Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • عمران خان نا اہلی کیس قابل سماعت ہے یا نہیں ، فیصلہ محفوظ

    عمران خان نا اہلی کیس قابل سماعت ہے یا نہیں ، فیصلہ محفوظ

    مبینہ بیٹی ٹیریان کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پرعمران خان نااہلی کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،عمران خان نا اہلی کیس قابل سماعت ہے یا نہیں ، فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

    درخواست گزار کے وکیل حامد علی شاہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے بیان حلفی میں اپنی بیٹی کا نام ظاہر نہیں کیا،عمران خان بطور پارٹی سربراہ بھی نہیں رہ سکتے،عمران خان کی نااہلی کیلئے تمام حقائق درخواست میں درج ہیں، عمران خان نے پٹیشن میں ذکر کئے حقائق کا جواب نہیں دیا جس سے وہ تسلیم شدہ ہیں ،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی تک کے ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے انکار کیا نہ کچھ مانا، ابھی تک عدالت درخواست قابل سماعت ہونے کے حوالے سے سن رہی ہے

    عدالت نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن کا اس حوالے سے کیا موقف ہے ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ماضی میں عدم ثبوت کی بنا پر اس قسم کی درخواستیں خارج ہو چکیں ہیں ،عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل پر اظہار برہمی کیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ درخواست ہم نے صرف قابل سماعت ہونے کی حد تک سنی ہے ، اگر قابل سماعت ہوا تو کیس آگے چلے گا نا ہوا تو کیس ختم ہو جائے ، الیکشن کمیشن کو اس رویے پر بھاری جرمانہ کیوں نہ کیا جائے،الیکشن کمیشن نے کہا کہ صرف بتانا چاہتے تھے عدم ثبوت پر ہم یہ کیس خارج کر چکے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم فیصلہ کریں گے پہلے کیس قابل سماعت ہے یا نہیں،

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے شہری محمد ساجد نے عمران خان کی نااہلی کی درخواست دائر کر رکھی ہے ,درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے کاغذاات نامزدگی جمع کراتے وقت غلط معلومات فراہم کیں ،عمران خان نے بچوں کی تفصیل میں ایک بچے کی معلومات چھپائیں، عمران خان نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیٹی کا ذکر نہیں کیا درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولنے پر عمران خان کو نااہل قرار دے، عدالت آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کو نااہل قرار دے۔

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • خاتون جج دھمکی کیس،عمران خان کے وارنٹ،اپیل پر فیصلہ آ گیا

    خاتون جج دھمکی کیس،عمران خان کے وارنٹ،اپیل پر فیصلہ آ گیا

    خاتون جج دھمکی کیس میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل کر دیئے گئے،

    ایڈیشنل سیشن جج سکندر نے عمران خان کی اپیل پر سماعت کی، وکیل فیصل چودھری نے عدالت میں کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے تفصیلی آرڈر کے چند نکات کو نظرانداز کیا وکیل فیصل چودھری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران خان کے خدشات پر تحریری فیصلہ پڑھا،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ غیرقانونی ہے جوڈیشل مجسٹریٹ نے گزشتہ روز ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے ۔ایڈیشنل سیشن جج کا ناقابل ضمانت کو قابل ضمانت وارنٹ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ عدالت میں جمع کرا دیا گیا،عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرکے کل تک جواب طلب کرلیا، عدالت نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل کر دیئے ہیں،

    واضح رہے کہ گزشتہ روزخاتون جج دھمکی کیس میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے تھے عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے عمران خان کو 18 اپریل کو پیش کرنے کا حکم دے دیا

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری میں تبدیل کردیا

  • عمران خان کی پیشی،پیمرا کی کوریج پر پابندی،درخواست پر اعتراض عائد

    عمران خان کی پیشی،پیمرا کی کوریج پر پابندی،درخواست پر اعتراض عائد

    اسلام آباد ہائیکورٹ، عمران خان کی پیشی کے موقع پر پیمرا کی جانب سے کوریج پر پابندی کا کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعتراضات دور کرنے کی ہدایت کردی ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی ،عدالت نے مصدقہ دستاویزات نا ہونے کے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ سماعت کی ،وکیل فیصل فرید چوہدری عدالت کے سامنے پیش ہوئے ،عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ آرڈر کی مصدقہ کاپیز ساتھ منسلک کریں ،عدالت نے اعتراضات دور ہونے کے بعد نمبر لگانے کی ہدایت کر دی پیمرا نے عمران خان کی پیشی کے موقع پر ایک دن کوریج کی پابندی عائد کی تھی

    واضح رہے کہ 27 مارچ کو عمران خان جب اسلام آباد عدالت میں پیشی کے لئے گئے تھے تو پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی عائد کر دی تھی کوریج پر پابندی امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر عائد کی گئی تھی نوٹیفکیشن کے مطابق پیمرا نےوفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ریلیوں، جلسے، جلوس اورعوامی اجتماع کی لائیو اور ریکارڈڈ کوریج پر پابندی عائد کر دی، پابندی اسلام آباد کی حدود میں صرف آج کے لیے جلسوں اور ریلیوں کی کوریج پر عائد کی گئی۔

    پیمرا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پابندی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خط کے تناظر میں عائد کی گئی ہے، چینلز نے پُرتشدد ہجوم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کی براہ راست فوٹیجز نشر کیں، ایسی فوٹیجز کی براہ راست نشریات نے افراتفری اور خوف و ہراس پھیلایا۔

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی 

  • توشہ خانہ کیس: عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

    توشہ خانہ کیس: عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

    اسلام آباد کی سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت کی عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے عدالت میں آج حاضری سےاستثنیٰ کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ آج بھی اسلام آباد بار کی ہڑتال ہے اور 3 روز سے ہڑتال چل رہی ہے۔

    اس پر وکیل امجد پرویز نے کہا کہ وکلا کی ہڑتال میں عمران خان تو شامل نہیں، اگروکیل ملزم ہڑتال پر ہوتے تو عمران خان کو کمرہ عدالت میں ہونا چاہیے تھا، ٹرائل کی اسٹیج پر ملزم کی کمرہ عدالت میں حاضری لازم ہوتی ہے، عمران خان کو آنا چاہیے اگر ان کے وکیل ہڑتال پر جانا چاہتے ہیں۔

    عمران خان کی جان کو خطرہ ہے، حکومت نے ان سے سیکیورٹی واپس لے لی ہے، چیف جسٹس اسلام آباد نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکیورٹی واپس لینے پر رپورٹ طلب کرلی ہے، سیکیورٹی خدشات کے باعث عمران خان سیشن عدالت میں موجود نہیں، وہ تو ویڈیو لنک کے ذریعے بھی عدالت میں پیش ہوسکتے ہیں، توشہ خانہ کیس میں کیا جلدی ہے، معمول کے مطابق ڈیل کیا جائے، سپریم کورٹ نے کہا کریمنل کیسز کو جلد نمٹایا جائے، لہٰذا عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی جائے تاہم دیگر عدالتی کارروائی جاری رکھیں گے۔

    وکلا کے دلائل پر جج نے استفسار کیا کہ مشترکہ مشاورت سے عدالتی سماعت سے متعلق بتا دیں، اس پر وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ رمضان کے بعد توشہ خانہ کی سماعت رکھ لیں، کیا جلدی ہے؟جج نے فریقین کو ہدایت کی کہ آپ مشاورت کرلیں، عدالت تو ساڑھے 8 بجے بیٹھ گئی ہے۔

    خواجہ حارث نے سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کرنے کی تجویز دی جس پر عدالت نے مزید سماعت 29 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔

    علاوہ ازیں عمران خان کے وکلا کی جانب سے کیس قابل سماعت ہونے کی درخواست بھی دائر کی گئی ہے اور آئندہ سماعت پر توشہ خانہ کیس کے قابلِ سماعت ہونے پر دلائل دیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لئے دائر کیا جانے والا توشہ خانہ ریفرنس حکمران جماعت کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف کو فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ڈکلیئر نہیں کیا۔

    آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے موقف اپنایا تھا کہ 62 ون ایف کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے جب کہ سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔

    واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو بھی آئین کی اسی شق کے تحت اسی نوعیت کے معاملے میں تاحیات نااہلی قرار دیا گیا تھا، ان پر اپنے بیٹے سے متوقع طور پر وصول نہ ہونے والی سزا گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کا الزام تھا۔

  • جو کہتا تھا قانون سب کے لیے برابر ہے وہ آج قانون کا سب سے بڑا مفرور ہے،مریم نواز

    جو کہتا تھا قانون سب کے لیے برابر ہے وہ آج قانون کا سب سے بڑا مفرور ہے،مریم نواز

    قصور: مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا نام لیے بغیرتنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو کہتا تھا قانون سب کے لیے برابر ہے وہ آج قانون کا سب سے بڑا مفرور ہے۔

    باغی ٹی وی: قصور میں عوامی جلسہ سےخطاب کے دوران انہوں نےکہا کہ کھڈیاں والوں نے مینار پاکستان پر جلسہ کرنے والوں کو کھڈے میں پھینک دیا سوچا بھی نہیں تھا کہ پورا کھڈیاں باہر آجائے گا، ملک احمد خان زندہ باد، کھڈیاں اور قصور کل اور آج بھی نوازشریف سے محبت کرتا ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ جتنے مرضی "پامبڑ” مچ جائیں سچ بولنے سے باز نہیں آؤنگی، 5 سال ان "پامبڑوں” سے گزر کر آئی ہوں نہیں ڈروں گی، قصور والوں کا شعور بہت زبردست ہے، جب الیکشن چوری کیا گیا قصورسے پوری سیٹیں جیتی تھیں، کھڈیاں والوں نے سب سے پہلے گھڑی چور کو پہچانا تھا پوری دنیا جان گئی ہے یہ فتنہ حکومت میں ہو تو تباہی اور باہر ہو تو بربادی ہے، گیدڑ کو لیڈر کا ماسک پہنانے کی پوری کوشش کی گئی،ماسک اترا تو گھڑی چور نکلا جب لیڈر کا ماسک نکلا تو بیچ میں توشہ خانہ چور نکلا، جب لیڈر کا ماسک اترا ہیروں کے سیٹ لینے والا نکلا، گزشتہ 6 سے 7 سال گدھے پرلکیریں ڈال کر زیبرا بنانے کی کوشش کی گئی، گدھا تو گدھا ہی ہوتا ہے، سہولت کار ہٹے تو گدھے کی لکیریں مٹ گئیں، اب وہ گدھا ریاست کو لاتیں مار رہا ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ جس طرح اس کی درگت بنی سہولت کاروں نے بھی کانوں کو ہاتھ لگا لیا، کہتا تھا قانون سب کے لیے برابر ہے، آج قانون کا یہ سب سے بڑا مفرور ہے، عدالتوں نے کہا کہ پیش ہو لیکن وہ ٹانگ پر پلستر چڑھا کر بیٹھا ہے، چھتوں کے پلستر بھی کھل جاتے ہیں لیکن اس کی ٹانگ کا پلستر نہیں کھل رہا کبھی کہتا ہے بیمار ہوں کبھی کہتا ہے بزرگ ہوں، زمان پارک سے پولیس والوں پر پٹرول بم پھینکے گئے، بڑا معصوم سا منہ بنا کر کہتا ہے کہ میری بیوی زمان پارک میں اکیلی تھی، اگر تمہاری بیوی اکیلی تو زمان پارک میں پٹرول
    https://twitter.com/pmln_org/status/1641066552857358336?s=20


    مریم نواز نے کہا کہ

    مریم نواز نے کہا کہ انہوں نے زمان پارک میں دہشت گرد چھپائے ہوئے تھے، گلگت بلتستان کی پولیس کو بلا کر پنجاب پولیس پر حملہ کرایا گیا، اس آدمی کو شرم نہیں آتی، دنیا کی تاریخ میں اس سے زیادہ بزدل انسان نہیں دیکھا، پہلے کئی ماہ چارپائی کے نیچے سے نہیں نکلا تھا، اب نکلتا ہے تو جنگلا نما گاڑی میں بیٹھ جاتا ہے، جب گاڑی سے نکلتا ہے تو کالا ڈبہ سر پر رکھ لیتا ہے، کالا سا گھونگٹ نکال کر دلہن بن جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مینار پاکستان کے سٹیج کو بنکرمیں تبدیل کر دیا، بلٹ پروف بنکر سے قوم کو کہتا ہے خوف کے بت کو توڑ دو، اتنا ڈرپوک شخص تاریخ میں نہیں دیکھا، تمہاری جان اگر قیمتی ہے تو جلسے میں آنے والوں کی بھی قیمتی ہے اس کے اپنے بچے لندن میں محفوظ ہیں، قوم کے بچوں کو سڑکوں پر مار کھانے کے لیے چھوڑا ہےیاد رکھنا اگر آپ پر کوئی تکلیف آئی تو میں سامنے کھڑی ہوں گی، مینار پاکستان میں اس کی تقریر ایک ہارے ہوئے شخص کی تھی، عمران خان سن لو یہ قوم اب تمہیں کبھی اقتدار میں نہیں آنے دے گی، دس نکاتی ایجنڈا پیش کر رہا تھا، جب 4 سال اقتدار میں تھا تب دس نکاتی ایجنڈا کہاں سو رہا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ پہلا شخص ہے جو روز قتل کی کہانی گھڑ کر سناتا ہے، کبھی رانا ثنا اللہ، کبھی کہتا ہے آئی جی پنجاب قتل کرنا چاہتا ہے، ایسے بندے کو چڑیا گھر میں رکھنا چاہیے اور ٹکٹ لگنی چاہیے، آج اس ذہنی مریض کے کہنے پرعدالتیں سوموٹو لے رہی ہیں، عمر عطا بندیال صاحب اس بندے کے پیچھے نہ لگیں، اس نے ہر سہولت کار کو استعمال کیا پھر مٹی پلیت کرتا ہے۔

    جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ انشااللہ الیکشن ہو گا، ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، ہم عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں، الیکشن ہو گا لیکن الیکشن سے پہلے سلیکشن کا فیصلہ ہو گا، ایک منشیات زدہ شخص کے کہنے پر پنجاب کی اسمبلی کیوں توڑی گئی، حمزہ شہبازکی حکومت توڑکر 25 ارکان کو عمران کی جھولی میں پھینکا گیا چار، تین کا فیصلہ دو، تین سےکس نے تبدیل کیا، کیا یہ پاکستان کے عوام سے دھوکہ نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پرویز الہیٰ کی حکومت لانے کے لیے 25 ایم پی ایز کوعمران کی جھولی میں ڈالا گیا تب آئین نے دستک نہیں دی، جب منتخب وزیراعظم کو نکالا گیا اس وقت آئین پاکستان نے دستک نہیں دی، کھڈیاں والو اپنے دشمن کا نام سنو جسٹس کھوسہ، ثاقب نثار نے کہا نوازشریف کے خلاف درخواست لاؤ ہم باہر کرتے ہیں، اس وقت آئین پاکستان نے دستک نہیں دی؟ نوازشریف کو سزا دینے والوں کی گواہیاں آچکی ہیں-

  • مسائل کے حل کیلیے ان کیساتھ بھی بیٹھنا پڑیگا جن کی شکل ہمیں پسند نہیں،بلاول

    مسائل کے حل کیلیے ان کیساتھ بھی بیٹھنا پڑیگا جن کی شکل ہمیں پسند نہیں،بلاول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین، وزیر خارجہ بلاول زرداری نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہر خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت مسائل سے دوچار ہے، ہم نے انتہا پسندی کا مقابلہ کیا ہے ، جمہوری آئینی بحران دیکھا ہے ،آمروں کا ہم نے مقابلہ کیا ہے،

    وزیر خارجہ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستانی اس وقت تاریخی مہنگائی غربت بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں، معاشی بحران کی وجوہات ایسی بھی ہیں جسکی صورتحال ہمارے ہاتھ میں نہیں ،کورونا کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہا،ہم نے کورونا کے بعد قدرتی آفت سیلاب کا سامنا کیا ،ہر سات میں سے ایک پاکستانی اس سیلاب سے متاثر ہوا ، اس قدرتی آفت کی وجہ سے ہمارے معیشت کے مسائل مزید بڑھے، اس مشکل وقت میں دہشتگردوں نے اپنا سر اٹھایا،پاکستان کو ان دہشتگردون سے ہم نے آزاد کرایا تھا، ہم نے وہ کام کر کے دکھایا جو سپر پاورز نیٹو بھی نہیں کر سکی ،ہم نے دہشتگردوں کی کمر توڑی تھی بدقسمتی سے ہم پر ایسا وزیر اعظم مسلط کر دیا گیا جس نے عوام کے پیچھے فیصلہ کیا کہ وہ ان دہشتگردوں کو معاف کرے،ہم نے دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کیا جسکی کوئی مثال نہیں ملتی، اس نااہل نالائق سلیکٹڈ نے ایک طرف ملک کو معاشی ڈیفالٹ کی طرف دھکیلا ، دوسری طرف اس نے ملک میں دوبارہ دہشتگردی لائی، قوم نے دہشتگردی کا بہادری سے مقابلہ کیا پاکستان سے دہشتگردی ختم کی ،عمران خان نے دہشتگردوں کو جیلوں سے رہا کیا،

    وزیر خارجہ بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو معاشی اور سیکورٹی بحران کا سامنا ہے اسکے پیچھے سیلیکڈڈ وزیراعظم ہے۔ قبائلی علاقوں میں جب امن آیا معاشی ترقی شروع ہوئی، اسی سلیکٹڈ وزیر اعظم نے افغانستان سے دہشتگردوں کو قبائلی علاقوں میں بسایا،کچھ آئینسٹائین ایسے فیصلے کرتے ہیں جو ہمارے گلے پڑ جاتے ہیں ،آئین توڑنے والے ہمارے اپوزیشن ہیں اور ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں ،اگر قانون توڑا گیا تو وزیراعظم کیس فائل کریں ،ہمیں عوام کو بتانا چاہیئے کہ چل کیا رہا ہے ،ہم نے تاریخ میں دیکھا ہے کبھی چیف جسٹس تو کبھی آمر وزیراعظم کو باہر کرتا ہے،کوئی تو وجہ ہے تمام آمروں کی اولادیں تحریک انصاف میں ہیں ،اگر یوسف رضا کو نااہل کروایا گیا تو وہ چیف جسٹس کی قیادت میں فیصلہ سنایا گیا تھا ۔ثاقب نثار بطور چیف جسٹس پیسہ اکھٹا کرتے رہے اور سیاست میں مشورے دیتے رہے، ہم حکومت پاکستان اور وزیر قانون کو کہتے ہیں کہ یہ قانون کیوں تاخیر سے لایا گیا قانون سازی کے ذریعے ایک شخص ایک قانون کی روایت کو توڑنے جا رہے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ نہ میرا نہ آپکا ہم سب کا پاکستان ، اس معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آپس میں بیٹھنا ہو گا، ہمیں مسائل کے حل کے لیے ان کیساتھ بھی بیٹھنا پڑےگا جن کی شکل ہمیں پسند نہیں،

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش 

     سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • مبینہ بیٹی چھپانے کے الزام میں نااہلی کیس،ڈی این اے نہیں لیا جا سکتا،وکیل

    مبینہ بیٹی چھپانے کے الزام میں نااہلی کیس،ڈی این اے نہیں لیا جا سکتا،وکیل

    مبینہ بیٹی ٹیریان کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پرعمران خان نااہلی کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل میں کہا کہ جو فنانشلی طور پر زیرکفالت ہیں ان سے متعلق بیان حلفی میں ذکرکرنے کا کہا گیا،جسٹس محسن اخترکیانی نے سوال کیا کہ کیا عوام کو پتہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے نمائندے کے فیملی ممبرز کون کون ہیں ؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ بیان حلفی آج بھی نامزدگی فارم کا حصہ ہوتا ہے،عمران خان کے وکیل نے زیرکفالت ہونے سے متعلق پانامہ پیپرزکیس کا حوالہ دیا اور ساتھ ہی ٹیریان سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 2 فیصلوں کا حوالہ بھی دیا،وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ کیلیفورنیا عدالت کا فیصلہ یکطرفہ تھا درخوست گزار شہری کون ہیں؟ میں نے کبھی نہیں دیکھا، درخواست گزارکی جمع کرائی گئی فیصلوں کی نقول تصدیق شدہ نہ ہونے کا سوال بھی ہے،پانامہ کیس میں سوال آیا تھا کہ مریم نواززیر کفالت ہیں یا نہیں؟ زیرکفالت پر اس کیس میں مفصل بحث ہوئی،کم عمربچوں کو زیرکفالت کی کیٹیگری میں ظاہرکرنا لازم تھا، ٹیریان کی عمرکاغذات نامزدگی کے وقت 26 سال اور اب 31 سال ہے ،

    عمران خان کے وکیل نے ڈی این اے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا ،وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ ریاست کسی سے زبردستی ڈی این اے نہیں لے سکتی،ڈی این اے دینے کے حوالے سے متاثرہ فریق کی مرضی ضروری ہوتی ہے، اس کیس میں بھی ڈی این اے اسی وقت ہوسکتا ہے جب وہ خود چاہے پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں کہ آپ کسی کا زبردستی ڈی این اے لینے کا کہیں عمران خان اس وقت پبلک آفس ہولڈر نہیں اس لیے پٹیشن قابل سماعت نہیں ،عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی قانون کسی کو باہر سے بلا کر نہیں کہہ سکتا کہ ڈی این اے سیمپل دو، اس ایک نکتے پریہ کیس “ڈیڈ اینڈ” پر پہنچ جاتا ہے ڈی این اے سیمپل ریپ کیس کے متاثرہ سے بھی زبردستی نہیں لیا جا سکتا، ڈی این اے سیمپل دینا ایک رضاکارانہ کام ہوتا ہے ،ڈی این اے کو شواہد کا حصہ بنانے کا فیصلہ سپریم کورٹ نے میری استدعا پر دیا تھا اس قانون کے مطابق بھی کسی سے جبراً سیمپل لینے پرپابندی ہے

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے شہری محمد ساجد نے عمران خان کی نااہلی کی درخواست دائر کر رکھی ہے ,درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے کاغذاات نامزدگی جمع کراتے وقت غلط معلومات فراہم کیں ،عمران خان نے بچوں کی تفصیل میں ایک بچے کی معلومات چھپائیں، عمران خان نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیٹی کا ذکر نہیں کیا درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولنے پر عمران خان کو نااہل قرار دے، عدالت آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کو نااہل قرار دے۔

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • رانا ثناء اللہ کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست جمع

    رانا ثناء اللہ کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست جمع

    سابق وزیراعظم عمران خان کو جان سے مارنے کی مبینہ دھمکی کے جوالہ سے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی گئی ہیں

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست تھانہ سٹی رینالہ خورد اور تھانہ سٹی ساہیوال میں دی گئی ہیں، درخواست کاشف مجید ایڈوکیٹ کی مدعیت میں دی گئی، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ نے بیان میں کہا کہ عمران خان رہے گا یا ہم رہیں گے، رانا ثنااللہ کی کھلی دھمکی ہے،وزیر داخلہ جان بوجھ کر ملک میں انارکی پھیلا رہا ہے ،رانا ثنااللہ نے کہا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عمران خان کو دھمکیاں دے کر ملکی حالات خراب کر رہا ہےدرخواست میں مزید کہا گیا کہ اس سے قبل بھی وزیر آباد میں عمران خان کو جان سے مارنے کے لیے حملہ کرایا گیا تھا۔

    ساہیوال میں بھی وزیر داخلہ کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پی ٹی آئی کے رہنما و صدر لائرز فورم ملک سجاد اعوان ایڈووکیٹ نے تھانہ سٹی میں جمع کرائی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ رانا ثناء اللہ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو جان سے مارنے کی دھمکی دی اشتعال انگیز بیان دے کر یہ عمران خان کو مروانا چاہتا ہے مقدمہ درج کیا جائے

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری میں تبدیل کردیا

  • خاتون جج دھمکی کیس ، عمران خان کے ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    خاتون جج دھمکی کیس ، عمران خان کے ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت ہوئی

    خاتون جج زیبا چودھری کو دھمکی دینے کے کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے کی سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے وکلاء نے عدالت میں قابل ضمانت وارنٹ بحال رکھنے کی استدعا کر دی ،وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو سکیورٹی خدشات ہیں جان کو خطرہ ہے ان سے سکیورٹی واپس لینے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی نوٹس جاری کیے ہیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے ابھی تک کوئی پیش نہیں ہوا ان کی طرف دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کہتے ہیں .عمران خان کے وکیل نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ابھی اسلام آباد ہائی کورٹ جا رہا ہوں، جج ملک امان نے کہا کہ آپ بیشک چلے جائیں آپ کے دلائل تو آ گئے ، عدالت نے کیس کی سماعت میں 11 بجے تک وقفہ کر دیا۔

    عمران خان کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت وقفے کے بعد شروع ہوئی،پراسیکوٹر راجہ رضوان عباسی سول جج ملک امان کی عدالت میں پیش ہوئے،پراسیکیوٹر نے کہا کہ حاضرنہ ہونے سے متعلق ٹھوس وجوہات بھی نہیں بتائی گئیں،
    عمران خان کی استثنیٰ کی درخواست خارج کی جائے،عمران خان کے نا قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں، سول جج ملک امان نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سنا دیا گیا، خاتون جج دھمکی کیس میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے، عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے عمران خان کو 18 اپریل کو پیش کرنے کا حکم دے دیا،

    دوسری جانب عمران خان کو آج اسلام آباد کچہری میں دو مختلف عدالتوں نے طلب کر رکھا ہے خاتون جج دھمکی کیس میں سول جج رانا مجاہد رحیم نے عمران خان کو طلب کر رکھا ہے جبکہ لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں عمران خان کو سول جج مبشر حسن چشتی نے طلب کر رکھا ہے

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری میں تبدیل کردیا

  • زلمے خلیل زاد عمران خان کے حمایت میں پھر سامنے آگئے

    زلمے خلیل زاد عمران خان کے حمایت میں پھر سامنے آگئے

    سابق امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی حمایت میں بول پڑے-

    باغی ٹی وی: زلمے خلیل زاد نے کہا کہ پاکستان کے وزیر داخلہ کا عمران خان سے متعلق بیان چونکا دینے والا ہے، قانون کی پاسداری کرنے والوں کو اس بیان کو مسترد کردینا چاہئے،یہ بیان ایک بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر کے خلاف تشدد کو ہوا دینے کے مترادف ہے،وزیراعظم کو اپنے وزیر کے بیان سے خود کو الگ کرنا چاہئے۔

    پی ٹی آئی پر آئندہ چند روز میں پابندی کے اشارے مل رہے ہیں،زلمے خلیل داد

    زلمے خلیل زاد نے کہا کہ یہ ذ ہنیت پاکستان کے غیر فعال ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے، یہ چیز ملک کو مزید بحرانوں میں دھکیلے گی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی زلمے خلیل داد پی ٹی آئی اور عمران خان کی حمایت میں بیان دے چکے ہیں اس پر پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی احتجاج کیا تھا،جس کے بعد امریکا نے زلمے خلیل زاد کے بیانات پر وضاحت بھی جا ری کی تھی-

    زلمے خلیل زاد کے عمران خان کے حق میں بیانات ،امریکہ کا لاتعلقی کا اظہار

    امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے پریس کانفرنس میں افغانستان کے لیے سابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے پاکستان کی سیاسی صورتحال سے متعلق بیانات پر وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ زلمےخلیل زاد کے بیانات کا امریکی خارجہ پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور زلمے خلیل زاد کا بیان انتظامیہ کی نمائندگی نہیں کرتا، زلمے خلیل زاد عام شہری ہیں اور ان کے بیانات ان کی ذاتی رائے ہے۔

    پاکستان اورچین کا اتحاد مضبوط لیکن چین کےمخالفین بالخصوص امریکا پاکستان سے مکمل اتحاد سے …