Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • پی ٹی آئی، پنجاب حکومت کے درمیان قانونی معاملات کے ٹی او آرز طے

    پی ٹی آئی، پنجاب حکومت کے درمیان قانونی معاملات کے ٹی او آرز طے

    پی ٹی آئی اور پنجاب حکومت کے درمیان ریلیوں ،سیکیورٹی اور قانونی معاملات کے ٹی او آرز طے کر لئے گئے ہیں

    پی ٹی آئی اور پنجاب حکومت کے مابین معاہدے میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف ورانٹس کی تکمیل ،سرچ ورانٹس کیلئے پولیس کے ساتھ تعاون کرے گی،پی ٹی آئی لیڈر شپ کی جانب سے شبلی فراز اور علی خان کو فوکل پرسن نامزد کیا گیا، پولیس کی جانب سے ایس ایس پی عمران کشور فوکل پرسن ہوں گے، پی ٹی آئی 14 اور 15 مارچ کو درج ہونے والے مقدمات میں تفتیش میں تعاون کرے گی، تحریک انصاف اتوار کے بجائے پیر کو جلسہ کرے گی، جلسے کی اجازت کے لیے انتظامیہ سے رابطہ کیا جائے گا،جلسے کی اجازت کے لیے انتظامیہ سے رابطہ کیا جائے گا،

    معاہدے میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف ریلی نکالنے سے کم از کم 2 دن پہلے آگاہ کرے گی،عمران خان کی سیکیورٹی کیلئے بنائی گی گائیڈ لائن پر عمل ہوگا،تحریک انصاف سیکیورٹی کے لیے متعلق حکام کو درخواست دے گی ،سیکیورٹی ایجنسیز کے ساتھ معاملات کیلئے فوکل پرسن شبلی فراز ہوں گے ،معاہدہ 3 بجے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروایا جائے گا

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    واضح رہے کہ آج زمان پارک میں آپریشن رکوانے کے لئے درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سب لوگ بیٹھ کے مسئلے کا حل نکالیں ،آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ ہم جو بھی کریں گے عدالت کو بتائیں گے انتقامی کارروائی بالکل نہیں ہو گی ہم جس کو گرفتار کریں گے انکے ساتھ قانون کے تحت برتاؤ ہو گا ،عدالت نے استفسار کیا کہ آپ اس سارے معاملے میں شفافیت کیسے لائیں گے ؟ آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ میں ان سے اجازت نہیں لوں گا کہ فلاں نے پیٹرول بم مارا، گرفتار کرنے لگے ہیں ،فواد چودھری نے کہا کہ ہم گرفتاری پر آئی جی کے ساتھ بیٹھ کر طے کر لیتے ہیں، جس پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ میں گرفتاری کے معاملے پر کسی کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا، یہ نہیں ہوگا کہ ہم ملزمان کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں کہ کس کو گرفتار کرنا ہے، کسے نہیں، عدالت سے درخواست ہے کہ وارنٹ گرفتاری پر تو کوئی فیصلہ کردے،جس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم 3 بجے فیصلہ کرینگے، زمان پارک آپریشن روکنے کے لیے درخواست پر سماعت 3 بجے تک ملتوی کر دی گئی،

  • لاہورہائیکورٹ کی عمران خان کو ساڑھے5 بجے تک پیش ہونے کی مہلت

    لاہورہائیکورٹ کی عمران خان کو ساڑھے5 بجے تک پیش ہونے کی مہلت

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان آج لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے

    لاہور ہائیکورٹ،عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی ہیں،جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل 2رکنی بینچ سماعت کرے گا ،بائیو میٹرک نہ ہونے کی وجہ سے درخواست پر سماعت میں تاخیرہو رہی ہے،عدالتی ہدایت پر لاہور سے ہی عمران خان کی بائیو میٹرک کرائی جارہی ہے

    لاہورہائیکورٹ نے عمران خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات آج ہی پیش کرنے کا حکم دے دیا ،جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کسی کو کورٹ میں آنے سے روک نہیں سکتی، وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے وارنٹ معطل کر دئیے ہیں،عدالت نے کہا کہ ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ کسی کو عدالت آنے سے روکا جا سکتا ہے، اگر اسلام آباد ہائیکورٹ نے وارنٹ معطل کر دئیے ہیں تو آپ میرے حکم ہر عملدرآمد کریں،

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے ضمانت کی درخواستوں پر اعتراض کیا،جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو عدالت میں تو آنے سے نہیں روکا جا سکتا ،لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی حفاظتی ضمانت پر سماعت کیلئے ساڑھے 5بجے کا وقت مقرر کر دیا لاہورہائیکورٹ نے عمران خان کو ساڑھے5بجے تک پیش ہونے کی مہلت دے دی

    عمران خان نے نو مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لئے درخواستیں لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی ہیں، درخواستوں میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ جھوٹے اور بے جا مقدمے بنائے گئے، ضمانت دی جائے، ساتھ ہی عمران خان کی جانب سے زمان پارک سے لاہور ہائیکورٹ تک سیکورٹی کی فراہمی کے لئے بھی درخواست دائر کی گئی ہے،جس میں کہا گیا کہ زمان پارک سے سے لاہور ہائیکورٹ تک حفاظتی انتظامات کئے جائیں تمام درخواستوں پر آج ہی سماعت کی استدعا کی گئی ہے

    دوسری جانب عمران خان نے ملک بھر میں مقدمات میں گرفتاری سے روکنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ،دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم حکومت کے آتے ہی ملک بھر میں روزانہ مقدمات درج ہورہے ہیں وزیر آباد میں قاتلانہ حملہ ہوا، جان کو شدید خطرات ہیں، درج مقدمات کا ریکارڈ دیں،پولیس کو عدالت کی اجازت کے بغیر گرفتاری سے روک دیں، درخواست میں سیکریٹری داخلہ، صوبوں کے آئی جی پولیس اور ڈی جی ایف آئی اے فریق بنائے گئے ہیں،

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • عمران خان کے گھررسائی کی اجازت دی جائے، آئی جی پنجاب کی عدالت میں درخواست

    عمران خان کے گھررسائی کی اجازت دی جائے، آئی جی پنجاب کی عدالت میں درخواست

    لاہور ہائیکورٹ،زمان پارک آپریشن روکنے کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی

    سرکاری وکلاء اور پی ٹی آئی کے وکلاء کمرہ عدالت پہنچ گئے ،تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ عدالت نے لوگوں کی زندگیاں بچائی ہیں ہم مشکور ہیں گزشتہ روز آئی جی سے عدالتی حکم پر ملاقات ہوئی،آئی جی پنجاب سے تین ایشو پر بات ہوئی،پہلا عمران خان کی سیکیورٹی سے متعلق تھا ،عمران خان آج بھی عدالت جانے کےلیے تیار ہیں ، اور کل بھی تیار ہونگے دونوں طرف سے لوگ زخمی ہوئے ، ہم چاہتے ہیں گرفتاریاں نہ کریں معاملے پر مداخلت نہیں کر سکتا ،کیمرے لگے ہیں لوگوں کی نشاندہی کریں،جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف جو قانونی کارروائی بنتی ہیں وہ کریں،

    آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ ہمارا فیصلہ ہوا ہے کہ تحریک انصاف کا ایک فوکل پرسن ہو گا، ہم نے کہا ہے کہ کسی علاقے کو نو گو ایریا نہیں بننے دیا جائے گا،عدالت نے تحریک انصاف کے وکیل کو کہا کہ اگر آپ کو سیکیورٹی نہیں ملتی تو آئی جی کو درخواست دیں ،اگر آپ مطمئن نہیں ہوتے تو عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں کنٹینرز لگانا مناسب نہیں ،یہ ہمیں ایکسپورٹ کے لیے استعمال کرنے چاہیے آپ جو بھی چاہتے ہیں اسے طریقہ کار سے کریں اور باقاعدہ درخواست دیں، فواد چودھری نے عدالت میں کہا کہ ہم نے صرف 123 پولیس اہلکاروں پرتحفظات ظاہر کیے،پی ٹی آئی اتوار کی بجائے پیر کو جلسہ کرے گی،ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ کی درخواست کو منظورنہ کیا جائے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس نے بھی زیادتی کی ہے کیمرے موجود ہیں ان کوسامنے لایا جانا چاہیے،فواد چودھری نے کہا کہ پولیس کی جانب سے زیادتی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے،جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں اطراف جس کی بھی زیادتی ہے کارروائی ہونی چاہیے،

    فواد چودھری نے عدالت میں کہا کہ عمران خان کو لاہور ہائیکورٹ تک محفوظ آنے کی اجازت دی جائے،عدالت نے فواد چودھری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کوئی سیکیورٹی چاہیے تو قانونی طریقہ کار کےمطابق اجازت لیں،فواد چودھری نے کہا کہ ہم نے جلسے جلوسوں کےلیے 5 دن پیشگی اجازت لینے کے لیے چیف سیکریٹری سے اتفاق کیا،پولیس نے ایک مقدمے میں 500 اور دوسرے میں 2500 نامعلوم افراد کو شامل کرلیا،اعظم نذیر تارڑ روز بیان دے رہے ہیں کہ مل کر بیٹھیں اور مسائل کا حل کریں،وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی بات چیت کا کہا ہے اس عمل کو بیان سے آگے بھی بڑھائیں اورملنے کی تاریخ اور مقام بتا دیں ،عمران خان پہلے ہی مذاکرات کی حمایت کر چکے ہیں ،عدالت نے فواد چودھری سے استفسار کیا کہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کیسے ہوگی؟ صدر لاہورہائیکورٹ بار نے کہا کہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے دو طریقے کار ہیں ،میں سی سی پی او کے پاس انڈر ٹیکنگ لیکر گیا قانون میں وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کا طریقہ کار دیا گیا ہے،وارنٹ گرفتاری تعمیل کنندہ لیکر جائے گا اور تعمیل کرائے گا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر رکاوٹیں ہونگی تو پھر وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کیسے ہوگی ؟ وکیل نے کہا کہ وارنٹ گرفتاری پرجو ایڈریس لکھا ہو گا تعمیل کنندہ متعلقہ ایڈریس پر جائے گا، اگر متعلقہ ایڈریس پر ملزم موجود نہیں تو پھر تعمیل کنندہ عدالت کو بتائے گا، جسٹس طارق سلیم شیخ نے استفسار کیا کہ اگر تعمیل کنندہ کینال پر پہنچ گیا اوررکاوٹیں کھڑی ہیں تو پھر کیا ہوگا ؟ وکیل نے کہا کہ اگر ملزم جان بوجھ کر وارنٹ موصول نہیں کرتا تو پھر عدالت کے پاس اشتہاری قرار دینے کا اختیار ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون تو تب لاگو ہو گا جب تعمیل کنندہ ملزم کے گھر پہنچے گا یہاں تو صورت حال مختلف ہے، آئی جی پنجاب نے کہا کہ پیٹرول بم چلے ہیں،کیا ہمیں جا کرشواہد اکٹھے کرنے کی اجازت ہے؟ کیا ایس ایس پی یا ڈی آئی جی آپریشنز کو جائے وقوعہ پر جانے کی اجازت ہے؟ عدالت یہ حکم جاری کرے ہم جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرسکیں ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں تو تعمیل کنندہ گھر تک پہنچ ہی نہیں پا رہا،کسی بھی مہذب ملک میں ایسا نہیں ہوتا ،کسی خاص کیس کی بات نہیں کرر ہے یہ سب کچھ اس لیے ہوا عدالتی حکم کی تکمیل نہیں ہو رہی،عدالت نہیں چاہتی کہ مستقبل میں ایسا ناخوشگوار واقعہ ہو، عدالت نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ اس بات کو یقینی کیسے بنائیں گے اس تفتیش میں کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہو گی، آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ ہم عدالت کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ میرٹ پر تفتیش ہوگی کسی بے گناہ کو ملوث نہیں کریں گے، جسٹس طارق سلیم شیخ نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ آپ انکو کیسے مطمئن کرینگے؟ آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ میں گارنٹی دیتا ہوں انتقامی کارروائی نہیں ہوگی

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سب لوگ بیٹھ کے مسئلے کا حل نکالیں ،آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ ہم جو بھی کریں گے عدالت کو بتائیں گے انتقامی کارروائی بالکل نہیں ہو گی ہم جس کو گرفتار کریں گے انکے ساتھ قانون کے تحت برتاؤ ہو گا ،عدالت نے استفسار کیا کہ آپ اس سارے معاملے میں شفافیت کیسے لائیں گے ؟ آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ میں ان سے اجازت نہیں لوں گا کہ فلاں نے پیٹرول بم مارا، گرفتار کرنے لگے ہیں ،فواد چودھری نے کہا کہ ہم گرفتاری پر آئی جی کے ساتھ بیٹھ کر طے کر لیتے ہیں، جس پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ میں گرفتاری کے معاملے پر کسی کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا، یہ نہیں ہوگا کہ ہم ملزمان کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں کہ کس کو گرفتار کرنا ہے، کسے نہیں، عدالت سے درخواست ہے کہ وارنٹ گرفتاری پر تو کوئی فیصلہ کردے،جس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم 3 بجے فیصلہ کرینگے، زمان پارک آپریشن روکنے کے لیے درخواست پر سماعت 3 بجے تک ملتوی کر دی گئی،

    دوبارہ ساڑھے تین بجے زمان پارک کے باہر پولیس آپریشن روکنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،پی ٹی آئی اور پولیس کے مابین قانونی معاملات پر ٹی او آرزعدالت میں پیش کر دیئے گئے،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں کہا کہ ہم نے ٹی او آرزطے کر لیے ہیں ،پی ٹی آئی نے اتوار کا جلسہ اتوار کی بجائے سوموارکو رکھ لیا ہے، پی ٹی آئی ریلیوں اور جلسوں سے پہلے انتظامیہ کو آگاہ کرے گی، پی ٹی آئی ورانٹس کی تکمیل ،سرچ ورانٹس کیلئےپولیس کے ساتھ تعاون کرے گی پی ٹی آئی لیڈر شپ کی جانب سے شبلی فراز اور علی خان کو فوکل پرسن نامزد کیا گیا ہے

    عدالت نے ٹی او آرز ڈرافٹ پر اعتراض اٹھا دیا ،عمران خان کے وکیل نے استدعا کی کہ عمران خان نے حفاظتی ضمانت کیلئےعدالت پیش ہونا ہے عدالت آئی جی پنجاب کو حکم جاری کرے کہ عمران خان کی پیشی کے حوالے سے مناسب انتظامات کرے،آئی جی پنجاب نے کہا کہ عدالت نے جو ریمارکس دئیے ان کو آرڈرزکا حصہ بنا دیں،معاہدے کا آخری پیرا عدالتی حکم کا حصہ بنا دیں، میری بس یہی استدعا ہے،وکیل عمران خان نے کہا کہ ہمارے درمیان سیکیورٹی ، جلسے اور قانونی معاملات کا مسئلہ حل ہو گیا ہے ، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹی او آرز میں الفاظ کا چناؤ بہتر کر کے اسے دوبارہ ڈرافٹ کریں ،تفتیش کرنے والوں کا کام ہے کہ وہ تفتیش کریں میں پولیس کے قانونی عمل کو نہیں روک سکتا ،

    دوران سماعت آئی جی پنجاب کی جانب سےعمران خان کے گھر تک رسائی کے لیے درخواست دی گئی،آئی جی پنجاب کی جانب سے کہا گیا کہ جائے وقوعہ اورعمران خان کے گھر بغیر کسی رکاوٹ رسائی کی اجازت دی جائے، جائے وقوعہ پر کالعدم تنظیم کے ارکان کی موجودگی کا شک ہے،عدالت نے پولیس کو واپس آنے کے لیے کہا اس لیے تفتیش نہیں کر پارہے، درج مقدمات کی تفتیش اور شہادت اکٹھی کرنے کے لیے رسائی ضروری ہے،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • تمام ممالک اپنے اثاثوں کا تحفظ کرتے،حکمران ملکی مفادات کا تحفظ کریں،شاہد خاقان عباسی

    تمام ممالک اپنے اثاثوں کا تحفظ کرتے،حکمران ملکی مفادات کا تحفظ کریں،شاہد خاقان عباسی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم،ن لیگی رہنما ،شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ مفلوج ہوکر رہ گئی ہے،ملکی حالات سے متعلق لاپرواہی کی جارہی ہے،

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہم نے ملکی صورتحال کی جانب توجہ دلانے کی کوشش کی نہ ہم کسی کی تعریف کرتے ہیں نہ کسی پر تنقید کرتے ہیں ہم مسائل کی نشاندہی کررہے ہیں تاکہ حل نکل سکے ،پارلیمنٹ میں ملکی مسائل پر بات کرنی چاہیے،چیف جسٹس نیب کیسز پر نوٹس لے لیں تو مہربانی ہو گی ،اسحاق ڈار کو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اور پارلیمنٹ ان کیمرہ سیشن میں بات کریں،تمام ممالک اپنے اثاثوں کا تحفظ کرتے ہیں ،حکمران ملکی مفادات کا تحفظ کریں،عمران خان کو سیاست کے لیے موقع چاہیے،عمران خان پرحکومت سختی نہیں کرنا چاہتی اس کا فائدہ اٹھا کر وہ گھر بیٹھے ہیں،عمران خان عدالتوں میں جائیں اور ان کا سامنا کریں عدالت نے وارنٹ جاری کیے وہاں پیش ہونا عمران خا ن کی ذمہ داری ہے،عمران خان دعوے کرتے رہے کہ میں نے ان لوگوں کو گرفتار کروایا،اگر سابق وزیر اعظم عدالتی حکم پر علمدرآمد نہیں کرے گا تو لوگ کیسے کریں گے،

    شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ سیاست میں سیاستدانوں کو تکلیفیں پہنچتی ہیں ، نواز شریف بیرون ملک علاج کے لیے گئے ہیں ،سپریم کورٹ نے نواز شریف کو سیاست سے الگ کیا ہے امید ہے انتخابات سے قبل نواز شریف واپس آجائیں گے،توشہ خانہ کسی کو تحفہ نہیں دیتا ، یہ حکومت کا پیسہ نہیں ہے تحفہ کو بدنامی کا ذریعہ بنادیا گیا ہے، معیشت یہاں تک کیسے پہنچی اس کو دیکھنا ہوگا اور حل نکالنا پڑے گا،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ،پیٹرولیم مصنوعات کے معاملات کو حکومت چیئرمین اوگرا پر چھوڑ دے وہ صورتحال بتادے،

    فردوس عاشق کالہجہ تلخ تھا،مگرسرکاری ملازم صاحبہ کا ڈیوٹی سےچلےجانا،تکبر،انااورافسرشاہی نہیں تواورکیاہے

    فردوس عاشق نے اپنے حلقہ انتخاب میں کیا کارنامہ سرانجام دیا، تہلکہ خیز انکشاف

    مشیر نہیں بلکہ جہنم میں تھی، فردوس عاشق اعوان کی ایک بار پھر گندی گالیاں

    شوکت خانم کے فنڈز سے نجی ہاؤسنگ پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کی گئی، عمران خان کا اعتراف

  • عمران خان کے وارنٹ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل پر اعتراض عائد

    عمران خان کے وارنٹ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل پر اعتراض عائد

    عمران خان کے وارنٹ گرفتاری ،پی ٹی آئی نے سیشن کورٹ فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

    پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کی جانب سے فیصلے کیخلاف نظرِثانی کی درخواست کی گئی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ عملے کی جانب سے سیشن کورٹ فیصلے کیخلاف درخواست کو نمبر لگا دیا گیا پی ٹی آئی کی درخواست پر ڈائری نمبر 5440 بتاریخ 17 مارچ 2023 کا نمبر لگایا گیا،درخواست میں سیشن کورٹ فیصلے پر قانونی اعتراضات اٹھاتے ہوئےنظرِثانی کی استدعا کی گئی

    عمران خان کی وارنٹ منسوخی درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کردیا کہ عمران خان کا بائیو میٹرک نہیں ہے ،دوسرا اعتراض عائد کیا گیا کہ جس معاملے پر پہلے ہائیکورٹ فیصلہ کر چکی دوبارہ کیسے سن سکتی ہے ،

    دوسری جانب عمران خان نے ملک بھر میں مقدمات میں گرفتاری سے روکنے کے لیے اسلام آبادہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ،دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم حکومت کے آتے ہی ملک بھر میں روزانہ مقدمات درج ہورہے ہیں وزیر آباد میں قاتلانہ حملہ ہوا، جان کو شدید خطرات ہیں، درج مقدمات کا ریکارڈ دیں،پولیس کو عدالت کی اجازت کے بغیر گرفتاری سے روک دیں، درخواست میں سیکریٹری داخلہ، صوبوں کے آئی جی پولیس اور ڈی جی ایف آئی اے فریق بنائے گئے ہیں،عمران خان نے اپنے خلاف کیسز کی تفصیلات فراہمی کی پٹیشن بھی فائل کردی عمران خان کی دونوں پٹشنز پر رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کر دئیے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان زمان پارک میں ہیں اور توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری معطل نہیں کئے بلکہ درخواست نمٹا دی تھی،اب زمان پارک میں تحریک انصاف کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود ہے ,زمان پارک میں دیگر شہروں سے آئے کارکنان بھی موجود ہیں، تحریک انصاف کے کارکنوں نے ڈنڈے، پتھر غلیلوں پر مشتمل سامان بڑی تعداد میں جمع کر رکھا ہے وہیں مبینہ طور پر اینٹوں کو توڑ کر پتھروں کے ڈھیرسڑک کے مختلف مقامات پر اکٹھے کر لئے ہیں تا کہ پولیس زمان پارک کی جانب آتی ہے تو پولیس پر پتھراؤ کیا جا سکے ،

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • زمان پارک میں ریاستی اداروں کو چیلنج کیا جا رہا ہے،مریم اورنگزیب

    زمان پارک میں ریاستی اداروں کو چیلنج کیا جا رہا ہے،مریم اورنگزیب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات ،ن لیگ کی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ زمان پارک میں ریاستی اداروں کو چیلنج کیا جا رہا ہے،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے کے لیے عدالتی احکامات کی تعمیل کر رہی ہے، زمان پارک میں پولیس کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھے،اہلکاروں کو پیٹرول بموں، ڈنڈوں اور پتھروں سے مارا گیا،پولیس کی گاڑیوں پر پیٹرول بموں سے حملے کیے گئے، زمان پارک میں ڈی آئی جی آپریشنز سمیت 65 پولیس اہلکار زخمی ہوئے عمران خان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پارٹی کارکنوں کو استعمال کیا عمران خان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خواتین اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا حالیہ آڈیو لیک ثبوت ہے کہ عمران خان نے پیٹرول منگوا کر بموں میں استعمال کروایا،

    مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو عدالت نے بار بار وقت دیا وہ پیش نہیں ہوئے،عمران خان غیر قانونی عمل سے عدالت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، آئین میں قانون سب کے لیے برابر ہے،اگر برطانیہ میں کوئی سیاسی رہنما عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرے تو وہاں کیا ہوگا؟ عمران خان قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کی بجائے قانون شکنی کر رہے ہیں، عمران خان کو ملک میں خانہ جنگی، تشدد، انارکی کو ہوا دینے کی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتی،

    ریاست مدینہ کے دعویدار نے مزید سود والا قرضہ لے لیا ،بہرہ مند تنگی

    نعرہ ریاست مدینہ کا اور ملک چلا رہے ہیں سود پر، مذمتی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ای ایف پی کا گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر سے شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ

     ملکی موجودہ ابتر معاشی صورتحال تباہ کن مغربی سودی نظام ہے،علامہ زاہدالراشدی

    سود کا خاتمہ حکم الہٰی کے ساتھ آئین پاکستان کا اہم تقاضا بھی، ڈاکٹر قبلہ ایاز

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان زمان پارک میں ہیں اور توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری معطل نہیں کئے بلکہ درخواست نمٹا دی تھی،اب زمان پارک میں تحریک انصاف کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود ہے ,زمان پارک میں دیگر شہروں سے آئے کارکنان بھی موجود ہیں، تحریک انصاف کے کارکنوں نے ڈنڈے، پتھر غلیلوں پر مشتمل سامان بڑی تعداد میں جمع کر رکھا ہے وہیں مبینہ طور پر اینٹوں کو توڑ کر پتھروں کے ڈھیرسڑک کے مختلف مقامات پر اکٹھے کر لئے ہیں تا کہ پولیس زمان پارک کی جانب آتی ہے تو پولیس پر پتھراؤ کیا جا سکے ،

  • توشہ خانہ کیس: عمران خان کے ناقابل وارنٹ گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ میں چلینج کرنے کا فیصلہ

    توشہ خانہ کیس: عمران خان کے ناقابل وارنٹ گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ میں چلینج کرنے کا فیصلہ

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد کی سیشن عدالت کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کے حکم کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چلینج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق عمران خان کے وکیل خواجہ حارث ایڈوکیٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کریں گے جس میں ممکنہ طور پر توشہ خانہ ضابطہ فوجداری کیس دوسرے جج کو منتقل کرنے کی درخواست پر فوری سماعت کی استدعا کی جائے گی۔

    زمان پارک؛ پولیس پرپتھراؤ اور توڑپھوڑ کرنے والے 700 کارکنان کی شناخت کرلی گئی

    واضح رہے کہ جمعرات کو سیشن عدالت نے عمران خان کی تحریری یقین دہانی کے بعد ناقابل ضمانت وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

    ایڈیشنل سیشن جج نے ریمارکس دیے تھے کہ میں نے تفصیلی فیصلے میں سب کچھ لکھ دیا ہے کہ وارنٹ ہوتا کیا ہے اور کب جاری کیا جاتا ہے سب کچھ لکھ دیا ہے، مید ہے فیصلہ پڑھ کر آپ کو مزا آئے گا۔

    عدالت کی جانب سےجاری تفصیلی فیصلے میں لکھا گیا ہےکہ عمران خان کی وارنٹ منسوخی کی درخواست مسترد کی جاتی ہے، درخواست گزار نے لاہور میں امن و امان کی صورتحال پیدا کی، ایسا رویہ عدالت کیلئے کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے، اس صورتحال کے بعد عمران خان کسی عمومی قانونی ریلیف کے مستحق نہیں، عمران خان کو عدالتی کارروائی کی خلاف ورزی پر ذاتی طور پر پیش ہونا پڑے گا۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون معاشرے کے طاقت ور اور کمزور تمام طبقوں کے لیے برابر ہے ، یہ کوئی مذاق نہیں کہ قومی خزانے کو اتنا بڑا نقصان پہنچانے کے بعد انڈرٹیکنگ دے دی جائے ، لاہور میں قومی خزانے ، املاک اور لوگوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا، عمران خان کے اس کنڈکٹ اور عمل کے بعد محض انڈرٹیکنگ پر وارنٹ منسوخ نہیں کئے جا سکتے، عمران خان کے وکیل نے وارنٹ پر عمل درآمد پر مزاحمت کو افسوس ناک قرار دیا۔

    دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ کی بڑی مقدار برآمد. آئی ایس پی آر

    فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ عمران خان نے ریاست ریاست کی رٹ اور تقدس کو چیلنج کیا ، پولیس کی فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے ظالمانہ طاقت کا استعمال کیا گیا، یہ تمام صورتحال پیدا کرنے کے بعد عمران خان وارنٹ گرفتاری معطلی کے حقدار نہیں ہے، عمران خان کے فالورز نے کئی پولیس اہلکاروں کو زخمی کہیں پولیس گاڑیوں کو جلایا۔

    عدالتی فیصلے میں لکھا گیا کہ عمران خان تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں ان کے فالورز نے پولیس کے وارنٹ گرفتاری تعمیل میں رکاوٹ ڈالی، عمران خان کےکنڈکٹ اورعمل کے باعث غریب قوم کے لاکھوں روپے خرچ ہوئے، قانون کے مطابق عوام پولیس کے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد میں معاونت کی پابند ہے، عدالت طلبی کے باوجود مسلسل عدم حاضری پر ملزم کے وارنٹ جاری کرتی ہے۔

    علی امین گنڈاپور کی ایک اور آڈیو لیک؛ زمان پارک بندے پورے نہ لانے پر …

    فیصلے میں لکھا گیا کہ عدالت ناقابل ضمانت وارنٹ میں پولیس کو ملزم کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیتی ہے، وارنٹ گرفتاری ملزم کے عدالت کے سامنے پیش ہونے پر منسوخ ہو جاتے ہیں، قابل ذکر ہے کہ پولیس نے عمران خان کو بلا تاخیر گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے، پولیس عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ پر پاکستان میں کسی بھی مقام پر عمل درآمد کرا سکتی ہے، جس پولیس افسر کو وارنٹ جاری کیا جاتا ہے وہ اس پر عمل درآمد کا پابند ہوتا ہے، عدالتی ریکارڈ کے مطابق عمران خان اس کیس میں کبھی عدالت پیش نہیں ہوئے اس عدالت نے چار بار عمران خان کی ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی۔

  • زمان پارک، حکومت کو دھمکیاں دوسری طرف جھوٹ کی بھر مار

    زمان پارک، حکومت کو دھمکیاں دوسری طرف جھوٹ کی بھر مار

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے، اسلام آباد پولیس گرفتاری کے لئے آئی تو تحریک انصاف کے کارکنان نے پولیس کے ساتھ 20 گھنٹے تک آنکھ مچولی کی اور عمران خان کو گرفتار نہیں ہونے دیا، اس دوران تحریک انصاف کے رہنما اور کارکنان نہ صرف جھوٹ بولتے رہے بلکہ قانون کو ہاتھ میں لیتے رہے، اتنی ڈھٹائی سے جھوٹ بولے گئے کہ انکو سن سن کو شاید سچ لگنے لگ جائے،

    عمران خان کے پاس کسی قسم کی حفاظتی ضمانت نہیں ہے۔ عمران خان کے گرفتاری وارنٹ 6 مارچ کیلئے جاری کیے گئے، پھر 9 مارچ کیلئے جاری کیے گئے اور پھر 13 مارچ تک کیلئے موخر کیے گئے۔ جس کا مطلب ہے کہ اب تک کسی عدالت نے عمران خان کے گرفتاری وارنٹ نہ کینسل کیے ہیں اور نہ ہی انہیں حفاظتی ضمانت دی ہے۔ اس کے باوجود عمران خان کا کہنا کہ وہ حفاظتی ضمانت پر ہیں اس بات کی گواہی ہے کہ وہ قانون کو اپنے پاؤں تلے روند رہے ہیں۔گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنا ایک قانونی عمل ہے جس کے خلاف ہٹ دھرمی دکھانا صریحا ایک غیر قانونی حرکت ہے۔

    عمران خان اس بات پر بھی جھوٹ بول رہے ہیں کہ ان پر 80 کیس ہو چکے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں صرف 30 ایف آئی آریں درج ہوئی ہیں (27 اسلام آباد میں، 2 پنجاب میں اور 1 بلوچستان میں)۔یہ ایف آئی آریں حکومت نے نہیں بلکہ شہریوں کی درخواستوں پر عمران خان کے جرائم کی وجہ سے درج ہوئی ہیں۔ لہذا اس پر بھی عمران خان کو گمراہی پھیلانا بند کرنی ہوگی۔ پولیس اور رینجرز کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہے۔ عمران خان کو آنسو گیس کے آلے اور بندوق میں فرق واضح طور پر سمجھنا چاہیئے۔ عمران خان نے پٹرول بموں، پتھراؤ اور خندقوں کے ذریعے اپنے گھر کو جنگجوؤں کا ایک مورچہ بنا لیا ہے۔ پارٹی کی قیادت بھی مان رہی ہے کہ کارکنوں نے پٹرول بموں کا استعمال کیا۔ یاسمین راشد کی بھی آڈیو لیک ہوئی جس میں پٹرول بم کے استعمال کا کہا گیا ہے،

    عمران خان کے گھر میں کالعدم تنظیم کے ایک کارندے کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان غیر قانونی حرکات میں حدوں کو چھو رہے ہیں۔ عمران خان کے حامی اس بات کو خود مان رہے ہیں کہ تربیت یافتہ مجاہدین زمان پارک پہنچ چکے ہیں۔ عمران خان نے مشتعل مظاہرین پر فائر کیے گئے آنسو گیس کے شیلوں کو اس طرح پیش کیا جیسے وہ سب ان کے گھر پر پھینکے گئے۔ یہ عالمی میڈیا کو بیوقوف بنانے کا صرف ایک حربہ ہے۔ مشتعل مظاہرین نے عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتے ہوئے گرین بیلٹس، بجلی کے انفراسٹرچر اور گاڑیوں کی شدید ترین توڑ پھوڑ کی اور سرکاری اہلکاروں کو بھی زخمی کیا عمران خان خود کو مظلوم دکھانا چاہ رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ حکومت کو کھلم کھلا چیلنج کر رہے ہیں۔

    عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • دنیا عمران خان کے یوٹرنز پر کیسے یقین کرے گی؟ گورنر پنجاب

    دنیا عمران خان کے یوٹرنز پر کیسے یقین کرے گی؟ گورنر پنجاب

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے بیٹ رپورٹرز سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے آئے ہوئے آٹھ نو ماہ ہوچکے ہیں آج سوشل میڈیا کا دور ہے چیزیں تیزی سے سامنے آجاتی ہیں بہت سے لوگ کہتے ہیں گورنر پنجاب کے پاس مختلف پاورز ہونی چاہیے مجھ سے جب بھی کوئی بات کرتا ہے کہ تو میں کہتا ہوں جو کام میں کررہا ہوں ٹھیک ہے پچھلے گورنر مزید اختیارات بھی چاہتے تھے میں نے اختیارات نہیں مانگے ہمارے پاس پنجاب اسمبلی کے بلز آتے ہیں میں بلز کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہوں

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر کسی بل کو میں سمجھتا ہوں کہ ٹھیک نہیں تو میں نے اس پر انکار بھی کیا تحریک انصاف کی حکومت نے برسوں سے چلتا طریقہ کار کو بدل دیا تھا تحریک انصاف کی حکومت کے دوران نہ صرف ہمارے ملک کو معاشی ، معاشرتی نقصان پہنچے ہیں وہی ملک اناڑیوں کے ہاتھوں میں آگیا تھا بل پنجاب اسمبلی سے ڈائریکٹ گورنر ہاؤس آتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کچھ یونیورسٹیز کے بل اور ذاتی معاملات تھے میں نے پرویز الہی سے بھی کہا کہ طریقہ کار جو بنتا ہے وہ اختیار کریں لیکن انھوں نے نہیں سنا ہم اللہ اور عوام کو جوابدہ ہیں اگر پنجاب گورنمنٹ کی معاونت حاصل ہوتی تو اچھے طریقے سے چلتے لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے سسٹم کو چلنے نہیں دیا ایک قانون ایسا آیا کہ انگریزی کی بے تحاشا غلطیاں تھی گورنر کے قانون کو تبدیل کرتے تھے اور آگے سے اس پر بغلیں بجاتے تھے لوکل گورنمنٹ بل پر میرے بھرپور تحفظات تھے سیکرٹری اسمبلی کو بلا کر پرنسپل سیکرٹری لگایا گیا اس پر بیوروکریسی کو بہت تحفظات تھے ایک قانون میں روڈا کا بورڈ بننا تھا ہم نے کہا کہ یہ قانون وزیر اعلی کو نہیں بنانا چاہیے بلکہ کابینہ سے منظور کروایا جائے

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو بھی چاہیے تھا عوام کے سامنے صورتحال لے کر آتی لیکن ایسا بھی نہ ہوسکا پورا دنیا میں وزیر اعظم یا وزیر اعلی آفس کے درمیان فائر فائیٹنگ چلتی رہتی ہے گورنر پنجاب اس کے درمیان چیک اینڈ بیلنس کا کردار ادا کرتا رہتا ہے پچھلے دنوں الیکشن کی تاریخ اور نگران وزیر اعلی کے حوالے سے نازک مرحلہ آیا میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے آئین اور قانون کے مطابق چلو.پرویز الہی نے جب حلف لینا تھا ہم نے کہہ دیا کہ صدر پاکستان یہاں آکر ان سے حلف لے لیں صدر پاکستان نے گورنر ہاؤس لاہور آنا پسند نہیں کیا .پرویز الہی کو اسلام آباد جاکر حلف لینا پڑا .اسمبلی توڑنے کی بات آئی تو میں نے دیکھا آئین کے تحت مجھ پر لازم نہیں ہے کہ اسمبلی توڑوں یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ عمران خان جس عہدے پر رہے ہیں انھوں نے قانون کا مذاق بنایا ہے پہلے انھیں عدالت میں بلایا گیا وہ پیش نہیں ہوئے ،سلام پیش کرتا ہوں نواز شریف کو جنھوں نے قانون کے سامنے سر جھکایا پولیس جو قانونی فریضہ سرانجام دے رہی ہے ،اگر عدالت وارنٹ گرفتاری نکالے تو پولیس کا فرض ہے گرفتار کرکے پیش کرے عمران خان ایسا دکھا رہے ہیں جیسے وہ قانون سے بالاتر ہیں عمران خان دنیا کو کہتے ہیں پاکستان میں جنگل کا قانون ہے یہ انتہائی افسوسناک ہے پورا دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کروانا مذاق بنانا بالکل غلط ہے آج دہشت گردی اور معاشی مشکلات ہیں ہم سب بیٹھتے ہیں لیکن عمران خان اور پی ٹی آئی بیٹھنے کو تیار نہیں ہے آج چارٹر آف معیشت کی ضرورت ہے عمران خان نے کلچر دیا کہ میں اپوزیشن سے ہاتھ نہیں ملاؤ گا یہ چور ہیں جبکہ ملک میں کرہشن میں عمران خان کے دور حکومت میں اضافہ ہوا ہمارے معاشرے میں جو تقسیم پیدا ہوئی ہے یہ افسوسناک ہے عمران خان دنیا کو بتاتے رہے کہ پاکستان میں سب چور سب غلط ہیں دنیا کو جو نقشہ پیش کیا جارہا ہے وہ بہت تکلیف دہ ہے آج اگر سب کہہ دیں یہ ہمارا راستہ ہے تو تحریک انصاف پر کون یقین کرے گا جو یوٹرن کے بادشاہ ہیں عمران خان کہتے تھے میں قرضہ نہیں لوں گا خودکشی کرلوں گا اور قرضہ لے لیا اگر ہم اکھٹے ہو بھی گئے تو دنیا عمران خان کے یوٹرنز پر کیسے یقین کرے گی نواز شریف جتنی پیشیوں میں پیش ہوئے ہیں عمران خان تو اس طرح پیش ہی نہیں ہوئے عمران خان اور نواز شریف کا مقابلہ ہی نہیں بنتا نواز شریف کو جب عدالت نے بلایا تو وہ فورا پیش ہوئے ن لیگی ورکرز نے پولیس پر حملے نہیں کیئے تمام چیزیں قانونی طریقے سے ہونی چاہیے الیکشن کے لئے تمام پارٹیاں حصہ لے رہی ہیں

    عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی مہنگائی کا سامنا ہے،وزیراعظم

    دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی مہنگائی کا سامنا ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 1973 کے آئین میں چاروں صوبوں کو برابرکے حقوق دیئے گئے،

    سینیٹ کے خصوصی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آئین کو50 سال گزر چکے ہیں،سینیٹ میں 50سال میں اہم قانون سازی کی گئی،تمام دیگرمماملک کے سفیر،ہائی کمشنرز کے سینیٹ آنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں،حالیہ سیلاب میں بھرپور تعاون پر دوست ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں،پاکستان اس وقت مشکل حالات سے گزر رہا ہے،یوکرین جنگ کی وجہ سے پاکستانی کی معیشت بھی دباو کاشکار ہے ،دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی مہنگائی کا سامنا ہے،مہنگائی کی عالمی لہر سے پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک متاثر ہوئے، جب ہم آئے ملکی معاشی حالات سازگار نہیں تھے،ہم نے آتے ہی آئی ایم ایف سے ڈیل کی کوشش کی اقتدار میں آتے ہی ہمارے پاس 2 راستے تھے ایک راستہ تھا کہ سبسڈیز دیتے یا ذمہ داری اٹھاتے،ہم نے مشاورت سے ریاست کو محفوظ کرنے کا راستہ اپنایا ،ہم نے کفایت شعاری اپنائی پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کی پاسداری نہیں کی جب اقتدار سنبھالا تو ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار تھی، معاہدے سے روگردانی سے عالمی سطح پر پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچا،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ معاشی نظام کو ٹھیک کرنا ہے تو سیاسی استحکام ضروری ہے،جب تک سیاسی استحکام نہیں ہوگا معاشی استحکام نہیں آئے گا،ہماری ٹیم پوری کوشش کررہی ہے کہ ملک کو ان مشکلات سے نکالا جائے ،آئی ایم ایف کی تمام کڑوی ،شدید کڑوی شرائط پوری کر دی ہیں،اگلے چند دنوں میں ہمیں اسٹاف لیو ل معاہدے میں جانا چاہئے،آئی ایم ایف معاہدے میں تاخیرپر اپنوں کا بھی قصورہے،عمران خان جب وزیراعظم تھے تو وہ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں تھے،فروری 2019میں ملک میں جنگ جیسی صورتحال تھی،

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سینیٹ میں کہا کہ کوئی بھی عالمی طاقت پاکستان کو ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی سمیت سٹریٹیجک اثاثوں پر کوئی فیصلہ لینے پر مجبور نہیں کرسکتی، آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر حکومت کی طرف سے نہیں اس بار بات چیت بہت غیرمعمولی رہی بہت زیادہ مطالبات سامنے رکھے گئے ہم نے ہر چیز مکمل کر لی ہمیں قومی مفاد کا تحفظ کرنا ہے کوئی بھی نیوکلیئر یا میزائل پروگرام پر سمجھوتا نہیں کرے گا کسی کو حق نہیں کہ پاکستان کو بتائے کہ وہ کس رینج کے میزائل یا ایٹمی ہتھیار رکھے میں نے ماضی میں سب سے پہلے آئی ایم ایف معاہدہ ویب سائٹ پر ڈالا تھا، اب بھی جیسے ہی آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ ہوگا ویب سائٹ پر ڈال دیا جائے گا

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    سینیٹ خصوصی اجلاس وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کی گولڈن جوبلی ہم سب کیلئے باعث فخر ہے، اس خصوصی سیشن کے انعقاد پر چیرمین سینیٹ اور سینیٹ سیکریٹریٹ مبارک کے مستحق ہیں۔ سینیٹ ملک کی وفاقی امنگوں کی پاسدار ہے،