Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • جو مرضی کر لیں، لوگ نکل کر پی ٹی آئی کوووٹ دیں گے،عمران خان کا پیغام علیمہ کی زبانی

    جو مرضی کر لیں، لوگ نکل کر پی ٹی آئی کوووٹ دیں گے،عمران خان کا پیغام علیمہ کی زبانی

    بانی تحریک انصاف عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ جیلوں میں جو بے گناہ لوگ بھرے ہوئے ہیں، 8 مہینے سے بغیر ٹرائل کے جیلوں کے اندر ہیں اللہ کے واسطے انہیں رہا کریں، ظلم ہورہا ہے، جوان بچے اور عورتیں ہیں،غریب لوگ ہیں

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا کوئی فکر نہ کریں، ہاتھ باندھ دیں، ٹانگیں باندھ دیں،منہ بند کردیں، دفعہ 144 لگا دیں، گھر سے نہ نکلنے دیں، پھر لوگ نکلیں گے، ہر پاکستانی کا حق ہے ووٹ ڈال سکے، آپ ووٹ ڈالنے کیلئے ضرور نکلیں،پریشان کن صورتِ حال یہ ہےکہ کسی کو پرواہ نہیں کہ کیس کیسے چل رہے ہیں، ایسا لگ رہا ہے کہ ان کو یہ تاریخ دی گئی ہے کہ اس دن فیصلہ سنا دینا ہے، 15 اگست کو بانیٔ پی ٹی آئی کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا،الیکشن کمیشن نے جلدی سے عمران خان کو نا اہل کر دیا ، سپریم کورٹ سے کہتے ہیں کہ ہماری اپیل سنی جائے،عمران خان باربار کہہ رہے ہیں کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کس نے چوری کی؟ پاکستان میں تمام اداروں کے دفاتر میں کیمرے موجود ہیں،

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    بشریٰ بی بی کی سڑک پر دوڑیں، مکافات عمل،نواز شریف کی نئی ضد، الیکشن ہونگے؟

    جعلی رسیدیں، ضمانت کیس، بشریٰ بی بی آج عدالت پیش نہ ہوئیں

    عمران خان، بشریٰ بی بی نے جان بوجھ کر غیر شرعی نکاح پڑھوایا،مفتی سعید کا بیان قلمبند

    عمران خان پر لگی دفعات پر سزائے موت ہو سکتی ہے،علیمہ خان کا پھر بیان

  • سائفر کیس، وکلا صفائی پیش نہ ہوئے، سماعت ملتوی

    سائفر کیس، وکلا صفائی پیش نہ ہوئے، سماعت ملتوی

    سائفر کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی
    سماعت کے دوران ملزمان کے وکلاء عدالت پیش نہ ہوئے،ملزمان کے وکلا کو عدالت پیشی کے لیے دو مرتبہ مہلت دی گئی،ملزمان کے سینیئر وکلا کے معاون قمر عنایت راجہ اور خالد یوسف عدالت پیش ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمان کے سینیئر وکلاء کدھر ہیں،پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے کہا کہ اگر وکلا صفائی روز نہیں آئیں گے روز التوا لیں گے تو ہمیں کس بات کی سزا ہے کہ روزانہ صبح صبح آجائیں،بعض گواہان جرا کے لیے دبئی سے آ کر پاکستان بیٹھے ہوئے ہیں روزانہ عدالت پیش ہوتے ہیں،آج بھی التوا کی درخواست دائر کر رہے ہیں پتہ نہیں سینیئر کونسل کب ائیں گے، وکلاء صفائی جرح کرنے سے کتراتے اور تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں،

    معاون وکیل نے کہا کہ سکندر ذوالقرنین کے دانت کی سرجری ہے،ایسا معاملہ نہیں کہ ہم جان بوجھ کر التوا مانگ رہے ہیں،عدالت نے کہا کہ آپ تین مرتبہ پہلے بھی التوا لے چکے کوئی ایک وکیل تو آج حاضر ہوتا ،یہ سارے سرکاری ملازمین ہیں کچھ بیرون ملک سے جرح کے لیے آئے بیٹھے ہیں ،میں بطور جج صبح نو بجے کا آیا بیٹھا ہوں اب بہت ہو گیا ملزمان خود بھی جرح کر سکتے ہیں ،ملزمان نے فیملی سے ملاقات اور وکلا سے مشاورت کے لیے وقت مانگا عدالت نے دیا ،وکلا صفائی نے جرح کے لیے التوا مانگا عدالت نے وہ بھی دیا،اب اپ ایک لمبی تاریخ لینا چاہتے ہیں کس بنیاد پر دیں ،صبح میڈیا پبلک اور پراسیکیوشن آ جاتی ہے آپ دیر سے آتے ہیں سب اپ کا انتظار کرتے رہتے ہیں،

    پراسیکیوٹر ذلفقار عباس نقوی نے کہا کہ عدالت اپنے ارڈر میں پہلے بھی تحریر کرا چکی کہ وکلا صفائی جرح سے گریز کر رہے ہیں ،ملزمان کے بیان پر 16 جنوری سے جرح شروع ہونی تھی،یو اے ای سے سفیر جرح کے لیے آے بیٹھے ہیں وکلاء صفائی لاہور اور اسلام اباد سےنہیں آئے،وکلاء صفائی کا ملزمان سے جرح کا حق ختم کیا جائے

    فاضل جج نے وکیل صفائی کے معاونین کو ہدایت کی کہ آپ ساڑھے 12 بجے تک وکلا کو بلائیں نہیں تو قانون کے مطابق کاروائی کو آگے بڑھائیں گے آپ عدالت کا آخری فیصلہ بھی پڑھ لیں،پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ وہ کلاسفائی جان بوجھ کر معاملہ لٹکا رہے ہیں اپ قانون کے مطابق فیصلہ کریں گواہ روزانہ یہاں موجود ہوتے ہیں،معاون وکیل خالد یوسف نے کہا کہ عدالت میں سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ کا ٹرائل جاری ہے اور ہمیں ابھی تک جرح کی کاپیاں فراہم نہیں کی گئی،پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ساتھی وکیل جس جوش سے بات کر رہے ہیں اسی جوش کے ساتھ گواہان پر جرح بھی کر لیں، عدالت نے وکلا صفائی کو پیش ہونے کے لیے دو مرتبہ کی مہلت ختم ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا.

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر

    عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر

    اسلام آباد: سانحہ 9 مئی کے مقدمات میں بانی تحریک انصاف عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کیلئے تاریخ مقرر کر دی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف 9 مئی سے متعلق کیسز کی اڈیالہ جیل میں سماعت کی، دوران سماعت عدالت نےبانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو مقدمات کی نقول فراہم کر تے ہوئے فرد جرم عائد کرنے کیلئے 6 فروری کی تاریخ مقرر کر دی، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 6 فروری تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ 9 مئی سے متعلق بانی پی ٹی آئی کے خلاف 12 اور شاہ محمود قریشی کے خلاف 6 مقدمات درج ہیں اور دونوں نے ان مقدمات کے سلسلے میں درخواستِ ضمانت دائر کر رکھی ہے۔

    اسکول یا کالج بند کرنے کی کوئی ہدایت کی گئی نہ سکیورٹی تھریٹ ہے،آئی جی …

    الیکشن کمیشن کی فہمیدہ مرزا کو جی ڈی اے کا انتخابی نشان دینے سے معذرت

    بھارت یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں افغان طالبان کو شرکت کی دعوت

  • نگران حکومت ، اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن ملے ہوئے ہیں،عمران خان

    نگران حکومت ، اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن ملے ہوئے ہیں،عمران خان

    راولپنڈی : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ 9 مئی واقعات پر نگران وفاقی حکومت کی نگرانی میں تحقیقات کو نہیں مانتے پنجاب میں دفعہ 144 صرف پی ٹی آئی کے لیے لگائی گئی ہے، اب دیکھ لینا پی ٹی آئی کو جلسے اور ریلیوں کی اجازت نہیں ملے گی، دفعہ 144 نواز شریف نے لگوائی ہوگی،یہ جو مرضی کرلیں ہم نے آخری بال تک الیکشن لڑنا ہے۔

    باغی ٹی وی: اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 9 مئی واقعات پر نگران وفاقی حکومت کی نگرانی میں تحقیقات کو نہیں مانتے، 9 مئی سے متعلق کوئی آزادانہ انکوائری نہیں ہوئی نگران حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن ملے ہوئے ہیں، جب تک جی ایچ کیو، جناح ہاؤس اور دیگر تنصیبات کی سی سی ٹی وی فوٹیج چوری کرنے والوں کو نہیں پکڑا جاتا حقائق سامنے نہیں آسکتے، جس نے بھی جلاؤ گھیراؤ کیا ہے اس کو پکڑا جائے لیکن پہلے آزادنہ تحقیقات کرائی جائیں۔

    نیب نے پشاور میں پی ٹی آئی دور میں بھرتی ہونے والے …

    سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ انہوں نے کور کمانڈر ہاؤس لاہور، جی ایچ کیو اور اسلام آباد ہائیکورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز ہی غائب کر دی ہیں، امریکا میں کیپیٹل ہِل پر جب حملہ ہوا تو ملزمان کو سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے گرفتار کیا گیا، ہمارے پاس ویڈیوز ہیں جس میں یاسمین راشد کارکنان کو تلقین کر رہی ہیں کہ کور کمانڈر ہاؤس کی طرف نہیں جانا۔

    عمران خان نے کہا کہ 80 فیصد فوج پی ٹی آئی کے ساتھ ہے، یہ جو مرضی کر لیں، انتخابی نشان لے لیں پی ٹی آئی کوہرا نہیں سکتے، ایسی پری پول دھاندلی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی، انہوں نے 8 فروری کو بھی دھاندلی کرنی ہے، دھاندلی کے باوجود ضمنی انتخابات ہارنے پر یہ پی ٹی آئی کو فیلڈ نہیں دے رہے، میرا ہاتھ عوام کی نبض پر ہے، عوام کا غصہ8 فروری کو نکلے گا،8 فروری کو جو ان کے ساتھ ہونے والا ہے وہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں-

    انتخا بی مہم کے دوران حکومتی مشینری کا استعمال،الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میری ایک ہی ڈیل ہے اور وہ ہے صاف اور شفاف انتخابات کرائیں اور جمہوریت لائیں، یہ جو سوچ رہے ہیں اس سے ملک کو نقصان پہنچے گا، یہ الیکشن نہیں آزادی کی جدوجہد ہے،ہ میرے اور شاہ محمود سمیت کسی سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہورہے ہم نے پوسٹل بیلٹ کے لیے اپلائی کر رکھا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے جلسوں میں تو کوئی آ نہیں رہا، اس کے جلسوں میں پی ٹی آئی کے نعرے لگ رہے ہیں، نواز شریف خود تو گھر بیٹھے ہیں کہ یہ مجھے سلیکٹ تو کر رہے ہیں، کیمپین کی ضرورت ہی نہیں۔

    سابق وزیراعظم عمران خان نے امیدواروں کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سب تیار رہیں، یہ جس امیدوار کو پکڑیں گے ہم اس کی جگہ کسی اور کو کھڑا کر دیں گے، یہ عوام سے ڈرے ہوئے ہیں، ہمارے امیدواروں کو میری تصویر لگانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یہاں تک کہ امیدواروں کو قیدی نمبر 804 لکھنے کی بھی اجازت نہیں ہے جو ہماری پارٹی میں نہیں رہے، ان کو ہماری تصویر لگانے کا کہہ رہے ہیں، تحریک انصاف کے ساتھ وہ ہو رہا ہے جو پہلے تاریخ میں کبھی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں ہوا۔

    گلگت بلتستان میں زرعی انقلاب کیلئے ہرممکن تعاون کریں گے،ڈاکٹرکوثرعبداللہ ملک

    صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ راولپنڈی میں آپ کی تنظیم کے عہدیداروں نے سمابیہ طاہر پر امیدواروں سے پیسے لینے الزام لگایا ہے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جواب دیا کہ سمابیہ طاہر کی پیسے لینے کی بات پر میں یقین نہیں کرتا۔

    اس سوال پر کہ آپ نے جن امیدواروں کو ٹکٹ دیئے ہیں ان پر آپ کے اپنے لوگوں کو تحفظات ہیں، عمران خان نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کس کو ٹکٹ ملا کس کو نہیں مجھے مشاورت کی اجازت ہی نہیں دی گئی۔

    گوہر اعجاز کو وزیرداخلہ کا اضافی چارج مل گی،نوٹیفکیشن جاری

  • نیب مقدمات میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    نیب مقدمات میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کے جیل ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق جہانگیری پر مشتمل بینچ نے سماعت کی ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور نیب کی پراسیکیوشن ٹیم عدالت میں پیش ہوئی،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ سوشل میڈیا کے اسکرین شاٹس موجود ہیں کہ میڈیا کو رسائی دی جا رہی ہے،عمران خان کے وکیل شعیب شاہین نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جلد بازی دیکھیں کہ ریفرنس دائر نہیں ہوا اور ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہو گیا، وفاقی حکومت نے نوٹیفکیشن 28 نومبر کو جاری کیا جبکہ ریفرنس 20 دسمبر کو دائر ہوا، دوسرا نوٹیفکیشن 14 نومبر کو جاری ہوا جبکہ ریفرنس 4 دسمبر کو دائر ہوا،جسٹس طارق جہانگیری نے استفسار کیا کہ نوٹیفکیشن سے ریفرنس دائر ہونے تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی؟

    پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ عمران خان کو 13 نومبر کو 190 ملین پاؤنڈ کے نیب کے کیس میں گرفتار کیا گیا،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ نوٹیفکیشن اور سمری کا عمل دیکھیں تو غیر ضروری جلد بازی واضح ہے، نیب کی درخواست پر ایک ہی دن میں سمری تیار ہوئی اور کابینہ سے منظور بھی ہو گئی، ملک میں باقی سارے کام بھی اتنی تیزی سے ہوتے تو کئی مسائل حل ہو جاتے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "میں بھی بالکل یہی بات کہنے لگا تھا”.

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت میں کہا کہ اڈیالہ جیل میں نیب مقدمات کا ٹرائل اوپن کورٹ میں ہو رہا ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ٹرائل اتنا اوپن ہے کہ ہمارے ایک ساتھی وکیل کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، سائفر کیس میں متعلقہ جج نے حکومت کو جیل ٹرائل کے لیے خط بھی لکھا تھا، ہائی کورٹ نے اس کے باوجود ٹرائل کالعدم قرا ردیا کیونکہ جوڈیشل آرڈر موجود نہیں تھا، اس کیس میں تو متعلقہ جج کی طرف سے کوئی خط بھی نہیں ہے، جیل میں عدالت لگانا الگ بات ہے ٹرائل کرنا الگ معاملہ ہے، جیل ٹرائل کے لیے متعلقہ جج کا جوڈیشل آرڈر ہونا لازم ہے، عدالت نے احتساب عدالت کے جج، نیب اور وفاقی حکومت کا کنڈکٹ بھی دیکھنا ہے، احتساب عدالت کے جج تمام کیسز چھوڑ کر 2 کیسز کے لیے روزانہ اڈیالہ جیل جاتے ہیں،

    واضح رہے کہ بانی تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،بانی تحریک انصاف عمران خان نے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،توشہ خانہ کیس میں 28نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ،بدنیتی پر مبنی ہیں ، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے ،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے، دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے.

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان پر مقدمات کی سماعت جیل میں ہی ہو رہی، عمران خان کو کسی عدالت پیش نہیں کیا جا رہا ہے، سائفر کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بھی جیل میں ہوئی، دوران عدت نکاح کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توشہ خانہ و القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کو چیلنج کیا تھا تا ہم عدالت نے اوپن ٹرائل کا حکم دیا ،سماعت جیل میں ہی ہو گی، اسی طرح عمران خان نے باقی مقدمات کے جیل ٹرائل کو بھی چیلنج کیا لیکن عمران خان کو ریلیف نہ مل سکا.

  • نو مئی کے مقدمے،عمران خان، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    نو مئی کے مقدمے،عمران خان، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    سانحہ 9 مئی کے 12 کیسز میں ملزمان کی ضمانت درخواستوں پر سماعت کا معاملہ،بانی چیئرمین پی ٹی آئی،شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید کی درخواستوں ضمانتوں پرسماعت ملتوی کر دی گئی

    تمام درخواستوں کی سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی گئی،تمام 12 مقدمات کے چالان پیش نہیں ہوئے ،مرکزی پراسیکیوٹر بھی پیش نہ ہوئے، پراسیکیوٹر نے کہا کہ تفتیشی ٹیم ریکارڈ سمیت لاہور گئی ہے،عدالت نے کہا کہ آئیندہ تاریخ پر مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے سماعت کی،بانی چیئرمین نے 12،شاہ محمود قریشی نے 6،شیخ رشید نے ایک مقدمہ میں درخواست ضمانت دائر کر رکھی ہے

    دوسری جانب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی 9 مئی کے مقدمات میں درخواست ضمانت کا معاملہ،انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی،شیخ رشید کی جانب سے سردار شہباز ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے

    واضح رہے کہ عمران خان، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید اڈیالہ جیل میں ہیںَ عمران خان کو نومئی کے مقدمات میں بھی گرفتار کیا گیا ہے تو وہیں شیخ رشید کو بھی نو مئی کے مقدمے میں ضمانت خارج ہونے پر عدالت سےگرفتار کیا گیا ہے

  • ہر پوسٹر پر  عمران خان کی تصاویر ، بلّا اہم نہیں، لوگ  عمران خان کو جانتے ہیں،ممبر الیکشن کمیشن

    ہر پوسٹر پر عمران خان کی تصاویر ، بلّا اہم نہیں، لوگ عمران خان کو جانتے ہیں،ممبر الیکشن کمیشن

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر کیس کی سماعت انتخابات کے بعد تک ملتوی کر دی گئی

    عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر کیس کی سماعت ہوئی،ممبر الیکشن کمیشن سندھ نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے سماعت کی،وکیل شعیب شاہین اور فیصل چوہدری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ میں آپ کے حکم کے مطابق حاضری لگانے آ گیا ہوں، میری درخواست ہے کہ سماعت ملتوی کر دی جائے،لاء ونگ نے کہا کہ گواہان کے بیانات اور شواہد ریکارڈ ہونے ہیں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ 8 فروری کے بعد سماعت رکھ لیں، انتخابات تک کمیشن بھی مصروف ہے، تاثر جا رہا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک جماعت کے خلاف ہے، ممبر الیکشن کمیشن خیبر پختون خوا نے کہا کہ ہم پارٹی نہیں ہیں،

    وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ مختلف جگہوں پر دفعہ 144 لگا دی ہے، جلسے جلوس نہیں کرنے دیے جا رہے، تحریک انصاف کا انتخابی نشان بھی چھین لیا گیا،ممبر الیکشن کمیشن خیبر پختون خوا نے کہا کہ بلّے کے بغیر بھی الیکشن لڑا جا سکتا ہے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عوام کو یہ بات کیسے سمجھائیں،ممبر الیکشن کمیشن کے پی نے کہا کہ شعیب صاحب آپ کے ہر پوسٹر پر عمران خان کی تصاویر لگی ہیں، بلّا اہم نہیں، لوگ عمران خان کو جانتے ہیں،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی نگرانی میں دوبارہ انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کو تیار ہیں، نشان لے کر پانچ سال کے لیے پارٹی تحلیل کردی گئی، الیکشن کمیشن گواہوں کے بیانات 15 فروری کے بعد قلم بند کرے،ممبر اکرام اللّٰہ خان نے کہا کہ ایک سال سے زائد ہو گیا کیس میں التواء پر التواء ہو رہا ہے، وکیل شعیب شاہین کی درخواست پر سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی گئی

    صحافی حافظ طاہر خیلیل کا توہین الیکشن کمیشن میں عمران خان کے خلاف سلطانی گواہ بننے سے صاف انکار
    سینئر صحافی حافظ طاہر خیلیل نے توہین الیکشن کمیشن میں عمران خان کے خلاف سلطانی گواہ بننے سے صاف انکار کر دیا،حافظ طاہر خلیل کا کہنا تھا کہ میں اس کیس متعلق کچھ نہیں جانتا ،مجھے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں،میں اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ کسی سیاستدان کے خلاف گواہ بنوں،صحافی جو سوچتا ہے وہ لکھ دیتا ہے،ہم کسی عدالت میں جانے کے روادار نہیں ہیں،میں نے اخبار میں مضمون لکھا اور میں اس کے ساتھ کھڑا ہوں،میں نے ماضی میں بھی ممتاز بھٹو کے خلاف گواہ بننے کی بجائے استعفی دینا مناسب سمجھا تھا،میں پوچھوں گا کہ میری مرضی کے بغیر الیکشن کمیشن نے نام کیوں استعمال کیا،میں نے گزشتہ سماعت پر بھی واضح کیا تھا کہ سوائے ارٹیکل کی وضاحت کے کوئی گواہی نہیں دوں گا،توہین الیکشن و کمشنر کیس میں بطور گواہ سینئر صحافی طاہر خلیل کا نام بطور گواہ سامنے آیا تھا

  • امریکی سائفر باجوہ کیلئے آیا تھا، شاہ محمود کو بائی چانس پتہ چل گیا

    امریکی سائفر باجوہ کیلئے آیا تھا، شاہ محمود کو بائی چانس پتہ چل گیا

    راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ شاہ محمود کو امریکی سائفر کا بائی چانس پتہ چل گیا ورنہ وہ سائفر جنرل (ر) باجوہ کے لیے آیا تھا جسے دبانے کے لیے پوری کوشش کی گئی-

    باغی ٹی وی : اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو میں سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ڈونلڈ لو نے جو بات کی اس پر پاکستانی سفیراسد مجید نے آفیشل میٹنگ میں ڈی مارش کرنے کی سفارش کی، سفیر کی سفارش پر ڈی مارش کیا گیا اور کہا جا رہا ہے کہ سازش نہیں ہوئی، پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا سائفر نہیں آیا، شاہ محمود کو بائی چانس اس سائفر کا پتہ چلا ورنہ وہ سائفر جنرل (ر) باجوہ کے لیے تھا جسے دبانے کے لیے پوری کوشش کی گئی کیونکہ اس سے ڈونلڈ ڈو ایکسپوز ہوگیا۔

    عمران خان نے کہا کہ سائفر ٹرائل کو سیکرٹ رکھنا چاہتے ہیں،3 ہفتے میں حکومت گرا دی گئی اس سے بڑی سازش کیا ہے؟ سائفر میں اگر انہونی چیز نہیں تھی تو ڈی مارش کیوں کیا گیا؟ کیا کوئی امریکا کو ڈی مارش کرتا ہے؟ جس روز ڈی مارش کیا گیا سائفر اسی روز پبلک ہوگیا تھا، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میٹنگ میں سائفر کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کیوں کہا گیا؟ سائفر کے معاملے پر پارلیمنٹ کی کمیٹی بنائی گئی وہ کس کی دھمکی پر ختم ہوئی؟ ہم نے چیف جسٹس سے بھی کہا تھا کہ سائفر معاملے کی انکوائری کی جائے۔

    سائفر کیس،دوران سماعت شاہ محمودقریشی اور پراسیکیوٹر رضوان عباسی میں تلخ جملوں کا تبادلہ

    بانی پی ٹی آئی نےکہا کہ ہمارےساڑھے3 سالہ دور میں کسی ملک کو ڈی مارش نہیں کیا گیالیکن سائفر کےبعد ہمارےممبران ٹوٹنا شرو ع ہوئے راجہ ریاض سمیت بہت سے لوگ امریکی ایمبیسی جا رہے تھے جس پر آئی بی کی رپورٹ بھی موجود تھی، ارشد شریف کا پروگرام بھی موجود ہے کہ کون کون سے لوگ امریکی ایمبیسی جا رہے تھے، اکتوبر 2021 میں باجوہ نے حسین حقانی کو ہائر کیا ہمیں اس کا علم تک نہ تھا حسین حقانی کو 35 ہزار ڈالر دئیے گئے اور حسین حقانی سے ٹویٹ کروایا گیا کہ عمران امریکا مخالف جبکہ باجوہ امریکا کے حق میں ہے فوج آرمی چیف کی ہدایت کے بغیر کچھ نہیں کرتی، لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کے خلاف میں نے کبھی کوئی بیان نہیں دیا ہمیں پتا ہے کہ فوج کیسے کام کرتی ہے۔

    سونے کی فی تولہ قیمت میں اضافہ

    عمران خان نے کہا کہ ہمیں انتخابی مہم نہیں چلانے دی جا رہی میرا اور نواز شریف کا معاملہ الگ ہے نواز شریف اور مریم نااہل ہوئے تھے جبکہ شہباز شریف کو باجوہ کی مکمل حمایت حاصل تھی، ان کے جلسوں میں کوئی نہیں آرہا ڈر ہے کہ یہ الیکشن سے بھاگ نہ جائیں کیوں کہ اکتوبر میں بھی یہ الیکشن سے بھاگے تھے،8فروری کو ہر صورت الیکشن ہونے چاہیئں، ہمارے امیدوار آئندہ اتوار سے پُرامن انتخابی مہم کے لیے باہر نکلیں، جو امیدوار انتخابی مہم کے لیے باہر نہ نکلے ان کے ٹکٹ تبدیل کردئیے جائیں گےیہ آزادی کی تحریک ہے یہ ہمیں غلام بنانا چاہتے ہیں آزادی کی تحریک میں جیل رہنے کو عبادت سمجھتا ہوں۔

    موسمیاتی صور تحال کے حوالے سے ایڈوائزری جاری

  • سائفر کیس،دوران سماعت شاہ محمودقریشی اور پراسیکیوٹر رضوان عباسی میں تلخ جملوں کا تبادلہ

    سائفر کیس،دوران سماعت شاہ محمودقریشی اور پراسیکیوٹر رضوان عباسی میں تلخ جملوں کا تبادلہ

    اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    سائفر کیس کی سماعت دوران شاہ محمود قریشی پراسیکیوٹر پر برہم ہوگئے اور دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا،دوران سماعت تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آئے اور کہا کہ جج صاحب کی گارنٹی پر میرے ساتھ ہاتھ ہوا ہے تصدیق نہ ہونے کے باعث این اے 150، این اے 151 اور پی پی 218 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے،میں نے کاغذات نامزدگی کی تصدیق کا کہا تو جج صاحب نے کہا میرا حکم نامہ ساتھ لگا دو، جج صاحب کے حکم نامے کے باوجود میرے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے،جسٹس ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شاہ صاحب ہم نے قانونی طریقہ کار پورا کردیا تھا.

    اس دوران پراسیکیوٹر بولے تو شاہ محمود قریشی غصے میں آگئے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں اپنے بنیادی حقوق کی بات کر رہا ہوں، یہ بیچ میں کیوں بول رہے ہیں؟ جس کے بعد شاہ محمود قریشی اور پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔شاہ محمود قریشی نے پراسیکیوٹر کو کہا کہ تم اوپر سے آئے ہو، کون ہو تم، تمہاری کیا اوقات ہے؟ پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے شاہ محمود قریشی کو جواباً کہا کہ تمہاری کیا اوقات ہے؟ جج شاہ محمود قریشی کو پرامن رہنے کی تلقین کرتے رہے۔ شاہ محمود قریشی نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست جمع کرائی، جس پر جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے کہا کہ یہ آپ کا حق ہے، ہم اس درخواست کو دیکھ لیتے ہیں، آپ کے جو حقوق ہیں وہ آپ کو ملیں گے،

    آج دوران سماعت سائفر کیس میں استغاثہ کے مزید 6 گواہوں کے بیان قلم بند کیے گئے، مجموعی طور پر 25 گواہوں کے بیان قلم بند کر لیے گئے ہیں،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکلاء کل سے گواہوں پر جرح کا آغاز کریں گے،عدالت نے سائفر کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید کا سائفر کیس میں بیان قلمبند کر لیا گیا، اسد مجید نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن پاکستان ہاؤس میں ہونے والی ملاقات اور بات چیت کو سائفر کے ذریعے سیکرٹری خارجہ کو بھجوائی گئی، دونوں سائیڈز کو معلوم تھا کہ میٹنگ کے منٹس لیے جا رہے ہیں، خفیہ سائفر ٹیلی گرام میں "خطرہ” یا "سازش” کے الفاظ کا کوئی حوالہ نہیں تھا، مجھے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں بھی بلایا گیا، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں ڈی مارش ایشو کرنے کا فیصلہ ہوا، میں نے ڈی مارش ایشو کرنے کی تجویز دی تھی، سائفر معاملہ پاکستان امریکہ تعلقات کیلئے دھچکا ثابت ہوا.

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • عمران خان کی 9 مئی کے 7 مقدمات میں ضمانتیں بحال

    عمران خان کی 9 مئی کے 7 مقدمات میں ضمانتیں بحال

    لاہور ہائیکورٹ،سابق چیرمین پی ٹی آئی کی عبوری ضمانت خارج کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی 7 ضمانتوں کو عدم پیروی پر خارج کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے دیا،7 ضمانتوں کو بحال کرنے کا حکم، 2 رُکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سُنا دیا۔عدالت نے ویڈیو لنک کے ذریعے ٹرائل کورٹ کو عبوری ضمانتوں پر فیصلہ کرنے کا حکم دے

    سابق چیرمین پی ٹی آئی کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے، وکیل عمران خان نے کہا کہ سابق چیرمین پی ٹی آئی توشہ خانہ میں گرفتاری سے قبل عدالت میں پیش ہوتے رہے،سابق چیرمین پی ٹی آئی کی کچھ ضمانتوں پر دلائل مکمل ہوچکے تھے ،ضمانتوں کو عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کر دیا گیا ،ضمانتوں پر میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ ہونا چاہیے تھا جو نہیں کیا گیا ،اے ٹی سی عدالت کو چاہیے تھا جن ضمانتوں پر دلائل مکمل ہوچکے تھے ،عدالت ان ضمانتوں پر سابق چیرمین پی ٹی آئی کو ذاتی حیثیت میں جیل سے طلب کرتی،مگر معزز جج صاحب نے ایسا نہیں کیا اور عدم پیروی کی بنیاد پر ضمانتیں خارج کیں ،جج کے پاس لا محدود اختیارات ہیں تمام عدالتوں میں ملزمان کو پیش کرنے کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں،عدالت اے ٹی سی عدالت کا فیصلہ کالعدم کرنے کا حکم دے،

    پراسکیوشن جنرل سید فرہاد علی شاہ نے سابق چیرمین پی ٹی آئی کی ضمانت خارج کرنے کے خلاف دلائل دیئے اور کہا کہ ملزم سزا یافتہ تھا انکو گرفتار کرلیا گیا ،ملزم کی گرفتاری قانون کے مطابق ہوئی تھی،عدالت ضمانت خارج کرنے کا حکم دے ،لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی کیسز میں عبوری ضمانتیں خارج کرنے پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ درخواست گزار دہشت گردی عدالت میں مسلسل پیش ہوتے رہے،اس دوران ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنا دی، پولیس نے درخواست گزار کو گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کر دیا،درخواست گزار جیل میں ہونے کی بنا پر انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش نہ ہوئے،ٹرائل کورٹ نے عدم پیروی پر انکی لی گئی ضمانتوں کو کینسل کر دیا۔ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے سے انکا ناقابل تلافی نقصان ہوا۔عدالت ٹرائل کورٹ کے ضمانتوں کو کینسل کرنے کے 11اگست کے فیصلے کو کالعدم قرار دے.

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں