Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • سوال پوچھنے پرچئیرمین پی ٹی آئی کے گارڈ نے صحافی پر حملہ کر دیا

    سوال پوچھنے پرچئیرمین پی ٹی آئی کے گارڈ نے صحافی پر حملہ کر دیا

    پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کے گارڈز نے سوال پوچھنے پر صحافی پر حملہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں عدالتی پیشی کے بعد واپس جاتے ہوئے نجی ٹی وی سے وابستہ صحافی حیدر شیرازی نے ان سے سوال پوچھا تو عمران خان کے سکیورٹی گارڈز نے ان پر حملہ کردیا حیدر شیرازی نے ٹوئٹر پر واقعے کی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے چئیرمین پی ٹی آئی سے سوال کیا تھا کہ ایک سابق وزیراعظم کو قتل کے مقدمے میں پھانسی لگا دی تھی کیا آپ کو ریلیف ملے گی؟


    صحافی حیدر شیرازی کے مطابق سوال ختم ہی ہوا تھا کہ گارڈز نے انہیں دھکے دیتے ہوئے پیچھے ہٹا دیاحیدر شیرازی کے مطابق انہوں نے احتجاج کیا تو عمران خان بنا کوئی جواب دیئے انہیں نظر انداز کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔

    اسلام آباد کچہری میں پیشی کے دوران نامعلوم شخص نے عمران خان پر پانی کی …

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر حیدر شیرازی کے سوالات پر عمران خان غصے کا اظہار کرچکے ہیں۔

    قبل ازیں عمران خان توشہ خانہ فوجداری کیس میں حاضری کیلئے اسلام آباد کے 11 مرکز میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی نئی عمارت میں پیش ہوئے جو حال ہی میں ایف 8 سے یہاں منتقل کی گئی تھی عمران خان سیکیورٹی اہلکاروں کے حصار میں بلٹ پروف شیٹس سے گھرے کچہری میں داخل ہو رہے تھے کہ ایک پانی کی بوتل اوپر سے ان کے اوپر گری، تاہم وہ شیٹس کی وجہ سے محفوظ رہے،توشہ خانہ کیس کی سماعت جج ہمایوں دلاور نے کی دورن سماعت جج ہمایوں دلاورنے چیئرمین پی ٹی آئی کو حاضری لگوا کر جانے کی اجازت دے دی۔

    بلاول بھٹو کی سفارش پر چین اور روس میں پاکستان کے نئے سفیروں کی تعیناتی …

  • خاتون جج دھمکی کیس:عمران خان کی عدالت میں حاضری کیلئےجوڈیشل کمپلیکس آمد،اوپر جانے سے انکار

    خاتون جج دھمکی کیس:عمران خان کی عدالت میں حاضری کیلئےجوڈیشل کمپلیکس آمد،اوپر جانے سے انکار

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت-

    باغی ٹی وی :ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت ہوئی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے کی دوران سماعت عمران خان کی جانب سے وکیل انتظار پنجوتھا عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کمپلیکس آئے ہوئے ہیں سیکیورٹی کے باعث اوپر نہیں آ سکتے۔

    جج ملک امان نے کہا کہ اگر پرانی کچہری میں ہوتے تو آپ کی بات مان لیتے وکیل انتظار پنجوتھا نے عدالت سے استدعا کی عدالت ان کی حاضری لگا لےجس پر جج ملک امان نے استدعا مسترد کرتے ہوئے جواب دیا کہ ایسا نہیں کر سکتے، ملزم کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا، ہم بیٹھے ہیں آپ ملزم کو پیش کر دیں۔

    یاسمین راشد،عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کے جوڈیشل ریمانڈ میں بھی 14 روز …

    قبل ازیں گزشتہ سماعت میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کےکیس میں عدالت میں کھڑے ہوکر معافی مانگ لی تھی ،عمران خان جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر روسٹرم پر آکر ان کا کہنا تھا کہ میں نے 27 سال قبل انصاف کی بالادستی کے لیے سیاسی جماعت بنائی، میں نے آج تک ایک گملا بھی نہیں توڑا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ میں خاتون جج کی عدالت گیا اور کہا میرے بیان سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو اس پر معافی مانگتا ہوں، میں نے ردعمل میں جوش خطابت میں قانونی کارروائی کرنےکا کہا تھا، میں نے جو کہا اس پر جج صاحبہ سے معافی بھی مانگنے گیا تھا، اگر میں نے لائن کراس کی ہے تو میں معافی مانگتا ہوں۔

    برصغیرکی کلاسیکل گلوکارہ،اداکارہ ،صحافی، شاعرہ اوروکیل ڈاکٹرسشیلا رانی پٹیل

    خیال رہےکہ 20 اگست 2022 کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے شہباز گل پر مبینہ تشدد کے خلاف آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد پرکیس کرنےکا اعلان کیا تھا اور دوران خطاب عمران خان نے شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی خاتون مجسٹریٹ زیبا چوہدری کو نام لےکر دھمکی بھی دی تھی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ آئی جی، ڈی آئی جی اسلام آباد ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے، تم پر کیس کریں گے اور مجسٹریٹ زیبا چوہدری آپ کو بھی ہم نے نہیں چھوڑنا، کیس کرنا ہے تم پر بھی، مجسٹریٹ کو پتہ تھا کہ شہباز پر تشدد ہوا پھر بھی ریمانڈ دے دیا اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے قانونی کارروائی کا اعلان کیا تھا جب کہ پیمرا نے عمران خان کے براہ راست خطاب کر پابندی لگا دی تھی۔ عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔

    میں کیا کروں کہ ضبط تمنا کے باوجود، بے اختیار لب پہ ترا نام …

    گزشتہ سال 30 ستمبر کو چیئرمین تحریک انصاف جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری سے معذرت کرنے کے لیے ان کی عدالت پہنچے تھے تاہم پولیس نے خاتون جج کا کمرہ بند کر دیا اور انہیں بتایا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری رخصت پر ہیں عمران خان نے ریڈر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ نے زیبا چوہدری صاحبہ کو بتانا ہے کہ عمران خان آئے تھے۔

    دوسری جانب عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کی بھی سماعت آج ہو رہی ہے،عمران خان کی پیشی کے باعث سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    پاکستان شاہینز نے ثابت کردیا کہ یہ دنیا کی کسی بھی ٹیم سے مقابلہ کر …

  • وکیل قتل کیس:9 اگست تک عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

    وکیل قتل کیس:9 اگست تک عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

    وکیل عبدالرزاق قتل کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی نامزدگی کے معاملے میں تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی گئی جبکہ وکیل عبدالرزاق شر قتل کیس میں سپریم کورٹ نے 9 اگست تک عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: کوئٹہ وکیل قتل کیس میں عمران خان کا نام مقدمے سے نکالنے کی درخواست پر سماعت آج ہو رہی ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ کا حصہ ہیں۔

    چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان عدالت کی طلبی پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے،سپریم کورٹ نے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا تھا، عدالت کا کہنا تھا کہ ریلیف لینے کیلئے درخواستگزار کو عدالت کے سامنے سرنڈرکرنا ہوگادوران سماعت سپریم کورٹ نے عمران خان کو ریلیف دیتے ہوئے انہیں 9 اگست تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا-

    اسکردومیں لینڈ سلائیڈنگ: پہاڑی تودے میں دب کر تین افراد جاں بحق اور دو زخمی

    پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان نے قتل کیس سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی،رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ایف آئی آر کے مطابق مقتول نے چئیرمین پی ٹی آئی کے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ کررکھا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف آرٹیکل 6 کی درخواست دینے پر مقتول کو دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔

    رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے دوران 8 جون کو وزارت داخلہ کی جانب سے 7 رکنی جے آئی ٹی بنائی گئی، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کی سربراہی میں جے آئی ٹی کے اب تک 8 اجلاس ہو چکے ہیں، مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی سمیت 4 ملزمان کو شامل تفتیش کرنےکا فیصلہ کیا گیا،جے آئی ٹی کے پہلے اجلاس میں ملزمان کو بلانےکا فیصلہ کیا گیا، 19 جون کو چیئرمین پی ٹی آئی کو طلبی کےنوٹسزبھیجے گئے۔

    ملک بھر میں بارشوں کے باعث دریاؤں اور نالوں میں طغیانی،سیکڑوں مکانات تباہ

    رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ مقتول کی اہلیہ اور دو بھائیوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، اب تک چیئرمین پی ٹی آئی شامل تفتیش نہیں ہوئے، متعدد بار نوٹس بھیجنے کے باوجود چیئرمین پی ٹی آئی اب تک شامل تفتیش نہیں ہوئے،کیس میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی، سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل

    وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی، سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل

    کوئٹہ میں قتل ہوئے وکیل عبدالرزاق شر کے مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پرسماعت کرنے کے لیے تشکیل کردہ پہلا بینچ بحال کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : کوئٹہ میں قتل ہوئے وکیل عبدالرزاق شر کے مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی کے خلاف کیس میں سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل کر دیا گیا چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پرسماعت کرنے کے لیے تشکیل کردہ پہلا بینچ بحال کر دیا گیا۔

    سپریم کورٹ سے جاری نئی کاز لسٹ کے مطابق جسٹس مسرت ہلالی 3 رکنی بینچ کا حصہ ہوں گی ، جمعہ کو جاری کاز لسٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کرنے والا بینچ تبدیل کرتے ہوئے جسٹس مسرت ہلالی کی جگہ جسٹس محمد علی مظہر کو شامل کیا گیا تھا جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کل کیس کی سماعت کرے گا ، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی 3 رکنی بینچ کا حصہ ہیں-

    وزیراعظم کا صحت کےحوالے سے آگاہی مہم شروع کرنے کا اعلان

    سپریم کورٹ نے وکیل قتل کیس میں ضمانت کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی کو ذاتی حیثیت میں بلایا ہے۔

    واضح رہے کہ چند ہفتے پہلے کوئٹہ میں ائر پورٹ روڈ پر عالمو چوک کے قریب فائرنگ سے سپریم کورٹ کے وکیل عبدالرزاق شر جاں بحق ہوگئے تھےوہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سنگین غداری کیس کے درخواست گزار تھےجس کے بعد 7 جون 2023 کو سنگین غداری کیس کے پٹیشنر اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل عبدالرزاق شر کے قتل کا مقدمہ کوئٹہ میں پی ٹی آئی چئیرمین کیخلاف درج کیا گیا تھا۔

    نگران وزیراعظم کے لئے اسحاق ڈار کے نام پر غور

    مقدمہ مقتول وکیل کے بیٹے کی مدعیت میں شہید جمیل کاکڑ تھانہ میں درج کیا گیا تھا پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف جمیل شہید پولیس تھانے میں زیر تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 109، 34 اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 6 اور 7 کے تحت درج کیا گیا تھا۔

    اس سے قبل 15 جون کو وکیل ایڈووکیٹ عبدالرزاق شر قتل کیس میں کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت (ون) نے چیئرمین تحریک انصاف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، جبکہ تحریک انصاف کے وکلاء نے وان ارنٹ گرفتاری بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا تھا 21 جون کو لاہور ہائیکورٹ نے کوئٹہ میں وکیل کے قتل کے مقدمے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی 3 جولائی تک حفاظتی ضمانت منظور کی تھی۔

    اگر مندر تشدد کا سبب بنیں تو انہیں بند کر دینا بہتر ہے،بھارتی عدالت

  • چئیرمین پی ٹی آئی توشہ خانہ کیس میں زیادہ دیرراہ فراراختیار نہیں کر سکیں گے

    چئیرمین پی ٹی آئی توشہ خانہ کیس میں زیادہ دیرراہ فراراختیار نہیں کر سکیں گے

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین نے توشہ خانے کے تحائف کو بلیک مارکیٹ میں بیچا۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خانہ کعبہ والی گھڑی تک بلیک مارکیٹ میں بیچ دی، توشہ خانہ کیس چوری کا کیس ہے، چوری ثابت ہے،اعظم خان محب الوطن شخص ہیں، سائفرکےکیس میں بھی چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا، جواب دینا پڑے گا،ایف آئی اے نے 13 دسمبر 2021 کو شہباز شریف اور حمزہ شہباز اور دیگر ملزمان کے خلاف 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا چالان بینکنگ عدالت میں جمع کروایا تھا اور دنوں کو مرکزی ملزم نامزد کردیا تھا-

    انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ کے تحائف کو ڈکلیئر نہ کرنا جرم ہے، چیئرمین پی ٹی آئی نے آج تاریخ لی، تاریخ پر تاریخ لی جا رہی ہے کیس میں اب شہادتیں ریکارڈ ہو رہی ہیں، جرح ہو رہی ہے، آج تاریخ لینے کا کیاجواز تھا؟ آج بھی چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت سے راہ فرار اختیار کی، انہوں نے توشہ خانہ کے تحائف جو لیے وہ کیوں ڈکلیئر نہ کیے؟-

    شمالی کوریا نےمتعدد کروز میزائل فائر کردیئے

    عطا تارڑ نے کہا کہ وہ ہمیں کہتے تھے کہ رسیدیں دو، خود گھر پر بیٹھ کر جعلی رسیدیں بنائی ہیں، کیا کل آپ کے وکیل کو زیب دیتا تھا کہ شہادتیں ریکارڈ ہو رہی ہوں اور وہ گھر چلے جائیں، انسانوں کی طرح عدالتوں میں پیش ہو جاؤ، جواب دو چیئرمین پی ٹی آئی کبھی ایک تو کبھی دوسرا بہانہ کرتے ہیں، کبھی جج پر عدم اعتماد اور کبھی میری حاضری پر اختلاف، وہ چاہتے ہیں کہ ان کی مرضی کا فیصلہ ہو۔

    وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ توشہ خانہ کیس11ماہ سے چل رہا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی ایک بار پیش ہوئے، نیب نے جب گرفتار کیا صرف تب وہ عدالت میں پیش ہوئے، توشہ خانہ کے تحائف قوم کا پیسہ تھا، اربوں روپے کے تحائف تھے چیئرمین پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ نواز شریف کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کیس سنا جائے، نواز شریف تو روز عدالت پیش ہوتے تھے اور بےگناہ ثابت ہوئے۔

    منی لانڈرنگ کیس:وزیراعظم شہبازشریف کی بیٹی اشتہاری قرار،دائمی وارنٹ گرفتاری جاری

    عطا تارڑ نے کہا کہ سائفر کا جھوٹا بیانیہ اپنی موت مر چکا ہے، ایک طرف کرپشن ہے اور دوسری طرف جھوٹ ہے، آپ نے چوری اور سازش کی ہے، توشہ خانہ کیس میں آپ زیادہ دیر راہ فرار اختیار نہیں کر سکیں گے، عدالت پر چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء نے پریشر ڈالا ہے-

  • سائفر تحقیقات، حکم امتناع واپس لینے کا تحریری حکم جاری

    سائفر تحقیقات، حکم امتناع واپس لینے کا تحریری حکم جاری

    لاہور ہائیکورٹ نے سائفر کی تحقیقات روکنے اور عمران خان کو ایف آئی اے طلبی کے خلاف دیا گیا حکم امتناع واپس لینے کا تحریری حکم جاری کردیا-

    باغی ٹی وی : پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف سائفر تحقیقات جاری ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے سائفر کی تحقیقات روکنے اور عمران خان کو ایف آئی اے طلبی کے خلاف دیا گیا حکم امتناع واپس لینے کا تحریری حکم جاری کردیا لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے 2 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت نے سائفر تحقیقات پر حکم امتناع واپس لے لی ہے، چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ایف آئی اے نوٹسز اسلام آباد کے ایڈریس پر بھجوائے گئے۔

    عدت میں نکاح سےمتعلق کیس:عمران خان اورانکی اہلیہ نےشکایت خارج کرنےکی درخواست دائرکردی

    فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق معاملہ اسلام آباد کا ہونے کے باعث لاہور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار نہیں بنتا، سرکاری وکیل نے اپنے دلائل کے حق میں متعدد عدالتی فیصلے بھی پیش کیے، عدالت 6 دسمبر 2022 کو جاری کردہ حکم امتناع واپس لینے کا حکم دیتی ہے اور وفاقی حکومت کی متفرق درخواست کو منظور کرتی ہے۔

    واضح رہے کہ 18 جولائی کو چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کی تحقیقات میں پیشرفت سامنے آئی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے سائفر کی تحقیقات روکنے اور عمران خان کو ایف آئی اے طلبی کے خلاف دیا گیا حکم امتناعی واپس لے لیا تھا لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی نے اپیل پر سماعت کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا تھا چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے سماعت کے دوران پیش نہ ہونے پر تحریری جواب عدالت میں جمع کروایا تھا۔

    توشہ خانہ کیس:چیئرمین تحریک انصاف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

    18 جولائی کو ہی ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد باجوہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ اسلام آباد ایف آئی اے نے درخواست گزار کو نوٹس جاری کئے، اس کی تحقیقات بھی اسلام آباد میں جاری تھیں سائیفر کیس کی تحقیقات میں محکمہ خارجہ کے افسران کے بیانات ریکارڈ کئے گئے۔ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر سمیت 14 گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں، تحقیقات کو اس موقع پر نہیں روکا جا سکتا تحقیقات میں شامل ہونے کیلئے چیئرمین تحریک انصاف کو نوٹس جاری کیا گیا، درخواست گزار عمران خان نے کوئی جواب جمع نہیں کروایا۔ جہاں مقدمہ اور تحقیقات ہو رہی ہوں وہاں کی ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار میں کیس آتا ہے، جاری کئے گئے حکم امتناعی کو واپس لیا جائے۔

    سوئیڈن واقعہ:مولانا فضل الرحمان نےملک گیر احتجاج کی کال دیدی

  • پرویز خٹک کو سپورٹ کرنے کے لئے لوگوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،بیر سٹر سیف

    پرویز خٹک کو سپورٹ کرنے کے لئے لوگوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے،بیر سٹر سیف

    پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے اپنا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ 184 دن ہوگئے خیبرپختونخوا پر غیر قانونی اور غیر آئینی حکومت نافذ ہے۔ پی ٹی آئی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس جرم میں شامل لوگوں کا احتساب ہوگا۔ بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ ہمارے رہنماؤں اور کارکنوں کو غیر قانونی طور پر حراساں کیا جارہا ہے۔ اور ہمارے سابقہ وزیر ڈاکٹر امجد کے 14 سالہ بچے کو سوات میں پولیس نے غیر قانونی حراست میں رکھا۔ بیرسٹر سیف نے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ شانگلہ میں شوکت یوسفزئی کے گھر پر چھاپہ مارا گیا ہے۔ اور تحریک انصاف سے جڑے لوگوں کے کاروبار بند اور خاندانوں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ بیرسٹر سیف نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ پرویز خٹک کو سپورٹ کرنے کیلئے لوگوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ اس نے کہا کہ عوام کا اعتبار عدالتوں اور قانونی نظام سے اٹھ گیا ہے۔ بیر سٹر سیف نے مزید بتایا کہ محظ وقتی فائدے اور اقتدار کے لیے ظلم کرنے والوں کا بہت جلد احتساب ہوگا۔

  • جناح ہاؤس مقدمہ: چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کیا جائے یہ ضمانت کا کیس ہی نہیں ہے،اسپیشل پراسیکیوٹر

    جناح ہاؤس مقدمہ: چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کیا جائے یہ ضمانت کا کیس ہی نہیں ہے،اسپیشل پراسیکیوٹر

    لاہور: اسپیشل پراسیکیوٹر فرہاد علی شاہ کا کہنا ہے کہ جناح ہاؤس مقدمے کی تفتیش میں چیئرمین پی ٹی آئی قصور وار قرار پائے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: جے آئی ٹی نے عمران خان کو قصوروار قرار دے دیا ہے جبکہ بتایا جارہا ہے کہ تفتیش کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان قصور وار پائے گئے ہیں خیال رہے کہ عمران خان 9 مئی کے واقعات کے حوالے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے جس میں ان کو ویڈیوز بھی دیکھائی گئی تھی اور انہوں نے جے آئی ٹی کے سوالوں کے جواب دیئے تھے-

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران اسپیشل پراسیکیوٹر فرہاد علی شاہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی حد تک تفتیش مکمل کرلی گئی ہے، جناح ہاؤس مقدمے کی تفتیش میں چیئرمین پی ٹی آئی قصور وار قرار پائے گئے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف ثبوت اکٹھے کرلیے گئے ہیں، وہ تمام کیسز میں گناہگار ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کو اعانت جرم میں چارج کیا جا رہا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار نہ کیا گیا تو ثبوت صفحہ مثل پر لانے میں رکاوٹ ہو گی لہٰذا چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کیا جائے یہ ضمانت کا کیس ہی نہیں ہے۔

    چترال :گلیشئیر پھٹنے سے بڑے پیمانے پر تباہی

    یاد رہے کہ اس سے قبل 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونےکی اندرونی کہانی یہ تھی کہ جے آئی ٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی سے 9 مئی سے متعلق سوالات کیے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی، عمران خان ایک گھنٹہ اندر رہے اور ان سے تمام سوالات کا نفرنس روم میں کیے گئے۔

    کاروبار کے دوران انڈیکس میں 600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ

    ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی ارکان کا عمران خان سے کہنا تھا کہ ہم آپ سے صرف پروفیشنل سوالات کریں گے۔ عمران خان سے سوال کیا گیا کہ 9 مئی کو پورے ملک میں جو ہوا اس کی پلاننگ تھی یا اتفاق ؟ اس پر چیئرمین پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ پلاننگ کہیں اور سے ہوئی اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ جے آئی ٹی جانب سے پوچھا گیا تھا کہ آپ کے لوگ کنٹونمنٹ میں کیوں گئے تھے؟ اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ جب کمانڈر مجھے گرفتار کرے گا تو لوگوں نے وہیں جانا تھا-

    وکیل قتل کیس؛ عمران خان کی درخواست پر سماعت کرنے والا بینچ تبدیل کردیا گیا

  • کے پی کے سے تعلق رکھنے  والےاہم شخصیت کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت

    کے پی کے سے تعلق رکھنے والےاہم شخصیت کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت

    خیبرپختونخوا سے ہارون لغاری پی ٹی آئی کا حصہ بن گئے. ہارون لغاری کا تعلق خیبرپختونخوا سے سابق وفاقی وزیر پرویز خٹک کے حلقے سے ہے ہارون لغاری نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت، چیئرمین عمران خان کے قانون کی حکمرانی اور حقیقی آزادی کے فلسفے پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے ملک میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں اور جمہوری اقدار کے قتلِ عام کی شدید مذمت کی۔
    ہارون لغاری نے اپنے ساتھیوں سمیت تحریک انصاف کے پیغام اور منشور کو عوام میں راسخ کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔مرکزی سیکرٹری اطلاعات تحریک انصاف رؤف حسن بھی ملاقات میں موجود تھے۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ہارون لغاری کا تحریک میں شمولیت کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔

  • سائفر کیس کو آئین و قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا. اعظم نذیر تارڑ

    سائفر کیس کو آئین و قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا. اعظم نذیر تارڑ

    اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ سائفر کیس کو آئین و قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور یہ سب کچھ میرٹ پر ہوگا کیونکہ اب اعظم خان کا بیان بھی اب واضح ہوگیا ہے اور انہوں نے بے نقاب کردیا ہے کہ عمران خان نے کیسے قوم کو بے وقوف بنایا، اور اس وقت کے وزیر قانون نے ہاؤس میں جس طرح غلط بیانی کی وہ بھی جلد بازی میں تھی.

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اس سائفر کو اپنی تحویل میں لے لیا، جبکہ بعد میں ایک پرچی لہرائی جو کہ قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، جبکہ عمران خان نے صدر عارف علوی کو مشورہ دیا اور سب سے بڑے ایوان کو تحلیل کردیا گیا، اس آئین شکنی کے خلاف اس وقت کی حزب اختلاف نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا اور عدالت نے سماعت مقرر کردی.

    ان کا کہنا تھا کہ اور پھر اسپیکر کی رولنگ غیر قانونی قرار پائی اور قومی اسمبلی بحال کردی گئی جبکہ اس کے بعد قانونی طریقہ سے جو کچھ بعد میں ہوا وہ آپ کے سامنے ہے، جبکہ اب حکومت یہ معاملہ جس بحث ہورہی ہے مجاز ادارے کو بھیجا اور ابھی معاملہ زیر تفتیش ہے اور عمران خان کو بھی بلایا گیا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بھارت،خواتین کی برہنہ پریڈ کروانے والا گرفتار،سپریم کورٹ کا نوٹس
    روپے کی قدر میں 0.47 فیصد کی تنزلی ریکارڈ
    عمران خان کی مشکلات میں کمی نہ ہو سکی، ایک اور جے آئی ٹی نے 21 جولائی کو طلب کر لیا۔

    وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اب ایک گواہ یعنی اعظم خان سامنے آچکے ہیں جس کے مندرجات سب کے سامنے ہیں اور اس کی تصدیق 164 میں بھی ہوگئی ہے، لہذا اب اس بیان اور جو جواب عمران خان جمع کروائیں گے اس کے بعد جو سیکرٹ ایکٹ کی شکیں ہیں اس کے مطابق ایف ائی اے یہ معاملہ طے کرے گی اس معاملہ کرمنل قرار دیتے ہوئے آگے لے کر چلے گی.

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب یہ سب معاملہ میرٹ پر ہوگا اور اس کی سزا کا فیصلہ تو عدالت کرے گی، ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اب اگر اس میں جان بوجھ کر کوتاہی کی گئی ہے تو اس کی سزا کم از کم 14 سال ہوسکتی ہے لیکن اگر جان بوجھ کر ایسا نہ کیا گیا ہو تو پھر دو سال کی سزا ہے.