Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • عمران خان کا فاشسٹ اور انتہاپسند چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے،وزیر اعظم

    عمران خان کا فاشسٹ اور انتہاپسند چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے،وزیر اعظم

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا فاشسٹ اور انتہاپسند چہرہ بے نقاب ہوگیا-

    باغی ٹی وی: اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھاکہ گزشتہ چند دنوں کے واقعات سے عمران خان کا فاشسٹ اور انتہاپسند چہرہ بے نقاب ہوگیا لوگوں کو انسانی ڈھال بنانا، پولیس پر پیٹرول بم پھینکنا، جتھوں کی قیادت کرکے عدلیہ کو خوفزدہ کرنا، عمران خان نے یہ سبق بھارتی انتہاپسند تنظیم آر ایس ایس سے سیکھا ہے۔

    عمران نیازی کی گزشتہ چند دنوں کی حرکات سب کے سامنے ہیں، وزیراعظم

    خیال رہے کہ عمران خان کی آج اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی تھی تاہم اس دوران بھی اسلام آباد میں ہنگامہ آرائی ہوئی جوڈیشل کمپلیکس کےباہرپی ٹی آئی مظاہرین اور پولیس کےمابین شدید ہنگامہ آرائی میں متعدد پولیس اہلکارزخمی ہوئےپی ٹی آئی مظاہرین کی پتھراؤ سے 9 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ مشتعل مظاہریں نے 25 سے زائد موٹر سائیکل اور گاڑیاں نذر آتش کردیں۔

    وقت کی ضرورت ہے تمام سیاستدان یکجا ہوں،عارف علوی

    علاوہ ازیں پولیس حکام کے مطابق پولیس کی بم ڈسپوزل اسکواڈ کی گاڑی کوبھی مظاہرین بنے توڑ پھوڑ کے بعد جلا دیا پولیس حکام کے مطابق مظاہرین کی جانب سے پولیس پر مبینہ طور پر پٹرول بموں سے حملہ کیا گیا۔

    پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے اور انہیں کمپلیکس سے دور رکھنے کے لیے بدترین لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے جواب میں مظاہرین نے بھی پولیس اہلکاروں پر ڈنڈوں سے حملے کیا-

    گرفتاری کی صورت میں پارٹی کون چلائے گا،عمران خان کا بیان سامنے‌آ گیا

  • گرفتاری کی صورت میں پارٹی کون چلائے گا،عمران خان کا بیان سامنے‌آ گیا

    گرفتاری کی صورت میں پارٹی کون چلائے گا،عمران خان کا بیان سامنے‌آ گیا

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ میری گرفتاری یا قتل پر پورے پاکستان سے بہت سخت ردعمل آئے گا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر ایجنسی کوانٹرویو میں عمران خان کا کہناتھاکہ میں نے ایک کمیٹی بنا دی ہے جو میرے جیل جانے کی صورت میں فیصلے کرے گی، میرے خلاف 94 مقدمات بنائے گئے ہیں لیکن میری گرفتاری کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ میرے پاس تمام مقدمات میں ضمانت موجود ہے۔

    شبلی فراز کی طبیعت ناساز ،اسپتال منتقل

    عمران خان کا کہنا تھا کہ میری جان کو پہلے سے بھی زیادہ خطرہ ہے، اپنی گرفتاری یا قتل کی صورت میں ہونے والے ردعمل کے بارے میں فکرمند ہوں، جو لوگ ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ صورت حال کو نہیں سمجھ پا رہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اس وقت مجھ سے خطرہ محسوس کر رہی ہے اور اصل مسئلہ یہی ہے، جو مجھے مارنے یا جیل میں ڈالنے کا سوچ رہے ہیں وہ یہ نہیں سمجھ پا رہے کہ پاکستان اس وقت کہاں کھڑا ہے، میری گرفتاری یا قتل پر پورے پاکستان سے بہت سخت ردعمل آئے گا ہماری 70، 75 سالہ تاریخ میں فوج کا کردار رہا ہے، اسے اب متوازن کرنا ہو گا کیونکہ سابقہ توازن اب قابل عمل نہیں رہا۔

    انگلینڈ اور ویلز میں شادی کے لیے کم سے کم عمر 18 سال کر دی …

    واضح رہے کہ چند روز قبل وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں پی ٹی آئی کی قیادت میں کروں گا جبکہ چند روز قبل ایک بیان میں عمران خان نےبھی کہا تھا کہ میری گرفتاری کی صورت میں پارٹی پلان تیار ہے۔

    پاکستانی ائیرپورٹ سیکیورٹی انتہائی موثر بنانے کیلئے برطانیہ جدید اسکینیگ مشینیں فراہم کرے …

  • عمران نیازی کی گزشتہ چند دنوں کی حرکات سب کے سامنے ہیں، وزیراعظم

    عمران نیازی کی گزشتہ چند دنوں کی حرکات سب کے سامنے ہیں، وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عدالت پیشی کے لئے اسلام آباد گئے ہیں تا ہم ابھی تک پیشی نہیں ہو سکی، زمان پارک میں وارنٹ کے لئے پولیس آئی تو پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس پر پتھراؤ کیا، موجود صورتحال پر وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو کوئی شک ہو تو دیکھ لے کہ عمران نیازی کی گزشتہ چند دنوں کی حرکات نے اس کے فاشسٹ اور عسکریت پسندانہ رجحانات کو عیاں کر دیا ہے۔ لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے سے لے کر پولیس پر پٹرول بم پھینکنے سے ،عدلیہ کو دھمکانے کے لیے جتھوں کی قیادت تک، اس نے آر ایس ایس کی کتاب سے ایک پرچہ نکال لیا ہے

    دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف سے رکن قومی اسمبلی سید جاوید حسین شاہ نے ملاقات کی ۔ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی ۔اس موقع پر سید جاوید حسین شاہ نے اپنے حلقے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    زمان پارک، اسلحہ ملا،شرپسند عناصر تھے،آئی جی سب دکھائینگے،وزیر داخلہ

  • عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ،30 مارچ کو ذاتی حیثیت میں طلب

    عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ،30 مارچ کو ذاتی حیثیت میں طلب

    توشہ خانہ کیس میں پیشی کے لئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پہنچ چکے ہیں تا ہم عدالت نہیں پہنچ سکے، عدالت کا وقت ختم ہو گیا ہے جس کے بعد تحریک انصاف نے ایک اور درخؤاست دائر کر دی ہے،

    عدالت نے عمران خان کو 30 مارچ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا سیشن عدالت نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیئے

    ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت کرنی ہے عمران خان کا قافلہ جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد کے باہر پہنچا ہے۔ کارکنان کی بڑی تعداد عمران خان سے اظہار یک جہتی کیلئے ان کے ساتھ موجود ہے۔ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں عمران خان کی جانب سے درخواست دائر کی گئی ہے جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ڈیڑھ گھنٹے سے روکا ہوا ہے، متعلقہ حکام کو حکم دیا جائے کہ انہیں عدالتی اوقات کار کے اندر پیش کیا جائے۔

    سیشن جج ظفر اقبال کو عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے بتایا عمران خان گیٹ پر پہنچ چکے ہیں لیکن باہر کارکنوں اور پولیس میں تصادم جاری ہے جوابا سیشن جج ظفر اقبال نے کہا ہم انتظار کرلیتے ہیں عمران خان کو عدالت میں آنے دیں پھر سماعت شروع کریں گے،

    بعد ازاں جج ظفر اقبال نے حکم دیا کہ باہر جائیں،انتظامیہ اور پولیس کے کسی نمائندے کو بلا کرلائیں ،عمران خان کو ایس او پیز کے مطابق کمرہ عدالت میں آنے دیں، جج نے عمران خان کو پیش کرنے کا حکم دے دیا،عمران خان کی گاڑی جوڈیشل کمپلیکس کے احاطے میں داخل ہو گئی،آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ پولیس غیر مسلح ہے اور کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں کیا جارہا،بابر اعوان نے کہا کہ یہ سیکیورٹی نہیں ہے، سیکیورٹی کے نام پر ہمیں روکا جارہا ہے، 40سال سے وکیل ہوں ہم قانون کا احترام کرتے ہیں،

    وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان کی گاڑی کو بھی کمپلیکس میں داخلے کی اجازت دی جائے، جج ظفر اقبال نے کہا کہ جی بالکل، انکی گاڑی کو بھی اجازت دی جائے گی،وکیل بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان کی سیکیورٹی کی گاڑیوں کو بھی داخلے کی اجازت دی جائے، جج نے کہا کہ جو ایس او پی طے ہے اسکے مطابق اجازت دی جائے گی، وکیل عمران خان نے کہا کہ پولیس عدالت میں داخل نہیں ہونے دے رہی،عدالتی اسٹاف بھیج کر گاڑی میں حاضری لگا لی جائے،

    اسد عمر کا عمران خان سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، عمران خان نے کہا کہ پندرہ منٹ سے باہر کھڑا ہوا ہوں عدالت کے اندر جانے کی کوشش کر رہا ہوں،پولیس مجھ پر شیلنگ کر رہی ہے عدالت کے اندر نہیں جانے دیا جارہا،عدالت نے گیٹ پر عمران خان کے دستخط کرانے کی ہدایت کر دی ، جج ظفر اقبال نے کہا کہ عمران خان کے دستخط ہونے کے بعد ہر ایک منتشر ہو جائے، عمران خان سے کہیں کوئی پتھراؤ یا کچھ اور کی ضرورت نہیں،اپنے دستخط کریں اور یہاں سے چلے جائیں،عدالتی اہلکار بغیر دستخط واپس کمرہ عدالت میں آگئے اور کہا کہ عمران خان کے دستخط نہیں ہو سکے،

    عمران خان کو اندر لانے کیلئے گئے عدالتی اہلکار بھی پتھراو سے زخمی ہو گئے عدالتی عملہ عمران خان کی حاضری لگوانے کے لئے کمرہ عدالت سے روانہ ہوا،جج نے کہا کہ ہم نے کارکنوں کو منتشر کرنے کی ہدایت کردی ہے،ہم چاہتے تھے ٹرائل پرامن طریقے سے آگے بڑھے لیکن جو ہورہا ہے وہ افسوسناک ہے،وکلا نے عدالت سے کہا کہ شبلی فراز کو مارا جارہا ہے، پلیز یہ رکوائیں، شبلی فراز کو کمرہ عدالت میں پیش کر دیا گیا ، شبلی فراز نے کہا کہ ایس پی نوشیروان آئے اور مجھے جیکٹ سے پکڑ کر باہر لے گئے،مجھے لاتیں ماری گئی ہیں، تشدد کیا گیا ہے،

    عمران خان کی حاضری گاڑی میں لگوانے والے اہلکار واپس لوٹ آئے تحریک انصاف کے وکلا نے کمرہ عدالت میں شور شرابہ کیا ،،وکلاء نے استدعا کی کہ ایس پی نوشیروان کو طلب کیا جائے،ایس پی نوشیروان ہے جو مارنے کا حکم دے رہا ہے،جوڈیشل کمپلیکس کو پولیس سٹیٹ بنا دیا گیا ہے،پولیس کے ایس پی سمیع ملک عدالت کے سامنے پیش ہو گئے، جج ظفر اقبال نے استفسار کیا کہ عمران خان کی گاڑی اس وقت کہاں ہے؟ پولیس افسر نے کہا کہ گاڑی اس وقت وقت جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہے، جج ظفر اقبال نے کہا کہ ،آپ جائیں اور عمران خان کے دستخط لے کر آئیں، دوسری جانب نائب کورٹ نے عدالت کو آگاہ کردیا کہ دستخط نہیں لینے دیئے جارہے ،شبلی فراز ایس پی کے ساتھ عمران خان کی حاضری لگوانے کے لیے روانہ ہو گئے

    جج ظفر اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی آج کی عدالت حاضری تصور کر لی جائے گی، خواجہ حارث نے عمران خان کی آئندہ سماعتوں میں استثنی کی استدعا کر دی جس پر جج ظفر اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعتوں میں تو حاضری سے استثنی نہیں دیا جا سکتا، جج ظفر اقبال نے کہا کہ اگر استثنی دیا جائے تو وہ ہائیکورٹ کے حکم سے متضاد ہو جائے گا، وکیل عمران خان نے کہا کہ ہائیکورٹ نے عمران خان کو آج حاضر ہونے کا حکم دیا،عمران خان اس وقت عدالت پیشی کیلئے آچکے ہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ عمران خان پر فرد جرم سے پہلے بریت کی درخواست پر فیصلہ کیا جائے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ آج بریت کی درخواست پر دلائل دینا چاہتے ہیں؟ خواجہ حارث نے کہا کہ نہیں، آج تو اب ایسی صورتحال نہیں ہے،عدالت کیس کی آئندہ سماعت اگلے ہفتے میں رکھ لے، جج ظفر اقبال نے کہا کہ آئندہ سماعت میں بحث تو اب کچہری میں ہی ہو گی، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ روز روز عدالت تبدیل کر دی جائے،خواجہ حارث نے کہا کہ جب بھی عمران خان کی پیشی کی بات ہو گی عدالت تبدیل ہو گی،

    جج ظفر اقبال نے پولیس لاء افسر سے استفسار کیا کہ باہر کیا صورتحال ہے؟ پولیس لاء افسر نے کہا کہ باہر کا کچھ پتہ نہیں، سگنل بھی نہیں ہیں،عدالت نے عمران خان کے دستخط ہونے تک سماعت میں وقفہ کر دیا، بعد ازاں عمران خان کی حاضری کا عمل مکمل ہوگیا

    شبلی فرازحاضری کے دستاویزات سمیت غائب

    جج ظفر اقبال کمرہ عدالت میں آ گئے، وکیل گوہر خان نے کہا کہ ہم عدالت سے فائل لے کر عمران خان سے دستخط کرانے گئے، جج ظفر اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ باقی باتیں چھوڑ دیں اس عدالت کی آرڈر شیٹ کدھر ہے؟ وکیل گوہر خان نے کہا کہ جب شیلنگ ہوئی تو مجھ سے فائل ایس پی نے لے لی، وکیل عمران خان نے کہا کہ میری اطلاع کے مطابق ایس پی فائل لے کر آرہے تھے،آئی جی نے کال کر کے کہا کہ آپ نے فائل پر دستخط کیوں کرائے، آئی جی نے ایس پی سے کہا کہ فائل غائب کر دو،حاضری لینے والے پولیس افسر ایس پی سمیع اللہ دوبارہ عدالت پہنچ گیا، ایس پی سمیع اللہ نے کہا کہ ہمیں آئیڈیا نہیں شبلی فراز کہاں ہیں؟ دستاویزات شبلی فراز کے پاس تھے، میں پوری کوشش کر کے فائل تلاش کرتا ہوں،جج ظفر اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرڈر شیٹ عدالتی ریکارڈ کا حصہ تھا وہ کیسے غائب ہوگئی؟ آپ عدالتی آرڈر شیٹ تلاش کرنے کیلئے اپنی پوری کوشش کریں، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے عمران خان سے دستخط کرائے اسکی ویڈیو موجود ہے، میں نے فائل ایس پی کو دی تھی وہ جھوٹ بول رہے ہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ مجھے سمجھ آ رہا ہے کہ اس سب کے پیچھے وہ ہے جس نے یہ سب ترتیب دیا،جج ظفر اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے پتہ ہوتا ایسا ہونا ہے تو کوئی اور دستاویز دے دیتا،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت کی فائل غائب ہو گئی، یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ دیکھنا پڑیگا کہ جب دستخط ہوئے کس نے ویڈیو بنائی کیسے بنائی،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ابھی اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے، جج ظفر اقبال نے کہا کہ ایس پی واپس آجائیں تو فائل گم ہونے کا کوئی حل نکال لیں گے،

    عمران خان اسلام آباد سے لاہور کیلئے روانہ ہوگئے سرینگر ہائی وے پر ایک بار پھر شیلنگ کی گئی،جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پولیس کی موبائل وین کو کارکنوں نے آگ لگا دی، ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق کارکنان نے اسلام آباد پولیس کی 2 گاڑیوں کو آگ لگا دی ،

    آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ہم نے انہیں راستہ دیا تھا ،یہ پھر بھی رانگ وے پر آگئے اور لوگوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ،عدالت کے قریب پہنچتے ہی انہوں نے پتھراو شروع کیا ،پولیس غیر مسلح ہے اور کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں کیا جا رہا،ہماری ایک چوکی پر آگ لگا دی ہے راستہ بالکل صاف ہے،بس ایک موڑکاٹنا ہے وہ عدالت پہنچ جائیں گے،وہ اپنے کارکنوں کو سنبھالیں اور عدالت پہنچیں ،ہماری طرف سے عدالتی احکامات کو پورا کیا گیا ہے،

    تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ عمران خان عدالت کے قریب موجود ہیں ، پولیس رستہ روکے کھڑی ہے عمران خان کو عدالت جانے کی اجازت دینے کی بجائے پولیس نے شیلنگ شروع کر دی عمران خان کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عدالت پیشی سے روکا جارہا ہے پولیس کے پاس پرتشدد کارروائی کا کوئی جواز نہیں،عمران خان لاہور سے عدالت میں ہی پیش ہونے کیلئے آئے ہیں،پولیس کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں،پولیس عمران خان کو عدالت کے اندر نہیں جانے دے رہی ہے،عمران خان بھاگنے کی کوشش نہیں کررہا .

    دوسری جانب جوڈیشل کمپلیکس میں بکتر بند گاڑی موجود ہے،پولیس عدالت کی دوسری سائیڈ پر گاڑی لے کر آئی ہے، عمران خان عدالت پہنچنے والے ہیں

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی پیشی کو تاخیر کاشکار کیا جارہا ہے،عمران خان اپنے کیسز کاجواب دینے کیلئے تیار نہیں،عمران خان نے بیرون ممالک سے ملنے والے تحائف بیچے،لاہور میں بد امنی پھیلائی گئی،یہ سب صرف اور صرف فرد جرم سے بچنے کے لئے کررہے ہیں،جب توشہ خانہ کے حوالے سے پوچھا جائے گا توان کے پاس جواب کوئی نہیں ہے،عدالتی کارروائی کو بار بار تاخیر کا شکار کیا جارہا ہے،یہ کوشش کررہے ہیں کسی طرح عدالتی کارروائی سے بچ جائے

    توشہ خانہ کیس میں پیشی کے لئے عمران خان کا قافلہ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پہنچا تو پولیس کی جانب سے کارکنان کو منتشرکرنے کیلئے شیلنگ کی گئی پولیس کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کاقافلہ جوڈیشل کمپلیکس کےسامنے موجود ہے، کارکنان سے گزارش ہے راستہ دیں تاکہ عمران خان عدالت پہنچ سکیں۔ پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کی چوکی کوبھی آگ لگا دی گئی ہے

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    زمان پارک، اسلحہ ملا،شرپسند عناصر تھے،آئی جی سب دکھائینگے،وزیر داخلہ

  • زمان پارک میں بنکرز،اسلحہ ملا، آئی جی پنجاب نے آپریشن کی تفصیلات بتا دیں

    زمان پارک میں بنکرز،اسلحہ ملا، آئی جی پنجاب نے آپریشن کی تفصیلات بتا دیں

    پولیس نے زمان پارک سے بر آمد ہونے والا اسلحہ میڈیا کے سامنے پیش کر دیا

    آئی جی پنجاب کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگران وزیراطلاعات عامر میر کا کہنا تھا کہ زمان پارک آپریشن کے دوران پولیس کے ساتھ مزاحمت کی گئی پولیس والوں پر پیٹرول بم سے حملے کیے گئے، شر پسند عناصر کے خلاف کیسز بھی درج کیے گئے تھے،پولیس نے ایکشن لیا ، نو گو ایریا کو کلیئر کیا،

    آئی جی پنجاب عثمان انور کا کہنا تھا کہ عدالت نے واضح کہا کہ تفتیش کے عمل کو نہیں روکا جاسکتا،عدالت نے کہا اندر جانے کے لیے سرچ وارنٹ ہونا چاہیے، ہائی کورٹ نے کلیئر کیا کہ آپ کا حق ہے میرٹ پر تفتیش کریں، ہم نے جیو ٹیگنگ اور جیو فینسنگ، انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پررپورٹ تیار کی، علاقے کو کلیئر کرنے کے بعد مزاحمت کرنے والے افراد کو گرفتار کیا، دوپہر 12 بجے کے قریب سرچ وارنٹ حاصل کیا، لیڈر شپ سے رابطہ کیا، انہوں نے کہا ہم وہاں نہیں ہیں ،ابھی بھی پولیس اہلکار زمان پارک میں موجود ہیں ، جہاں تک گئے اسلحہ برآمد کیا گیا،زمان پارک میں بنکرز بنائے گئے وہاں پٹرول بم تیار کیے جاتے تھے اور وہ پٹرول بم رینجرز کی گاڑیوں رینجرز اہلکاروں اور پولیس کیخلاف استعمال کیے گئے زمان پارک سے ملنے والے اسلحہ اور پٹرول بم کا پرچہ اسی طرح اسکے خلاف درج ہوگا جس طرح جس سے منشیات ملتی ہیں پرجہ اسی کیخلاف درج ہوتا ہے،انسداد دہشتگردی کے مقدمے میں 61افراد گرفتارکیے گئے،کوئی ایک بے گناہ شخص بھی گرفتار نہیں کیا جائے گا،

    آئی جی پنجاب عثمان انور کا مزید کہنا تھا کہ ۔ہم نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا اورنہ ہی کریں گے برآمد ہونے والا اسلحہ دیکھا جائے گا کہ لائسنس یافتہ ہے یا نہیں ہے ،ہم قانون کے مطابق اپنی نفری زمان پارک میں رکھیں گے ڈی آئی جی آپریشنز افضال، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سہیل سکھیرا، لیڈی پولیس افیسر ایس ایس پی انویسٹی گیشن آفیسر انوش اورایس پی عمار ہ شامل ہیں لیڈی پولیس کے ساتھ نفری وہاں پر گئی اوران لوگوں کی پوزیشن کے حوالے سے انہیں گرفتارکرنا شروع کیا ، اس پر دوبارہ مزاحمت کی گئی پولیس پر پتھراﺅ کی گیا پولیس نے مزاحمت کے باوجود علاقے کو کلیئر کیا اوران لوگوں کو گرفتار کیا ان کی تفصیل جاری کی جائے گی ،ان میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہو گا جو بے گناہ ہو گا، تمام لوگوں کی شناخت پریڈ بھی کی جائے گی ، انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا

    تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب نے کہا ہے کہ پولیس نے عمران خان کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا ،بشریٰ بی بی گھرمیں اکیلی ہیں ،چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    زمان پارک، اسلحہ ملا،شرپسند عناصر تھے،آئی جی سب دکھائینگے،وزیر داخلہ

  • زمان پارک، اسلحہ ملا،شرپسند عناصر تھے،آئی جی سب دکھائینگے،وزیر داخلہ

    زمان پارک، اسلحہ ملا،شرپسند عناصر تھے،آئی جی سب دکھائینگے،وزیر داخلہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ زمان پارک نو گو ایریا بنا ہوا تھا شہریوں کو اس حوالے سے تکلیف تھی،

    زمان پارک آپریشن کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ زمان پارک میں شر پسند اور کالعدم تنظیموں کے لوگ موجود تھے،نوگو ایریا کو کلیئر کروانے کے لئے یہ کارروائی کی گئی ہے،پولیس پر فائر کیا گیا، شرپسند عناصر موجود تھے، وہاں سے جو چیزیں اور اسلحہ ملا، وہ آئی جی پنجاب قوم کے سامنے رکھیں گے،عمران خان ملک میں افرا تفری اور فتنہ چاہتا ہے،ایسے شخص کو ووٹ کی طاقت سے باہر کرنا چاہیے،آج بھی پولیس نے غیر مسلح ہوکر اس ایریا کوکلیئر کرایا،آئی جی پنجاب پریس کانفرنس میں تمام تفصیلات سے آگاہ کریں گے ،آج کا مقدمہ درج کیا جائے گا، اسلحہ، پٹرول بم، ملے، بم بنانے کا طریقہ کار اور بھی بہت سامان ملا، عمران خان اور انکے سینئر ساتھی جو اس معاملے کو دیکھ رہے تھے انکے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان آج عدالت میں پیش ہو رہے ہیں عدالت جو حکم دے گی ہم تعمیل کریں گے ،عمران خان کو اب افرا تفری کا ماحول پیدا نہیں کرنے دیں گے، سیاسی جماعتیں ایسا کام نہیں کرتی جو عمران خان کر رہے، ہم آج جو کچھ زمان پارک سے ملا وہ عدالت کے سامنے رکھیں گے،رہائشی علاقے میں ایک بینکر بنا ہوا ہے جو غیر قانونی ہے، رہائشی حصے کی بھی تلاشی لی جائے گی لیکن جب عمران خان واپس آئیں گے اسکے بعد، جہاں عمران خان کی اہلیہ موجود ہیں وہاں پولیس نہیں گئی،زمان پارک عمران خان کی رہائش گاہ سے 16 رائفلیں ملی ہیں،

    انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کے گھر کے سرچ وارنٹ جاری کیے سرچ آپریشن انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج کی جانب سے جاری کیا گیا سرچ آپریشن صابطہ فوجداری کی دفعہ 47 کے تحت جاری کیا گیا،عدالت نے وارنٹ میں کہا کہ سرچ کے دوران قانون کے مطابق تفتیشی افسر کے ساتھ کم از کم انسپکٹر رینک کی خاتون افسر ساتھ ہو۔ انسداد دھشت گردی عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست پر سرچ وارنٹ جاری کیے ،

    واضح رہے کہ پولیس نے زمان پارک میں آپریشن شروع کر دیا ہے عمران خان کے گھر میں پولیس دروازہ توڑ کر داخل ہو گئی ہے، کرین کے ذریعے مرکزی دروازہ توڑا گیا ہے،تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہےکہ زمان پارک میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی موجود ہیں،پولیس کا زمان پارک میں آپریشن جاری ہے

    تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب نے کہا ہے کہ پولیس نے عمران خان کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا ،بشریٰ بی بی گھرمیں اکیلی ہیں ،چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • عمران خان کی گرفتاری کا امکان، پی ٹی آئی نے معاملہ عدالت عظمیٰ میں اٹھا دیا

    عمران خان کی گرفتاری کا امکان، پی ٹی آئی نے معاملہ عدالت عظمیٰ میں اٹھا دیا

    عمران خان کو گرفتاری کا خدشہ ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائرکر دی گئی

    عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب سمیت کسی بھی ادارے کو گرفتاری سے روکا جائے ،یہ بھی درخواست کی گئی کہ آج ہی درخواست پر سماعت کی جائے،

    دوسری جانب عمران خان کی گرفتاری کا امکان، پی ٹی آئی نے معاملہ عدالت عظمیٰ میں اٹھا دیا ،تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل اسد عمر نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ پی ڈی ایم حکومت عمران خان کو نشانِ انتقام بنانا چاہتی ہے،عمران خان عدالت میں پیشی کے لئے اسلام آباد آ رہے ہیں، عدالتی احکامات کی تعظیم میں عمران خان لاہور سے اسلام آباد کیلئے روانہ ہوئے،عمران خان نے کل لاہور ہائیکورٹ سے9 مقدمات میں ضمانت حاصل کی، معزز عدالت عالیہ نے حکام کو عمران خان کے خلاف انتقامی کارروائیوں سے منع کیا،پولیس نے عدالتی احکامات کو پیروں تلے روندتے ہوئے ان کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا، عمران خان کی رہائش گاہ پر حملے کے دوران گھر کے دروازے توڑے گئے اور دیواریں منہدم کر دی گئیں

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • بشریٰ بی بی کے علاوہ کوئی نہیں تو پولیس پر فائرنگ کون کررہا؟ شرجیل میمن

    بشریٰ بی بی کے علاوہ کوئی نہیں تو پولیس پر فائرنگ کون کررہا؟ شرجیل میمن

    پیپلز پارٹی کے رہنما، سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ عمران خان کہہ رہا ہے کہ زمان پارک گھر میں بشریٰ بی بی کے علاوہ کوئی نہیں ،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ اگر گھر میں بشریٰ بی بی کے علاوہ کوئی نہیں تو پولیس پر فائرنگ کون کر رہا ہے ؟ کیا زمان پارک سے جنات فائرنگ کررہے ہیں ؟ جوسلیکٹڈ وزیر اعظم تھا اسے روزانہ ریلیف مل رہا ہے،یہ مٹھی بھر دہشتگرد عوام کو ڈرا نہیں سکتے، چند سو لوگ بدمعاشیاں کر رہے ہیں، ریاست کو یرغمال کیا گیا، پوری دنیا میں پیغام دیا گیا کہ پاکستان میں لاقانونیت ہے،آپ نے پیغام دیا آپ بہت بڑے بدمعاش اور غنڈہ ہیں، آپ چاہتے ہیں پاکستان کا آئین اپ کے غلام رہے،عمران خان نے کہا کہ ورکر زمان پارک آئیں، پھر انہوں نے کہا کہ جو نہیں آئے گا انہیں ٹکٹ نہیں دین گے،عمران خان نے یہ خود ڈرامہ کروایا عدالت نے عمران خان کو پیش ہونے کا حکم دیا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔ یہ کسی پارٹی یا حکومت کی نہیں ملک کی بدنامی ہے۔عمران خان کی یہ لڑائی پاکستان سے ہے، ملکی سالمیت سے ہے،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں پولیس نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے پولیس زمان پارک پہنچی تو تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا اور 20 گھنٹے تک عمران خان کی گرفتاری نہیں ہونے دی،

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • پولیس آپریشن،عمران خان کے گھر کے اندر سے فائرنگ ہوئی،عامر میر

    پولیس آپریشن،عمران خان کے گھر کے اندر سے فائرنگ ہوئی،عامر میر

    نگران وزیر اطلاعات عامر میر نے کہا ہے کہ زمان پارک میں پولیس پر حملہ ہوا تھا ،ملزمان کی شناخت ہوگئی تھی،

    عامر میر کا کہنا تھا کہ پولیس پر حملہ کرنے والوں کی گرفتاریاں بھی کی گئی تھیں،پولیس اچانک زمان پارک نہیں پہنچی ،آئی جی نے عدالت میں بتادیا تھا، زمان پارک پیش قدمی سے پہلے ایس ایس پی نے پی ٹی آئی قیادت کو بتادیا تھا، طے پا گیا تھا کہ جو پر تشدد واقعات میں ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی ،زمان پارک کو نوگو ایریا بنایا گیا تھا اسے ختم کیا گیا ،پنجاب کے کسی علاقے کو نو گو ایریا نہیں بننے دیا جائے گا،زمان پارک کے اطراف میں ریت کی بوریاں سمیت سب کچھ ہٹایا گیا، عمرا ن خان کے گھر کے اندر سے فائرنگ ہوئی عمران خان کے گھر سے پیٹرول بم بھی پھینکے جارہے ہیں حالات پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ، صورتحال خراب نہیں ہوگی،گھنٹے میں آپریشن مکمل کرلیا جائے گا

    زمان پارک میں عمران خان کے گھر سے برآمد ہونے والے پیٹرول بموں کے پیکٹ اور غلیلیوں کے لیے استعمال ہونے والے کینچے پولیس نے تحویل میں لے لیے ہیں ، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پتھراؤ سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا ہے، پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے 40 کارکنان کو گرفتار کیا ہے

    عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ زمان پارک پہنچ گئی ہیں ،انکا کہنا تھا کہ زمان پارک میں بچوں اور خواتین کے علاوہ کوئی نہیں ہے اب دیکھتے ہیں قانون کیا کرتا ہے،بشریٰ بی بی زمان پارک میں موجو د ہیں ،تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ عدالت عالیہ نے حکام کو عمران خان کے خلاف انتقامی کارروائیوں سے منع کیا

    انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کے گھر کے سرچ وارنٹ جاری کیے سرچ آپریشن انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج کی جانب سے جاری کیا گیا سرچ آپریشن صابطہ فوجداری کی دفعہ 47 کے تحت جاری کیا گیا،عدالت نے وارنٹ میں کہا کہ سرچ کے دوران قانون کے مطابق تفتیشی افسر کے ساتھ کم از کم انسپکٹر رینک کی خاتون افسر ساتھ ہو۔ انسداد دھشت گردی عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست پر سرچ وارنٹ جاری کیے ،

    واضح رہے کہ پولیس نے زمان پارک میں آپریشن شروع کر دیا ہے عمران خان کے گھر میں پولیس دروازہ توڑ کر داخل ہو گئی ہے، کرین کے ذریعے مرکزی دروازہ توڑا گیا ہے،تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہےکہ زمان پارک میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی موجود ہیں،پولیس کا زمان پارک میں آپریشن جاری ہے

    تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ کورٹ احکامات کے خلاف زمان پارک آپریشن جاری ہے، فواد چودھری کا کہنا ہے کہ عمران خان کے گھر پر حملہ ریاستی دہشت گردی ہے، چادر اور چہاردیواری کی حرمت پامال کر دی گئ ہے، لاہور ہائیکورٹ کے احکامات ہوا میں اڑا دئیے گئے ہیں، ملک میں عدالتیں اور آئین معطل ہے انسانی حقوق پامال ہیں ،مراد سعید کا کہنا ہے کہ حکومت جو گھناونہ منصوبہ تشکیل دے رہی ہے۔ جس طرح دہشتگردیی کا بیانیہ بنایا جارہا ہے۔ پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ یہ عمران خان کو صرف گرفتار نہیں کرینگے بند کمروں میں انہیں قتل کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ پاکستانی قوم کیا تاریخ میں اہلِ کوفہ کیطرح جانا ہے؟

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ضمانت کے لیے 5 درخواستیں دائر کر رہے ہیں ،رکاوٹیں ڈالنے کے خلاف بھی عدالت سے رجوع کریں گے ہماری ٹیم ا سلام آباد ہائیکورٹ میں بھی موجود ہیں ،زمان پارک پر حملہ کردیا گیا ،بشریٰ عمران اور فیملی ممبرز اندر ہیں،یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ زمان پارک میں صرف عمران خان کی اہلیہ اور گھریلو ملازمین ہیں،

    تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب نے کہا ہے کہ پولیس نے عمران خان کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا ،بشریٰ بی بی گھرمیں اکیلی ہیں ،چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • پیمرا نے عمران خان کو کوریج دینے پر مکمل پابندی عائد کر دی

    پیمرا نے عمران خان کو کوریج دینے پر مکمل پابندی عائد کر دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان آج اسلام آباد عدالت پیش ہونے جا رہے ہیں دوسری جانب لاہو رمیں پولیس کا زمان پارک میں آپریشن جاری ہے

    ایسے میں پیمرا پھر حرکت میں آیا ہے، پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی ہے پیمرا نے جوڈیشل کمپلیکس سمیت اسلام آباد میں عوامی ریلیوں کی لائیو اور ریکارڈڈ کوریج پر پابندی عائد کی ہے۔پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کو کہا گیا ہے کہ اگر عمران خان کی کوریج کی اور پیمرا کی جانب سے جاری ہدایت نامے کو نہ مانا گیا تو ٹی وی چینل کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی

    پیمرا کی جانب سے 18مارچ 2023 کو جاری کیے گئے خط کے مطابق پیمرا آرڈینینس 2002 کے سیکشن 27 کے تحت لائیو کوریج پر پابندی عائد کی گئی ہے پیمرا کے مطابق اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں امن و امان/سکیورٹی کی صورتحال کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے سے موصول ہونے والے 18-03-2023 کے خط کے حوالے سے یہ پابندی عائد کی گئی ہے پیمرا خط میں کہا گیاہے کہ تشویش کے ساتھ دیکھا گیا ہے کہ سیٹلائٹ ٹی وی چینلز پرتشدد ہجوم، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کی لائیو فوٹیجز تصاویر دکھا رہے ہیں لاہور میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان حالیہ تعطل کے دوران ایسی فوٹیجز تصاویر ٹی وی اسکرینوں پر بغیر کسی ادارتی نگرانی کے دکھائی گئیں جس میں پرتشدد ہجوم نے پیٹرول بموں کا استعمال کیا، پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا اور پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ مختلف سیٹلائٹ ٹی وی چینلز پر ایسی فوٹیجز کی براہ راست نشریات نے ناظرین اور پولیس میں افراتفری اور خوف و ہراس پھیلا دیا ہجوم کے ذریعہ اس طرح کی سرگرمی نہ صرف امن و امان کی صورتحال کو خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ عوامی املاک اور جانوں کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔اس طرح کے مواد کو نشر کرنا سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے جو 2018 کے سوموٹو کیس نمبر 28 میں پی ایل ڈی 2019 سپریم کورٹ 1، پیمرا آرڈیننس، 2002 کے سیکشن 20 کے بطور پیمرا (ترمیمی) ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے،مجاز اتھارٹی پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27(a) کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس طرح کسی بھی پارٹی کی طرف سے کسی بھی قسم کی ریلی، عوامی اجتماع، جلوس کی لائیو/ریکارڈ کوریج بشمول جوڈیشل کمپلیکس، اسلام آباد سے لائیو کوریج پر پابندی لگاتی ہے۔ عدم تعمیل کی صورت میں بغیر شوکاز نوٹس لائسنس معطل کردیا جائے گا

    واضح رہے کہ عمران خان آج صبح زمان پارک لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوئے تھے، کارکنان کی بڑی تعداد بھی ان کے ساتھ اسلام آباد چلی گئی تھی ، عمران خان آج عدالت میں پیش ہوں گے

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے