Baaghi TV

Tag: عدالت

  • دوران زیادتی خواتین کے ساتھ انتہائی غیر اخلاقی کام کرنیوالے ملزم کو ہوئی سزا

    دوران زیادتی خواتین کے ساتھ انتہائی غیر اخلاقی کام کرنیوالے ملزم کو ہوئی سزا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے بدنام زمانہ دہشت گرد کے بھائی کو نوجوان کے ساتھ بار بار بدفعلی اور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے کیس میں سزا سنا دی گئی ہے

    عدالت نے ملزم کو دس برس قید کی سزا سنائی ہے، آسٹریلیا کے دہشت گرد کے بھائی عبدالرحیم شروف کو عدالت نے سزا سنائی، ملزم کو 2007 اور 2008 میں زیادتی کے 24 مقدمات میں قصور وار پایا گیا، ملزم کمزوروں کے ساتھ بدفعلی و زیادتی کرتا تھا ،سڈنی ڈاووننگ سنٹر کورٹ نے ملزم کو جیل بھجوا دیا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم زیادتی کے وقت تشدد بھی کرتا تھا اور جنسی زیادتی کے وقت توہین آمیز حرکات کرنے پر بھی مجبور کرتا تھا

    دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے جنسی زیادتی کے دوران ایک خاتون کا سر نیچے کر دیا اور تب تک بدفعلی کی جب تک خاتون کو قے نہیں آئی، عدالت نے اس واقعہ پر دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کا یہ عمل ہتک آمیر، ذلت آمیر اور انتہائی خوفناک ہے

    ملزم دہشت گرد خالد شروف کا بھائی ہے جس نے 2014 میں بین الاقوامی سطح پر پذیرائی اس وقت حاصل کی جب اس نے ایک تصویر شیئر کی جس میں شامی فوجی کا کٹا ہوا سر تھا، بعد میں دہشت گرد خالد امریکی فضائی حملے کے دوران شام میں مارا گیا تھا

    عدالت نے دوران سماعت ملزم کے حوالہ سے ریمارکس دیئے کہ ،ملزم اخلاق سے عاری تھا اور ملزم کے ایسے فعل انتہائی قبیح عمل ہیں جنہیں معاف نہیں کیا جا سکتا ، عدالت کو بتایا کہ دوران زیادتی خاتون مسلسل چیختی رہی لیکن ملزم کو ذرا بھی ترس نہیں آیا،

    عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے دوران تحقیقات تسلی کیا کہ ملزم شروف نے رضا مندی کے بغیر جنسی زیادتی کی اور لڑکیوں کو گلا گھونٹنے کی دھمکی بھی دی،عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو دس برس قید کی سزا سنائی ہے جس کے بعد ملزم کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے، دوران سماعت ملزم نے تمام گناہ تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ سب من گھڑت باتیں ہیں تا ہم پولیس تحقیقات میں ملزم نے سب گناہ تسلیم کئے تھے

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    والد،والدہ،بہن، بھانجے،ساس کو قتل کرنیوالا سفاک ملزم گرفتار

    تبادلہ کروانا چاہتے ہو تو بیوی کو ایک رات کیلئے بھیج دو،افسر کا ملازم کو حکم

    معذور بچی کے ساتھ زبردستی گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    20 سالہ لڑکی کو اغوا کر کے کیا گیا مسلسل دو روز گھناؤنا کام

  • زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے نے 28 سال بعد ماں سے زیادتی کرنیوالوں کو پکڑوا دیا

    زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے نے 28 سال بعد ماں سے زیادتی کرنیوالوں کو پکڑوا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے نے 28 سال بعد ماں سے زیادتی کرنیوالوں کو پکڑوا دیا

    واقعہ بھارت میں پیش آیا، 28 برس بعد ایک خاتون کو انصاف ملا ہے ، خاتون کے ساتھ دو ملزمان نے زبردستی زیادتی کی تھی جس کے نیتجے میں ایک بچہ پیدا ہوا تھا، بچہ پیدا ہونے پر ملزمان نے خاتون کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ اگر کسی کو کچھ بتایا تو اسے اور بچے کو قتل کر دیں گے، خاتون ڈر کے مارے چپ رہی اور بچے کے ساتھ زندگی جینے لگی

    اترپردیش کے علاقے شاہجہاں پور کی رہائشی لڑکی جس کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی اس وقت اس کی عمر تقریبا 12 برس تھی اور وہ کمسن بچی تھی، دونوں ملزمان نے کئی بار اسے زیادتی کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے وہ حاملہ ہوئی اور اس نے بچے کو جنم دیا، 1994 میں زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے نے ماں کو انصاف دلوایا ہے اور زیادتی کرنے والے دو ملزمان کو گرفتار کروا دیا ہے

    پولیس کے مطابق اس کیس کے بارے میں ہم تذبذب کا شکار تھے کہ 1994 میں ہونے والی زیادتی کے کیس کو کیسے آگے لے کر جائیں تا ہم جب ڈی این اے کروایا گیا تو ملزمان تک ہم پہنچ گئے، ایک ملزم گرفتار کر لیا ہے جبکہ دوسرے کے قریب پہنچ چکے ہیں، پولیس نے رضی عرف گڈو کو گرفتار کیا جس کا ڈی این اے لڑکے کے ساتھ میچ ہوا تھا،ملزم کو حیدر آباد سے گرفتار کیا گیا،ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے،ملزم کا کہنا ہے کہ وہ حیران ہے کہ اب پولیس کو کیسے یاد آ گیا کہ ہم نے کوئی جرم کیا تھا

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    تین سال سے ہر جمعہ کو مفتی عزیز الرحمان میرے ساتھ…..متاثرہ طالب علم مزید کتنی ویڈیوز سامنے لے آیا؟

    میں نے کوئی جبر تو نہیں کیا، مفتی عزیزالرحمان اعتراف کے بعد فرار

    پولیس کے مطابق لڑکی سے زیادتی کرنے والے دونوں بھائی تھے، 4 مارچ 2021 کو واقعہ کا مقدمہ زیادتی کے بعد جنم لینے والے بچے نے درج کروایا جب اسکو اسکی ماں نے بتایا کہ وہ زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، لڑکے نے ماں کو انصاف دلوانے کی ٹھانی اور واقعہ کا مقدمہ درج کرویا، شاہجہاں پور کے ایس ایس پی، ایس آنند کا اس کیس کے حوالہ سے کہنا تھا کہ یہ جرم میرے نوٹس میں اس وقت آیا جب 4 مارچ 2021 کو عدالت کے حکم پر ایف آئی آر درج کی گئی۔ ہمارے پاس ملزمان کے مکمل نام نہیں تھے اور ان کے پتے کی بھی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ یہ کافی پرانا کیس تھا لیکن شکایت حقیقی لگ رہی تھی۔ ہم خاتون کو انصاف دلانے میں مدد کرنا چاہتے تھے کیونکہ اس نے بچپن میں بہت تکلیفیں برداشت کی تھیں۔ ہم ملزم بھائیوں کی شناخت کرنے میں کامیاب ہو گئے اور ایک ملزم گرفتار کر لیا گیا ہے

  • عمران خان کو پارٹی سربراہی سے مستعفی ہو جانا چاہئے،شیری رحمان کا مشورہ

    عمران خان کو پارٹی سربراہی سے مستعفی ہو جانا چاہئے،شیری رحمان کا مشورہ

    عمران خان کو پارٹی سربراہی سے مستعفی ہو جانا چاہئے،شیری رحمان کا مشورہ

    وفاقی وزیر و پیپلز پارٹی سینئر رہنماء ساجد حسین طوری نے پی ٹی آئی کے الیکشن کمیشن کیخلاف احتجاج پر ردعمل میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کا الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج قابل مذمت ہے،

    ساجد حسین طوری کا کہنا تھا کہ عمران خان ملکی اداروں کو متنازعہ بنا کر انتشار پھیلانا چاہتے ہیں، آٹھ سال تک عمران خان جھوٹ بولتے رہے اور تاخیری حربے استعمال کرتے رہے،عمران خان نے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا اور سماعت ان کیمرا چلانے کی درخواست کی، تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن سے 13 بینک اکائونٹس چھپائےغیر قانونی اور غیر ملکی ممنوعہ فنڈنگ لیکر مران خان مدینہ کی ریاست بنانے کا دعوی کرتے رہے،

    دوسری جانب پیپلز پارٹی کی رہنما، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد احتجاج کے بجائے عمران خان کو پارٹی سربراہی سے مستعفی ہو جانا چاہئے،یہ خیرات کے نام پر بھی غیر ملکی ممنوعہ فنڈنگ لیتے رہے، ایک وزیراعظم کو عدالت نے غلط بیانی کی بنیاد پر نااہل کیا تھا، یہاں معاملہ پیسے نا لینے کا نہیں بلکہ اربوں روپے کی ممنوعہ فنڈنگ لینے، 13 اکائونٹس چھپانے اور مس ڈیکلیریشن کا ہے،قانون اور فیصلے الگ الگ نہیں ہونے چاہئے، عمران خان اور پی ٹی آئی اب قوم سے مزید جھوٹ نہ بولیں

    قبل ازیں ترجمان پیپلزپارٹی فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ سنایا ہے ممنوعہ فارن فنڈنگ کے بل بوطے پر عمران خود کو قانون، منصف، اور جلاد سمجھ رہے تھے،عمران خان دولت کے گھمنڈ میں اداروں پر چڑھائی کر رہے تھے ، عمران خان چور تھے اس لیئے 8 سال تک الیکشن کمیشن سے بھاگتے رہے مالم جبہ، بی آر ٹی اور بلین ٹری منصوبہ میگا کرپشن کی بند کتاب ہے ،عمران خان نے سوائے کرپشن اور انتقام کے کوئی کام نہیں کیا،

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

  • فارن فنڈنگ کا جواب دینا ہوگا،کوئی مذہبی ٹچ اس کا جواب نہیں،عطا تارڑ

    فارن فنڈنگ کا جواب دینا ہوگا،کوئی مذہبی ٹچ اس کا جواب نہیں،عطا تارڑ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما، سابق صوبائی وزیر داخلہ عطا تارڑ نے کہا ہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی الیکشن شفاف نہیں ہوئے

    عطا تارڑ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی الیکشن غیر آئینی اورغیر قانونی ہوا،خفیہ رائے شماری کی قانون میں کچھ ایکسیپشنز میں دی گئی ہیں،بیلٹ پیپر پر سیریل نمبر درج کر کے کھلی دھاندلی کی گئی ایک وزیر اعلیٰ کو 10ووٹ دے کر وزیر اعلیٰ انسٹال کیا گیا،کہا گیا کہ اتنی سی منی لانڈرنگ کی ہے یہ چیف الیکشن کمشنر سے بھی میچ فکس کرنا چاہتے تھے،فارن فنڈنگ کا جواب دینا ہوگا،کوئی مذہبی ٹچ اس کا جواب نہیں،عمران خان بیرونی سازش کے بیانیے کے پیچھے نہیں چھپ سکتے ،بتانا ہو گا کہ بھارت اور اسرائیل سے فنڈنگ کیوں آئیں؟ ہمیں کہتے تھے رسیدیں نکالو، اب تو عمران خان کو دینی ہیں وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن کو 3 بار ملتوی کیا گیا،پرویزالہٰی نے غیرقانونی بھرتیاں کیں، اسپیکر پنجاب اسمبلی کا الیکشن دوبارہ کرایا جائے،پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کا جواب دے،

    ن لیگی رہنما، سابق صوبائی وزیر ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس میں اصول طے کیے گئے تھے اصول ہے کہ سیکریسی بریچ ہو تو جانچنے کے لیے پیمانہ ترتیب دیا جائے عمران خان غلط تشریح کے بینفشری ہیں،ایک غلط مشق سے کئی پریکٹسز غلط ہوتی جاتی ہیں،ہمارا خیال ہے سی ایم الیکشن کالعدم قرار دیا جائے گا، ممنوعہ فنڈز باہر سے آئے ہیں،

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    قبل ازیں ن لیگ کیجانب سے اسپیکر پنجاب اسمبلی الیکشن کیخلاف درخواست پرسماعت ہوئی،عدالت نے استفسار کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی پہلے سپیکر کا الیکشن چیلنج کیا گیا ؟ جس پر ن لیگی وکیل نے کہا کہ میرے علم کے مطابق ایسا پہلی بار ہوا ہے ،عدالت نے سپیکر کے الیکشن کے خلاف درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے لاہور ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کو معاونت کے لیے طلب کر لیا، وکیل منصور اعوان نے کہا کہ بنیادی طور پر جو سیکریسی ہے اسکو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا ،عدالت نے وکیل سے پوچھا کہ کیا آئین میں سیکریٹ بیلٹ پیر کا لکھا ہے؟ جس پر منصور اعوان نے کہا کہ نہیں یہ رولز طے کیے گئے تھے آئین میں ابھی اسکو حصہ نہیں بنایا گیا،سینیٹ الیکشن بھی سیکریٹ بیلٹ پیر کے ذریعے ہوتے ہیں،

    واضح رہے کہ ن لیگ نے سپیکر پنجاب اسمبلی کا الیکشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے،درخواست میں نومنتخب اسپیکر سبطین خان سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، لاہور ہائیکورٹ میں درخواست منصور عثمان اعوان کی وساطت سے دائر کی گئی ،دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کے الیکشن میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، اسپیکر پنجاب اسمبلی کے الیکشن خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوتی ہے اسپیکر الیکشن میں بیلٹ پیپرز پر سیریل نمبر درج کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے لاہور ہائیکورٹ اسپیکر پنجاب اسمبلی کے انتخاب کو کالعدم قرار دے عدالت اسپیکر پنجاب اسمبلی کا انتخاب دوبارہ کروانے کا حکم دے،

    نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کو فرار کروانے والے پروفیسر محمود ایاز کے نئے کارنامے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

  • غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق
    مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی ثانیہ عاشق نے تحریک انصاف کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھتی ہیں کہ تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے ممبران جنہوں نے “غیرت” کے نام پر استعفیٰ دیے تھے، آج تک اپنی تنخواہیں اور دیگر مراعات وصول کر رہے ہیں۔ اب سپیکر نے استعفے منظور کرنا شروع کیے ہیں تو پوری جماعت اس اقدام کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ بھاگ گئی ہے۔ اس سے آگے کیا ہو گا وہ سبھی جانتے ہیں۔

    قبل ازیں تحریک انصاف اپنے 11 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور ہونے کے بعد عدالت پہنچ گئی، تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں صرف 11 اراکین کے استعفے منظور کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے،

    عدالت پیشی کے موقع پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ 11 بندوں کے جو استعفی منظور کرنے کا تماشا لگایا ہے ہم اس کے خلاف آئے ہیں گیارہ اپریل کو اسمبلی کے فلور پر ہمارے 125 لوگوں نے کہا ہم نے استعفی دے دئیے 13 اپریل کو ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے استعفی منظور کر لیے الیکشن کمیشن کے پاس کیا اختیار تھا کہ وہ تین ماہ قبل سارے استعفی منظور نہ کرے اب الیکشن کمیشن نے گیارہ استعفی منظور کر لیے

    اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے متعلق یہ صرف تحریک انصاف کا موقف نہیں ہے بلکہ دو صوبائی اسمبلیاں اس بارے میں قرارداد پیش کر چکی ہیں

    اپوزیشن کا بڑا یوٹرن، پی ٹی آئی کی ایک حکومت کو خود ہی بچا لیا

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے فلور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا،شاہ محمود قریشی نے وزارتِ عظمیٰ کے الیکشن کے دوران تقریر میں کہا تھا ہم اس ایوان سے مستعفی ہوتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے الیکشن کروائے جائیں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 30 مئی کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا تھا۔

  • چار برس تک بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    چار برس تک بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    چار برس تک بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چار برس تک 14 سالہ بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنے والے سفاک باپ کو عدالت نے سزائے موت سنا دی ہے

    واقعہ خیبر پختونخواہ کا ہے ، خیبر پختونخواہ کے شہر کوہاٹ کی مقامی عدالت نے ملزم کو سزا سنائی، ملزم چار برس تک اپنی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، واقعہ کا مقدمہ دسمبر 2020 میں تھانہ کینٹ میں درج کروایا گیا تھا، متاثرہ لڑکی نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا تھا کہ اسکے والد چار برس سے اسکے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں اور مسلسل دھمکی بھی دیتے ہیں کہ اگر کسی کو بتایا تو مار دوں گا، دھمکیوں کی وجہ سے خاموش تھی ،والد فروخت کرنے کی دھمکی بھی دیتے اور کہتے کہ اگر کسی کو جنسی زیادتی بارے بتایا تو میں تمہیں فروخت کر دوں گا

    پولیس کے مطابق چار سال تک باپ کا ظلم سہنے والی بیٹی نے والدہ کو چار برس بعد بتایا تو پولیس میں مقدمہ درج کروایا گیا.پولیس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے جنوری 2021 میں ملزم کو گرفتارکر لیا تھا، جس کے بعد عدالتی کاروائی کا اغاز ہوا،اب عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو سزائے موت سنائی ہے،ملزم کا نام سلطان محمود ہے اور کوہاٹ کے علاقے جرونڈ کا مکین ہے، عدالت نے ملزم کو تین سال قید با مشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزا سنائی ہے

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    والد،والدہ،بہن، بھانجے،ساس کو قتل کرنیوالا سفاک ملزم گرفتار

    تبادلہ کروانا چاہتے ہو تو بیوی کو ایک رات کیلئے بھیج دو،افسر کا ملازم کو حکم

    معذور بچی کے ساتھ زبردستی گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    20 سالہ لڑکی کو اغوا کر کے کیا گیا مسلسل دو روز گھناؤنا کام

  • عمران خان جھوٹ بھی بولتے ہیں اور یوٹرن بھی لیتے ہیں، ناصر حسین شاہ

    عمران خان جھوٹ بھی بولتے ہیں اور یوٹرن بھی لیتے ہیں، ناصر حسین شاہ

    سندھ کے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت سندھ کے عوام کی خدمت کیلئے کوشاں ہے،

    ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ کوئی افغان شہری امن خرا ب کرنے میں ملوث پایا گیا تو ان کیخلاف کارروائی ہوگی،ان کے خلاف کارروائی بھی ہوگی اور اس کے بعد ڈی پورٹ کیا جائے گا،عمران خان جھوٹ بھی بولتے ہیں اور یوٹرن بھی لیتے ہیں، عمران خان صاحب پرویز الہٰی کو پنجاب کا ڈاکو کہتے تھے،اب مجبوری میں پرویز الہٰی کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا،پی ٹی آئی پانی کا بلبلہ ہے کچھ عرصہ میں دیکھنا کیا ہوتا ہے ،سندھ میں 6 ہزار227 نشستوں پر الیکشن ہو رہا تھا،انہوں نے کتنے لوگوں کو ان سیٹوں پر ٹکٹ دی،فواد چودھری سمیت سب سندھ آجائیں ،ان کے جلسوں میں ڈانس اور گانے بھی چلتے ہیں اور شرعی باتیں بھی کرتے ہیں

    بے جا لوگوں کو جیلوں میں نہیں بھجوائیں گے لیکن قانون اپنا راستہ لے گا،شہباز شریف

    ویلکم بیک پرانا پاکستان،ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،بلاول

    نواز شریف کی کمی محسوس ہو رہی ہے،ایاز صادق،صبر، ہر قسم کے جبر سے جیت گیا۔مریم

    خوشی ہےعمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی،علی محمد خان

    دوسری جانب سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے کئی رہنما پیپلزپارٹی پر تنقید کرتے تھے اور کررہے ہیں سندھ حکومت نے کسی ایک شخص کیخلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا پیپلز پارٹی کبھی انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتی،لیز پر دی جانے والی زمینوں پر فارم ہاوس بنانا قانون کی خلاف ورزی ہے،جن کے خلاف کارروائی کی گئی، ان کا ہمیشہ یہی رویہ ہے،ہم انہیں آفر دیتے ہیں سرکاری زمینیں واپس کر د یں، لوگوں کے پیسے دے دیں، سارے شواہد موجود ہیں تو عدالت فیصلہ کردے اگر یہ سب جائز ہے، زمینیں سرکار کو اور لوگوں کو پیسے واپس کر دیں، حکومت کیس واپس لے لی گی،عمران خان خود انکوائری کر لے، مجھے تو ویسے اس پر ٹکے کا یقین نہیں، آصف زرداری جلد پاکستان میں ہوں گے، آصف زرداری کے آتے ہی عمران خان کا زوال شروع ہوجائے گا، سندھ کو فتح کرنے کی باتیں نئے نئے سیاستدانوں کے بیان ہیں،موسٹ ویلکم عمران خان سندھ آئیں، ان کے پاس تو امیدوار بھی نہیں، سندھ میں شوق سے سیاست کرے، جلسے کرے،سندھ کے عوام کو پتہ ہے کس نےسندھ کی ترقی کے لیے کام کیا،

  • پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر حلف لیں، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر حلف لیں، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    سپریم کورٹ ،ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق کیس ،فیصلہ سنا دیا گیا

    فیصلہ لیٹ ہونے پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں، چودھری پرویز الہیٰ کی ڈپٹی سپیکر کے خلاف درخواست منظور کر لی گئی ہے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ درست نہیں اسکا کوئی قانونی جواز نہیں، پرویز الہیٰ پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں،

    فیصلے کی تفصیل بعد میں جاری کی جائے گی، حمزہ شہباز کے ووٹ 179 تھے، جبکہ پرویز الہیٰ کو 186 ووٹ ملے جسکی بنیاد پر پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ قرار پائے، حمزہ شہباز کی کابینہ کا نوٹفکیشن کالعدم قرار دے دیا گیا ہے،حمزہ شہباز نے جو حلف اٹھایا وہ بھی غیر آئینی ہے چیف سیکریٹری پرویز الہٰی کابطور وزیراعلیٰ نوٹیفکیشن جاری کریں،گورنر پنجاب پرویز الہیٰ سے حلف لیں ، آج رات ساڑھے گیارہ بجے تک حلف لیا جائے،اگر گورنر دستیاب نہ ہوں تو صدر مملکت حلف لیں، حکم پر عمل یقینی بنایا جائے، حمزہ شہباز نے جو بھی قانونی کام کئے وہ برقرار رہیں گے اس آرڈر کی کاپی گورنر، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکریٹری کو ارسال کریں،

    کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی تھی، بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے ،

    سپریم کورٹ میں مونس الہیٰ اور حسین الہیٰ سپریم کورٹ میں موجود ہیں. ق لیگ کے 9 ارکان بھی چوہدری مونس کے ہمراہ سپریم کورٹ میں موجود تھے، ڈاکٹر بابر اعوان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے شبلی فراز بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے سپریم کورٹ کی سیکورٹی سخت کی گئی تھی ، پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر موجود تھی ،خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی سپریم کورٹ کے باہر تعینات کیا گیا تھا، عدالت کے باہر قیدیوں کی گاڑی بھی موجود تھی ،سپریم کورٹ کے باہر مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی موجود تھے


    قبل ازیں کیس کی سماعت شروع ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکیل احمد اویس عدالت میں پیش ہوئے ،احمد اویس نے کہا کہ وزیر اعلی کے انتخاب کا معاملہ ہے دو اپریل سے چل رہا تھا،یہ معاملہ پہلے کیوں سب کو یاد نہ آیا،سوال یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے کس پیرا کی بنیاد پرہمارے ووٹ شمار نہیں کئے،اس میں کوئی شک نہیں 63 اے کے مطابق پارٹی ہیڈ کا اہم کردار ہوتا ہے تین ماہ سے وزیر اعلی پنجاب کا معاملہ زیر بحث تھا

    علی ظفر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں 63 اے کے مطابق پارٹی ہیڈ کا اہم کردار ہوتا ہے ،وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ ق لیگ کے تمام ارکان کو علم تھا کہ کس کو ووٹ دینا ہے،علی ظفر نے کہا کہ پارٹی ہیڈ پارٹی کی کئی کمیٹیوں کا سربراہ بھی ہوتا ہے،عائشہ گلالئی کیس میں عدالت پارٹی سربراہ کے کردار کا جائزہ لیا گیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جو بیس منحرف ارکان تھے ان میں سے کتنے ارکان نے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا؟ علی ظفر ابھی جو آپ دلائل دے رہے ہیں وہ کولیٹرل دلائل ہیں، وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ جو ممبران منحرف ہوئے انہوں نے دوبارہ دوسری پارٹی کی ٹیکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا ،علی ظفر نے کہا ہک عائشہ گلالئی کیس کا فیصلہ میرے موکل کے خلاف ہے لیکن آئین کے مطابق ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ یکم جولائی کے سپریم کورٹ کا حکم نامہ کیا اتفاق رائے پر مبنی تھا ؟ جس پر علی ظفر نے کہا کہ جی وہ اتفاق رائے پر مبنی فیصلہ تھا ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی اعتراض کیا جاسکتا ہے ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دونوں فریقین اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ انتخابات کے بعد جو نتیجہ آیا تھا اس پر رن آف الیکشن ہوگا، علی ظفر نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں وزیر اعلی کے انتخاب تک حمزہ شہباز کو وزیر اعلی رہنے کی ہدایت کی تھی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پل کے نیچے بہت زیادہ پانی گزر چکا ہے اب اس معاملے کو کیسے سن سکتے ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایڈووکیٹ جنرلز کے جواب کا انتظار کررہے ہیں،علی ظفر نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق نہیں دی، ڈپٹی اسپیکر الیکشن کمیشن کے فیصلے کا پابند بھی نہیں ہے،

    ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو رضا مندی دی گئی ضمنی الیکشن ہونے دیا جائے یہ یقین دہانی بھی دی گئی کہ ضمنی الیکشن کے نتائج پر رن آف الیکشن کرایا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی کو وزیراعلی کا الیکشن ضمنی انتخابات کے بعد ہونے کا حکم فریقین کے اتفاق رائے سے تھا،کیا ضمنی انتخابات کے بعد منحرف ارکان کی اپیل تک سماعت روکنے کا اعتراض ہو سکتا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ اصولی طور پر منحرف ارکان کی اپیلوں کو پہلے سننے کا اعتراض نہیں بنتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں عدالت نے نوٹسز جاری کرکے کہا تھا قانونی نکات پر دلائل دیئے جائیں، اس عدالت کے 8 ججز نے اپنے گزشتہ فیصلے میں کیا کہا تھا وہ دیکھ لیا ہے،آرٹیکل 63 اے پر تشریح ہوچکی ہے اس پر اب مزید ضرورت نہیں، یہاں پر کوئی اور ہے جو دلائل دے؟ اس صورتحال میں ہم ایک وقفہ کرتے ہیں ،

    وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ یہ لوگ نظر ثانی کی بنیاد پر تمام کارروائی روکنا چاہتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اظہر صدیق اپ کس کی نمائندگی کررہے ہیں؟ وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ 20میں سے 16 منحرف ارکان نے ن لیگ،2 نے آزاد الیکشن لڑا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل نہیں ہیں تو مجھے دلائل دینے کی اجازت دی جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اٹارنی جنرل بیمار ہیں اور بیرون ملک علاج کرا رہے ہیں ،اٹارنی جنرل یکم کو آئیں گے اس وقت تک انتظار نہیں کرسکتے، آپ دلائل دیں،ہم نے سماعت کے پہلے حصے میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے معاملے پر دلائل سنے،دوسرے حصے میں ہم نے پارٹی ہیڈ کے متعلق دلائل سنے، عامر رحمان نے کہا کہ آرٹیکل 63 والے کیس میں پارٹی ہیڈ اور پارلیمانی پارٹی کے کردار پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی، ایک فل کورٹ نے 2015میں پارٹی ہیڈ کے بارے میں فیصلہ دیا تھا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہم آپ کا نکتہ سمجھ گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ جس فیصلے کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ ایک رائے تھی یا فیصلہ تھا ؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کو اختیار دینا ضروری ہے،پارلیمانی پارٹی کو مضبوط کرنا پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 2015 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہدایت دے سکتا ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل آپ ایسے دلائل دیں جو ہمیں مطمئن کریں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی کی کاروائی کا جو مسودہ ہمیں دیا گیا ہے اس میں ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دی اور کہا کہ اس کو چیلنج کرسکتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ڈپٹی اسپیکر پڑھے لکھے ہیں ، آرٹیکل 63 کی جو زبان ہے وہ ایک عام ادمی بھی سمجھ سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین پر عمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے تمام وکلا نے عدالت کی معاونت کی ہے۔ گزشتہ دن دوسرے فریقین نے اپنے جواب جمع کرائے ،سماعت میں وقفہ کرتے ہیں ، پونے 6 بجے فیصلہ سنائیں گے،

    منگل وقفے سے قبل کی سماعت پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

    سپریم کورٹ میں بڑی سماعت ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق متوقع فیصلے کے پیش نظر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے،سپریم کورٹ کے اطراف آنیوالے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے، ڈی چوک، نادرا چوک سمیت دیگر شاہراہوں کو بند کر دیا گیا خار دار تاریں، بلاکس لگا کر بند کیا گیا ہے

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کے الیکشن سے متعلق گزشتہ روز کی سماعت کا حکمنامہ جاری کردیا۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ فل کورٹ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے، فل کورٹ تشکیل نہ دینے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،حمزہ شہباز ،ڈپٹی اسپیکر اور دیگر وکلاء کی طرف سے مزید وقت مانگا گیا ہے فریق دفاع کے وکلاء کی مزید وقت کی استدعا منظور کی جاتی ہے تمام وکلاء 26 جولائی کو مقدمے کی تیاری کرکے آئیں،

     حکومتی اتحاد کی فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی

  • لانگ مارچ تشدد کیس، پی ٹی آئی کے 18 رہنماؤں کی ضمانت میں توسیع

    لانگ مارچ تشدد کیس، پی ٹی آئی کے 18 رہنماؤں کی ضمانت میں توسیع

    اے ٹی سی لاہور،لانگ مارچ کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    اے ٹی سی لاہور نے ملزمان کو فوری شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا ،عدالت نے تفتیشی افسر کو ابھی عدالت کے باہر ملزمان کے بیانات قلمبند کرنے کی ہدایت کر دی،زبیر نیازی ،میاں اکرم عثمان سمیت دیگر کو ابھی شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا

    عدالت نے پی ٹی آئی کے 18 رہنماوں کی عبوری ضمانتوں میں 5 اگست تک توسیع کردی اے ٹی سی لاہور نے وکلا کو حتمی دلائل کے لیے آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا تمام ملزمان شامل تفتیش ہو چکے ہیں ؟ وکیل ملزمان نے کہا کہ تمام ملزمان شامل تفتیش ہو چکے ہیں ملزمان کی طرف سے برہان معظم ملک ایڈووکیٹ پیش ہوئے جمشید اقبال چیمہ ، حماد اظہر ، یاسمین راشد ، اعجاز چودھری ، محمود الرشید پیش ہوئے اسلم اقبال ، زبیر نیازی ،ندیم عباس بارا ،طارق اقبال ، عدیل ،زمان خان بھی پیش ہوئے افضال عظیم ، حسان نیازی ، مراد راس اور یاسر گیلانی نے عبوری ضمانتیں دائر کیں

    اے ٹی سی لا ہورنے پی ٹی آئی رہنما اعجاز چودھری کی عبوری ضمانت مسترد کر دی

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماؤں نے دہشتگردی کی دفعات کو چیلنج کر دیا لاہور کے 4 تھانوں میں درج مقدمات میں دہشتگردی کی دفعات کو چیلنج کیا گیا حماد اظہر اور یاسمین راشد کی طرف سے اے ٹی سی میں درخواستیں دائر کر دی گئیں پولیس اور پراسیکیوشن کو دہشتگردی دفعات خارج کرنے کیلئے درخواستیں جمع کرائی گئیں

    عدالت پیشی کے موقع پر میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ چند روز سے اداروں پر حملہ کرنا، ججز کو انڈر پریشر کرنا ان کا پرانا وطیرہ ہے، فیصلہ حق میں آئے تو مٹھائیاں بانٹتے ہیں، کہتے ہیں حق کی فتح ہوئی،انہیں سوچنا چاہیے کہ یہ نائنٹیز نہیں ،2022ہے من پسند فیصلوں کے لیے ججز کو کالز کرنا، عدالتوں پر حملہ کرنا ان کا معمول ہے،یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عوام کا خون چوسا ہے، پیسے بنائے اور باہر جمع کیے انہوں نے اربوں کے کیسز ختم کروائے، نئے سرے سے کرپشن کا بازار گرم کیا

    مسرت جمشید چیمہ کا کہنا تھا کہ سیاست کو منڈی بنا دیا گیا،عوام نے لوٹوں اور چوروں کو رد کر دیا ،ہم ملک بچانے نکلے ہیں، عوام کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا،یہ مقدمات اور کارروائیوں کے لیے تیار ہو جائیں ، ملک کا بیڑا غرق کر دیا چار گھنٹے بعد یہ فاشسٹ حکومت گھر چلی جائے گی انہوں نے عدالتوں کو ماننے سے انکار کر دیا

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، لاہور سے جب لانگ مارچ کے شرکا نکلے تھے تو انکا پولیس کے ساتھ تصادم ہوا تھا، ان دنوں پنجاب کی صوبائی حکومت نے دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی، لانگ مارچ کے شرکا اور پولیس میں کئی مقامات پر تصادم ہوا تھا، پولیس نے پی ٹی آئی کے رہنماوں و کارکنان کو گرفتار بھی کیا تھا

    لانگ مارچ کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ عمران خان سمیت 150افراد کیخلاف 3 مقدمات درج کر لئے گئے مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت باقی قیادت، کارکنان پر درج کئے گئے ہیں، مقدمات میں 39 افراد کی گرفتاری بھی ظاہر کی گئی ہے ،درج مقدمات میں اسد عمر، عمران اسماعیل ، راجہ خرام نواز ،علی امین گنڈا پور اور علی نواز اعوان کے نام بھی شامل ہیں،وزیراعلی گلگت بلتستان پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، فواد چودھری پر جہلم میں مقدمہ درج کیا گیا تھا

  • سپریم کورٹ کے دروازے کھل گئے سٹاف کو سپریم کورٹ پہنچنے کی ہدایت

    سپریم کورٹ کے دروازے کھل گئے سٹاف کو سپریم کورٹ پہنچنے کی ہدایت

    لاہور:سپریم کورٹ کے دروازے کھل گئے سٹاف کو سپریم کورٹ پہنچنے کی ہدایت کردی گئی ہے ، اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے خلاف درخواست دائر کرنے کیلئے سپریم کورٹ رجسٹری پہنچ گئے۔

    پی ٹی آئی اور ق لیگ کے پارلیمانی پارٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد ارکان اسمبلی لاہور میں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری پہنچ گئے۔
    چوہدری ‏پرویز الہیٰ ،‏ریاض فتیانہ،ثناء اللہ خان مستی خیل سمیت ق لیگ اور پی ٹی آئی کے تمام ایم پی ایز سپریم کورٹ رجسٹری پہنچ گئے

    ادھر اس حوالے سے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جارہے ہیں، اس بار بھی انصاف کی امید ہے۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ میں اپنی پارٹی کا صدر ہوں لیکن ڈپٹی اسپیکر نے کہا آپ خود کو ووٹ نہیں دے سکتے۔

    چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ سارے جہاں کو علم ہے کہ ہم نے 186 ووٹ لئے، ڈپٹی اسپیکر پر آرٹیکل6 اور توہین عدالت لگنی چاہیے۔

    واضح رہے کہ آج وزارت اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں تحریک انصاف اور ق لیگ کے مشترکا امیدوار پرویز الہیٰ 186 ووٹ لینے کے باوجود وزارت اعلیٰ کا عہدہ حاصل نہ کرسکے۔

    ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے چوہدری شجاعت حسین کے خط کو بنیاد بنا کر مسلم لیگ ق کے 10 ووٹ مسترد کردیے جس کے بعد حمزہ شہباز 179 ووٹ لے کر وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے خلاف درخواست دائر کریں گے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں یاسمین راشد کا کہنا تھاکہ 186 ارکان اسمبلی اس وقت سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر موجود ہیں لہٰذا عدالت سے درخواست کروں گی فوری عدالت لگائیں۔