Baaghi TV

Tag: عدالت

  • توہین عدالت کیس، فیصل واوڈا کا جواب جمع،معافی مانگنے سے انکار

    توہین عدالت کیس، فیصل واوڈا کا جواب جمع،معافی مانگنے سے انکار

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں شوکاز نوٹس پر جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا

    فیصل واوڈا نے توہین عدالت کیس میں غیر مشروط معافی مانگنے سے انکار کر دیا، فیصل واوڈا کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین کرنا نہیں تھا ،پریس کانفرنس کا مقصد ملک کی بہتری تھا، عدالت توہین عدالت کی کاروائی آگے بڑھانے پر تحمل کا مظاہرہ کرے، توہین عدالت کا نوٹس واپس لیا جائے،

    فیصل واوڈا نے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں روف حسن مولانا فضل الرحمان شہباز شریف کی تقریروں کے ٹرانسکرپٹ بھی عدالت میں پیش کر دیئے،فیصل واوڈا نے جواب میں کہا کہ توہین عدالت کا مبینہ ملزم عدالت کی عزت کرتا ہے،کسی بھی طریقے سے عدالت کا وقار مجروح کرنے کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا،سمجھتا ہوں کہ عدالت کا امیج عوام کی نظروں میں بےداغ ہونا چاہیے،پاکستان کے تمام مسائل کا حل ایک فعال اور متحرک عدالتی نظام میں ہے،حال ہی میں چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کو اپنی غطلیاں تسلیم کرنی چاہیے ،اپریل 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خلاف توہین آمیز مہم چلی،آرٹیکل 19 اے کے تحت ملزم نے جسٹس بابر ستار کے گرین کارڑ سے متعلق معلومات کیلئے رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھا،دو ہفتے گزر جانے کے باوجود جواب موصول نہیں ہوا،ملزم سمجھتا ہے کہ پاکستان کے مضبوط دفاع کیلئے فوج اور خفیہ اداروں کی مضبوطی ضروری ہے،عدلیہ کے ساتھ فوج اور خفیہ اداروں کی مضبوطی کا انحصار عوامی تائید پر ہے، دفاعی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے خلاف مہم زور پکڑ رہی ہے،

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کل سپریم کورٹ میں ہوگی۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • احمد فرہاد کی درخواست ضمانت مسترد

    احمد فرہاد کی درخواست ضمانت مسترد

    احمد فرہاد کیس کی سماعت ،انسدادِ دہشتگردی عدالت نے اپنا فیصلہ سنا دیا

    انسدادِ دہشتگردی عدالت نے احمد فرہاد کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے،احمد فرہاد کی جانب سے ہائی کورٹ میں رٹ دائرکیے جانے کامکان ہے،مظفرآباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے احمد فرہاد کی درخواست ضمانت مسترد کی ہے،انسداد دہشتگردی عدالت نے احمد فرہاد کی درخواست ضمانت پر گزشتہ روز فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنایا گیا،گزشتہ روز درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی تھی.

    احمد فرہاد کی بازیابی کیس، گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    وفاقی حکومت نے شاعر اور صحافی احمد فرہاد کی گرفتاری ظاہر کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،اٹارنی جنرل کی احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی

    عدالت کا احمد فرہاد کے طبی معائنے کا حکم

    عدالتی فیصلے کے بعد شاعر احمد فرہاد کی اہلیہ نے عدالت کے باہر میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت سے ضمانت مسترد ہو جانے کے بعد ہم اس فیصلے کو چیلنج کریں گے اور قانون کا سہار ہی لیں گے، ہمیں صرف اتنا بتایا گیا ہیکہ ضمانت مسترد کی گئی تفصیلات ہمیں نہیں بتائی گئیں،شاعر احمد فرہاد مریض ہیں اور سٹریس میں ہیں انہیں سپیشل کیئر جائیے ہوتی ہے ورنہ ان کا مرض بڑھ سکتا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ احمد فرہاد پیش ہوں گے تو ہماری پٹیشن کا فیصلہ ہوگا ،ان کی اسلام آباد ہائی کورٹ پیشی پر کورٹ ہی کوئی کمیونی کیٹ کرے گی ہم کچھ نہیں کہہ سکتے،

  • غفلت اور دھوکہ دہی، پاکستان پوسٹ کو 13 لاکھ جرمانہ

    غفلت اور دھوکہ دہی، پاکستان پوسٹ کو 13 لاکھ جرمانہ

    غفلت اور دھوکہ دہی، پاکستان پوسٹ کو 13 لاکھ جرمانہ کر دیا گیا

    شہر قائد کراچی کی کنزیومر کورٹ نے غفلت اور دھوکہ دہی پر پاکستان پوسٹ کومجموعی طور پر 13 لاکھ روپے کا جرمانہ درخواست گزار کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے، کراچی کی کنزیومر پروٹیکشن کورٹ ایسٹ نے پاکستان پوسٹ کے خلاف کیس کا فیصلہ سنایا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ "پاکستان پوسٹ نے غفلت کا مظاہرہ کیا اور درخواست گزار کے ساتھ دھوکا کیا، عدالت نے پاکستان پوسٹ کو مجموعی طور پر 13 لاکھ روپے کا جرمانہ درخواست گزار کو ادا کرنے کا حکم دے دیا”۔

    درخواست گزار نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ” اس نے 16 فروری 2023 کو کچھ دستاویزات بیرون ملک بھیجی تھیں تاہم 21 مارچ کو دستاویزات ان ڈلیورڈ واپس آگئیں ، پاکستان پوسٹ کے پورٹل پر شکایت بھی درج کرائی تھی مگر جواب نہیں دیا گیا”۔شہری نے کنزیومر کورٹ میں درخواست دائر کی تھی ،کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا جواب سنا دیا گیا ہے.

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

  • عدالت کا پی ٹی آئی سیکرٹریٹ ڈی سیل کرنے کا حکم

    عدالت کا پی ٹی آئی سیکرٹریٹ ڈی سیل کرنے کا حکم

    اسلام آباد، عدالت نے تحریک انصاف کے سیکرٹریٹ کو ڈی سیل کرنے کا حکم دے دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیازنے گزشتہ روز کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ "سی ڈی اے نے 2022 اور 2023 میں سابقہ مالک کو نوٹس اور پھر شوکاز جاری کیا تھا، سی ڈی اے وضاحت پیش نہیں کر سکا کہ نوٹس پرانے مالک کو کیوں بھیجے جاتے رہے،سب سے اہم یہ ہے کہ نوٹس یا شوکاز کی سروس کی کوئی رسید ریکارڈ پر نہیں، سی ڈی اے نے پی ٹی آئی کا مرکزی سیکریٹریٹ سیل کرنے کا آرڈر سے پہلے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا،سی ڈی اے کا دفتر سیل کرنے کا آرڈر بھی تحریک انصاف کو نہیں لکھا گیا، نہ کاپی بھیجی گئی”۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ عدالت پی ٹی آئی کا سیکریٹریٹ فوری ڈی سیل کرنے کا حکم دیتی ہے یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ سی ڈی اے قانون کی خلاف ورزی پر قانون کے مطابق کارروائی کر سکتا ہے

    گزشتہ روز کیس کی سماعت ہوئی تھی تو تحریک انصاف کے رہنماعمر ایوب کی جانب سے وکلا شعیب شاہین اور عمیر بلوچ عدالت میں پیش ہوئے ،سی ڈی اےکے وکیل حافظ عرفات اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسٹیٹ کونسل نے دلائل دیئے،دوران سماعت تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے نے اپنے ریکارڈ میں نوٹسز لگائے مگر موجودہ نوٹس کاذکر نہیں، سی ڈی اے نے فراڈکیا، اگر دیکھا جائے تو 2 نوٹسز کا ایک ہی نمبر ہے اور جو نوٹسز بھیجے گئے وہ پی ٹی آئی کو نہیں بلکہ سرتاج علی کوبھیجےگئے ہیں۔ شعیب شاہین نے کہا کہ میڈیا میں بیان دیاگیا کہ ہم سرتاج علی سے زمین واگزار کرارہے ہیں، آپریشن کے وقت میڈیاکویہ بھی بتایاکہ تحریک انصاف کو ہم نےنوٹس ہی نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ پر سی ڈی اے نے انسداد تجاوزات آپریشن کرتے ہوئے سیکرٹریٹ کا ایک حصہ گرا دیا اور دفتر سیل کردیا،آپریشن سے قبل پولیس نے پی ٹی آئی سیکرٹریٹ جانے والے راستوں کو بند کر دیا تھا، سی ڈی اے نے تحریک انصاف کے دفتر کو سیل کرنے کا حکم نامہ بھی چسپاں کردیا،سی ڈی اے کا مؤقف ہےکہ اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ فور میں واقع پلاٹ سرتاج علی نامی شخص کو الاٹ ہے، آپریشن بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خاتمے کیلئےکیا گیا،

    بلوچستان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ،میجر بابر خان شہید ، 3 دہشت گرد جہنم واصل

    خیبرپختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 11 دہشتگرد جہنم واصل

    کراچی ،غیر ملکیوں کی گاڑی پر خود کش حملہ،دو جاں بحق،حملہ آور ساتھی سمیت جہنم واصل

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

  • جسٹس بابر ستارکیخلاف مہم ، وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد، دوبارہ جمع کرانے کا حکم

    جسٹس بابر ستارکیخلاف مہم ، وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد، دوبارہ جمع کرانے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس بابر ستارکے خلاف مہم کیس میں وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے دوبارہ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں 3 رکنی لارجر بنچ نے مقدمے کی سماعت کی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان بنچ میں شامل ہیں، اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دگل عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ہدایت کی کہ جنہوں نے سوشل میڈیا مہم کا آغاز کیا ان کا پتہ لگائیں، جو اصل لوگ ہیں ان کا تعین کریں، ہم آرڈر کر دیں گے آپ اصل ذمہ داروں کا تعین کریں، مہم کا آغاز کرنے والے لوگوں کے خلاف تحقیقات کریں، آپ نے ان کا تعین کرنا ہے جنہوں نے جج کی فیملی کا ڈیٹا سب سے پہلے شیئر کیا، ہم اس حوالے سے ایک مناسب آرڈر بھی جاری کر دیں گے۔

    جسٹس سردار اعجاز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ایک ہی روز میں تین مختلف مہم چلائی گئیں؟ اگر ملک دشمنوں کی جانب سے فائیو جی وار شروع کر دی جائے، اگر ملک دشمن یہ الزام عائد کر دیں کہ آرمی چیف، صدر مملکت توہین مذہب کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان الزامات کے نتیجے میں جلاؤ گھیراؤ ہو، بلڈنگز کو جلا دیا جائے تو کیا آئی ایس آئی ان ملک دشمن عناصر کو ٹریس کر سکے گی یا نہیں؟جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ہاں اور ناں کا سوال ہے، بتائیں آپ کی استعداد ہے کہ نہیں؟جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ حکومت کے پاس فائیو جی وار فیئر کے خلاف کوئی سافٹ ویئر موجود نہیں؟ آپ بتائیں کہ فائیو جی وار فیئر کا مقابلہ کرنے کیلئے آپ کے پاس کیا وسائل موجود ہیں؟جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ قومی سلامتی کے معاملات خفیہ ہے تو سربمہر لفافے میں جمع کرا دیں۔

    جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ایف آئی اے حکام کو کہا کہ آپ نے ہمیں بہت مایوس کیا ہے، ایف آئی اے نے اس رپورٹ سے بہت بہتر رپورٹ جمع کرائی ہے ، ہم سپیریئر ایجنسی سے ویسا ہی کام کی توقع کر رہے تھے.جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے نے واقعی بہت کام کیا ہے،عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا گرین کارڈ والے کو امریکی شہری کہیں گے؟ امیگریشن حکام نے بتایا کہ وہ امریکی شہری نہیں ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج کی انفارمیشن جو صرف ایف آئی اے کے پاس ہو سکتی تھی وہ کسی سسٹم سے نکال کر اپلوڈ ہوئی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹریول دستاویز پبلک ہوئی ہیں،عدالت نے سسٹم سے دستاویزات نکالے جانے پر ڈی جی امیگریشن ڈیپارٹمنٹ سے رپورٹ طلب کر لی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ سسٹم میں معزز جج کی یہ انفارمیشن کتنی بار چیک کی گئی؟ آپ نے بتانا ہے کہ یہ انفارمیشن کیسے لیک ہوئی؟جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیئے کہ ڈی جی امیگریشن کہتے ہیں کہ یہ انفارمیشن ہمارے پاس نہیں ہوتی،امیگریشن حکام نے بتایا کہ ہماری تکنیکی ٹیم آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کر دے گی۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انفارمیشن کیلئے لاگ ان کیا گیا ہوگا وہ آپ نے بتانا ہے۔عدالت نے آئی ایس آئی سے دوبارہ رپورٹ طلب کر لی،جسٹس محسن اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اسٹینڈ لے لیا ہے کہ پی آر کارڈ ہونے کا مطلب امریکا کی شہریت نہیں ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پی آر کارڈ ہونے کا مطلب شہریت نہیں ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کر دی اور ریمارکس دیئے کہ آئندہ سماعت کی تاریخ تحریری حکمنامہ میں ہوگی

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

  • پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت ضیا چشتی نے مقدمہ جیت لیا

    پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت ضیا چشتی نے مقدمہ جیت لیا

    پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت ضیاء چشتی نے نیریٹیوز (Narratives) میگزین اور اس کے ایڈیٹر عامر ضیاء کے خلاف جھوٹے، ہتک آمیز اور بدنیتی پر مبنی الزامات پر ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا ہے

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج لاہور نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ” میگزین نے ضیاء چشتی پر سنگین الزامات لگاکر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، میگزین اپنے دفاع میں ٹھوس ثبوت پیش نہ کرسکا، نیریٹیوز میگزین ضیاء چشتی سے معافی مانگے، وضاحت شائع کرے اور بطور ہرجانہ 50 لاکھ روپے بھی دے،میگزین کے ایڈیٹر نے عدالت کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    نیریٹیو میگزین نے ضیا چشتی کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے تھے، ان کے خلاف جنسی بدانتظامی اور سیکیورٹیز اور دیگر کارپوریٹ قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات کا حوالہ دیا تھا۔ ضیا چشتی ایک سیریل ٹیک انٹرپرینیور ہیں جنہوں نے Invisalign ڈینٹل بریسس کے پیچھے ملٹی بلین ڈالر کی کمپنی کی بنیاد رکھی اور ملٹی بلین ڈالر کی مصنوعی ذہانت کمپنی Afiniti کی بنیاد رکھی۔ صدر مملکت ممنون حسین نے ضیا چشتی کو 2018 میں ستارہ امتیاز سے نوازا۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ضیا چشتی کو بغیر کسی بنیاد اور بددیانتی کی وجہ سے بدنام کیا گیا۔ جج محمد فرحان نبی نے کہا کہ نیریٹیو میگزین نے اپنے دفاع میں کوئی قابل اعتبار ثبوت پیش نہیں کیا، اور میگزین نے ضیا چشتی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔

    ضیا چشتی نے عدالتی فیصلے کے بعد کہا کہ "مجھے انصاف فراہم کیا گیا میں عدالت کا شکر گزار ہوں۔ میں اپنے خاندان اور اپنے قریبی دوستوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے غیر معمولی مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا۔ یہ بہت سے کیسز میں سے پہلا کیس ہے جو میں جیتا ہوں.

    ہارورڈ کے پروفیسر ایمریٹس اور معروف قانونی چارہ جوئی کرنے والے ایلن ڈرشووٹز نے کارروائی میں ذاتی دلچسپی لی۔ انہوں نے تبصرہ کیا: "پاکستان میں عدالت کا فیصلہ ضیا چشتی کے اس موقف کی توثیق کرنے والا پہلا فیصلہ ہے کہ ان کے خلاف صرف الزامات ہیں، میں نے چشتی صاحب کو مشورہ دیا اور دلچسپی سے اس کیس کی پیروی کی۔ یہ مسٹر چشتی کی طرف سے لائے گئے ہتک عزت کے مقدمات کے وسیع تر سیٹ کا حصہ ہے، جس میں امریکہ میں ان پر الزام لگانے والے کے خلاف اور برطانیہ میں ٹیلی گراف کے خلاف مقدمہ بھی شامل ہے۔

    اس کیس میں ضیاچشتی کی نمائندگی بیرسٹر فیصل نواز نے کی۔ فیصل نواز کا کہنا تھا کہ مجھے اس کیس میں ضیا چشتی کی نمائندگی کرنے پر فخر ہے، اور انصاف ہوتا دیکھ کر خوشی ہوئی۔ جیسا کہ عدالت نے فیصلہ دیا ہے، نیریٹیو میگزین نے غلط بیانی سے کام لیا عامر ضیاء نے جھوٹی خبریں شائع کرنے سے پہلے کبھی جناب چشتی سےرابطہ نہیں کیا.

  • اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس ،ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم ،عمران خان، قریشی بری

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس ،ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم ،عمران خان، قریشی بری

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،سائفر کیس میں سزا کے خلاف عمران خان اور شاہ محمود کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں بری کر دیا.اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔محفوظ فیصلہ اسلام ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن نے سنایا،عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں رہا کرنے کا حکم دے دیا،

    سائفر کیس فیصلہ سے قبل ، کمرہ عدالت میں پولیس اہلکاروں نے روسٹرم کے سامنے حصار بنا لیا تھا ، تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان، شعیب شاہین و دیگر کمرہ عدالت میں موجود تھے، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے. عامر ڈوگر نے عدالت میں موجود رہنمائوں و کارکنان کو ہدایت کی کہ سائفر کیس کے فیصلے کے وقت عدالت میں کوئی نعرے بازی نہیں کرنی ،

    عدالتی فیصلے کے بعد بھی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی رہائی ممکن نہیں، عمران خان کو دوران عدت نکاح کیس میں بھی سزا ہو چکی ہے جبکہ شاہ محمود قریشی کو نو مئی کے مقدمات میں بھی گرفتار کیا گیا ہے، لاہور پولیس نے شاہ محمود قریشی کی گرفتاری 25 مئی کو اڈیالہ جیل میں ڈالی تھی،بعد ازاں عدالت نے شاہ محمود قریشی کا ریمانڈ دیا تھا، لاہور کی جے آئی ٹی کی پانچ رکنی تفتیشی ٹیم 26 مئی کو اڈیالہ جیل آئی تھی،عمران خان پر بھی نومئی کے مقدمے ہیں

    بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں بریت کا مختصر فیصلہ جاری کر دیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے مختصر فیصلہ جاری کیا،جس میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کی سزا کیخلاف اپیلیں منظور کی جاتی ہیں، سائفر کیس میں ٹرائل کورٹ کا 30 جنوری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کو مقدمے سے بری قرار دیا جاتا ہے،اگر کسی دوسرے کیس میں قید نہیں تو بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کو فوری رہا کیا جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی اور حامد علی شاہ عدالت میں پیش نہ ہوئے،معاون پراسیکیوشن نے کہا کہ حامد علی شاہ راستے میں ہیں،20منٹ دے دیں وہ آجائیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا ہم آپ کے لئیے یہاں پر بیٹھے ہوئے ہیں،میں نے آج ریگولر ڈی بی اسی لئیے کینسل کر دی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق برہم ہو گئے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ حامد علی شاہ صاحب کہاں ہیں؟معاون پراسیکیوٹر نے کہا کہ شاہ صاحب معروف اسپتال میں ہیں میری ابھی ان سے بات کوئی ہے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اسٹیٹ کونسل عبد الرحمان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے آپ نے کوئی ایسا ٹرائل کنڈکٹ کیا ہے،آج آرام سے تیار کر کے ہمیں دے دیں،آپ نے ابھی تک کونسا کرمنل کیس کا ٹرائل کیا ہے ،ان کیسز کی لسٹ دے دیجیے گا ،کیس ٹائٹل کس کورٹ میں تھا تاکہ ہم اسکو ویرفائی کر سکیں،

    اعظم خان نے سائفر سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو دیا، اس سے متعلق کوئی دستاویز موجود نہیں،وکیل
    سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوٹر کی جانب سے کہا گیا کہ ہم نے 342 میں گناہ تسلیم کیا ہے، سیکریٹریٹ رولز کے مطابق اعظم خان جوابدہ ہیں ان سے پوچھا جانا چاہیے ،سکریٹریٹ رولز کا ذکر حامد علی شاہ نے یہاں نہیں کیا، سلمان صفدر کی جانب سے سپریم کورٹ کی مختلف عدالتی نظریوں کا حوالہ دیا گیا، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان نے سائفر سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو دیا، اس سے متعلق کوئی دستاویز موجود نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سائفر وصولی سے متعلق تو آپ کےموکل کا اپنا اعتراف بھی موجود ہے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ تو پراسیکیوشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ بات ثابت کریں، قانون بڑا واضح اور اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں ،پراسیکیوشن نے کیس ثابت کرنے کی ذمہ داری پوری کرنی ہے،اگر 342 کا بیان لینا ہے تو مکمل بیان کو لیا جائے گا ،ٹکڑوں میں بیان نہیں لے سکتے ،رات 12 بجے تک سماعت ہو ئی، صبح8 بجے سابق پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کا بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے ،جب 342 کا بیان ریکارڈ ہو ا،اس دن فیصلہ بھی سنا دیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد دلائل دیے گئے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ 2کونسلز جنہوں نے ٹرائل کورٹ میں جرح کی انہوں نے کبھی کرمنل کیس لڑا ہے، اگر انہوں نے کیسز لڑے ہیں تو تمام کیسز کی لسٹ تیار کر کے عدالت میں جمع کروا دیں،

    سائفر کی 9کاپیاں واپس نہیں آئی تھیں،تو پہلے انکوائری شروع کیوں نہیں کی گئی،وکیل
    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ملزم نے سائفریا دشمن ملک کو دے دیا،اپنے پاس رکھا یا اسکو رٹین کر دیا پراسیکیوشن کوئی ایک بات کرے،اگر برآمدگی نہیں ہوئی تو پھر یہ چارج کیسے لگ گیا،عمران خان کی حد تک یہ جرم اپلائی بھی نہیں کرتا،جب سائفرشفٹ کیا گیا اسکا کوئی ثبوت عدالت میں لیکر نہیں آئے،9کاپیاں واپس نہیں آئی تھیں،تو پہلے انکوائری شروع کیوں نہیں کی گئی،ہمیں کسی ایک کے بارے میں انکوائری دکھا دیں،جو 8 کاپیاں لیٹ آئیں انکے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی،جب ثبوت کو ضائع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو 201 لگتی ہے سائفر تو انکے پاس موجود ہے، سلمان صفدریہ صرف سیاسی انتقام ہے،سائفر تو ان لوگوں کے پاس موجود ہے تو پھر کیوں نہیں لائے,تین چیزوں کو میں عدالت میں بیان کرنا چاہتا ہوں ،تین چیزیں عدالت میں پیش نہیں کی گئی سائفر ڈاکومنٹ نہیں آیا ، سائفر کا کانٹینٹ اور سائفر بک لیٹ ٹرائل کورٹ میں پیش کی گئی، سائفر سے متعلق بک لیٹ راجہ رضوان عباسی نے ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں کی اور شاہ صاحب ہائیکورٹ میں لے آئے ،

    ایف آئی اے پرسکیوٹر ذالفقار علی نقوی کمرہ عدالت پہنچ گئے

    عدالت میں کسی مخصوص ملک کا نہیں بتایا گیا جس کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے،وکیل
    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ حامد علی شاہ گزشتہ تین سماعت پر موجود نہیں تھے،مزید ثبوت جمع کروانے کے متفرق درخواست بھی مسترد کی گئی ، حامد علی شاہ نے ڈیڑھ ماہ عدالت میں دلائل دیتے رہے ہیں ، ثبوت بعد میں لائے گئے اس کا مطلب کے ہم کیس ثابت نہیں کر سکے،عدالت نے کئی سوالات پوچھے شاہ صاحب نے کہا اس کا جواب بعد میں دوں گا اب شاہ صاحب عدالت میں ہی نہیں ،اعظم خان خود کہتے ہیں کہ سائفر گم ہو گیا ہے،دفتر خارجہ کو آگاہ کر دیا ہے،اعظم خان نے اپنے بیان میں بتایا ملٹری سکریٹری، اے ڈی سی اور دفتر کا سٹاف ڈھونڈتا رہا،دفتر خارجہ کو آگاہ کرنے کے بعد آئی بی نے انکوئری کرنی تھی جو نہیں کی گئی،میری استدعا ہے کے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو تمام چارجز سے ڈسچارج کیا جائے۔جس سورس سے آیڈیوز،ویڈیوز آتی ہیں اسکی آئی پی ایڈریس ٹریس نہیں ہوئی،عدالت میں کسی مخصوص ملک کا نہیں بتایا گیا جس کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے،جب ہم ضمانت پر ائے تو انہوں نے کہا ضمانت کا حق حاصل نہیں ،پھر ہم اپیل میں گئے وہاں بھی کہا گیا اپیل کا حق بھی نہیں مل سکتا،نقوی صاحب نے کہا ان کو کھانسی آتی تھی درخواست دیتے تھے، یہ بات درست ہے ہم نے 55 درخواستیں دیں،جج صاحب نے کام ہی ایسا کیا کیا کرتے،آخر میں آ کر کہتے ہیں کہ ٹرائل کورٹ کیس واپس بھیجا جائے تا کہ غلطیاں ختم کی جائیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ اس بات کو چھوڑیں ہم جانیں پراسیکیوشن جانے،ٹرائل کورٹ میں جو پہلے دو راؤنڈ تھے اس میں جرح آپ نے کی تھی ناں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جی جی بلکل ایسا ہی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر پراسیکیوشن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ کیس کو ٹرائل کورٹ واپس بھیج دیں اس میں خامیاں ہیں،سلمان صفدر صاحب! آپ اس پر کیا کہنا چاہتے ہیں وہ بتا دیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آج ہمیں اس کیس میں 3 ماہ ہو گئے ہیں، ہر کیس کہ ایک اسٹیج ہوتی ہے ہم اس سے بہت آگے بڑھ چکے ہیں ، 2 بار کیس ریمانڈ بیک ہوچکا تیسری بار کیس ریمانڈ بیک کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی ، عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے پراسکیوٹر ذولفقار علی نقوی صاحب کی جانب سے کہا گیا کیس کو میرٹ پر نہیں سنا جا سکتا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم آپ سے قانونی طور پر معاونت چاہتے ہیں ،

    دس سال کے لئے کسی کو جیل میں رکھنا صرف اس پر ہو سکتا ہے کہ تعلقات "خراب ہو سکتے تھے،عدالت
    سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہونے پر ایف آئی سے پراسیکیوٹر ذولفقار عباس نقوی نے دلائل کا آغاز کر دیا۔دلائل کے آغاز میں ہی چیف جسٹس عامر فاروق ایف آئی اے پراسیکیوٹر ذولفقار عباس نقوی پر شدید برہم ہو گئے،عدالت نے کہا کہ آپ خالی یہ کہہ رہے ہیں "تعلقات خراب ہو سکتے تھے” قانون کی منشا یہ نہیں ، آپ نے کسی کو سزائے موت دینی ہے ،دس سال کے لئے کسی کو جیل میں رکھنا صرف اس پر کیا ہو سکتا ہے کہ تعلقات "خراب ہو سکتے تھے” ،عدالت نے اسپیشل پراسکیوٹر کو ہدایت کی کہ فائیو ون سی پڑھیں آپ کا کیس یہ ہے ، جان بوجھ کر سائفر عمران خان نے اپنے پاس رکھی اس سے متعلق بتائیں ، اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی سائفر عوام کے سامنے لایا، سائفر ایک کلاسیفائیڈ دستاویز ہے، سابق وزیراعظم نے سائفر کا کنٹینٹ بھی پبلک کیا جس سے مختلف ممالک سے تعلقات خراب ہوئے ، گواہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو بار بار کہا گیا سائفر کاپی کے ساتھ یہ نا کریں ، 342 کے بیان میں بانی پی ٹی آئی مان رہے ہیں ، عدالت نے کہا کہ اگر وہ کہہ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں جان بوجھ کر کر رہے ہیں ، آپ نے ثابت کرنا ہے ، عدالت نےاسپیشل پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ یہ کہنا کہ "یہ نا کرو” یہ الگ چیز ہے آپ نے رولز دیکھنے ہیں،کس نے سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی کو رولز کے مطابق ڈائریکشن دی ؟ اسپیشل پراسکیوٹر نے کہا کہ قانون یہ کہتا ہے کہ وہ سائفر کاپی اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے ، عدالت نے کہا کہ یہ تو رولز ہیں کوئی الگ سے قانون تو نہیں ، سپریم کورٹ کا قانون واضع ہے جہاں ملزم تسلیم بھی کر لے تو پراسیکوشن نے ثابت کرنا ہے ،اگر آپ کاپی ٹرائل کورٹ کو دیکھا دیتے تو پھر پراسیکوشن کا کیس بن سکتا تھا ، پتہ تو چلتا جو افسانہ ہے وہ افسانہ ہے کیا ؟کورٹ کے اندر کلاسیفائیڈ نہیں ہوتا ، کورٹ میں قانون کے طریقہ کار بتا دیا ہے کلاسیفائیڈ کو ڈیل کیسے کرنا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے مانا ہے یا نہیں آپ اس کو چھوڑیں آپ نے اسکو ثابت کرنا ہے،کیا وزیراعظم کو بتایا گیا تھا اس ڈاکومنٹ کو واپس کرنا ہے، سائفر کو جو کنٹینٹ ہے وہ عدالت کو بتانا چاہیے تھا ناں، کورٹ میں کوئی دستاویز کلاسیفائیڈ نہیں ہوتی، جس چیز کا ہمیں پتہ ہی نہیں ہم نے دیکھا ہی نہیں اس پر ہم کیا کریں ،پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہمارا چارج ہے اس میں انفارمیشن لیک کی گئی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کونسی انفارمیشن لیک کی گئی ، شاہ صاحب دنیا گول ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایف آئی اے پرسکیوٹر سے استفسار کیا کہ تیس جنوری کو سزا سنائی گئی، آپ نے کتنی دیر دلائل دیے تھے،پراسکیوٹر نے کہا کہ تھوڑی دیر دلائل دیے ،عدالت نے کہا کہ تھوڑی دیر کیا مطلب چار گھنٹے 15 منٹس؟ پراسکیوٹر نے کہا کہ ایک گھنٹہ میرے خیال سے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ 11:30 پر 342 کا بیان ریکارڈ ہوا 2 بجے فیصلہ آ گیا ،342 بیان ریکارڈ کرنے کے ایک ڈیڑھ گھنٹے کے اندر 70 صفحات پر مشتمل فیصلہ آ گیا،ہم اپنے فیصلے میں لکھیں گے کہ بہت اچھا ٹرائل ہوا ہے، پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر ٹرائل ٹھیک نہیں ہوا تو ریمانڈ بیک کر دیں ، عدالت نے کہا کہ تین مہینے آپ کو اور سلمان صفدر کو سنا اب ہم واپس کیسے بھیج سکتے ہیں کوئی دلائل ہے آپ کے پاس، آپ بھی پراسیکیوشن تھے عدالت کو بتانا چاہیے تھا ٹیک اٹ ایزی ،فائیو ون سی کا تقاضا پورا کیا یا نہیں ؟ وہ بتائیں ،مجھے جو سمجھ آتی ہے آپ نے تقاضا پورا نہیں کیا ،پراسیکوشن نے کہاں ثابت کیا ہوا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے ؟آپ نے ایک پری written ججمنٹ لکھی ہوئی ہے یہ کوئی طریقہ نہیں ،ایک اسٹیج پر حامد علی شاہ صاحب نے کہا تھا ہم ٹرائل کا دفاع کریں گے ، ہم لکھیں گے یہ آئیڈیل ٹرائل تھا اس سے بہتر ٹرائل ہو ہی نہیں سکتا تھا ،ساڑھے تین ماہ سن سن کر اب تو میرے اسٹاف کو بھی یاد ہو گیا ہو گا ،

    بنچ اٹھ کر چیمبر چلا گیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم دس پندرہ منٹ میں واپس آرہے ہیں ، کیا دنیا میں کوئی justify کر سکتا ہے کہ دوپہر کو 342 کا بیان مکمل ہوتا ہے اور 77 صفحے کا فیصلہ آجاتا ہے ، آپ بھی کہہ سکتے تھے آپ نے بھی غیر معمولی جلدی تیزی دیکھائی ،

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیاتھا جو اب سنا دیا گیا ہے.

    سائفر سیکیورٹی کا مقصد یہی ہے کہ سائفر کو کسی غیر متعلقہ شخص کے پاس جانے سے روکا جائے،

    سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اعظم خان نے اعتراف کیا سائفر کی کاپی وزیراعظم نے واپس نہیں کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی،عدالت

    ثابت کریں کہ جو پبلک ریلی میں لہرایا گیا وہ سائفر تھا ،عدالت کا پراسیکیوٹر سے مکالمہ

    سائفر کیس، عمران خان، قریشی کو سزا سنانے والے جج بارے اہم فیصلہ

    سائفر کی کاپی کی ساری ذمہ داری پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر تھی،وکیل عمران خان

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،عمران خان، شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کورٹ نے کتنی سزا سنائی تھی؟
    جج ابوالحسنات ذوالقرنین کو خصوصی عدالت کا جج تعینات کیا گیا تھا، اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت ہوئی تھی اور سائفر کس میں جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمو د قریشی کو سزا سنائی تھی، سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت سزا سنائی گئی تھی، بانی پی ٹی آئی پر مقدمہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے سیکشن 5 اور9 کی دفعات کے تحت درج تھا جب کہ سائفرکیس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگائی گئی تھی،سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 حساس معلومات کو جھوٹ بول کر آگے پہنچانے سے متعلق ہے، سیکرٹ ایکٹ 1923 کا سیکشن 9 جرم کرنےکی کوشش کرنے یاحوصلہ افزائی سے متعلق ہے۔کسی کے پاس حساس دستاویز، پاسورڈ یا خاکہ ہو اوراس کا غلط استعمال ہو تو سیکشن 5 لگتی ہے، حساس دستاویزات رکھنے کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پربھی سیکشن 5 لاگو ہوتا ہے پاکستان پینل کوڈ سیکشن 34 کے تحت شریک ملزمان کا کردار بھی مرکزی ملزم کے برابر ہوگا، سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت سزائے موت بھی ہوسکتی ہے جب کہ سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت زیادہ سے زیادہ14 سال قیدکی سزا ہوسکتی ہے۔

    سائفر کا معاملہ کیا ہے؟
    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے مراسلے یا سائفرکو بنیاد بنا کر ہی اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے تاہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سائفر کو لے کر پی ٹی آئی حکومت کے مؤقف کی تردید کی جاچکی ہے۔ سائفر سے متعلق عمران خان اور ان کے سابق سیکرٹری اعظم خان کی ایک آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں عمران خان کو کہتے سنا گیا تھا کہ ’اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے کہ اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی جس پر اعظم خان نے جواب دیا کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سائفر کے اوپر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں‘۔اس کے بعد وفاقی کابینہ نے اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کیا تھا اعظم خان پی ٹی آئی کے دوران حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری تھے اور وہ وزیراعظم کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔سائفر کے حوالے سے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا تھا سائفر پر ڈرامائی انداز میں بیانیہ دینے کی کوشش کی گئی اور افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جس کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا تھا۔

  • پی ٹی آئی سیکرٹریٹ سیل کرنے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    پی ٹی آئی سیکرٹریٹ سیل کرنے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ، تحریک انصاف کا مرکزی سیکرٹریٹ سیل کرنے اور سی ڈی اے کے آپریشن کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے درخواست پر سماعت کی،تحریک انصاف کے رہنماعمر ایوب کی جانب سے وکلا شعیب شاہین اور عمیر بلوچ عدالت میں پیش ہوئے ،سی ڈی اےکے وکیل حافظ عرفات اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسٹیٹ کونسل نے دلائل دیئے،دوران سماعت تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے نے اپنے ریکارڈ میں نوٹسز لگائے مگر موجودہ نوٹس کاذکر نہیں، سی ڈی اے نے فراڈکیا، اگر دیکھا جائے تو 2 نوٹسز کا ایک ہی نمبر ہے اور جو نوٹسز بھیجے گئے وہ پی ٹی آئی کو نہیں بلکہ سرتاج علی کوبھیجےگئے ہیں۔ شعیب شاہین نے کہا کہ میڈیا میں بیان دیاگیا کہ ہم سرتاج علی سے زمین واگزار کرارہے ہیں، آپریشن کے وقت میڈیاکویہ بھی بتایاکہ تحریک انصاف کو ہم نےنوٹس ہی نہیں کیا۔

    سی ڈی اے وکیل نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے خود مانا انہوں نےکمرشل پلاٹ خریدا اور اس کا استعمال ہی تبدیل کردیا،کمرشل پلاٹ کو پارٹی کے لیے استعمال کیاگیا جس سے وہاں کے لوگ متاثر ہورہے ہیں، جتنی اجازت دی گئی انہوں نےاس کے اوپرمزید تعمیرات کیں، عدالت نے سی ڈی اے وکیل سے استفسار کیا کہ کون سےنوٹس میں کہا ہےکہ اس پلاٹ کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیاجاسکتا ؟ اگر کسی نے پلاٹ کرائے پر دیا ہوا ہو تو نوٹس کس کو جائےگا؟ہم نےکئی کیسز دیکھے جن میں سی ڈی اے والےکبھی ایک کو نوٹس کرتے ہیں کبھی دوسرے کو، آپ ایسے معاملات پرمالک اور کرایہ دارکو نوٹسزکیوں نہیں کرتے تاکہ معاملہ ایک ہی بارمیں ختم ہو۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ پر سی ڈی اے نے انسداد تجاوزات آپریشن کرتے ہوئے سیکرٹریٹ کا ایک حصہ گرا دیا اور دفتر سیل کردیا،آپریشن سے قبل پولیس نے پی ٹی آئی سیکرٹریٹ جانے والے راستوں کو بند کر دیا تھا، سی ڈی اے نے تحریک انصاف کے دفتر کو سیل کرنے کا حکم نامہ بھی چسپاں کردیا،سی ڈی اے کا مؤقف ہےکہ اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ فور میں واقع پلاٹ سرتاج علی نامی شخص کو الاٹ ہے، آپریشن بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خاتمے کیلئےکیا گیا،

    بلوچستان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ،میجر بابر خان شہید ، 3 دہشت گرد جہنم واصل

    خیبرپختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 11 دہشتگرد جہنم واصل

    کراچی ،غیر ملکیوں کی گاڑی پر خود کش حملہ،دو جاں بحق،حملہ آور ساتھی سمیت جہنم واصل

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

  • احمد فرہاد کی بازیابی کیس، گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    احمد فرہاد کی بازیابی کیس، گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ،شاعر احمد فرہاد کی بازیابی اورعدالت میں پیشی سےمتعلق کیس ،جسٹس محسن اختر کیانی نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    تحریری حکمنامے میں عدالت نے کہا کہ وکیل نے بتایا کہ احمد فرہاد اب تک گھر نہیں پہنچے ہیں،وکیل کے مطابق احمد فرہاد مظفرآباد تھانے میں درج مقدمے میں جسمانی ریمانڈ پر ہیں، وکیل کے مطابق احمد فرہاد کے اہل خانہ کی ان سے ملاقات کروائی گئی ،وکیل کے مطابق طبی وجوہات کی بنا پر احمد فرہاد کی صحت ٹھیک نہیں ہے، اٹارنی جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق احمد فرہاد 2 جون تک جسمانی ریمانڈ پر ہیں، اٹارنی جنرل کے مطابق جسمانی ریمانڈ پر ہونے کے باعث درخواست غیر موثر ہوچکی احمد فرہاد کو اغوا کرنے والوں کی تشخیص اور ان کیخلاف کارروائی کی استدعا کی گئی تھی،لا افسر کے مطابق احمد فرہاد کی بازیابی کے بعد یہ استدعا اب موثر نہیں رہی،احمد فرہاد کی پیشی تک عدالت لا افسر کے موقف سے اتفاق نہیں کرتی،وکیل کے مطابق احمد فرہاد کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کردی گئی ،وکیل کے مطابق کچھ روز میں احمد فرہاد کے ضمانت پر رہا ہونے کے امکانات ہیں، محرکات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کی سماعت 7 جون تک ملتوی کی جاتی ہے،

    وفاقی حکومت نے شاعر اور صحافی احمد فرہاد کی گرفتاری ظاہر کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،اٹارنی جنرل کی احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • آزادی مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کیس،عمران خان،قریشی،اسد عمر ودیگر بری

    آزادی مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کیس،عمران خان،قریشی،اسد عمر ودیگر بری

    سیشن کور ٹ اسلام آباد، آزادی مارچ کے دوران توڑ پھوڑ اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کیس کی سماعت ہوئی
    عدالت نےسابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو مقدمات سے بری کردیا، سیشن کور ٹ اسلام آباد نے اسد عمر ،علی محمد خان اورمراد سعید کو بھی بری کردیا،جوڈیشل مجسٹریٹ احتشام عالم نے بریت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا ، سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف تھانہ گولڑہ میں 2 مقدمات درج تھے،اسد عمر اور علی محمد خان عدالت پیش ہو کر حاضری لگوائی،عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سب رہنماؤں کو بری کر دیا.

    قبل ازیں جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس خان نے 2022 میں تحریک انصاف کے آزادی مارچ کے حوالے سے تھانہ کراچی کمپنی میں درج مقدمات میں عمران خان اور دیگر رہنماؤں کی بریت کی درخواستوں پر سماعت کی اور رہنماؤں کو مقدمے سے بری کر دیا،عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر لانگ مارچ کے دوران احتجاج اور توڑ پھوڑ کے کیس میں عمران خان، فیصل جاوید، علی نواز اعوان ، سیف اللہ نیازی، زرتاج گل اور اسد عمر کو بری کیا،

    100ملین پاؤنڈز ریفرنس،عمران خان کی ضمانت کی درخواست ،نیب نے وقت مانگ لیا

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    عمران خان سے خود کو اور آنے والی نسلوں سے محفوظ رکھیں،بشریٰ بی بی کی بیٹی کا بیان

    واضح رہے کہ 2022 میں اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر عمران خان سمیت 150افراد کیخلاف 3 مقدمات درج کیے گئے تھے،مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت باقی قیادت، کارکنان پر درج کئے گئے ہیں، ،درج مقدمات میں اسد عمر، عمران اسماعیل ، راجہ خرام نواز ،علی امین گنڈا پور اور علی نواز اعوان کے نام بھی شامل ہیں،پولیس کے مطابق مقدمات تحریک انصاف کے ڈی چوک پر لانگ مارچ پر تھانہ کوہسار میں درج ہوئے ہیں دونوں مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں،پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد نے سابق وزیراعظم، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان و دیگررہنماؤں کی ایما پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایاجناح ایونیو پر میٹرو اسٹیشن کو آگ لگائی گئی، ایکسپریس چوک پر سرکاری گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا،درج مقدموں میں لکھا گیا کہ مظاہرین نے پولیس پارٹی پر پتھراؤ کیا، مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں کے شیشے توڑے،درختوں کو آگ لگائی، ڈنڈے اٹھا کر آنے والے مظاہرین نے پولیس پر حملہ کیا،

    پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج کر لئے

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    پاکستان کی سیاسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کیلئے مودی کے دفتر میں خصوصی سیل قائم

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز