس پر میں نے کہا اس پر ایکشن لوں گا

    عدالت پیشی کے موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ بنا دیا گیا،پوری دنیا میں مذاق بن گیا ہے،میں یہ کہوں کہ لیگل ایکشن لوں گا تو دہشت گردی کا مقدمہ بن جاتا ہے، شہباز گل پر تشدد ہوتے ہوئے بھی واپس بھیج دیا گیا پولیس کے پاس، میں بات کروں تو دہشت گردی کا کیس کیسے بن گیا اس پر؟ ایسے لگ رہا ہے یہاں کوئی قانون رہ ہی نہیں گیا، سب سے بڑی پارٹی کے ہیڈ پر مقدمہ بن گیا، جو فیصلے کررہے ہیں انکو ملک کا سوچنا چاہئے، وہ تحریک انصاف سے خوفزدہ ہیں، ملک کا مذاق بنا رہے ہیں

    تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہم انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر کھڑے ہیں یہ بڑا مذاق ہے عمران خان نے تقریر میں کہا کہ ہم قانونی ایکشن لیں گے جس پر مقدمہ کیاگیا تقریر کرنے پر لیڈر کے خلاف مقدمے درج کرائے گئے، پاکستان کی قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے،سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت کی بوکھلاہٹ سب کے سامنے ہے،یہ لوگ عمران خان کو آوٹ کرنا چاہتے ہیں ،ہم کہتے ہیں میدان میں آجاو،کیا عمران خان کے خلاف مقدمات سے سیلاب زدگان کی مدد ہورہی ہے؟کیا عمران خان کے خلاف مقدمات سے معیشت بہتر ہورہی ہے؟ مسائل کا حل ایک ہی ہے فوری انتخابات

    قبل ازیں عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی ہے، عمران خان کی ضمانت ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی گئی ہے، عدالت نے پولیس کو یکم ستمبر تک گرفتاری سے روک دیا، عدالت نے پولیس اور مدعی مقدمہ نے نوٹس جاری کر دیا،اگلی سماعت یکم ستمبر کو ہو گی، عدالت نے عمران خان کو دوبارہ یکم ستمبر کو طلب کر لیا ہے،

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

  • عدالت نے یکم ستمبر تک عمران خان کو گرفتار کرنے سے روک دیا

    عدالت نے یکم ستمبر تک عمران خان کو گرفتار کرنے سے روک دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت میں سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان خود عدالت میں پیش ہوئے، پی ٹی آئی کے وکلا کی ٹیم اے ٹی سی اسلام آباد میں موجود تھی ،اسد عمر ، پرویز خٹک، زلفی بخاری، فواد چوہدری بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے عدالت میں عمران خان کی درخواست ضمانت پر دلائل دیئے، وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ عمران خان کو عدالت کے سامنے آنے دیں، جس پر جج راجہ جواد عباس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو بیٹھا رہنے دیں، ضرورت نہیں ہے،وکیل بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ آپ ایف آئی آر دیکھیں مجسٹریٹ علی جاوید نے عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کرایا،پراسیکیوشن کے مطابق تقریب میں تین افراد کو دھمکی دی گئی،آئی جی اسلام آباد،ایڈیشنل آئی جی اور خاتون جج کو دھمکی کا کہا گیا،وہ تینوں شکایت کنندہ نہیں، بلکہ مجسٹریٹ مدعی ہیں،

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مدعی مقدمہ علی جاوید کو دھمکی دی گئی ؟ بابر اعوان نے کہا کہ کیا عمران خان نے کہا کہ جان سے مارنا ہے ؟عمران خان نے پولیس حکام کو کہا شرم کرو، ہم نے تمہارے اوپر کیس کرنا ہے، شرم کرو کے الفاظ کو دھمکی بنا دیا گیا ورنہ کئی وزیر اس حکومت کے اندر ہوتے،آئی جی اور ڈی آئی جی کو کہا تمھیں نہیں چھوڑنا، کیس کرینگے ،مجسٹریٹ صاحبہ زیبا آپ بھی تیار ہو جائیں آپ کے اوپر بھی ایکشن لینگے، عمران خان نے دھمکی آمیز الفاظ استعمال نہین کئے، شرم کرو،یہ الفاظ سوسائٹی میں اکثر استعمال ہوتے ہیں، عمران خان نے کسی کو قتل کرنے کا نہیں بلکہ کیس کرنے کا کہا،

    عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی ہے، عمران خان کی ضمانت ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی گئی ہے، عدالت نے پولیس کو یکم ستمبر تک گرفتاری سے روک دیا، عدالت نے پولیس اور مدعی مقدمہ نے نوٹس جاری کر دیا،اگلی سماعت یکم ستمبر کو ہو گی، عدالت نے عمران خان کو دوبارہ یکم ستمبر کو طلب کر لیا ہے،

    عمران خان عدالت پہنچے تو دھکم پیل ہوئی،عدالت کے گیٹ پر لگایا گیا واک تھرو گیٹ پی ٹی آئی کارکنان نے توڑ دیا اسلام آباد پولیس موقع پر موجود تھی لیکن عمران خان کے ساتھ کے پی پولیس کے اہلکار موجود تھے جنہوں نے اسلام آباد پولیس کو بھی دھکے دیئے، صحافیوں کے ساتھ بدتمیزی بھی کی، عمران خان کی عدالت پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت کھچا کھچ بھر چکا تھا، وکلا نے کمرہ عدالت میں عمران خان کے ساتھ تصویریں بنان شروع کیں تو عدالتی سٹاف نے کورٹ روم میں تصاویر بنانے سے روک دیا ،

    قبل ازیں اے ٹی سی اسلام آباد میں خاتون جج ،آئی جی اورڈی آئی جی پولیس کو دھمکیاں دینے سے متعلق کیس ،عمران خان نے درخواست قبل از ضمانت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر کر دی ،درخواست بابر اعوان اور علی بخاری کے ذریعے عدالت اے ٹی سی میں دائر کی گئی ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے انتقامی کارووائی کے تحت انسداد دہشت گردی کا مقدمہ بنایا، عدالت ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرے ، دراخواست پر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس سماعت کریں گے

    عمران خان کی عدالت پیشی سے قبل فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس کےاطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، کمپلیکس کے اطراف کی سڑکیں بند کردی گئی ہیں اور غیر متعلقہ افراد کو عمارت میں داخلے کی اجازت نہیں ہے، عدالت کے باہر تحریک انصاف کے کارکنان کی کثیر تعداد موجود تھی، اسد عمر سمیت دیگر پارٹی رہنما بھی عمران خان کے ساتھ یکجہتی کے لئے آئے تھے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی 3 دن کیلئے حفاظتی ضمانت منظور کی تھی عدالت نے عمران خان کو 25 اگست تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی، ان کے خلاف تھانہ مارگلہ میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے

    دوسری جانب عمران خان نے دفعہ 144 خلاف پر درج مقدمہ میں عبوری درخواست ضمانت سیشن عدالت میں دائر کر دی ہے ، تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے بھی ایمپلی فائر ایکٹ اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمے میں عبوری درخواست ضمانت قبل از گرفتاری سیشن کورٹ میں وکیل بابر اعوان کے ذریعے دائر کی ہے، اسد عمر کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جب ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں تو پٹیشنراس وقت لاہور کی ریلی میں شریک تھا ۔میں پولیس کے سامنے شامل تفتیش ہونے کو تیار ہوں ضمانت منظور کی جائے خدشہ ہے کہ مجھے سوسائٹی میں تضحیک کے لیے گرفتار کیا جائے گا۔

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

  • خلع لینے پرسابق شوہر نے ساتھیوں سمیت بیوی کو سرعام تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    خلع لینے پرسابق شوہر نے ساتھیوں سمیت بیوی کو سرعام تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    اوکاڑہ میں سفاک شوہر نے خلع لینے پر بیوی کو سرعام تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اوکاڑہ کے علاقے منڈی احمد آباد میں خاتون نے گھریلو رنجش اور شوہر کے رویے پر عدالت میں خلع کے لیے درخواست دائر کی عدالت نے صفائی نہ پیش کرنے پر خاتون کے حق میں فیصلہ سنایا اور پھر خاتون قانونی طور پر طلاق یافتہ ہوگئیں۔

    لیہ ۔ پورنوگرافی سیکنڈل،متاثرہ خاتون کے 46 ناموں کا انکشاف

    خاتون کے مطابق طلاق ہونے کے بعد سابق شوہر نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ خاتون کو بیچ چوراہے پر روک کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور زمین پر گھسیٹا جس کی وجہ سے خاتون کے کپڑے بھی پھٹے۔

    خاتون نے بتایا کہ انہوں نے پولیس کو واقعے کے حوالے سے آگاہ کیا مگر تھانے والوں نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا، بعد ازاں معاملہ میڈیا تک پہنچنے اور ویڈیو وائرل ہونے پر ڈی پی او نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ایس ایچ او کو ملزم کی گرفتاری کی ہدایت کی۔

    پولیس نے ڈی پی او کی ہدایت پر ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا جبکہ خاتون پر تشدد کرنے والے باقہ ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

    قبل ازیں بیٹے کی خواہش، سسرالیوں نے بہو کو سرعام ننگا نہانے پر مجبور کر دیا تھا، واقعہ بھارت کا ہے جہاں خاتون پر لڑکے کی پیدائش کے لئے مظالم کی انتہا کر دی گئی، خاتون کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا پھر اسے سر عام سب کے سامنے ننگا نہانے کے لئے مجبور کیاگیا، خاتون نے تنگ آ کر تھانے میں مقدمہ درج کروا دیا ہے-

    منگیتر کی امتحانات میں ناکامی کا بدلہ لینے کیلئے لڑکے نے سکول کو آگ لگادی

    پولیس کے مطابق خاتون نے بتایا کہ پنڈت کے کہنے پر سسرال والوں نے ایسا قدم اٹھایا، پنڈت نے کہا کہ کوئی بندش ہے جس کی وجہ سے لڑکا پیدا نہیں ہو گا، بلکہ لڑکی ہو گی،اس بندش کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سر عام ننگا نہائے، جس پر سسرال والوں نے مجھ پر تشدد کیا، میں نے انکار کیا تو مجھے مارا پیٹا، جان سے مارنے کی دھمکی دی اور مجھے سب کے سامنے ننگا نہانے پر مجبور کیا-

    سسرالیوں کے مظالم کا شکار خاتون کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرے شوہر نے میرے زیورات فروخت کر دیئے ہیں، والدین کی جانب سے ملنے والی جائیداد کو گروی رکھوا کر 75 لاکھ روپے قرض لئے تھے وہ بھی شوہر نے لے لئے، اب وہ مزید پیسوں کی بھی ڈیمانڈ کرتا ہے، پولیس نے پنڈت سمیت خاتون کے شوہر، سسر اور ساس کو گرفتار کر لیا ہے-

    بیٹے کی خواہش، سسرالیوں نے بہو کو سرعام ننگا نہانے پر مجبور کر دیا

  • عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز،لارجر بینچ تشکیل،کل سماعت

    عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز،لارجر بینچ تشکیل،کل سماعت

    تحریک انساف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی بیوروکریسی، سول سرونٹس، پولیس افسران کے بعد عدلیہ کو کھلے عام دھمکیاں دینا شروع کر دیں .

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی سیشن جج کو دھمکی کا نوٹس لے لیا، ہائی کورٹ کے تمام ججز نے مشاورت کے بعد عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے اسلام آبادہائی کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا۔لارجر بینچ میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب شامل ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ میں جسٹس بابر ستار بھی شامل ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کا لارجر بینچ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی کل سماعت کرے گا۔ ذرائع کے مطابق توہین عدالت کی کارروائی کا فیصلہ ہائیکورٹ کے تمام ججز کی مشاورت سے ہوا.

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا کو سیاسی جلسوں میں کھلے عام للکارنے کے بعد سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں.سابق وزیراعظم عمران کی یہ روش نئی نہیں ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی پلاننگ ہے، جس کا مقصد زیرِ تفتیش مقدمات پر اثر انداز ہونا ہے۔

    فارن فنڈنگ کا مسئلہ ہو یا شہباز گل کا، فرح گوگی کی کرپشن ہو یا بشریٰ بی بی کی قیمتی تحائف لینے کی بات، توشہ خانہ کا مسئلہ ہو یا عثمان بزدار کی کرپشن کا معاملہ،عمران خان قانونی کارروائی کیلئے ہر مسئلے کو متنازع بنانے اور اُسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

    عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کی کتاب، ووٹ آف نو کانفڈنس، میں ریحام خان نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمراں خان ہر مسئلے کوسیاسی بنانا چاہتے ہیں۔ ملک کا کوئی ادارہ ایسا نہیں ہے جس پر عمران نے براہِ راست حملے نہ کئے ہوں اور اُن پر دباؤ ڈال کر اثر انداز کرنے کی کوشش نہ کی ہو.

    پی ٹی وی پر حملہ اور پارلیمنٹ پر چڑھائی، عمران کے ہی کارنامے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ اداروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔ مگر اب پولیس افسران اور جج صاحبان کو دھمکیاں دینے کے نتیجے میں قانون حرکت میں آ چکا ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کو اب اپنی اِن غلطیوں کا حساب دینا ہو گا۔

    عدلیہ اور اداروں کا بھی امتخان ہے کہ وہ عمران خان کو معاشرے میں عدم اعتماد اور افراتفری پھیلانے سے باز رکھیں۔قانون کو اپنا راستہ بنانا ہو گا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر افراتفری ہی ہمارا مقدر ہو گی۔

  • آنکھیں کھول دینے والی بات ہے،دیکھیں کراچی میں کیا ہو رہا ہے؟ سندھ ہائیکورٹ

    آنکھیں کھول دینے والی بات ہے،دیکھیں کراچی میں کیا ہو رہا ہے؟ سندھ ہائیکورٹ

    کورنگی کراسنگ سیکٹر 30 اے کے 14 رفاعی پلاٹس پر قبضہ کیس کی سماعت 22 ستمبرتک ملتوی کر دی گئی

    سندھ ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آنکھیں کھول دینے والی بات ہے،دیکھیں کراچی میں کیا ہو رہا ہے؟ جب چائنہ کٹنگ ہو رہی ہوتی ہے تو لوگ سستا پلاٹ خرید لیتے ہیں،جسٹس سید حسن اظہر رضوی کا کہنا تھا کہ چائنہ کٹنگ کو کوئی دیکھنے والا نہیں، بلند عمارتیں کھڑی کردیں، گریں گی تو کون ذمہ دار ہوگا؟سیکٹروں گھروں کی غیر قانونی تعمیرات الارمنگ ہے،

    عدالت نے درخواست گزار کو 7 روز میں کنٹونمنٹ بورڈ کورنگی کریک کو فریق بنانے کی ہدایت کر دی،دوران سماعت جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ پڑھتے جائیں شرماتے جائیں،میں تو اس علاقے کے خود سامنے رہتا ہوں، کیا یہ منظوری کنٹونمنٹ بورڈ نے دی؟

    واضح رہے کہ شہر قائد کراچی میں زمینوں پر قبضے کے لئے چائنہ کٹنگ کی جاتی ہے، گھر بنا لئے جاتے ہیں پھر جب انکو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے تو مالکان احتجاج کرتے ہیں لیکن جب غیر قانونی قبضہ کرتے ہیں اسوقت انہیں کسی قسم کا ہوش نہیں ہوتا بعد میں قانون یاد آ جاتا ہے

    قبل ازیں ینگ فائٹر کرکٹ اکیڈمی نارتھ ناظم آباد کے سی ای او اجمل نصیب نے مزید کہا کہ کھیل کے میدانوں کو قبضہ مافیا اور چائنہ کٹنگ سے بچایا جائے، آ بادی کے تناسب سے ایک تو کراچی شہر میں پہلے ہی کھیل کے میدانوں کی تعداد بہت کم ہے اور اب ایک بار پھر سے لینڈ مافیا نے اپنی نظر یں کھیل کے میدانوں پر مرکوز کر لی ہیں،معلوم ہوا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے کچھ افسران اور لینڈ مافیا کے کارندوں نے ضلع وسطی کے مختلف کھیل کے میدانوں کو اپنا حدف بنا لیا ہے اورچائنا کٹنگ کی آ ڑ میں کھیل کے میدانوں کو ختم کر نے کے منصوبے بنائیں جا ر ہے ہیں ، جس پر ہمیں گہری تشویش ہے

    کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کیوں؟ پاکستان کا پرچم لگائیں ،سپریم کورٹ

    دفاعی اداروں کی جانب سے کمرشل کاروبار ،سیکریٹری دفاع کونوٹس جاری

    ریاست فیل،مکمل تباہی، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ترین ریمارکس

    ریکارڈ غائب کرنے کیلئے آگ لگتی رہی .اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائےسپریم کورٹ کے ریمارکس

    سب کہتے مگر کرتے کچھ نہیں، اسپتالوں میں گدھے،ڈی سی بادشاہ بنے ہوئے ہیں،سپریم کورٹ برہم

    اکانومی ڈیڈ اسٹاک پر پہنچ چکی،ملک میں کالا پیسہ زیادہ ہے،چیف جسٹس کے ریمارکس

  • شہباز گل کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ کا حکم

    شہباز گل کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ کا حکم

    کہا گیا ضمانت ہو گئی،اور عدالت لے آئے، شہباز گل کا بیان

    شہباز گل کیس کا فیصلہ عدالت نے فیصلہ سنا دیا ۔ عدالت نے شہباز گل کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا عدالت نے شہباز گل کو 24 اگست تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا

    قبل ازیں شہباز گل کو عدالت پیش کر دیا گیا ہے ،شہباز گل کو سخت سیکیورٹی میں عدالت پیش کیا گیا اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی شہباز گل سے 5وکالت نامہ دستخط کروائیے گئے ,جج نے شہباز گل کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کیا ملزم کی طرف سے ہے ملزم ہے ،فائل نہیں ، کون لیکر آیا ہے، وکیل نے کہا کہ ریکارڈ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہے وہاں پر فیصلہ محفوظ ہوا ، ہماری استدعا ہے کہ کیس کی سماعت میں وقفہ کیا جائیگا، شہباز گل نے عدالت میں کہا کہ ایس پی نوشیروان مجھے لیکر آئے ہیں،کہا آپ کی ضمانت ہو گئی ہے مجھے اسکرین شارٹ دکھایا گیا اور کہا گیا ضمانت ہو گئی مچلکے جمع کرانے ہیں،پرائیوٹ گاڑی میں مجھے بٹھایا گیا اور ادھر لے آئے،گزشتہ رات سے دیکھیں میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے، جج نے شہباز گل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ڈاکٹرز کو دکھایا ،ہم تو میڈیکل نہیں بتا سکتے، شہباز گل نے کہا کہ گزشتہ رات سے میں بھوک ہڑتال پر ہوں ،مجھ سے کسی کو ملنے نہیں دیا جا رہا،گزشتہ رات 12 لوگ کمرے میں آئے مجھے پکڑا اور زبردستی کیلا دیا اور جوس پلایا،گزشتہ رات 3 بجے پھر 6 سے 7 لوگ آئے مجھے کھانا کھلانے کی کوشش کی گئی 10سے 12 لوگوں نے مجھے زبردستی باندھ کر میری شیو کی،مونچھیں نہیں رکھتا ، چھڑوا دی گئیں، زبردستی ناشتہ دینے کی کوشش کی گئی، وکلا نے کہا کہ ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ وکلاسے ملنے کی اجازت دی جائے ،نہیں ملنے دیا جا رہا،جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم نامہ کدھر ہے اس کو دیکھ کر حکم دونگا،

    پی ٹی آئی لیگل ٹیم نے شہبازگل کی اڈیالہ جیل میں لی گئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کردی ،وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ڈائری میں پولیس کیا لکھے گی؟ ڈنڈا مارا یا لیتر مارا؟ موبائل فون پر پرچہ کردیاگیا، نمبر معلوم ہے کہاں سے بیپر ہوا، کیاسیشن جج ریمانڈ دے سکتاہے؟ جواب ہے نہیں،سپریم کورٹ کے مطابق جیل سے بہتر ضمانت ہے شہبازگل کو ریمانڈ میں مارنے کے علاوہ اور کیا کیا جاسکتا ہے؟شہبازگل مخبر نہیں ، کسی کو پکڑوانے میں مدد نہیں کرسکتے 14دن ریمانڈ کے مکمل ہو نے پر کیس آپ کے پاس آیا ہے،شہبازگل کے وکیل بابراعوان نے دلائل مکمل کرلیے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر رضوان عباسی کی جانب سے دلائل دیئے گئے

    اسلام آباد کی مقامی عدالت میں شہباز گل کو دوبارہ پیش کردیا گیا ،شہباز گل نے عدالت میں دوبارہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ پانچ دن سے کپڑے نہیں تبدیل کیے،پانچ دنوں سے میں نہایا نہیں ہوں میرے کپڑے انہوں چھین لیے ،4 روز سے بھوک ہڑتال پرہوں ،

    قبل ازیں تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کوہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے پمز ہسپتال میں داخل شہباز گل کی صحت اور میڈیکل ٹیسٹ صحیح ہونے پر ڈسچارج کیا گیا ہے، شہباز گل کا مکمل طبی معائنہ کیا گیا ہے وہ بالکل تبدرست ہیں، نجی ٹی وی کے مطابق شہباز گل کو ڈسچارج کیا گیا تو شہباز گل نے پھر سینے میں درد کی شکایت کی،

    شہباز گل کو اب ہسپتال سے عدالت لایا جائے گا، شہباز گل کی ہسپتال سے ویڈیوز اور تصاویر بھی سامنے آ چکی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہباز گل بالکل تندرست ہیں

    شہباز گل کو آج عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے عدالت نے شہباز گل کو طلب کر رکھا ہے، گزشتہ سماعت پر عدالت نے ہی شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ دینے کی بجائے ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ شہباز گل کے ٹیسٹ کروائے جائیں،

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے کہا ہے کہ شہباز گل پر تشدد کی من گھڑت مہم چلائی جا رہی ہے۔اسلام آباد پولیس نے کہا ملزم شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا ہے۔ شہباز گل پر تشدد اور جنسی زیادتی سے متعلق بعض افراد کی طرف سے من گھڑت مہم چلائی جارہی ہے۔ عدالتی حکم پر تشدد سے متعلق ابتدائی رپورٹ پر کام شروع ہوچکا ہے اور بیانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد کی مقامی عدالت میں شہبازگل سے متعلق بغاوت کیس کی سماعت ہوئی

    شہباز گل کے وکیل فیصل چودھری اور بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے، فیصل چودھری نے کہا کہ آج شہباز گل کو پیش کرنا ہے، ہائیکورٹ میں کیس زیر سماعت ہے،اوکیل نے کہا کہ اگر ایک بجے تک کیس کی سماعت کریں ہم ہائیکورٹ سے ہو کر آجائینگے، فیصل چودھری نے کہا کہ ہم ساڑھے 9 بجے تک انتظار کر لیتے ہیں ابھی پتہ کرلیں شہباز گل کوکس وقت لیکر آئینگے،جس پر جج نے کہا کہ ہم تو پتہ نہیں کراتے آپ کہتے ہیں تو پتہ کرا لیتے ہیں، عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ پتہ کریں کب شہباز گل کو پیش کیا جائے گا شہباز گل کے وکیل فیصل چودھری نے ایک بجے تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کر دی،عدالت نے وکیل سے سوال کیا کہ ابھی میں نے نہیں دیکھا کہ آپ کس کارروائی کی بات کر رہے ہیں ملزم کو پیش کرنے دیں پھر دیکھ لیتے ہیں

    عدالت نے شہباز گل کو ساڑھے 12 بجے تک پیش کرنیکا حکم دے دیا ،جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسپیشل پراسیکیوٹر اگر آجاتے ان کو بھی آگاہ کر دیتے ہیں،

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دینے کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی .وکیل نے کہا کہ شہباز گِل پر پولیس حراست میں بدترین تشدد کیا گیا،جب تک جرم ثابت نہ ہو ملزم عدالت کا پسندیدہ بچہ ہوتا ہے،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ پورے ملک کا واحد کیس نہیں ہے اس سے پہلے بھی کیسز تھے بعد میں بھی چلتے رہیں گے، ریمانڈ کے کیسز میں ایسی مثال نہ بنائیں،ہائیکورٹ تو صرف اسی کیس کیلئے ہی رہ جائے گی،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ شہباز گِل کی گاڑی کے شیشے توڑے گئے،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں اس میں نہیں جا سکتا، کیا میں اب ٹی وی لگوا کر وہ ویڈیو دیکھوں؟ وکیل نے کہا کہ تشدد کے اثرات صرف 5 سے چھ دن رہتے ہیں،عدالت ڈاکٹرز کو بلا کر پوچھ لے وہ شہباز گل تشدد کے عینی شاہد ہیں،درجنوں مثالیں ہیں پولیس ایسے تشدد کرتی ہے جس کو ٹریس کرنا بہت مشکل ہوتا ہے،پولیس تشدد سے مار کر بھی کہتی ہے بندے نے خودکشی کرلی،بارہ دن بعد تو بڑے سے بڑا تشدد ٹھیک ہوجاتا ہے،شہباز گِل دمہ کا مریض ہے انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، مجسٹریٹ نے شہباز گل کو پمز اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا،ایسے ہی ملزم کی موت ہو جاتی ہے اور پراسیکیوشن کے خلاف 302 کا کیس بن جاتا ہے،اس کیس کی جوڈیشل انکوائری کی جائے، عدالتی حکم کے بعد وکلا اور دوستوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی،شہباز گِل کی ویڈیوز لیک کی گئیں،مجسٹریٹ نے خود آبزرویشن دی کہ ملزم کی کنڈیشن سیریس ہے،مجھے وکالت نامہ دستخط کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی، اب شہباز گل کی طبیعت بہتر ہو رہی ہے توویڈیوز لیک کی گئیں،

    وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے شہباز گل کو دوبارہ جسمانی ریمانڈ میں دیدیا،جج نے بغیر کوئی وجہ معلوم کیلئے شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ دیا،ہمارے خلاف سازش کی جارہی ہے ،میڈیا پر پابندی عائد کی گئی ، کیا ہم نیشنل جیوگرافک لگا کر بیٹھ جائیں؟ جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس پر رہیں، معاملے کو پیمرا پابندی کی طرف نہ لے جائیں ،ایسا کرنے سے اپ ایک ڈیڈ اینڈ پر پہنچ جائیں گے وکیل نے کہا کہ موبائل فون کی ریکوری کے لیے شہباز گل کے ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے؟ گرفتاری میں ہمیشہ موبائل فون اور عینک ساتھ ہی ہوتی ہے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شہباز گل سے سازش کا پتہ کرنا ہے، شہباز گل کو عدالت نے جوڈیشل کردیا تو واپس کیوں لانا پڑا ؟ کریمنل کیسز میں شواہد کو عدالت اور فریقین سے چھپایا نہیں جاسکتا، میں نے کہا کہ وہ کونسے شواہد ہیں جس کے لیے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت ہے،شواہد مانگنے پر کہا گیا کہ ہم آپ سے کچھ بھی شئیر نہیں کرسکتے،

    عدالت نے شہباز گل کے وکیل کو تقاریر کے حوالے سے منع کر دیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فریڈم آف ایکسپریشن کی تعریف ہم سب غلط پڑھتے ہیں،عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ شہباز گل کاریمانڈ کیوں چاہتے ہیں ؟کوئی برآمدگی کرنی ہے، کیا کرنا چاہتے ہیں، پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ فون بر آمد کرنا ہے، تحقیقات کے کچھ پہلویہاں نہیں بتا سکتا ،کیس کو نقصان ہوسکتا ہے، عدالت نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ فون لینڈ لائن سے ہوا پھر کیوں چاہیے؟ تفتیشی افسر کہاں ہیں؟ تفتیشی افسر نے عدالت میں جواب دیا کہ پتہ لگا لیا ہے لینڈ لائن نمبر فون بنی گالہ عمران خان کی رہائش کا ہے،فون سےپڑھ کر نجی ٹی وی پر بیان دیا گیا ٹرانسکرپٹ بر آمد کرنا ہے،تفتیشی افسر کا اختیار ہے کہ وہ بتائے اس کی تفتیش مکمل ہوئی یا نہیں، شہباز گِل موبائل استعمال کر رہا ہے، مواد سے ملزم کو کنفرنٹ کرنا ہے، دیگر ملزمان کی گرفتار ی کے لیے شہباز گل کے بیان سے کنفرنٹ کرانا ہے،

    جسٹْس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اور تو آپ نے کسی کو گرفتار نہیں کیا کس سے کنفرنٹ کرانا ہے، ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ گرفتاریوں کیلئے تو مزید تفتیش کی ضرورت ہے،پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ پولیس کی ابھی 90 فیصد تفتیش باقی ہے،ملزم لیت و لعل سے کام لیتا ہے، جھوٹ بول رہا ہے، پولی گرافک ٹیسٹ کی ضرورت ہے، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا اسلام آباد میں پولی گرافک ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس اور پنجاب فرانزک لیب میں یہ سہولت موجود ہے،جسمانی ریمانڈ 15 دن کا ہوتا تو مختلف مراحل میں دیا جاسکتا ہے، عدالت نے کہا کہ اگر 15دن میں تفتیش مکمل نہ ہو تو کیا اس کے بعد بھی ریمانڈ مل سکتا ہے؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ 15دن سے زیادہ جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر اس کے بعد بھی تفتیش کی ضرورت ہو تو پھر جیل میں تفتیش کی جائے گی؟ دوران تفتیش کوئی ملزم بیمار ہو جائے تو کیا ہو گا؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ بیمار اور زخمیوں کے لیے بھی رولز موجود ہیں، زندگی ہے تو سب کچھ ہے، عدالت نے سوال کیا کہ اگر کوئی بیمار ہوجائے تو آپ اسلام آباد میں کہاں منتقل کرتے ہیں ؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر کوئی بیمار ہوجائے توپمز اور پولی کلینک میں منتقل کیا جاتا ہے،ایڈیشنل سیشن جج کا مزید 48 گھنٹے کا جسمانی ریمانڈ کا آرڈر بالکل درست ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں پراسیکیوٹر رضوان عباسی کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے

    عدالت نے وکلا پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ دو اہم وکلانے اپنے دلائل دئیے، باقی کسی کو دینے کی ضرورت نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بابر اعوان کو دلائل دینے کی اجازت دے دی، وکیل جیل حکام نے کہا کہ اسلام آباد کی اپنی جیل نہیں، اڈیالہ جیل رکھنا پڑتا ہے،اگر کسی ملزم کی طبیعت خراب ہو تو قریبی اسپتال لے جایا جاتا ہے، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اسلام آباد کا ملزم ہو تو اسے اسلام آباد کے اسپتال میں ہی رکھا جاتا ہے،

    شہباز گِل کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے

    شہباز گل پر تشدد اور غیر جانبدار ڈاکٹروں کی میڈیکل بورڈ بنانے سے متعلق درخواست پر بابر اعوان نے دلائل دیئے،اور کہا کہ ملزم کی حراست گرفتاری کے روز سے شروع ہو جاتی ہے،زیادہ سے زیادہ ریمانڈ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے،جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا تو یہ کیس ہی نہیں، یہ ساری چیزیں تو سلمان صفدر کہہ چکے ہیں،استدعا پڑھیں، اپنے دلائل اس حد تک محدود رکھیں ،ایڈووکیٹ جنرل جہانگیرجدون نے اعتراض عائد کیا اور کہا کہ درخواست میں بابر اعوان وکیل نہیں، دلائل نہیں دیئے جا سکتے، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے اسد عمر کی درخواست قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھا دیا، کہا کہ اسد عمر کا نئے ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ بنانے کا اختیار ہی نہیں،درخواست قابل سماعت ہی نہیں، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ درخواست ابھی پینڈنگ رکھ رہے ہیں، جب سنی جائے گی تب دیکھیں گے،بابر اعوان نے کہا کہ جب وقت آئے گا بتائیں گے کہ کیسے قابل سماعت ہے،

    آئی جی اسلام آباد نے شہباز گل تشدد کیس کی ابتدائی رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروا دی پولیس کی جانب سے شہباز گل پر تشدد کے الزمات بے بنیاد قرار دے دی گئی شہباز گل پر جسمانی یا ذہنی تشدد کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے، ملزم شہباز گل نے تفتیش میں خلل ڈالنے کے لیے ڈرامہ کیا،

    شہبازگل کے ڈرائیور کے بھائی کی عبوری ضمانت منظور

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

  • ن لیگی اراکین اسمبلی کے گھروں، دفتروں پر پولیس کے چھاپے

    ن لیگی اراکین اسمبلی کے گھروں، دفتروں پر پولیس کے چھاپے

    ن لیگی اراکین اسمبلی کے گھروں، دفتروں پر پولیس کے چھاپے

    ن لیگی رہنما سیف الملوک کھوکھر کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارا ہے

    پولیس نے کھوکھر پیلس جوہرٹاون میں چھاپہ مارا، ن لیگی رہنماسیف الملوک کھوکھر گھر پر موجود نہیں تھے، سیف الملوک کھوکھر کا کہنا تھا کہ حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پراترآئی ہے،

    پولیس نے لیگی ایم پی اے مرزاجاوید کے دفتر رائیونڈ میں بھی چھاپہ مارا،ایم پی اے مرزاجاوید بھی دفتر میں موجود نہیں تھے

    وارنٹ گرفتاری اور چھاپے؛حمزہ شہباز کا ردعمل آ گیا
    مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری اور چھاپے؛ سابق وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے اظہار مذمت کی ہے، حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماؤں اور اراکین اسمبلی کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنا قابل مذمت ہے۔ سینئر رہنماؤں کے گھروں پر پولیس کے چھاپے آمرانہ سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ فسطائی حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے مسلم لیگ ن کے حوصلے نہیں توڑ سکتی۔رانا مشہود جیسے سینئر پارلیمنٹیرین کے گھر پولیس کا چھاپہ چادر اور چار دیواری کی پامالی ہے۔پنجاب حکومت پولیس کو ذاتی سیاسی انتقام کے لئے استعمال کر رہی ہے عمران نیازی کی ایما پر پنجاب حکومت مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت کو ہراساں کر رہی ہے۔ پونے چار سال ظلم اور زیادتی کا سامنا کرنے والے کارکنان اور رہنماؤں کی ہمت کی داد دیتا ہوں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر، ن لیگی رہنما عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سیاسی انتقام کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،پورے خاندان کا نام بھی ڈال دو، جھکنے والے نہیں ،ہمارے خلاف مقدمہ مضحکہ خیز ہے،وارنٹ گرفتاری میں میرے چھوٹے بھائی کا نام بھی شامل کیا گیا ہے،

    لاہور پولیس نے مسلم لیگ ن کی رہنماؤں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا پولیس نے عدالت سے عطا تارڑ ، رانا مشہود، اویس لغاری ، سیف الملوک کھوکھر سمیت دیگر کی گرفتاری کی اجازت مانگ لی پولیس نے ن لیگ کے رہنماوں کے وارنٹ گرفتاری کے لیے عدالت میں درخواست دائر کر دی .پولیس نے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ملزمان دانستہ طور پر پیش نہیں ہو رہے ۔ ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش مکمل کرنی ہے مسلم لیگ ن کے 12 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے ہیں

    واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس میں پولیس نے ن لیگی رہنماؤں کے خلاف مقدمے درج کر رکھے ہیں، عطا تارڑ کے گھر پولیس کی جانب سے چھاپہ مارا گیا تھا، رانا مشہود کے گھر بھی چھاپہ مارا گیا تھا مگر وہ اسلام آباد تھے، اب پولیس نے عدالت سے گرفتاری کی اجازت طلب کی ہے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

  • لیہ،لڑکی سے زیادتی،اینیمل سیکس ویڈیو،اصل مجرم کون تھا؟ ہوا گرفتار

    لیہ،لڑکی سے زیادتی،اینیمل سیکس ویڈیو،اصل مجرم کون تھا؟ ہوا گرفتار

    لیہ،لڑکی سے زیادتی،اینیمل سیکس ویڈیو،اصل مجرم کون تھا؟ ہوا گرفتار

    ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب ڈاکٹر احسان صادق کا لیہ پورنو گرافی کیس میں مرکزی ملزم کی گرفتاری پر جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کو خراج تحسین انہوں نے کہا کہ ایس پی رب نواز تلہ اور ٹیم کی دن رات کی کوششوں اور جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے لوکیٹر کی مدد سے مرکزی ملزم شاہزیب عرف رانا وسیم جو چوک اعظم کا رہائشی ہے کو گرفتار کیا

    ڈاکٹر احسان صادق نے کہا کہ جے آئی ٹی داد اور انعام کی مستحق ہےکیس کے حقائق سے مکمل آگاہی پولیس کی بڑی کامیابی ہے ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ وقوعہ میں ملوث تمام ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا تمام لیگل معاملات مکمل کر کے ملزمان کو سخت سزا دلوائی جائے گی۔

    مسماۃ کرن بی بی جسکا اصل نام صائمہ فرحان ہے نے 11 اگست کو لیہ پولیس کو درخواست دی کہ اسکے ساتھ کتے کے زریعے پورنوگرافی کروائی اوراس زیادتی کی ویڈیو بھی بنائی گئی جس پر ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب ڈاکٹر احسان صادق نے واقع کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹی تشکیل دینے کے احکامات جاری کیے آر پی او ڈی جی خان نے ایس پی رینج انوسٹیگیشن برانچ رب نواز تلہ کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی، جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے سخت محنت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے وقوعہ کے حقائق سے متعلق آگاہی حاصل کی اور ملزمان تجمل حسین ،ابرار عرف بابر، محمد سلیم اور اخلاق احمد کو گرفتار کر کے تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جس میں پتہ چلا کہ ظلم کا شکار خاتون پہلے بھی اور نام سے میانوالی اور تھانہ چوک اعظم لیہ میں مقدمہ درج کروا چکی ہے اور اس نے شہباز عرف رانا وسیم سے شادی کی ہوئی ہے۔

    پورنوگرافی میں استعمال ہونے والے کتے کو کرن کا خاوند شہباز خود چک نمبر 298/TDA سے اخلاق احمد سے لے کر اور واپس دے کر آیا اور شاہزیب نے پورنوگرافی کی ویڈیو بھی خود بنائی پولیس نے پورنوگرافی کیلئے استعمال کیے جانے والے کتے کو برآمد کر کے کرن بی بی کو بھی گرفتار کرنے کے بعد حوالات جوڈیشل کروا دیا اور ملزم شاہزیب عرف رانا وسیم جو11 مقدمات میں ریکارڈ یافتہ تھا کو پولیس نے مورخہ 18 اگست 2022 گرفتار کر لیا۔چونکہ مدعی مقدمہ صائمہ فرحان خود ملزمہ ہیں لہذا سب انسپکٹر محمد اکرم مدعی مقدمہ ہیں۔ ویڈیو کسی ویب سائیٹ پر اپلوڈ ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

    اینیمل سیکس ویڈیو صرف سنسنی پھیلانے کیلیے بنائی گئی تاکہ پولیس فوری مقدمہ درج کرے اور ملزمان کو بلیک میل کر کے ان سے 5ملین روپے وصول کر کے ملزم شاہزیب کی پہلی بیوی نور بصیرت کی رہائی کے لیے اقدامات کرنے تھے جو پہلے ہی جیل میں ہے۔

    جوائنٹ انوسٹی ٹیم کی بہترین کارکردگی پر ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر احسان صادق نے پوری ٹیم کو تعریفی سرٹیفکیٹ اور نقد انعام دینے کا اعلان کیا ہے انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کیس میں حقائق سے مکمل آگاہی حاصل کر کے ملزمان کی گرفتاری JIT کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہے اور ایس پی رب نواز تلہ نے انوسٹیگیشن ٹیم کی سربراہی کرتے ہوئے خود کو پروفیشنل پولیس آفیسر ہونا ثابت کیا۔

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار