Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • آج مکافات عمل،الزام لگانے والا پورا خاندان چور ثابت ہو رہا، مریم نواز

    آج مکافات عمل،الزام لگانے والا پورا خاندان چور ثابت ہو رہا، مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نوازنے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج مکافات عمل ہورہا ہے۔ جو جھوٹے الزام نواز شریف پر مجھ پر ہماری لیڈرشپ پر یہ لگاتے تھے وہی ایک ایک الزام خود ان پر آج سچ ثابت ہورہے ہیں۔ دوسروں کو چور کہنے والا آج خود پورے خاندان سمیت چور ثابت ہوگیا ہے۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ احسن اقبال صاحب آج آپکی بہن مریم نواز آپکی وفاؤں کو سلام پیش کرنے آئی ہے،سنا ہے آپ نے نارووال نے دن رات خدمت کی ہے اور اسی خدمت کی آپ کو سزا ملی، بازو پر گولی کھائی ،نارووال , ظفر وال , شکر گڑھ کی بہنوں بھائیو , احسن اقبال کے چاہنے والو , نوازشریف سے محبت کرنے والو آپکو مریم نواز کا سلام،ہ مجھے چاروں جانب عوام ہی عوام دکھائی دہے رہے ہیں۔ اتنا بڑا جلسہ ہے کہ اسٹیڈیم سے بھی باہر جا چکا ہے۔ میری بدقسمتی ہے کہ کبھی نارووال نہیں آ سکی ، مگر آج یہاں آ کر خوشی کی کوئی حد نہیں ہے۔ آج جانا کہ مجھے نارووال، شکر گڑھ اور ظفر وال کیوں بلایا جا رہا تھا

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خلاف سازش کرنے والے گھروں کو چلے گئے اور آج میدان میں صرف اور صرف ایک لیڈر شیروں کی طرح کھڑا ہے، اس کا نام محمد نواز شریف ہے۔ جتنی سازشیں کیں، جتنا انتقام لیا، جتنا ظلم کیا، ایک ایک کرکے سب اپنے اپنے انجام کو پہنچے، آج ٹی وی پر دیکھتے ہوں گے نواز شریف کو اللہ نے دوبارہ عزت دے دی۔ یہ مکانافات عمل کے سوا کچھ نہیں،نوازشریف نے اپنا مقدمہ ثاقب نثار یا عطابندیال پر نہیں چھوڑا، انگلی اٹھاکر اللہ پر چھوڑا تھااور کہا تھا کہ میں مقدمہ اللہ پر چھوڑوں گا اور اللہ نے انہیں سرخرو کردیا،

    عمران خان کیخلاف بات کرنے پر پی ٹی آئی رہنما نے امام مسجد کو منافق کہہ دیا

    میں وعدے کر کے یوٹرن نہیں لیتا تھا، نواز شریف

    خیبر پختونخوا والو، آپ بھی جھوٹے شخص کے جھانسے میں آگئے؟ نواز شریف کا سوال

    مریم نواز کے جلسے میں پارٹی پرچم پھاڑنے والے طالب علموں پر مقدمہ درج

     نواز شریف کے مخالف عبرت ناک انجام کو پہنچ رہے ہیں

    پاکستان کو نواز دو کے سلوگن سے مسلم لیگ ن نے انتخابی منشور جاری 

    ہم ووٹ مانگنے جاتے تو لوگ خواجہ سرا سمجھ کر 50 کا نوٹ دیتے، نایاب علی

     پرانے سیاستدان عوامی خدمت کے بجائے ذات کیلئے سیاست کررہے ہیں

    اسلام آباد میں جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان 

    بلوچ یکجہتی کونسل کی ماہ رنگ بلوچ کا ریاست مخالف پروپیگنڈہ بے نقاب

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ جب پولیس زمان پارک آتی تھی تو ڈنڈوں، پیٹرول بموں سے مقابلہ کرتی تھی،جب حساب کتاب کا وقت آیا تو وہیل چیئر پر بیٹھ گئے، ٹانگ پر پلاسٹر چڑھ گیا، جب انسان کے ہاتھ چوری سے رنگے ہوں تو پلاسٹر چڑھانا پڑھتا ہے، تحریک انصاف سیاسی جماعت نہیں ہے، اس کیساتھ سلوک بھی وہی ہونا چاہیے جو آپ دہشتگردوں کی جماعت کیساتھ کرتے ہیں،توشہ خانہ سے ہیرے جواہرات، گھڑیاں چوری کر کے بیچنے کا الزام ثابت بھی ہوا، اگر کوئی وزیراعظم چوری کرتا ہے اور وزیراعظم کی بیوی چوری کرتی ہے تو کیا اسکو اسلئے چھوڑ دیا جائے کہ وہ وزیراعظم یا وزیراعظم کی بیوی ہے، اللہ کرے ہمیں جو برداشت کرنا پڑا انکو نہ کرنا پڑے، اڈیالہ میں والد کو ملنے گئی تو گرفتار کر لیا گیا، والدہ کی وفات کی خبر جیل میں ملی، اللہ کرے کسی دشمن کو بھی ایسی خبر نہ ملے.میں دوبارہ والد کو ملنے گئی تو میرے والد کے سامنے سے مجھے گرفتار کیا گیا، نواز شریف نے اس دن نیب سے ایک جملہ کہا میرے سامنے گرفتار کرنے کی ضرورت تھی، باہر آ رہی تھی کر لینا تھا گرفتار، یاد رکھنا نیب والو، نواز شریف نے کہا تھا وقت ایک جیسا نہیں رہتا، ملک میں شر پھیلانے کے لیے لائے گئے فتنے نے قوم کو صرف ایک ہی سبق دیا کہ مارو گھسیٹو اور آگ لگادو،

    ناظم آباد واقعہ، پیپلز پارٹی کے لوگ ملوث ہوئے تو سزا کیلئے تیار ہیں،سعید غنی

    این اے 127، بلاول کی حمایت کرنیوالوں کی گرفتاریاں، الیکشن کمیشن کو خط

    ہمارے آفس پر بیٹھے ساتھیوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں،مصطفیٰ کمال

    الیکشن خونی بننے لگے،کراچی میں گولیاں چل گئیں، ایک کی موت

  • انتخابات میں تمام امیدواروں کو یکساں میڈیا کوریج دینے کی ہدایت

    انتخابات میں تمام امیدواروں کو یکساں میڈیا کوریج دینے کی ہدایت

    لاہور ہائیکورٹ نے عام انتخابات میں عمران خان سمیت تمام امیدواروں کو یکساں میڈیا کوریج دینےکی ہدایت کردی

    لاہورہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر 10صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل17ہر شہری کو آزادی اظہار رائے سمیت دیگر حقوق فراہم کرنے کا پابند کرتا ہے، عام انتخابات کے لیے الیکشن مہم اور اپنا منشوربتانےکی تشہیربنیادی حق ہے،صاف شفاف انتخابات کے لیے آزاد میڈیا کے ذریعے آزادی اظہار رائے ہونی چاہیے کیونکہ آزادی اظہار کے بغیر انتخابات کو صاف اور شفاف قرار نہیں دیا جاسکتا،عدالت نے تحریری فیصلے میں نوازشریف اوربینظیربھٹو کے فیصلوں کاحوالہ بھی دیا ہے۔

    واضح رہےکہ بانی پی ٹی آئی نے ٹی وی چینلزپر کوریج نہ ملنے کے معاملے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، عدالت نے تمام امیدواروں کو یکساں کوریج کی ہدایت کر دی

    قبل ازیں سندھ ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کا پیمرا نوٹیفیکیشن معطل کردیا،بار بار آواز لگانے پر بھی وفاقی حکومت کے وکیل کی عدم پیشی پر عدالت برہم ہو گئی،سرکاری وکیل نے عدالتی وقت ختم ہونے کے بعد تاخیر سے پیش ہو کر معذرت کرلی ،درخواست پی ٹی آئی کارکن طہماس علی خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے ،بیرسٹر علی طاہر نے کہا کہ سیاسی رہنما کی تقاریر پر پابندی بنیادی حقوق اور آزادی اظہار راۓ کی خلاف ورزی ہے ، یہ پابندی آئین کے آرٹیکل 19 اور آرٹیکل 19-A کی بھی خلاف ورزی ہے ، چیئرمین پیمرا نے فورم کو نظر انداز کرتے ہوۓ نوٹیفیکیشن جاری کیا، پابندی سے قبل کونسل آف کمپلینٹس سے بھی منظوری نہیں لی گئی ،

    پیمرا نے 31 مئی 2023 کو چیئرمین پی ٹی آئی کی اشتعال انگیز تقاریر اور بیان نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی, نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’عمران خان کی تقریر پر پابندی پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت لگائی گئی ہے

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی 

  • عمران خان کہتے تھے کہ میں ان کو رلاؤں گا، آج وہ خود رو رہے، بلاول

    عمران خان کہتے تھے کہ میں ان کو رلاؤں گا، آج وہ خود رو رہے، بلاول

    مالاکنڈ: پیپلز پارٹی کا پاور شو، بلاول زرداری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کل لیول پلیئنگ فیلڈ کا رونا رویا جارہا ہے،پیپلز پارٹی کسی الیکشن میں لیو ل پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ 2013 میں کہا گیا الیکشن مہم نہیں چلانے دیں گے،2008 کے الیکشن میں بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا،دہشت گردی خطرے کے باوجودملاکنڈمیں جلسہ کررہاہوں ۔جان ہتھیلی پررکھ کرملاکنڈکے عوام کے پاس آیاہوں،عمران خان نے نوجوانوں کوروزگار کی امید دلادی مگر وزیر اعظم بن کر نفرت کی سیاست شروع کی۔جو مخالف تھے وہ چور اور جو ساتھ رہے وہ فرشتے تھے ۔عمران خان خود توبہ کریں چوری سے ۔جو دوسروں کو رلانے کے اعلانات کرتے وہ آج خود رورہا ہے ۔کیا میاں صاحب ووٹ کو عزت دلا سکے؟ میاں صاحب چوتھی بار وزیر اعظم بنے تو وہی پرانی سیاست کریں گے،

    عمران کی سزا پر جشن نہیں، بشریٰ کے جیل جانے پر افسوس،شیر کا راستہ ہم ہی روک سکتے،بلاول
    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ اگر ہماری حکومت بنی تو تمام سیاسی قیدیوں کو پہلے دن ہی رہا کرنے کا حکم دوں گا،ایک سابق وزیر اعظم کے الیکشن نہ لڑپانے پر اس کے مخالف جشن منا رہے تھے پیپلزپارٹی جمہوریت پسند ہے ،سابق وزیر اعظم کی سزا پر جشن نہیں منا سکتی ،بشریٰ بی بی کے جیل جانے پر دلی افسوس ہے،سیلاب متاثرین کو 30 لاکھ گھر بنا کر دونگا جن کی تعمیر شروع ہوچکی ہے،17 وزارتوں کو بند کرکے ان کے فنڈز عوام پر خرچ کرونگا، سیاسی جماعتیں طے کریں کہ سیاست کو دشمنی میں تبدیل نہیں کریں گی .آپ ہماری شکل پسند کریں یا نہ کریں، شیر کا راستہ ہم ہی روک سکتے ہیں،عوام فیصلہ کریں کہ ان کا وزیر اعظم کون ہوگا ،صرف تیر کا نشان ہے جو میاں صاحب کو چوتھی بار وزیراعظم بننے سے روک سکتا ہے۔میں جشن نہیں مناؤں گا بانی پی ٹی آئی کو توبہ کرنی چاہیے ،میں دائیں بائیں نہیں عوام کی طرف دیکھتا ہوں،بانی پی ٹی آئی اور نواز شریف مکافات عمل اس دنیا میں دیکھیں گے ،خان صاحب کو سمجھایا تھا کہ سیاسی مخالف کی عورتوں کے پیچھے مت پڑو ،آج خان صاحب کی بیوی کے جیل جانے پر مجھے بہت دکھ ہورہا ہے

    اقتدار میں آیا تو تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کردوں گا، بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ میاں صاحب نے کہا تھا ووٹ کی عزت کرائیں گے،کیا (ن) لیگ والےووٹ کی عزت کررہےہیں؟میاں صاحب کو اپنی بیٹی کے ساتھ انتقام کی سیاست دیکھنا پڑی،سابق چیئرمین پی ٹی آئی مخالفین کی بہنوں،بیٹیوں کو گرفتارکرارہےتھے،دلی افسوس ہے کہ ان کی اپنی اہلیہ کو جیل جانا پڑ رہا ہے،آج سابق چیئرمین پی ٹی آئی کوبھی مکافات عمل کا سامنا ہے،میاں صاحب،سابق چیئرمین پی ٹی آئی کواحساس ہونا چاہیےجو کیاوہ دنیا میں دیکھنا پڑےگا،انتقام کی سیاست پریقین نہیں رکھتے،انتقامی سیاست سے ملکی معیشت تباہ ہوتی ہے،بہن بیٹیوں کو جیلوں میں گھسیٹنا مذہبی روایات کے خلاف ہے،ووٹ کی عزت کانعرہ لگا نے والے ووٹ کو عزت نہیں دیتے،حکومت میں آتے ہی سیاسی قیدیوں کو رہا کروں گا،وزیراعظم بن کر اشرافیہ کو تکلیف اور عوام کو ریلیف دلواؤں گا،

    کوئٹہ میں پیپلز پارٹی کے دفتر پر دستی بم حملہ،بلاول کی مذمت،الیکشن کمیشن کا نوٹس
    دوسری جانب کوئٹہ میں پیپلز پارٹی کے دفتر پر دستی بم سے حملہ کر دیا گیا،پیپلز پارٹی کے سریاب روڈ پر واقع دفتر پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا جس کے سبب 3 افراد زخمی ہو گئے,دستی بم حملے کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا، پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے تفتیش شروع کر دی

    بلاول بھٹو زرداری نے کوئٹہ میں پیپلزپارٹی کےانتخابی دفتر پر دستی بم حملے کی مذمت کی ہے،بلاول بھٹو زرداری نےبم حملے میں زخمی کارکنوں غلام اللہ ‘ نصراللہ ‘محمد جاوید ‘عبدالطیف اور عبید اللہ کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی، اور کہا کہ پیپلز پارٹی کے جیالے اس طرح کے بزدلانہ حملوں سے نہیں ڈرتے ،الیکشن کمیشن انتخابی دفاتر کی حفاظت کیلئے اقدامات کرے .

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے کوئٹہ میں سیاسی جماعت کے الیکشن دفتر پر بم حملے کا نوٹس لے لیا، ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ واقعے پر چیف سیکرٹری اور آئی جی بلوچستان سے رپورٹ طلب کرلی،ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف الیکشن قوانین کے تحت کاروائی کی جائے گی.

    ہم ووٹ مانگنے جاتے تو لوگ خواجہ سرا سمجھ کر 50 کا نوٹ دیتے، نایاب علی

    الیکشن کمیشن میں ڈیٹا سنٹر بارے بریفنگ،صحافیوں کا بائیکاٹ،احتجاج

    چیف الیکشن کمشنر کا سخت رویہ، الیکشن کمیشن کے افسران بیمار ہونے لگے

  • عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    عمران خان کو سزا پر مبشر لقمان غمگین کیوں؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پہلی بات یہ ہے کہ عمران خان کی سزا پر مجھے بہت دکھ ہے، میری طرح ہر وہ شخص جس نے کبھی عمران کو سپورٹ کیا اور پھر منہ موڑ لیا اسکو دکھ ہو گا اسلئے کہ ہمیں بہت امیدیں تھیں لیکن مایوسی ہوئی، ایک آدمی جھوٹ بول بول کر اور فساد برپا کر کے سمجھا کہ الو سیدھا کر لوں گا لیکن کب تک؟ عمران خان سے جج نے آسان سا سوال کیا کہ سائفر ہے کہاں؟ عمران خان نے وہی جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں، قریشی کے بیان ریکارڈ کے بیان سے پہلے جج نے کہا کہ میں دونوں کو دس دس سال قید کی سزا سناتا ہون، شاہ محمود نے احتجاج شروع کر دیا، کیا فائدہ ٹرائل تو صحیح نہیں کیا، بعد میں آپ نعرے مارتے رہیں، امریکہ میں کل بھی ایک لابنگ فرم ہائر کی گئی کہ زور ڈالیں انکو رہائی ملے ، غلط کاموں کی وجہ سے انکو یہ دن دیکھنا پڑ رہے ہیں، دکھ ہے اور افسوس ہے ، اور کیا کہہ سکتا ہے انسان،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ مینٹل کیس والی باتیں ہیں، بالکل ہی آئین و قانون کو پیر کی جوتی سمجھا ہوا، سوال چاول اور جواب گندم دیا جائے تو پھر بھگتیں گے، پی ٹی آئی اس کو چیلنج کرے ،پہلے اس کیس کو توصحیح لڑ‌لیتے، 11 وکیل کیوں بدلے انہوں نے،وکیل کہتے تھے میرے پاس ٹائم نہیں، آ نہیں سکتا، وقت ضائع کر رہے تھے، ماہر قانون اشتراوصاف کا کہنا تھا کہ سزا تو سائفر کیس میں کم ہوئی،جب معاملات میں تاخیر ٍڈیفنس کونسل کرے تو پھر سرکاری وکیل کو تعینات کیا جا سکتا ہے، ویڈیو لنک کے ذریعے بھی جرح کی جا سکتی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا، فیصلہ برقرار رہتا ہے یا نہیں یہ تو بعد میں پتہ چلے گا لیکن ابھی تو مشکلات کھڑی ہو گئی ہیں،اب ری ٹرائل نہیں ہو گا، اس ٹرائل کو دیکھا جائے گا کہ صحیح یا غلط،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دکھی والی بات بتا دوں جب آپ دیکھیں کہ کسی کو اتنا عروج اور پھر نیچے گرتا دیکھیں تو ہر آدمی کو خوف آتا ہے، اللہ ہم سب کو اتنی پستیوں سے گرنے سے بچا لے پھر بندہ دعا مانگتا ہے، تکلیف میں دکھی یا سکھی نہیں بلکہ اپنے آپ کو دیکھتے ہیں، اس بار الیکشن میں ٹرن آؤٹ کافی ہائی ہو گا،آج بیرسٹر گوہر نے بھی کارکنوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں پر اعتماد ہے، آٹھ فروری کو سب کا محاسبہ ہو گا، عمر ایوب نے بھی کہا کہ آٹھ فروری کو باہر نکلیں اور ووٹ دیں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا الیکشن کے بعد بیانیہ بدلے گا، جیسے بلاول نے کہا میرے والد کو جیل میں میان صاحب نے ڈالا، زبان کاٹی گئی، اگر میاں صاحب پاکستان آ کر صوبوں کا دورہ کرتے تو پتہ چلتا کہ انکے ساتھ لوگ موجود ہیں، بلاول بھٹو تو ابھی ان پر اٹیکس کر رہے ہیں، چھ تاریخ تک جب تک مہم ختم نہیں ہوتی، انکا ٹارگٹ ن لیگ ہے، انکی ٹوٹل کوشش ہے کہ پی ٹی آئی کے ووٹر کی تعداد پیپلز پارٹی کو ووٹ دے دے ،لیکن ہمیشہ ہم نے دیکھا ہے کہ سیاست میں سب کچھ ہوتا ہے، الیکشن ہونے کے بعد ہمیشہ کچھ اور ہوتا ہے.

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

    مبشر لقمان اپنا دشمن کیوں بن گیا؟ ڈوریاں ہلانے والے سن لیں

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    انضمام الحق مکر گئے،انڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ،ڈالروں کی بارش

    ڈنڈا تیار، کورٹ مارشل کی گونج،پی آئی اے بند، مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

  • دوران عدت نکاح کیس  کا ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد

    دوران عدت نکاح کیس کا ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد

    دوران عدت نکاح کیس،ٹرائل کورٹ کو کیس کا ٹرائل روکنے کی عمران خان کی استدعا مسترد کردی گئی
    اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ فرد جرم عائد ہوچکی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ ٹرائل کورٹ کی سماعت میں مداخلت نہیں کر سکتی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے دورانِ عدت نکاح کا کیس خارج کرنے کی عمران خان اور بشری بی بی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کے خلاف درخواست پر سماعت کی،عمران خان اور بشری بی بی نے کیس خارج کرنے کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں،درخواست گزار،بشریٰ بی بی کے سابق شوہر، خاور مانیکا اسلام آباد ہائیکورٹ کے کمرہِ عدالت میں موجود تھے،سماعت شروع ہوئی تو بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے درخواست گزار اور گواہوں کے بیانات پڑھے،اور کہا کہ یہ کیس درخواست گزاروں کی تذلیل کرنے کیلئے دائر کیا گیا، سیاسی مقاصد کیلئے سکینڈلائز کرنے کیلئے نوٹسز جاری کیے گئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اس معاملے پر پہلی کمپلینٹ کب دائر کی گئی؟سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کمپلینٹ نکاح کے پانچ سال اور 11 ماہ بعد نومبر 2023 میں دائر کی گئی،

    دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خاور مانیکا کا کیس ہے کہ اُنہوں نے بشریٰ بی بی کو 14 نومبر کو طلاق دی، یکم جنوری کو نکاح ہوا تو درمیان میں 48 دن بنتے ہیں، سپریم کورٹ کا 39 دن عدت سے متعلق فیصلہ موجود ہے،فرض کریں آپ نے ثابت کر دیا، پھر اِس میں جرم کیا ہو گا؟وکیل خاور مانیکا نے کہا کہ اگر نکاح بےقاعدہ قرار پائے گا تو پھر وہ خلاف قانون ہو گا، چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ کیسے ثابت ہو گا 39 دن ہیں یا 90 دن؟، خاور مانیکا کے وکیل نے کہا کہ یہ شوہر اور پراسیکیوشن ثابت کرینگے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کون سے شوہر، پہلے یا بعد والے؟ وکیل بولے جس کے ساتھ بشریٰ بی بی 28 سال رہیں وہی بتائیں گے

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ ،بانی تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے عدت کے دوران نکاح کے کیس کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ایڈیشنل سیشن جج ایسٹ کا گیارہ جنوری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، بشری بی بی اور ان کے قانون شوہر کیخلاف درخواست بدنیتی پر مبنی ہے،عدت کے دوران نکاح کے کیس کو خارج کرنے کا حکم دیا جائے،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے،بشریٰ بی بی نے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام اباد ہائیکورٹ میں درخواست جمع کرائی ، درخواست میں کہا گیا کہ عدالتوں نے عدت میں نکاح کو بے قاعدہ کہا، ختم نہیں کیا گیا۔ قرار دیا کہ عدت میں نکاح بے قاعدہ شادی ہے جو عدت کی مدت مکمل ہونے پر باقاعدہ ہو جائے گی عدت میں نکاح کو غیر اسلامی یا شریعت کیخلاف قرار نہیں دیا گیا، بشری بی بی کی درخواست میں اعلی عدالتوں کے فیصلوں کے حوالہ جات دیئے گئے.

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،

    جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،

  • بشریٰ بی بی تحائف بلیک میں فروخت کراتی تھیں،عطا تارڑ

    بشریٰ بی بی تحائف بلیک میں فروخت کراتی تھیں،عطا تارڑ

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم دن ہے, احتساب کے حوالے سے، مدینہ کی ریاست کا نام لے کر کرپشن کی گئی،

    عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے آنے والے تحائف بلیک مارکیٹ میں فروخت کیے،اونے پونے سرکاری کاغذات میں بیچ کر کہیں اور سے اربوں روپے وصول کیے جاتے،تحائف کی قیمت کم لگوائی گئی، ایک گھڑی بازار سے خریدی نہیں جا سکتی، وہ نایاب چیز جو مارکیٹ میں دستیاب نہیں، 90 کڑور سے ایک ارب تک اس کی قیمت لگتی،لوکل سطح پر 10 کڑور تک قیمت لگوائی, 50 فیصد توشہ خانہ میں جمع کروایا، بلیک مارکیٹ سے 80 کروڑکا منافع کھا لیا،آج 14، 14 سال کی سزا سنائی گئی ہے، گراف کا سیٹ جو 3 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس پر آج کا فیصلہ آیا، بنتا تو یہ تھا کہ تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع کروائے جاتے، لیکن آپ نے چوری کی انتہا کر دی، اسلام آباد میں گھڑیوں کی دکان سے جعلی رسید بنوائی، کئی سو تحائف وصول ہوئے اور بشری مانیکا لالچ کے ساتھ وصول کرتی تھیں،

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے وزیراعظم کے عہدے کو بے توقیر کیا، شہباز شریف نے راہداریوں میں تحفے لیبلز کے ساتھ سجا کر رکھ دیئے تا کہ لوگ دیکھ سکیں کہ فلاں ملک کے سربراہ نے کیا چیز دی ہے،جو تحائف دوست ممالک کیجانب سے ملیں وہ فروخت کرنے کیلئے نہیں ہوتے،خود کو مسٹر کلین کہنے والے کرپشن کرتے رہے، ملک میں ریاست مدینہ کے نام پر بدعنوانی کی گئی، بشریٰ بی بی تحائف بلیک میں فروخت کراتی تھیں، 15 سے 20 ارب روپے کے تحائف بیچے گئے، بشریٰ بی بی لالچ کے ساتھ تحفے کو دبوچ لیتی تھیں کہ اسے کوئی اور نہ دیکھ لے،بشری مانیکا گھر میں ملازم کو بول رہی تھی کہ کس نے تصویریں کھینچنی ہیں،اٹھہتر کروڑ روپے کا جرمانہ عمران خان اور اٹھہتر کروڑ روپے بشری مانیکا کو جرمانہ ہوا ہے

    چور کو چوری کی سزا تو ہونی ہے،میرا تحفہ میری مرضی نہیں، یہ ریاست کا تحفہ تھا، طلال چودھری
    ن لیگی رہنما طلال چودھری کا کہنا تھا کہ ریاست مدینہ کا نام لیا گیا اور پھر چوریاں کی گئیں، بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی، یہ میرا تحفہ نہیں ریاست کا تحفہ تھا اور ریاست کی مرضی تھی ،سزا سے بچنے کےلئے حیلے بہانے کئے گئے، آخر میں چور کو چوری کی سزا تو ہوتی ہے،یہ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، وکلا اس کیس میں بہانےکر رہے ہیں الیکشن میں نہ ان کے پاس نشان، نہ امیدوار، ان سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے، یہ میرٹ پر فیصلہ ہوا ہے.

    چور چور کا شور کر کے خود چوری کرتے رہے، آج قوم نے دیکھ لیا چور کون ہے،مریم اونگزیب
    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنماء مریم اورنگزیب نے ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے آ رہے ہیں آپ نے دیکھا ہوگا، پچھلے 5 سال جب ہم اپوزیشن میں تھے, بتا رہے،انہوں نے الیکشن چوری کیے, پھر کرپشن کی، لیکن اس وقت طاقت عمران خان کے پاس تھی، نواز شریف, مریم نواز اور دیگر کو جیلوں میں بند کر دیا گیا،چور چور چور کا اتنا شور مچایا کہ کچھ اور دکھائی نہ دے،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں دیکھا جا سکتا، نواز شریف کے دور میں کم اور عمران خان کے دور میں ریکارڈ کرپشن ہوئی،آج ثابت ہو گیا چور کون ہے،نواز شریف کا دور پاکستان کا تاریخی دور تھا،بانی پی ٹی آئی نے سیاست کو داغدار کیا ،یہ خود انٹرنیشنل سند یافتہ چور نکلے،عوام کو آج پتہ چل گیا ہوگا کہ اصل چور کون تھے،عمران خان نے پاک چین کو ریڈور بند کرکے گوگی پنکی کو ریڈور پر کام جاری رکھا اور ایک منظم کرپشن گینگ بنا کر قومی خزانے کو لوٹا، انہوں نے پنجاب میں ایک غلام بٹھایا ہوا تھا،سابق چیئرمین پی ٹی آئی سمجھتے تھےطاقت سے لوگوں کا منہ بند کرلیں گے،جنہوں نے چوری نہیں کی ہوتی وہ اپنی تین نسلوں کا جواب دیتےہیں،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ سب کے سامنے عیاں ہے

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں گزشتہ روز سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

  • اڈیالہ جیل میں دہشتگردی کا خطرہ،دھمکی آمیز کال، سیکورٹی سخت کر دی گئی

    اڈیالہ جیل میں دہشتگردی کا خطرہ،دھمکی آمیز کال، سیکورٹی سخت کر دی گئی

    اڈیالہ جیل انتظامیہ کو دھمکی آمیز کال موصول ہونے کے بعد جیل کے اطراف میں سیکورٹی سخت کر دی گئی،نامعلوم شخص نے گزشتہ روز بذریعہ فون کال جیل میں دہشت گردی کے حوالے سے دھمکی دی تھی

    اڈیالہ جیل پر مبینہ طور پر ممکنہ دہشت گردی کاخدشہ،جیل انتظامیہ کو نامعلوم نمبر سے دھمکی آمیزکال موصول ہوئی،نامعلوم کالر کی جانب سےاڈیالہ جیل پر آئندہ تین روز میں حملےکی دھمکی دی گئی،جیل انتظامیہ کی جانب سےپنڈی پولیس کوآگاہ کر دیا گیا دھمکی امیز کال اڈیالہ جیل کےآفیشل نمبر پر کی گئی،جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جیل کے راولپنڈی اطراف پولیس کی مزید نفری تعینات کی جائےجیل کے مرکزی دروازوں کے باہر گشت کو بھی بڑھایا جائے، جیل کے اندر کالعدم دہشت گرد تنظیم کے قیدی بھی موجود ہیں، اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری اور پرویز الٰہی بھی قید ہیں، آج بشریٰ بی بی نے بھی اڈیالہ جیل جا کر عدالتی فیصلے کے بعد گرفتاری دے دی ہے

    راولپنڈی پولیس کی جانب سے اڈیالہ جیل کی بیرونی سیکورٹی مزید بڑھا دی گئی،جیل کے مرکزی، عقب اور اطراف میں مزید سیکورٹی اہلکار تعینات کیئے گئے، راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل کے اطراف گشت کو بھی مزید موثر بنایا گیا،جیل کی بیرونی سیکورٹی کو فول پروف بنانے کے لئے تمام اقدامات کو یقینی بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں گزشتہ روز سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • نواز شریف کو سزا سنانیوالے جج محمد بشیر نے ہی عمران خان کو سز ا سنائی

    نواز شریف کو سزا سنانیوالے جج محمد بشیر نے ہی عمران خان کو سز ا سنائی

    نواز شریف کو سزاسنانے والے جج محمد بشیر نے ہی عمران خان کو بھی سزا سنائی

    توشہ خانہ کیس میں احتساب عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو چودہ چودہ برس قید بامشقت کی سزا سنائی ہے، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فیصلہ سنایا، جج محمد بشیر نے ہی سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا سنائی تھی، جج محمد بشیر اپنی مدت ملازمت میں دو سابق وزرااعظم کو سزا سنانے کا ریکارڈ بنا چکے،انہوں نے چھ سابق وزراء اعظم کے مقدمات کی سماعت کی،

    جج احتساب عدالت محمد بشیر خود 14 مارچ کو عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے،انہوں نے چند دن قبل رخصت کی درخواست دی تھی تا ہم و ہ واپس لے لی،جج محمد بشیر تین بار توسیع لے کر 12 سال اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج رہے ,

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا سنائی ہے اور اپنے کیرئیر میں دو سابق وزرائے اعظم کو سزائیں سنائیں،نواز شریف کو 10 سال قید بامشقت کا حکم دیا تھا اور اب عمران خان کو 14 سال کی سزا کا حکم دے دیا،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں گزشتہ روز سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • توشہ خانہ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال قید بامشقت کی سزا

    توشہ خانہ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال قید بامشقت کی سزا

    ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.

    احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کو عدالت پیش کیا گیا ،بشری بی بی عدالت پیش نہ ہوئیں، عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی حاضری لگائی ، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کا342 کا بیان کہاں ہے،عمران خان نے کہا کہ میرا بیان میرے کمرے میں ہے، مجھے تو صرف حاضری کیلئے بلایاگیاتھا،آپ فوری طور اپنا بیان جمع کرادیں اور عدالتی وقت خراب نہ کریں، عمران خان نے کہا کہ آپ کو کیا جلدی ہے، کل بھی جلدی میں سزا سنادی گئی، وکلاء ابھی آئے نہیں، وکلاء آئیں گے تو ان کو دکھا کر جمع کراؤں گا، میں صرف حاضری کیلئے آیا ہوں، عمران خان کمرہ عدالت سے واپس چلے گئے

    جج نے کہا کہ جائیں فوری اپنا بیان لائیں،عمران خان نے کہا کہ لیکن بیان میں کچھ چیزوں کو ردوبدل کرنا ہے،جج نے کہا کہ آپ بیان لے آئیں کمپیوٹر پر ٹائپ کریں، بعد میں ردوبدل بھی کرلیں گے،جج نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جانے کی ہدایت کی،عمران خان گئے تو واپس نہیں آئے، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے عدالت میں کہا وہ نہیں آرہے،جج نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سے سوال کیا کیوں نہیں آرہے، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نےجج کو جواب دیا کہ وہ کہہ رہے ہیں میرے وکلاء جب تک نہیں آتے میں عدالت نہیں آوں گا،

    جج نے عدالتی اہلکار کو ہدایت کہ وہ کیس ٹائیٹل کی آواز لگائے،عدالتی اہلکار برآمدہ میں گیا اور آواز لگائی سرکاری بنام عمران خان، بشری بی بی،پکار کے باوجود بانی پی ٹی آئی عدالت نہیں آئے،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    توشہ خانہ، سائفر کیس میں سزائیں، تحریری فیصلوں کی کاپی فراہمی کے لئے درخواست
    توشہ خانہ اور سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف سزاؤں کا معاملہ ،عمران خان کے وکلاء نے تحریری فیصلوں کی کاپیوں کی فراہمی کے لیے درخواست جمع کروا دی گئی، درخواست بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری ایڈوکیٹ نے جمع کروائی ،درخواست سائفر کورٹ اور احتساب عدالت کی نقل برانچ میں جمع کروائی گئی ، درخواست میں کہا گیا کہ حکم سزا، 342 کے بیانات، ارڈر کاپی، شہادتوں کی کاپیاں فراہم کی جائیں،درخواستیں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے جمع کروائی گئیں ،

    توشہ خانہ کیس، سپریم کورٹ میں عمران خان کی اپیل پر اعتراض عائد

     کاغذات میں ظاہر نہ کرنیوالے سیاستدانوں کیخلاف درخواست پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    سابق چیئرمین اور وزیراعظم کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کے نکات سامنے آگئے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس دائر

    توشہ خانہ کیس کا تنازع اس وقت سامنے آیا تھا جب ایک صحافی کی جانب سے معلومات کے حصول کے قانون (رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ) کے تحت پوچھے گئے سوال پر عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم یہ بتانے سے انکار کر دیا تھا کہ انہیں عہدے پر رہتے ہوئے کتنے تحائف ملے تھے۔ حکومت کی جانب سے یہ کہتے ہوئے جواب دینے سے انکار کیا گیا تھا کہ جواب دینے کی صورت میں دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے۔

    عمران خان کی سائیکل کہاں ہے؟ میں نے ساڑھی توشہ خانہ سے نہیں لی،حاجرہ خان

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    جن لوگوں کو میری کتاب سے تکلیف ہے وہ مزید برداشت کیلیے تیار رہیں ۔ریحام خان

    اور بشریٰ بی بی نے اڈیالہ جیل پہنچ کر گرفتاری دے دی
    توشہ خانہ کیس کا فیصلہ،بشری بی بی اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر سے ہی واپس روانہ ہو گئیں،بشری بی بی نے اسلام آباد ہائیکورٹ غیر شرعی نکاح کیس میں پیش ہونا تھا،بشری بی بی کو فیصلے سے متعلق آگاہ کیا گیا،بشری بی بی اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر سے ہی واپس روانہ ہو گئیں، بعد ازاں بشری بی بی گرفتاری دینے اڈیالہ جیل پہنچ گئیں ،راولپنڈی پولیس کی اضافی نفری اڈیالہ جیل کے باہر تعینات کردی گئی،پولیس کے تازہ دم دستے جیل کے باہر تعینات ہیں، بشریٰ بی بی نے اڈیالہ جیل پہنچ کر گرفتاری دے دی،بشریٰ بی بی کی گاڑی خالی زمان پارک روانہ کردی گئی،نیب ٹیم نے اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی کو گرفتار کیا،احتساب عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد نیب کی جانب سے بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے لئیے ٹیم تشکیل دی گئی تھی،بشری بی بی کے اڈیالہ جیل پہنچتے ہی نیب کی ٹیم نے گرفتاری ڈالی،

    گرفتاری سے قبل بشریٰ بی بی نے ٹیلی فون پر کس سے کی مشاورت
    اسلام آباد ہائی کورٹ سے واپسی پر بشری بی بی نے لیگل ٹیم سے مشاورت کی،لیگل ٹیم سے مشاورت کے بعد بشری بی بی اڈیالہ جیل کے لیے روانہ ہوئیں،بشری بی بی نے بیرسٹر گوہر علی سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا،بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ میں اپنے خاوند کے ساتھ کھڑی ہر جبر کا مقابلہ کروں گی اور میں خود گرفتاری دینے اڈیالہ جیل پہنچ گئی ہوں

    بشری بی بی کی توشہ خانہ ریفرنس میں گرفتاری کا معاملہ ،بشری بی بی کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل کر لیا گیا، بشری بی بی کو الگ سیل میں منتقل کر دیا گیا، بشری بی بی کے سامان کی مکمل تلاشی اور فگر پرنٹس کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا

    سابق وزیراعظم عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2018 سے 2022 کے دوران اپنی حکومت کے دور میں بیرون ممالک سے ملنے والے قیمتی تحائف کم قیمت پر حاصل کیے اور پھر ان تحائف کو 6 لاکھ 35 ہزار ڈالر میں فروخت کیا،عمران خان کو ملنے والے تحائف میں سعودی عرب سے ملنے والی قیمتی گھڑی بھی شامل ہے جس پر خانہ کعبہ کا ماڈل بنا ہوا ہے اور اس کی عالمی مارکیٹ میں قیمت اندازے کے مطابق 60 سے 65 کروڑ روپے ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 21 اکتوبر 2022 کو کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے آئین کے آرٹیکل 63 (1) کے تحت توشہ خانہ کے تحائف اور اثاثوں کے حوالے سے غلط بیانی کی،اس کے علاوہ الیکشن واچ ڈاگ کی جانب سے سیشن عدالت میں ایک پٹیشن بھی دائر کی گئی جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف کرمنل پروسیڈنگ شروع کرنے کی استدعا کی گئی،10 مئی 2023 کو ٹرائل کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں غلط معلومات فراہم کرنے پر عمران خان پر فرد جرم عائد کی تاہم 4 جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کو سننے اور 7 روز میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی،4 اگست کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کا توشہ خانہ فوجداری کیس سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے جج کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کو سن کو دوبارہ کیس کا فیصلہ کیا جائے اور پھر 5 اگست کو سیشن کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین سال کی قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی،

    توشہ خانہ کیس میں نیب رپورٹ میں کیا سامنے آیا تھا؟
    عمران خان کو سعودی ولی عہد سے ملنے والے تحائف سے متعلق نیب کی رپورٹ سامنے آ ئی ہے،نیب کی رپورٹ 31 دسمبر 2023 کو منظرعام پر آئی تھی جس میں تحائف کی درست قیمت جانچنے کا نظام موجود نہ ہونے کا انکشاف کیا گیا تھا، نیب رپورٹ کے مطابق 3 ارب 16 کروڑ روپے کے تحفوں کی قیمت پاکستان میں ایک کروڑ 80 لاکھ روپے لگائی گئی، نصف رقم 90 لاکھ ادا کرکے تحائف بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے رکھ لیے،پاکستان میں کوئی ادارہ سعودی شہزادے سے ملے گراف جیولری سیٹ کی قیمت نہ جان سکا، دبئی سے تخمینہ لگوانے پر معلوم ہوا خزانے کو 1 ارب 57 کروڑ، 37 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا،ایف بی آر، کولیکٹوریٹ آف کسٹمز کی کمیٹی نے قیمت لگانے سے معذوری ظاہر کی، جیولری کی قیمت کیلئے انڈسڑیز اینڈ پروڈکشن ڈویژن سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن بتایا گیا جیمز اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی ہی غیر فعال ہے جبکہ جیمز اینڈ جیولری ٹریڈرز ایسوسی ایشن بھی قیمت کا اندازہ نہ لگا سکی،پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے بھی کہا قیمت نہیں بتا سکتے جبکہ برطانیہ، متحدہ عرب امارات، اٹلی اور سوئٹزر لینڈ ایم ایل اے بھیجے لیکن جواب نہ ملا، دبئی میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل کے ذریعے نجی کمپنی سے تعلق رکھنے والے شخص کی خدمات لی گئیں، نجی کمپنی کے فرد نے بتایا تحائف کی اصل قیمت 3 ارب 16 کروڑ 55 لاکھ روپے بنتی ہے،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی ایک ارب 57 کروڑ 37 لاکھ روپے ادا کر کے ہی تحفہ رکھ سکتے تھے، پاکستان میں سرکاری افسران کیخلاف رشوت یا مالی فوائد لےکر کم قیمت بتانے کے ثبوت نہیں ملے، مالی فوائد کے ثبوت نہ ہونے پر سرکاری افسران کو ملزم نہیں بنایا گیا،

    توشہ خانہ کی گھڑی خریدنے والے عمر فاروق ظہور نے کیا کہا تھا؟
    واضح رہے کہ عمر فاروق ظہور نے انکشاف کیا تھا کہ میں نے دبئی میں ایک لین دین کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی توشہ خانہ کی قیمتی گراف گھڑی، (وہ مشہور گھڑی جو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے عمران خان کو تحفے میں دی تھی) فرح خان سے تقریباً 2 ملین ڈالرز میں خریدی تھی۔ میں نے یہ قیمتی گھڑی فخر کے ساتھ خریدی تھی کیوں کہ یہ دنیا کا واحد ٹکڑا ہے جس پر ہمارے مقدس خانہ کعبہ کی تصویر ہے، بطور پاکستانی یہ گھڑی میرے لیے کسی کوہ نور کے ہیرے کی طرح قیمتی اور منفرد تھی اور جب مجھے یہ پتہ چلا یہ گھڑی فروخت کیلئے دستیاب ہے تو میں کسی صورت اس موقع کو گنوانا نہیں چاہتا تھا کیوں کہ جس طرح بذریعہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز دبئی کی مارکیٹس میں اس گھڑی کی مارکیٹنگ کی گئی تھی اس کے لیے مجھے خدشہ تھا کہ یہ گھڑی غلط ہاتھوں میں بھی جا سکتی ہے، میں نے یہ گھڑی اس کے وقار اور انفرادیت کی وجہ سے خریدی، یہ ایک محدود ایڈیشن ہے اور یہ گھڑی دنیا کا واحد ٹکڑا ہے جس میں ہمارے مقدس خانہ کعبہ کی تصویر موجود ہے، میں اپنے پاس اس گھڑی کی موجودگی کے باعث خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین آدمی سمجھتا ہوں کیوں کہ اس میں ایک روحانی عنصر ہے-انہوں نے کہا کہ میں نے گھڑی کو پوری قوم کی قیمتی ملکیت بنانے کا تصور کیا لیکن ایسا نہیں ہو سکا،جب میں نے دبئی مال میں گراف شاپ پر گھڑی دیکھی اور اس کی صداقت کا جائزہ لیا تو میں سوچ میں پڑ گیا کہ ایک پاکستانی وزیر اعظم یا پھر کوئی حکومت ایسا قیمتی تحفہ کیوں فروخت کرتا چاہتی ہے؟ ایسی گھڑی جس کی قیمت کے ساتھ انتہائی مذہبی اور جذباتی قدر بھی جڑی ہو جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان ہمیشہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو وہ بالاخر اتنا قیمتی ٹکڑا کیسے چھوڑ سکتے ہیں ایک عام پاکستانی اور سعودی عرب کے لیے بطور اظہار تشکر اگر مجھے موقع ملا تو میں یہ گھڑی اس کے حقیقی مالک کو واپس کرنا چاہوں گا تاکہ یہ تنازع ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے، میں ساری عمر اس مقدس گھڑی کا مالک ہونے پر فخر محسوس کروں گا لیکن اگر اسے واپس کرنے سے یہ تنازع ختم ہو جاتا ہے اورپاک سعودیہ تعلقات میں مدد ملتی ہے تو مجھے اس میں کوئی حرج نہیں۔

  • نیب کیسز میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواستیں مسترد، تفصیلی فیصلہ جاری

    نیب کیسز میں جیل ٹرائل کیخلاف درخواستیں مسترد، تفصیلی فیصلہ جاری

    توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل کیخلاف بانی تحریک انصاف کی درخواستیں مسترد کئے جانے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے 21 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا،فیصلے میں عدالت نے کہا کہ عدالت نے سماعت کے مقام کے تعین سے متعلق ایگزیکٹو کے اختیارات کے حوالے سے 1931کے بمبئی ہائیکورٹ کے فیصلے پر انحصار درست قرار دیا،عدالت نے فیصلے میں جیل سماعت کے دوران میڈیا اور پبلک کی موجودگی کیلئے بھی ٹرائل کورٹ کو احکامات دئیے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کے جج کی تقرری پر درخواست گزار کے اعتراضات مسترد کردئیے

    فیصلے میں عدالت نے کہا کہ نیب قانون کے مطابق سیشن عدالت کے مقام کا تعین کرنا ایگزیکٹو کا اختیار ہے ، ایگزیکٹو آرڈر موجود نہ ہو تو متعلقہ عدالت کسی دوسرے مقام پر سماعت کیلئے آرڈر جاری کرسکتی ہے،ایگزیکٹو آرڈر کی موجودگی میں متعلقہ عدالت نے دئیے گئے مقام پر سماعت کرنا ہوتی ہے،سائفر کیس میں دو رکنی بنچ کے سامنے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت زیر سماعت معاملے میں اپیل تھی،آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں عدالت کے مقام کے تعین کے حوالے واضح قانون موجود نہیں واضح قانون موجود نہ ہونے کی وجہ سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے مقدمے میں سی آر پی سی کی دفعہ 352کا اطلاق ہوتا ہے، ہائیکورٹ رولز اینڈ آرڈر اور سی آر پی سی کی سیکشن 352کا اطلاق تب ہوگا جب سیشن عدالت مقام سے متعلق آرڈر پاس کرے،بظاہر جیل ٹرائل درخواست گزار کی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر ہے،بدنیتی پر مبنی نہیں،درخواست گزار کے وکیل کا یہ اعتراض درست ہے کہ ریفرنس دائر کرنے سے پہلے ہی جیل سماعت کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، نیب پراسکیوٹر کی جانب سے بتایا گیا کہ جیل سماعت کے نوٹیفکیشن کے وقت ضمانت اور ریمانڈ کی کارروائی چل رہی تھی،ایگزیکٹو آرڈر یا ٹرائل کورٹ کے کسی حکم کی بنیاد پر کارروائی کو کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا،سی آر پی سی کی سیکشن 537 میں واضح ہے کہ کونسی کارروائی کالعدم قرار دی جاسکتی ہے اور کونسی نہیں ،سی آر پی سی میں واضح ہے کہ ایسی غلطی جس سے انصاف کی فراہمی میں ناکامی ہو تو اس کا ازالہ ضروری ہے،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    قبل ازیں بانی تحریک انصاف کیخلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس میں جیل ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،بانی تحریک انصاف عمران خان نے جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی ، درخواست میں کہا گیا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں چودہ نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،توشہ خانہ کیس میں 28نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشن غیر قانونی ،بدنیتی پر مبنی ہیں ، جیل ٹرائل کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دیا جائے ،اس درخواست کے زیر التوا رہنے تک ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو روکا جائے، دونوں درخواستوں میں چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے.

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

    واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان پر مقدمات کی سماعت جیل میں ہی ہو رہی، عمران خان کو کسی عدالت پیش نہیں کیا جا رہا ہے، سائفر کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو ئی، گزشتہ روز سائفر کیس میں عمران خان کو عدالت نے دس برس قید کی سزا سنائی. توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت بھی جیل میں ہوئی، دوران عدت نکاح کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، توشہ خانہ و القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت بھی جیل میں ہو رہی ہے، عمران خان نے سائفر کیس کی سماعت کو چیلنج کیا تھا تا ہم عدالت نے اوپن ٹرائل کا حکم دیا ،سماعت جیل میں ہی ہو گی، اسی طرح عمران خان نے باقی مقدمات کے جیل ٹرائل کو بھی چیلنج کیا لیکن عمران خان کو ریلیف نہ مل سکا.