Baaghi TV

Tag: عدالت

  • میری ٹیم کے کئے گئے سارے عظیم کام پر پانی پھیر دیا گیا،عمران خان

    میری ٹیم کے کئے گئے سارے عظیم کام پر پانی پھیر دیا گیا،عمران خان

    میری ٹیم کے کئے گئے سارے عظیم کام پر پانی پھیر دیا گیا،عمران خان

    تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کس طرح کا رویہ اپنا رہا ہےسب کے سامنے ہے

    شفقت محمود کا کہنا تھا کہ منحرف اراکین سے متعلق عوامی رد عمل کو سب نے دیکھا پنجاب اسمبلی کے منحرف اراکین تو ووٹ بھی کاسٹ کرچکے ہیں منحرف اراکین کے ووٹ کاسٹ کرنے کے باوجو د قانون ڈھونڈا جارہا ہے پارٹی قوانین کے خلاف اراکین لوگ مخالفین کو ووٹ ڈالتے ہیں سپریم کورٹ اخلاقیات کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے،الیکشن کمیشن کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے معاملے کا ہی علم نہیں الیکشن کمیشن کہتی ہے کہ سمجھ نہیں آئی کہ منحرف نے پارٹی چھوڑی ہے یا نہیں سیاسی رہنماوں کو آئین کے مطابق چلنا ہوتا ہے،اگر کوئی آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ نااہل قرار دیا جائے گا ،سندھ ہاوس میں جو منڈی لگی وہ سب نے دیکھا،کراچی سے بوریوں میں پیسے بھر کے لائے گئے اور تقسیم ہوئے،یہ جمہوریت نہیں بلکہ اس پر داغ لگایا گیا ہے،

    قبل ازیں سینیٹ میں قائدحزب اختلاف ڈاکٹرشہزاد وسیم کی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات ہوئی، ملاقات میں سیاسی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ایوان بالا کے آئندہ اجلاس کے حوالے سے ڈاکٹر شہزاد وسیم کو خصوصی ہدایات دی گئیں

    تنظیم اسلامی پاکستان کے وفد کی عمران خان سے ملاقات

    علاوہ ازیں تنظیمِ اسلامی پاکستان کے مرکزی ذمہ داران کے وفد کی بنی گالہ آمد ہوئی، وفد نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ،وفد نےیواین اسمبلی میں اسلامو فوبیا کے خلاف قرارداد کی منظوری پر عمران خان کی تعریف کی وفد نے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے طور پر منائے جانے کی بھی تحسین پیش کیا،عمران خان کا کہنا تھا کہ اللہ کی وحدانیت پر ایمان رکھنے والی قوم کو غلام بنانے کی منصوبہ بندی جاری ہے،بیرونی طاقتوں کی ایماپر قوم کو تاریخی و تہذیبی ورثے سے جدا کرنے کی کوششیں کی گئیں، قوم سیاسی، معاشی اور معاشرتی غلامی کی زنجیریں توڑنے کو تیار ہے،دینی و مذہبی شخصیات و جماعتوں کو اسلام آباد مارچ میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں،تنظیمِ اسلامی پاکستان کے وفد میں شجاع الدین شیخ، نائب امیر اعجاز لطیف اور اظہر بی خلجی شامل تھے

    دوسری جانب عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تبدیلئ سرکار کی امریکی سازش کے ذریعے PTI کی حکومت کوہٹایاگیا تو ہم 6% کی معاشی شرحِ نمو کے حصول کے قریب تھے۔ NRO-2 کو اپنی اولین ترجیح بنانے والے مجرموں کے اس ٹولے نے میری ٹیم کے کئے گئے سارے عظیم کام پر پانی پھیر دیا ہے۔

    تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی جنگ عوام کے لیے ہے، عمران خان کی کال کا وقت قریب آنے پر مخالفین کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، فواد چودھری کا کہنا تھا کہ آج امریکہ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے والا صرف عمران خان ہے پاکستان کے عوام نے عمران خان کے خلاف سازشوں کو ناکام بنایا،عمران خان کے خلاف سازشیں ملک کے اندر اور باہر سے کی گئیں،عوام نے ثابت کر دیا کہ اسے عمران خان پر اعتماد ہے،

    علاوہ ازیں سیالکوٹ جلسے میں انتظامیہ کے عدم تعاون پر عثمان ڈار نے چیف سیکریٹری پنجاب کو خط لکھ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ جلسے کے دوران انتظامیہ کے غیر ذمہ دارانہ روئیے پر کارروائی کی جائے ،ڈپٹی کمشنر نے زبانی طور پر جلسے کے انتظامات کا کہا،ڈپٹی کمشنر نے خود جلسہ گاہ کا دورہ کیا اور انتظامات کرنے کا کہا، ٹریفک روانی سمیت وی وی آئی پی موومنٹ کا پلان بھی فائنل کیا گیا،جلسے کے روز ڈپٹی کمشنر نے دفتر بلا کر کہا یہاں جلسہ نہیں کر سکتےڈپٹی کمشنر نے جلسے کی اجازت دے کر اچانک انکار کیا، صبح 3 بجے پولیس فورس بلا کر ماڈل ٹاؤن جیسا سانحہ کرنے کی کوشش کی گئی، کارکنان پر تشدد اور گرفتار بھی کیا گیا،ڈپٹی کمشنر کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے،

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    سابق وزیراعظم عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لئے تیار تھے

    عمران خان کی رہائشگاہ بنی گالہ کی سیکورٹی میں اضافہ

    سیاست ثانوی،سب مل کر معاشی مسائل کو حل کریں،شاہد خاقان عباسی

  • ن لیگی رہنما اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری جاری

    ن لیگی رہنما اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری جاری

    ن لیگی رہنما اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری جاری
    احتساب عدالت اسلام آباد میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس کی سماعت ہوئی

    نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی، شریک ملزمان کے وکلا عدالت کے روبرو پیش ہوئے، احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار کے دوبارہ دائمی وارنٹس گرفتاری جاری کر دئیے ،احتساب عدالت نے اسحق ڈار کی گرفتاری سے فیصلہ مشروط کر دیا عدالت نے حکم دیا کہ جب تک اسحاق ڈار کو گرفتار کرکے عدالت پیش نہیں کیا جاتا ریفرنس کی کارووائی آگے نہیں بڑھے گی،احتساب عدالت نے ریفرنس کی سماعت اسحق ڈار کی گرفتاری تک ملتوی کر دی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریفرنس پر سماعت کی ،شریک ملزمان نے نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت ریفرنس کو دوبارہ چیلنج کر رکھا تھا

    ڈبل شاہ کیس، نیب کی جانب سے متاثرین میں کتنے کروڑ کے چیک تقسیم ہوئے؟

    نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ،23 ماہ میں کتنے مقدمات دائر ہوئے؟ چیئرمین نیب نے بتا دیا

    خورشید شاہ نے اپنا گھر کس کے پلاٹ پر بنایا؟ نیب کا عدالت میں حیران کن انکشاف

    قبل ازیں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ن لیگ کی حکومت آئی تو حکومت پاکستان نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو پاسپورٹ جاری کردیا اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ ملنے کے بعد پاکستان واپسی کے حوالے سے فیصلہ کروں گا پاکستان حکام نے پاسپورٹ کے جاری ہونے سے متعلق آگاہ کردیا ،سیاسی انتقام کیلئے مجھ پر بےبنیاد مقدمات قائم کیے گئے تھے، حلفا کہتا ہوں کہ کبھی ٹیکس چھپایا اور نہ ریٹرن تاخیر سے فائل کی،

    سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاسپورٹ کیلئے لندن سفارتخانے میں اپنے دستاویزت جمع کروائی تھیں اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف کو پاسپورٹ جاری کیا گیا، نواز شریف کو جاری کئے گئے پاسپورٹ کی مدت 10سال ہے، نواز شریف کو ڈپلومیٹک پاسپورٹ جاری نہیں کیا گیا، نواز شریف کو عام پاسپورٹ جاری کیا گیا

  • عمران نیاز ی اور اس کے حواریوں نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا،حمزہ شہباز

    عمران نیاز ی اور اس کے حواریوں نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا،حمزہ شہباز

    عمران نیاز ی اور اس کے حواریوں نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا،حمزہ شہباز

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے جہانگیر ترین گروپ کے ارکان صوبائی اسمبلی کی ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا وزیراعلیٰ سے ملاقات کرنے والوں میں نعمان لنگڑیال،فیصل جبوانہ و دیگر شامل تھے زوار حسین وڑائچ، لالہ طاہر رندھاوا،اجمل چیمہ اور میاں خالد محمودکی بھی ملاقات ہوئی ہے ، اس موقع پر حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ سیاست نہیں بلکہ اللہ کی مخلوق کو راضی کرنا چاہتا ہوں،

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے پیپلزپارٹی وفد کی ملاقات ہوئی ہے وفد میں حسن مرتضیٰ، حیدر گیلانی اور عثمان احمد محمود شامل تھے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی، وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ ہر اقدام آئین اور قانون کے مطابق کیا،آئندہ بھی آئین اور قانون کے تحت چلیں گے،پنجاب میں اتحادیوں کے ساتھ بہترین ورکنگ ریلیشن شپ ہے،عوامی خدمت کے سفر میں سب کو ساتھ لیکر چلوں گا،مل کر خلق خدا کی خدمت کریں گے،عمران نیاز ی اور اس کے حواریوں نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا،یہ عناصر پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے کے ذمہ دار ہیں،

    ن لیگی رہنما خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی آئین کی تشریح پر رائے کا خیر مقدم کرتے ہیں،ہم عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں پی ٹی آئی کا یکم اپریل کو جو پارلیمانی اجلاس ہوا اس کا کوئی ریکارڈ نہیں، وزیراعظم اور وزاعلیٰ کے انتخاب میں فرق ہے، پنجاب میں عجیب صورت حال ہے،اس وقت کابینہ نہیں ،کینسر کی ادویات کی منظوری کابینہ سے ضروری ہے،ابھی تک صوبائی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا،

    ن لیگی رہنما رانا مشہود کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے اور رہیں گے۔ سپریم کورٹ کے کل کے فیصلے کے بعد پنجاب میں کچھ نہیں بدل رہا۔ حمزہ شہباز عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 63اے کی تشریح پر سپریم کورٹ کی رائے آچکی ہے،سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63اے کی تشریح پر سب کچھ واضح کردیا پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوتے ہیں اور ووٹ پارٹی کا ہی ہوتا ہے حمزہ شہباز مزید وزیراعلیٰ پنجاب نہیں رہے جس کا عملی مظاہرہ وہ کرچکے ہیں حمزہ شہبازنے گزشتہ روز پریس کانفرنس بلائی تھی جو نہیں ہوئی ن لیگ جی ٹی روڈ پارٹی ہے جس کی اکثریت نہیں

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ کے مطابق وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کو 172 ایم پی ایز کی حمایت حاصل ہے۔ جن میں مسلم لیگ ن کے 160، پیپلز پارٹی کے 07 ایم پی ایز، احمد علی اولکھ، بلال وڑائچ، قاسم لنگاہ، جگنو محسن، معاویہ اعظم طارق شامل ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف کے 25 ارکان ان کے علاوہ ہیں۔

    سپریم کورٹ کا فیصلہ ، پی ٹی آئی کو پنجاب میں ایک بار پھر بڑا دھچکا لگنے کا امکان

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ

    آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

  • آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    آرٹیکل 63 اے کی تشریح ،سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنا دیا

    سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ سنا دیا،سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آرٹیکل 63 اے اکیلا لاگو نہیں ہوسکتا ،فیصلہ 2-3 کی نسبت سے دیا گیا، فیصلے میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ دیا فیصلے میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ دیا ،فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان میں تحفظ فراہم کرتا ہے،آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان میں تحفظ فراہم کرتا ہے، آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعتوں کے حقوق ہیں، انحراف کرنا سیاست کیلئے کینسر ہے، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ منخرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہو گا ریفرنس میں انحراف پر نااہلی کا سوال بھی پوچھا گیا، اس حوالے سے پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنی چاہیے،ریفرنس کا چوتھا سوال بغیر جواب کے واپس کرتے ہیں ،

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی تاحیات نااہلی کی درخواستیں خارج کر دیں

    عدالت میں جسٹس مظہر عالم اور جسٹس جمال خان مندوخیل کا اختلافی نوٹ پڑھا گیا اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ 3ججز کی رائے سے ہم متفق نہیں ہیں،آرٹیکل 63 ایک مکمل شق ہے،آرٹیکل 63 اے کے تحت نااہلی کے بعد اپیل کا حق ہوتا ہے ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات پر رائے نہیں دے سکتے،

    چیف جسٹس کی سربراہی میں5 رکنی لارجر بینچ نے صدارتی ریفرنس پر سماعت کی تھئ 21 مارچ 2022 کو صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں داخل کیا گیا تھا اب تک ریفرنس پر لارجر بینچ نے 20 سماعتیں کیں وکلاء اور دیگر افراد کمرہ عدالت پہنچ گئے

    سپریم کورٹ اور اطراف میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے، عدالت کے کمرہ نمبر ایک کے باہر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی سپریم کورٹ پارکنگ کو جانیوالے ایک راستے کو سیل کردیا گیا اعلی پولیس افسران سمیت پولیس کی بھاری نقری تعینات کردی گئی ، 5رکنی بینچ کے سربراہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال تھے بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم خیل شامل تھے بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال مندوخیل بھی شامل تھے

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت مکمل ہوئی تھی، دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کو ڈسٹرب نہ کریں ،اگر آپ دو منٹ بات کرنا چاہے ہیں، توہم یہاں بیٹھے ہیں،بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ مجھے 10منٹ چاہیے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ،صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے ساڑھے 5 بجے سنائیں گے،

    قبل ازیں ن لیگی وکیل مخدوم علی خان کے معاون وکیل نے تحریری گزارشات جمع کرادیں مخدوم علی خان نے تحریری دلائل میں عدالت سے مہلت مانگ لی، ن لیگی وکیل کا کہنا تھا کہ حالات تبدیل ہو گئے حالات کی تبدیلی کے بعد مجھے موکل سے نئی ہدایات لینے کے لیے وقت دیا جائے، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ کیا آرٹیکل 63 اےایک مکمل کوڈ ہے؟ کیا آرٹیکل63 اے میں مزید کچھ شامل کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا پارٹی پالیسی سے انحراف کر کے ووٹ شمار ہو گا؟ا عدالت ایڈوائزی اختیار میں صدارتی ریفرنس کا جائزہ لے رہی ہے،صدارتی ریفرنس اور قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کروں گا،صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی دلچسپی کے معاملہ پر رائے مانگی جاسکتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 186 میں پوچھا سوال حکومت کی تشکیل سے متعلق نہیں ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت صدارتی ریفرنس کو ماضی کے پس منظر میں بھی دیکھیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت کو اٹارنی جنرل سے قانونی رائے لینے کی ضرورت نہیں، آرٹیکل 186 کے مطابق صدر مملکت قانونی سوال پر ریفرنس بھیج سکتے ہیں،کیا آپ صدر مملکت کے ریفرنس سے لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے حکومت کی طرف کوئی ہدایات نہیں ملی ہے،اپوزیشن اتحاد اب حکومت میں آچکا ہے، اپوزیشن کا حکومت میں آنے کے بعد بھی صدارتی ریفرنس میں موقف وہی ہو گا جو پہلے تھامیں بطور اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کروں گا، صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی دلچسپی کے معاملہ ہر رائے مانگی جاسکتی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 186 میں پوچھا سوال حکومت کی تشکیل سے متعلق نہیں ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ماضی میں ایسے واقعات پر صدر مملکت نے ریفرنس نہیں بھیجا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ ریفرنس کو جواب کے بغیر واپس کر دیا جائے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سابق اٹارنی جنرل نے ریفرنس کو قابل سماعت قرار دیا ہے،بطور اٹارنی جنرل آپ اپنا موقف دے سکتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس سابق وزیراعظم کی ہدایت پر فائل ہوا،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا یہ حکومت کاموقف ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرا موقف بطور اٹارنی جنرل ہے،سابق حکومت کا موقف پیش کرنے کے لیے انکے وکلا موجود ہیں صدر مملکت کو قانونی ماہرین سے رائے لیکر ریفرنس فائل کرنا چاہیے تھا، قانونی ماہرین کی رائے مختلف ہوتی تو صدر مملکت ریفرنس بھیج سکتے تھے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر کافی سماعتیں ہو چکی ہیں، آرٹیکل 17 سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعت کے حقوق کی بات کرتا ہے، آرٹیکل 63 اے سیاسی جماعت کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے،آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی پر 2 فریقین سامنے آئے ہیں، ایک وہ جو انحراف کرتے ہیں، دوسرا فریقین سیاسی جماعت ہوتی ہے،مارچ میں صدارتی ریفرنس آیا، تکنیکی معاملات پر زور نہ ڈالیں، صدارتی ریفرنس کے قابل سماعت ہونے سے معاملہ آگے نکل چکا ڈیڑھ ماہ سے صدارتی ریفرنس کو سن رہے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ٹیکنیکل نہیں آئینی معاملہ ہے،

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ

    آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

  • سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں پیش

    سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں پیش

    پنجاب ہنگامی آرائی کیس کا معاملہ سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں پیش ہو گئے

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن عمران کشور سمیت ایس پی انویسٹی گیشن سول لائنز بھی موجود تھے ،سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا،

    اس موقع پر سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ آپ سب گواہ ہیں کہ پہلے مجھے قلعہ گھر سنگھ بلایا گیا یہاں عدالت کے حکم ہر شامل تفتیش ہونے پہنچا مجھے بیس منٹ پہلے گیٹ ہر روکے رکھا گیا مجھے سوچی سمجھی سازش کے تحت پھنسانے کی کوشش کی گئی لاہور ہائیکورٹ نے 15 اپریل کو حکم دیا کہ ڈپٹی اسپیکر الیکشن کروائیں گے، آئی جی کو حکم دیا گیا کہ اسمبلی کے باہر لا اینڈ آرڈر کو دیکھیں جب گھر سے دفتر پہنچا تو تو دو سے اڑھائی سو بندہ اسمبلی میں جمع ہوا تھا، میں نے ڈپٹی اسپیکر کو لکھا کہ نیچے والے گیلری کو بند کر دیا جائے،لوگ جمپ کر کے اسمبلی میں داخل ہو گئےجو ایف آئی آر میں مجھ پر الزامات لگائے گئے ان میں کوئی صداقت نہیں، پولیس نے گزشتہ روزاسمبلی کے 10بندے اٹھائے ڈپٹی سیکریٹری ضمانت پر تھا اسے پھر بھی سرگودھا سے ایسے گرفتار کیا

    قبل ازیں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے اسمبلی افسران اور اہلکاروں کے گھروں پر پنجاب پولیس کے چھاپوں اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’بچہ حکمران‘ ایسے ہتھکنڈوں سے باز رہے اور اسمبلی افسروں اور سٹاف کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ نہ بنائے۔ نوازشریف، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا انتقامی چہرہ سامنے آ رہا ہے۔

     ، پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ کے آفیسرز کے خلاف اچانک پولیس متحرک 

    عمران خان کے مشیر بیرون ملک روانہ

    میری جان سے زیادہ پاکستان کی آزادی ضروری ، فوری الیکشن چاہتے ہیں ، عمران خان

    کراچی جانے کیلئے عمران خان کو جہاز کس نے دیا؟ بحث چھڑ گئی

    پنجاب اسمبلی، ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج

    ایسی کون سی دوائی ہے جس سے 24 گھنٹوں میں ٹوٹا ہوا ہاتھ ٹھیک ہوگیا؟ حمزہ شہباز

  • داؤد ابراہیم کے مزید 4 معاونین کی گرفتاری کا کیا گیا دعویٰ

    داؤد ابراہیم کے مزید 4 معاونین کی گرفتاری کا کیا گیا دعویٰ

    داؤد ابراہیم کے مزید 4 معاونین کی گرفتاری کا کیا گیا دعویٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے حوالہ سے بھارت میں ایک بار پھر تحقیقات کا سلسلہ وسیع کر دیا گیا ہے

    بھارت کے تحقیقاتی ادارے این آئی اے سمیت انسداد دہشت گردی کے ادارے بھی داؤد ابراہیم اور اسکے ساتھیوں کے خلاف تحقیقات شروع کی ہیں، آئے روز مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہے، گجرات کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے چار ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ چاروں ملزمان داؤد ابراہیم کے معاونین ہیں، گرفتار ملزمان کی شناخت ابوبکر، سید قریشی، شعیب بابا اور یوسف کے نام سے ہوئی ہے، گرفتار افراد کو تحقیقات کے لئے نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، انسداد دہشت گردی فورس نے ملزمان کے قبضے سے لیپ ٹاپ،موبائل فون بھی برآمد کئے ہیں اور انکو فرانزک کے لئے بھجوا دیا ہے، انسداد دہشت گردی فورس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمان 1993 میں ہونے والے دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث تھے

    قبل ازیں این آئی اے نے ممبئی میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر داؤد ابراہیم کے قریبی ساتھی سلیم فروٹ کو بھی چند روز قبل گرفتار کر لیا تھا بھارتی قومی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی درجنوں ٹیموں نے ممبئی میں داؤد ابراہیم کے قریبی دوستوں اور جاننے والوں کے گھروں اور دفاتر پر چھاپے مارے ہیں، داؤد ابراہیم سے رابطے میں راہنے والے اور انکی زمینوں کی دیکھ بھال کرنے والے سلیم قریشی کو این آئی اے نے گرفتار کر لیا ہے، این آئی اے نے داؤد ابراہیم کے قریبی ساتھی کے گھر سے دستاویزات اور لیپ ٹاپ بھی قبضے میں لی ہیں، یہ لیپ ٹاپ اور کاغذات داؤد ابراہیم کی بے نامی جائیداداوں کا ریکارڈ بتایا جا رہا ہے،

    داؤد ابراہیم کو کراچی میں قتل کرنے کی بھارتی حساس اداروں کی سازش کب ہوئی تھی ناکام؟

    بھارتی میڈیا کا کراچی میں داؤد ابراہیم کی چھتیسویں بار کرونا سے موت کا دعویٰ

    ممبئی بم دھماکوں کے ملزم ،داؤد ابراہیم کے ساتھی یوسف میمن کی جیل میں ہوئی موت

    داؤد ابراہیم کا بھارت میں پھر چرچا، بھارت سرکار نے بڑا قدم اٹھا لیا

    دہلی سے مسلم نوجوان گرفتار،داؤد ابراہیم سے تعلق،پاکستان سے تربیت لی، دہلی پولیس کا دعویٰ

    داؤد ابراہیم کی تلاش اوراسکی دولت کے بارے میں تحقیقات کیلیے آپریشن مزید تیز

    واضح رہے کہ بھارت گزشتہ کئی سالوں سے داؤد ابراھیم کا سراغ لگانے میں مصروف ہے لیکن ممبئی میں اُسکا اثر رسوخ آج تک ختم نہیں کر سکا۔ اب برطانیہ سے مدد مانگی جا رہی ہے داؤد ابراھیم کے ایک قریبی جابر صدیق (موتی والا) پر گھیرا تنگ کرنے کے لئے، بھارت یہی سمجھتا ہے کہ داؤد پاکستان میں ہے۔

    1993 میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں میں 257 افراد ہلاک اور تقریباً 700 سے زخمی ہوئے تھے. یہ بھارت کی تاریخ میں سب سے زیادہ تباہ کن مربوط بم دھماکے تھے۔ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ بم دھماکے داؤد ابراہیم کے حکم سے یا امداد سے اس کے کارندے ٹائیگر میمن نے کیے۔

    بھارت عدالت عظمیٰ نے اس مقدمہ کے 20 سال بعد اپنا فیصلہ 21 مارچ 2013 کو دیا۔ تاہم، مقدمہ کے دو اہم ملزمان داؤد ابراہیم اور ٹائیگر میمن ابھی تک گرفتار نہیں کیے گئے۔ مہارشٹرا حکومت نے یعقوب میمن (ٹائیگر میمن کا بھائی) کو اس کی 53 ویں سالگرہ کے دن 30 جولائی 2015ء کو پھانسی دینے کا ارادہ کیا، یعقوب میمن نے رحم کی درخواست دی،مگر اسے رد کر دیا گیا۔ یعقوب کو 30 جولائی 2015 کو مہاراشٹر کے يروڈا جیل میں پھانسی دی گئی تھی

    یہ بم دھماکے سنہ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی میں ہونے والے مسلم مخالف فسادات کے بعد ہوئے تھے جس میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان شہید ہوئے تھے۔فسادات کے رد عمل میں ہونے بم دھماکوں کا مقدمہ تو اپنے انجام کو پہنچا اور لوگوں کو سزائیں بھی ہوئیں لیکن ان فسادات کے دوران ایک ہزار افراد کو قتل کرنے والوں میں سے آج تک کسی کو سزا نہیں ہوئی ہے

  • اجلاس میں غورکرنے اوررپورٹس کی بات نہیں، ہمیں ان کیسزپرفیصلہ کرناہے،عدالت

    اجلاس میں غورکرنے اوررپورٹس کی بات نہیں، ہمیں ان کیسزپرفیصلہ کرناہے،عدالت

    اجلاس میں غورکرنے اوررپورٹس کی بات نہیں، ہمیں ان کیسزپرفیصلہ کرناہے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ اسلام آبا دہائیکورٹ میں پیش ہوئے اور کہا کہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا ہے، امید ہے کہ اجلاس میں غور کیا جائے گا ، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں غور کرنے اور رپورٹس کی بات نہیں، ہمیں ان کیسز پر فیصلہ کرنا ہے جب سے یہ معاملہ عدالت نے اٹھایا ہے ریاست مسلسل لاتعلق نظر آتی ہے متاثرہ خاندان اسلام آباد میں احتجاج کرتے ہیں ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی ریاست کی اس مسئلے پر اس لاتعلقی کو کیسے ختم کیا جائے ؟ ایک وزارت معاملہ دوسری وزارت پر ڈالتی رہتی ہے،محض رپورٹس منگواتے رہنے سے کچھ فائدہ نہیں ہونے والا ،یہ لاحاصل مشق ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد جن کا پتہ چل چکا وہ کہاں ہیں ،یہ بے بس عدالت نہیں کہ صرف پٹیشن کی استدعا کو دیکھے،عدالت نے لاپتہ افراد کمیشن سے متعلق تفصیلی رپورٹ مانگ لی ،عدالت نے کمیشن کو ہدایت کی کہ کمیشن کس طرح بنا؟ ٹی او آر کیا ہیں؟ کتنا عمل ہوا ؟رپورٹ پیش کریں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا وزارت داخلہ سے کوئی آیا ہے؟ بعد ازاں نمائندہ وزارت داخلہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ منسٹری کا منفی تاثر ہے، اہم کمیشن کی رپورٹ ہی غائب ہے، عدالت چاہتی ہے کہ دلائل سننے کے بعد موثر فیصلہ سنائے، ہم چاہتے ہیں کہ یہ چیز ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے، اسلام آبا دہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 25 مئی تک ملتوی کر دی

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

  • آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

    آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

    آرٹیکل تریسٹھ اے اہم ایشو،رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ اٹارنی جنرل کو لاہور میں تاخیر ہوگئی ہے ،اٹارنی جنرل اشتر اوصاف لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوچکے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل کس ٹرانسپورٹ پر اسلام آباد آرہے ہیں؟ عامر رحمان نے کہا کہ اٹارنی جنرل موٹروے سے اسلام آباد آرہے ہیں، 3 بجے تک پہنچ جائیں گے پنجاب کی معاملات کی وجہ سے اٹارنی جنرل لاہور میں مصروف ہوگئے تھے،بابر اعوان نے کہا کہ اٹارنی جنرل آرہے ہیں یا جارہے ہیں یہ سنتے دو ہفتے ہوگئے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کام نہ کریں جس سے کوئی اور تاثر ملے ،اٹارنی جنرل نے پیر کو دلائل میں معاونت کرنے کی بات خود کی تھی،مخدوم علی خان کو بھی آج دلائل کیلئے پابند کیا تھا،ابھی ہمیں اطلاع ہوئی ہے کہ مخدوم علی خان بیرون ملک سے واپس نہیں آئے،یہ دونوں وکلا ایک فریق کے وکیل ہیں ایک سرکار دوسرے سیاسی جماعت کے نجی وکیل ہیں،اب لگتا ہے اپ اس معاملہ میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں، ساڑھے گیارہ بجے دیگر مقدمات قربان کر کے کیس مقرر کیا، آرٹیکل تریسٹھ اے کا فیصلہ دینا چاہتے ہیں، اہم ایشو ہے، اگر اٹارنی جنرل 3بجے پہنچ رہے ہیں تو 4 بجے تک سن لیتے ہیں، رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں یہ خدمت کا کام ہے ہم کرنا چاہتے ہیں عدالت تو رات تاخیر تک بیٹھی ہوتی ہے،

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت تو 24 گھنٹے دستیاب ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کو 3 بجے سن لیں گے،اب لگتا ہے آپ اس معاملہ میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں،معاون وکیل سعد ہاشمی نے کہا کہ مخدوم علی خان 17مئی کو آپس آجائیں گے مخدوم علی خان بیرون ملک مقدمہ میں دلائل دے رہے ہیں اٹھارہ مئی کے بعد ہوسکتا ہے بینچ دستیاب نہ ہو،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لارجر بینچ پورا ہفتہ دستیاب ہےمعذرت کے ساتھ مخدوم علی خان نے مایوس کیا ہے،مخدوم علی خان بڑے وکیل ہیں،تحریری طور پر بھی دلائل دے سکتے ہیں

    علیم خان کے وکیل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت پارلیمانی پارٹی ارکان کو ہدایات جاری کرتی ہے،پارلیمانی پارٹی اور چیئرمین میں واضح فرق ہے،ممبر ناصر درانی نے کہا کہ کیا پارلیمانی پارٹی کا لیڈر بھی پالیسی جاری کرسکتا ہے.، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی چیئرمین ہدایات جاری نہیں کرسکتا ارکان پنجاب اسمبلی کو پارلیمانی پارٹی کی جانب سے کوئی ہدایات نہیں دی گئیں16اپریل کو علیم خان کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، 4اپریل کے نوٹیفکیشن کی بنیاد پر پورا کیس بنایا گیا ہے،پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کا ریفرنس میں کہیں زکر نہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب کیلئے ووٹنگ شام 7 بجے تک جاری رہی،

    وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے میں تمام طریقہ کار موجود ہے،اگر طریقہ کار موجود نہ ہوتا تو عدالت آرٹیکل باسٹھ ، تریسٹھ کی طرف دیکھ سکتی تھی یہ ضروری نہیں ہر انحراف کسی فائدے کے لیے ہو،اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین سازوں نے ڈی سیٹ کی سزا رکھی ہے، انحراف خالصتاً سیاسی اختلافات پر بھی ہوسکتا ہے،آرٹیکل تریسٹھ اے میں ڈی سیٹ کی سزا فراہم کی گئی ہے جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں منحرف ارکان کیلئے ڈی سیٹ کی سزا کافی ہے، مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کے طریقہ کار سے ہٹ کر مزید گہرائی میں نہیں جانا چاہتے،ڈی سیٹ کے ساتھ مزید سزا شامل کرنے سے سیاسی تقسیم میں اضافہ ہو گا،عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کے ارکان سے متعلق ریفرنس مسترد کر چکا ہے،وکیل نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے آدھے ارکان نے ایک طرف آدھے نے دوسری طرف ووٹ دیا،اس سیاسی جماعت نے اپنے ارکان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا،آرٹیکل تریسٹھ اے پالیسی کا پابند کرتا ہے، انحراف سے منع کرتا ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی رکن اسمبلی کے آخری چھ ماہ میں انحراف کرتا ہے،ایسی صورتحال میں اس رکن کی سزا تو نہ ہوئی،وکیل نے کہا کہ پارٹی سربراہ بھی منحرف ارکان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے، عدالت پارٹی سربراہوں کے کنڈیکٹ کو بھی سامنے رکھے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے کندھے اتنے کمزور نہیں ہے،ہمارے کندھے آئین پاکستان ہے،تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کا ہے، عدالت کا کام آئین کا تحفظ اور تشریح کرنا ہے، دیکھنا ہے کہ درخواست میں کس نوعیت کا سوال اٹھایا گیا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے منحرف رکن اپنے پارٹی سربراہ کو اپنے اقدام پر راضی کر لے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جمہوریت کا فروغ کیسے ہو گا ہر رکن اپنی مرضی کرے گا، کسی فرد پر فوکس کرنے کی بجائے سسٹم پر فوکس کیوں نہ کیا جائے، آرٹیکل تریسٹھ اے کے تحت انفرادی نہیں پارٹی کا حق ہوتا ہے،کیا 10پندرہ ارکان سارے سسٹم کو تبدیل کرسکتے ہیں؟کیا چند افراد سسٹم کو ڈی ریل کر سکتے ہیں؟ وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشن بڑی اہم ہے،آرٹیکل 95 کے تحت ارکان کا حق ہے وہ مرضی سے ووٹ دیں،کسی منحرف رکن کا دفاع نہیں کروں گا،آرٹیکل تریسٹھ اے کی سزا بڑھانے سے جمہوریت کو فروغ ملے گا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسطرح سے سیاسی پارٹی ٹی پارٹی بن جائے گی، ہم بحث سے ایک بات سمجھے ہیں کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کو ختم کرسکتا ہے،کیا سربراہ پارٹی کے ساتھ ہوئے غلط اقدام کو معاف کرسکتا ہے؟ اگر پارٹی سربراہ رکن کے غلط کام کو معاف کردیں تو یہ آئین کے خلاف ہو گا؟کیا پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کی کوئی اہمیت نہیں

    وکیل بابر اعوان نے کہا کہ پارٹی سربراہ بھی پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہوتا ہے،اگر اختلاف پر ارکان استعفیٰ دے دیں تو سسٹم تباہ نہیں ہو گا،جسٹس جمال خان نے کہا کہ ارکان کے انحراف سے سسٹم ختم نہیں ہوتا،وکیل مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے ایک مکمل کوڈ ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سماعت کل تک ملتوی کردیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ امید کرتے ہیں مخدوم علی خان کل پیش ہوں گے،اگر وہ پیش نہیں ہوتے تو تحریری دلائل سے دیں،کل صدارتی ریفرنس کی کارروائی کو مکمل کرنا چاہتے ہیں،

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ

  • خواتین کو نظراندازکریںگےتو معاشرے میں بہتری لانا ناممکن ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    خواتین کو نظراندازکریںگےتو معاشرے میں بہتری لانا ناممکن ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    خواتین کو نظراندازکریںگےتو معاشرے میں بہتری لانا ناممکن ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیشنل جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1979میں ایک جابر نے فیصلہ کیا مسلمانوں کو بہتر مسلمان بنانے کی ضرورت ہے

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارے تمام قوانین انگریزی میں ہوتے ہیں،میرا اس سے اختلاف ہے آئین میں واضح ہے کہ استعمال کی جانے زبان عام آدمی کے سمجھ میں آنی چاہیے، دیت کے قانون انگریزی میں لکھا گیا لیکن اس کی سزا عربی میں لکھی گئی،ریپ کو زنا بالجبر بنا دیا گیا،جابروں نے ہمارے قانون اور آئین کا مذاق بنا دیا،عورت کے بے آبرو ہونے کو اسلام نے سنگین جرم قرار دیا تھا،دفعات 375 اور 374 کی غلطی کو درست کرنے میں 27 سال لگے،اس دوران خواتین نے کتنا ظلم اور زیادتیاں برداشت کیں،دین اسلام کو غلط طریقے سے پیش کرنے پر افسوس ہوتاہے،یوں لگتا ہے جیسے دین اسلام میں خواتین کے ساتھ منصفانہ قانون نہیں،قرآن کریم میں 35 بار حضرت مریم کا ذکر کیا گیا ہے،جب تک ہم خواتین کو نظر انداز کریں گے خواتین پر خود کو سبقت دیتے رہیں گے معاشرے میں بہتری لانا ناممکن ہے ہمارے ہاں جابر کو سزائیں نہیں دی جاتیں،

    ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس غلطی تھی، عمران خان نے تسلیم کر لیا

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد میں گورنر بلوچستان کے سکواڈ کی گاڑی کا چالان کروا دیا ۔

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    پولیس ملزمان کی ویڈیو کیوں نہیں بناتی؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اظہار برہمی

  • عمران خان نے بغیر کسی میرٹ کے ممبرز کی تعیناتیاں کیں،وزیراعظم کو خط لکھ دیا گیا

    عمران خان نے بغیر کسی میرٹ کے ممبرز کی تعیناتیاں کیں،وزیراعظم کو خط لکھ دیا گیا

    عمران خان نے بغیر کسی میرٹ کے ممبرز کی تعیناتیاں کیں،وزیراعظم کو خط لکھ دیا گیا

    پامی نے وزیر اعظم اور وفاقی وزیر صحت قادر پٹیل کے کے نام خط لکھ دیا

    خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے ممبران کی میرٹ کی بنیاد پر تقرریاں کی جائیں،سابق وزیراعظم عمران خان نے بغیر کسی میرٹ کے ممبرز کی تعیناتیاں کیں، اسلام آباد ہائی کورٹ پی ایم سی ممبرز کی تعیناتیوں کو اقربا پروری قراردے چکی ہے بدقسمتی سے بغیر کسی میرٹ کے پی ایم سی ممبرز کو نامزد کیا گیا، سابق حکومت نے پی ایم سی میں ناتجربہ کار ڈاکٹرز کوتعینات کیا پاکستان میں تجربے کے حامل اور بہترین شہرت یافتہ ڈاکٹرز کو نظرانداز کیا گیا، نائب صدر پی ایم سی علی رضا سمیت دیگر ممبران کی متعصبانہ پالیسیاں ہیں، ممبرز کی نااہلی کی وجہ سے پاکستان عالمی میدان میں خطرناک حد تک اپنی جگہ کھو رہا ہے،غیر قانونی ٹیسٹنگ کمپنی کو اربوں کے ٹھیکہ کا معاملہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے بھی اٹھایا،

     

    خط میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈی نیشن پر بحث کی گئی،غیر قانونی اور ناتجربہ کار کمپنی کی جانب سے سیکڑوں طلبا کے مستقبل سے کھیلا گیا،ممبران کے پاس تجربہ نہ ہونے کے باعث اور خراب پالیسیوں کی وجہ سے داخلہ کا عمل متاثر ہوا،ناقص پالیسی کے باعث نجی ڈینٹل کالجز میں 1200 سے زائد سیٹیں خالی رہ گئیں تھیں،

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کے پیچھے کرپشن اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے،آصف زرداری

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ