Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • ایسا سچ جسے جان کر ہر محب وطن پاکستانی غصہ نہ تو افسردہ ضرور ہوگا

    ایسا سچ جسے جان کر ہر محب وطن پاکستانی غصہ نہ تو افسردہ ضرور ہوگا

    ایسا سچ جسے جان کر ہر محب وطن پاکستانی غصہ نہ تو افسردہ ضرور ہوگا

    آئیے ایک ایسا سچ بتاتے ہیں جسے جان کر ہر محب وطن پاکستانی اگر غصہ نہ تو افسردہ ضرور ہو سکتا ہے، گزشتہ ہفتے نیویارک ، واشنگٹن اور لندن میں ماریشس کی ایک کمپنی نے آؤٹ ڈور پبلسٹی کے لئے مقامی سطح پر ایک ہزار سے زائد بل بورڈ اور لندن میں بسیں برانڈنگ کے لئے کرائے پر لی ہیں، یہ ایک حقیقت ہے اور معاہدہ دیکھ سکتے ہیں اس کمپنی کا مقصد ان بل بورڈز اور بسوں پر پاک فوج کے خلاف مہم چلانا اورپاکستان کو دنیا میں ایک ناکام ریاست بنا کر دکھانا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والا بدترین ملک ثابت کرناہے

    ماریشسس کی اس کمپنی کے مالکان ہندو ستانی ہیں اور ماریشس ہندوستانی خفیہ ایجنسی را کا ایک مضبوط گڑھ مانا جاتا ہے،جہاں را اسے اپنے شیطانی کاموں کے لئے آپریٹ کرتی ہے،اس کمپنی مالکان کا پاکستان میں ایل کے ایم ٹی نامی کمپنی کے مالک عاطف رئیس خان سے نہ صرف انکا گہرا تعلق ہے بلکہ کاروباری شراکت داری بھی ہے،ان مالکان نے عاطف رئیس کے ساتھ ملکر پاکستان میں ڈی ٹی ایچ کا لائسنس حاصل کرنے کے لئے بھی بولی جیتی،تا ہم آئی ایس آئی نے بروقت کاروائی کر کے ان مالکان کے را کے ساتھ تعلق ہونے کی وجہ سے سیکورٹی کلیئرنس نہیں دی،اور لائسنس جاری نہ ہو سکا،

    عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

  • آئندہ عدالت میں صرف متعلقہ افراد کو آنے کی اجازت دی جائے گی،جج کے ریمارکس

    آئندہ عدالت میں صرف متعلقہ افراد کو آنے کی اجازت دی جائے گی،جج کے ریمارکس

    انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد ،الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے پرعمران خان کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جوادعباس نے کیس کی سماعت کی ،عمران خان کے وکیل نعیم اور پراسیکوٹر عدنان علی عدالت پیش ہوئے،وکیل نعیم پنجوتھہ نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی، جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت زیادہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں آگئی ہیں، ایک کے بعد ایک آرہی ہے، ضرورت سے زیادہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں عمران خان کی آرہی ہیں،وکیل علی بخاری نے کہا کہ 6 اپریل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت ہے، عدالت نے کہا کہ تو پھر 6 اپریل کو انسدادِ دہشت گردی عدالت میں بھی عمران خان کی درخواستِ ضمانت پر سماعت رکھ لیں؟ اپنے کیریئر میں آج تک میں نے ایسی عدالت نہیں چلائی جیسے آپ کی وجہ سے چلانی پڑھی، آج عدالت واقعی عدالت لگ رہی ہے کیونکہ غیر متعلقہ لوگ عدالت میں موجود نہیں،میری عدالت میں 700 ملزمان کے کیس کی سماعت بھی ہو چکی آئندہ عدالت میں صرف متعلقہ افراد کو آنے کی اجازت دی جائے گی،

    اے ٹی سی جج راجہ جواد عباس کی عدالت میں پی ٹی آئی رہنما عاطف خان پیش ہوئے،تفتیشی افسر نے کہا کہ عاطف خان ابھی تک کیس میں شامل تفتیش نہیں ہوئے،جج نے ہدایت کی کہ 11 بجے تک شاملِ تفتیش ہو جائیں ورنہ درخواست ضمانت خارج کردیں گے، انسدادِ دہشت گردی عدالت نےسماعت میں 11 بجے تک وقفہ کردیا

    عمران خان کے خلاف تھانہ سنگجانی میں دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے

  • انسداد دہشتگردی عدالت، عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر آیا فیصلہ

    انسداد دہشتگردی عدالت، عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر آیا فیصلہ

    عمران خان کی تینوں مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع کر دی گئی.

    عدالت نے 13 اپریل تک عبوری ضمانت میں توسیع کی، جج عبہر گل نے بند کمرے میں عمران خان کی درخواست پر سماعت کی ،بند کمرے میں جے آئی ٹی سربراہ، عمران خان اور وکلاء موجود تھے،وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان شامل تفتیش ہو گئے ہیں۔

    عمران‌ خان سخت سیکورٹی میں عدالت میں پیش ہوئے،تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی انکے ہمراہ تھے،عمران خان کی عدالت پیشی کی ویڈیو سامنے آئی ہے، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلٹ پروف شیلڈز پہنے پولیس اہلکاروں نے عمران خان کو چاروں اطراف سے گھیر رکھا ہے جبکہ کچھ اہلکاروں نے انہیں چہرے پر بلٹ پروف بالٹی نما کیپ پہنا رکھی ہے، عمران خان کے سر کو ڈھانپا گیا ہے، عمران خان اب جب بھی باہر جاتے ہیں انکے سر کو ڈھانپا جاتا ہے،

    قبل ازیں لاہور انسداد دہشت گردی عدالت ،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر رہنماؤں کی عبوری درخواست ضمانتوں کا معاملہ ،عمران خان کے وکلاء نے انکی حاضری معافی کی درخواست دائر کر دی ،حاضری معافی کی درخواست عبہر گل خان کی عدالت میں دائر کی گئی ،عمران خان کی متعلقہ عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر رخصت پر ہیں ،وکیل عمران خان کے مطابق اعجاز احمد بٹر کی رخصت کے باعث عمران خان کی حاضری معافی کی درخواست جمع کرائی گئی،عمران خان کا باقاعدہ کیس متعلقہ عدالت میں زیر سماعت ہے،عمران خان جسکے باعث آج پیش نہ بھی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے،عدالت عمران خان کی آج کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرے،

    عمران خان نے تین مقدمات میں عبوری درخواست ضمانت دائر کر رکھی ہے عمران خان کی تین مقدمات میں حاضری معافی کی درخواست دائر کی گئی ہے ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان لاہور موجود ہیں ،عمران خان کو سکیورٹی خدشات بھی ہیں

    لاہور انسداد دہشت گردی عدالت،زمان پارک پولیس پر تشدد ،جلاو گھیراؤ اور قتل اقدام قتل کا مقدمہ ،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر رہنماؤں کی عبوری درخواست ضمانتوں کا معاملہ ہر کیس کی سماعت کا آغازہوا،عدالت میں میاں محمود الرشید،اعجاز چوہدری،مسرت جمشید چیمہ اور جمشید چیمہ نے حاضری مکل کرائی ،انسداد دہشت گردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل خان نے کیس پر سماعت کی

    عدالت نے حماد اظہر کی حاضری معافی کی درخواست خارج کر دی، فاضل جج نے کہا کہ کیا عبوری ضمانت میں حاضری معافی ہوتی ہے،یہ تو ٹرائل کا کیس ہے عدالت نے عمران خان کی حاضری معافی کی درخواست خارج کر دی،عدالت نے عمران خان کو گیارہ بجے پیش ہونے کا حکم دے دیا، فاضل جج نے کہا کہ آپ مجھے یہ بتا دیں کہ عمران خان نے آنا ہے کہ نہیں،میں نے تو قانون کو دیکھنا ہے، آپ دیگر عدالتوں کی مثالیں نہ دیں،اگر عمران خان آئیں گے تو تب ہی انکو ریلیف مل سکتا ہے،عمران خان کے مچلکے بھی نہیں ہیں ،عدالت نے فواد چودھری کی بھی حاضری معافی کی درخواست خارج کر دی

    عدالت نے سیکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے ایس پی سیکورٹی کو طلب کر لیا، فاضل جج نے کہا کہ آپ نے ایک ہفتے میں کیا کیا،آپ عمران خان کو بلا لیں،عدالت نے عمران خان کی سیکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست منظور کر لی عدالت نے انسداددہشت گردی عدالت کے سیکیورٹی انچارج کو عمران خان کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دے دیا ،انسداددہشت گردی عدالت کی جج عبہر گل خان نے درخواست پر سماعت کی

    بیان حلفی دیں کہ آپ نے دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں ضمانت دائر کی تھی, عمران خان کو بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت
    20 رمضان سے قبل پنشن اور تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، قائمہ کمیٹی
    سوال یہ ہے کہ اکتوبر میں کیسے ہوں گے الیکشن؟ عمران خان
    راہول گاندھی کو بھارتی پارلیمنٹ نے نااہل قرار دے دیا

  • کیا ہم کوئی غلام ہیں؟ عمران خان نے حکومت میں رہ کر حقیقی غلامی کا حق ادا کیا

    کیا ہم کوئی غلام ہیں؟ عمران خان نے حکومت میں رہ کر حقیقی غلامی کا حق ادا کیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو اسکے بعد انہوں نے امریکہ مخالف تحریک چلائی اور پھر امریکہ سے ہوتے ہوئے جنرل باجوہ تک پہنچ گئے ، کبھی محسن نقوی تو کبھی الیکشن کمیشن کو حکومت گرانے کا ذمہ دار دے دیتے ہیں وہیں عمران خان اب امریکہ سے تعلقات کی بہتری کے لئے فرم بھی ہائیر کر رہے ہیں

    عمران خان کا پرانا ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم غلام ہیں جو آپ کہیں گے ہم کر لیں گے؟ تا ہم حکومت میں رہتے ہوئے انکے سارے اقدامات اس جملے کے خلاف تھے، پاکستان میں جب بالا کوٹ والا واقعہ ہوا، اسکے بعد بھارت کے طیارہ گرا، بھارتی افسر پاکستان نے پکڑا اور پھر اسکو بھارت کے حوالے کر دیا، اس موقع پر عمران خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کیا تھا، عمران خان قومی اسمبلی میں کہتے ہیں کہ حملہ کر دیں ہندوستان پر ،یا کیا کروں میں پھر بتائیں یہ،

    عمران خان کا قومی اسمبلی میں یہ جملہ عمران خان کی ہی غلامی ظاہر کرتا ہے کہ عمران خان واقعی میں غلام ہیں اور غلامی کر رہے ہیں، وہ آزادانہ اور از ٌخود فیصلے نہیں کر سکتے،عمران خان کئی مقام پر اپنے خطابات اور انٹرویو میں ایسی کئی باتیں کہہ چکے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان اپنے دعوے کے الٹ واقعی میں غلام تھے،

    کیا ہم غلام ہیں کہ جو آپ کہیں گے ہم کر لیں گے،عمران خان کا یہ جملہ انکے منہ سے اچھا نہیں لگا تھا کیونکہ عمران خان نے غلام بن کر حکومت کی ، عمران خان ایک مقام پر کہتے ہیں جب ہم فرانس کے ایمبیسڈر واپس بھیج کر تعلقات توڑیں گے تو اس کا مطلب یورپی یونین سے تعلقات توڑیں گے،اسکا مطلب کیا ہے کہ جو ہماری آدھی ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ ہے وہ یورپی یونین میں جاتی ہے،اسکا مطلب ہے کہ آدھی ہماری ٹیکسٹائل ایکسپورٹ وہیں ختم ہو گئی،ہماری مین ایکسپورٹ ٹیکسٹائل ہے،جب ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ پر اثر پڑے گا تو روپے پر پریشر بڑھے گا، روپیہ گرے گا، مہنگائی بڑھے گی، تو اسکا نقصان ہمیں ہی ہونے والا ہے فرانس کو کوئی نہیں

    کیا ہم کوئی غلام ہین کا نعرہ لگانے والے عمران خان کا یہ بیان اسوقت سامنے آیا تھا جب پاکستانی قوم فرانس کے ساتھ بائیکاٹ کا کہہ رہی تھی اور ملک بھر میں احتجاج ہو رہا تھا، اسوقت عمران خان کو غلامی ہی عزیز تھی اور انہوں نے پاکستانی قوم کے جذبات کو مجروح کیا،

    عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

  • عمران خان کیخلاف نیب تحقیقات،ہم ابھی نیب کو کسی چیز سے روک نہیں رہے،عدالت

    عمران خان کیخلاف نیب تحقیقات،ہم ابھی نیب کو کسی چیز سے روک نہیں رہے،عدالت

    توشہ خانہ کیس میں نیب تحقیقات،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر نوٹس جاری کر دیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی ڈویژن بینچ نے توشہ خانہ کیس میں طلبی کے نیب نوٹسز کے خلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر سماعت کی ،درخواست گزار کی جانب سے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے، خواجہ حارث نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب نوٹس میں نہیں بتایا گیا کس حیثیت میں انفارمیشن مانگی جارہی ہے عدالتی فیصلے آ چکے اس لیے نوٹس کی مکمل معلومات دینا ضروری ہے نیب پر لازم ہے وہ مکمل معلومات فراہم کرے نیب کے پرانے قانون کے ہوتے یہ فیصلے آچکے تھے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ابھی جو نیب قانون میں ترامیم آئی ہیں ان میں نوٹس کا کیا طریقہ ہے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ ترمیمی قانون کہتا ہے بتانا لازم ہے آپ کسی کو کیوں بلا رہے ہیں ترمیمی قانون میں بتانا ہوگا کسی کو بطور ملزم بلایا یا کسی دوسری وجہ پر بلایا عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کو طلبی کے نوٹس آ گئے ہیں؟ خواجہ حارث نے بتایا کہ کال اپ نوٹس آ گئے ہوئے ہیں، خواجہ حارث نے نیب کے نوٹسز عدالت میں پیش کر دیے اورکہا کہ ان نوٹسز میں نیب نے ہمیں معلومات فراہم نہیں کیں ان میں صرف لکھا گیا پبلک آفس ہولڈرز کے خلاف انکوائری ہے

    عدالت نے کمرہ عدالت میں موجود نیب پراسیکیوٹر کو روسٹرم پر بلا لیا تو نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ عمران خان کو یاد دہانی کا نوٹس بھیجا گیا تھا اس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے نوٹسز میں عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نظر نہیں آتا ہم ابھی نیب کو کسی چیز سے روک نہیں رہے نیب جو سوال پوچھنا چاہے پوچھ سکتا ہے بھلے وہ کوئی میٹریل نہ ہو ہم ان درخواستوں پر آرڈر جاری کریں گے بعد ازاں عدالت نے نیب نوٹسز کے خلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کر دیا ہے

    یاد رہے کہ 16 اور 17 فروری کے نیب کال اپ نوٹسز ہائیکورٹ میں چیلنج کیے گئے ہیں ،چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور بشریٰ بی بی تاحال نیب آفس پیش نہ ہوئے  عمران خان کی جانب سے نیب میں طلبی کے نوٹس غیرقانونی قرار دینےکی استدعا کی گئی ہے عمران خان نے کیس کا فیصلہ آنے تک نیب کو تادیبی کاروائی سے روکنے کی استدعا بھی کی ہے عمران خان نے درخواست کی ہے کہ نیب کے 16 فروری اور17 مارچ کے نوٹس غیرقانونی قرار دیے جائیں، درخواست پر فیصلہ آنے تک انکوائری کو انویسٹیگیشن میں تبدیل کرنے سے روکا جائے۔

    عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو سیشن کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

  • رکن اسمبلی کو نااہل قرار دینے کے اختیار کیخلاف درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس

    رکن اسمبلی کو نااہل قرار دینے کے اختیار کیخلاف درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس

    لاہور ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کے رکن اسمبلی کو نااہل قرار دینے کے اختیار کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پروفاقی حکومت اورالیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرکے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ،عدالت نے درخواست پر اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی معاونت کیلئے طلب کر لیا ہے ،جسٹس شاہد کریم نے درخواست پر سماعت کی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک انتظامی ادارہ ہے،الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کرانا اورحلقہ بندیاں کرانا ہے، یہ ادارہ عدالتی اختیارات استعمال نہیں کر سکتا نہ ہی اس ادارے کو براہ راست کسی کو نا اہل قرار دینے کا قانونی اختیار ہے الیکشن کمیشن کو نااہل کرنے کے اختیار کو کالعدم قرار دیا جائے،

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں الیکشن ایکٹ 2017کی سیکشن 137(4)کو آئین پاکستان سے متصادم قرار دینے کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے درخواست پر وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ،جسٹس شاہد کریم نے متفرق درخواست پر سماعت کی درخواست میں وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام ملک میں عام انتخابات کرانا اور حلقہ بندیاں کرانا ہے یہ ادارہ عدالتی اختیارات استعمال نہیں کر سکتا ،نہ ہی اس ادارے کو براہ راست کسی کو نا اہل قرار دینے کا قانونی اختیار ہے الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ میں عمران خان کو نا اہل قرار دیا۔لاہور ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف اپیل زیر سماعت ہے اب الیکشن کمیشن عمران خان کو پارٹی صدارت سے نا اہل کرنا چاہ رہا ہے،عدالت الیکش۔ ایکٹ 2017کی سیکشن137(4) کو آئین پاکستان سے متصادم قرار دے،عدالت الیکشن کمیشن کو عمران خان کو پارٹی صدارت سے ممکنہ نااہلی روکے

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • عمران خان کی تقاریر پر پابندی ، پیمرا کو نوٹس جاری، جواب طلب

    عمران خان کی تقاریر پر پابندی ، پیمرا کو نوٹس جاری، جواب طلب

    لاہورہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کے بیانات ٹی وی چینلز پر نشرنہ کرنے پر پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    دوران سماعت جسٹس شمس محمود مرزا نے درخواست گزار کے وکیل کو کہا کہ آپ کو دستاویزات سے ثابت کرنا ہوگا کہ عدالت کی حکم عدولی ہوئی ہے ،لاہر ہائیکورٹ نے عمران خان کی تقاریر پر پابندی پرپیمرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا

    عمران خان کی جانب سے بیرسٹر احمد پنسوتا کے ذریعے توہین عدالت کی دائر درخواست میں چیئرمین پیمرا کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے پیمرا کی پابندی کا نوٹیفیکیشن معطل کر رکھا ہےاس کے باوجود ٹی وی چینلز پر نشر نہ کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کو عمران خان کی تقاریر نشر نہ کرنے کے لیے پریشرائز کیا جا رہا ہے۔ پیمرا کی جانب سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

    عمران خان کی جانب سے درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین پیمرا کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا جائے اور لاہورہائیکورٹ چیئرمین پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائے ،عدالت نے چیئرمین پیمرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا

    یاد رہےکہ پیمرا نےتمام ٹی وی چینلز پرچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی تقاریربراہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کردی تھی نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ’عمران خان کی تقریر پر پابندی پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت لگائی گئی ہے

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی 

  • عمران خان کی سیکورٹی کی درخواست،وزارت داخلہ کو جواب جمع کروانے کا حکم

    عمران خان کی سیکورٹی کی درخواست،وزارت داخلہ کو جواب جمع کروانے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان پر سابق وزیراعظم عمران خان کو سیکیورٹی فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کو بطور سابق وزیراعظم سکیورٹی نہیں مل رہی؟ عمران خان کے وکیل فیصل فرید ایڈووکیٹ نے عدالت میں کہا کہ عمران خان کی سکیورٹی واپس لے لی گئی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کسی کو خطرات لاحق ہونے پر سکیورٹی کے کیا ایس او پیز ہیں؟ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے بہت سی سکیورٹیز واپس لی تھیں، سابق چیف جسٹس نے یہ بھی کہا تھا کہ کسی کو خطرہ ہو تو سکیورٹی دی جا سکتی ہے، کیا وہ ایس او پیز اب بھی ان فیلڈ ہیں یا نہیں یہ بھی دیکھ لیں

    فیصل فرید ایڈووکیٹ نے عدالت میں کہا کہ پولیس جس کے ماتحت ہے وہی دھمکیاں دے رہا ہے عدالت نے وزارت داخلہ اور وفاق کو 6 اپریل کو جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی تھی، درخواست میں وفاق، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشن کو فریق بنایا گیا عمران خان نے موقف اختیار کیا کہ رانا ثنا اللہ نے ایک انٹرویو میں ڈائریکٹ دھمکیاں دی ہیں، فریقین کو میری گرفتاری کر کے اپنے منصوبے پر عمل درآمد سے روکا جائے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کھلی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ہم سمجھیں گے کہ ہمارے وجود کی نفی ہورہی ہے تو ہم تو ہر اس حد تک جائیں گے

    واضح رہے کہ نجی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان نے سیاست کو وہاں لاکر کھڑا کردیا ہے کہ اب دونوں میں سے ایک کا وجود ہی باقی رہنا ہے، اس لیے جب ہم سمجھیں گے کہ ہمارے وجود کی نفی ہورہی ہے تو ہم تو ہر اس حد تک جائیں گے، جس میں یہ نہیں سوچا جاتا کہ یہ کام کریں یہ نہ کریں یہ جمہوری ہے، اور یہ غیرجمہوری ہے، یہ اصولی ہے اور یہ غیر اصولی، یہ چیزیں ختم ہوجاتی ہیں۔

     فیصلے کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوگی نہ اخلاقی

     چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کا بار بار ٹوٹنا سوالیہ نشان ہے،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ 90 دن میں الیکشن کا ہونا ہے،عمران خان

    اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ 90 دن میں الیکشن کا ہونا ہے،عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ ماننے کا مطلب ہو گا کہ ملک میں آئین اور قانون ختم ہو گیا-

    باغی ٹی وی : ایک انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت سے مذاکرات صرف الیکشن پر ہی ہو سکتے ہیں اور ان مذاکرات کا بھی وہ خود حصہ نہیں بنیں گے میں نے ان کے ساتھ نہیں بیٹھنا، ہماری ٹیم بیٹھے گی لیکن بات صرف الیکشن کی ہے گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی بڑی بڑی باتیں چھوڑیں، پہلے تو آئیں الیکشن کے اوپر اگر آپ الیکشن ہی نہیں کروا سکتے تو کون سا ڈائیلاگ کرنا ہے کسی سے۔

    جسٹس فائز عیسی حکمنامے کے بعد از خود نوٹس کیس کی سماعت نہیں ہو سکتی. امان اللہ کنرانی

    چئیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ 90 دن میں الیکشن کا ہونا ہے اگر انتخابات 90 دن میں نہیں ہوتے تو پھر اکتوبر میں کیوں ہوں؟ پھر کہیں گے اگلے سال بھی کیوں ہوں؟ پھر تو جو طاقت ور فیصلہ کرے گا وہی ہو گا۔

    پی ڈی ایم کی جانب سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر عدم اطمینان کے اظہار پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہ ماننے کا مطلب ہو گا کہ ملک میں آئین اور قانون ختم ہو گیا-

    انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو توسیع نہ دے کر نوازشریف نے اچھا کام کیا تاہم ساتھ ہی عمران خان نے ساتھ ہی قمر جاوید باجوہ کو تاحیات ایکسٹینشن کی آفر دینے کی تردید کر دی۔

    عمران خان نے کہا کہ ہمیں پتا چلاتھا کہ شہبازشریف نے قمر جاوید باجوہ کو توسیع کی پیشکش کر دی ہے تو میں نے کہا اگر وہ توسیع دے رہے ہیں تو ہم بھی آپ کو دے دیتے ہیں، جنرل باجوہ کو توسیع نہ دے کر نوازشریف نے اچھا کام کیا، ہر انسان غلطیاں کرتا ہے مجھ سے بھی غلطیاں ہوئیں یہ جھوٹ ہے کہ ہم نے جنرل باجوہ کو تاحیات توسیع کی پیشکش کی –

    جسٹس فائز عیسی حکمنامے کے بعد از خود نوٹس کیس کی سماعت نہیں ہو سکتی. …

    انہوں نے بتایا کہ اقتدار کے بعد میری ان سے دو میٹنگ ہوئیں جس کا مقصد الیکشن کرانا تھا، میں نے ان کو کہا کہ ملک نیچے جا رہا ہے سوائے الیکشن کے کوئی راستہ نہیں، جب انہوں نے ہمارے اتحادیوں کو لوٹے بنا کر دوسری طرف بھیجا تو میں نے الیکشن کا اعلان کر دیا سوموٹو ایکشن لیا گیا، 12 بجے عدالتیں کھلیں، ہمارے الیکشن کے اعلان کو رد کر دیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ شروع میں جنرل باجوہ اور ہم خارجہ پالیسی سمیت دیگر ایشوز پر ایک صفحے پر تھے، آخری 6 ماہ میں چینج آیا، خارجہ پالیسی میں بھی ایک دم تبدیل ہوگئے، ہم چاہتے تھے کہ یوکرین جنگ میں ہم نیوٹرل رہیں، ایک دم ان کو یہ ہوا کہ ہمیں روس کی مذمت کرنی چاہیے یہ ساری گیم اپنی توسیع کیلئے ہوئی تھی، شہباز شریف سے انڈراسٹیڈنگ ہوئی تھی کہ قمر جاوید باجوہ کو توسیع مل جائے گی۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی …

    عمران خان نے کہا کہ توسیع کے بعد جنرل باجوہ نے این آرو کی بات کی، پہلے کبھی نہیں کی ضمنی انتخابات میں عوام نے پی ڈی ایم اور اسٹیبلشمنٹ کو شکست دی، واضح ہوگیا کہ 2018 کے الیکشن میں ہمیں عوام نے جتوایا تھاہمارے ورکرز پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کہ کسی طرح ان چوروں کو قبول کر لیں۔

  • عمران خان نے نوجوانوں اور عوام سے فراڈ کیا،مریم اورنگزیب

    عمران خان نے نوجوانوں اور عوام سے فراڈ کیا،مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عمران خان نے نوجوانوں اور عوام سے فراڈ کیا، اس نالائق نے اپنی حکومتیں خود گرائیں-

    باغی ٹی وی: وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے عمران خان کے بیان پر ردِعمل میں کہا کہ جن سہولت کاروں کی تسلیوں پر اس نے اسمبلیاں توڑیں ، وہ اب دم توڑ رہے ہیں، عمران خان نے اپنے سہولت کاروں کے کہنے پر آئین توڑا، پیٹرول بم برسانے والے دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ہے ۔

    90 روز میں الیکشن نہ ہوئے تو قانون کسی کی حفاظت نہیں کرپائےگا،عمران خان

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عمران خان فارن فنڈنگ، گھڑی چوری اور اپنی بیٹی کو بیٹی نہ ماننے کی وجہ سے نااہل ہوں گے،عمران خان نے بیرونِ ملک سے 200 ارب ڈالر لانے تھے ، ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر بھی دینے تھے، مگر عمران کے دھوکے اور فراڈ کا وقت تمام ہو چکا ۔

    90 روز میں الیکشن نہ ہوئے تو ہم سڑکوں پر ہوں گے،عمران خان

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جو شخص جہاں بھی اس فتنے اور فساد کا سہولت کار ہے وہ قوم کا مجرم ہے، عمران خان نے نوجوانوں اور عوام سے فراڈ کیا، ملک میں معاشی ، سیاسی اور آئینی بحران کے ذمہ دار عمران خان ہیں اس نالائق نے اپنی حکومتیں خود گرائیں۔

    وزیر اعظم کی مفت آٹےکےمراکز پرشناختی کارڈ کی تصدیق میں رکاوٹوں کو دور کرنیکی ہدایت