Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • چیف جسٹس نے  مجرم کو رہا کر کے خوشی منائی ہے۔ مریم نواز شریف

    چیف جسٹس نے مجرم کو رہا کر کے خوشی منائی ہے۔ مریم نواز شریف

    سپریم کورٹ کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کے حکم پر پاکستان مسلم لیگ ن کی سینیئر نائب صدر مریم نواز کا ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ اپنی ٹوئٹ میں مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ چیف جسٹس صاحب کو آج قومی خزانے کے 60 ارب ہڑپ کرنے والے وارداتیے کو مل کر بہت خوشی ہوئی اور اس سے بھی زیادہ خوشی انھیں اس مجرم کو رہا کر کے ہوئی۔

    خیال رہے کہ آج سپریم کورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری رہا کرنےکا حکم دے دیا۔ عدالت عظمیٰ نے عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سےدوبارہ رجوع کرنےکا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ ہائی کورٹ جو فیصلہ کرے گی وہ آپ کو ماننا پڑے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    جبکہ دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کی گرفتاری سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کا رد عمل بھی سامنے آگیا ہے۔ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کی ڈرامائی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دینے کے حکم سے متعلق برطانوی نشریاتی ادارے کی خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کیا۔

  • عمران خان کی طرح  آرٹیکل 25 کے تحت نیب کیسز میں گرفتار تمام ملزمان کو رہا کیا جائے. امان اللہ کنرانی

    عمران خان کی طرح آرٹیکل 25 کے تحت نیب کیسز میں گرفتار تمام ملزمان کو رہا کیا جائے. امان اللہ کنرانی

    عمران خان کی طرح آرٹیکل 25 کے تحت نیب کیسز میں گرفتار تمام ملزمان کو رہا کیا جائے. امان اللہ کنرانی

    سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں سُپریم کورٹ پاکستان کی جانب سے عمران خان کی نیب کی جانب سے رہائی کے احکامات کے بعد آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت نیب کے کیسزز میں گرفتار تمام ملزمان کی رہائی اور ماضی میں سزا پانے والوں کی سزائیں پارلیمنٹ کے قانون سازی کے زریعے معاف کرکے ان کے ذمے تمام واجبات کالعدم قرار دیئے جائیں کیونکہ نیب کا ہر ملزم گرفتاری کا طریقہ کار کو اختیار کئے بغیر گرفتار کیا گیا ہے.

    جبکہ واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کاش محترمہ فاطمہ جناح کو بستر پر شہید نہ کیاجاتا وزیراعظم لیاقت علی خان سابق وزراء اعظم حسین شہید سہروردی و محترمہ بے نظیر بھٹو کو بیچ چوراہا گولی نہ ماری جاتی، ایک وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوکو عدالتی قتل و دو دیگر وزراء اعظم محمد نواز شریف و یوسف رضا گیلانی کو عدالتی ستم سے نہ ہٹایا جاتا جبکہ سابق گورنر نواب اکبر خان بگٹی کو تراتانی کے پہاڑوں میں شہید نہ کیا جاتا تو شاید آج عمران نیازی کی گرفتاری بھی بڑی خبر ہوتی عوام کی توجہ حاصل کرتی یہ قوم غم کی ماری ہوئی ہے اور انہی کے ہاتھوں پرورش پانے والے اپنے گھوارے میں روتے پیٹتے ہوئے بتائے جارہے ہیں بلکہ اس کی آڑ میں فوجی اداروں میں گھسنا و سرکاری و سول املاک کو نقصان پہنچانا لوٹ مار کرنا، ملزمان و اکسانے والے رہنماؤں کے خلاف آرمی ایکٹ 1952 کے تحت کاروائی و کورٹ مارشل پر منتج ہوسکتا ہے.

    انہوں نے مزید کہا تھا کہ اس میں عدالتوں کا دائرہ ختم ہوجاتا ہے اور مزید براں حالات کی سنگینی کے تناظر میں وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول حکومت کی مدد کے لئے فوج کو طلب کرنا شہریوں کی زندگی کو اجیرن کرنا ایک سیاسی جماعت کی فسطائی ذہنیت و مکروہ عزائم کا باعث بناہے جو قابل مذمت عمل ہے جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی معطلی کا خدشہ،جمہوری و سیاسی عمل بھی متاثر و انتخابات بروقت اکتوبر 2023 میں انعقاد بھی ممکن نہیں رہے گا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب بھی وقت ہے تحریک انصاف اپنے کئے پر پشیمانی ظاہر کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگے آئیندہ پُرامن سیاسی عمل کا حصہ بنے تاکہ ملک میں پارلیمانی و جمہوری و سیاسی نظام بلا تعطل جاری رہے عدالتوں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی بجائے میرٹ پر تقرریوں سپریم کورٹ سے جونئیر ججز جو واپس متعلقہ ہائی کورٹس میں بھیج کر سپریم کورٹ کے اپنے فیصلوں PLD 1996SC324,PLD 1998SC161&PLD 2009 SC 879 پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور سینارٹی کی بنیاد پر ھائی کورٹس کے ججوں کو سُپریم کورٹ میں ججوں کی آسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائےورنہ عنقریب سندھ میں بار کونسل کی آئینی درخواستوں کی طرزپرسُندھ ھائی کورٹ میں زیر التواء درخواستوں کو سامنے رکھتے ھوئے دیگر ھائی کورٹس میں بھی عدالتوں سے رجوع بھی کیا جاسکتا ہے.

  • سب سے کہتا ہوں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں. عمران خان کی کارکنان سے درخواست

    سب سے کہتا ہوں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں. عمران خان کی کارکنان سے درخواست

    سب سے کہتا ہوں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں. عمران خان کی کارکنان سے درخواست

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تمام لوگ پُر امن احتجاج کریں، ملک کو نقصان نہ پہنچایاجائے، سب سے کہتا ہوں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں عمران خان کی گرفتاری کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، دیگر ججز میں جسٹس ا طہر من اللہ اور جسٹس محمد علی مظہر شریک تھے۔

    پی ٹی آئی کی طرف سے سینئر وکیل حامد خان دلائل دینے سپریم کورٹ پہنچے، گزشتہ روز پی ٹی آئی چیئرمین کی گرفتاری کیخلاف درخواست دائر کی گئی تھی۔ سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے ہونے والی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیدیا اور انہیں رہا کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت کی طرف سے حکم دیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اسلام آباد ہائیکورٹ سے کل رجوع کریں اور آپ کو عدالت عالیہ کا فیصلہ ہر حال ماننا ہو گا۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ الزام ہے کہ آپ نے ورکرز نے سڑکوں پرماحول بنایا، آپ کو دیکھ کر اچھا لگا، عدالت کوکچھ خدشات ہیں، آپ کو ملک میں پرتشددمظاہروں کاعلم ہوگا، یہ شاید سیاسی عمل کا حصہ ہےلیکن امن بحال کرناہوگا، امن بحال ہوگاتوآئینی مشینری کام کرسکےگی، عدالت کی خواہش ہے کہ آپ پرتشددمظاہروں کی مذمت کریں، عدالت ہرشہری کےتحفظ کیلئے بیٹھی ہے۔ امن ہوگاتوہی ریاست چل سکےگی۔ یہ ذمہ داری ہر سیاست دان کی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    اسی دوران عمران خان نے کہا کہ تمام لوگ پُر امن احتجاج کریں، ملک کو نقصان نہ پہنچایاجائے، اپنی 27 سال کی جدوجہد میں کارکنوں کو پر امن رہنے کا پیغام دیا ہے۔سب سے کہتا ہوں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ جبکہ سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ مجھے ہائی کورٹ سے اغواء کیا گیا، مجھے ڈنڈے مارے گئے، ایسا کسی مجرم کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا، مجھے کبھی پولیس لائن اور کبھی کہیں لے کر پھرتے رہے، مجھے کچھ علم نہیں باہر کیا ہوا نہ مجھے پتا ہے، کمانڈو ایکشن کر کے مجھے سر پر ڈنڈے مارے گئے، کریمنل کی طرح مجھے پکڑا گیا۔ جو میرے ساتھ ہوا اس کا ردعمل توآئےگا، مجھ پر دہشت گردی سمیت کئی مقدمات درج ہیں، میں نے کہا مجھے گرفتار کرنا ہے تو وارنٹ دکھاؤ، مجھ پر 100 سے زائد مقدمات بنائے گئے، ایک پارٹی جو الیکشن چاہتی ہے وہ انتشارکیوں چاہےگی؟ انتشاروہ چاہتےہیں جوالیکشن نہیں چاہتے۔

  • عمران خان ضمانت کے وقت وہیل چیئر پر مگر اب خود چل کر عدالت پہنچے

    عمران خان ضمانت کے وقت وہیل چیئر پر مگر اب خود چل کر عدالت پہنچے

    عمران خان ضمانت کے وقت وہیل چیئر پر مگر اب خود چل کر عدالت آئے

    آپ کو یاد ہوگا کہ اس سے قبل پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان ضمانت یا پھر پیشی کیلئے عدالت وہیل چیئر پر پیش ہوتے رہے اور ٹانگ میں تکلیف کا بہانا بناتے تھے لیکن آج جب وہ عدالت پیش ہوئے تو خود اپنے پاؤں پر چل کر عدالت پیش ہوئے ہیں اور جب واپسی پر بھی وہ خود چل کر واپس جاتے ہوئے دکھائی دیئے ہیں.
    https://twitter.com/Aqibjaved000/status/1656651153265012737
    واضح رہے کہ عمران خان سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر خود چلتے ہوئے کمرہ عدالت تک پہنچے ہیں جبکہ سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیےگئے اور پولیس کی جانب سے عدالت کے باہر سے غیر متعلقہ گاڑیوں کو بھی ہٹادیا گیا تھا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا


    صحافی اجمل جامی نے اس بارے میں لکھا کہ "جب عمران خان کو گاڑی سے اتار کر کمرہ عدالت میں لایا گیا تو انکی باڈی لینگویج کیسی تھی۔۔؟ اینکر کا سوال، جی! عمران خان جب پیدل چل کر کمرہ عدالت گئے تو ان کی باڈی لینگویج نارمل لگ رہی تھی، انکے چہرے پر سمائل تھی۔ رپورٹر کا جواب”

    ایک اور صارف نے لکھا کہ "حیرت انگیز طور پر وہیل چیئر کا ڈھونگ رچانے والا عمران خان صرف ایک دن کی قید کے بعد ہی اپنے پیروں پر چل کر عدالت میں پہنچ گیا. یاد رہے کہ عدالت میں بھی جب عمران خان کو بلایا گیا تو وہ ادھر بھی خود چل کر روسٹرم پر پہنچ گئے.

  • عمران خان کی گرفتاری

    عمران خان کی گرفتاری

    عمران خان کی گرفتاری
    سابق وزیراعظم عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عدالت پیشی کے دوران گرفتار کر لیا گیا، عمران خان پر انکی حکومت کے عرصے کے دوران 2018 سے 2022 تک سرکاری تحائف کی فروخت کرنے کا الزام تھا، عمران خان کی گرفتاری غیر متوقع نہیں تھی تا ہم اسکے بعد تباہی دیکھنے کو ملی، تحریک انصاف کے کارکنان اور حامی سڑکوں پر نکلے ، دو چیزیں سامنے آئیں، ایک ، تحریک انصاف کی اول درجے اور دوم درجے کی قیادت اور رہنما عمران خان کی گرفتاری کے بعد سڑکوں پر احتجاج میں نظر نہیں آئے تھے، دوم،نام نہاد برگر کراؤڈ بھی اس احتجاج میں نظر نہیں آیا، عمران خان کی گرفتاری کے بعد جو احتجاج ہوا اس میں جوش و جزبہ بھی دیکھنے میں نہیں آیا،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے کئی شہروں میں ہنگامہ آرائی کے بعد حکومت نے موبائل فون نیٹ ورک کو بند کر دیا تا کہ رابطے نہ ہو سکیں، کئی شہروں میں ٹی وی کی نشریات بھی معطل کی گئیں، اسکے بعد آڈیو لیکس سامنے آنا شروع ہو گئیں، آڈیو لیکس میں ہونیوالی گفتگو سن کر یہ طے کرنا مشکل نہیں کہ اس ہنگامہ آرائی اور احتجاج کی کون ہدایات دیتا رہا، آڈیو لیک کی گفتگو میں لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کی طرف بڑھنے کی ہدایات دی گئیں، تحریک انصاف کے رہنما، سینیٹر اعجاز چودھری اور انکے بیٹے علی چودھری کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی ، ڈاکٹر یاسمین راشد اور اعجاز منہاس کی بھی آڈیو لیک ہوئی، دو اور بھی آڈیوز سامنے آئیں، جن میں ملک کے مفادات کے خلاف منصوبہ بندی کے ثبوت ملے،

    اختلافات سیاست کا فطری حصہ ہیں تا ہم اختلافات کو ختم کرنے اور آگے بڑھنے کا واحد حل بات چیت، مزاکرات ہیں ، لیکن بدقسمتی سے عمران خان کسی بھی قسم کی بات چیت کرنے کو تیار نہیں تھے، اداروں، افراد اور حتیٰ کہ اقوام (جیسے امریکہ) پر الزام لگانے کا ان کا رجحان اس بات کی مثال ہے کہ سیاست میں کیا نہیں کرنا چاہیے۔ ڈپلومیسی ایک فن ہے، اور اگر کوئی پارٹی رہنما اپنی پارٹی اور اپنی قوم کے مفادات کو ملکی سطح پر محفوظ رکھنے کے لیے سفارت کاری کا استعمال نہیں کر سکتا تو عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کی نمائندگی کرنے کی صلاحیت کے حوالہ سے ان پر کوئی بھی سوال اٹھا سکتا ہے

    دنیا بھر کے رہنماؤں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور انہیں اکثر قید یا طویل مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ اپنے کارکنان کو عوامی املاک کو تباہ کرنے یا ریاست کے ساتھ تنازعات میں ملوث ہونے پر اکساتے نہیں قیادت خود ایسے واقعات سے دور رہتی ہے ،عمران خان نیب کے پاس جسمانی ریمانڈ پر ہیں، انکے ریمانڈ میں توسیع ہو سکتی ہے یا انہیں جوڈیشل ریمانڈ میں جیل بھجوایا جا سکتا ہے، جس کے بعد انکئ ضمانت کی درخواست بھی دائر کی جا سکتی ہے، تحریک انصاف کے رہنما فواد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، مزید کئی گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں،ایسی صورتحال میں تحریک انصاف کے اندر اقتدار کی کشمکش ناگزیر ہو جاتی ہے ،کیونکہ پارٹی طے کرتی ہے کہ اب پارٹی قیادت کون کرے گا، اب حساب کا وقت آ گیا ہے

  • اختیارات کا ناجائز استعمال کیوں کیا؟ عمران خان کو نیب سوالنامہ مل گیا

    اختیارات کا ناجائز استعمال کیوں کیا؟ عمران خان کو نیب سوالنامہ مل گیا

    القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کیس، نیب نے عمران خان کو شامل تفتیش کرلیا

    نیب کی کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم نے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کیس میں گرفتار تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سوالنامہ دیا ہے، نیب نے عمران خان کو شامل تفتیش کرلیا ،نیب کی جانب سے عمران خان کو دیئے گئے سوالنامہ میں پوچھا گیا ہے کہ دسمبر 2019میں برطانیہ سے غیرقانونی رقم کی واپسی کی منظوری کیلئے سمری کیوں تیار کرائی ؟ دسمبر 2019 میں برطانیہ سے رقم کی واپسی کو سرنڈر کرنے کی منظوری کیوں دی ؟ ملزمان سے بدلے میں القادر یونیورسٹی کی زمین اور دیگرمالی فائدے کیوں لیے ؟

    نیب نے عمران خان کو دیئے گئے سوال نامے میں سوال کیا کہ اعلیٰ ترین عوامی عہدے پر بیٹھ کر اختیارات کا ناجائز استعمال کیوں کیا ؟ اختیارات کا ناجائزاستعمال کرکے ملزمان سے مالی فائدے کیوں حاصل کئے؟ برطانیہ سے غیر قانونی رقم ملزمان کو واپس کرکے مجرمانہ عمل کیوں کیا؟ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی سے خط و کتابت اور ایسٹ ریکوری یونٹ کی سمری کو خفیہ کیوں رکھا گیا ؟

    واضح رہے کہ عمران خان کو نیب نے گرفتار کر رکھا ہے، کل عمران خان کو عدالت پیش کیا گیا تھا، عدالت نے عمران خان کا آٹھ رو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا، پولیس لائن کو سب جیل کا درجہ دیا گیا ہے، عمران خان سب جیل میں نیب تحویل میں ہیں،عمران خان کا میڈیکل بھی کروایا تھا ، عمران خان صحتمند ہیں اور انہیں کسی قسم کی بیماری نہیں،

    اسد عمر  اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار 

    ملک بھر میں احتجاج کے دوران جلاؤ گھیراؤ 

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

  • دوران عدت نکاح،یہ سیاسی کیس ہے، عدالت

    دوران عدت نکاح،یہ سیاسی کیس ہے، عدالت

    پشاور ہائیکورٹ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،

    پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے سماعت کی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عمران خان نے عدت کے دوران بشریٰ بی بی سے نکاح کیا ،چیف جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب طلاق ہوجائے تو پھر عدت کی مدت 3 ماہ ہوتی ہے، جب فوت ہو جائے تو پھر عدت کی مدت 4 ماہ اور10 دن ہوتی ہے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جس عالم دین نے نکاح پڑھایا اس نے کہا عمران خان نے دوسری دفعہ نکاح کیا،عمران خان نے سائفر کا ایشو بنایا اور فوج پر الزامات لگائے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سیاسی کیس ہے ،درخواست گزار وکیل نے کیس واپس لینے کی استدعا کردی عدالت نے درخواست واپس لینے پر کیس نمٹا دیا

    پشاور ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لئے درخواست دائر کی گئی تھی جس میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں عمران خان کو سرکاری و عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے، جے یو آئی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سیاسی مقاصد کیلئے عمران خان نے سائفر کا جھوٹا بیانیہ بھی بنایا عمران خان کے جھوٹے بیانیے سے فوج کے وقار کو نقصان پہنچا عمران خان صادق و امین نہیں ، عمران خان نے دوران عدت شادی کی عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ عمران خان کو نااہل قراردیا جائے

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا تیسرا نکاح پڑھانے والے مفتی سعید نے کہا تھا کہ اگر بشریٰ بی بی نے عدت میں نکاح پر توبہ نہیں کی تو تجدید ایمان کرنی چاہیے،مفتی محمد سعید خان نے عمران خان کے بشریٰ بی بی سے نکاح کے بارے میں کہا کہ ان کے عمران خان سے دو نکاح ہوئے تھے کیونکہ ان کا پہلا نکاح عدت کے دوران ہوا اور اس نکاح کو نکاح فاسد کہا جاتا ہےعدت مکمل ہونے کے بعد عمران خان کا بشریٰ بی بی سے دوسرا نکاح ہوا، مجھے عون چوہدری کے ذریعے علم ہوا کہ عمران خان کا بشریٰ بی بی سے نکاح عدت کے دوران ہوا جس پر میں نے ان کو کہا کہ نکاح دوبارہ ہوگا

     اسلامی شرعی احکامات کا مذاق اڑانے پر عمران نیازی کے خلاف راولپنڈی میں ریلی نکالی

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

  • جلاؤ گھیراؤمیں ملوث گرفتار شرپسند عناصر کی تعداد 2217 تک جا پہنچی

    جلاؤ گھیراؤمیں ملوث گرفتار شرپسند عناصر کی تعداد 2217 تک جا پہنچی

    سرکاری و نجی اداروں پر حملوں، توڑ پھوڑ، تشدد اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث گرفتار شرپسند عناصر کی تعداد 2217 تک جا پہنچی

    پنجاب پولیس کی جانب سے پنجاب کے تمام شہروں میں کاروائیاں جاری ہیں، عمران خان کی گرفتارئ کے بعد ملک گیر احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کی گئی، املاک کو نقصان پہنچایا گیا جس کے بعد پولیس حرکت میں آ گئی، ترجمان پولیس کے مطابق شرپسند عناصر کی پرتشدد کاروائیوں میں پنجاب بھر میں 150 سے زائد پولیس افسران اور اہلکار شدید زخمی ہوئے، پنجاب پولیس کے زیر استعمال 72 گاڑیوں کی توڑ پھوڑ، نذر آتش کیا گیا،جلاؤ گھیراؤ، تشدد اور امن متاثر کرنے والے شرپسند عناصر کو شناخت کرکے گرفتار کیا جا رہا ہے، گرفتار شرپسند عناصر کی تعداد 2217 تک جا پہنچی

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد لاہور میں کارکنان کا اھتجاج جاری ہے، مال روڈ میدان جنگ، پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس میں آنکھ مچولی، عمران خان کی رہائشگاہ کے باہر کے طرف کے سارے راستے بند کئے گئے ہیں،

    پرتشدد احتجاج کے دوران ڈیوٹی پر موجود زخمی ہونے والے پولیس افسران واہلکار

    1 ۔ ایس پی رورل جناب ظفر خان

    2 ۔ ایس پی سٹی جناب عبدالسلام خان

    3 ۔ ایس پی سیکورٹی جناب عتیق شاہ

    4 ۔ ڈی ایس پی شکیل خان

    5 ۔ ایس ایچ او تھانہ پہاڑی پورہ انسپکٹر اعجاز نبی

    6 ۔ ایس ایچ او تھانہ حیات آبادمحمد اشفاق

    7 ۔ ایس ایچ اوتھانہ شرقی نعیم حیدر

    8 ۔ ایس ایچ او تھانہ ارمڑتحسین اللہ

    9 ۔ کانسٹیبل عرفان نمبر بلٹ نمبر 7224

    10 ۔ کانسٹیبل نظر علی بلٹ نمبر1133

    11 ۔ کانسٹیبل کاشف بلٹ نمبر 6624

    12 ۔ عابد کانسٹیبل

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

  • عمران ریاض خان بیرون ملک جاتے ہوئے ایئر پورٹ سے گرفتار

    عمران ریاض خان بیرون ملک جاتے ہوئے ایئر پورٹ سے گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے حمایتی اینکر عمران ریاض خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

    عمران ریاض خان کو ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا ہے، عمران ریاض خان بیرون ملک جا رہے تھے، عمران ریاض کو سیالکوٹ ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا ہے، وہ دبئی کے لئے روانہ ہو رہے تھے، عمران ریاض خان کو دوسری بار گرفتار کیا گیا ہے، عمران ریاض کے وکیل میاں اشفاق کا کہنا ہے کہ عمران ریاض خان کو بلا جواز گرفتار کیا گیا ہم اس کا مقابلہ کریں گے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے کئی شہروں میں احتجاج ہوا، تحریک انصاف کے کارکنان نے جلاؤ گھیراؤ کیا جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور شرپسندوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا، پنجاب سمیت تمام صوبوں میں‌ شرپسند عناصر کیخلاف کاروائی کی جا رہی ہے،کور کمانڈر ہاﺅس لاہور کو بھی جلا دیا گیا پاک فوج کی دیگر تنصیبات پر بھی حملہ کیا گیا،پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو آگ لگائی گئی

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

  • عمران خان کو ایک گھنٹے میں پیش کیا جائے، سپریم کورٹ

    عمران خان کو ایک گھنٹے میں پیش کیا جائے، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل تھے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کس کیس میں پیش ہوئے تھے ؟ وکیل حامد خان نے عدالت میں کہا کہ عمران خان نیب کیس میں ضمانت کروانے کیلئے ہائیکورٹ آئے تھے عمران خان بائیو میٹرک کروا رہے تھے کہ رینجرز نے ہلہ بول دیا دروازہ اور کھڑکیاں توڑ کر عمران خان کو گرفتارکیا گیا،بائیو میٹرک کروانا عدالتی عمل کا حصہ ہےعمران خان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور گرفتاری پر تشدد ہوئی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق جو مقدمہ مقررتھا وہ شاید کوئی او تھا عدالتی حکم کے مطابق درخواست ضمانت دائر ہوئی تھی لیکن مقرر نہیں ، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا بائیومیٹرک سے پہلے درخواست ہو جاتی ہے، حامد نے کہا کہ بائیو میٹرک کے بغیر درخواست دائر نہیں ہو سکتی، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ عمران خان احاطہ عدالت میں داخل ہو چکے تھے ایک مقدمہ میں عدالت بلایا تھا دوسرا دائر ہو رہا تھا، کیا انصاف کے رسائی کے حق کو ختم کیا جاسکتا ہے؟ یہی سوال ہے کہ کسی کو انصاف کے حق سے محروم کیا جا سکتا ہے؟ کیا مناسب ہوتا نیب رجسٹرارسے اجازت لیتا، نیب نے قانون اپنے ہاتھ میں کیوں لیا

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏آپ کا کیس یہ ہے کہ جب کوئی شخص عدالتی احاطے میں داخل ہو تو اسے گرفتار نہیں کیا جا سکتا، جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ ‏آپ کی کیا استدعا ہے،وکیل حامد خان نے عدالت میں کہا کہ استدعا ہے کہ عمران خان کو رہا کیا جائے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏نیب نے عدالت کی توہین کی ہے، نیب کو کتنے افراد کو گرفتار کیا؟ وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان کو 80 سے 90 افراد نے گرفتار کیا، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 90 افراد احاطہ عدالت میں داخل ہوئے تو عدالت کی کیا توقیر رہی؟ کسی بھی فرد کو احاطہ عدالت سے کیسے گرفتار کیا جاسکتا ہے،ماضی میں عدالت میں توڑ پھوڑ کرنے پر وکلاء کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی گئی، کسی فرد نے عدالت کے سامنے سرنڈر کردیا تو اس کو گرفتار کرنے کا کیا مطلب ہے؟ کوئی شخص بھی آئندہ انصاف کیلئے خود کو عدالت میں محفوظ تصور نہیں کرے گا، گرفتاری سے قبل رجسٹرار سے اجازت لینا چاہیے تھا،

    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏نیب ایسے کئی سالوں سے کر رہا ہے، نیب نے منتخب عوامی نمائندوں کو تضحیک سے گرفتار کیا، یہ طریقہ کار بند کرنا ہوگا،چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا عمران خان نے بائیؤ میٹرک کروالی تھی؟ وکیل بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کی درخواست کو ڈائری نمبر لگ چکا تھا، ہم نے اسی دن درخواست سماعت کی استدعا کی تھی، وکیل عمران خان سلمان صفدر نے کہا کہ ‏عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کی گئی، ایسے واقعات ہائیکورٹ میں پہلی بار ہوئے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت صرف عدالت کی عزت اور انصاف کی فراہمی کا معاملہ دیکھ رہے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ معاملہ عدلیہ کے احترام کا ہے،نیب نے ایک ملزم سپریم کورٹ پارکنگ سے گرفتار کیا تھا،عدالت نے گرفتاری واپس کرا کر نیب کے خلاف کارروائی کی نیب نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی آئندہ ایسی حرکت نہیں ہو گی، نیب کی یقین دہانی سے 9 افسران توہین عدالت سے بچے تھے ،ہر کسی کو عدالت کے اندر تحفظ ملنا چاہیے، ہم ابھی اٹارنی جنرل کو طلب کرتے ہیں،ہم عدالت کی توقیر کو بحال کریں گے، میانوالی کی ڈسٹرکٹ کوٹ ہر حملہ کیا گیا جو بدقسمتی ہے،چ عدالت پر حملے پر آج میرا دل دکھا ہے، ایسے کیسے ہورہا ہے اور کوئی نہیں روک رہا؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ‏عمران خان لاہور میں تھے تو وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کیلئے وفاقی حکومت کو کیوں لکھا؟ نیب نے پنجاب حکومت کو کیوں نہیں لکھا؟ نیب پراسیکیوٹر صاحب معاملات کو پیچیدہ مت بنائیں، نیب نے پاکستان کا بہت نقصان کردیا ہے، نیب پراسیکیوٹر کا ایسا رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وفاقی حکومت نے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کرایا، کیا گرفتاری کے وقت نیب کا کوئی شخص وہاں موجود تھا؟ کس فورس نے عمران خان کو گرفتار کیا؟ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بائیو میٹرک کمرے میں کس نے گرفتاری کی نیب کو یہ بھی معلوم نہیں،

    وکیل عمران خان نے کہا کہ ‏انکوائری مکمل ہونے کے بعد رپورٹ ملزم کو دینا لازمی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان شامل تفتیش ہوئے تھے، شعیب شاہین نے کہا کہ عمران خان نے نوٹس کا جواب نیب کو ارسال کیا تھا، نیب کا وارنٹ غیرقانونی تھا،جسٹس اطہر من اللہ‏ نے کہا کہ ‏بظاہر نیب نے عمران خان کے وارنٹ قانون کے مطابق نہیں لیے، سپریم کورٹ نے نیب پراسیکیوٹر کو روسٹرم پر طلب کر لیا،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ نے عمران خان کو کتنے نوٹس جاری کیے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ عمران خان کو ایک نوٹس جاری کیا، جسٹس اطہر من اللہ‏ نے استفسار کیا کہ ایک کے بعد دوسرا نوٹس کیوں جاری نہیں کیا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 100 لوگوں کے داخلے سے احاطہ عدالت میں خوف پھیل جاتا ہے، ‏نیب کی خواہش ہے کہ بس دوسرے قانون پر عمل کرتے رہیں،وہ خود نہیں، سب آپ کی مہربانی ہے آج جو کچھ ہو رہا ہے آپ کی بزدلی کی وجہ سے،‏گرفتاری سے جوہوا اسے رکنا چاہئے تھا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ غیر قانونی اقدام سے نظر چرائی جاسکے ،ایسافیصلہ دینا چاہتے ہیں جس کا اطلاق ہر شہری پر ہوگا، انصاف تک رسائی ہرملزم کا حق ہے۔

    ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت میں کہا کہ ‏گرفتاری کیلئے رینجرز نے اسلام آباد پولیس کی معاونت کی،آئی جی اسلام آباد نے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کرایا، چیف جسٹس نے کہا کہ رینجرز صرف وزارت داخلہ کی اجازت پر آسکتی ہے، وزارت داخلہ نے پولیس کی بجائے رینجرز سے عملدرآمد کرایا، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ رینجرز اسلام آباد ہائیکورٹ کی سیکیورٹی کیلئے ہر پیشی پر موجود ہوتی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ نیب نے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد سے خود کو الگ کرلیا ہے، نیب اس سے قبل احاطہ عدالت سے اپنے افسران کو گرفتاری سے روک چکا ہے،ایس او پیز کے تحت احاطہ عدالت سے گرفتاری نہیں ہوسکتی، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطہ کے انچارج ہیں، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ اسلام آباد پولیس وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کیلئے لاہور گئی،گرفتاری سے قبل رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کی اجازت ضروری نہیں ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ‏گرفتاری کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے شیشے ٹوڑے گئے، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ عمران خان احاطہ عدالت سے باہر آئے تو ان کو گرفتار کیا گیا،عمران خان کو گرفتار کرنا ناممکن ہوگیا تھا جب بھی گرفتاری کی کوشش کی جاتی عمران خان لوگ اکٹھے کرلیتے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گرفتاری سے قبل رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ سے اجازت نہیں کی گئی، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ جس نے بھی عدالت کے شیشے توڑے اس کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ عمران خان جس کمرے میں تھے اس کمرے کی کنڈی لگا دی گئی،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کمرہ بند ہو تو کنڈی کھٹکائی جاتی ہے نہ کے دروازہ توڑا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے گرفتاری کا سارا ملبہ وفاقی حکومت پر ڈال دیا ہے،جسٹس اطہر من اللہ‏ نے کہا کہ موجودہ حکومت سے اس طرح کے رویے کی توقع نہیں تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر اجازت دے دی گئی تو عدالتوں کے اندر سے گرفتاری بہت آسان ہوجائے گی، ایسے تو عدالتیں گرفتاری میں سہولت کار بن جائیں گی،لاہور میں عدالت کے اندر قتل کے واقعات بڑھے، ہم نے کوشش کر کے یہ رویہ روکاجائے،اس طرح لوگ ذاتی لڑائیوں کے بدلے عدالت کے اندر لینا شروع ہوجائیں گے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ احاطہ عدالت میں جو ہوا وہ انصاف کی راہ میں بُری مثال قائم کرے گا، اس واقعے نے پوری قوم میں بہت خوفناک تاثر قائم کیا،وقت آ گیا ہے کہ قانون کی عملداری یقینی بنائے جائے،اس معاملے ٹھیک کرنے کیلئے معاملہ ریورس کرنا پڑے گا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏اس معاملے کا واحد حل اس وقت کو ریورس کر دیا جائے، جس موقع پر ملزم کے فنگر پرنٹ ہو رہے تھے۔

    عدالت نے ‏عمران خان کو ایک گھنٹے میں سپریم کورٹ پیش کرنے کا حکم‏ دے دیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب وارنٹ کا نہیں، تعمیل کرانے کا طریقہ کار اصل مسلہ ہے، گرفتاری کو وہیں سے ریورس کرنا ہوگا جہاں سے ہوئی۔ عدالتی احاطے سے گرفتاری کیا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں، جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‏آپ کیلئے دفاع کرنا مشکل ہورہا ہے، عدالت نے کہا کہ دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی بہت برا سلوک ہوا ہے، حالیہ گرفتاری سے ہر شہری متاثر ہورہا ہے، عدالت سے گرفتاری بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے، کیا مناسب نہیں ہوگا کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال کیا جائے۔

    ‏سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے ہدایات جاری کی ہیں کہ اس موقع پر پی ٹی آئی کا کوئی رہنما یا کارکن نہ آئے۔ عدالت نے کہا کہ ‏قانون پر عمل کی بات سب کرتے ہیں لیکن خود کوئی عمل نہیں کرتا،جسٹس اطہر من اللہ‏ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب کی خواہش ہے کہ دوسرے قانون پر عمل کریں، نیب نے وارنٹ کی تعمیل کیلئے پنجاب حکومت کو کیوں نہیں لکھا، نیب نے ملک کو بہت تباہ کیا ہے، سردار مظفر نے کہا کہ عمران خان کا کنڈکٹ بھی دکھیں، ماضی میں مزاحمت کرتے رہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏نیب نے وارنٹ کی تعمیل سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ‏ضابطہ فوجداری کی دفعات 47 سے 50 تک پڑھیں، بائیو میٹرک برانچ کی اجازت کے بغیر بھی شیشے نہیں توڑے جاسکتے، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ‏عمران خان کو گرفتار کرنا ناممکن تھا،احتساب عدالت ریمانڈ دے چکی ہے ، جسٹس اطہر من اللہ‏ نے کہا کہ بنیاد غیرقانونی ہو تو عمارت قائم نہیں رہ سکتی، وقت آگیا ہے کہ مستقبل کیلئے مثال قائم کی جائے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے ، نیب نے رینجرز تعینات کرنے کی درخوست کی تھی ‏عدالت نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پربلا لیا ،چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف تک رسائی کے حق پراٹارنی جنرل کوسنیں گے ، ‏عدالتیں آزاد ہوتی ہیں ، آزاد عدلیہ کا مطلب شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے ،‏ملزم سرینڈرکرے اورگرفتارکیا جائے توعدالت گرفتاریوں کیلئےآسان مقام بن جائے گا،ملزمان کے ذہن میں عدالتیں گرفتاری کی سہولت کاربن جائینگی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالتی دروازے سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا تو عدالت کون آئے گا؟ عدالت نے حکم دیا کہ آئی جی اسلام آباد عمران خان کو ساڑھے 4 بجے عدالت میں پیش کریں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کوئی سیاسی رہنما اور کارکن عدالت نہیں آئیگا،پاکستان کو جیل نہیں بننے دیا جائیگا،کیوں نہ گھڑی کو واپس بائیو میٹرک مرحلے میں پہنچا دیں،عدالت معاملے پربہت سنجیدہ ہے ،چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کی کل تک کی مہلت کی استدعا مسترد کر دی اور کہا کہ عدالت آج مناسب حکم جاری کرے گی ،

    عمران خان کی گرفتاری کیخلاف درخواست ایڈووکیٹ محبوب گجر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت دفاع اور نیب کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماوں کی گرفتاری اختیارات کے ناجائز استعمال و انتقام پر مبنی ہے ،حکومت کا رویہ بنیادی حقوق، آئین کے آرٹیکل 9 ،10 اے کی خلاف ورزی ہے ،بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ کی مداخلت ناگزیر ہے درخواست میں عمران خان کی رہائی کا حکم دینے اور گرفتاری کی تحقیقات کا حکم دینے کی استدعاکی گئی ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کی حفاظتی یقینی بنانے کا حکم دیا جائے

    سپریم کورٹ، عمران خان نے گرفتاری سے متعلق اضافی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرادی ،عمران خان نے نیب کال اپ نوٹس، ڈی جی نیب کو لکھے خط کی کاپی جمع کرا دی ،عمران خان نے چئیرمین نیب کیخلاف دائر رٹ پٹیشن اوربیان حلفی جمع کرا دیا، درخواست میں کہا گیا ہے کہ مجھے بائیومیٹرک تصدیق کے دوران غیرقانونی گرفتار کیا گیا میرے وکلاء گوہرعلی اورعلی بخاری کیساتھ دوران گرفتاری بد تمیزی کی گئی،میرے وکلاء کی آنکھوں پر زہریلا اسپرے پھیکا گیا، انصاف کے تقاضوں کیلئے اضافی دستاویز کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات