Baaghi TV

Tag: عدالت

  • نومئی مقدمہ،عمر ایوب کے وارنٹ گرفتاری جاری

    نومئی مقدمہ،عمر ایوب کے وارنٹ گرفتاری جاری

    9 مئی کو میانوالی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تحریک انصاف کے سینئر رہنما عمر ایوب خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    عمر ایوب خان عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس کے باعث ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی۔ عدالت میں ان کی غیر حاضری کے باعث سماعت آگے بڑھا دی گئی۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 30 جنوری تک ملتوی کر دی۔پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر احمد خان بچھر، صنم جاوید، عالیہ حمزہ، ایم این اے بلال اعجاز سمیت تحریک انصاف کے درجنوں کارکن عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل نے عدالت میں عمر ایوب خان کی غیر حاضری کی وجہ بیان کرتے ہوئے ان کی میڈیکل رپورٹ پیش کی۔

    اس موقع پر عدالت کے اطراف میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد نعیم شیخ نے مقدمے کی سماعت کی۔

    9 مئی کو میانوالی میں حساس قومی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مختلف افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے مزید کارروائی اور پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

  • ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

    ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ میں بینچز کے اختیارات کے کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے پر توہینِ عدالت کے کیس میں ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ نذر عباس نے شوکاز نوٹس کا جواب عدالت میں جمع کروا دیا۔

    بینچز کے اختیارات کا کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے پر توہینِ عدالت کیس کی سماعت جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل بینچ نے کی، ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس نے عدالت سے شوکاز نوٹس واپس لینے کی استدعا کر دی،ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس نے کہا ہے کہ عدالتی حکم کی نافرمانی نہیں کی، عدالتی حکم پر بینچ بنانے کے معاملے پر نوٹ بنا کر پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو بھجوا دیا تھا،عدالت نے کہا کہ ہمارے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ جوڈیشل آرڈر کی موجودگی میں ججز کمیٹی کیس واپس لے سکتی تھی؟عدالتی معاون وکیل حامد خان نے کہا کہ کچھ ججز کو کم اختیارات ملنا اور کچھ کو زیادہ، ایسا نہیں ہو سکتا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ سوال الگ ہے، اگر ہم آرٹیکل 191 اے کی تشریح کا کیس سنتے تو یہ سوال اٹھایا جا سکتا تھا، ہمارے سامنے کیس ججز کمیٹی کے واپس لینے سے متعلق ہے، چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس امین الدین خان ججز کمیٹی کا حصہ ہیں، بادی النظر میں دو رکنی ججز کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کیا، اگر ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ہے، اس سوال پر معاونت دیں،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے اس معاملے پر کنفیوژن تو ہے، جسٹس عقیل عباسی نے حامد خان سے سوال کیا کہ آپ آرٹیکل 191 اے کو کیسے دیکھتے ہیں؟ ماضی میں بینچز ایسے بنے جیسے معاملات پر رولز بنانا سپریم کورٹ کا اختیار تھا، اب سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات ختم کر دیے گئے ہیں، 26ویں آئینی ترمیم کا سوال آجائے گا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا کسی ملک میں بینچز عدلیہ کے بجائے ایگزیکٹو بناتا ہے؟ کوئی ایک مثال ہو؟وکیل حامد خان نے کہا کہ بینچز عدلیہ کے بجائے ایگزیکٹو بنائے ایسا کہیں نہیں ہوتا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 191 اے کے تحت آئینی بینچ جوڈیشل کمیشن بنائے گا۔جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ 191 اے کو سامنے رکھیں تو کیا یہ اوور لیپنگ نہیں ہے؟

    وکیل حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے اختیارات کو کمزور نہیں کر سکتی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر کمیٹی جوڈیشل آرڈر فالو نہیں کرتی تو پھر کیا ہو گا؟ عدالتی معاون وکیل حامد خان نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے پاس آئینی بینچ کے کیسز مقرر کرنے کا اختیار ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ راجہ عامر کیس میں بھی فل کورٹ بنا تھا۔حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون سازی سے سپریم کورٹ کے علاوہ ہر عدالت کے دائرہ اختیار کا فیصلہ کر سکتی ہے، پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو کم نہیں کر سکتی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرٹیکل 2 اے کے تحت پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں؟ کیا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کر سکتی ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کرنے والی صورتِ حال نہیں ہونی چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز 1980ء کے تحت فل کورٹ چیف جسٹس بنائیں گے یا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی؟ کیا جوڈیشل آرڈر سے فل کورٹ کی تشکیل کے لیے معاملہ ججز کمیٹی کو بھجوایا جاسکتا ہے؟،وکیل حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ عدلیہ کے اختیارات بڑھا سکتی ہے، کم نہیں کر سکتی، آرٹیکل 191 اے میں آئینی بینچز کا ذکر ہے، سپریم کورٹ میں ایک آئینی بینچ کا ذکر نہیں، کم از کم 5 ججز پر مشتمل ایک آئینی بینچ ہو سکتا ہے، اس صورتِ حال میں 3 آئینی بینچز بن سکتے ہیں، جو سینئر ہو گا وہی بینچ کا سربراہ ہو گا، آرٹیکل 191 اے ججز کمیٹی کے سیکشن 2 اے سے ہم آہنگ نہیں اس لیے خلاف آئین ہے۔

    فیصلہ تو آئینی بینچ کرتا ہے ہم تو یہاں گپ شپ کے لئے بیٹھے ہیں ہم کونسا آئینی بنچ ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ
    سپریم کورٹ میں جسٹس منصور علی شاہ اور احسن بھون کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا میں شکر گزار ہوں آپ ایک دن کے نوٹس پر تشریف لائے،احسن بھون بولے جناب کا حکم تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کا شکریہ آپ تو ہمارا حکم مانتے ہیں ،جس پر عدالت میں قہقے لگ گئے،احسن بھون نے کہا کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے امید ہے آپ کوئی آئین کے منافی فیصلہ نہیں کریں گے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ فیصلہ تو آئینی بینچ کرتا ہے ہم تو یہاں گپ شپ کے لئے بیٹھے ہیں ہم کونسا آئینی بنچ ہیں۔ عدالت میں دوبارہ قہقے لگ گئے،

    عدالتی معاونین شاہد جمیل،ایڈووکیٹ حامد خان اور منیر اے ملک نے فل کورٹ بنانے کی حمایت کر دی،حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ عدلیہ کے اختیارات بڑھا سکتی ہے، کم نہیں کر سکتی،

    جسٹس منصور علی شاہ اور احسن بھون کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا، احسن بھون نے کہا کہ آپ ججز کمیٹی کا حصہ ہیں، آپ بیٹھیں یا نہ بیٹھیں یہ الگ بات ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں تو جوڈیشل کمیشن کا بھی ممبر ہوں، احسن بھون نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں ججز بھی لگائے جا رہے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم جو ججز نامزد کرتے ہیں انھیں تو ایک ہی ووٹ ملتا ہے وہ بھی ہمارا ہی ہوتا ہے،باقیوں کو گیارہ گیارہ ووٹ پڑ جاتے ہیں،

    کیس واپس ہونے لگے تو یہ عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،جسٹس منصور علی شاہ
    بیرسٹر صلاح الدین نے فل کورٹ بنانے کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا تو جسٹس منصور علی شاہ نے کہا مجھے یہ بھی بتادیں کہ ان فیصلوں پر عمل ہوا تھا؟کیا فل کورٹ بنائی گئی تھی تو صلاح الدین بولے بلکل ہوا تھا۔ جسٹس منصور علی شاہ بولے ہم فل کورٹ کا فیصلہ دے کر بیٹھ جائیں فیصلہ کہیں ادھر ادھر پڑا رہے عمل درآمد ہو نہ اس پر تو فائدہ،کمیٹی کے پاس کیس واپس لینے کا اختیار کدھر سے آگیا۔کیس ہمارے سامنے کمیٹی نے لگایا۔اس طرح سے کیس واپس ہونے لگے تو یہ عدلیہ کے آزادی کے منافی ہے،اگر ہم کوئی فیصلہ دیتے تو نظر ثانی میں بڑا بینچ بنا دیتے۔

    سپریم کورٹ، بینچز اختیارات کیس، توہین عدالت کیس کا فیصلہ محفوظ
    بینچز اختیارات کیس میں ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف توہین عدالت کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا گیا،عدالتی معاون وکیل احسن بھون نے کہا کہ چیف جسٹس کمیٹی کے سامنے معاملہ رکھیں، پارلیمنٹ کا اختیار دو تہائی اکثریت کے ساتھ وفاق میں قانون سازی کرناہے، کمیٹی بینچ کے سامنے ٹھیک کیسز مقرر کرتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس پھر کیاکریں؟ یعنی آپ کہہ رہےہیں کمیٹی نےٹھیک کیا؟ مسئلہ کمیٹی کے سامنے رکھیں؟ احسن بھون نے جواب دیا فل کورٹ جوڈیشل آرڈر کےتحت نہیں ہوسکتا ورنہ فساد ہوجائےگا، یہاں ادارے کوتباہ کرنے میں لوگ لگے ہوئے ہیں، ہرکوئی اپنی پارلیمنٹ،اپنے ججز، اپنی سپریم کورٹ چاہتا ہے، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم ادارے کو بچانے کے لیے ہی لگے ہوئے ہیں۔

    سماعت میں اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ توہین عدالت کے لیے موجودہ بینچ درست طور پر تشکیل نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ رولز کے تحت توہین عدالت کا بینچ تشکیل دینے کے لیے چیف جسٹس فیصلہ کریں گے، اس بینچ کے پاس توہین عدالت کی سماعت کا اختیار نہیں، یہ معاملہ دیوانی یا فوجداری توہین کے دائرے میں آتا ہے، توہین عدالت کا پورا پروسیجر دیا گیا ہے جو چیف جسٹس کے اختیار میں ہے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سنایا جائیگا۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    جب سے موجودہ حکومت خیبر پختونخوا میں آئی ہے صوبہ تباہ ہو گیا ،عوام پھٹ پڑی

  • توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ بریت کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ بریت کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ 2 کیس میں عمران خان اوربشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستوں پر ایف آئی اے سے جواب طلب کرلیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ انعام منہاس نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس ٹو میں بریت کی درخواستوں پر سماعت کی،دوران سماعت عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے توشہ خانہ کیس 2 کے ٹرائل پر حکمِ امتناع کی استدعا کی جس پر جسٹس راجہ انعام نے کہا کہ کرمنل کارروائی کو اس موقع پر اسٹے کرنےکی کوئی عدالتی نظیر نہیں، ہم آپ کی درخواست پرنوٹس کرکے دوسرے فریق کوبھی سن لیتے ہیں۔

    وکیل سلمان صفدر نے بینچ تبدیل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس گل حسن اورنگزیب اس کیس سے متعلق 5 درخواستیں سن چکے ہیں، مناسب ہو گاکہ یہ عدالت بریت کی درخواستیں بھی اسی عدالت میں بھیج دے، جس پر جسٹس راجہ انعام نے درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے بینچ تبدیل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضمانت کی درخواستیں تھیں، یہ الگ معاملہ ہے، یہ عدالت کیس سُنے گی، آپ کیس کے میرٹس پر دلائل دیں،عمران خان کے وکیل نے کہا کہ دو درخواستوں کےآرڈر بھی ہیں، ٹرائل کورٹ کو سماعت روکنے کا حکم دیاجائے، اس پر جج نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں فرد جرم عائد ہوچکی،گواہان کے بیانات ہورہے ہیں، ابھی ایسا کرنا درست نہیں ہوگا، اس میں نوٹس کرتے ہیں، لمبی تاریخ نہیں دیں گے، عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 28 جنوری تک ملتوی کردی۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    پی آئی اے عملہ سمگلنگ میں ملوث،78 موبائل فونز برآمد

  • اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس : علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار

    اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس : علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار

    اسلام آباد: اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس میں علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے ہیں،اور وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے جج مبشرحسن چشتی نے علی امین گنڈاپورکے خلاف غیر قانونی اسلحہ اور شرا ب برآمدگی کیس کی سماعت کی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے وکیل راجہ ظہور الحسن ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، دوران سماعت علی امین گنڈاپور کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی گئی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہر تاریخ پر آپ استثنیٰ کی درخواست دیتے ہیں، ملزم کو پیش نہیں کرتے۔

    اپنے بچوں کو یتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیمی سےبچانے سے بڑی کوئی قربانی نہیں ،وزیراعظم

    عدالت نے علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے اور وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہونے پر اظہار برہمی کیا، عدالتی آرڈر پر عملدرآمد نہ کرنے پر ڈی آئی جی آپریشنز سے وضاحت طلب کر لی،وکیل علی امین گنڈاپور نے کہا کہ آپ ملزم کی بریت کی درخواست پر پہلے فیصلہ کریں، اس حوالے سے عدالتی حکم موجود ہے۔

    سیشن جج نے کہا کہ آپ استثناء کی درخواستیں دےکر صرف عدالت کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں، علی امین گنڈاپورکے متعدد وار نٹ جاری ہوئے، تعمیلی رپورٹ جمع نہیں کرائی جارہی، اس پر وکیل صفائی نے کہا کہ آپ بریت کی درخواست پرپہلے فیصلہ کریں، اس سےمتعلق عدالتی حکم موجود ہے۔

    لاہور جمخانہ کلب اراضی کیس، تحقیقاتی رپورٹ ایوان میں پیش ،حیران کن انکشافات

    بعد ازاں عدالت نے علی امین گنڈاپور کی حاضری سے استثناء کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے اور انہیں 29جنوری تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

    واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کیخلاف تھانہ بارہ کہو میں مقدمہ درج ہے۔

    21 اور 25 جنوری کو آسمان پر 6 سیاروں کا دلکش نظارہ کر سکیں گے

  • غیر قانونی اسلحہ و شراب برآمدگی کیس، علی امین گنڈاپور کے  وارنٹ گرفتاری برقرار

    غیر قانونی اسلحہ و شراب برآمدگی کیس، علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار

    اسلام آباد: غیر قانونی اسلحہ و شراب برآمدگی کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اسلام آباد کے سینئر سول جج مبشر حسن چشتی نے علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو برقرار رکھتے ہوئے اس کیس کی سماعت 29 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔

    تھانہ بہارہ کہو میں درج غیر قانونی اسلحہ اور شراب برآمدگی کے مقدمے میں علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کے لیے عدالت نے وارنٹ جاری کیے تھے، تاہم ابھی تک ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ عدالت نے اس کیس کے حوالے سے پولیس کے عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز سے وضاحت طلب کی ہے کہ وہ عدالت کے احکامات پر عملدرآمد میں کیوں ناکام رہے۔سینئر سول جج اسلام آباد، مبشر حسن چشتی نے دوران سماعت کہا کہ علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا معاملہ سنجیدہ ہے اور اس پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈی آئی جی آپریشنز سے پوچھا کہ وہ عدالت کے حکم پر عمل کیوں نہیں کر پا رہے اور اس کے حوالے سے اپنی وضاحت پیش کریں۔

    مقدمہ میں غیر قانونی اسلحہ اور شراب کی برآمدگی کے الزامات ہیں، جن پر عدالت نے متعلقہ حکام سے مزید معلومات اور کارروائی کی تفصیل طلب کی۔عدالت کی طرف سے یہ واضح کیا گیا کہ آئندہ سماعت 29 جنوری کو ہوگی، جس میں علی امین گنڈاپور کی گرفتاری اور دیگر قانونی پہلوؤں پر مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    نماز کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ،رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور

    چھوٹی آستینوں، ٹائٹ یا دھیان بھٹکانے والے کپڑے نہ پہنیں،طلبا کیلیے ہدایات

  • نماز کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ،رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور

    نماز کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ،رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور

    لاہور ہائیکورٹ نے یوٹیوبر رجب علی بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔

    یہ فیصلہ کراچی میں درج مقدمے کی وجہ سے کیا گیا،جہاں رجب بٹ پر الزام تھا کہ انہوں نے نماز کی ادائیگی کے دوران میوزک چلایا تھا۔ عدالت نے رجب بٹ کو 28 جنوری تک حفاظتی ضمانت دے دی۔جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے بنچ نے اس مقدمے کی سماعت کی، جس میں رجب بٹ کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کے موکل کو حفاظتی ضمانت دی جائے۔ رجب بٹ، جو کہ ایک معروف ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر ہیں، عدالت میں پیش ہوئے اور درخواست کی کہ انہیں کراچی کی متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ کیس کی پیروی کر سکیں۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رجب بٹ کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ وہ کراچی کی عدالت میں پیش ہونے سے قبل پولیس گرفتار کر لے گی۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور کی جائے تاکہ وہ قانونی کارروائی میں حصہ لے سکیں۔

    عدالت نے وکیل کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت 28 جنوری تک کے لیے منظور کر لی۔ عدالت نے حکم دیا کہ رجب بٹ اس مدت کے دوران گرفتار نہیں کیے جائیں گے اور وہ اپنے مقدمے کی پیروی کے لیے کراچی کی متعلقہ عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ کراچی کی مقامی عدالت کے حکم پر یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا،یہ مقدمہ نماز کی مبینہ بے حرمتی کے معاملے پر درج کیا گیا ہے، مقدمہ تھانہ حیدری میں پاکستان کے تعزیرات کے سیکشن 295-A کے تحت درج کیا گیا ہے۔عدالت میں مدعی کا بیان پولیس نے قلمبند کر لیا، جس کے بعد رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت کی جانب سے دلائل سننے کے بعد پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

    ایڈوکیٹ ریاض علی سولنگی نے اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اگلا مقصد رجب بٹ کو گرفتار کروانا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اس دفعہ کے تحت رجب بٹ کو دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مقدمے کے ذریعے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ آئندہ کوئی بھی شخص شعائر اسلام کی توہین کرنے سے پہلے سوچے گا۔

    متحدہ عرب امارات پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک

    سیف علی خان پر حملے کا ملزم قومی سطح پر ریسلنگ کا چیمپئن نکلا

  • 32 مقدمے،بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    32 مقدمے،بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    راولپنڈی: انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کیس میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں یکم فروری تک توسیع کر دی ہے۔

    ، 26 نومبر 2022 کو ہونے والے پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران بشریٰ بی بی کے خلاف 32 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ تاہم، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں قید ہونے کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں۔عدالت کے جج امجد علی شاہ رخصت پر ہونے کے سبب عبوری ضمانت میں توسیع کی گئی۔ اس کیس میں مزید سماعت بعد میں ہوگی۔

    یاد رہے کہ بشریٰ بی بی پر 26 نومبر کے احتجاج کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر اور دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس کے بعد ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ بشری بی بی کے خلاف حسن ابدال، حضرو، اٹک، ٹیکسلا اور راولپنڈی میں مقدمات درج ہیں۔بشریٰ بی بی کو القادر ٹرسٹ کیس میں سزا سنانے کے بعد اڈیالہ جیل سے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ اب اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہی ہیں.

    ٹرمپ کا عمران کی رہائی کیلئے کردارصرف پی ٹی آئی کی خوش گمانی

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

  • سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    سپریم کورٹ،کیس مقرر نہ کرنے پر جسٹس منصور علی شاہ برہم،ایڈیشنل رجسٹرار کو بلا لیا

    سپریم کورٹ بنچز کے اختیارات کا کیس مقرر نہ ہونے پر جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کو فوری طور پر طلب کر لیا۔

    مقدمہ میں فریق کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین جسٹس منصور علی شاہ کی عدالت میں پیش ہوگئے۔بیرسٹر صلاح الدین نے عدالت میں کہا کہ کراچی سے صرف اسی کیس کیلئے آیا ہوں لیکن کاز لسٹ جاری نہیں ہوئی،عدالت نے آج کیلئے مقدمہ مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔ایڈیشنل رجسٹرار کو فوری بلائیں تاکہ پتا چلے کیس کیوں نہیں مقرر ہوا۔

    ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ ایڈیشنل رجسٹرار کی طبیعت ٹھیک نہیں وہ چھٹی پر ہیں۔جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ جو مقدمہ مقرر کرنے کا حکم دیا وہ کیوں نہیں لگا؟ ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ ججز کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ترمیم سے متعلقہ کیس 27 جنوری کو آئینی بنچ میں لگے گا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں خود بھی کمیٹی کا رکن ہوں مجھے تو کچھ علم نہیں۔جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل آرڈر کو انتظامی کمیٹی کیسے اگنور کر کرسکتی ہے؟ جسٹس عقیل عباسی نے استفسار کیا کہ کیا عدالتی حکم کمیٹی کے سامنے رکھا گیا تھا؟ ڈپٹی رجسٹرار نے بتایا کہ عدالتی حکم کمیٹی میں پیش کیا تھا۔جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ہماری پورے ہفتے کی کاز لسٹ کیوں تبدیل کر دی گئی؟ ہم نے ٹیکس کے مقدمات مقرر کر رکھے تھے جو تبدیل کر دیے گئے۔

    عدالت نے ججز کمیٹی کا پاس کردہ آرڈر اور میٹنگ منٹس کی تفصیلات طلب کر لیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے ہدایت کی کہ کاز لسٹ کیوں تبدیل کی گئی اس حوالے سے کوئی تحریری ہدایت ہے تو وہ بھی پیش کریں۔

    26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

  • 26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد: انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر کی عبوری ضمانت میں 14 فروری تک توسیع کر دی ہے۔

    اسد قیصر کے خلاف 26 نمبر چنگی توڑ پھوڑ کیس میں درخواستِ ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت ہوئی۔آج کی سماعت میں اے ٹی سی کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اسد قیصر کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ اس موقع پر اسد قیصر عدالت میں پیش نہیں ہوئے، تاہم ان کے وکیل صفائی عائشہ خالد نے ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

    اسد قیصر کے خلاف تھانہ سنگجانی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر توڑ پھوڑ اور دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ عدالت نے اسد قیصر کی عبوری ضمانت میں توسیع کر کے انہیں 14 فروری تک مقدمہ میں گرفتاری سے تحفظ فراہم کر دیا ہے۔یہ پیش رفت پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے لیے ایک بڑی راحت کی بات ہے، کیونکہ اس سے قبل بھی مختلف پی ٹی آئی رہنماؤں کی حفاظتی ضمانتیں منظور کی جا چکی ہیں

    سیف علی خان پر حملہ،ملزم نے اعتراف جرم کر لیا

  • عمران ،بشریٰ کو سزا سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کیخلاف پی ٹی آئی پروپیگنڈہ کی حقیقت

    عمران ،بشریٰ کو سزا سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کیخلاف پی ٹی آئی پروپیگنڈہ کی حقیقت

    القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنانے والے جج کے خلاف پی ٹی آئی نے پروپیگنڈہ شروع کر دیا وہیں، اسلام آباد سے سینئر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے بھی ایکس پر پوسٹ کی ہے

    حامد میر کا کہنا تھا کہ یہ 2004 میں جج ناصر جاوید رانا کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے سول جج ناصر جاوید رانا کے خلاف سوموٹو ایکشن لیا اور ان کے عدالتی اختیارات واپس لے لیے گئے۔ انہیں جوڈیشل سروس کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا لیکن اسی جج کو دوبارہ ملازمت پر رکھا گیا۔

    پی ٹی آئی کا جج کے خلاف پروپیگنڈہ اور حامد میر کی پوسٹ کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں،عمران خان کو سزا سنانے والے جج ناصر جاوید رانا عدلیہ کے ایک قابل احترام جج ہیں جنہوں نے 2004 میں راولپنڈی میں سول جج کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں، ان کے بارے میں کچھ سال قبل سپریم کورٹ کی طرف سے شروع کی گئی انکوائری کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ انکوائری میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے وکیل وہاب خیری کے مقدمے میں جسمانی ریمانڈ کے لیے ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر ریمانڈ دیا تھا۔ تاہم، انکوائری کے دوران جج کی معطلی کے باوجود، انہوں نے اپیل میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے جوڈیشل سروس ٹریبونل سے تمام مراعات کے ساتھ دوبارہ بحالی حاصل کی تھی۔

    اس کے بعد جج ناصر جاوید رانا کو لاہور میں سول جج کے طور پر تعینات کیا گیا اور انہوں نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں کامیابی سے اپنی خدمات انجام دیں۔ 2014 میں انہیں سینئر سول جج کے طور پر ترقی دی گئی اور 2015 میں ایڈیشنل سیشن جج کے طور پر ترقی ملی۔ 2019 میں انہیں اسلام آباد ویسٹ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پر تعینات کیا گیا اور 2021 میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پرتعیناتی کی گئی۔ اس کے بعد جج ناصر جاوید رانا نے اسلام آباد ویسٹ اور اسلام آباد ایسٹ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے طور پر کامیابی کے ساتھ خدمات انجام دیں اور اب وہ نیب کے جج کے طور پر کام کر رہے ہیں۔جج ناصر جاوید رانا کی عدلیہ میں خدمات کی مدت 27 سال ہے، جس دوران انہوں نے تقریباً 35 ضلعی ججز کے تحت کام کیا، اور ان کے خلاف نہ تو کوئی کرپشن کا الزام عائد ہوا اور نہ ہی ان کی کارکردگی پر کبھی کوئی منفی رپورٹ درج کی گئی۔ ان کے خلاف 2004 کی انکوائری کا موجودہ مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جج ناصر جاوید رانا کی زندگی کی یہ تفصیلات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ عدلیہ کے وقار کو بلند رکھا اور اپنے فیصلوں میں مکمل دیانتداری کا مظاہرہ کیا۔

    جج ناصر جاوید رانا نے ہزاروں مقدمات کا فیصلہ کیا اور ہمیشہ میرٹ پر قانون کے مطابق دیا۔ اب عمران اور بشریٰ کو سزا سنائی گئی تو عمران خان اور ان کے وکلاء نے ان کے فیصلے پر تنقید کی اور جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کیا تو ان کا مقصد صرف اپنے ناپاک عزائم کو آگے بڑھانا تھا، اسکے باوجود کہ جج ناصر جاوید رانا کا فیصلہ ہمیشہ حق و انصاف پر مبنی رہا۔

     

    پاکستان کے عدالتی نظام میں جج ناصر جاوید رانا کے بارے میں جو پراپیگنڈا اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں، ان کے پس منظر میں کئی اہم حقائق پوشیدہ ہیں۔ خاص طور پر ان نام نہاد صحافیوں کے لیے جو اس معاملے پر منفی بیانیہ پھیلا رہے ہیں، یہ ضروری ہے کہ  حقیقت سامنے آئیں تاکہ صحیح صورتِ حال واضح ہو سکے۔

    سب سے پہلی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے۔ جب جج رانا کے خلاف الزامات لگائے گئے، تو لاہور ہائی کورٹ کو تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔ تاہم، اس معاملے میں جج رانا کے حق میں تمام کورٹ کے عملے نے affidavits جمع کرائے، جن میں یہ کہا گیا کہ جج رانا کسی بھی غلط کام میں ملوث نہیں ہیں، بلکہ وہ بالکل صحیح ہیں۔ اس کے باوجود، سیاسی دباؤ کی وجہ سے، کمزور چیف جسٹس نے بغیر کسی ثبوت اور ٹرائل کے لاہور ہائی کورٹ کو کارروائی کا حکم دیا۔

    جب جج رانا ایک جونیئر جج تھے، تو انہوں نے سپریم کورٹ کی طرف سے کی جانے والی سوموٹو کارروائی میں کسی بھی قسم کے دباؤ کو مسترد کیا، اس کے بعد معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے حوالے کیا گیا، جہاں جج رانا کے حق میں فیصلہ آیا اور وہ اپنے عہدے پر بحال ہوئے۔

    ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ جناب ناظم حسین اگر جسٹس راشد عزیز خان کو راستے سے نہ ہٹاتے تو شاید وہ خود کبھی چیف جسٹس نہ بن پاتے۔ ان کی جانب سے برادر جسٹس راشد کے بارے میں ایسے ریمارکس دئیے گئے تاکہ ان کا کیریئر ختم ہو سکے اور ناظم حسین صدیقی کے چیف جسٹس بننے کا راستہ ہموار ہو۔ اس بات کو ریکارڈ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    اگر جج رانا لاہور ہائی کورٹ کی انکوائری میں قصوروار پائے جاتے تو انہیں فوری طور پر نوکری سے فارغ کر دیا جاتا۔ تاہم، جج رانا نے اپیل کے ذریعے اپنے آپ کو ثابت کیا اور یہ ثابت کیا کہ وہ کسی بھی غلط کام میں ملوث نہیں ہیں۔ اس طرح وہ اپنی نوکری پر قائم رہے اور ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔

    پی ٹی آئی نے ہمیشہ سچ اور حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا بیانیہ بنایا اور پھیلایا۔ اس بیانیہ کی حقیقت یہ ہے کہ جج رانا کو جب پی ٹی آئی کی حکومت میں نوکری سے فارغ نہیں کیا گیا، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر ان پر واقعی کوئی الزام تھا، تو انہیں 2019 میں اسلام آباد کیوں پوسٹ کیا گیا؟ اگر جج رانا کی سروس میں کوئی مسئلہ تھا تو انہیں کیوں نہیں نکالا گیا؟

    ان تمام حقائق کو دیکھتے ہوئے، یہ کہا جا سکتا ہے کہ جج ناصر جاوید رانا کے بارے میں جو پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ حقیقت سے بعید ہے۔ انہیں سیاسی دباؤ کے باوجود اپنی خدمات میں تسلسل ملا اور انہوں نے کسی بھی قسم کے غیر قانونی عمل سے خود کو دور رکھا۔ ان کی سروس اور ان کے فیصلے ان کے کردار کو سچائی کے آئینے میں ثابت کرتے ہیں۔

    سیف علی خان چاقو حملہ کیس،مشتبہ شخص چھتیس گڑھ میں گرفتار

    ہر کسی کا ذریعہ آمدن ہوتا ہے عمران خان کا ذریعہ آمدن بتادیں ،عطاتارڑ