Baaghi TV

Tag: عدالت

  • سپریم کورٹ کے جج کے اسکواڈ کی گاڑی جلانے کے کیس کا  فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ کے جج کے اسکواڈ کی گاڑی جلانے کے کیس کا فیصلہ جاری

    لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی 2023 کو سپریم کورٹ کے جج کے اسکواڈ کی گاڑی جلانے کے کیس کا فیصلہ جاری کردیا۔

    125 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جج منظر علی گل نے تحریر کیا،عدالت نے صنم جاوید، محمد صدیق، طیب علی، سید فیصل اختر اور ظریف خان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے خدیجہ شاہ سمیت 14 مجرموں کی گرفتاری کا بھی حکم دے دیا جو سزا کے دن عدالت میں پیش نہ ہوئے تھے۔

    فیصلے میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں عمر سرفراز چیمہ، ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو مجموعی طور پر 48 برس قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ عدالت کے مطابق تمام سزائیں بیک وقت کاٹی جائیں گی، جبکہ مجرموں کو ڈیڑھ، ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔

    سونے کی قیمت میں معمولی کمی

    تحریری فیصلے میں شاہ محمود قریشی کی بریت کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کا کیس دیگر ملزمان سے مختلف ہے انہوں نے عدالت میں شواہد پیش کیے کہ وہ واقعے کے وقت ملتان سے کراچی جا رہے تھے اور موقع پر موجود نہیں تھے، بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد کارکنوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے احتجاج پر اکسایا گیا۔ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر ملزمان نے ہدف کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کی، کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کارکنان بانی عمران خان کی ہدایت کو مقدس تصور کرتے ہیں اور انہیں ایک ریڈ لائن اور روحانی شخصیت سمجھتے ہیں۔

    سونے کی قیمت میں معمولی کمی

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں اسی کیس میں عدالت نے شاہ محمود قریشی سمیت 21 ملزمان کو بری جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد اور عمر سرفراز چیمہ سمیت 18 ملزمان کو سزا سنائی تھی

  • ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کامزید 15 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کامزید 15 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی مرکزی رہنما ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کو کوئٹہ کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں پیش کر دیا گیا، جہاں عدالت نے ملزمان کا 15 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج محمد علی مبین کی عدالت میں پیش ہونے والوں میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گل زادی، صبغت اللہ شاہ جی اور بیبرگ بلوچ شامل تھے،بی وائی سی کی جانب سے قانونی معاونت کے لیے وکلا کی ٹیم اسرار بلوچ ایڈووکیٹ اور شعیب بلوچ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئی،پولیس نے عدالت سے مزید تفتیش کے لیے 15 دن کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

    بی وائی سی کی لیگل ٹیم کے رکن اسرار بلوچ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ (بی وائی سی) کی گرفتار قیادت کو کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت ون کے جج محمد علی مبین کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے پولیس کی استدعا پر انہیں 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

    صدر حکومتی دعوت پر چین کے 10 روزہ دورے پر کل روانہ ہوں گے

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے بھی پی ٹی آئی ارکان مستعفی

    ڈیڑھ ارب روپے کے فراڈ میں ملوث بینکار اور پی آئی اے کا نائب قاصد گرفتار

  • زرتاج گل کی نااہلی کیخلاف دائر درخواست پرمحفوظ فیصلہ سنا دیا گیا

    زرتاج گل کی نااہلی کیخلاف دائر درخواست پرمحفوظ فیصلہ سنا دیا گیا

    پشاور ہائی کورٹ نے زرتاج گل کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا۔

    پشاور ہائیکورٹ نے درخواست گزار زرتاج گل کی درخواست واپس کر دی،فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار زرتاج گل کی درخواست قابلِ سماعت نہیں،انہیں متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    قبل ازیں پشاور ہائی کورٹ میں زرتاج گل کی نااہلی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، درخواست پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی نے کی،وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزار کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے، تمام ڈاکومنٹس موجود ہیں، اے ٹی سی سزا کے بعد الیکشن کمیشن نے 5 اگست کو نااہل کیا، درخواست گزارہ ڈیرہ غازی خان سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئی ہے، ایک ہی نوٹیفکیشن پر ممبران کو الیکشن کمیشن نے نااہل کیا۔

    صدر حکومتی دعوت پر چین کے 10 روزہ دورے پر کل روانہ ہوں گے

    وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی اور عدالت نے اس کو سنا، یہاں پر اسی نوٹیفیکیشن کے خلاف عمر ایوب اور شبلی فراز کی درخواستیں پہلے سے دائر تھیں، اس وجہ سے ہم نے بھی یہاں پر درخواست دائر کی۔

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواست گزار خیبرپختونخوا میں پیدا ہوئی، 9 مئی کے بعد درخواست گزار خیبرپختونخوا میں رہ رہی ہے، اگر یہاں پر درخواست گزار کا کیس عدالت نہ سنتی تو پھر ہم دوسری ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے، درخواست گزار کو سزا بھی ان کی غیر موجودگی میں دی گئی ہے، درخواست گزار نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔

    جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ اپیل کب سماعت کے لئے مقرر ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ ابھی سماعت کے لئے مقرر نہیں ہے، ہوسکتا ہے اگلے ہفتے مقرر ہوجائے، corrective jurisdiction میں بھی میں آسکتا ہوں، کیونکہ یہاں پر پہلے سے اسی طرح کے کیسز زیر سماعت ہیں۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں سے بھی پی ٹی آئی ارکان مستعفی

    انہوں نے مؤقف اپنایا کہ 31 جولائی کو اے ٹی سی فیصلہ سناتی ہے، الیکشن کمیشن کو کسی نے ریفرنس نہیں بھیجا اور 5 اگست کو الیکشن کمیشن نے درخواست گزار اور دیگر کو نااہل قرار دیا، الیکشن کمیشن نے مجھے سننے کا موقع نہیں دیا، اور نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا، الیکشن کمیشن سینٹرالائز ہے، اس لئے یہ ہائیکورٹ اس درخواست کو سن سکتی ہے۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر لا الیکشن کمیشن نے مؤقف اپنایا کہ اسی طرح کی اور درخواستوں پر اس عدالت نے فیصلے کیے ہیں، ان کی درخواست اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی، یہ لاہور یا اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرسکتے ہیں۔

    جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے ایک نوٹیفکیشن میں کیوں نااہل کیا، کیا الیکشن کمیشن کو جلدی تھی؟ ڈپٹی ڈائریکٹر لاء الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ ایک ہی کیس میں سزا ہوئی تھی، اس وجہ سے الیکشن کمیشن نے ایک نوٹیفکیشن کیا۔

    ڈیڑھ ارب روپے کے فراڈ میں ملوث بینکار اور پی آئی اے کا نائب قاصد گرفتار

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزار کو سزا اے ٹی سی فیصل آباد سے ہوئی، ان کا کیس یہاں پر قابل سماعت نہیں ہے، درخواست گزارکو سزا ہوئی، ابھی تک مفرور ہے،جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ آپ لوگ ان کو کیوں گرفتار نہیں کررہے، آپ بھی تو عدالت کے آرڈر نہیں مانتے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ اس عدالت نے ان کو حفاظتی ضمانت دی۔

    جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ اس عدالت نے تین دن کی ضمانت دی تھی، اس کے بعد آپ نے کیا کیا،وکیل شکایت کنندہ نے کہا کہ درخواست گزارہ مفرور ہے، عدالت نے سزا سنائی، ابھی تک خود کو سرنڈر نہیں کیا، ان کو سزا ہوئی ہے، یہ پبلک آفس کو استعمال نہیں کرسکتی۔

    وکیل درخواست گزار سید سکندر حیات شاہ نے کہا کہ صاحبزداہ حامد رضا اور دیگر کی جو پانچ درخواستیں عدالت نے واپس کی ہیں، اس میں ہم نظر ثانی درخواست دائر کررہے ہیں،فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت عالیہ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    خیبرپختونخوا حکومت کی مختلف حکمتِ عملیوں نے انسداد دہشتگردی کی کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا،رپورٹ

  • ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 3 دن کی توسیع

    ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 3 دن کی توسیع

    سوشل میڈیا پر نازیبا مواد اپ لوڈ کرنے اور جوئے کی ترغیب دینے کے الزام میں گرفتار یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 3 دن کی توسیع کردی گئی ہے، یہ چھٹی بار ہے کہ ڈکی بھائی کے ریمانڈ میں توسیع کی گئی ہے۔

    ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے ڈکی بھائی کو 2روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پرجوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا،سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں، جس پر عدالت نے یوٹیوبر کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

    ڈکی بھائی نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ماضی میں غیراخلاقی ویڈیوز بناتے رہے ہیں،جس پر وہ پوری قوم سے معافی مانگتے ہیں،عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کچھ ایپلیکیشنز کی پروموشن کی، بغیر اس بات کی تصدیق کے کہ ان کو پاکستان میں قانونی اجازت ہے یا نہیں، اور اس پر بھی وہ معذرت خواہ ہیں۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری

    واضح رہے کہ ڈکی بھائی جوا کھیلنے والی ایپ کی تشہیر کرنے کے الزام میں 17 اگست سے گرفتار ہیں،نیشنل کرائم ایجنسی لاہور نے ریاست کی مدعیت میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ ان کے جسمانی ریمانڈ میں یہ چھٹی بار توسیع کی گئی ہے۔

    برطانوی نائب وزیراعظم عہدے سےمستعفی

  • بچے کے زیادتی اور قتل کے مقدمے میں مجرم کو 3 بار سزائے موت کا فیصلہ

    بچے کے زیادتی اور قتل کے مقدمے میں مجرم کو 3 بار سزائے موت کا فیصلہ

    راولپنڈی:عدالت نے بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے مقدمے میں مجرم کو 3 بار سزائے موت دینے کا فیصلہ سنا دیا۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افشاں اعجاز صوفی نے فیصلے میں لکھا کہ مجرم عرفان عظیم کو قتل کے جرم میں سزائے موت دی گئی جب کہ زیادتی کے جرم میں بھی سزائے موت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی،اسی طرح اغوا کے جرم میں بھی سزائے موت کے ساتھ 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیامجموعی طور پر مجرم پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

    مجرم نے مارچ 2023ء میں تھانہ دھمیال کے علاقے سے 13 سالہ بچے کو اغوا کرنے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا اور چھری کے وار سے قتل کر دیا تھاٹھوس شواہد اور مؤثر پیروی کی بنیاد پر عدالت نے مجرم کو سخت ترین سزا دیتے ہوئے حکم دیا کہ اسے پھانسی پر اس وقت تک لٹکایا جائے جب تک موت واقع نہ ہو۔

    رواں ماہ مکمل چاند گرہن کا مشاہدہ پاکستان میں بھی کیا جاسکے گا

    ادھرکراچی کی عدالت نے اسکول وین میں 7 سالہ بچی کو ہراساں کرنے کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر ملزم (ڈرائیور) کو 14 سال قید کی سزا سنا دی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وسطی کی عدالت میں وین ڈرائیور کی جانب سے کمسن بچی کو ہراساں کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی، عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزم اویس خان کو 14 برس قید کی سزا سناتے ہوئے 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا،جرمانے کی عدم ادائیگی پر ملزم کو مزید 3 سال قید بھگتنا ہوگی۔

    بھارت : اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں چوہے نے 2 نومولود بچوں کو کاٹ لیا

    پراسیکیوٹر کی جانب سے بتایا گیا کہ ملزم نارتھ ناظم آباد میں واقع اسکول سےگھر بچی کو پک اینڈ ڈراپ سروس فراہم کرتا تھا بچی نے اپنے والدین کو بتایا کہ ڈرائیور اس کے ساتھ غیراخلاقی حرکات کرتا ہے، والدین کی شکایت پر ملزم کو گرفتار کیا گیا تھاعدالت نے ریمارکس دیے کہ وکیل صفائی نے نکتہ اٹھایا کہ مقدمے میں وقت اور جگہ نہیں بتائی گئی، بچی 7 سال کی ہے، اس کے لیے یہ یاد رکھنا بہت مشکل ہے،تازہملزم اویس خان کے خلاف تھانہ تیموریہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  • ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں پانچویں بار توسیع

    ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں پانچویں بار توسیع

    لاہور کی مقامی عدالت نے مشہور یوٹیوبر سعد الرحمن المعروف ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں پانچویں بار توسیع کری۔

    این سی سی آئی اے نے ڈکی بھائی کو دو روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے تفتیش مکمل نہیں ہوئی، اس لیے جسمانی ریمانڈ میں توسیع دی جائے تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں،عدالت نے ڈکی بھائی کے ریمانڈ میں پانچویں بار توسیع کرتے ہوئے انہیں مزید دو دن تک نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی حراست میں رکھنے کی منظوری دی۔

    عدالت نے ایجنسی کو ہدایت کی کہ وہ یوٹیوبر کے خلاف اپنی تفتیش جلد از جلد مکمل کرے،ڈکی بھائی نے اپنے وکیل کے ذریعے عدالت کو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایجنسی اپنی تحقیقات مکمل کرے اور ریمانڈ میں توسیع پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

    وینزویلا کی ’منشیات بردار‘ کشتی پر امریکی فوج کا حملہ، 11 افراد ہلاک

    ڈکی بھائی پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے غیر قانونی جوا ایپلیکیشنز کی پروموشن کی، جس کے تحت ان کے خلاف 17 اگست کی نصف شب این سی سی آئی اے لاہور نے ریاست کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا،مقدمے میں الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی شقیں 13 (الیکٹرانک جعلسازی)، 14 (الیکٹرانک فراڈ)، 25 (اسپیم) اور 26 (اسپوفنگ) کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 294-بی اور 420 بھی شامل ہیں۔

    گلگت بلتستان : 118 جانوروں کے پرمٹ نیلام کرنے کا اعلان

  • سرکاری ملازم پر تشدد کیس: ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی سمیت دیگر ملزمان کی عدم پیشی،عدالت  برہم

    سرکاری ملازم پر تشدد کیس: ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی سمیت دیگر ملزمان کی عدم پیشی،عدالت برہم

    عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ ملزمان کہاں ہیں؟ کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ تفتیشی افسر کو قانون کی سمجھ بوجھ ہوتی تو ضامن کی آج زر ضمانت ضبط ہوجاتی۔

    کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں منتظم عدالت کے روبرو ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی و دیگر کیخلاف سرکاری ملازمین پر تشدد اور دھمکانے کے مقدمے کی سماعت ہوئی،پراسیکیوٹر، ملزمان اور مدعی کے وکیل اور تفتیشی افسر پیش ہوئے، تفتیشی افسر نے ملزمان کی رہائی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کردی۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمان کہاں ہیں؟ مدعی کہاں ہیں؟ وکیل صفائی نے مؤقف دیا کہ مدعی کے وکیل موجود ہیں،عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس نے ملزمان کو ریلیف دے دیا، دیکھنا ہے کہ 497 اس کیس میں بنتا ہے یا نہیں، عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ملزمان سے مچلکے لئے ہیں یا ایسے ہی چھوڑ دیا؟

    کراچی میں 11 اور 12ربیع الاوّل کو ہیوی ٹریفک پر پابندی عائد

    تفتیشی افسر نے کہا کہ جی 10 لاکھ روپے کے مچلکے لیے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کہاں ہیں مچلکے؟ تفتیشی افسر نے مچلکے سے متعلق رپورٹ پیش کی،عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ ضامن ملزمان کو 30 تاریخ کو پیش کرے گا۔

    عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ ملزمان کہاں ہیں؟ کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ تفتیشی افسر کو قانون کی سمجھ بوجھ ہوتی تو ضامن کی آج زر ضمانت ضبط ہوجاتی،عدالت یہ دیکھے گی کہ تفتیشی افسر نے جو اختیارات کا استعمال کیا ہے وہ قانون کے مطابق ہے بھی یا نہیں۔

    سیلاب کے بعد بارشوں کا نیا سلسلہ شروع،سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ

    عدالت ملزمان کی رہائی سے متعلق زیر دفعہ 497 رپورٹ پر ملزمان کو نوٹس جاری کردیئے، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق اس رپورٹ پر فیصلہ کیا جائے گا،عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزمان اور ضامن کو پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 2 ستمبر تک ملتوی کردی۔

  • مدعی نے مقدمہ واپس لے لیا، چیئرمین چنیسر ٹاؤن فرحان غنی رہا

    مدعی نے مقدمہ واپس لے لیا، چیئرمین چنیسر ٹاؤن فرحان غنی رہا

    ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی اور دیگر ملزمان کے خلاف تشدد اور دھمکیوں کا مقدمہ واپس لے لیا گیا ہے، جس کے بعد پولیس نے تینوں ملزمان کو تھانے سے رہا کردیا۔

    ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی و دیگر کے خلاف تشدد اور دھمکیاں دینےسے متعلق کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت میں ہوئی،دوران سماعت ملزمان کے وکیل وقار عالم عباسی نے عدالت کو بتایا کہ مدعی سہیل نے مقدمہ واپس لے لیا ہے، فرحان غنی سمیت 3 ملزمان کو تھانے سے رہا کر دیا گیا ہے۔

    وکیلِ ملزمان کے مطابق مقدمے کے مدعی سہیل نے تحریری درخواست تفتیشی افسر کو جمع کرائی ہے، جس میں مقدمہ واپس لینے کا مؤقف اختیار کیا گیا، مدعی کی جانب سے مقدمہ واپس لیے جانے کے بعد ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کی ضرورت نہیں رہی، صرف تفتیشی افسر رہائی کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں گے۔

    واضح رہے کہ انسدادِ دہشتگردی عدالت نے فرحان غنی اور دیگر ملزمان کا 30 اگست تک جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ فیروزآباد تھانے میں درج کیا گیا تھا۔

  • تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے وزیراعظم کو برطرف کردیا

    تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے وزیراعظم کو برطرف کردیا

    تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے کمبوڈیا کے سابق رہنما کے ساتھ لیک فون کال کے معاملے پر معطل وزیراعظم پائی تونگ تران شینا وتری کو عہدے سے برطرف کر دیا۔

    تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے جمعے کے روز معطل وزیرِاعظم پیتونگتارن شیناواترا کو اخلاقی بدعنوانی کے الزام میں عہدے سے برطرف کر دیا، عدالت نے انہیں کمبوڈیا کے سابق رہنما ہن سین کے ساتھ ایک متنازعہ فون کال پر قصوروار قرار دیا،39 سالہ پیتونگتارن شیناواترا اس طرح 2008 کے بعد عدالتی فیصلے کے ذریعے ہٹائے جانے والی 5ویں وزیرِاعظم بن گئی ہیں۔

    آئینی عدالت کی 9 رکنی بینچ نے، جسے عام طور پر ملک کے قدامت پسند شاہی حلقوں کا حامی سمجھا جاتا ہے، قرار دیا کہ وزیرِاعظم نے سرکاری عہدے کی اخلاقی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دی۔

    سائبر کرائم ایجنسی کے اختیارات میں اضافہ

    عدالتی فیصلے کے مطابق، پیتونگتارن کی ہن سین سے جون میں ہونے والی کال کے دوران وہ سابق کمبوڈیائی رہنما کو ’انکل‘ کہہ کر مخاطب کر رہی تھیں جبکہ ایک سینیئر تھائی فوجی کمانڈر کو ’مخالف‘ قرار دے رہی تھیں،یہ گفتگو لیک ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی اور سرحدی جھڑپوں نے درجنوں جانیں لے لیں، جبکہ ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے، بعد ازاں 29 جولائی کو ملائیشیا کی ثالثی میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

    پیتونگتارن شیناوترا کو عدالت نے یکم جولائی کو مقدمے کے فیصلے تک معطل کر دیا تھا، فیصلے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی نیت ہمیشہ ملک کے مفاد میں رہی اور وہ تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتی ہیں کہ قومی استحکام کے لیے مل کر کام کریں۔

    میری نیت ذاتی فائدے کے لیے نہیں تھی، بلکہ عوام اور فوجیوں کی زندگیاں بچانے کے لیے تھی، آج کے فیصلے نے تھائی سیاست کا رخ بدل دیا ہے، اب حکومت، اپوزیشن اور عوام کو مل کر سیاسی استحکام کے لیے کوشش کرنا ہوگی تاکہ دوبارہ کوئی نازک موڑ نہ آئے،یہ فیصلہ پیتونگتارن شیناوترا اور ان کے والد اور سابق تھائی وزیرِاعظم تھاکسن شیناوترا کے خلاف جاری 3 بڑے عدالتی مقدمات میں سے دوسرا ہے، تھاکسن کو گزشتہ ہفتے شاہی خاندان کی توہین کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا،تاہم ان پر اب بھی یہ مقدمہ چل رہا ہے کہ وہ جیل جانے کے بجائے اسپتال کے خصوصی کمرے میں کیوں رہے، جب وہ 2023 میں 16 سالہ جلاوطنی ختم کر کے تھائی لینڈ واپس آئے تھے۔

    قومی مفاد میں ہر خاندان کے تین بچے ہونے چاہئیں، آر ایس ایس سربراہ

    واضح رہے کہ آئینی عدالت نے یکم جولائی کو تھائی وزیراعظم شینا وتری کو معطل کرتے ہوئے معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

  • سگی بیٹی سے زیادتی کا الزام : 12 سال سے جیل میں قید والد  بری

    سگی بیٹی سے زیادتی کا الزام : 12 سال سے جیل میں قید والد بری

    سپریم کورٹ نے سگی بیٹی سے زیادتی کے الزام میں 12 سال سے جیل میں قید والد کو بری کردیا –

    سپریم کورٹ کے جسٹس علی باقرنجفی کا تحریر کردہ 10 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا گیا جب کہ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس سنا تھا،سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ و ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا بھی کالعدم قرار دے دی ہے،عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ اگر ملزم کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہو تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔

    حکم نامے کے مطابق 2 اکتوبر 2010 کو متاثرہ بچی، جو اس وقت 6 یا7 برس کی تھی، روتی ہوئی اپنی ماں کے پاس گئی اور انکشاف کیا کہ اس کے والد نے اس کے ساتھ ’فعل بد‘ کیا ہے جس کے بعد اسے شدید تکلیف محسوس ہوئی،اس کے بعد والد کو گرفتار کر لیا گیا اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376(1) کے تحت عمر قید اور 35 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی، 2013 میں لاہور ہائی کورٹ نے بھی یہ سزا برقرار رکھی۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متاثرہ بچی کا بیان ریکارڈ کرتے وقت اس کی ذہنی پختگی کا ٹیسٹ نہیں لیا گیا جب کہ قانونِ شہادت کے تحت بچے کا بیان تب معتبر ہے، جب جج اس کی سمجھ بوجھ پر مطمئن ہو، متاثرہ کے بیان میں تضادات پائے گئے اور اس میں واقعے کی تاریخ اور وقت واضح نہیں تھا، ڈاکٹر کی رائے بھی متضاد تھی، پہلے زیادتی کہا پھر جرح میں انکار کیا مدعیہ والدہ اور ماموں واقعے کے عینی شاہد نہیں، صرف افواہی گواہ ہیں، خاندان کے اندر جائیداد اور گھریلو جھگڑوں کا تنازع بھی ریکارڈ پر آیا عدالت نے استغاثہ کے شواہد کو غیر معتبر قرار دے دیا۔

    جسٹس نجفی نے کہا کہ ’اس سے عدالت کے سامنے متاثرہ بچی کے بیان کی ساکھ اور ملزم کے غلط طور پر ملوث کیے جانے کے امکان پر سنگین سوالات کھڑے ہو جاتے ہیں، ایسے سنگین الزامات کیوں عائد کیے گئے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ریکارڈ میں آیا ہے کہ شکایت کنندہ اور ملزم کے درمیان تنازع موجود تھا-

    واضح رہے کہ 2010 میں چھ سالہ بیٹی نے والد پر زبردستی زیادتی کا الزام لگایا تھا، جس پر ٹرائل کورٹ نے ملزم کو عمر قید اور 35 ہزارروپے جرمانے کی سزا سنائی تھی،لاہورہائیکورٹ نے 2013 میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا تاہم ملزم نے ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔