Baaghi TV

Tag: عدالت

  • بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا اور بیٹے کے وارنٹ جاری

    بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا اور بیٹے کے وارنٹ جاری

    بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاورمانیکا اور بیٹے کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے

    ساہیوال میں اراضی قبضہ کیس میں بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا اور ان کے بیٹے موسیٰ مانیکا کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے گئے ہیں، اسپیشل جج اینٹی کرپشن آصف بشیر نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں، عدالت نے خاور مانیکا اور ان بیٹے کو گرفتار کر کے9 جولائی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا

    اینٹی کرپشن اوکاڑہ نے 11 اگست 2023 کو بشریٰ بی بی کے سابق شوہر اور بیٹوں کیخلاف مقدمہ درج کیا تھا،بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا اور دونوں بیٹوں پر اراضی پرقبضہ کرکے مارکیٹ تعمیر کرنے کا الزام ہے، مارکیٹ تعمیر کرکے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے نقصان پہنچایا گیا۔

    واضح رہے کہ خاوید فرید مانیکا کے خلاف ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ نے اینٹی کرپشن میں رواں سال جون میں ایک فوجداری ریفرنس دائر کیا گیا تھاریفرنس میں کہا گیا تھا کہ خاور فرید مانیکا وغیرہ نے محکمہ اوقاف کی زمین پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے اور اس پر شادی ہال اور دکانیں تعمیر کی ہوئی ہیں خاور فرید مانیکا نے شادی ہال اور دکانوں کا حکومت کو ٹیکس دیا نہ محکمہ اوقات کو کوئی معاوضہ دیا جس کی مالیت لاکھوں میں ہے اینٹی کرپشن نے اس ریفرنس پر خاور فرید مانیکا کو گرفتار کیا تھا اور بتایا کہ ان پر سرکاری خزانے کو 13 کروڑ 67 لاکھ روپے سے زائد نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔تاہم خاور مانیکا کی بعد ازاں ضمانت ہو گئی تھی، اب دوبارہ وارنٹ جاری ہوئے ہیں.

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

  • عمران ریاض  کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    عمران ریاض کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ: عدالتی احکامات کے باوجود وی لاگر عمران ریاض خان کو حج پر جانے سے روکنے کا معاملہ، عمران ریاض خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ 11 جون کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ عمران ریاض خان کو حج پر جانے سے نہ روکا جائے، عمران ریاض خان کو عدالتی احکامات اور سفری دستاویزات ہونے کے باوجود آف لوڈ کر دیا گیا،عمران ریاض خان کو سعودی عرب جانے کیلئے بورڈنگ کی اجازت نہ دی گئی،عمران ریاض خان کی معلومات کے مطابق وہ کسی مقدمے میں تفتیش کے لیے بھی مطلوب نہیں، فریقین نے جان بوجھ کر اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے، فریقین کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا جائے اور ان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا جائے،فریقین کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے 11 جون کے احکامات پر عمل درآمد کا حکم دیا جائے، درخواست میں سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، امیگریشن، آئی جی پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے

    انہوں نے زبردستی میرا احرام کھلوایا، میرے دل پر بہت زخم ہیں:عمران ریاض
    دوسری جانب عمران ریاض کو پولیس نے عدالت میں پیش کر دیا، عمران ریاض کو ماڈل ٹاؤن کچہری پیش کرنے کیلئے بکتر بند گاڑی لائی گئی،عمران ریاض نے عدالت پیشی کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ رات کو میں نے پولیس والوں کو روتے ہوئے دیکھا، کہتے ہیں اللہ سے دعا کریں کہ ہمیں معاف کردیں، ہم بہت مجبور ہیں۔انہوں نے زبردستی میرا احرام کھلوایا، میرے دل پر بہت زخم ہیں جو کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتے، یہ مجھے ماریں گے تو کیا میں میٹھا بولوں گا، جتنا مرضی ماریں ایسا نہیں ہوگا جو آپ کہیں وہ بولوں، بلکہ میں وہ بولوں گا جس کے بدلے ڈالر زیادہ ملیں گے

    عمران ریاض پر جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ، مدعی مریم نواز کا پولنگ ایجنٹ ہے.وکیل
    عمران ریاض کے خلاف امانت میں خیانت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، پولیس نے عمران ریاض کا 7 دن کا جسمانی ریمانڈ مانگ لیا،ماڈل ٹاون عدالت نے عمران ریاض کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے،وکیل نے کہا کہ عمران ریاض پر جھوٹا مقدمہ بنایا گیا ، مدعی مریم نواز کا پولنگ ایجنٹ ہے ، پراسیکیوٹر نے کہا کہ عمران ریاض نے شہری سے اڈھائی کروڑ روپے لئے ،عمران ریاض کے وکیل نے کہا کہ ‏پاکستان کا کوئی ایسا ادارہ نہیں بچا جہاں ریاستی یا غیر ریاستی مدعیت میں عمران ریاض پر کوئی مقدمہ نہ بنایا گیا ہو،عمران ریاض نے عدالت میں کہا کہ ‏یہ چھوٹا پرچہ ہے مگر یہ پرچہ میرے اور میرے اللہ کے درمیان آیا ہے، میں حج پر جا رہا تھا، ‏ان کی بدمعاشی، کی وجہ سے میری بیٹی ذہنی مریض بن چکی ہے۔ میرے گھر میں 50 ، 50 پولیس والے گھس جاتے ہیں،، چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہیں،

    عمران ریاض کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا،جوڈیشل مجسٹریٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،تھانہ نشتر کالونی پولیس نے مقدمہ درج کررکھا ہے

    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    صنم جاوید کی سینیٹ کیلیے نامزدگی،طیبہ راجہ پھٹ پڑیں

    سیاسی جماعتوں کے سینئیر رہنما سینیٹ ٹکٹ سے محروم

  • گندم خریداری کیس، وزیراعلیٰ بلوچستان ذاتی حیثیت میں طلب

    گندم خریداری کیس، وزیراعلیٰ بلوچستان ذاتی حیثیت میں طلب

    بلوچستان ہائیکورٹ میں گندم کی خریداری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے سماعت کی، عدالت نے وزیراعلی بلوچستان کو کیس میں ذاتی طور پر طلب کرلیا .ایڈوکیٹ جنرل آصف ریکی نے عدالت میں وضاحت کی کہ وزیراعلی بلوچستان آج کوئٹہ میں نہیں اسلئے وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے، وزیراعلی کی اسلام آباد سے واپسی کل ہوگی، عدالت نے درخواست کی سماعت 12جون بروز منگل تک ملتوی کردی،عدالت نے ڈی جی خوراک ظفر اللّٰہ کے تبادلے کےنوٹیفکیشن پر عمل درآمد روکنے کا حکم بھی دے دیا۔واضح رہے کہ گندم کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق درخواست اوستہ محمد کے ایک شہری محمد صادق نے دائر کر رکھی ہے۔

    دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل محکمہ خوراک نے چیف جسٹس بلوچستان کے سامنے محکمے میں گندم کی خریداری میں بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا تھا جس پر معزز عدالت نے محکمے کو گندم کی خریداری سے فوری طور پر روک دیا تھا ۔ دو رکنی بینچ کے معزز ججز نے سیکرٹری خزانہ حکومت بلوچستان کو محکمہ خوراک کے حق میں 2.5 بلین روپے جاری کرنے سے بھی روکا تھا ۔ اسی طرح سیکرٹری محکمہ خوراک اور پروجیکٹ ڈائریکٹر گندم خریداری مہم 2024 کو مڈل مین یا کوئی اور شخص کو اگلی سماعت تک آگے کی ادائیگی سے بھی روک دیا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر گندم خریداری مہم 2024 کو آئندہ سماعت تک باردانہ کی تقسیم فوری طور پر روکنے کی بھی ہدایت کی اور انہیں گندم کی خریداری کے سلسلے میں بڑے زمینداروں کے ساتھ ساتھ مڈل مین کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے سے بھی روک دیا تھا۔

    سماعت کے دوران محکمہ خوراک کے ڈائیریکٹر جنرل نے خریداری کے متعلق کرپشن کے انکشاف کے متعلق دستاویزات فراہم کئے ۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ محکمہ خوراک نے اسٹریٹجک ذخائر ہونے اور اندرون خانہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہ ہونے کے باوجود 50000 میٹرک ٹن اضافی گندم کی خریداری کا یہ اقدام صرف چھوٹے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی اور مدد کے لیے کیا تھا لیکن پروجیکٹ ڈائیریکٹر کی ناکامی اور نااہلی کی وجہ سے نصیر آباد ڈویژن کے کاشتکار سراپا احتجاج ہیں اور چھوٹے حقیقی کاشتکاروں کے بجائے مڈل مینوں اور بروکرز سے غیر قانونی مطالبات، بدعنوانی اور باردانہ کی تقسیم غیر شفافیت کی اطلاعات ہیں جب ڈائریکٹر جنرل خوراک کو کیس کے اس پہلو کا سامنا ہوا تو انہوں نے کھلے دل سے اعتراف کیا اور کہا کہ محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے، محکمے کی طرف سے کی جانے والی غیر قانونی اور بے قاعدگیوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے، انہوں نے چیف سیکریٹری ، سیکریٹری محکمہ خوراک ، پروجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی کمشنرز کو خطوط لکھے ۔ ڈائریکٹر جنرل محکمہ خوراک نے بتایا کہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مبینہ طور پر گندم کی خریداری کا طریقہ کار ناقص اور غیر منصفانہ ہے۔ گندم غریب کسانوں کی بجائے درمیانی آدمی ، بیوپاریوں یا بڑے زمینداروں سے خریدی جارہی ہے اس نے کہا کہ ایک سادہ طریقہ کار وضع کیا جا سکتا ہے اور یہ عمل شفاف طریقے سے سر انجام دینا چاہیے۔ محکمہ خوراک نے چھ سال گزرنے کے باوجود کمرشل بینکوں کے قرض کی ادائیگی کی ذمہ داری ابھی تک صاف نہیں کی ہے جو کہ 2.5 بلین روپے ہے۔ اس کمرشل بینک کے قرض کی ادائیگی کو جلد از جلد کلیئر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ محکمہ کو 20 لاکھ روپے یومیہ سود 2018 کے بعد سے ادا کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ اسٹریٹجک ذخائر، ڈی جی، خوراک کی طرف سے حکومت بلوچستان کے پاس فراہم کردہ معلومات کے مطابق تقریبا 815,000 تھیلے ہیں، جب کہ گودام کی زیادہ سے زیادہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش 01 ملین سے زیادہ نہیں ہے۔ ایسے حالات میں گندم خریدنے کی ضرورت نہیں ہے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت بلوچستان کو 500,000 تھیلوں کی ضرورت کیوں ہے جب کہ 01 ملین سے زیادہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود نہیں ہے

  • احمد فرہاد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

    احمد فرہاد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

    مظفر آباد،کشمیری شاعر احمد فرہاد کو ریمانڈ مکمل ہونے پر پولیس نے عدالت میں پیش کر دیا

    پولیس نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ احمد فرہاد سے تفتیش کا عمل مکمل ہو چکا ہے،مزید ریمانڈ کی درخواست کے بجائے پولیس نے احمد فرہاد کا چالان عدالت میں پیش کر دیا ،عدالت نے پولیس ریمانڈ مکمل ہونے پر احمد فرہاد کو جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے حکم دیا کہ 24 جون کو احمد فرہاد کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ پولیس کی بھاری نفری نے سخت سیکورٹی میں احمد فرہاد کو راڑہ جیل منتقل کر دیا

    احمد فرہاد کی بازیابی کیس، گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    وفاقی حکومت نے شاعر اور صحافی احمد فرہاد کی گرفتاری ظاہر کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،اٹارنی جنرل کی احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی

    عدالت کا احمد فرہاد کے طبی معائنے کا حکم

    واضح رہے کہ احمد فرہاد کی درخواست ضمانت بھی مسترد ہو گئی تھی، احمد فرہاد نےدرخواست ضمانت دائر کی تھی جس پر عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے درخواست مسترد کر دی تھی،عدالتی فیصلے کے بعد شاعر احمد فرہاد کی اہلیہ نے عدالت کے باہر میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت سے ضمانت مسترد ہو جانے کے بعد ہم اس فیصلے کو چیلنج کریں گے اور قانون کا سہار اہی لیں گے

    احمد فرہاد کو بحفاظت گھر واپس آنے تک جبری گمشدہ فرد قرار دیا جاتا ہے، عدالت
    دوسری جانب کشمیری شاعر فرہاد علی شاہ کی بازیابی کی درخواست نمٹانے کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے تحریری حکمنامہ جاری کیا ،عدالت نے کہا کہ فرہاد علی شاہ کی گرفتاری جن حالات میں ریکارڈ پر لائی گئی وہ غیر قانونی عمل ہے، احمد فرہاد کو بحفاظت گھر واپس آنے تک جبری گمشدہ فرد قرار دیا جاتا ہے، فرہاد علی شاہ جب بھی گھر پہنچے تفتیشی افسر مجسٹریٹ کے سامنے 164 کا بیان قلمبند کرائے،جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے بیان کی روشنی میں تفتیش کو آگے بڑھایا جائے، تمام مسنگ پرسنز کیسز کی سماعت کے لیے لارجر بنچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو ارسال کر دیا گیا، عدالت نے حکمنامہ میں کہا کہ رجسٹرار آفس لارجر بنچ کی تشکیل کے لیے مسنگ پرسنز کے کیسز یکجا کر کے چیف جسٹس کے سامنے رکھے، چیف جسٹس انتظامی اختیارات استعمال کر کے لارجر بنچ بنائیں تاکہ مفاد عامہ کے اس مسئلے کو بہتر طور پر نمٹایا جا سکے،کریمنل جسٹس کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں ایم آئی، آئی ایس آئی اور آئی بی کے ڈی جیز اور انچارج سی ٹی ڈی کو مدعو کیا جائے، وہ اپنی سفارشات اور گزارشات کریمنل جسٹس کمیٹی میں زیر بحث لائیں، ایسے مقدمات جن میں قومی سلامتی کے امور پیش نظر ہوں انہیں ان کیمرہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، اعلی تحقیقاتی اداروں کے سربراہان سے ان کیمرہ بریفنگ کے بعد میڈیا پر رپورٹنگ نہ کرنے کے احکامات جاری کریں،

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،لاپتہ شہری کے والد کو 30 لاکھ روپے معاوضہ دینےکا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ،لاپتہ شہری کے والد کو 30 لاکھ روپے معاوضہ دینےکا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ شہری کے والد کو 30 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دے دیا

    خیبرپختونخوا کے لاپتہ شہری ہارون محمدکی بازیابی کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی،وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست پر حکم جاری کیا اور کہا کہ وفاقی حکومت لاپتہ شہری کے والد کو آئندہ سماعت سے قبل 30 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرے، عدالت نے آئی جی کے پی کو درخواست گزارکو سکیورٹی فراہم کرنے اور سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت بھی کی،عدالت نے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

    لاپتہ افراد کی بازیابی کیس:وفاقی حکومت اور دیگر اداروں سے رپورٹ طلب

    رپورٹ آ گئی، لاپتہ افراد کہاں ہیں، کہانی کھل گئی

    لڑکی سمیت 9 لاپتہ افراد کی بازیابی کا کیس، پیشرفت نہ ہونے پرعدالت برہم

    آٹھ برس سے لاپتہ شہری بازیاب کیوں نہ ہوا،عدالت برہم،رپورٹ طلب

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • ریاست مخالف ٹویٹ، ایف آئی اے کی جیل میں عمران خان سے تحقیقات

    ریاست مخالف ٹویٹ، ایف آئی اے کی جیل میں عمران خان سے تحقیقات

    عمران خان کے آفیشل ایکس اکاونٹ سے ریاست مخالف پوسٹ تفتیش کا معاملہ،عمران خان شامل تفتیش ہو گئے

    ایف آئی اے کی ٹیم نے عمران خان سے اڈیالہ جیل میں تفتیش کی،عمران خان اپنے وکلاء چوہدری ظہیر عباس، انتظار پنجھوتا کی موجودگی میں شامل تفتیش ہوئے،ایف آئی اے ٹیم نے عمران خان کو ان کے ایکس اکاونٹ سے پوسٹ دکھا کر تفتیش کی،عمران خان نے اپنے وکلاء کی موجودگی میں سوالوں کے جوابات دییئے،

    تحقیقات کے بعد ایف آئی اے کی دو رکنی جیل سے واپس روانہ ہو گئی،ایف آئی اے کی دو رکنی ٹیم میں ایڈیشنل ڈائریکٹر ایاز اور سب انسپکٹر منیب احمد شامل تھے،ایف آئی اے کی ٹیم نے بانی پی ٹی آئی سے 1 گھنٹے سے زائد تفتیش کی، ایف آئی اے کی ٹیم نے آفیشل ایکس سے ریاست مخالف پوسٹ کی تشہیر پر تفتیش کی،

    واضح رہے کہ ایف آئی اے کی ٹیم اس سے قبل بھی دو بار اڈیالہ جیل عمران خان سے تحقیقات کے لئے گئی تھی تا ہم عمران خان نے وکلا کی غیر موجودگی میں شامل تفتیش ہونے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد ایف آئی اے ٹیم واپس لوٹ گئی تھی، آج اڈیالہ جیل میں احتساب عدالت میں کیس کی سماعت تھی، عمران خان کے وکلا بھی موجود تھے، ٹیم دوبارہ گئی تو عمران خان شامل تفتیش ہو گئے.

    متنازعہ ٹویٹ کیس میں ایف آئی اے نے بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کو بھی طلب کیا تھا، دونوں پیش ہو چکے ہیں اور بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں تا ہم دونوں نے عدالت میں بھی درخواست دائر کی تھی جس پر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کے خلاف ایف آئی اے کو تادیبی کاروائی سے روک دیا , عدالت نے کہا کہ رؤف حسن اور بیرسٹر گوہر ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوں ،ایف آئی اے دونوں کو نہ ہراساں کرے نہ تادیبی کاروائی کرے ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ایف آئی اے طلبی نوٹسز کے خلاف تحریری حکم جاری کر دیا, عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 جون تک جواب طلب کر لیا

    عمر ایوب نے ایف آئی اے سے حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ کی نقل مانگ لی

    واضح رہے کہ چند روز قبل اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس کے آفیشل اکاؤنٹ سے سقوط ڈھاکا سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، اس ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا تھا کہ ’ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمان‘۔اس ویڈیو اور ٹوئٹ کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے عمران خان کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا تھا اور اس ضمن میں عمران خان کو مؤقف لینے کی کوشش کی تھی لیکن بانی پی ٹی آئی نے ایف آئی اے ٹیم سے ملنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف وکلا کی موجودگی میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹرگوہر کا کہنا ہےکہ عمران خان کا اپنے اکاؤنٹ سے 1971 سے متعلق پوسٹ ہونے والی ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر دیے گے ایک انٹرویو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ فوج کے موازنے سے متعلق عمران خان کا اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے نہ اس پوسٹ کا مواد دیکھا، نہ باقی چیزیں دیکھیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو موازنہ کرنا تھا وہ سیاسی تناظر میں تھا، یہ فوج کے بارے میں نہيں تھا۔

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • عالیہ حمزہ چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    عالیہ حمزہ چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    تحریک انصاف کی خاتون رہنما، سابق رکن قومی اسمبلی عالیہ حمزہ کو انسداددہشت گردی عدالت گوجرانوالہ میں پیش کر دیا گیا

    پولیس نے عدالت سے عالیہ حمزہ کا جسمانی ریمانڈ مانگا، پی ٹی آئی وکلاء نے مخالفت کی، عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے عالیہ حمزہ کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا.عدالت نے عالیہ حمزہ کو 11جون کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کر دی، پولیس حکام کے مطابق عالیہ حمزہ نو مئی کے مقدمے میں مطلوب تھیں اسلئے گرفتار کیا

    واضح رہے کہ عالیہ حمزہ کو گزشتہ روز پولیس نے سرگودھا جیل سے رہائی ملنے کے بعد گرفتار کیا تھا.گوجرانوالہ پولیس نے عالیہ کو جب گرفتارکیا تھا تو انہوں نے عمران خان زندہ باد کے نعرے لگائے تھے.صنم جاوید کو بھی سرگودھا جیل سے رہائی کے بعد پولیس نے نئے کیس میں گرفتار کر رکھا ہے ، صنم جاوید بھی جسمانی ریمانڈ پر گوجرانوالہ پولیس کی تحویل میں ہیں.

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

  • سپریم کورٹ میں ججزکی تقرری،جوڈیشل کمیشن نے3 ناموں کی منظوری دے دی

    سپریم کورٹ میں ججزکی تقرری،جوڈیشل کمیشن نے3 ناموں کی منظوری دے دی

    سپریم کورٹ میں تین ججز کی خالی نشستوں پر تقرری کے حوالہ سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد ، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ عقیل عباسی کو سپریم کورٹ تعینات کرنے کی سفارش کی گئی، لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شاہد بلال کو بھی سپریم کورٹ لانے کی سفارش کی گئی ، جوڈیشل کمیشن نے حتمی منظوری کیلئے معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیا .

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سپریم کورٹ تقرری کا فیصلہ پانچ ممبران کی اکثریت سے ہوا.جسٹس ملک شہزاد احمد کی سپریم کورٹ تقرری کی جوڈیشل کمیشن کے چار ممبران نے مخالفت کی،ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی سپریم کورٹ تقرری کی مخالفت کی،جسٹس منیب اختر جسٹس یحیی آفریدی،جسٹس منظور ملک نے بھی مخالفت کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس امین الدین نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی تقرری کی حمایت کی.اٹارنی جنرل، وزیر قانون اور نمائندہ پاکستان بار اختر حسین نے بھی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے نام کی حمایت کی، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ عقیل عباسی اور جسٹس شاہد بلال کے ناموں کی سفارش متفقہ طور پر کی گئی

  • عدالت نے  عمران خان سے ملاقات کیلیے مختص کمرہ کی تصاویر مانگ لیں

    عدالت نے عمران خان سے ملاقات کیلیے مختص کمرہ کی تصاویر مانگ لیں

    تحریک انصاف کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ کی عمران خان سے جیل میں ملاقات کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے مکمل رپورٹ جمع کروانے کے لیے وقت مانگ لیا،جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ کہتے ہیں جیل کے باہر کا اختیار ان کا نہیں تو پھر یہ بھی تو بتائیں کس کا اختیار ہے؟ اگلی سماعت پر بتائیں یہ کس کا دائرہ اختیار ہے عدالت نے جیل میں ملاقات کے لیے مختص کمرہ کی تصاویر مانگ لیں

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے جواب آیا ہے لیکن ملاقات نہ کروانے کی کوئی وجوہات نہیں بتائیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ” اس رپورٹ میں حکومت پنجاب کہہ رہی ہے جیل کے باہر کی ذمہ داریاں ضلعی پولیس کی ہیں اسکا کیا مطلب ہے کیا حکومت پنجاب کا اس میں کوئی اختیار نہیں؟اسٹیٹ کونسل نے کہا کہ یہ ڈپٹی سیکریٹری جیل خانہ جات کا جواب ہے۔شعیب شاہین نے کہا کہ یہ جواب حکومت پنجاب کا ہے اس میں ان کے دستخط ہیں۔جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے تو یہ ڈائریکشن نہیں دی تھیں سکیورٹی پلان کی رپورٹ آئی ہے وہ ملی آپ کو؟شعیب شاہین نے کہا کہ اس رپورٹ میں تو کوئی تھریٹ نہیں ہے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ عمران خان کی مرضی کے ساتھ ایس او پیز تیار کی گئیں جن پر عمل ہو رہا ہے۔جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ سے اجازت نہ مانگنے اور ایس او پیز فالو نہ کرنے کی بنیاد پر درخواست اس عدالت نے مسترد کی ہے،شعیب شاہین نے کہا کہ یہ کوئی ڈاکومنٹ بھی اندر نہیں کے جانے دیتے۔

    قیدی سے ملاقات کے وقت شیشے کی دیوار کیوں ہوتی ہے؟ عدالت کا استفسار
    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بینک میں بھی سیکیورٹی کے ایشوز ہوتے ہیں وہاں چیکنگ آسانی سے ہو جاتی ہے،بینک میں سیکیورٹی بھی ہوتی ہے اور وہاں سہولیات بھی ہوتی ہیں، مجھے یہ بتائیں باقی جو قیدی ہیں انکے وکلاء کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟کیا انکے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟شعیب شاہین نے کہا کہ وکلاء جب جیل میں اپنے کلائنٹ سے ملنے جاتے ہیں ہے تو انکے پاس مختلف دستاویزات ہوتی ہیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ : آپ نے اس قیدی کے معاملے میں درمیان میں شیشہ کی دیوار لگائی ہوئی اس سے تو بات جیت کیسے ہوتی ہے؟کیا دیگر قیدیوں کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے”؟ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ ہر قیدی سے جب ملاقات ہوتی ہے درمیان میں شیشہ کی دیوار موجود ہوتی ہے،شیشہ لگانے کا مقصد منشیات وغیرہ یا دیگر مشکوک چیز جیل میں نہ پہنچائی جا سکے،سرکاری وکیل نے کہا کہ دیگر جو قیدی ہیں انکو وکلاء کی اجازت نہیں ہے۔

    شعیب شاہین نے کہا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ میں بتایا کہ انکو وکلاء سے ملنے نہیں دیا جا رہا،پھر سپریم کورٹ نے ملاقات کی اجازت دی،اسٹیٹ کونسل نے کہا کہ اڈیالہ میں سنگین جرائم میں ملوث مجرمان قید ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ اس کا کیا مطلب ہے اب کوئی قیدی اپنے وکلاء سے بھی نہیں مل سکتا؟ ہم جیل میں وکلاء کی ملاقات نہیں کروا سکتے یہ کوئی بات ہے کرنے والی؟عدالت نے رپورٹ اور پولیس دائرہ اختیار سے متعلق دلائل طلب کرتے ہوئےسماعت عید کےاگلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

    اڈیالہ جیل ،عمران خان کے سیل کی خصوصی تصاویر،باغی ٹی وی پر

    اڈیالہ جیل میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دیسی مرغ کھانے سے انقلاب نہیں آتے،عظمیٰ بخاری

    اڈیالہ جیل،بشریٰ بی بی نے عمران خان کی دوڑیں لگوا دیں،عمران کی بہنوں سے نہ ملیں

    بشریٰ بی بی کامیڈیکل چیک اپ کروایا جائے، تحریک انصاف کا مطالبہ

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

  • ججز سمیت کوئی قانون سے بالاتر نہیں، ادارے اپنی حدود میں کام کریں،جسٹس محسن اختر کیانی

    ججز سمیت کوئی قانون سے بالاتر نہیں، ادارے اپنی حدود میں کام کریں،جسٹس محسن اختر کیانی

    کشمیری شاعر احمد فرہاد کی بازیابی اور اغواء کے ذمہ داران کا تعین کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے عروج زینب کی درخواست پر سماعت کی .درخواست گزار کی جانب سے ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور سینئر صحافی حامد میر بطور عدالتی معاون عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بیرسٹر عثمان گھمن بھی عدالت میں موجود تھے،ایمان مزاری نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے،ابھی ضمانت کی درخواست کو ہائیر فورم پر چیلنج کر رہے ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ کیا اس پر کوئی اور بھی پرچہ ہے؟ایمان مزاری نے کہا کہ پہلے ایک مقدمے کا بتایا گیا اور بعد میں ایک اور پرچہ درج ہونے کا بتایا گیا،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ اس کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے،ابھی یہ تو یقین ہے کہ وہ اب جوڈیشل کسٹڈی میں ہے، پولیس اگر ٹرائل میں کسی کو پکڑے اور دو دن تک پیش نہ کرے تو ٹرائل ہی ختم کر دیتے ہیں،

    تمام مسنگ پرسنز کے کیسز کے لیے لارجر بنچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو لکھ رہا ہوں.جسٹس محسن اختر کیانی
    جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ احمد فرہاد گرفتاری سے قبل کہاں تھا؟ سوال جبری گمشدگی کا ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر مغوی ریکور ہو جائے تو حبسِ بے جا کی درخواست خارج ہو جاتی ہے،یہ کہتے ہیں کہ اغواء کاروں کا تعین کرنے کی ہدایات بھی جاری کی جائیں،یہ بات تفتیش میں سامنے آئے گی، مغوی جوڈیشل کسٹڈی میں ہے اور احمد فرہاد کا 161 کا بیان لکھا گیا ہے،جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ تفتیشی افسر نے کشمیر میں جا کر احمد فرہاد کا بیان ریکارڈ کیا ہے؟ ذرا وہ دکھائیں،لکھا ہے کہ میں ذہنی و جسمانی طور پر بیان دینے کے قابل نہیں، یہ بھی لکھا ہے کہ وہ خود عدالت میں پیش ہو کر یا وکیل کے ذریعے بیان دے گا،احمد فرہاد کی واپسی پر تھانہ لوئی بھیر کا تفتیشی جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے 164 کا بیان کرائے،تمام مسنگ پرسنز کے کیسز کے لیے لارجر بنچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو لکھ رہا ہوں،کریمنل ایڈمنسٹریشن کمیٹی میں ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر بھی پیش ہوں، اسلام آباد میں قانون کی عملداری کیسے ہونی ہے؟ اس پر فیصلے کے لیے معاملہ کمیٹی کو بھجوا رہا ہوں، ان کو مت آسمان پر بٹھائیں، پھر ان کو یہ بات بری لگے گی، قانون کو احترام دیں، ججز سمیت کوئی قانون سے بالاتر نہیں، ادارے اپنی حدود میں کام کریں، انا کے مسئلے میں ایک آدمی دو مقدموں میں چلا گیا، عدالت کی کارروائی کے نتیجے میں وہ دو مقدمات میں چلا گیا جس کی فیملی متاثر ہو رہی ہے،یہ ظلم کا ایک سلسلہ اور روز کا کام ہے، اسلام آباد کی حدود کو عدالتیں دیکھیں گی،قومی سلامتی کے معاملات پر عدالت ان کیمرا پروسیڈنگ اور اس کی رپورٹنگ پر پابندی لگائے گی،لارجر بینچ اس لیے بھجوا رہا ہوں کہ ایک جج کا موقف کچھ اور ہو تو دوسرے ججز بھی دیکھیں، ہو سکتا ہے کہ باقی ممبران اس سے متفق نہ ہوں کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان کو بلانا ہے،ہم نے کہیں بیٹھنا ہے اور طے کرنا ہے کہ کون سی لائن ہے جسے کراس نہیں کرنا،

    حامد میر،اسد طور نے وی لاگ میں غلط دلائل رپورٹ کئے،غدار کہنے کی کوشش کی.ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا شکوہ
    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ گزشتہ سماعت کے بعد حامد میر صاحب اور اسد طور نے وی لاگ کیا، وی لاگ میں آزاد کشمیر غیر ملکی علاقہ سے متعلق مجھ سے منسوب دلائل رپورٹ کیے،میں نے یا کسی اور نے ایسا کچھ نہیں کہا وی لاگ میں غلط کہا گیا، میں نے اس حوالے سے اضافی دستاویزات بھی جمع کروا دی ہیں،جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ عدالت نے کسی وی لاگ یا رپورٹنگ پر پابندی نہیں لگائی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حامد میر نے ایک کالم لکھا جس میں میرے بیان کا غلط تاثر دینے کی کوشش کی،میں سینئر صحافی کا بہت احترام کرتا ہوں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ آزاد کشمیر کا اپنا وزیراعظم، پارلیمنٹ، آئین اور عدالتیں ہیں، یہ دائرہ اختیار کی بات ہے،صحافی کی اپنی ایک رائے ہے، اخبار خود کہتا ہے کہ اُس کا رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ صحافی نے ایک وی لاگ بھی کیا اور وفاق کا حوالہ دے کر غدار کہنے کی کوشش کی،جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا کہ ایسی بات نا کریں، عدالت میں موجود حامد میر نے کہا کہ صرف یہ بات نہیں ہوئی کہ کشمیر فارن ٹیریٹری ہے، پراسیکیوٹر جنرل نے یہ بھی کہا ہے کہ کشمیر میں نو مئی جیسے واقعات ہوئے، پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد نے کہا کہ میں نے اس طرح کی بات نہیں کی تھی،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ میں کیا کروں کہ ان کا کالم مسترد کر دوں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل، آپ حامد میر کو چائے پلائیں اور اپنی بات سمجھائیں، جہم نے اس کیس میں حامد میر کو خود عدالتی معاون کے طور پر بلایا ہے، عدالت نے حامد میر کو ہدایت کی کہ آپ بار کے صدر کے ساتھ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے پاس جائیں اور ان کی بات کو بھی سمجھیں،

    احمد فرہاد کی درخواست ضمانت مسترد

    احمد فرہاد کی بازیابی کیس، گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    وفاقی حکومت نے شاعر اور صحافی احمد فرہاد کی گرفتاری ظاہر کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،اٹارنی جنرل کی احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی

    عدالت کا احمد فرہاد کے طبی معائنے کا حکم