ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایک بار پھر امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی یکطرفہ یا نئی کارروائی سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے عمل میں تاخیر کا سبب بنے گی۔
بغداد میں عراقی وزیر خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عباس عراقچی نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے اور خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی، عراقی وزیر خارجہ نے عباس عراقچی کا بغداد آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عراق اور ایران کے درمیان تعلقات انتہائی گہرے ہیں اور بغداد ہر ملک کے خلاف جنگ اور جار حیت کو مسترد کرتا ہے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت ایک مثبت پیشرفت ہے ، آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا پورے خطے کے لیے نہایت اہم ہے، آبنائے ہرمز میں فوجی کشیدگی بڑھانے سے گریز کیا جانا چاہیے عراق کو اس وقت شدید تیل بحران کا سامنا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بعد عباس عراقچی کا دورۂ عراق غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شاندار استقبال پر عراقی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تہران بغداد کی نئی حکومت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہےموجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر ان کا دورہ عراق غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے،عراقی حکومت نے ایران پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی ،عراقی عوام نے ہر مشکل وقت میں ایرانی عوام کا ساتھ دیا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران لبنان کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گاعراقی وزیر خارجہ کو جنگ کی صورتحال اور ایران، امریکا مفاہمتی یادداشت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے، آبنائے ہرمز ایران کے انتظامی کنٹرول میں ہے اور بحری آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنا تہران کی ذمہ داری ہے انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی یک طرفہ یا نئی کارروائی سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے عمل میں تاخیر ہو سکتی ہے اسرائیل کا لبنان سے انخلاء اور وہاں حملے روکنا امریکا کیساتھ عبوری معاہدے کا لازمی حصہ ہے۔
