Baaghi TV

Tag: عدالت

  • سانحہ 9 مئی کے 11 مقدمات  کی سماعت بغیر عدالتی کارروائی ملتوی

    سانحہ 9 مئی کے 11 مقدمات کی سماعت بغیر عدالتی کارروائی ملتوی

    راولپنڈی:سانحہ 9 مئی کے 11 مقدمات کی سماعت ایک بار پھر بغیر عدالتی کارروائی کے ملتوی کردی گئی۔

    انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ کے روبرو سانحہ 9 مئی کے 11 مقدمات کی سماعت ہوئی، جس میں پراسیکیوٹر ظہیر علی شاہ، وکلائے صفائی اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید عدالت پہنچے جب کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جیل روبکار پر حاضری لگائی گئی۔

    دورانِ سماعت پراسیکیوٹر نے بتایا کہ جن ملزمان کو چالان کی نقول نہیں ملیں، انہیں نقول دی جا رہی ہیں،بعد ازاں عدالت نے بغیر کسی کارروائی کے سانحہ 9 مئی کے 11 مقدمات کی سماعت 14 جون تک ملتوی کردی۔

    وزیراعظم آج کوئٹہ کا ایک روزہ دورہ کریں گے

    سکھر: بیٹی کی بازیابی کیلئے خواتین کا رات بھر قرآن اٹھا کر احتجاج

    اسرائیل کا سعودی وزیر خارجہ کو رام اللہ جانے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ

  • سینیٹر افنان اللہ پر تشدد:عدالت نے شیر افضل مروت کو کیس سے بری کر دیا

    سینیٹر افنان اللہ پر تشدد:عدالت نے شیر افضل مروت کو کیس سے بری کر دیا

    اسلام آباد : رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کو سینیٹر افنان اللہ پر تشدد سے متعلق کیس سے بری کردیا۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں شیرافضل مروت کے خلاف سینیٹر افنان اللہ پرتشدد کا کیس کی سماعت ہوئی جوڈ یشل مجسٹریٹ یاسر محمود نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق مدعی مقدمے میں پیش نہیں ہوئے، جس سے ان کی کیس میں عدم دلچسپی ظاہر ہوتی ہےدوران تفشیش شیر افضل مروت سے کوئی مجرمانہ مواد برآمد نہیں ہوا ٹرائل چلایا بھی جائے تو شیر افضل مروت کو سزا کا کوئی امکان موجود نہیں، شیر افضل مروت کی بریت کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔

  • 26 نومبر احتجاج: 2 مقدمات  میں بشری بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    26 نومبر احتجاج: 2 مقدمات میں بشری بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمات میں بشرٰی بی بی کی 2 مقدمات میں 11 جون تک عبوری ضمانت میں توسیع کر دی-

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے بشری بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی، بشری کیجانب سے حاضری سے استنی کی درخواستیں دائر کی گئی۔

    عدالت نے بشری بی بی کو شامل تفتیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئےدرخواستوں پر سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی، بشری بی بی کیخلاف تھانہ سیکرٹریٹ، کراچی کمپنی میں مقدمات درج ہیں۔

    خطے میں کشیدگی کے پیش نظر سائبر حملوں کا خطرہ، ایڈوائزری جاری

    دوسری جانب اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند خان نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کیخلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت بغیر کارروائی ملتوی کردی جوڈیشل کمپلیکس میں کیس کی سماعت ہوئی عدالت نے کیس کی سماعت 14 مئی تک ملتوی کردی۔ توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت سپیشل جج سینٹرل نے فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں کی۔

    تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ آج عدالت میں پرانے مقدمات زیر سماعت تھے اس لیے جیل ٹرائل ممکن نہیں، جیل حکام کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے میڈیکل معائنے کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔

    جسٹس بابر ستار کے ایک اور آرڈر جاری کرنے پر قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ برہم

    بانی پی ٹی آئی کا سینٹرل جیل اڈیالہ میں دوبارہ میڈیکل معائنہ کرایا جائے، طبی معائنہ کے لیے پمز ڈاکٹر اور ذاتی ڈاکٹرز کی ٹیم سے کرایا جائے، ذاتی ڈاکٹرز میں ڈاکٹر محمد عاصم یوسف، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈینٹسٹ ثمینہ نیازی شامل ہیں-

  • امریکی عدالت کا وائس آف امریکا کے ملازمین کی فوری بحالی کا حکم

    امریکی عدالت کا وائس آف امریکا کے ملازمین کی فوری بحالی کا حکم

    واشنگٹن: امریکی عدالت نے وائس آف امریکا کے ملازمین کے لیے خوشخبری سنا دی-

    امریکی فیڈرل جج نے وائس آف امریکا (VOA) اور اس سے منسلک نیوز سروسز کے ملازمین کی فوری بحالی کا حکم جاری کر دیا جج روئس لیمبرتھ نے اپنے فیصلے میں ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وائس آف امریکا کے ملازمین کام پر واپس آ سکتے ہیں، اور انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ چھٹی پر بھیجے گئے اور برخاست کیے گئے تمام ملازمین اور کنٹریکٹرز کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔

    عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وائس آف امریکا اور اس سے منسلک سروسز کو بند کرنے کی کوششوں کو بین الاقوامی نشریاتی ایکٹ کی خلاف ورزی قرار دیا جج نے کہا کہ وائس آف امریکا ایک کانگریس کی فنڈنگ سے چلنے والا ادارہ ہے اور سابقہ انتظامیہ کو اسے بند کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔

    اوکاڑہ میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کا بڑا ایکشن، جعلی مصالحہ فیکٹری پکڑی گئی

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی کارروائی کے باعث ادارے کی نشریات متاثر ہوئیں، اور 80 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ وائس آف امریکا خبریں نشر نہ کر سکا ادارے کی ویب سائٹ کو 15 مارچ سے اپ ڈیٹ نہیں کیا گیاجبکہ دنیا بھر کے وہ ریڈیو اسٹیشنز جو وائس آف امریکا کی نشریات پر انحصار کرتے ہیں، وہ یا تو بند ہو چکے ہیں یا صرف موسیقی نشر کر رہے ہیں۔

    عدالت نے حکم دیا کہ وائس آف امریکا کی تمام سروسز کو فوری بحال کیا جائے اور معمول کے مطابق نشریات دوبارہ شروع کی جائیں، فیصلے کو صحافتی آزادی اور نشریاتی اداروں کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    اردن نے جماعت اخوان المسلمون پر پابندی لگا دی

  • 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ،وزیراعظم  شہباز شریف کی ویڈیو لنک پر پیشی

    10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ،وزیراعظم شہباز شریف کی ویڈیو لنک پر پیشی

    لاہور: عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کے دعوے کی سماعت کے دوران شہباز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے عدا لت میں پیش ہوئے جن پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے جرح کی،جب کہ ان پر جرح کے دوران بجلی بند ہوگئی۔

    ایڈیشنل سیشن جج نے شہباز شریف کے دائر دعوے پر سماعت کی، وزیر اعظم بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش ہوئے، عمران خان کے وکیل میاں محمد حسین چوٹیا نے شہباز شریف پر جرح کی، وزیر اعظم نے کمرہ عدالت میں جرح سے پہلے حلف لیا۔

    ایڈیشنل سیشن جج یلماز غنی ہرجانے کے دعوے پر سماعت کر رہے ہیں جبکہ عمران خان کے وکیل میاں محمد حسین جرح کر رہے ہیں۔

    شہباز شریف نے جرح سے پہلے حلف لیا اور کہا کہ جو کہوں گا سچ کہوں، غلط بیانی نہیں کروں گا، یہ درست ہے کہ دوران جرح اس وقت میرا وکیل میرے ساتھ بیٹھا ہے، یہ درست ہے کہ جہاں میں بیٹھا ہوں، وہاں مدعا علیہ کا وکیل نہیں، وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ کیا آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کا دعوی ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر نہیں ہوا، شہباز شریف نے کہا کہ یہ میرے پاس لکھا ہے کہ دعوی ڈسٹرکٹ جج کے پاس دائر ہوا ہے۔

    انہوں نے عدالت کو بتایا کہ صدر مملکت کو منظوری کیلئے بھجوانے سے پہلے تمام قوانین اور رولز کا کابینہ جائزہ لیتی ہے، میں نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف ہرجانے کے دعوے پر خود دستخط کیے۔

    ان کا کہنا تھا یاد نہیں کہ دعویٰ دائر کرنے سے پہلے ہتک عزت کاقانون پڑھا تھا کہ نہیں، دعوے کی تصدیق کیلئے اسٹام پیپر میرے و کیل کے ایجنٹ کے ذریعے خریدا گیا، دعوے کی تصدیق کیلئے اوتھ کمشنر خود میرے پاس آیا تھا، اوتھ کمشنر کا نام، تصدیق کا دن اور وقت یاد نہیں لیکن وہ خود ماڈل ٹاؤن آیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے آج تک میرے آمنے سامنے یہ الزام نہیں لگایا، یہ درست ہے میں نے دعو یٰ ڈسٹرکٹ جج کے روبرو دائر کیا ہے، ڈسٹرکٹ کورٹ میں نہیں، دعوے میں میڈیا ادارے، ملازم، افسر کو فریق نہیں بنایا۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی نے تمام الزام 2 ٹی وی چینلز کے پروگرام پر لگائے، مجھے علم نہیں کہ دونوں نیوز چینلز کے یہ ٹی وی پروگرام کس شہر سے نشر ہوئے، دعویٰ دائر کرنے سے پہلے میں نے دونوں چینلز کے پروگرام کے نشر کرنے کے شہروں کی تصد یق نہیں کی۔

    دوران سماعت وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ کیا میں پنجابی میں سوال کرسکتا ہوں، وزیراعظم نے کہا کہ آپ بڑے شوق سے کریں، و کیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ جن ٹی وی پروگرامز میں آپ پر الزام عائد کیے گئے وہ اسلام آباد سے آن ایئر ہوئے تھے؟ شہباز شریف نے جواب دیا کہ مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے کہ پروگرام کہاں سے آن ایئر ہوئے۔

    عمران خان کے وکیل نے شہباز شریف سے سوال کیا کیایہ درست ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے آج تک آپ کے خلاف خود بیان شا ئع نہیں کیا،شہباز شریف نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے ٹی وی چینلز پر تمام الزامات خود ہی لگائے ہیں، مجھے علم نہیں دونوں چینلز کا مالک یا ملازم بانی پی ٹی آئی نہیں۔

    وکیل نے استفسار کیا کیا یہ درست ہے بطور ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کو سماعت کا یا شہادت ریکارڈ کرنے کا اختیار نہیں، جس پر شہباز شریف کے وکیل مصطفیٰ رمدے نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا یہ قانونی نکتہ طے ہو چکا ہے۔

    عدالت نے شہباز شریف سے سوال کیا کیا آپ اس نکتے کا جواب دینا چاہتے ہیں؟ جس پر شہباز شریف نے کہا یہ غلط ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کو بطور ڈسٹرکٹ جج دعوےکی سماعت یا شہادت ریکارڈ کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

    وزیر اعظم سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ درست ہے کہ عمران خان نے آج تک آپ کے خلاف ازخود بیان نشر یا شائع نہیں کیا، انہوں نے جواب دیا کہ عمران خان نے ٹی وی چینلز پر تمام الزامات خود ہی لگائے ہیں، مجھے علم نہیں ہے کہ عمران خان روزنامہ جنگ، پاکستان جیسے اخبارات کا مالک ہے یا نہیں۔

    عمران خان کے وکیل نے سوال کیا کیا یہ درست ہے کہ بطور ایڈیشنل سیشن جج آج کی عدالت کو سماعت کا، شہادت ریکارڈ کرنے کا اختیار نہیں، وزیر اعظم کے وکیل مصطفی رمدے نے عمران خان کے وکیل کے سوال پر اعتراض کیا اور کہا کہ یہ قانونی نقطہ طے ہو چکا ہے۔

    عدالت نےشہباز شریف سےسوال کیا کہ کیا آپ اس نقطے کا جواب دینا چاہتے ہیں، وزیر اعظم نے جواب دیا کہ یہ غلط ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کو بطور ڈسٹرکٹ جج دعوی سماعت کرنے، شہادت ریکارڈ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا مجھے یاد نہیں، 2017 میں جب الزام لگا تو مسلم لیگ ن کا صدر تھا یا نہیں، یہ درست ہے کہ 2017 میں میرا مسلم لیگ ن سے تعلق تھا، آج بھی ہے، یہ درست ہے کہ جب 2017 میں الزام لگا تو بانی پی ٹی آئی چیئرمین پی ٹی آئی تھے، جب سے بانی پی ٹی آئی نے سیاست شروع کی تب سے مسلم لیگ ن کے حریف رہے ہیں۔

    دوران جرح عدالت کی بجلی چلی گئی اور جرح روک دی گئی، وزیر اعظم پر دوبارہ جرح 11 بج پر 50 منٹ پر شروع ہوئی، وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے علم نہیں کہ دونوں چینلز کا مالک یا ملازم عمران خان نہیں ہے، مجھے علم نہیں ہے کہ ہتک عزت قانون سے مواد شروع یعنی Originator کا لفظ حذف کر دیا گیا ہے۔

    عدالت نے شہباز شریف پر مزید جرح آئندہ سماعت تک ملتوی کرتے ہوئے سماعت 25 اپریل تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے پاناما کیس واپس لینے کے لیے 10 ارب کی پیشکش کا الزام لگایا تھا جس کے خلاف شہباز شریف بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔

  • 26 نومبر احتجاج : وزیراعظم و دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    26 نومبر احتجاج : وزیراعظم و دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد: 26 نومبر احتجاج میں بیٹے ہلاکت کے خلاف وزیراعظم، وزیر داخلہ، وزیر اعلی پنجاب، آئی جی و دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: ایڈیشنل یشن جج افضل مجوکا نے 9 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا کہ مقدمہ اندراج درخواست میں ایف آئی آر کی ہدایت دیتے عدالت مطمئن ہونی چاہیے کافی مواد ریکارڈ پر موجود ہے، قانونی طور پر درخواست گزار وکیل کی اس دلیل کی کوئی حیثیت نہیں۔

    عدالت نے کہا کہ پٹیشن کی سپورٹ میں کوئی مواد ضروری نہیں ، فیصلہ درخواست گزار کے دعوی کے مطابق 26 نومبر کو ان کے بیٹے محمد علی سمیت 9 ہلاکتیں ہوئیں، درخواست گزار کی جانب سے کوئی ڈیتھ سرٹیفکیٹ پوسٹمارٹم رپورٹ ریکارڈ پر موجود نہیں، درخواست گزار نے کہا پولیس اور اسلام آباد کی اتھارٹیز نے انہیں کوئی ریکارڈ نہیں دیا جو پیش کرتے۔

    ”ٹی کرونا بوریالس“ نامی ستارہ آئندہ ہفتے تباہ ہونیوالا ہے

    فیصلے کے مطابق درخواست کے مطابق 9 ہلاک ہونے والوں کا تعلق خیبرپختونخواہ سے ہیں، 9 افراد کی موت کی وجہ جانچنے کے لیے مجسٹریٹ کو قبر کشائی درخواست بھی دے سکتے تھے، درخواست گزار کے وکیل نے کہا موت کی وجہ معلوم کرنا درخواست گزار کی نہیں پولیس کی ذمہ داری تھی۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ پٹشنر نے الزام لگایا ہے پولیس نے ڈیڈ باڈی حوالے کرتے زبردستی سادہ کاغذ پر دستخط کروائے، درخواست گزار کے مطابق دیگر ہلاک شدگان کے لواحقین کے ساتھ تھانے مقدمہ درج کرانے گیا، درخواست کے مطابق تھانہ سیکرٹریٹ پولیس نے اسے اور دیگر کو وہیں حراست میں لے لیا۔

    چوتھا ٹی ٹوئنٹی: پاکستان کا نیوزی لینڈ کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

    فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے مطابق دیگر افراد سے بیان حلفی لیکر رہا کر دیا گیا، درخواست گزار کے مطابق رہا ہونے کے بعد ایس ایچ او کو بیان ریکارڈ کرانے گیا تو اس نے انکار کر دیا ،پولیس حکام کے مطابق ملزمان کے نام کا درخواست میں ذکر ہی موجود نہیں، فرانزک میڈیسن ، لیگل میڈیسن اور میڈیکو لیگل رپورٹ کرمنل جسٹس سسٹم کے ساتھ جڑی ہوئیں ہیں۔

    عدالت نے کہا کہ یہ تمام رپورٹ آرٹیکل 10 اے فئیر ٹرائل کے تقاضے پورے کرنے کے لیے بھی ضروری ہیں، کرمنل جسٹس سسٹم اور میڈیکو لیگل سسٹم میں میڈیکل ایگزیمینر بہت کلیدی کردار ہے، درخواست گزار کی بات سے واضع ہوتا ہے اسے اور دیگر کو ڈیڈ باڈیز حوالے کی گئیں تھیں، ایک دلیل کے طور یہ کہہ سکتے ہیں اسلام آباد اتھارٹیز نے پوسٹمارٹم نہیں کرایا تھا۔

    دریائے سندھ میں کوٹری کے مقام پر پانی کی سطح گر گئی

    فیصلے میں کہا گیا کہ اس صورت حال میں لواحقین اپنی پسند کی جگہ سے پوسٹ مارٹم کرا سکتے تھے ، لواحقین قبر کشائی کی درخواست بھی مجسٹریٹ کو دے سکتے تھے، نا درخواست گزار نا کسی اور نے موت کی وجہ جانچنے کے لیے کوئی درخواست دائر کی، محمد علی اور دیگر 8 کی موت کے حوالے سے کوئی مواد موجود نہیں کہ ان کی غیر طبعی موت ہوئی، وزیراعظم و دیگر کے خلاف مقدمہ اندراج کی 22 اے کی درخواست خارج کی جاتی ہے۔

  • سائلین سے رشوت،اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحقیقات کا حکم

    سائلین سے رشوت،اسلام آباد ہائیکورٹ کا تحقیقات کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جسٹس بابر ستار کے پرائیویٹ سیکرٹری کے خط پر انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

    یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کی ہدایت پر رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو ایک خط ارسال کیا گیا۔ اس خط میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہو کر آئے اسٹاف کے بارے میں شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ وہ سائلین سے رشوت لے رہے ہیں۔خط میں مزید کہا گیا کہ کورٹ کا اسٹاف سائلین اور وکلا سے رقم کا مطالبہ کرتا ہے، جس کے باعث عدالت میں بدعنوانی کی فضا بن گئی ہے۔ اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے انکوائری کا حکم دے دیا۔

    انکوائری کے لیے رجسٹرار یار محمد ولانہ اور ایڈیشنل رجسٹرار اسٹیبلشمنٹ رائے محمد خان کو انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس نے تین دن میں انکوائری رپورٹ طلب کی ہے تاکہ معاملے کی تحقیقات مکمل کی جا سکیں۔یاد رہے کہ رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس معاملے کو قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے سامنے پیش کیا تھا، جس کے بعد یہ انکوائری شروع کی گئی۔اس اقدام کا مقصد عدالتوں کے اندر بدعنوانی کو روکنا اور انصاف کے نظام کو صاف ستھرا بنانا ہے۔ انکوائری کے بعد اگر کوئی فرد ملوث پایا گیا تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    گرینڈ اپوزیشن الائنس میں شمولیت،جے یوآئی نے پی ٹی آئی کو شرائط بتا دیں

    بھارتی فضائیہ کے دو طیارے ایک دن میں تباہ

    ڈیرہ غازی خان :ادویات اسکینڈل، معطلیوں کی گونج، بڑی مچھلیاں محفوظ؟

  • شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں پر ترمیمی فرد جرم عائد

    شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں پر ترمیمی فرد جرم عائد

    اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے جناح ہاؤس کے قریب پولیس کی گاڑیاں جلانے کے تین مقدمات میں تحریک انصاف کے رہنماؤں پر ترمیمی فرد جرم عائد کر دی۔

    باغی ٹی وی : لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں کیس کی سماعت کی، جہاں شاہ محمود قریشی، عمر سرفراز چیمہ، ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر ملزمان کو پیش کیا گیا۔

    ملزمان نے فرد جرم کی صحت سے انکار کیا، جس کے بعد عدالت نے تینوں مقدمات میں ترمیمی فرد جرم عائد کر دی عالیہ حمزہ، صنم جاوید اور خدیجہ شاہ سمیت دیگر ملزمان بھی عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ عدالت نے 6 مارچ کو گواہوں کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر لیا۔

    امریکی صدر کا دنیا تباہ کرنے کا دعویٰ .تحریر:غنی محمود قصوری

    پراسیکیوشن کی درخواست پر عدالت نے فرد جرم میں ترمیم کی اجازت دی، جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں پر بغاوت اور فسادات پر اکسانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں کے شیڈول کے بارے میں درخواست پر فیصلہ بھی محفوظ کر لیا گیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت میں اس درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عمران خان کی ملاقاتوں کے شیڈول میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالنے کی درخواست کی گئی تھی۔

    عمران خان کا جیل میں طبی معائنہ

  • مصطفیٰ عامر قتل کیس :اہم گواہ نے ملزمان رمغان اور شیراز کو شناخت کرلیا

    مصطفیٰ عامر قتل کیس :اہم گواہ نے ملزمان رمغان اور شیراز کو شناخت کرلیا

    کراچی: مصطفیٰ عامر قتل کیس کے اہم گواہ اور ملزم ارمغان کے ملازم نے قتل کیس میں نامزد ارمغان اور شیراز کو عدالت میں شناخت کرلیا۔

    باغی ٹی وی : کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں مصطفیٰ عامرقتل کیس کی سماعت ہوئی جس دوران ملزم ارمغان کے ملازم اور کیس کے اہم گواہ غلام مصطفیٰ کا بیان قلمبند کیا گیاگواہ غلام مصطفیٰ نے بتایا کہ 6 جنوری کی رات 9 بجے ایک لڑکا آیا تھا جس کے لئے ہم نے دروازہ کھولا تھا، لڑکے نے ٹراؤزر پہنا ہوا تھا اور جیکٹ میں تھا مگر میں نے شکل نہیں دیکھی تھی۔

    ملازم نے عدالت کو بتایا کہ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد گالم گلوچ کی آواز آئی اور پھر دو یا تین فائر کی آواز آئی، ہم دونوں کمرے سے باہر آگئے تھے، میں اپنے کمرے میں جاکر سوگیا، نیند نہیں آرہی تھی، فجر کی نماز پڑھی اور پھر دن ایک ڈیڑھ بجے اٹھے تو ارمغان اور اس کا دوست موجود تھے، ہمیں اوپر جانے کی اجازت نہیں تھی،پانی اورکھانے کے لیے فون کرتے تھے۔

    جنرل ساحر شمشاد مرزا کی ازبک نائب وزیرِ دفاع سے ملاقات

    گواہ نے مزید بتایا کہ کچھ دن بعد پولیس کا چھاپہ پڑا اور فائرنگ ہورہی تھی، ہم اپنے روم میں تھے، ہم چھپ گئے تھے اور پھر باہر نکل کر چلے گئے ، 10 تاریخ کو سامان اٹھانے بنگلے کے آس پاس آئے تو پولیس نے ہمیں پکڑ لیاارمغان کے ملازم نے عدالت میں کہا کہ جو واقعہ ہوا ہم نے پولیس کو سچ سچ بتا دیا تھا، پولیس اسی رات ہمیں بنگلے پر لے کر گئی تھی، ہم نے پولیس کوخون کے نشانات دکھائے، پولیس ہمیں اس رات تھانے لے گئی اور موبائل نمبر لے کر چھوڑ دیا تھا مگر پھر بعد میں پولیس نے ہمیں فون کرکے بلایا تھا۔

    آئینہ دکھانا مرا کام ہے.تحریر:نمرہ ملک

    بعد ازاں عدالت نے گواہ سے پوچھا کہ دیکھو ملزمان یہاں موجود ہیں؟ اس پر گواہ غلام مصطفیٰ نے عدالت میں ملزم ارمغان اور شیراز کو شناخت کرلیا۔

  • توشہ خانہ ٹو کیس، سماعت بغیر کاروائی کے ملتوری

    توشہ خانہ ٹو کیس، سماعت بغیر کاروائی کے ملتوری

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 27 فروری تک ملتوی کردی گئی ہے۔

    سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے تصدیق کی کہ عدالتی عملہ نے صبح باضابطہ طور پر اس بات سے آگاہ کیا کہ کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ اس کیس میں اب تک مجموعی طور پر 8 گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں، اور ان میں سے 7 گواہوں پر جرح مکمل کی جا چکی ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے آٹھویں گواہ پر جرح کی تھی۔

    اس کے علاوہ، بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے جیل ٹرائل کی بجائے اوپن ٹرائل کی درخواست بھی عدالت میں دائر کی ہے۔ اس درخواست میں یہ استدعا کی گئی کہ اوپن ٹرائل کی درخواست پر فیصلہ ہونے تک توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت روکی جائے۔ اس درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کیے ہیں، اور اس میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، ایف آئی اے، اور محکمہ داخلہ پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔