Baaghi TV

Tag: عدالت

  • راجن پور، ایک اور خاتون کے ساتھ گاڑی میں ہی کیا گیا گھناؤنا کام

    راجن پور، ایک اور خاتون کے ساتھ گاڑی میں ہی کیا گیا گھناؤنا کام

    راجن پور، ایک اور خاتون کے ساتھ گاڑی میں ہی کیا گیا گھناؤنا کام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق راجن پور میں خاتون کو گاڑی میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے

    زیادتی کا نشانہ فیصل موورز کے ڈرائیور نے بنایا ہے، چیچہ وطنی سے کوٹ مٹھن آنے والی خاتون سے راجن پور میں مبینہ طور پر زیادتی کی گئی، زیادتی کے بعد مُبینہ ملزم گاڑی چھوڑ کر فرار ہو گیا اطلاع پرتھانہ سٹی پولیس نے کارروائی کی مذکورہ گاڑی سمیت 4 مزید گاڑیوں کو تھانہ بند کردیا گیا، ڈی پی او احمد محی الدین کانے واقعہ کا نوٹس ملزم کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دے دیا،

    تھانہ سٹی پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے ٹیم کو متحرک کردیا ، ترجمان پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون صائمہ بی بی کا تعلق چیچہ وطنی سے ہے جو کوٹ مٹھن اپنے بیٹے کو چھوڑنے آئی تھی۔ خاتون کے مطابق ہائی ایس کے ڈرائیور نے گورچانی ٹرمینل پر زیادتی کا نشانہ بنایا ،میرا موبائل اٹھا کر نیچے پھینکا گاڑی کے اندر میرے ساتھ زیادتی کی گئی، ڈرائیور کا نام نہیں پتہ لیکن نمبر میرے پاس ہے،نمبر لیا تھا میں نے وہ اپنے خاوند کو دینا تھا تا کہ وہ مجھے آگے سے آ کر لے جائیں،

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے ریمانڈ میں توسیع

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ریاست کو مدعی بننا چاہئے،صارفین

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،جوڑے کے وارنٹ گرفتارری جاری

    عثمان مرزا کیس،لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو عدالت میں چلا دی گئی

    واقعہ کی اطلاع موصول ہوتے ہی مقامی پولیس کی جانب سے موقع پر فوری ریسپانڈ دیا گیا، سٹی راجن پور پولیس کی جانب سے ملزم کے خلاف مقدمہ درج مزید قانونی کاروائی کا آغاز کردیا گیا پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کے لیئے چھاپے مارے جا رہے ہیں

  • سیکورٹی فراہم کی جائے،بینک اکاؤنٹس بحال کیا جائے، دعا زہرہ کا شوہر عدالت پہنچ گیا

    سیکورٹی فراہم کی جائے،بینک اکاؤنٹس بحال کیا جائے، دعا زہرہ کا شوہر عدالت پہنچ گیا

    سیکورٹی فراہم کی جائے،بینک اکاؤنٹس بحال کیا جائے، دعا زہرہ کا شوہر عدالت پہنچ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی سے بھاگ کر شادی کرنے والی دعا زہرہ کے شوہر ظہیر نے بینک اکاؤںٹس اور شناختی کارڈ کی بحالی کے لئے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے

    دعا زہرہ کے شوہر ظہیر اور شبیر کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست پر فوری سماعت کی بھی استدعا کی گئی ہے، سندھ ہائیکورٹ نے ظہیر کی استدعا منظور کر لی ہے ، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کچھ دیر میں درخواست پر سماعت کرے گا

    ظہیر اور شبیر نے سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا کہ وہ کراچی میں دعا زہرا کیس کے ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں، دونوں کو پیشی کے دوران سکیورٹی خدشات لاحق ہیں محکمہ داخلہ سندھ،آئی جی اور دیگر کو دونوں درخواست گزاروں کو سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا جائے بینک اکاؤنٹس اور شناختی کارڈ بحال کرنے کا بھی حکم دیا جائے

    دعا زہرا کی عدم بازیابی پر سندھ ہائیکورٹ نے ملزمان کے شناختی کارڈز اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد نادرا اور اسٹیٹ بینک نے عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے ان کے شناختی کارڈز اور اکاؤنٹس منجمد کر دیئے تھے

    والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان

    دعا کیجیے گا ہماری دعا ظالموں کے چنگل سے آزاد ہو،دعا زہرہ کے والدین کی اپیل

    دعا زہرہ کیس،عمر کے تعین کیلئے ایک بار پھر میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم

     دعا زہرہ کو عدالت نے دارالامان بھجوانے کا حکم 

    واضح رہے کہ دعا زہرہ نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی تھی، دعا زہرہ کے شوہر ظہیر احمد کا کہنا ہے کہ کہ دعا اور میرا رابطہ پب جی گیم کے ذریعے ہوا اور پچھلے تین سال سے ہمارا رابطہ تھا دعا زہرہ کراچی سے خود آئی ہے دعا نے میرے گھر کے باہر آکر مجھے میسج کیا وہ رینٹ کی گاڑی پر آئی تھی میرے گھر والے شادی پر آمادہ تھے میرے گھر والے بھی چاہتے تھے کہ دعاکے گھر والے رضامند ہوں لیکن دعا کے گھر والوں نے شادی کیلئے مثبت جواب نہیں دیا اسی وجہ سے یہ خود اپنا گھر چھوڑ کر آ گئی

  • شیخ رشید کو ہراساں کرنے سے روک دیا گیا

    شیخ رشید کو ہراساں کرنے سے روک دیا گیا

    سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی اینٹی کرپشن کی انکوائری چیلنج کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی

    شیخ رشید خود عدالت میں پیش ہوئے، دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ کا یہ کیس ہے کہ ٹرانزیکشن ہوئی نہیں اور آپ کو نوٹس کیا ہے،شیخ رشید نے عدالت میں جواب دیا کہ جی بالکل ایسا ہی ہے، عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ بتائیں یہ زمین فروخت شدہ کیسے ہوئی،عدالت نے شیخ رشید سے استفسارکیا کہ کیا آپ یہ تصدیق کرتے ہیں کہ یہ فروخت شدہ نہیں ہے،جس پر شیخ رشید نے عدالت میں جواب دیا کہ بالکل ایسا ہی ہے ، ابھی تک کوئی ٹرانسفر نہیں ہوئی، عدالت نے اینٹی کرپشن حکام کو مکمل ریکارڈ سمیت 27 جولائی کو پیش ہونے کا حکم دے دیا عدالت نے اینٹی کرپشن حکام کو شیخ رشید کو ہراساں کرنے سے روک دیا

    عدالت پیشی کے موقع پر شیخ رشید احمد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں 50 سال سے سیاست میں ہوں ،لوگوں کی توہین کرنے کیلئے اپنے دوست کو19سے 20 گریڈ میں ترقی دی،عمران خان پر آرٹیکل 6 لگانے کی جرات کسی کا باپ بھی نہیں کر سکتا،اسحاق ڈار باہر سے ابھی تک کیوں نہیں آئے،کابینہ میں شامل 60 فیصد لوگ ضمانتوں پر ہیں،اسحاق ڈار ابھی تک ملک واپس کیوں نہیں آیا،انہوں نے ووٹ کو نہیں لوٹے کو عزت دی ہے، دھاندلی ہوئی تو اس کا سب سے زیادہ نقصان اسٹیبلشمنٹ کو ہو گا، عمران خان نے کال دی تو اس کا نتیجہ کسی کیلئے بھی اچھا نہیں ہو گا،میں نے لانگ مارچ کا جو وقت دیا تھا اس پر وہاں پہنچا تھا، میری سیکیورٹی انہوں نے واپس لے لی ہے،مجھے گرفتار کرنا ہے تو پولیس والے یونیفارم میں آئیں،

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

  • رضامندی سے قائم جنسی تعلقات کو بعد میں”زیادتی” نہیں کہا جا سکتا، بھارتی عدالت کا فیصلہ

    رضامندی سے قائم جنسی تعلقات کو بعد میں”زیادتی” نہیں کہا جا سکتا، بھارتی عدالت کا فیصلہ

    رضامندی سے قائم جنسی تعلقات کو بعد میں”زیادتی” نہیں کہا جا سکتا، بھارتی عدالت کا فیصلہ

    رضا مندی سے جنسی تعلقات قائم کرنے کو زیادتی نہیں کہا جا سکتا، بھارتی عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    بھارت کی کیرالہ ہائیکورٹ نے ایک کیس کا فیصلہ سنایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ باہمی رضا مندی سے قائم کئے گئے جنسی تعلقات کو کبھی بھی زبردستی زیادتی نہیں کہا جا سکتا، اگر لڑکا بعد میں شادی سے انکار بھی کر دے تو پھر بھی وہ زیادتی نہیں ہو گی کیونکہ جنسی تعلقات باہمی رضا مندی سے قائم کئے گئے تھے، لڑکے پر زیادتی کا مقدمہ درج نہیں ہو گا، بھارتی میڈیا کے مطابق ایک وکیل کو گرفتار کیا گیا تھا ،اب عدالت نے اسکو ضمانت پر رہا کر دیا ہے، وکیل پر لڑکی سے زیادتی کا مقدمہ درج تھا، عدالت نے وکیل کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ باہمی رضامندی سے قائم تعلقات کو کبھی بھی زیادتی نہیں کہا جائے گا اور نہ ہی گرفتاری یا مقدمہ ہو گا

    ملزم وکیل پر اسکی ساتھی خاتون وکیل نے الزام عائد کیا تھا کہ وکیل نے چار برس تک شادی کا جھانسہ دے کر جنسی تعلقات قائم کئے اور اب شادی سے انکاری ہے، خاتون نے وکیل پر مقدمہ درج کروا دیا تھا،پولیس نے مقدمہ درج ہونے کے بعد خاتون کو گرفتار بھی کر لیا تھا تا ہم عدالت نے اب وکیل کو فیصلہ سناتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا ہے، فیصلہ جسٹس بیجو کورین تھامس نے سنایا ہے

    کیرالہ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایک مرد اور خاتون کے درمیان جنسی تعلقات رضامندی سے قائم ہوں گے تو وہ زیادتی نہیں ہو گی، اگر مرد یا عورت میں سے اگر کوئی ایک راضی نہیں اور دوسرا فریق زبردستی کرتا ہے تو اسے جنسی زیادتی تصور کیا جائے گا اور اسکا مقدمہ درج ہو گا لیکن باہمی رضا مندی کی وجہ سے قائم جنسی تعلقات پر مقدمہ نہیں ہو گا،رضامندی سے بنائے گئے تعلقات کے بعد شادی نہیں کی جاتی ہے تو بھی یہ عصمت دری کے درجہ میں نہیں آئے گا ۔ جسمانی رشتہ بنانے کے بعد شادی سے انکار کرنا یا رشتہ کو شادی میں بدلنے میں ناکام رہنے کو زنا نہیں تصور کیا جا سکتا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن میں سوشل میڈیا پر لڑکیوں کا "ریپ” کرنے کی منصوبہ بندی

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    کرونا لاک ڈاؤن کا نتیجہ، کس ملک میں ہو گی دسمبر سے مارچ تک دو کروڑ سے زائد بچوں کی پیدائش؟

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

  • ضمنی انتخابات 2018 کے ووٹر لسٹوں کے مطابق ہوں گے، الیکشن کمیشن کا عدالت میں بیان

    ضمنی انتخابات 2018 کے ووٹر لسٹوں کے مطابق ہوں گے، الیکشن کمیشن کا عدالت میں بیان

    پنجاب میں ضمنی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹوں میں تبدیلی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    صوبائی الیکشن کمیشن نے عدالت میں پیش ہو کر ووٹر لسٹوں سے متعلق یقین دہانی کرا دی، صوبائی الیکشن کمیشن نے کہا کہ ضمنی انتخابات 2018 کے ووٹر لسٹوں کے مطابق ہی ہو رہے ہیں, عدالت نے سماعت 14 جولائی تک ملتوی کر دی

    شہری منیر احمد نے اظہر صدیق کی وساطت سے درخواست دائر کی تھی درخواست میں چیف الیکشن کمشنر ، صوبائی الیکشن کمشنر کو فریق بنایا گیا تھا، دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹوں میں تبدیلی کر دی ہے,ووٹر لسٹوں میں تبدیلی خلاف قانون ہے,کئی زندہ لوگوں کے ووٹوں کو مردہ قرار دیکر ووٹ ختم کر دیا گیا ہے,الیکشن کمیشن کے اس اقدام سے ضمنی انتخابات میں دھاندلی ہو سکتی ہے, صاف شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی زمہ داری ہے,لاہور ہائیکورٹ الیکشن کمیشن کو تمام ووٹرز کے ووٹ اصل جگہ پر بحال کرنے کا حکم دے

    قبل ازیں زندہ ووٹرز کو مردہ ظاہر کرنے اور بڑی تعداد میں ووٹ دوسرے حلقوں میں منتقلی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے الیکشن کمیشن پنجاب کو تحریری جواب داخل کرنے کو ہدایت کردی ،عدالت نے کیس کی سماعت 14جولائی تک ملتوی کردی عفالتی حکم پر الیکشن کمشنر پنجاب عدالت کے روبرو پیش ہوئے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے کیس کی سماعت کی ،درخواست گزار کےوکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے، دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے جان بوجھ کرزندہ ووٹرز کو مردہ ظاہرکیا بڑی تعداد میں ووٹوں کو دوسرے حلقوں میں ٹرانسفر کر کے دھاندلی کی جارہی ہے۔ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔

    توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    تمام مکاتب فکرکو اکٹھا کرکےعمرانی فتنے کا خاتمہ کرنا ہوگا،جاوید لطیف

    عدالت کا شہباز گل کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمات چیلنج 

    پنجاب اسمبلی کی 5 مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی اراکین کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے فیصلے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی،دو رکنی بنچ نے الیکشن کمیشن، تحریک انصاف کو 14 جولائی کیلئے نوٹس جاری کر دیئے جسٹس شاہد کریم اور جسٹس انوار حسین پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی

    مسلم لیگ نواز نے منصور عثمان اعوان ایڈووکیٹ کی وساطت سے سنگل بنچ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے ،وکیل ن لیگ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے پی ٹی آئی کے 5 اراکین کا مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن جاری کرنے کا فیصلہ دیا ہے، سنگل بنچ کا فیصلہ آئین کی غلط تشریح کی بنیاد پر کیا گیا ہے20 منتخب اور 5 مخصوص نشستوں پر نکالے گئے اراکین کے بعد اسمبلی کی نامکمل ہے،مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن اسمبلی میں موجود سیاسی جماعتوں کی تعداد کی بنیاد پر ہونا آئینی تقاضا ہے،سیاسی جماعتوں کی تعداد مکمل ہوئے بغیر مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا فیصلہ غیرآئینی ہے، دو رکنی بنچ لاہور ہائیکورٹ کا سنگل بنچ کا فیصلہ اور الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن کالعدم کرے،انٹرا کورٹ اپیل کے حتمی فیصلے تک سنگل بنچ کا فیصلہ اور الیکشن کا نوٹیفکیشن معطل کیا جائے،

  • سیاستدان ایک دوسرے کو کیا کہتے ہیں یہ دیکھنا عدالت کا کام نہیں ہے،عدالت

    سیاستدان ایک دوسرے کو کیا کہتے ہیں یہ دیکھنا عدالت کا کام نہیں ہے،عدالت

    ارکان پارلیمنٹ کے صادق اورامین ہونے کے آئین آرٹیکل کی وضاحت کیلئے درخواست مسترد کر دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی درخواست گزار ملک مشتاق حسین ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بتائیں کس رکن پارلیمنٹ کا کردار اچھا نہیں ہے؟ درخواست گزار نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کو کہا جاتا رہا کہ وہ سلیکٹڈ ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوام نمائندوں پر اعتماد کر کے ووٹ دیتے ہیں لاکھوں لوگوں کے ووٹ سے منتخب رکن پر کیچڑ مت اچھالیں،سابق وزیراعظم آج بھی پارلیمنٹ کے رکن ہیں، عدالت کو ارکان پارلیمنٹ کے کردار پر ذرا برابر بھی شک نہیں ہے،یہ عدالت سیاسی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتی، سیاستدان ایک دوسرے کو کیا کہتے ہیں یہ دیکھنا عدالت کا کام نہیں ہے،

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیف سٹی کے کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے آئی جی اسلام آباد،سیکریٹری داخلہ ،چیف کمشنر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا،ڈی جی سیف سٹی کو بھی توہین عدالت کے نوٹسز جاری کر دیئے گئے،عدالت نے حکم دیا کہ فریقین تین ہفتے میں توہین عدالت کا جواب دیں،دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود ملازمین کو کیو ں مستقل نہیں کیا گیا،

    حکومت نے یہ کام کیا تو وکلاء 2007 سے بھی بڑی تحریک چلائیں گے،وکلا کی دھمکی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی میدان میں‌ آگئے، ریفرنس کی خبروں‌ پر صدرمملکت کوخط لکھ کر اہم مطالبہ کر دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جائیداد کے اصل مالک ہیں یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے سب بتا دیا

    صدارتی ریفرنس کیس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ پیش ہو گئے،اہلیہ کے بیان بارے عدالت کو بتا دیا

    منافق نہیں، سچ کہتا ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،آپ نے کورٹ کی کارروائی میں مداخلت کی،جسٹس عمر عطا بندیال

  • لاپتہ افراد کیس،حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں،عدالت

    لاپتہ افراد کیس،حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں،عدالت

    لاپتہ افراد کیس،حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    رانا ثنا اللہ اور وزیر انسانی حقوق ریاض پیرزادہ کے انٹرویوز کا ٹرانسکرپٹ درخواست کے ساتھ منسلک کر دیا گیا،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وفاق کی جانب سے رپورٹ فائل کی ہے ابھی ساڑھے دس بجے کابینہ کی میٹنگ ہے،اٹارنی جنرل اسپتال میں ہیں، انکی استدعا ہے سماعت عید کے بعد تک ملتوی کردیں، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کورٹ کیا کرے کیا چیف ایگزیکٹو کو سمن کرے ؟دو فورمز نے ڈکلیئر کردیا یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے پھر کیا ہوا ؟ جے آئی ٹی جس میں آئی ایس آئی اور دیگر ادارے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے ،یہ بڑا واضح ہے کہ موجودہ یا سابقہ حکومت نے لاپتہ افراد کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا، سب سے بہترین اینٹلی جنس ایجنسی نے یہ کیس جبری گمشدگی کا ڈکلیئر کیا ہے ، ارشد کیانی نے کہا کہ سابقہ حکومت کا تو پتہ نہیں اس حکومت نے معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت صرف آئین کے مطابق جائے گی بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، یہ معاملہ تو قومی سلامتی سے متعلقہ ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ کے سینئر اور متعلقہ لوگوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا 2013 کا فیصلہ موجود ہے. یہ تو تسلیم شدہ حقیقت ہے، یا تو کوئی شخص ذمہ داری لے کر ان تمام لوگوں کو بازیاب کرائے، ریاست کا جبری گمشدگی کے کیسز پر جو ردعمل ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فرحت اللہ بابر صاحب نے منتخب حکومت اور پارلیمنٹ نے کیا کیا ہے، یہ تو آپ تسلیم کر رہے ہیں سویلین کنٹرول اور نگرانی نہیں ہے ، آئی ایس آئی صرف حکومت کا ایک ڈیپارٹمنٹ ہے، آئی ایس آئی وزیراعظم کے براہ راست کنٹرول میں ہے، عدالت پبلک آفس ہولڈرز کو اپنی ذمہ داری شفٹ کرنے کی اجازت نہیں دے گی،اگر وزیراعظم کسی بات سے منع کرے تو وہ اسے مانیں گے،جو آئین میں لکھا ہے یہ عدالت صرف اس کو تسلیم کریگی،آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ اور حکومت بے بس ہیں؟ جس پر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جی بالکل میں یہی کہنا چاہ رہا ہوں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر وزیراعظم سے کہیں کہ عدالت کے سامنے آ کر یہ بیان دیں،یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، آئین کی کسی کو پرواہ نہیں تو لوگ متاثر ہو رہے ہیں،

    وزارت داخلہ کا نمائندہ عدالت کے سامنے پیش، وقت دینے کی استدعا کر دی، عدالت نے استفسار کیا کہ کون کون سے قانون نافذ کرنے والے ادارے آپکے ماتحت ہیں؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد پولیس، ایف آئی اے اور رینجرز ہمارے ماتحت ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ انٹیلی جنس بیورو کس کے ماتحت ہیں؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ وہ وزیراعظم کے زیر کنٹرول ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ فرنٹیئر کانسٹبلری کس کے زیر کنٹرول ہے؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ فرنٹیئر کانسٹبلری وزارت داخلہ کے ماتحت ہے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو کیا آپ ان سے پوچھتے نہیں ہیں؟ نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ ہم پوچھتے ہیں ان سے رپورٹ طلب کی جاتی ہے، عدالت کے سامنے پیش کر سکتے ہیں،جس پر عدالت نے کہا کہ عدالت کے سامنے رسمی باتیں مت کریں،اگر حکومت ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تو 9 ستمبر کو وزیراعظم پیش ہوں، آخری موقع دے رہے ہیں اگر کچھ نہ ہوا تو چیف ایگزیکٹو کو طلب کرینگے،

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    2016 سے اسلام آباد سے اٹھائے گئے کیس تو واضح ہیں کیا بنا اسکا؟ 

  • سانحہ ماڈل ٹاؤن،انسداد دہشت گردی عدالت سےعوامی تحریک کے 12 کارکنان بری

    سانحہ ماڈل ٹاؤن،انسداد دہشت گردی عدالت سےعوامی تحریک کے 12 کارکنان بری

    لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد پولیس اہلکاروں پر تشدد کیس میں نامزد عوامی تحریک کے 12 کارکنان کو بری کر دیا۔ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد پولیس اہلکاروں پرتشدد کیس میں نامزد عوامی تحریک کے 12 کارکنان کو ناکافی ثبوتوں کی بناء پر بری کیا۔

    عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ دوران ٹرائل ملزمان کیخلاف پراسیکیوشن کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ پراسیکیوٹر کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کے چالیسویں میں شرکت کیلئے آنے والوں کا پولیس سے آمنا سامنا ہوا تھا، کارکنان نے زبردستی رکاوٹیں ہٹائیں اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا۔

    نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ دوران ٹرائل پولیس عوامی تحریک کے کارکنان کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہ کرسکی، تھانہ فیصل ٹاؤن پولیس نے اگست 2014 کے دن کارکنان پر جھوٹی ایف آئی آرز درج کی تھیں،اگست 2014 کے دن پولیس نے ظلم بھی کیا اور بے گناہ کارکنوں پر جھوٹے مقدمات بھی قائم کیے

    نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ کے مطابق مذکورہ کارکنان شہدائے ماڈل ٹاؤن کے منعقد کی جانے والی قرآن خوانی کی محفل میں شرکت کیلئے آئے تھے، کارکنان کے خلاف تھانہ فیصل ٹاؤن لاہور میں 663 نمبر ایف آئی آر کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے، بے گناہ کارکنوں کو بے گناہی ثابت کرنے کے لیے 8 سال لگے، پولیس نے عوامی تحریک کے مرکزی قائدین کے خلاف بھی جھوٹی ایف آئی آرز درج کر رکھی ہیں.

    نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ کے مطابق عدالت سے استدعا کی گئی کہ مقدمہ میں ملوث کیے گئے تمام بے گناہوں کو بری کیا جائے جس پر عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا.

    قبل ازیں عوامی تحریک لاہور کے زیر اہتمام ایوان اقبال لاہور سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی تھی، شہدائے ماڈل ٹاؤن کی 8ویں برسی کے موقع پرکال فار جسٹس ریلی نکالی .ریلی میں شہداکے ورثا،انکے یتیم بچوں اور عوامی تحریک کے ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی تھی،ریلی کی قیادت خرم نواز گنڈاپور،ڈاکٹر سلطان محمود چوہدری،رانا نفیس حسین قادری نے کی

    ریلی سےخطاب کرتے ہوئے خرم نواز گنڈاپور کا کہنا تھا کہ 8سال کے بعد بھی ماڈل ٹاؤن کے مظلوم انصاف سے محروم ہیں ،غیر جانبدار تفتیش کیلئے قائم ہونے والی جے آئی ٹی پر تین سال سے سٹے آرڈر چل رہا ہے،زیر التوا اپیلوں اورسٹے آرڈر کا فائدہ ملزمان کو پہنچ رہا ہے، ریلی میں شریک ہزاروں کارکنان کی چیف جسٹس سپریم کورٹ سے انصاف دینے کی استدعا

    عوامی تحریک لاہور کے زیر اہتمام نکلنے والی ریلی سے تنزیلہ امجد شہید کی بیٹی بسمہ امجد نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ سے مودبانہ سوال ہے میری والدہ کو پولیس نے کیوں قتل کیا؟ 8سال گزر جانے کے بعد بھی مجھے انصاف کیوں نہیں مل رہا؟،ریلی سے علامہ رانا ادریس،مظہر محمود علوی،عرفان یوسف،نورین علوی نے بھی خطاب کیا.

    علاوہ ازیں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کو آٹھ سال گزر جانے کے باوجود قاتلوں کو سزا نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج 17 جون کا دن صرف افسوسناک اور شرمناک سانحہ کی وجہ سے نہیں جانا جاتا بلکہ شریفوں کے ہاتھ 14 بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، شریفوں کو دوبارہ اقتدار مل جانا ساری قوم اور اداروں پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے وارثوں کو انصاف اور قاتلوں کو سزا نہ ملنا بہت بڑا المیہ ہے، جو لوگ شہید ہوئے ان کے لواحقین آٹھ سال گزر جانے کے باوجود آج بھی در بدر ہیں اور انصاف نہ ملنے کی دہائی دیتے ہیں، وہ جب ہماری عدالتوں کے سامنے سے گزرتے ہیں تو ہاتھ اٹھا کر انصاف کیلئے اللہ سے گڑگڑا کر دعا کرتے ہیں، اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں، دیر صرف زمینی انصاف دینے والے اداروں میں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 17 جون کو قانون و انصاف اور انسانی حقوق کا گلا گھونٹا گیا لیکن یہ ضرور ہوا کہ شریفوں کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ پولیس اور افسران کے ذریعے ماورائے عدالت قتل اور انسانیت کا قلع قمع کروانا شریفوں کا نہ صرف طرہ امتیاز ہے بلکہ آج بھی اقتدار ملنے کے بعد انہوں نے وہیں سے کام شروع کیا ہے۔

    قبل ازیں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی شہیدہ تنزیلہ امجد شہید کی بیٹی بسمہ امجد نے اپنی والدہ کی 8ویں برسی کے موقع پرچیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام کھلے خط میں کہا تھا کہ سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا کہ آپ اپنی والدہ کا تعلیم حاصل کرنے والا خواب پورا کریں انصاف آپ کو ہم دیں گے۔

    ان کے اس دست شفقت سے میری انصاف ملنے کی امید قائم ہو گئی تھی اور میں نے ساری توجہ تعلیم پر مرکوز کر لی تھی۔17جون 2014ء کے دن میں 9ویں جماعت کی طالبہ تھی اب میں نے گریجوایشن کر لی ہے مگر انصاف کا دور دور تک نشان نہیں ہے۔ میاں ثاقب نثار نے غیر جانبدار تفتیش کے لئے جو جے آئی ٹی بنوائی تھی ماتحت عدالت میں وہ فیصلہ بھی ریورس ہو گیا اور تین سال سے سٹے آرڈر چل رہا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کسی بھی ادارے کے سربراہ کی کمٹمنٹ پورے ادارے کی کمٹمنٹ ہوتی ہے۔ جس طرح کسی جج کا دیا ہوا فیصلہ تبدیل نہیں ہوتا اُسی طرح کمٹمنٹس بھی تبدیل نہیں ہوتیں۔

    بسمہ کا کہنا تھا کہ میری چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطاء بندیال سے اپیل ہے کہ میرے ساتھ انصاف کا کیا گیا وعدہ پورا کیا جائے اور مجھے بتایا جائے میری والدہ کو شہید کر کے مجھے ان کے سائے سے محروم کیوں کیا گیا؟انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کے اہم کیس پر لاہور ہائیکورٹ میں تین سال سے سٹے آرڈر چل رہا ہے اور انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ملزم ایک ایک کر کے بری ہورہے ہیں۔ کیااِسے انصاف کہتے ہیں؟۔مظلوموں کی درخواستیں سماعت کے لئے بھی مقرر نہیں ہوتیں اور ملزموں کی درخواستوں پر فیصلے ہو رہے ہیں؟۔ انصاف ہم مانگ رہے ہیں مگر ریلیف ملزموں کو مل رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ سے قوم کی ایک مظلوم بیٹی کی اپیل ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کے ساتھ ہونے والے قانونی کھلواڑ کا وہ نوٹس لیں اور مظلوموں کے زخموں پر انصاف کی صورت میں مرحم رکھیں۔اگر آج وہ کمزور کی آوازبنیں گے تو ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں اس غریب پروری کا اجرعظیم ملے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ جملہ ہر روز عدالتوں میں بولا جاتا ہے انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے۔ہم 8سال سے انصاف کے منتظر ہیں۔

  • بیٹی کی رہائی کا انتظار کرتے کرتے عافیہ صدیقی کی ماں چل بسیں

    بیٹی کی رہائی کا انتظار کرتے کرتے عافیہ صدیقی کی ماں چل بسیں

    بیٹی کی رہائی کا انتظار کرتے کرتے عافیہ صدیقی کی ماں چل بسیں
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی جیل میں قید بیٹی عافیہ صدیقی کی رہائی کا انتظار کرتے کرتے ماں کی موت ہو گئی

    عافیہ صدیقی کی والدہ عصمت صدیقی چل بسیں، انا للہ و انا الیہ راجعون ،عصمت صدیقی طویل عرصے مختلف بیماریوں میں مبتلا تھیں ، عصمت صدیقی کی عمر 80 برس تھی ،ترجمان عافیہ موومنٹ کے مطابق عصمت صدیقی نے ڈاکٹر عافیہ سمیت تین بچوں کو سوگوار چھوڑا ، نمازہ جنازہ اور تدفین کے وقت و مقام کے بارے میں جلد مطلع کیا جائے گا .

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اس وقت امریکہ کی جیل میں‌ ہیں اور انہیں‌ چھیاسی برس کی سزا سنائی گئی ہے. ان کی والدہ اور دیگر اہل خانہ کی طرف سے حکومت سے بار بار اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے کراچی میں احتجاج

    اچھا ہوتا وزیراعظم اپنی تقریر میں ڈاکٹر عافیہ کا ذکر کرتے۔ حافظ سعد رضوی

     یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

  • ضمنی الیکشن والے حلقوں کو لوڈشیڈنگ سے مستثنی قرار دینے کیخلاف درخواست دائر

    ضمنی الیکشن والے حلقوں کو لوڈشیڈنگ سے مستثنی قرار دینے کیخلاف درخواست دائر

    ضمنی الیکشن والے حلقوں کو لوڈشیڈنگ سے مستثنی قرار دینے کیخلاف درخواست دائر

    ضمنی الیکشن ہونے والے حلقوں کو لوڈشیڈنگ سے مستثنی قرار دینے کیخلاف ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کی گئی ہے

    جوڈیشل ایکٹوازم پینل کیجانب سے دائر درخواست میں حکومت پاکستان,وزرات پانی و بجلی سمیت دیگر کو فریق. بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں بدترین لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے,لوڈشیڈنگ کے باعث نظام زندگی مفلوج ہو چکا ہے, پنجاب حکومت کیجانب سے ضمنی انتخاب ہونے والے حلقوں میں لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر ہے, پنجاب کے 20 حلقوں میں لوڈشیڈنگ نہ کر کہ الیکشن پر اثر انداز ہو رہی ہے, 20 حلوں میں لوڈشیڈنگ نہ کر کہ پنجاب حکومت دیگر شہروں کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے, شہری علاقوں میں 10 جبکہ دیہی علاقوں 14 گھنٹوں تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے, عدالت حکومت کو لوڈشیڈنگ ہر جگہ برابری کی سطح پر کرنے کو حکم دے عدالت غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا حکم دے,

    قائمہ کمیٹی اجلاس،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، رانا شمیم کے نہ آنے پرجاوید لطیف کا بڑا اعلان

    مشکل حالات، قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، اپوزیشن کی حکومت کو پیشکش

    گو نیازی گو، شوکت ترین قوم کا غدار، قومی اسمبلی میں نعرے

    واضح رہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ لاہور کے جن حلقوں میں ضمنی الیکشن ہو رہے ہیں وہاں لوڈ شیڈنگ نہیں کی جا رہی، ایک صارف کا کہنا تھا کہ لاہور کے ضمنی الیکشن والے حلقوں میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی، ان حلقوں میں لوگ ملک کی موجودہ صورتحال سے واقف نہیں اور انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ ضمنی الیکشن کے بعد ان کے حلقوں کا حال بھی باقی پاکستان جیسا ہونے والا ہے۔