Baaghi TV

Tag: عدالت

  • عِدت کیس میں بریت،خاورمانیکا کی اپیل،جسٹس اعظم خان کیس سے الگ

    عِدت کیس میں بریت،خاورمانیکا کی اپیل،جسٹس اعظم خان کیس سے الگ

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عِدت کیس میں بریت کے خلاف خاور مانیکا کی اپیلوں پر سماعت کرنے والے جسٹس اعظم خان نے خود کو کیس سے الگ کرلیا

    عدت نکاح کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق خاتون اول بشری بی بی کی بریت کے خلاف خاور مانیکا کی اپیل پرسماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان نے کی۔درخواست گزار خاور مانیکا کی جانب سے زاہد آصف چوہدری، اقبال کاکڑ و دیگر عدالت پیش ہوگئے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے علی بخاری، شعیب شاہین، نیاز اللہ نیازی و دیگر عدالت پیش ہوئے۔زاہد آصف چوہدری نے کہا کہ ہم نے 13 جولائی 2024 کا ایڈیشنل سیشن جج کا بریت کا فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے۔شعیب شاہین نے کہا کہ دلائل دینے سے پہلے ہم کچھ کہنا چاہ رہے ہیں،جسٹس اعظم خان پہلے اس کیس کو قابل سماعت قرار دے چکے ہیں، اس لئے اب یہ کیس کسی دوسرے بنچ کو منتقل کر دینا چاہیے۔آپ عدت کیس کو پہلے سن چکے ہیں۔

    جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیئے کہ جی میں پہلے کیس کوقابل سماعت قرار دے چکا ہوں،وکیل درخواست گزار زاہد آصف نے شعیب شاہین کے دلائل سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی کیس کا فیصلہ کوئی اور جج دے چکے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلاء نے جسٹس اعظم خان پر اعتراض اُٹھا دیا،بعد ازاں جسٹس اعظم خان نے عمران خان کے وکلاء کا اعتراض منظور کرتے ہوئے عِدت کیس میں نیا بنچ تشکیل دینے کیلئے کیس کی فائل چیف جسٹس عامر فاروق کو بھیجوا دی۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس، عمران سرکار کی شمولیت کا پردہ فاش

    ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف شوکاز نوٹس کی کارروائی ختم

  • عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل مسترد،اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا

    عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل مسترد،اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا

    سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی جیل سے رہائی کے لیے کی گئی رحم کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور ان کے امریکی وکیل کلائیو اسمتھ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے، جب کہ وکیل درخواست گزار عمران شفیق اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل بھی موجود تھے۔سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ اس کے علاوہ، امریکا نے پاکستان کے ساتھ قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے کیے گئے معاہدے سے انکار کر دیا ہے۔ اس پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ "امریکا ہمیں ہماری اوقات دکھا رہا ہے، سابق امریکی صدر نے اپنے بیٹے کی سزا تو معاف کر دی لیکن ہمارے قیدی کو رہا نہیں کیا۔”

    اس دوران عدالت میں وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے بیرون ملک دوروں کی تفصیلات پر مشتمل رپورٹ پیش کی گئی، جبکہ امریکی سفیر کی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق ملاقاتوں میں شرکت نہ کرنے پر بھی جواب جمع کرایا گیا۔ وزارت خارجہ نے عدالتی سوالات کے جوابات پر مشتمل ایک رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس کیس کی سماعت مزید دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے تاکہ اس پر مزید غور کیا جا سکے اور پاکستان کی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر بحث کی جا سکے۔

    یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی مدت صدارت کے آخری دنوں میں اپنے بیٹے سمیت کئی قیدیوں کی رہائی کے پروانے پر دستخط کیے تھے۔ تاہم، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل کے باوجود، جو بائیڈن نے ان کی رہائی کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔اس پیشرفت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو چکی ہیں

    امریکی صدر نے 5افراد کو معافی دیدی،عافیہ صدیقی کا نام نہیں

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

  • پی ڈی ایم اے کو بند کر دیں اگر اس نے کچھ نہیں کرنا۔عدالت

    پی ڈی ایم اے کو بند کر دیں اگر اس نے کچھ نہیں کرنا۔عدالت

    لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے کہا کہ اگر اس سال بھی برف باری نہیں ہوئی تو یہ الارمنگ صورتحال ہے، جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ حکومت کو فوری واٹر ایمرجنسی لگانا چاہئے پائپوں کے ذریعے پانی کے ضیاع کو روکنا چاہئے،ہائیکورٹ میں بھی پائپوں کے ذریعے صحن دھویا جاتاہے ،یہ حکومت کی طرف سے اقدامات لئے جانے چاہئے، زیر زمین پانی کی سطح کم ہوتی جارہی ہے،ہم کتنے عرصہ سے بول رہے ہیں کہ دس مرلہ یا اس سے اوپر کوئی ایسا گھر نہیں بنے گا جس میں پانی کی ریسائیکلنگ کا پلانٹ نہ ہو، عدالت نے استفسار کیا کہ پی ڈی ایم اے کے ڈی جی صاحب کہاں ہیں؟ کیا پی ڈی ایم اے کو اس نوٹس نہیں لینا چاہیے تھا؟ پی ڈی ایم اے کو بند کر دیں اگر اس نے کچھ نہیں کرنا۔اگر ہر کام کورٹ نے یا کمیشن نے کرنا ہے تو پی ڈی ایم اے کو بند کر دیتے ہیں،یہ ڈیزاسٹر میننیجمنٹ اتھارٹی ہے؛ سکول بسوں کا بڑے سکولز کو ٹارگٹ کریں اور ان سے شروع کریں، یہ بتائیں کہ ایچی سن کو کون ڈیل کر رہا ہے، ایچی سن سے شروع کریں اور انکو بتائیں کہ انکے پچاس فیصد بچے کم از کم بسز پر آئیں گے،

    روڈا نے پلانٹیشن کرنا تھی، ابھی تک ایک درخت بھی نہیں لگایا،عدالت میں انکشاف
    ممبر واٹر جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ ہم نے نجی سکولز کا سروے کیا، وکیل واسا نے کہا کہ واٹر میٹرز کے حوالہ سے کام کر رہے ہیں، پہلے کمرشل عمارات میں واٹر میٹر لگیں گے پھر نجی سطح پر، ممبر واٹر جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ کار شو رومز کا بھی مسئلہ ہے وہاں روزانہ گاڑیاں دھلتی ہیں، عدالت نے کہا کہ کار شو رومز بہت زیادہ پانی استعمال کر رہے ہیں انکا ٹیرف بڑھائیں،حکومت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں انہوں نے بہت اچھا کام کیا، ہر بندہ اس پر مبارکباد کا مستحق ہے، عدالتی معاون نے کہا کہ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ نے مانگا منڈی کے قریب چھ سو ایکڑ جگہ روڈا کو دے رکھی ہے،ممبر واٹر جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ روڈا نے وہاں پر پلانٹیشن کرنا تھی، ابھی تک ایک درخت بھی نہیں لگایا،روڈا سے رپورٹ مانگی انہوں نے ابھی تک رپورٹ بھی نہیں دی، روڈا والے دیہاتی علاقوں کے لوگوں کو کروڑوں روپے کے ٹیکس نوٹسز بھیج رہے ہیں کمرشلائزیشن کے نام پر، ممبر واٹر کمیشن
    مناواں میں پارک کی جگہ پر قبضے ہو رہے ہیں،عدالت نے کہا کہ اگلی پیشی میں اس پر جواب جمع کروائیں،

    مریم نواز کا لاکھوں خاندانوں کو نگہبان رمضان پیکج دینے کا اصولی فیصلہ

    میں نے حملہ آور کو کمرے میں بند کر دیا تھا، سیف علی خان کا دعویٰ

  • توہین آمیز خاکے شائع کرنیوالے اخبار کے سابق دفتر پر حملہ،پاکستانی کو ملی سزا

    توہین آمیز خاکے شائع کرنیوالے اخبار کے سابق دفتر پر حملہ،پاکستانی کو ملی سزا

    فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو کے سابق دفتر کے سامنے دو افراد پر قاتلانہ حملے میں ملوث پاکستانی شہری کو عدالت نے 30 سال قید کی سزا سنادی۔

    یہ واقعہ 2020 میں پیش آیا جب ، ظہیر محمود، نے پیرس میں چارلی ہیبڈو کے سابق دفتر کے باہر دو افراد پر خنجر سے حملہ کیا۔ اس حملے کے پیچھے اس کا خیال تھا کہ اخبار کا دفتر ابھی بھی اس مقام پر موجود ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ دفتر وہاں سے منتقل ہوچکا تھا۔پیرس کی عدالت نے اس حملے کو "اقدام قتل” کے جرم کے طور پر قرار دیتے ہوئے مجرم کو 30 سال کی قید کی سزا سنائی۔ ظہیر محمود پاکستانی دیہی علاقے کا رہائشی ہے اور 2019 میں غیر قانونی طور پر فرانس پہنچا تھا۔

    عدالت کے فیصلے کے مطابق، ظہیر نے اپنا حملہ کرنے کے لیے اس بات پر یقین رکھا کہ چارلی ہیبڈو کا دفتر ابھی بھی اسی مقام پر موجود ہے اور اس نے اس حملے کے ذریعے اپنے خیالات اور رد عمل کو ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی۔

    چارلی ہیبڈو نے 2015 میں توہین آمیز خاکے شائع کیے تھے، جس پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا، اسی سال اس کے دفتر پر القاعدہ سے وابستہ حملہ آوروں نے حملہ کیا تھا، جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ فرانسیسی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر اسے سزا کے ساتھ ساتھ فرانس میں دوبارہ داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

    بھارتی ساختہ موبائل فونز،آلات پاکستان کی سائبر سکیورٹی کیلئے بڑا خطرہ بن گئے

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ

  • سپریم کورٹ ، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس چیلنج کر دیا

    سپریم کورٹ ، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس چیلنج کر دیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس نے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے اس پر حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔ نذر عباس کی انٹرا کورٹ اپیل پر سپریم کورٹ نے چھ رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے جس کی سربراہی جسٹس جمال خان مندو خیل کر رہے ہیں۔ اس بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کی انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت 27 جنوری کو مقرر کر دی ہے۔ اس سماعت کے دوران چھ رکنی لارجر بینچ 27 جنوری کو دن ایک بجے اس اپیل پر غور کرے گا۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کو ایک سنگین غلطی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کا عہدہ ختم کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اعلامیے میں رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کے معاملے کو دیکھیں۔اعلامیے کے مطابق ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس نے آئینی بینچ کا مقدمہ غلطی سے ریگولر بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا، جس کی وجہ سے سپریم کورٹ اور فریقین کے وقت اور وسائل کا ضیاع ہوا۔

    نذر عباس کی جانب سے چیلنج کیے جانے والے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس اور اس پر جاری قانونی کارروائی کی اہمیت اس بات سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس نوعیت کے معاملات میں سپریم کورٹ کا موقف معمول سے زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل بھی سپریم کورٹ نے انتظامی معاملات میں کسی قسم کی غلطی یا بے ضابطگی کو برداشت نہیں کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی 13 ویں سالگرہ، لاہور میں کیک کاٹنے کی تقریب

  • رؤف حسن پر درج مقدمات کی تفصیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش

    رؤف حسن پر درج مقدمات کی تفصیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی ترجمان رؤف حسن پر درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

    سماعت کے دوران وزارت داخلہ نے عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروا دی، جس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں رؤف حسن پر مجموعی طور پر 6 مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے ایک مقدمہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) میں بھی درج ہے۔اس دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی رپورٹ نہیں آئی،گنڈاپور ہر بار اسلام آباد آتے ہیں اور لوگ یہاں سے گرفتار ہو جاتے ہیں،خیبرپختونخوا میں تو آپکو تفصیلات جلد مل جانی چاہیے،

    رؤف حسن کی جانب سے وکیل عائشہ خالد عدالت میں پیش ہوئیں،عدالت نے بلوچستان، خیبرپختونخوا اور نیب سے مقدمات کی تفصیلات طلب کر لیں،اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ جلد از جلد رپورٹ پیش کریں تاکہ کیس کی مزید کارروائی کی جا سکے۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

  • نومئی مقدمہ،عمر ایوب کے وارنٹ گرفتاری جاری

    نومئی مقدمہ،عمر ایوب کے وارنٹ گرفتاری جاری

    9 مئی کو میانوالی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تحریک انصاف کے سینئر رہنما عمر ایوب خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    عمر ایوب خان عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس کے باعث ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی۔ عدالت میں ان کی غیر حاضری کے باعث سماعت آگے بڑھا دی گئی۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 30 جنوری تک ملتوی کر دی۔پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر احمد خان بچھر، صنم جاوید، عالیہ حمزہ، ایم این اے بلال اعجاز سمیت تحریک انصاف کے درجنوں کارکن عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل نے عدالت میں عمر ایوب خان کی غیر حاضری کی وجہ بیان کرتے ہوئے ان کی میڈیکل رپورٹ پیش کی۔

    اس موقع پر عدالت کے اطراف میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد نعیم شیخ نے مقدمے کی سماعت کی۔

    9 مئی کو میانوالی میں حساس قومی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مختلف افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے مزید کارروائی اور پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

  • ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

    ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ میں بینچز کے اختیارات کے کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے پر توہینِ عدالت کے کیس میں ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ نذر عباس نے شوکاز نوٹس کا جواب عدالت میں جمع کروا دیا۔

    بینچز کے اختیارات کا کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے پر توہینِ عدالت کیس کی سماعت جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل بینچ نے کی، ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس نے عدالت سے شوکاز نوٹس واپس لینے کی استدعا کر دی،ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس نے کہا ہے کہ عدالتی حکم کی نافرمانی نہیں کی، عدالتی حکم پر بینچ بنانے کے معاملے پر نوٹ بنا کر پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو بھجوا دیا تھا،عدالت نے کہا کہ ہمارے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ جوڈیشل آرڈر کی موجودگی میں ججز کمیٹی کیس واپس لے سکتی تھی؟عدالتی معاون وکیل حامد خان نے کہا کہ کچھ ججز کو کم اختیارات ملنا اور کچھ کو زیادہ، ایسا نہیں ہو سکتا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ سوال الگ ہے، اگر ہم آرٹیکل 191 اے کی تشریح کا کیس سنتے تو یہ سوال اٹھایا جا سکتا تھا، ہمارے سامنے کیس ججز کمیٹی کے واپس لینے سے متعلق ہے، چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس امین الدین خان ججز کمیٹی کا حصہ ہیں، بادی النظر میں دو رکنی ججز کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کیا، اگر ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ہے، اس سوال پر معاونت دیں،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے اس معاملے پر کنفیوژن تو ہے، جسٹس عقیل عباسی نے حامد خان سے سوال کیا کہ آپ آرٹیکل 191 اے کو کیسے دیکھتے ہیں؟ ماضی میں بینچز ایسے بنے جیسے معاملات پر رولز بنانا سپریم کورٹ کا اختیار تھا، اب سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات ختم کر دیے گئے ہیں، 26ویں آئینی ترمیم کا سوال آجائے گا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا کسی ملک میں بینچز عدلیہ کے بجائے ایگزیکٹو بناتا ہے؟ کوئی ایک مثال ہو؟وکیل حامد خان نے کہا کہ بینچز عدلیہ کے بجائے ایگزیکٹو بنائے ایسا کہیں نہیں ہوتا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 191 اے کے تحت آئینی بینچ جوڈیشل کمیشن بنائے گا۔جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ 191 اے کو سامنے رکھیں تو کیا یہ اوور لیپنگ نہیں ہے؟

    وکیل حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے اختیارات کو کمزور نہیں کر سکتی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر کمیٹی جوڈیشل آرڈر فالو نہیں کرتی تو پھر کیا ہو گا؟ عدالتی معاون وکیل حامد خان نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے پاس آئینی بینچ کے کیسز مقرر کرنے کا اختیار ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ راجہ عامر کیس میں بھی فل کورٹ بنا تھا۔حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون سازی سے سپریم کورٹ کے علاوہ ہر عدالت کے دائرہ اختیار کا فیصلہ کر سکتی ہے، پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو کم نہیں کر سکتی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرٹیکل 2 اے کے تحت پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں؟ کیا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کر سکتی ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کرنے والی صورتِ حال نہیں ہونی چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز 1980ء کے تحت فل کورٹ چیف جسٹس بنائیں گے یا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی؟ کیا جوڈیشل آرڈر سے فل کورٹ کی تشکیل کے لیے معاملہ ججز کمیٹی کو بھجوایا جاسکتا ہے؟،وکیل حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ عدلیہ کے اختیارات بڑھا سکتی ہے، کم نہیں کر سکتی، آرٹیکل 191 اے میں آئینی بینچز کا ذکر ہے، سپریم کورٹ میں ایک آئینی بینچ کا ذکر نہیں، کم از کم 5 ججز پر مشتمل ایک آئینی بینچ ہو سکتا ہے، اس صورتِ حال میں 3 آئینی بینچز بن سکتے ہیں، جو سینئر ہو گا وہی بینچ کا سربراہ ہو گا، آرٹیکل 191 اے ججز کمیٹی کے سیکشن 2 اے سے ہم آہنگ نہیں اس لیے خلاف آئین ہے۔

    فیصلہ تو آئینی بینچ کرتا ہے ہم تو یہاں گپ شپ کے لئے بیٹھے ہیں ہم کونسا آئینی بنچ ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ
    سپریم کورٹ میں جسٹس منصور علی شاہ اور احسن بھون کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا میں شکر گزار ہوں آپ ایک دن کے نوٹس پر تشریف لائے،احسن بھون بولے جناب کا حکم تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کا شکریہ آپ تو ہمارا حکم مانتے ہیں ،جس پر عدالت میں قہقے لگ گئے،احسن بھون نے کہا کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے امید ہے آپ کوئی آئین کے منافی فیصلہ نہیں کریں گے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ فیصلہ تو آئینی بینچ کرتا ہے ہم تو یہاں گپ شپ کے لئے بیٹھے ہیں ہم کونسا آئینی بنچ ہیں۔ عدالت میں دوبارہ قہقے لگ گئے،

    عدالتی معاونین شاہد جمیل،ایڈووکیٹ حامد خان اور منیر اے ملک نے فل کورٹ بنانے کی حمایت کر دی،حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ عدلیہ کے اختیارات بڑھا سکتی ہے، کم نہیں کر سکتی،

    جسٹس منصور علی شاہ اور احسن بھون کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا، احسن بھون نے کہا کہ آپ ججز کمیٹی کا حصہ ہیں، آپ بیٹھیں یا نہ بیٹھیں یہ الگ بات ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں تو جوڈیشل کمیشن کا بھی ممبر ہوں، احسن بھون نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں ججز بھی لگائے جا رہے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم جو ججز نامزد کرتے ہیں انھیں تو ایک ہی ووٹ ملتا ہے وہ بھی ہمارا ہی ہوتا ہے،باقیوں کو گیارہ گیارہ ووٹ پڑ جاتے ہیں،

    کیس واپس ہونے لگے تو یہ عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،جسٹس منصور علی شاہ
    بیرسٹر صلاح الدین نے فل کورٹ بنانے کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا تو جسٹس منصور علی شاہ نے کہا مجھے یہ بھی بتادیں کہ ان فیصلوں پر عمل ہوا تھا؟کیا فل کورٹ بنائی گئی تھی تو صلاح الدین بولے بلکل ہوا تھا۔ جسٹس منصور علی شاہ بولے ہم فل کورٹ کا فیصلہ دے کر بیٹھ جائیں فیصلہ کہیں ادھر ادھر پڑا رہے عمل درآمد ہو نہ اس پر تو فائدہ،کمیٹی کے پاس کیس واپس لینے کا اختیار کدھر سے آگیا۔کیس ہمارے سامنے کمیٹی نے لگایا۔اس طرح سے کیس واپس ہونے لگے تو یہ عدلیہ کے آزادی کے منافی ہے،اگر ہم کوئی فیصلہ دیتے تو نظر ثانی میں بڑا بینچ بنا دیتے۔

    سپریم کورٹ، بینچز اختیارات کیس، توہین عدالت کیس کا فیصلہ محفوظ
    بینچز اختیارات کیس میں ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف توہین عدالت کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا گیا،عدالتی معاون وکیل احسن بھون نے کہا کہ چیف جسٹس کمیٹی کے سامنے معاملہ رکھیں، پارلیمنٹ کا اختیار دو تہائی اکثریت کے ساتھ وفاق میں قانون سازی کرناہے، کمیٹی بینچ کے سامنے ٹھیک کیسز مقرر کرتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس پھر کیاکریں؟ یعنی آپ کہہ رہےہیں کمیٹی نےٹھیک کیا؟ مسئلہ کمیٹی کے سامنے رکھیں؟ احسن بھون نے جواب دیا فل کورٹ جوڈیشل آرڈر کےتحت نہیں ہوسکتا ورنہ فساد ہوجائےگا، یہاں ادارے کوتباہ کرنے میں لوگ لگے ہوئے ہیں، ہرکوئی اپنی پارلیمنٹ،اپنے ججز، اپنی سپریم کورٹ چاہتا ہے، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم ادارے کو بچانے کے لیے ہی لگے ہوئے ہیں۔

    سماعت میں اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ توہین عدالت کے لیے موجودہ بینچ درست طور پر تشکیل نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ رولز کے تحت توہین عدالت کا بینچ تشکیل دینے کے لیے چیف جسٹس فیصلہ کریں گے، اس بینچ کے پاس توہین عدالت کی سماعت کا اختیار نہیں، یہ معاملہ دیوانی یا فوجداری توہین کے دائرے میں آتا ہے، توہین عدالت کا پورا پروسیجر دیا گیا ہے جو چیف جسٹس کے اختیار میں ہے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سنایا جائیگا۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    جب سے موجودہ حکومت خیبر پختونخوا میں آئی ہے صوبہ تباہ ہو گیا ،عوام پھٹ پڑی

  • توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ بریت کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ بریت کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ 2 کیس میں عمران خان اوربشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستوں پر ایف آئی اے سے جواب طلب کرلیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ انعام منہاس نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس ٹو میں بریت کی درخواستوں پر سماعت کی،دوران سماعت عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے توشہ خانہ کیس 2 کے ٹرائل پر حکمِ امتناع کی استدعا کی جس پر جسٹس راجہ انعام نے کہا کہ کرمنل کارروائی کو اس موقع پر اسٹے کرنےکی کوئی عدالتی نظیر نہیں، ہم آپ کی درخواست پرنوٹس کرکے دوسرے فریق کوبھی سن لیتے ہیں۔

    وکیل سلمان صفدر نے بینچ تبدیل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس گل حسن اورنگزیب اس کیس سے متعلق 5 درخواستیں سن چکے ہیں، مناسب ہو گاکہ یہ عدالت بریت کی درخواستیں بھی اسی عدالت میں بھیج دے، جس پر جسٹس راجہ انعام نے درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے بینچ تبدیل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضمانت کی درخواستیں تھیں، یہ الگ معاملہ ہے، یہ عدالت کیس سُنے گی، آپ کیس کے میرٹس پر دلائل دیں،عمران خان کے وکیل نے کہا کہ دو درخواستوں کےآرڈر بھی ہیں، ٹرائل کورٹ کو سماعت روکنے کا حکم دیاجائے، اس پر جج نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں فرد جرم عائد ہوچکی،گواہان کے بیانات ہورہے ہیں، ابھی ایسا کرنا درست نہیں ہوگا، اس میں نوٹس کرتے ہیں، لمبی تاریخ نہیں دیں گے، عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 28 جنوری تک ملتوی کردی۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    پی آئی اے عملہ سمگلنگ میں ملوث،78 موبائل فونز برآمد

  • اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس : علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار

    اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس : علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار

    اسلام آباد: اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس میں علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے ہیں،اور وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے جج مبشرحسن چشتی نے علی امین گنڈاپورکے خلاف غیر قانونی اسلحہ اور شرا ب برآمدگی کیس کی سماعت کی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے وکیل راجہ ظہور الحسن ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، دوران سماعت علی امین گنڈاپور کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی گئی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہر تاریخ پر آپ استثنیٰ کی درخواست دیتے ہیں، ملزم کو پیش نہیں کرتے۔

    اپنے بچوں کو یتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیمی سےبچانے سے بڑی کوئی قربانی نہیں ،وزیراعظم

    عدالت نے علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے اور وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہونے پر اظہار برہمی کیا، عدالتی آرڈر پر عملدرآمد نہ کرنے پر ڈی آئی جی آپریشنز سے وضاحت طلب کر لی،وکیل علی امین گنڈاپور نے کہا کہ آپ ملزم کی بریت کی درخواست پر پہلے فیصلہ کریں، اس حوالے سے عدالتی حکم موجود ہے۔

    سیشن جج نے کہا کہ آپ استثناء کی درخواستیں دےکر صرف عدالت کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں، علی امین گنڈاپورکے متعدد وار نٹ جاری ہوئے، تعمیلی رپورٹ جمع نہیں کرائی جارہی، اس پر وکیل صفائی نے کہا کہ آپ بریت کی درخواست پرپہلے فیصلہ کریں، اس سےمتعلق عدالتی حکم موجود ہے۔

    لاہور جمخانہ کلب اراضی کیس، تحقیقاتی رپورٹ ایوان میں پیش ،حیران کن انکشافات

    بعد ازاں عدالت نے علی امین گنڈاپور کی حاضری سے استثناء کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے اور انہیں 29جنوری تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

    واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کیخلاف تھانہ بارہ کہو میں مقدمہ درج ہے۔

    21 اور 25 جنوری کو آسمان پر 6 سیاروں کا دلکش نظارہ کر سکیں گے