Baaghi TV

Tag: عدالت

  • متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے وارنٹ گرفتاری منسوخ

    متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے وارنٹ گرفتاری منسوخ

    اسلام آباد کی عدالت نے متنازع ٹوئٹ کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے عدالت میں پیش ہونے پر وارنٹ گرفتاری منسوخ کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد محمد افضل مجوکہ نے ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کے خلاف متنازعہ ٹوئٹ کیس کی سماعت کی،ملزمان کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے پر عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

    واضح،رہے کہ ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کیخلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مقدمہ درج کر رکھا ہےاین سی سی آئی اے کی جانب سے درج مقدمے کے مطابق ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے ورلڈ بینک کے صدرآئی ایم ایف سربراہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں

    الزام لگایا گیا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کی ذمہ داری سیکیورٹی فورسز پر ڈالی،یہ مقدمہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج کیا گیا تھا، بعد ازاں 22 ستمبر کو اسلام آباد کی عدالت نے دونوں ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے، جو آج عدالت میں پیشی کے بعد منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

    سیلاب متاثرہ شحض کی قیمتی بھینس چوری،برآمد کرنے کی استدعا

  • ایمان مزاری  اور ان کے شوہر  کو راہداری ضمانت مل گئی

    ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو راہداری ضمانت مل گئی

    پشاور ہائیکورٹ نے ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ ایڈووکیٹ کو 9 اکتوبر تک راہداری ضمانت دے دی۔

    ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ہادی علی چھٹہ ایڈووکیٹ کی راہداری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی،ایمان مزاری کے وکلا عطاء اللہ کنڈی، جہانزیب محسود، طارق افغان، اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللہ عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو 9 اکتوبر تک راہداری ضمانت دے دی۔

    عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو 9 اکتوبر تک متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایات کی،وکیل درخواست گزار عطاء اللہ کنڈی ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزار اسلام آباد میں وکیل ہے، سماجی کارکن ہے، درخواست گزارہ کے خلاف اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کی سیلاب سے نقصانات کی تازہ ترین رپورٹ جاری

    چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے استفسار کیا کہ یہ دونوں وکیل ہیں؟، وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ جی دونوں درخواست گزار وکیل ہیں اور عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں،چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ پہلی بار پشاور آئی ہیں؟ ایمان مزاری نے جواب دیا کہ جی میں پہلی بار پشاور ہائیکورٹ میں آئی ہوں۔

    بھارت کے ایک گاؤں میں 78 سال بعدپہلی بار بجلی کی فراہمی

    چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ چلو آپ ایف آئی آر کے بہانے پشاور تو آئیں، آپ لوگ تو ویسے بھی خیبرپختونخوا نہیں آتے،وکیل ایمان مزاری عطاء اللہ کنڈی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایمان مزاری خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مظلوم لوگوں کی آواز ہے۔

    عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو 9 اکتوبر تک راہداری ضمانت دے دی۔

  • عدالتوں سے غیر حاضر ی:پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں  کی گرفتار ی کا حکم

    عدالتوں سے غیر حاضر ی:پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتار ی کا حکم

    عدالت نے پیشی پر غیر حاضر رہنے والے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔

    انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا کے روبرو پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کیخلاف مختلف مواقع پر احتجاج کے مقدمات کی سماعت ہوئی،دورانِ سماعت پی ٹی آئی رہنما راجہ بشارت، واثق قیوم و دیگر عدالت میں پیش ہوئے بعد ازاں عدالت نے ملزمان کی حاضری کے بعد سماعت ملتوی کردی اور آج کی سماعت سے غیر حاضر ملزمان کو دوبارہ طلبی کے نوٹسز جاری کردیے،اورمسلسل غیر حاضر رہنے والے ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

    واضح رہے کہ عدالت نے تھانہ کوہسار، رمنا ،نون، ترنول کے مقدمات کی سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کی ہے اس کے علاوہ تھانہ رمنا کے مقدمہ نمبر 154 اور 155 کی سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کی گئی ہے جب کہ تھانہ کراچی کمپنی کے مقدمہ نمبر 1195 کی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی ہوئی ہے،پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف 26نومبر احتجاج، 4 اکتوبر احتجاج ،فیض آباد احتجاج پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔

    سپر ٹائیفون راگاسا : چین کے 10 شہروں میں اسکول، کاروبار بند

    علی امین گنڈاپور کے خلاف وفاق کے کتنے مقدمات ہیں؟ تفصیلات عدالت میں پیش

    حکومتِ سندھ کا خواتین کے لیے پنک الیکٹرک اسکوٹیز فراہم کرنے کا فیصلہ

  • کراچی:ملزم شبیر تنولی کا 5 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف

    کراچی:ملزم شبیر تنولی کا 5 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف

    بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم شبیر تنولی نے 5 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کر لیاکہاکہ، ایک ایک بچی کو کئی کئی مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا-

    ملزم نے کوڈیشل مجسٹریٹ کراچی کی عدالت میں اعترافی بیان دیتے ہوئے بتایا کہ وہ بچوں کو پیسوں کا لالچ دے کر اپنے کمرے اور ویران جھاڑیوں میں لے جاتا تھا جہاں ان سے غیر اخلاقی حرکات کرتا تھا،بیان ریکارڈ کرانے سے قبل عدالت نے ملزم کو 2 گھنٹے کا وقت دیا تاکہ وہ اپنے فیصلے پر غور کر سکے۔

    عدالت نے ملزم سے سوال کیاکہ،پولیس کی جانب سے تمہیں تشدد کا نشانہ تو نہیں بنایا گیا؟ مارا تو نہیں گیا؟ جس پر ملزم نے کہا کہ نہیں مجھے تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا،عدالت نے ملزم کو واضح کیا کہ آپ بیان دیں یا نہ دیں، آپ کو جیل کسٹڈی میں رکھا جائے گا، آپ کا بیان آپ کے خلاف جا سکتا ہے، کیا آپ کسی دباؤ میں بیان نہیں دے رہے؟ملزم نے کہا کہ میں کسی کے دباؤ میں بیان نہیں دے رہا۔

    تحصیل آفس میں مبینہ بدعنوانیاں ،سائل پریشان،نوٹس کی اپیل

    عدالت کے سوال پر کہ آیا اس کے ساتھ کوئی شریک جرم ہے، ملزم نے انکار کرتے ہوئے کہاکہ،نہیں، میرے ساتھ کوئی شریک جرم نہیں ہے،میں 8 دن قبل گرفتار ہوا، میرے ساتھ کوئی اور موجود نہیں تھا میں 2011 میں کراچی آیا تھا، میں نے 2022 میں ایک بچے سے دوستی کی، اسے اپنے کمرے میں لے جا کر کئی بار غلط کام کیا کئی بار ویران جھاڑیوں میں بھی لے گیا ہوں، بچیوں کو بھی پیسوں کا لالچ دے کر اپنے کمرے میں لے جاتا تھا وہاں ان سے غلط کام کرتا تھا اور اس کی ویڈیوز بھی بناتا تھا میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں۔

    عدالت نے 6 مقدمات میں ملزم کا الگ الگ اقبالی بیان ریکارڈ کیا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد ملزم کو پڑھ کر سنایا گیا، جس پر ملزم نے اپنا جرم قبول کیا، عدالت نے ملزم کا دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ پر رکھ لیا۔

    چین اور امریکا کے دفاعی مذاکرات کا آغاز، فوجی روابط بہتر بنانے پر زور

    11 ستمبر کو کراچی کے علاقے قیوم آباد میں 100 سے زائد کمسن بچوں اور بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ان کی ویڈیوز بنانے والے ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا، جس نے دوران تفتیش اعتراف کیا تھا کہ بچوں کو پیسے دیکر اپنے کمرے میں لاتا تھا اور انہیں ریپ کرتے ہوئے ویڈیوز بھی بناتا تھا،پولیس کے مطابق، ایبٹ آباد کے رہائشی گرفتار ملزم شبیر نے زیادتی کا نشانہ بننے والے 5 سے 12 سال کے بچوں اور بچیوں کے ناموں کی فہرست بنا رکھی تھی تفتیش کے مطابق ملزم 2011 میں کراچی آیا اور قیوم آباد میں پرچون کی دکان کھولی جہاں وہ اسٹیشنری کا سامان رکھتا تھا چھوٹی بچیاں دکان پر آتیں جنہیں وہ رقم کے لالچ میں گھر لے جاتا۔

    2016 میں ملزم قیوم آباد منتقل ہو گیا اور شربت کا ٹھیلا لگا لیا، جہاں وہ 5 سے 12 سال کے بچوں کو انعام کے لالچ میں بدفعلی کا نشانہ بناتا رہا، ملزم نے ایک ڈائری میں بچوں کی تفصیلات لکھ رکھی تھیں، ملزم کے موبائل اور یوایس بی ڈرائیوز سے 200 سے زیادہ ویڈیوز برآمد ہوئیں، ایک بچی کے ملزم کی یوایس بی موبائل شاپ پر لے جانے کے بعد ملزم کا بھانڈا پھوٹ گیا۔

    ایچ-1 بی ویزا فیس میں ڈاکٹرز کو استثنیٰ دینے پر غور

    ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ ڈیفنس پولیس نے قیوم آباد کے سی-ایریا میں 28 سالہ پھل فروش شبیر احمد کو نابالغ لڑکیوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں لوگوں کی مدد سے پکڑا تھا،پولیس کے مطابق ملزم نے گزشتہ 10 سالوں کے دوران نابالغ لڑکیوں اور لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے اور اپنے موبائل فون سے ان کی ویڈیوز بنانے کا اعتراف کیا تھا۔

  • جسٹس طارق جہانگیری کو کام سے روکنے کا تحریری حکم نامہ جاری

    جسٹس طارق جہانگیری کو کام سے روکنے کا تحریری حکم نامہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کو کام سے روکنے کا 2 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کر دیا،تحریری حکم نامہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان نے جاری کیا-

    عدالت کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے تک جسٹس جہانگیری کو اپنے فرائض سرانجام دینے سے روکا جا رہا ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس کیس میں حساس نوعیت کے سوالات موجود ہیں جن میں جج کی اہلیت کا سوال بھی شامل ہے،عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف شکایت زیرِ التوا ہےعدالتی معاونین 21 اکتوبر کو عدالت کی معاونت کریں گے۔ کیس کی آئندہ سماعت بھی 21 اکتوبر کو مقرر کر دی گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے تک عدالتی کام سے روک دیا ہے،چیف جسٹس محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس
    محمد اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے درخواست گزار میاں داؤد کی جانب سے دائر پٹیشن پر سماعت کی،تھی-

    اسلام آباد بار کے وکیل راجہ علیم عباسی نے مؤقف اختیار کیا تھاکہ یہ معاملہ جوڈیشل کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اگر اس نوعیت کے کیسز پر عدالتی نوٹس لیا جانے لگا تو یہ ایک خطرناک رجحان بن سکتا ہےسپریم کورٹ کے 2 فیصلے اس حوالے سے موجود ہیں اور درخواست پر اعتراضات برقرار رہنے چاہییں۔

    چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ ہم نے اس پٹیشن کے اعتراضات کا جائزہ لینا ہے، اگر قابلِ سماعت ہونے پر سوالات فریم کریں گے تو آپ آ جائیں گے اور اگر نوٹس جاری کیا تو پھر دیکھا جائے گا۔

  • جسٹس سرفراز ڈوگر کیخلاف شکایت، ایمان مزاری نے اضافی دستاویزات جمع کرادیں

    جسٹس سرفراز ڈوگر کیخلاف شکایت، ایمان مزاری نے اضافی دستاویزات جمع کرادیں

    ایڈووکیٹ ایمان زینب مزاری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر کرنے کے بعد اضافی دستاویزات بھی جمع کرا دی ہیں۔

    ان دستاویزات میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی خواتین ہراسمنٹ کمیٹی کی سربراہی میں تبدیلی سے متعلق نوٹیفکیشن بھی شامل ہے،گزشتہ روز ایمان مزاری نے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کمرہ عدالت میں ان کے حوالے سے ایسے ریمارکس دیے جو عدالتی منصب کے شایانِ شان نہیں تھے،شکایت میں کہا گیا ہے کہ یہ طرز عمل آئینی اور عدالتی تقاضوں کے منافی ہے، لہٰذا سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف کارروائی کرے۔

    ادھر ایمان مزاری کی جانب سے جمع کرائی گئی اضافی دستاویزات میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس نوٹیفکیشن کو بھی شامل کیا گیا ہے جس کے تحت خواتین ہراسمنٹ کمیٹی کی سربراہ جسٹس ثمن رفعت امتیاز کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا،سرکلر کے مطابق ان کی جانب سے کمیٹی کے قیام اور اس کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا اقدام اس تبدیلی کا سبب بنا۔

    اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے، اقوام متحدہ

    واضح رہے کہ جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے بطور سربراہ ایک 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، جسٹس ارباب محمد طاہر اور وہ خود شامل تھیں کمیٹی کا مقصد ججز کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لینا تھا، تاہم نوٹیفکیشن کے اجرا کے طریقہ کار کو ان کی تبدیلی کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔

    ماحولیاتی تبدیلی کجھور کی صعنت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے،سعید غنی

  • جرمنی:اسلام مخالف ریلی میں چاقو سے حملہ کرنے والے افغان شخص کو عمر قید کی سزا

    جرمنی:اسلام مخالف ریلی میں چاقو سے حملہ کرنے والے افغان شخص کو عمر قید کی سزا

    جرمن عدالت نے گزشتہ سال اسلام مخالف ریلی کے دوران چاقو سے حملہ کرکے ایک پولیس افسر کو ہلاک اور 5 افراد کو زخمی کرنے والے ایک افغان شخص کو عمر قید کی سزا سنادی۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جرمنی میں امیگریشن اور سیکیورٹی کے بارے میں شدید بحث جاری ہے اور ملک کی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) کی حمایت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،ملزم کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے اسے سلیمان اے کا نام دیا گیا۔

    سلیمان اے کو جرمنی کے ایک عدالت نے 2024 کے آخر میں اسلام مخالف گروپ پیکس یورپا کی جانب سے منعقد کیے گئے ایک مظاہرے کے دوران چاقو سے لوگوں پر حملہ کرنے کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا۔

    حکومت کا توشہ خانہ میں جمع تحائف کا مکمل ریکارڈ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ سلیمان اے نے تقریب کے مقرر سمیت دیگر مظاہرین پر حملہ کیا تھا، اس دوران ایک پولیس اہلکار نے انہیں روکنے کی کوشش کی جس پر مجرم نے پولیس افسر پر بھی چاقو سے حملہ کیا جو شدید زخمی ہوگیا تھا، بعد ازاں وہ پولیس افسر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا تھاحملہ آور کو جون 2024 میں اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب گرفتاری کے دوران زخمی ہونے کے بعد وہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ سے باہر آیااگرچہ دوران سماعت استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ ملزم داعش گروپ سے ہمدردی رکھتا تھا، مگر اسے دہشت گرد کے طور پر مقدمے کا سامنا نہیں کرنا پڑا، اس پر ایک قتل اور 5 اقدامِ قتل کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

    بھارت میں مسلمانوں کی جائیدادوں سے متعلق قانون کی اہم دفعات کالعدم قرار

  • بھارت میں مسلمانوں کی جائیدادوں سے متعلق قانون کی اہم دفعات کالعدم قرار

    بھارت میں مسلمانوں کی جائیدادوں سے متعلق قانون کی اہم دفعات کالعدم قرار

    نئی دہلی: بھارت کی سپریم کورٹ نے مسلمانوں کی جائیداد سے متعلق متنازع نئے قانون کی اہم دفعات کو معطل کر دیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے اس قانون کو معطل کر دیا ہے جس میں اس بات کا ذکر تھا کہ مسلمانوں کی جانب سے عطیہ کی گئی جائیدادیں کس طرح ملکیت اور انتظام میں رکھی جائیں گی،وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اسے مسلمانوں کی حق تلفی قرار دیا گیا تھا کہ وہ اپنی مذہبی اوقاف کا انتظام خود کریں گے، جو عموماً مدارس یا مساجد کے لیے استعمال ہوتی ہیں،مودی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے ان جائیدادوں کے انتظام میں زیادہ شفافیت آئے گی۔

    چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوائی اور جسٹس اے جی مسیح پر مشتمل بینچ نے پورے قانون کو کالعدم قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اسٹے دینا صرف انتہائی نادر و نایاب معاملات میں ممکن ہے،عدالت عظمیٰ نے اس متنازعہ دفعہ کو کالعدم قرار دیا ہے۔ جس کے تحت حکومت کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار مل گیا تھا کہ متنازعہ جائیداد وقف ہے یا نہیں۔

    میچ ہو سکتا تو یاتری پاکستان کیوں نہیں جا سکتے،مودی سرکار کیخلاف بھارتی پھٹ پڑے

    واضح رہے کہ اسلامی روایت میں وقف ایک ایسا خیراتی یا مذہبی عطیہ ہے جو مسلمان کمیونٹی کی بھلائی کے لیے کرتے ہیں، اربوں ڈالر تک کی مالیت کی جائیدادیں بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کے لیے نہایت اہم ہیں، کیوں کہ یہ مساجد، مدارس، قبرستانوں اور یتیم خانوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اور انہیں کسی اور مقصد کے لیے بیچا نہیں جا سکتا۔

    کھلاڑیوں کے پاکستانی ٹیم سے ہاتھ نہ ملانے کا تنازع، بھارتی بورڈ عہدیدارکا انوکھا جواز

  • عارف علوی کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری

    عارف علوی کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری

    لاہور کی سیشن کورٹ نے سابق صدر عارف علوی کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

    ایڈیشنل سیشن جج شفقت شہباز راجہ نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کوئی غیر قانونی اقدام ہوا ہے تو ایف آئی اے قانون کے مطابق کارروائی کرے، عدالت نے ایف آئی اے کو معاملے پر ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی۔

    یہ درخواست شہری شہزادہ عدنان کی جانب سے وکیل مدثر چوہدری ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی گئی تھی،درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ سابق صدر عارف علوی نے بیرون ملک تقریر کے دوران توہین آمیز الفاظ استعمال کیے، جس پر ایف آئی اے کو مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی گئی مگر کارروائی نہیں کی گئی۔

    عزیر بلوچ کے خلاف 2 مقدمات کا فیصلہ مؤخر

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ عارف علوی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائےسابق صدر نے گستاخانہ الفاظ استعمال کیے اور اس حوالے سے موجود ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے، تاہم پولیس کو درخواست دینے کے باوجود مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

    قطر: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب سے ملاقات

  • عزیر بلوچ کے خلاف 2 مقدمات کا فیصلہ مؤخر

    عزیر بلوچ کے خلاف 2 مقدمات کا فیصلہ مؤخر

    عزیر بلوچ کے خلاف 2 مقدمات کا فیصلہ مؤخر

    جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے غیر قانونی اسلحہ کی برآمدگی اور سہولت کاری کے گینگ وار کے سربراہ عزیر بلوچ کو ملزمان کو سہولت فراہم کرنے کے 2 مقدمات کا فیصلہ موخر کردیا،ملزم عزیر بلوچ کے خلاف مقدمات کا فیصلہ اس ماہ کے آخر میں سنایا جائے گا۔

    پولیس کے مطابق ملزمان شمس الدین اور عبد الغفار بگٹی نے اقبالی بیان میں کہا تھا کہ عزیر بلوچ اور نور محمد عرف بابا لاڈلہ نے اسلحہ کی ترسیل میں سہولت فراہم کی۔ ملزم کے بیان پر عزیر بلوچ کیخلاف دفعہ 109 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ملزم سے بارود اور گولیاں برآمد کی گئیں تھی۔ ملزمان کیخلاف تھانہ سی آئی ڈی میں 2012 میں درج کیا گیا تھا۔

    قطر: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب سے ملاقات

    گزشتہ،ماہ،کراچی کی عدالت نے غیر قانونی اسلحہ برآمدگی اور سہولت کاری کے مقدمے میں لیاری گینگ کے سرغنہ عزیر جان بلوچ کو بری کرتے ہوئے ریلیز آرڈر جاری کئےتھے، اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ ملزم اگر کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو رہا کر دیا جائے،عدالت نے استغاثہ کی جانب سے ناکافی شواہد کی بنیاد پر عزیر جان بلوچ کو غیر قانونی اسلحہ برآمدگی کے مقدمے سے بری کیا-

    غزہ سے اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں