Baaghi TV

Tag: عدالت

  • عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

    عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ طالبعلم کی بازیابی اور طلبہ کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی
    میں کچھ نہیں کرسکتا ایک دن کا مہمان ہوں،شیخ رشید نے کس کو بتا دیا

    عدالت نے قائداعظم یونیورسٹی کے وی سی کو بلوچ طلبہ کی پروفائلنگ اور ہراساں کیے جانے کی انکوائری کرنے کا حکم دے دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کس یونیورسٹی کے طلبہ ہیں، جن کو ہراساں کیا جا رہا ہے؟ قائداعظم یونیورسٹی وائس کا چانسلر کون ہے؟ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ صدر پاکستان یونیورسٹی کے چانسلر ہیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے چانسلر یقینی بنائیں کہ کسی طالبعلم کو ہراساں نہ کیا جا سکے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وائس چانسلر قائداعظم یونیورسٹی کو معاملے کی انکوائری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ جمعہ تک انکوائری رپورٹ جمع کروائیں۔لاپتہ حفیظ بلوچ کی بازیابی کے لیے درخواست میں وکیل ایمان مزاری عدالت کے سامنے پیش ہوئے ،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ روز وزیر داخلہ سے ملاقات کرائی گئی، کل کی وزیرداخلہ سےمیٹنگ کے بعد امید ہے ہراساں نہیں کیا جائےگا جبکہ وکیل ایمان مزاری نے کہا کہ وزیر داخلہ سے ملاقات نتیجہ خیز نہیں رہی، وزیر داخلہ سے ہمیں کوئی امید نہیں اس عدالت سے امید ہے وکیل زینب جنجوعہ نے کہا کہ کل وزیر داخلہ نے کہا کہ میں کچھ نہیں کرسکتا ایک دن کا مہمان ہوں وکیل زینب جنجوعہ نے کہا کہ وائس چانسلر قائداعظم یونیورسٹی کو اسٹوڈنٹس نے لکھا لیکن ان پرکوئی اثرنہیں ہوا جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ قائد اعظم یونیورسٹی کے چانسلر سے امید ہےکہ بلوچ طلبہ کی شکایات کا ازالہ کریں گے اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت ہدایات جاری کرے کہ پاکستان بھر میں بلوچ طلبہ کو ہراساں نا کیا جائے عدالت نے طلبہ کو ہراساں کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت 8 اپریل تک ملتوی کر دی

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ صحافی اور دیگر کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا مدثر نارو کو تلاش نہ کر پانا ریاستی اداروں کی ناکامی ہے؟یہ عدالت امید کرتی تھی کہ ان کیسز کے بعد وفاقی حکومت ہِل جائے گی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اس معاملے پر سنجیدگی سے کام تو ہو رہا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہاں ہو رہا ہے کچھ تو دکھا دیں، یہاں تو حالت یہ ہے کہ اتنے عرصے سے بیٹھے بلوچ طلبہ کی کسی کو پرواہ نہیں، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے یہ سب دیکھنا تھا کیا انکی مرضی کے بغیر کسی کو لاپتہ کیا جا سکتا ہے؟ نہیں کیا جا سکتا، لوگوں کا مسنگ ہو جانا اداروں کی نااہلی ہے پھر وہ ٹریس بھی نہیں ہو پاتے

    مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

    صحافیوں کا دھرنا،حکومتی اتحادی جماعت بھی صحافیوں کے ساتھ، بلاول کا دبنگ اعلان

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیا آپ شہریوں کو لاپتہ کرنے والوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں؟ قاضی فائز عیسیٰ برہم

    لوگوں کو لاپتہ کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی کوئی پالیسی تھی؟ عدالت کا استفسار

    لاپتہ افراد کیس،وفاق اور وزارت دفاع نے تحریری جواب کے لیے مہلت مانگ لی

  • پنویل فارم ہاؤس کیس:عدالت کا سلمان خان کو عبوری ریلیف دینے سے انکار

    پنویل فارم ہاؤس کیس:عدالت کا سلمان خان کو عبوری ریلیف دینے سے انکار

    مبئی: سلمان خان کے پنویل فارم ہاؤس کیس میں ممبئی سٹی سول کورٹ نے سلمان خان کو عبوری ریلیف دینے سے انکار کر دیا کہا کہ بالی ووڈ اداکار سلمان خان کے خلاف غیر قانونی تجاوزات اور فاریسٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے دعووں کو ثابت کرنے کے لیے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کے مطابق سلمان خان نے اپنے پڑوسی کیتن ککڑ کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا ممبئی کی سول کورٹ نے کہا ہے کہ سلمان خان کے پڑوسی کیتن ککڑ کا بیان دستاویزی ثبوت سے ثابت ہوتا ہے۔

    شو کے میزبان کو مذاق حد میں رہ کرکرنا چاہئیے،سلمان خان

    عدالت نے کہا ہے کہ سلمان خان کا ان کے پڑوسی کے خلاف بدنامی کا دعویٰ درست نہیں کیونکہ سلمان خان یہ ثابت نہیں کرسکے کہ کیتن ککڑ مذکورہ ’ہتک آمیز‘ ویڈیو انٹرویو میں ان کے بارے میں بات کر رہے تھے جس کے خلاف سلمان خان نے اعتراض کیا تھا-

    قبل ازیں، سلمان خان کی جانب سے کیتن ککڑ کو سوشل میڈیا پر کسی بھی مواد کو پوسٹ کرنے سے روکنے کے لیے ایک درخواست دائر کی گئی تھی جسے گزشتہ ہفتے ممبئی کی ایک عدالت نے مسترد کر دیا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج انیل لڈھاد نے سلمان خان کی درخواست کو مسترد کردیا تھا جس میں سلمان خان نے عدالت سے عبوری حکم کی درخواست کی تھی کہ کیتن ککڑ کو ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف کوئی بھی مواد پوسٹ کرنے یا اپ لوڈ کرنے سے روک دیا جائے۔

    خیال رہے کہ سلمان خان نے اپنے ایک پڑوسی کیتن ککڑ کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا کیتن ککڑ ممبئی کے قریب رائے گڑھ ضلع میں پنویل میں سلمان خان کے فارم ہاؤس کے ساتھ والی ایک پہاڑی پر زمین کے ایک ٹکڑے کے مالک ہیں۔ سلمان خان کے ہتک عزت کے مقدمے کے مطابق کیتن ککڑ نے ایک یوٹیوبر (جس نے ویڈیو کو ایپ پر ڈالا) کو دئیے گئے انٹرویو میں اداکار کے خلاف ہتک آمیز ریمارکس دیے تھے۔

    سلمان خان کے وکیل پردیپ گاندھی نے عدالت میں دلیل دی تھی کہ ککڑ نے ویڈیو، پوسٹ اور ٹویٹ میں جھوٹےاور ہتک آمیز الزامات لگائے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ کیتن ککڑ نے سلمان خان کے فارم ہاؤس کے ساتھ ایک پلاٹ خریدنے کی کوشش کی تھی لیکن حکام نے یہ لین دین غیر قانونی ہونے کی بنیاد پر منسوخ کر دیا۔ جس پر کیتن ککڑ نے جھوٹے الزامات لگانا شروع کردیے کہ یہ لین دین سلمان خان اور ان کے خاندان کے کہنے پر منسوخ کیا گیا تھا۔

    ہندو اگرشاہ رخ خان کی فلموں کا بائیکاٹ کردیں، تو وہ سڑکوں پر آجائیں گے ،ہندوانتہا پسند وزیراعلی

    وہیں دوسری جانب سلمان خان کے پڑوسی کیتن ککڑ کے وکلا نے دعویٰ کیا کہ کیتن ککڑ نے زمین 1996 میں خریدی تھی۔ وہ 2014 میں ریٹائر ہوئے اور وہیں رہنا چاہتے تھے، لیکن سلمان خان اور ان کے خاندان کی وجہ سے اپنی زمین تک نہیں پہنچ سکے۔

    جج نے ریکارڈ پر موجود ٹویٹس اور ویڈیوز کا جائزہ لینے کے بعد مشاہدہ کیا کہ سلمان خان نے وضاحت نہیں کی کہ ٹویٹس میں موجود اشارے ان سے کیسے متعلق ہیں اس لیے درخواست خارج کر دی گئی-

    مسلم مخالف فلم "دی کشمیر فائلز” پر سلمان خان کی مبارک باد

  • شیخ رشید کو عدالت نے ایک دن دے دیا،کہا یہ کام نہ کیا تو طلب کریں گے

    شیخ رشید کو عدالت نے ایک دن دے دیا،کہا یہ کام نہ کیا تو طلب کریں گے

    شیخ رشید کو عدالت نے ایک دن دے دیا،کہا یہ کام نہ کیا تو طلب کریں گے

    قائداعظم یونیورسٹی میں طالب علموں کو ہراساں کرنے کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی،

    درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ ایمان زینب مزاری پیش ہوئیں عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بلوچ طلبہ اتنے دن احتجاج کرتے رہے لیکن وفاقی حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑا ، کیوں بلوچستان کے طلبہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی پروفائلنگ (کوائف) اکٹھے کیے جارہے ہیں، کتنے عرصے سے وہ پریس کلب پر بیٹھے ہیں کسی پر کوئی اثر نہیں پڑا ریاست کی ہمدردی ہونی چاہے خاص طور پر جس علاقے کے لوگ محسوس کریں ان کا تو زیادہ خیال رکھنا چاہیے

    بلوچ طلبہ کے نمائندے قائد اعظم یونیورسٹی کے طالب علم محمد عبد اللہ نے عدالت کے سامنے پیش ہوکر کہا کہ حفیظ بلوچ کے لاپتہ ہونے سے پہلے ہی ہمیں ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے 26 دن سے ہمارے پاس وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کے علاوہ کوئی اور نہیں آیا ہم اپنی جان کو بچائیں یا پڑھیں

    عدالت نے وزیر داخلہ شیخ رشید کو کل بلوچ طلبہ سے ملاقات کر کے ان کی شکایات سننے کا حکم دے دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وزیر داخلہ شیخ رشید کی کل ان طلبہ سے ملاقات کرائیں اور جمعہ تک رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ وزیر داخلہ کی دستیابی دیکھنے دیں، پھر ملاقات کروا دینگے۔ جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سختی سے کہا کہ وزیر داخلہ شیخ رشید کل ہی طلبہ سے ملیں گے ورنہ یہ عدالت وزیر داخلہ کو طلب کریگی یہ عدالت وزیر داخلہ کو طلب نہیں کرنا چاہتی، لیکن اگر کسی نے بلوچ طلبہ کو ہراساں کیا تو وزیر داخلہ براہ راست ذمہ دار ہونگےعدالت نے حفیظ بلوچ کی بازیابی کیس پر جواب طلب کرتے ہوئے سماعت جمعہ تک ملتوی کردی

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    ماں بیٹی سے زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی

    لاہور میں رواں برس جنسی زیادتی کے 369 کیسز، کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ مل سکی

    لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    شادی کا جھانسہ ، ویڈیو بناکر زیادتی اور پھر بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار

    لودھراں میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ،پولیس کا کاروائی سے گریز

    دوران ڈکیتی ماں باپ کے سامنے حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ درندوں کی زیادتی

    لاہور،سکول سے گھر آنیوالی خاتون کے سامنے نوجوان نے کپڑے اتار دیئے، ویڈیو وائرل،مقدمہ درج

    ایمانداری کے ساتھ خدمت کی،فحش ویڈیو وائرل ہونے کے بعد زبیر عمر کا ردعمل آ گیا

    عدالت نے ایمان مزاری کو گرفتار کرنے سے روک دیا،سیکرٹری داخلہ،آئی جی طلب

    کیمپ میں سیاہ کپڑوں میں لوگ آ کرہراساں کرتے ہیں،وکیل ایمان مزاری کے عدالت میں دلائل

    ایمان مزاری پر مقدمہ،اسلام آباد پولیس کا یوٹرن

  • محسن بیگ کے ساتھ جیل میں کیا ہوا ؟ اہم انکشافات

    محسن بیگ کے ساتھ جیل میں کیا ہوا ؟ اہم انکشافات

    محسن بیگ کے ساتھ جیل میں کیا ہوا ؟ اہم انکشافات
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے سینئر صحافی و تجزیہ کار محسن بیگ نے سینئر صحافی و اینکرپرسن مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں شرکت کی ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جسدن محسن بیگ کے ساتھ یہ ہوا اس دن ٹی وی پر بتا رہا تھا کہ کس طرح ہم بنی گالہ گئے تھے پہاڑیوں سے ہو کراور واپس آ کر میڈیا کو سب بتاتے تھے، عمران خان تو بے دید نکلا

    جس کے جواب میں محسن بیگ کا کہناتھا کہ عمران خان بدید نہیں کم ظرف ہے، دوستی کے رشتے میں کم ظرفی نہیں ہوتی، کسی سے ناراض ہو جائیں تو خواتین اور بچوں تک نہیں جاتے، مجھے تو اس شخص کو دوست کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، جس کے ساتھ بھی اسکی دوستی تھی اس سب کے خاندان پر پرچہ کٹوایا، علیم خان، جہانگیر ترین، میں بچا ہوا تھا میرے بیٹے کو بھی اس کیس میں ڈال دیا، میں سوچ نہیں سکتا تھا کہ اس طرح یہ کر سکتا ہے، کورٹ نے ثابت کر دیا کہ نہ وارنٹ تھا نہ ایف آئی آر درج تھی، یہ مسنگ پرسن بنا کر مجھے اٹھانا چاہتے تھے، بعد میں جو کیس انہوں نے بنایا اس میں دو گھنٹوں میں ضمانت ہونی تھی، سولین کپڑوں میں یہ میرے گھر میں آئے، اسلحہ کا لائسنس مجھے ریاست پاکستان نے دیا، لائسنس اور ہتھیار گھر خاندان کے دفاع کے لئے ہے، میں نے کسی سرکاری دفتر جا کر فائرنگ نہیں کی، کئی صحافی زخمی ہوئے، فوت ہوئے ،کئی مسنگ ہیں، میں فیملی گھر کا دفاع کروں گا

    محسن بیگ کا مزید کہنا تھا کہ میرا عمران خان سے کوئی ذاتی ایشو نہیں، ہم سپورٹ کر رہے تھے، ایک نظریے پر ساتھ تھے، میں نے ڈھائی برس پہلے انکو ایک میسج کیا اور پھر نمبر بلاک کر دیا، اسکے بعد نمبر نہیں کھولا، نیا نمبر بھی بعد میں مجھے بھیجا میں نے وہ بھی بلاک کر دیا، میرا ذاتی ایشو آج بھی کوئی نہیں لیکن جن نظریات پر کھڑے تھے وہ کہاں ہیں،میں نے کوئی لڑائی نہیں کی، نمبر بلاک کیا اور سائڈ پر ہو گیا، میں انکا ذاتی ملازم نہیں ، انہوں نے ہمارا مال کھایا،ہم نے انکا نہیں کھایا،

    کھرا سچ میں محسن بیگ کا کہنا تھا کہمیں نے عمران خان کا نمبر بلاک کرکے ڈیلیٹ کیا، تو دوبارہ انہوں نے نیا نمبر مجھے بھیجا تو وہ بھی میں نے بلاک کردیا،میں پہلے سویا ہوا تھا اب کوئی آئے میرے گھر کی طرف ایسا سبق سکھاوں گا 14 طبق روشن کردوں گا، وزیراعظم اپنی تقریر میں بتا چکے کہ انکو مراد سعید کی کارکردگی پر یقین نہیں،

    بلوچ رہنما اور دو روز قبل اپوزیشن اتحاد میں شامل ہونے والے جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی کا کہنا تھا کہ عمران خان صاحب زیادہ خوش نہ ہوں ق لیگ ابھی بھی اپوزیشن کا ساتھ دے گی،شہباز شریف اگلے وزیر اعظم ہوں گے یا نہیں یہ تو زرداری صاحب بہتر بتاسکتے ہیں،عمران خان کو وزیراعظم سیٹ سے ہٹا دیا جائے یہ اپوزیشن کی نہیں عوام کی خواہش ہے

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

    کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

    محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

    محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا

    بریکنگ، محسن بیگ کی ضمانت منظور، رہا کرنے کا حکم

  • کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ سپریم کورٹ

    کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ سپریم کورٹ

    کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ سپریم کورٹ
    آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ میں سماعت ہعئی

    چیف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے آرٹیکل 63 اے، اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کر دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج آپ سے کوئی سوالات نہیں کریں گے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمالیہ میں وزیر اعظم کی تقریر کا حوالا دیا گیا،وزیراعظم سے کمالیہ کی تقریر پر بات کی ہے، وزیر اعظم کا بیان عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں،وزیراعطم کا بیان عدالت کے سامنے رکھا گیا جس میں کہا گیا کہ کمالیہ تقریر میں 1997 سپریم کورٹ حملے کے تناظر میں بات کی گئی تھی، عدلیہ پر بھرپور اعتماد ہے اور یقین ہے،

    اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسمبلی ٹوٹ جائے تو کوئی ممبر اپنی رکنیت کا دعویٰ نہیں کرسکت منحرف اراکین کیلئے آئین کہتا ہے کہ وہ ممبرنہیں رہےگا اور سیٹ خالی تصور ہوگی، سیٹ خالی تصور ہونے کا مطلب ہے کہ دوبارہ الیکشن ہوگا اٹارنی جنرل کے دلائل پر جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ ایک ممبرکوڈی سیٹ ہونے کے بعد کس بنیاد پر نا اہل ہونا چاہیے، پارلیمنٹ نااہلی کی مدت 2 یا 5 سال تک مقرر کرسکتی ہے کیا ایک شخص کو تاحیات نااہل کرنے کیلئے انحراف کی بنیاد کافی ہے؟ جب کہ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ 62 اے میں ترمیم کرکے نااہلی کی مدت کیوں مقرر نہیں کررہی؟ جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا دنیا کے کسی قانون میں نااہلی انحراف کے بنیاد پر ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ دنیا کے کسی قانون میں تاحیات نااہلی بھی نہیں ہے اٹارنی جنرل نے کہا کہ دنیا کے کسی آئین میں ارٹیکل 62/1F نہیں دیکھا جسٹس جمال خان مندوخیل نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ ڈی سیٹ ہونے کو بڑی سزا نہیں سمجھتے؟ ہمارے ہاں بلوچستان میں تو دوبارہ الیکشن لڑنے پر لوگ قتل ہو جاتے ہیں. آئین بنانے والوں کی نظر میں ڈی سیٹ ہونا معمولی بات نہیں تھی۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ یہ منحرف اراکین منحرف کیوں ہوتے ہیں؟ ان کے پیچھے کون سی طاقتیں ہوتی ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹ پارٹی کی امانت ہوتا ہے جسٹس جمال خان نے کہا کہ ایماندار آدمی کو پارٹی پالیسی کے خلاف رائے دینے پر تلوار کیوں لٹکا رہے ہیں ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایماندار آدمی انحراف کرنے سے پہلے مستعفی کیوں نہیں ہوتا؟ جسٹس جمال خان نے کہا کہ کسی کو نشست سے مستعفی ہونے پر مجبور نہیں جاسکتا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیاکہ سندھ ہاؤس حملے کا کیا بنا،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت میں بتایا کہ متعلقہ مجسٹریٹ سے وارنٹ گرفتاری حاصل کر لیے ہیں، پی ٹی آئی کے دونوں اراکین اسمبلی سمیت تمام ملزمان گرفتار ہوں گے

    منحرف اراکین کی تاحیات نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں دائر کردہ صدارتی ریفرنس بارے اٹارنی جنرل نے بڑا انکشاف کیا ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود ۲۰/۲۵ اراکین وفاداری تبدیلی پر تاحیات نااہلی کا قانون نہیں بننے دیتے اس کئیے حکومت سپریم کورٹ سے یہ کام کرانا چاہتی ہے، یہ قانون انکا ڈیتھ وارنٹ ہے۔

    قبل ازیں سندھ ہاؤس حملہ کے ملزمان کی گرفتاری کا معاملہ آئی جی اسلام آباد نے پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ،رپورٹ میں کہا گیا کہ سندھ ہاؤس حملہ کے ملزمان کیخلاف دہشت گردی کا ثبوت نہیں مل سکا،ملزمان سے کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا،دہشت گردی کے ثبوت ملے تو مزید کارروائی کی جائے گی 16 ملزمان میں سے ایک رائے تنویر کی گرفتاری نہیں ہوسکی، رائے تنویر کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں،تمام گرفتار ملزمان نے جوڈیشل مجسٹریٹ سے ضمانت کرا لی تھی، ملزمان کی ضمانت منسوخ کرنے کیلئے مجسٹریٹ کو درخواست دی ہے

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    سندھ ہاوس حملے کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

    کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ سپریم کورٹ

  • آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ
    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی اکبر ایس بابرکو الیکشن کمیشن کا ریکارڈ دینے سے فوری روکنےکی استدعا مسترد کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی عدالت نے فارن فنڈنگ کیس کا ریکارڈ اکبر ایس بابر کو دینے سے روکنے کی درخواست پر سماعت میں اکبر ایس بابر اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا عدالت نے پی ٹی آئی کی اکبر ایس بابرکو الیکشن کمیشن کا ریکارڈ دینے سے فوری روکنےکی استدعا مسترد کردی۔

    پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی دستاویزات پر اکبر ایس بابرکو دلائل سے روکیں اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اور اکبر ایس بابرکو سن کر فیصلہ کریں گے کسی شخص کو الیکشن کمیشن میں مختصر دلائل کا حکم کیسے دے سکتے ہیں؟ ہم کسی کو دلائل دینے سے کیسے منع کر سکتے ہیں یہ الیکشن کمیشن کا کام ہے عدالت نے سوال کیا کہ کیا آپ چاہتے الیکشن کمیشن نے جومعلومات خود لیں وہ اکبر ایس بابرکو نا دیں؟ قانون پڑھ کربتائیں کہاں الیکشن کمیشن کو ایسی معلومات کسی کو دینے سے روکا گیا ہے؟

    عدالت کے کہنے پر پی ٹی آئی کے وکیل انورمنصور نے متعلقہ قوانین عدالت کے سامنے پڑھ کر سنائے جس پر جسٹس محسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے لیے ہے کہ اتنا مت گھبرائیں، اسکروٹنی کمیٹی نے تو اکبر ایس بابرکو اتنا وزن ہی نہیں دیا خود رپورٹ تیارکی الیکشن کمیشن پرکوئی پابندی نہیں وہ کسی بھی ادارے کو بلاکرمعلومات لے سکتا ہے،وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں الیکشن کمیشن اپنے اختیار سے باہر نہیں جا سکتا ہے عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے لیے آپ جوڈیشنل آرڈر کے ذریعے کوڈ آف کنڈکٹ بنوانا چاہ رہے ہیں؟ وکیل انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جو معلومات خود لیں ان میں اکبر ایس بابر کی زیرو معلومات ہیں،کیا آپ کے جواب سیکریٹ ڈاکومنٹ ہیں ؟ بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم اپریل تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے ،تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کا اکبر ایس بابر کو فارن فنڈنگ کیس سے الگ کرنے کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، اسد عمر نے پارٹی سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے درخواست دائرکی، جس میں کہا گیا کہ فنڈز کی تفصیلات صرف الیکشن کمیشن کو بتانے کے پابند ہیں درخواست میں کہا گیا کہ اسکروٹنی کمیٹی رپورٹ پرپی ٹی آئی کا جواب اکبرایس بابرکوابھی نہ دیاجائے اور اکبر ایس بابر کو اس کیس سے الگ کیا جائے درخواست کے مطابق الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے درخواستیں مسترد کیں انہیں منظور کیا جائے،

    تحریک انصاف نے 25 جنوری اور 31 جنوری کو دائر کی گئی درخواستوں کو مسترد کرنے کے فیصلہ چیلنج کیا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ الیکشن کمیشن کا 15 مارچ کا حکم کالعدم قرار دے

    فارن فنڈنگ کیس، سکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کی استدعا مسترد کر دی

    الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج ،پی ڈی ایم کو مہنگا پڑ گیا،الیکشن کمیشن کا ایسا فیصلہ کہ مریم نے "سرپکڑ”لیا

    فارن فنڈنگ کیس، سکروٹنی کمیٹی پر اعتراض ہے یا نہیں؟ تحریک انصاف نے عدالت میں بتا دیا

    حکم دینے والا ہوں مجھے جواب دینے کی ضرورت نہیں،پی ٹی آئی فنڈنگ کیس میں کس نے ایسا کہا؟

    پی ٹی آئی کونسے اکاؤنٹس کا ریکارڈ نہیں دے رہی،اکبر ایس بابرنے الیکشن کمیشن میں کیا کہا؟

    اکبر ایس بابر کو مریم نوازکیا دیتی ہیں؟ فرخ حبیب نے لگایا بڑا الزام

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت کرنے کا چیلنج دیا تھا جسے مسلم لیگ ن نے وزیر اعظم کے اس چیلنج کو قبول کرلیا تھا وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت اور براہ راست ٹی وی پر نشر کرنے پر بھی تیار ہیں، بے شک فارن فنڈنگ کیس ٹی وی پر براہ راست دکھا دیا جائے بلکہ پارٹی سربراہوں کو بٹھا کر کیس سنا جائے۔

    الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کی انکوائری کر رہا ہے تو کیا وزیر اعظم مستعفی ہو جائیں؟ سپریم کورٹ

    فارن فنڈنگ کیس، اور عمران خان پھنس گئے

    فارن فنڈنگ کیس، پی ٹی آئی کی چوری پکڑی گئی، تہلکہ خیز انکشاف

    فارن فنڈنگ کیس،تحریک انصاف نے پھروقت مانگ لیا

    عمران خان ڈی چوک پر اپنا اعمال نامہ لے کر آئیں،مریم اورنگزیب

    تمام الزامات ثابت، کیوں استعفیٰ نہیں دیتے،اکبر ایس بابر کا وزیراعظم کو چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کو دیا الیکشن کمیشن نے بڑا جھٹکا

  • کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ سپریم کورٹ

    کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ سپریم کورٹ

    ایک رکن دوسری جماعت کو فائدہ دیتا ہے تو سسٹم کو خطرہ کیسے ہو گیا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63اے کی تشریح کیلئے دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

    اٹارنی جنرل کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوال ہوا تھا جو آئین میں نہیں لکھا ہوا وہ عدالت کیسے پڑھے،اس نقطے پر سپریم کورٹ 2018کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں، عدالت نے تمام امیدواروں سے کاغذات نامزدگی کیساتھ بیان حلفی مانگا قانون میں بیان حلفی نہیں تھا عدالتی حکم پر لیا گیا،بیان حلفی کے بغیر کاغذات نامزدگی عدالت نے نامکمل قرار دیئے تھے، عدالتی حکم پر کاغذات نامزدگی سے نکالی گئی معلومات لی گی،عدالت نے فیصلے میں کہا انتحابی عمل میں شفافیت کے لیے بیان حلفی لیے گیے،

    جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکو لگتا ہے کہ آرٹیکل 63 اے میں کسی قسم کی کمی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کو الگ نہیں پڑھا جاسکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے میں انتخابات کی ساکھ اور تقدس کی بات کی گئی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے جماعتیں ڈسپلن کے پابند ہوتے ہیں،کوئی پارٹی کے ساتھ نہیں چل سکتا تو مستعفی ہوسکتا ہے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والا تاحیات نااہل ہونا چاہیے ،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کو 62 ون ایف کے ساتھ کیسے جوڑیں گے؟ کیا کسی فورم پر رشوت لینا ثابت کیا جانا ضروری نہیں، رشوت لینا ثابت ہونے پر 62 ون ایف لگ سکتا ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی قانونی طور پر بددیانتی ہے قانونی بددیانتی پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق ہوگا ،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ منحرف رکن اگر کسی کا اعتماد توڑ رہا ہے تو خیانت کس کے ساتھ ہوگی ؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سب سے پہلے خیانت حلقے کی عوام کے ساتھ ہو گی ،ووٹر اپنا ووٹ ڈال کر واپس نہیں لے سکتا ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹ جس سمت میں تیر چلائے وہ کہیں اور چلا جائے ،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا مستعفی ہونے پر کوئی سزا ہے ؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی مستعفی نہیں ہورہا یہی تو مسئلہ ہے ،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کسی سیاسی بندے کا ذکر نہ کریں ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں، عدالت کے سامنے صدارتی ریفرنس ہے اسی تک رہیں ،کیا 63 اے کے نتیجے میں سیٹ خالی ہونا کافی نہیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی سے انحراف از خود مشکوک عمل ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی پالیسی کے خلاف ورزی کے نتائج بھگتنا ہوتے ہیں ،آرٹیکل 63 اے میں لکھا ہے کہ رکنیت ختم ہو جائے گی،آپ نااہلی کی مدت کا تعین کروانا چاہتے ہیں ؟ آرٹیکل 62 ون ایف کے لیے عدالتی فیصلہ ضروری ہے، آرٹیکل 63 میں نااہلی دو سے 5 سال تک ہے ،قرض واپس کرنے پر نااہلی اسی وقت ختم ہو جاتی ہے،

    جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے کمالیہ کی تقریر میں کیا کہا کہ ججز کو ساتھ ملایا جارہا ہے؟ کیا آپ نے وزیراعظم کی بات کا نوٹس لیا ہے؟ عدالتی سوالات کو کس طرح لیا جاتا ہے اسکو بھی دیکھیں سوشل میڈیا اور ٹی وی پر سنا تھا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قائدین کو علم ہونا چاہیے کہ زیر التوا مقدمات پر بات نہ کریں، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا وزیراعظم کو عدلیہ پر اعتماد نہیں ہے؟ کیا وزیراعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات سے نہیں روکا جاسکتا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوالات کے ذریعے کیس سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ،عدالت تقاریر اور بیانات سے متاثر نہیں ہوتی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ تقاریر سنتا نہیں اس لیے کچھ نہیں کہہ سکتا. چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر بھی کارروائی سے متعلق احتیاط کرنا چاہیے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ وزیراعظم کو اعلیٰ عدالتوں پر اعتماد نہیں تو انکے نمائندوں کو کیسے ہو گا؟

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدالت کو بیانات اور تقاریر سے متاثر ہونا بھی نہیں چاہیے وزیر اعظم کو عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جس فیصلے کا آپ نے حوالہ دیا الیکشن سے پہلے کا ہے الیکشن سے پہلے کا قانون بعد میں کیسے لاگو کردیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن قوانین آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ پارٹی سربراہ ڈکلیئریشن دے تو الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنے دیں، قانون میں طریقہ واضح کردیا ہے تو کیا چاہتے ہیں؟ ہو سکتا ہے کسی کا سچ میں ضمیر جاگ گیا ہو، الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ آئے گا تو دیکھا جائے گا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ طریقہ کار سے متعلق کوئی سوال ریفرنس میں نہیں پوچھا،جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ نااہلی کی مدت کا تعین کس بنا پر ہو گا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توقع ہے آج آپکے دلائل مکمل ہو جائیں گے،اصل نقطہ نااہلی کا ہے اس پر سب ہی آپکو سننا چاہتے ہیں اٹارنی جنرل نے کہا کہ آج شاید مزید وقت درکار ہو،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ کیا آپ مستقبل کے لیے ریفرنس لائے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسمبلی اجلاس میں کیا ہورہا ہے عدالتی کارروائی پر فرق نہیں پڑنا چاہیے، نااہلی کی مدت کے حوالے سے آرٹیکل 63 اےنیوٹرل ہے

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کا سسٹم پر براہ راست اثر پڑتا سکتا ہے، 10سے15 اراکین منحرف ہو جائیں تو یہ سسٹم کا مذاق بنانے والی بات ہے، پندرہ لوگ حکومت بدل کر دوبارہ الیکشن لڑیں تو میوزیکل چیئر چلتی رہے گی ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے سسٹم کو بچانے کے لیے ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کا سسٹم پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے،مطمئن کریں کہ منحرف ہونے سے سسٹم کو خطرہ ہو گا اور سنگین جرم ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہارس ٹریڈنگ کو کینسر قرار دیا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ایک رکن دوسری جماعت کو فائدہ دیتا ہے تو سسٹم کو خطرہ کیسے ہو گیا؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حلقے میں الیکشن کا کتنا خرچہ آتا ہو گا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آرٹیکل95 مشترکہ حکومت کی بات کرتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی جماعت اپنے لیڈر کے خلاف عدم اعتماد کر سکتی ہے پارٹی خود عدم اعتماد کرے تو کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی،پارلیمانی پارٹی وزیراعظم تبدیل کرنے کا فیصلہ کرے تو پارٹی سربراہ بادشاہ نہیں ہو گا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اصل نکتہ نااہلی کا ہے اس پر سب ہی آپکو سننا چاہتے ہیں، پارلیمانی پارٹی آرٹیکل 63 اے کے تحت کارروائی کی سفارش کرے تو کیا پارٹی سربراہ روک سکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی سربراہ من پسند افراد کو ڈکلیریشن نہیں دے سکتا، یہ سیاسی فیصلہ ہے جو پارٹی سربراہ نے کرنا ہوتا ہے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اصل معاملہ سیاسی نظام کے استحکام کا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت حکومت اپوزیشن کی مدد سے آئی ہے،جب تک ایوان خوش ہے کام چلتا رہتا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی وزیراعظم کو ووٹ نہ دے اور عدم اعتماد بھی ناکام ہو جائے تووہ کام کرتے رہیں گے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اچھا نظام ہے لیکن بعض چیزیں بہت پیچیدہ ہیں،جسٹس جمال خان نے کہا کہ کیا تمام جماعتیں آرٹیکل 63اے پر تاحیات نااہلی چاہتی ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس سے قبل کوئی ریفرنڈم نہیں کرایا گیا،اپنے پرائے تو سب ہی تاحیات نااہلی چاہتے ہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو نااہلی کی مدت کا فیصلہ کرنے دیں ،جسٹس جمال خان نے کہا کہ پارلیمنٹ اپنا کام کر چکی اب عدالت نے تشریح کرنی ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومتی جماعت کے اراکین مستعفی ہو جائیں تو بھی اکثریت ختم ہو جائے گی،ایسی صورت میں وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینا ہو گا، اٹارنی جنرل نے کہا ہککہ عوام اپنی رائے کا اظہار صرف ووٹ سے کرسکتی ہے،عدالت عوام کو مدنظر رکھتے ہوئے تشریح کرے، جسٹس جمال نے کہا کہ منحرف رکن سے لوگ ناراض ہوں گئے تو ووٹ نہیں دیں گے،اسلام میں طلاق جائز ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مرد کو چار اور عورت کو ایک شادی کی اجازت ہے،مناسب ہو گا طلاق اور شادی پر نہ جایا جائے آئین نے جرم کرنے والے اراکین کو پانچ سال کے لیے نااہل قرار دیا فیصلہ عوام پر ہی چھوڑنا ہوتا تو پانچ سال کی نااہلی شامل نہ ہوتی

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت ایک ندی ہے جسے بے وفائیاں آلودہ کرتی ہیں،بے وفائی اور منحرف ہونے کا مثبت مطلب کسی ڈکشنری میں نہیں لکھا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کے لیے 63 اے شامل کیا گیا،چوری کے کام کی رسید نہیں ہوتی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گاڑی چلانا جرم نہیں لیکن اووراسپیڈنگ پر چالان ہوتا ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ممکن ہے انحراف کرنا غلط کے خلاف ہی ہو، کسی سے غلط کو غلط کہنے کا حق کیسے چھینا جا سکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے میں کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی پارلیمانی نظام کے لیے اہم ترین کیس ہے،دلائل مکمل کرنے کے لیے ایک سے دو سماعتیں مزید درکار ہوں گی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جمعرات اور جمعہ کو بینچ لاہور میں ہو گا، رمضان شروع ہونے والا ہے ایک بجے سماعت ممکن نہیں ہو گی کل تک اپنے دلائل مکمل کرنے کی کوشش کریں دوسرے وکلا کو وقت دینا لازمی ہے عدالت اپنے تحریری دلائل سے استفادہ کرے گی، کل ایک گھنٹہ آپ اور ایک گھنٹہ دوسرے فریقین کو سنیں گے، علی ظفر ایڈوکیٹ نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے دلائل دوں گا،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ دوسرے وکلا کا موقف سن کر ذہن مزید کھلے گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مخدوم علی خان اور رضا ربانی کے دلائل سننا چاہیں گے ابھی تک ہوا میں گھوڑے چل رہے ہیں،پارلیمنٹ نے آج تک آرٹیکل 63 اے کی نااہلی کی مدت کیوں مقرر نہیں کی؟اٹھارویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے کیا سوچ کر شامل کیا گیا ،جمہوریت آئین کا بہترین ڈھانچہ ہے،جمہوریت کے لیے کیا اچھا ہے یہ سوچ کر دلائل دیں، وقت کی کمی ہے کوشش کریں دلائل مختصر ہی رکھیں،

    ن لیگی وکیل نے کہا کہ لازمی نہیں کہ جمہوریت آلودہ کرنے والے اپوزیشن سے ہی نکلیں ، جسٹس جمال نے کہا کہ جمہوریت لوگوں سے اور لوگوں کے لیے ہوتی ہے، دیکھنا ہے حکومت بچانی ہے یا پارٹی،عوام کا فائدہ کس میں ہے یہ بھی مدنظر رکھیں گے

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

    سندھ ہاوس حملے کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

  • سندھ ہاوس حملے کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

    سندھ ہاوس حملے کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے سندھ ہاوس حملے کے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا

    عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کوکل تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پولیس نے آپ کےموقف پر عمل نہیں کیا،ہمارے حکم میں تھا کہ سندھ کا موقف سنا جائے،اب اگر مسئلہ حل نہیں ہوا تو آپ مل بیٹھیں اور حل نکالیں،ہم اس معاملے میں مزید نہیں پڑیں گے،جس دن واقعہ ہوا دوسرے دن سماعت کی ، معمول کے مطابق ایسا نہیں کرتے آپ متعلقہ فورم سے رجوع کریں اور جو ریمیڈی ہے وہ استعمال کریں،

    ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ کیس میں دہشتگردی کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا جو قانون کے مطابق کرسکتے تھے وہ کیا ہے،کیس میں کچھ لوگوں کو گرفتار کیا اور اب وہ ضمانت کرا چکے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرانی گرفتاریوں کی بات کررہے ہیں ،ایف آئی آر میں بچگانہ دفعات لگائی گئیں،اس وقت کیا پیش رفت ہے وہ بتائیں؟ ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ آئی جی کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ جائیں اور ان ذمہ داروں کو گرفتار کریں سیشن کورٹ سے سندھ حکومت رجوع کر سکتی ہے،مناسب ہوگا متعلقہ فورم ہی اسکا فیصلہ کرے جو دفعات لگائی گئی ہیں ان پر ایکشن لیں بچگانہ دفعات پر حملہ آوروں نے ضمانتیں کروا لیں کیا کوئی قابل ضمانت دفعات لگائی ہیں،ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ایک دفع ناقابل ضمانت ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ناقابل ضمانت دفعات پر گرفتاریاں کیوں نہیں ہوئیں؟ آئی جی کو کہیں کہ اپنا کام کریں ، یہ ہمارا کام نہیں کہ ہدایات دیں کل اس معاملے پر جامع رپورٹ دیں،

    چند روز قبل تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی اور کارکنوں نے اسلام آباد میں واقع سندھ ہاؤس پر دھاوا بولا تھا جس کے نتیجے میں سندھ ہاؤس کا مرکزی دورازہ بھی ٹوٹ گیا تھا سپریم کورٹ نے بھی سندھ ہاؤس پر حملے پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا تھا جبکہ وزیر داخلہ شیخ رشید نے اسلام آباد پولیس کو انکوائری کا حکم دیا تھا اور اس حوالے سے آئی جی اسلام آباد نے سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ بھی جمع کروائی تھی۔

    گالم گلوچ تحریک انصاف کا ٹریڈ مارک بن چکا ،کہیں غائب نہیں، ترین گروپ کے رہنما کا بیان

    سندھ ہاوس کے خلاف آپریشن کیا گیا تو غیرقانونی عمل ہوگا،گیلانی

    مریم اورنگزیب کو اسمبلی جانے سے روکا گیا،پولیس کی بھاری نفری تھی موجود

    پی ٹی آئی اراکین واپس آ جائیں، شیخ رشید کی اپیل

    پرویز الہیٰ سے پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی،بزدار سے ن لیگی رکن اسمبلی کی ملاقات

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    کسی کو ووٹ دینے سے روکا نہیں جاسکتا،سپریم کورٹ

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتا ہے؟ سپریم کورٹ

  • آئینی اختیار کو عام قانون سازی سے ختم کیا جا سکتا ہے؟ عدالت

    آئینی اختیار کو عام قانون سازی سے ختم کیا جا سکتا ہے؟ عدالت

    آئینی اختیار کو عام قانون سازی سے ختم کیا جا سکتا ہے؟ عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں انتخابی مہم میں وزیراعظم اور وزرا پر پابندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آرڈیننس میں ترمیم کر کے آرڈر پاس کیا ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب آرڈیننس جاری ہوا تو اسکے بعد الیکشن کمیشن نے مجھ سے مشاورت کی ، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا آئینی اختیار کو عام قانون سازی سے ختم کیا جا سکتا ہے؟اس سوال پر عدالت کی معاونت کرنی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم ایک پارٹی کا سربراہ ہوتا ہے، وہ اسٹار پرفارمر ہوتا ہے،وزیراعظم ایک پارٹی کا سربراہ ہوتے ہوئے نیوٹرل کیسے ہو سکتا ہے؟ پارلیمانی نظام حکومت میں ا سٹار پرفارمر کو کمپین سے کیسے نکالا جا سکتا ہے؟ وزیراعظم نے کہا کہ جن انتخابی جلسوں پر جاؤں گا خرچہ جیب سے یا پارٹی فنڈ سے ہو گا، ایسی ویڈیوز موجود ہیں جن میں پیسے لیے گئے ہیں الیکشن کمیشن نے کچھ نہیں کیا ایک طرف وزیراعظم جلسے کیلئے نکلتے ہیں ادھر الیکشن کمیشن کا نوٹس آ جاتا ہے الیکشن کمیشن وزیراعظم کو 50 ہزار جرمانہ کر چکا ہے،

    جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن اس کے بعد نااہل بھی کر سکتا ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ الیکشن کمیشن جرمانے کے بعد نااہل بھی کر سکتا ہے،قانون کے مطابق الیکشن کمیشن سیاسی جماعت یا امیدوار کو نوٹس جاری کر سکتا ہے،وزیراعظم سیاسی جماعت ہیں نہ ہی امیدوار، انہیں نوٹس کیسے جاری کیا جاتا ہے،وزیراعظم کو ہر روز دو 3نوٹس آ رہے ہیں،الیکشن کمیشن کس طرح وزیراعظم کو نااہل قرار دے سکتا ہے، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کو نااہلی کا کوئی نوٹس جاری کیا گیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم کو نوٹس آتا ہے کہ کل مینگورہ میں پیش ہو جائیں یہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر کیسے بلا سکتا ہے؟ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن آرڈیننس میں ترمیم کیسے کر سکتا ہے؟ عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن آئندہ سماعت تک کسی کو نااہل نہ کرے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ صرف نااہل نہیں، انکو روزانہ نوٹسز جاری کرنے سے بھی روکا جائے، الیکشن کمیشن ہر روز وزیراعظم کو دو تین نوٹس جاری کر دیتا ہے، الیکشن کمیشن نے کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن پڑھا ہے کہ ہیلی کاپٹر کا خرچہ وزیراعظم خود ادا کرینگے

    جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے لکھا ہے کہ وزیراعظم نے سرکاری مشینری استعمال کی ہے، الیکشن کمیشن کی بات درست ہے کہ سرکاری خرچے پر کمپین نہیں کی جا سکتی، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کو بھی نوٹس جاری کیا ہے، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے وکیل الیکشن کمیشن کو کہا، آپ کا بہت شکریہ ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ گزشتہ سال کی ویڈیوز موجود ہیں الیکشن کمیشن نے کچھ نہیں کیا،وزیراعظم جلسے کیلئے جانے لگتے ہیں نوٹس آ جاتا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف کارروائی سے روک دیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے 6 اپریل کو فریقین سے مزید دلائل طلب کر لیے، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نظر آتی ہے تو نوٹس جاری کرے، وکیل علی ظفر نے عدالت سے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کو وزیراعظم کو جرمانہ کرنے سے روکا جائے،جسٹس عامر فاروق نے حکم دیا کہ الیکشن کمیشن آئندہ سماعت تک نوٹس سے آگے کوئی کارروائی نہ کرے، الیکشن کمیشن آئندہ سماعت تک کسی کو نااہل اور جرمانہ نہ کرے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ضابطہ اخلاق کےمطابق وزیراعظم انتخابی مہم نہیں چلا سکتا، ضابطہ اخلاق کے تحت چیئرمین سینیٹ، اسپیکر اسمبلی، وزرا، وزرائے اعلیٰ انتخابی مہم نہیں چلا سکتے، جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے وزیراعظم اور وفاقی وزیر کو ضابطہ اخلاق کے تحت نوٹس تو دیا ہی نہیں،الیکشن کمیشن کہتا ہے ضابطہ اخلاق پر نوٹس کیا لیکن خلاف ورزی پر نہیں، الیکشن کمیشن نے شاید قانونی رائے اب لی ہے کہ ضابطہ اخلاق بھی کوئی چیز ہے، الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ انہوں نے آرڈیننس میں ترمیم کے تحت وزیراعظم کو نوٹس جاری کیا، اگر الیکشن کمیشن کی ترمیم قابل عمل ہی نہیں ہوتی تو اسکے تحت نوٹس کیسے ہو سکتا ہے؟اب دیکھنا یہ ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے نتائج کیا ہیں،

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر اسد عمر کی جانب سے اسلام آباد ہائیکور ٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے پبلک آفس ہولڈر الیکشن مہم میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی الیکشن کمیشن نے وزیراعظم سمیت ہم سب کو نوٹسز جاری کیے وزیراعظم عمران خان اور میری دستخط سے پٹیشن دائر کی ہے الیکشن کمیشن کے پاس قانون کی تشریح کا اختیار نہیں تھا

    پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا کرتے ہو،مجھے سب پتہ ہے، مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے رابطہ کیا تو مولانا کیا ردعمل دیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز انٹرویو

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

    آنے والے دن پاکستان کے مستقبل کیلئے فیصلہ کن دن ہیں، وزیراعظم

    الیکشن کمیشن کا نوٹس، وزیراعظم عدالت پہنچ گئے

  • عدالت سے وعدہ خلافی پرجے یو آئی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنےکافیصلہ

    عدالت سے وعدہ خلافی پرجے یو آئی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنےکافیصلہ

    اسلام آباد:عدالت سے وعدہ خلافی پرجے یو آئی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر، کب ہوگی اس حوالے سے مشاورت جاری ہے ،،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    وزیرداخلہ شیخ رشید اور وزیراعظم عمران خان کے مشیربرائے پارلیمانی امور بابراعوان کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں آئی جی، ڈی سی اسلام آباد، راولپنڈی پولیس اوررینجرز حکام شریک ہوئے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے جے یو آئی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی عدالتی احکامات کے برعکس سرینگر ہائی وے پرجلسے کی تیاریاں کررہی ہے۔

    حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں وفاقی حکومت کی طرف سے عملدرآمد رپورٹ بھی جمع کرائی جائے گی، رپورٹ میں عدالتی احکامات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کا ذکر کیا جائے گا۔

    ادھر دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تین چوہے مل کر میرا شکار کرنا چاہتے ہیں، ہم انہیں شکست دیں گے، یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح عمران خان ان کو این آر او دے۔اسلام آباد میں منڈی لگی ہوئی ہے جہاں لوگوں کو خریدنے کے لیے 20/25 کروڑ کی آفر کی جارہی ہے۔

    خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں پی ٹی آئی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ شاندار استقبال پر عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، شاندار جلسے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، میں ہر جلسے میں اپنے آپ کو کہہ کر جاتا ہوں میں فضل الرحمان کو ڈیزل نہیں کہوں گا، میں جب تقریر کیلئے کھڑا ہوتا ہوں تو پنڈال سے ڈیزل ڈیزل کی آواز آنا شروع ہوجاتی ہے۔ برے اور مشکل وقت میں پوری کوشش کی ڈیزل کی قیمت کم کی جائے۔

    انہوں نے کہا کہ میں کرکٹ کی دنیا کا سپر سٹار رہ چکا ہوں، نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، نوجوانوں کو سکھانا چاہتا ہوں تباہی اور عظمت کا راستہ کون سا ہے، پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی صالح محمد خان کے ضمیر کو خریدنے کیلئے 20 سے 25کروڑ روپے رکھے گئے، اسلام آباد میں جو منڈی لگی ہوئی ہے اس میں لوگوں کو خریدنے کیلئے 25کروڑ کی آفر کی جارہی ہے، صالح محمد کے پاس بھی2 راستے تھے کہ وہ پیسے لے کر کہتے کہ عمران خان بہت غلط آدمی ہے، سچ اور حق کا راستہ آسان نہیں بہت مشکل ہوتا ہے۔