Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • توشہ خانہ سے چیزیں لینا اور چوری کرنا مختلف باتیں ہیں،مریم اورنگزیب

    توشہ خانہ سے چیزیں لینا اور چوری کرنا مختلف باتیں ہیں،مریم اورنگزیب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے مفت آٹا پروگرام سے غریب کو فائدہ ہوگا،مفٹ آٹا پروگرام کی نگرانی وزیراعظم شہباز شریف خود کریں گے ،وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان پیکج کی شروعات پنجاب سے کی ہے، وزیر اعظم نے صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ مفت آٹے کی فراہمی کا بندوبست کریں ،پنجاب سمیت ملک بھر میں 8 کروڑ لوگوں کو آٹا تقسیم کیا جائے گا،

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ روز لاہور میں عمران خان نے پھر سیاست کرنے کی کوشش کی عمران خان عدم اعتماد میں اقتدار بچانے کے لیے سابق آرمی چیف کے ترلے منتیں کرتے رہے ،گزشتہ روزننھی منی ریلی نکلی، خود بلٹ پروف میں بیٹھے تھے ،وزیر اعظم آئی ایم ایف سے معاملات طے کر کے ٹیبل پر لائے ،خود اسمبلی توڑی، لانگ مارچ کی بات کی ، پھر خود کو گولی لگوائی، پھر کہا چھرے لگے، لانگ مارچ میں ایک گود اجڑی، صحافی شہید ہوئی، کارکن کے 6 بچے یتیم ہوئے، ظل شاہ کی حادثے میں ڈیتھ ہوئی،ان کی لاش پر سیاست کی،

    مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ ظل شاہ کوپی ٹی آئی کے راجہ شکیل کی گاڑی میں لے جایا گیا،راجہ شکیل کو پناہ دیئے رکھی، پھر ڈرائیور فرار ہوگیا، یہ سب کیوں؟ کیونکہ عمران خان کی سیاست دفن ہوچکی ہے، جب عدالت بلاتی ہے توعمران خان نہیں جاتے وارنٹ ایشو ہوا پھر معطل ہوگیا،سائفر کی کہانی ، لانگ مارچ ختم ، اب تو توشہ خانہ کی لسٹیں ہیں ،اگر عمران خان نے جرم نہیں کیا تو عدالت میں جواب دیں عمران خان نے 4 سال ملک کیخلاف سازش کی ،عمران خان نے آئی ایم ایف کا پروگرام معطل کیا،موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام دوبارہ بحال کیا،عمران خان ناکام ہو چکے ہیں،توشہ خانہ سے متعلق جواب دیں،توشہ خانہ سے چیزیں لینا اور چوری کرنا مختلف باتیں ہیں،کمرے میں تاحیات ایکسٹینشن کے ترلے منتیں کرتے تھے، کیا الیکشن کمیشن کے توشہ خانہ تحائف کے فیصلے کے ساتھ بھی ایسے ہی کھڑے ہیں،

    معلوم نہیں عمران خان کی ٹانگ خراب ہے یا دماغ،اسحاق ڈار پھٹ پڑے
    میاں نے پستول تو بیوی نے اٹھائی کلاشنکوف،براہ راست فائرنگ،دونوں کی موت
    صحافیوں کے حقوق،مجوزہ قانون سازی کا ڈرافٹ تیار کرنے کیلئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل
    آج کی نسل سیکھی سکھائی ہے سینئرز کو ان سے سیکھنا چاہیے ڈاکٹر یونس بٹ

  • عمران خان کی ممکنہ گرفتاری،زمان پارک کے باہر پولیس پر کارکنان کا پتھراؤ

    عمران خان کی ممکنہ گرفتاری،زمان پارک کے باہر پولیس پر کارکنان کا پتھراؤ

    عمران خان کو گرفتار کرنے پہنچے ہیں،،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

    پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا،پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شیلنگ کی گئی،کارکنوں کے پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار معمولی زخمی ہو گئے ہیں، ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد شہزاد بخاری پی ٹی آئی کارکنوں کے پتھراؤ سے زخمی ہو گئے ہیں ، تا ہم ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز اور ایس پی بالکل خیریت سے ہیں۔پنجاب پولیس اسلام آباد کیپیٹل پولیس کی مکمل معاونت کررہی ہے۔عدالتی احکامات میں رکاوٹ بننے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، زمان پارک میں انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی گئی ہے،

    پولیس زمان پارک کے مرکزی گیٹ پر پہنچ گئی ،پولیس کی جانب سے عمران خان کی رہائش گاہ پر شیلنگ کا سلسلہ جاری ہے ،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کیا جائے گا،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد پولیس نے زمان پارک کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم قانون پر عملدرآمد کے لیے آئے ہیں، امید کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ تعاون کیا جائیگا،عوام قانون کو ہاتھ میں نہ لیں ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کارروائی ہوگی ،دوسری جانب زمان پارک جانے والے راستے بند کر دیے گئے ہیں ،اسلام آباد اور لاہور کی پولیس گرفتاری کے لیے زمان پارک کے باہر موجود ہے، پولیس پلے کارڈز کی صورت میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری لے کر زمان پارک پہنچی ہے

    ڈی آئی جی اسلام آباد نے حسان نیازی کو عدالتی احکامات سے آگاہ کیا اور کہا کہ عدالت نےعمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں، حسان نیازی نے کہا کہ عمران خان رہائشگاہ پر موجود نہیں ہیں،زمان پارک میں کارکنان سے کوئی زبردستی کی گئی تو تصادم کا خطرہ ہے، ہم نے وارنٹس کے خلاف عدالت سے رجوع کر رکھا ہے، ہمیں وقت دیں، ہم پیش ہو جائیں گے،

    تحریک انصاف کے ڈنڈا بردار کارکنان زمان پارک کے باہر موجود ہیں،پی ٹی آئی کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا ہے،پولیس کی جانب سے زمان پارک کی جانب پیش قدمی کی گئی تو تحریک انصاف کے کارکنان نے پولیس پر پتھراؤ کیا،جس کے بعد پولیس کی جانب سے زمان پارک میں واٹر کینن طلب کر لی گئی ہیں،پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کیلئے واٹر کینن کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار اور غلیل سے لیس کارکنوں کے پتھراﺅ سے پولیس اہلکار زخمی ہو گیا، جس کو طبی امداد دی جارہی ہے، پولیس کی جانب سے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، پولیس کی جانب سے تحریک انصاف کے کارکنان کو گرفتار بھی کیا گیا ہ،

    تحریک انصاف کے رہنما زمان پارک میں عمران خان کی رہائشگاہ پر موجود ہیں،عمران خان کی بہن علیمہ خان کہتی ہیں کہ عمران خان کارکنان کی آواز ہیں انکی ہرصورت حفاظت کرنی ہے شہادت سے کون ڈرتا ہے ہم جان دینے کے لیے تیار ہیں،ہمیں اور پاکستان کو عمران خان کی ضرورت ہے، فوج اور پولیس والے ہمارے محافظ، ہمیں نہیں ماریں گے، رانا ثناء اللہ پر بھی مقدمات ہیں، اسے کوئی گرفتار نہیں کر رہا، عمران خان کا گناہ یہ ہے کہ اس نے الیکشن کا مطالبہ کیا ہے، عمران خان ہماری آواز ہے، ہم نے اسکا تحفظ کرنا ہے،

    سی سی پی اولاہوربلال کمیانہ کا کہنا ہے کہ زمان پارک پہنچنے والی پولیس غیر مسلح ہے زمان پارک پہنچنے والی پولیس کے پاس اسلحہ نہیں ہے اینٹی رائٹس پولیس کے پاس صرف ڈنڈے ہوتے ہیں ، تھریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا تو پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا، تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے انکے کارکنان کو گرفتار کیا ہے

    تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب کا کہنا ہے کہ پولیس نے زمان پارک کو جانے والے تمام راستے بند کردئیے ہیں،عوامی لیڈر کو اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں ،ہم نے پہلے بھی ایک نوٹس کو چیلنج کیا ہے اس نوٹس کو بھی عدالت میں چیلنج کررہے ہیں عمران خان کی جان کو خطرہ ہے،ہم ایسی صورتحال میں انہیں جیل میں نہیں ڈالنا چاہتے ،پولیس کی جانب سے زمان پارک پر حملہ کیا گیا ہے پولیس آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں چلا رہی ہے، واٹر کینن کا استعمال اور نہتے کارکنان پر بدترین تشدد کیا جارہا ہے، عمران خان کی جان کو خطرہ لاحق ہے، عمران خان کی سیکیورٹی سے متعلق درخواستیں ہائیکورٹ میں پڑی ہیں،عمران خان کی سیکیورٹی سے متعلق درخواستیں ہائیکورٹ میں پڑی ہیں، عمران خان نے 18 مارچ کو عدالت میں پیش ہونا تھا،پولیس آج وارنٹ پر عملدرآمد کروانے آ گئی ،یہ وارنٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج ہو چکا، معطل ہوجائے گا،

    اسلام آباد پولیس کی زمان پارک آمد ،پی ٹی آئی کارکنوں نے کینال روڈ پر دھرنا دے دیا، پی ٹی آئی کارکنان کا کہنا ہے کہ جب تک پولیس واپس نہیں جاتی ہم یہاں بیٹھے رہیں گے،

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا دفاع کر رہے ہیں،چیئر مین پی ٹی آئی عمران خان کا دفاع کریں گے، قا نون پر عمل کرنے کیلئے ہم درمیانی راستہ نکالتے ہیں پولیس کو کہا ہے کہ جو بات کرنی ہے مجھ سے کریں،کیا یہ لوگ ملک میں افرا تفری پھیلانا چاہتے ہیں؟تحریک انصاف کوئی خون خرابہ نہیں چاہتی ،ہم باہمی مشاورت سے ایک راستہ نکالنے کیلئے تیارہیں، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کااستعمال بلا جواز، فل الفور بند کیا جائے،کل کی ریلی اور مینار پاکستان جلسے کے اعلان کے بعد حکومت حواس باختہ ہوگئی ہے، ہم نے عدالتوں کا سہارا لیا ہے ، ہمارے امیدوار حلقوں میں کاغذات جمع کروانے کیلئے گئے ہیں ،مجھے قانونی طور پر قائل کر دیں،مجھے وارنٹ دکھائیں میں عمران خان سے بات کرتا ہوں، ہوسکتا ہے عمران خان از خود گرفتاری دے دیں، میں سیاستدان ہوں کوئی معقول راستہ نکالوں گا، مجھے وارنٹ دکھائیں میں پڑھوں گا اور عمران خان سے بات کروں گا،

    تحریک انصاف کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے کہا گیا ہے کہ ایچیسن کالج اور زمان پارک کے بیرئیر کے پاس پولیس کی نفری واٹر کینن اور آنسو گیس کے ساتھ پہنچ گئی ہے تمام کارکنان جلد از جلد زمان پارک پہنچیں

    تحریک انصاف کے رہنما قاسم سوری کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کی صورت میں پاکستان تحریک انصاف بلوچستان بھرپور احتجاج اور قومی شاہراہوں کو فوری طور بند کرے، کوئٹہ چمن شاہراہ کچلاک یارو قلعہ عبداللہ اور کوژک درہ کے مقام پر، کوئٹہ شاہراہ قلعہ سیف اللہ اور ژوب کے مقام پر بند کر دیں۔

    ممکنہ گرفتاری سیکرٹری جنرل سندھ نے سندھ بھر میں احتجاج کی کال دے دی عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کیخلاف کراچی میں احتجاج شروع ہو گیا ہے، پی ٹی آئی کارکنوں نے حیدری کے قریب شاہراہ عثمان کوبلاک کردیا، تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لوگ جہاں بھی ہیں چوک اور چوراہوں میں اکٹھے ہوں اور عمران خان سے اظہار یکجہتی کیلئے پر امن احتجاج ریکارڈ کرائیں، تحریک انصاف کی تنظیمیں اس احتجاج کو پرامن بنانے میں کردار ادا کریں.

    عمران خان کے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں، عمران خان زمان پارک میں ہیں، گزشتہ روز عمران خان نے ریلی نکالی تا ہم عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے،عمران خان وزیرآباد حملے کے بعد سے اب تک زمان پارک لاہور اپنی رہائشگاہ پر موجود تھے، عمران خان کی رہائشگاہ کی اطراف سیکورٹی بیریئر لگائے گئے تھے ، تحریک انصاف کی پنجاب میں حکومت ختم ہوئی تو نگران حکومت کا قیام عمل میں‌ آیا، اس دوران زمان پارک سے ہر تیسرے روز عمران خان کی متوقع گرفتاری کا شوشہ چھوڑا جاتا اور کارکنان کو زمان پارک بلا لیا جاتا ، کارکنان زمان پارک عمران خان کی رہائشگاہ کے اطراف میں جمع رہتے ہیں، آج بھی عمران خان کی گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر کارکنان کو زمان پارک بلایا گیا ہے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد شہزاد بخاری بھی سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے لیے لاہور میں موجود ہیں ، انہوں نے لاہور پولیس کے حکام کے ساتھ ایک اجلاس کیا جس میں عمران خان کی گرفتاری کے بارے میں مشاورت کی گئی، پولیس کی جانب سے تحریک انصاف کے کارکنان کی فہرستیں بھی تیار کر لی گئی ہیں، پولیس حکام کے مطابق گرفتاری کے دوران اگر کوئی رکاوٹ بنا تو سختی سے نمٹا جائے گا،

    قبل ازیں عمران خان کی رہائش گاہ زمان پارک کے باہر بکتر بند گاڑی پہنچ گئی ،پی ٹی آئی رہنماؤں نے پولیس سے استفسار کیا کہ بکتر بند گاڑی کیوں آئی ہے؟ پولیس حکام نے جواب دیا کہ بکتر بند گاڑی عمران خان کی سیکیورٹی کے لیے آئی ہے، بکتر بند گاڑی عمران خان کی گرفتاری کے لیے نہیں آئی،

    دوسری جانب فواد چودھری نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری چیلنج کر دئیے گئے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری چیلنج کردئیے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست پر کچھ دیر بعد سماعت کا امکان ہے،

    عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیئے گئے،دائر درخواست میں سیشن عدالت کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی،درخواست پر اعتراض عائد کر دیا گیا جس میں کہا گیا کہ عمران خان نے بائیو میٹرک نہیں کروایا،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

  • اسلام آباد پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے لاہور پہنچ گئی

    اسلام آباد پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے لاہور پہنچ گئی

    عمران خان کی گرفتاری کیلئے اسلام آباد پولیس لاہور پہنچ گئی ہے

    اسلام آباد پولیس کے مطابق عمران خان کی گرفتاری کیلئے مزید نفری درکار ہوگی۔ اسلام آباد کی مقامی عدالت کی جانب سے عمران خان کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد اسلام آباد پولیس لاہور پہنچی ہے، اسلام آباد پولیس کی کوشش ہو گی کہ آج عمران خان کو گرفتار کر لیا جائے، عمران خان کو اسلام آباد پولیس پہلے بھی گرفتار کرنے آئی تھی مگر عمران خان زمان پارک میں پولیس کو نہیں ملے تھے، شبلی فراز نے وارنٹ وصول کئے تھے

    واضح رہے کہ خاتون جج کو دھمکانے کا کیس،عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی گئی،عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے.عدالت نےعمران خان کو 29 مارچ کوگرفتارکرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا

    دوسری جانب عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کی ریلی کا آغاز ہو گیا ہے،عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی انتخابی ریلی زمان پارک سے روانہ ہو گئی ہے، ریلی داتا دربار تک جائے گی، ریلی میں تحریک انصاف کے دیگر رہنما و کارکنان شریک ہیں،تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ زمان پارک میں ریلی کے اختتام پر چیئرمین عمران خان قوم سے خطاب میں ایک اہم اعلان کریں گے۔

  • 2 منٹ کا کیس ہے،اون یا ڈس اون کریں،ٹیریان کیس میں عدالت کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ

    2 منٹ کا کیس ہے،اون یا ڈس اون کریں،ٹیریان کیس میں عدالت کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں مبینہ بیٹی کو ظاہر نہ کرنے پر عمران خان کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں لارجر بینچ نے درخواست پر سماعت کی،جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر لارجر بینچ کا حصہ ہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل مکمل کر لیے ہیں؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ابھی تو میں نے دلائل شروع ہی نہیں کیے،میں 5 نکات پر ایک ایک کر کے دلائل دوں گا،عمران خان کے وکیل نے مجموعی طور پر 5اعتراضات اٹھائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے بیان حلفی پر کوئی فائنڈنگز دیں؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کبھی کوئی فائنڈنگز نہیں دی گئیں، وکیل عمران خان نے کہا کہ اضافی دستاویزات جمع کرانے کی درخواست پر تحریری جواب جمع کرانا چاہتا ہوں، ہمیں تھوڑا وقت دیدیں، جواب جمع کروا دیں گے،وکیل ابو ذر سلمان نیازی نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر تاریخ سے متعلق پتہ نہیں چلا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا تو پتہ نہیں لیکن میرا حافظہ بہت تیز ہے،ہم نے کیس کی سماعت کے دوران ہی آج ہی کی تاریخ دی تھی،کیا 2031 کی تاریخ دیدوں میری ریٹائرمنٹ کا سال ہے،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2 منٹ کا کیس ہے،ہر شخص کی پرائیویسی اہم ہوتی ہے، اس کی عزت کرنی چاہئے، آپ نے یہ اون کرنا ہے یا ڈس اون کرنا ہے، بس یہی کیس ہے،آپ ایک موقف لے لیں، ہم آج اس درخواست کو خارج کر دیتے ہیں ،چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار اون یا ڈس اون کر دیں تو معاملہ ختم ہو جائے گا قابل سماعت ہونے پر چلتے رہیں گے تو یہ ایسے چلتا رہے گا درخواست ناقابل سماعت قرار دے بھی دیں تو یہ اگلے انتخابات میں آ جائیں گے

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے شہری محمد ساجد نے عمران خان کی نااہلی کی درخواست دائر کر رکھی ہے ,درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے کاغذاات نامزدگی جمع کراتے وقت غلط معلومات فراہم کیں ،عمران خان نے بچوں کی تفصیل میں ایک بچے کی معلومات چھپائیں، عمران خان نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیٹی کا ذکر نہیں کیا درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کاغذات نامزدگی میں جھوٹ بولنے پر عمران خان کو نااہل قرار دے، عدالت آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کو نااہل قرار دے۔

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • وزیراعظم نے کہا پہلے انکوائری پھر گرفتاری ہو،وزیر قانون

    وزیراعظم نے کہا پہلے انکوائری پھر گرفتاری ہو،وزیر قانون

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ تمام اداروں کو غیر جانبدار اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی نظام میں حدود سے تجاوز کی گنجائش نہیں ہے، تصدق حسین جیلانی ، ناصر الملک اور بیسیوں ججز کے نام تعظیم سے لیے جاتے ہیں سیاست میں کوئی جبر یا تشدد کی گنجائش نہیں،سیاست کا نام افہام وتفہیم سے معاملات کو نتیجہ خیز منزل پر پہنچانا ہے، خواتین کے لیے پولیسنگ آج کی ضرورت ہے، خواتین کو بہتر ماحول فراہم کرنا ضروری ہے، قوانین کا نفاذ سب سے بڑا چیلنج ہے ہمیں قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے بیٹھنا ہو گا ،ہم قانون بنانے میں اچھے ہیں لیکن عمل درآمدمیں اچھے نہیں ،

    اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ عدالت کسی کو بلائے تو اسے پیش ہونا چاہیے اسلام آباد پولیس عمران خان کو لینے گئی لیکن طاقت کا استعمال نہیں کیاعمران خان کو خود کو پولیس کے حوالے کرنا چاہیے تھا ہم عمران خان کو گرفتار کرنے سے گھبرا نہیں رہے اور ان کی گرفتاری کو دانستہ روک نہیں رہے ،وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پہلے انکوائری ہو پھر گرفتاری ہو، یہ ملک چلے گا تو عمران خان کی سیاست چلے گی لوگوں کو چور کہنے سے آپ کا دامن صاف نہیں ہو سکتا سیاست دان بیٹھ کہ بات کریں ملک سنگین معاشی حالات سے گزر رہا ہے

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

  • توہین الیکشن کمیشن،عمران خان کو نوٹس جاری،کل ہو گی سماعت

    توہین الیکشن کمیشن،عمران خان کو نوٹس جاری،کل ہو گی سماعت

    توہین الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال ،الیکشن کمیشن نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چودھری کو نوٹس جاری کردیئے الیکشن کمیشن کل سماعت کرے گا، کاز لسٹ جاری کر دی گئی

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، فواد چودھری الیکشن کمیشن وارنٹ گرفتاری کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وارنٹ گرفتاری، توہین کمیشن درخواست الیکشن کمیشن میں بھی پینڈنگ ہے جو معاملہ الیکشن کمیشن میں پینڈنگ ہے وہ ہم کیسے سن سکتے ہیں؟ کمیشن میں چیلنج دائرہ اختیار پٹیشن واپس لیں یا سننے دیں،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپنے کلائنٹ عمران خان، فوادچودھری سے نئی ہدایات لے کر آگاہ کریں الیکشن کمیشن دائرہ اختیار سماعت بارے جو بھی فیصلہ کرے اسے چیلنج کیا جاسکتا ہے عدالت نے کیس کی سماعت میں ایک گھنٹے کا وقفہ کردیا

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عمران خان، فواد چودھری اور اسد عمر کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس ہدایات کے ساتھ نمٹا دیا گیا

  • نااہلی اورجیل عمران خان کا مقدر بن چکا ہے،شرجیل میمن

    نااہلی اورجیل عمران خان کا مقدر بن چکا ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ عمران خان کے پاس ریلیاں نکالنے کا وقت ہے لیکن عدالت میں پیشی کا نہیں ،

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ عمران خان نااہلی سے بچنے کے لیے تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں ،عمران خان چاہتے ہیں کہ ان کی گرفتاری کا تماشہ ہو، خون خرابا ہو، عمران خان کے لیے کوئی قانون نہیں ، آئین و قانون سے بالاتر ہیں منی لانڈرنگ اور فارن فنڈنگ کیس 10 سال سے چل رہا ہے ، فیصلہ نہیں ہو سکا، بی آر ٹی پشاور میں بدعنوانی منظر عام پر آئی ، کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں ، مالم جبہ ، بلین ٹری سونامی اسکینڈلز داخل دفتر کر دیئے گئے ،عمران خان چاہے کتنے حربے استعمال کرلے، نااہلی اورجیل ان کا مقدر بن چکا ہے پی ٹی آئی میں لڑائی نمبر دو اور نمبر 3 میں ہے کہ کون عمران خان کی جگہ سنبھالے،عمران خان نے پنجاب پرانے کارکنوں کو نظر انداز کر کے کسی اور کے حوالے کردیا ،

    دوسری جانب پیپلز پارٹی کی رہنما، وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان آج بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے عمران خان ریلی کی قیادت کیلئے ٹھیک اور وہاں سیکیورٹی کا خدشہ نہیں، عمران خان کو جب عدالت بلائے تو صحت اور سیکیورٹی کا عُذر پیش کرکےاستثنیٰ مانگتے ہیں،عدالت سماعت میں وقفے اور تاخیر کے بجائے عمران خان کے خلاف کارروائی کرے، عمران خان آج پھر سیاسی انتشار پھیلانے کیلئے تیار ہیں ، جواب دہی کیلئے تیار نہیں،اپنی نام نہاد سیاست کیلئے عمران خان اپنے کارکنان کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، خونی مارچ اور ریلیاں نکالنے والے کیا اپنے کارکنان اور ملک کے خیر خواہ ہیں؟عمران خان کارکنان کو اکسا کر خود چھپ جاتے ہیں،

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

  • عمران خان کی سیکیورٹی پر 123 پولیس اہلکارمامور،رپورٹ عدالت پیش

    عمران خان کی سیکیورٹی پر 123 پولیس اہلکارمامور،رپورٹ عدالت پیش

    لاہور ہائیکورٹ ،عمران خان کو ویڈیو لنک پر پیشی او سیکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عمران خان کی سیکیورٹی سے متعلق پنجاب حکومت اور پولیس کی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں پیش کر دی گئی ،وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ عمران خان کی سیکیورٹی کے حوالے سے میٹنگ ہوئی جس میں ریویو کیا گیا،عمران خان کی سیکیورٹی پر 123 پولیس اہلکارمامور ہیں، عمران خان کو دو طرح کی سکیورٹی فراہم کررہے ہیں،ایک سکیورٹی عمران خان کی رہائشگاہ پر اور دوسری موومنٹ کے وقت،جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہاکہ سکیورٹی کیلئے فوکل پرسن بنا دیتے ہیں، عدالت نے کہاسی سی پی او لاہور کو فوکل پرسن بنا دیتے ہیں،کیا کہتے ہیں؟

    عدالت کی تجویز پر سرکاری وکلا رضامند تھے جبکہ عمران خان کے وکیل نے اعتراض اٹھا دیا اور کہا کہ سی سی پی او بلال صدیق سے متعلق پوری جماعت کو تحفظات ہیں مجھے کچھ وقت دیں اپنے موکل سے مشاورت کرنا چاہتا ہوں، عدالت نے عمران خان کے وکیل کی اپنے موکل سے ہدایات لینے کی استدعا منظور کرلی عدالت نے عمران خان کے وکیل کو 15 مارچ کو جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا

    عمران خان کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہےجس میں کہا گیا ہے کہ انکی جان کو خطرہ ہے، اسلئے وہ عدالتوں میں بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہونا چاہتے ہیں، عمران خان نے چیف جسٹس کو بھی خط لکھا ہے عمران خان نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی کا حصہ بننے کی استدعا کی ہے۔ جبکہ لکھے گئے خط میں انہوں نے کہا کہ ’ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اگر سکیورٹی تھریٹ ہو تو بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں حاضری یقینی بنائی جاتی ہے۔ میری زندگی کو درپیش خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی اجازت دی جائے

    دوسری جانب لاہورہائیکورٹ میں عمران خان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس لاہو ہائیکورٹ کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے سماعت کی ،عدالت نے نوٹیفکیشن کی معطلی کے حکم میں 20 مارچ تک توسیع کردی اورپیمرا کے وکیل کو دائرہ اختیار سے متعلق تحریری دلائل جمع کرانے کی ہدایت کردی

    وزیراعظم شہبازشریف سے امریکی نمائندہ خصوصی جان کیری کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیرخارجہ بلاول  کی میٹا کے عالمی امور کے صدر نک کلیگ سے ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ملنڈا اینڈ بل گیٹس کے بانی بل گیٹس سے ملاقات کی ہے۔

  • عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد،ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

    عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد،ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

    خاتون جج کو دھمکانے کاکیس،عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی گئی،عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے.عدالت نےعمران خان کو 29 مارچ کوگرفتارکرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا، سیشن کورٹ اسلام آباد کے جج مجاہد رحیم نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

    قبل ازیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے جج نے عمران خان کے خلاف خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کے کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ آج اگر عمران خان عدالت نہیں آتے تو ان کے وارنٹ جاری کر دوں گا۔

    باغی ٹی وی: عمران خان کے خلاف خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کے کیس کی سماعت ہوئی دورانِ سماعت سول جج رانا مجاہد رحیم کی عدالت میں عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھہ پیش ہوئے جنہوں نے عمران خان کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی ہے۔جج نے کہا کہ اگر عمران خان آج عدالتی اوقات میں نہ آئے تو ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کروں گا۔اس کے بعد عدالت نے سماعت میں ساڑھے 12 بجے تک وقفہ کر دیا۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس میں وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی۔سول جج رانا مجاہد رحیم نے اس موقع پر عمران خان کے پیش ہونے کے لیے وقت ایک بار پھر بڑھا دیا اور کہا کہ عمران خان کی جانب سے استثنیٰ کی درخواست دائر ہے، عدالتی وقت ختم ہونے تک انتظار کر لیتے ہیں، اگر عمران خان نہ آئے تو ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیں گے۔

    سول جج نے کہا کہ عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست خارج کررہا ہوں۔عمران خان کے وکلاء کی جانب سے بریت کی درخواست دائر کر دی گئی۔جج نے کہا کہ عدالت نے عمران خان کو فردِ جرم کی کارروائی آگے بڑھانے کے لیے آج طلب کیا ہے، فردِ جرم عائد کرنے کے لیے طلب نہیں کیا، ابھی کاپیاں فراہم کرنے کے لیے کیا ہے۔وکیلِ صفائی انتظار پنجوتھا نے استدعا کی کہ عمران خان کے خلاف کیس کی کاپیاں وصول کرنا چاہتے ہیں جج نے ریمارکس میں کہا کہ کاپیاں تو دے دیں گے لیکن عمران خان ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔وکیل انتظار پنجوتھا نے دلائل میں کہا کہ عمران خان سابق وزیرِ اعظم ہیں، وزیر آباد میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا، ابھی تک وہ مکمل صحت یاب بھی نہیں ہوئے، وزیر آباد قاتلانہ حملے کے ملزمان ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے، سابق وزیرِ اعظم کے کچھ سیکیورٹی انتظامات ہوتے ہیں-وکیل نے مزید کہا کہ دستاویزات کے مطابق سابق وزیرِ اعظم کو سیکیورٹی مہیا کی جاتی ہے، مگر عمران خان کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، اس وقت ان کی کوئی سیکیورٹی نہیں، عمران خان کی سیکیورٹی کی واپسی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست جمع کروائی ہے، عمران خان پر دوبارہ قاتلانہ حملہ ہو سکتا ہے، وہ عدالتوں سے نہیں بھاگ رہے، کوئی بہانہ بھی نہیں کر رہے، وہ عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا چاہتے ہیں-

    واضح رہے کہ عمران خان کو کیس کی کاپیاں دینے کے لیے عدالت نے آج طلب کر رکھا ہے۔

  • پی ٹی آئی الیکشن ریلی پولیس نے پورے روٹ سے لنک روڈ کو بند کردیا

    پی ٹی آئی الیکشن ریلی پولیس نے پورے روٹ سے لنک روڈ کو بند کردیا

    عمران خان کی قیادت میں ریلی بوہڑ والا چوک پہنچ گئی ،ریلی میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی کثیر تعداد موجود ہے گڑھی شاہو پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے ریلی کا استقبال کیا گیا،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اپنی گاڑی میں موجود ہیں،عمران خان کی جانب سے ہاتھ ہلا کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دیا گیا

    پی ٹی آئی الیکشن ریلی پولیس نے پورے روٹ سے لنک روڈ کو بند کردیا روٹ پر آنے اور جانے والے راستوں پر کنٹینر لگا دئیے گئے دھرم پورہ سے کینال روڈ اور علامہ اقبال روڈ پر انٹری بند کردی گئی مال روڈ سے زمان پارک جانے والا راستہ بند کر دیا گیا ریلوے اسٹیشن سے سرکلر روڈ جانے والے راستے پر انٹری بند کر دی گئی،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پورے روٹ پر فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی،روٹ کو 8 مختلف سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے،بھاری نفری ریلی کے ساتھ اور روٹ پر ڈیوٹی سر انجام دیگی

    صحافی وقار ستی کہتے ہیں کہ صوبہ پنجاب کی350 سے زائدنشستوں پرمتوقع امیدواران پردباؤ کے باوجود یہ ہے زمان پارک سے نکلنے والی مبینہ طورپر لاکھوں کی ریلی کی حقیقت ، افسوس مٹھی بھرلوگ 23 کروڑ عوام پر اپنا جھوٹا،جعلی ،کاغذی انقلاب مسلط کرنا چاہتے ہیں اس سے زیادہ لوگ تولکشمی چوک میں دال چاول کھانے کو اکٹھے ہوجاتے ہیں

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ شہری عمران خان سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلی میں شرکت کریں ہمیں امیدہے عدالت سے اجازت مل جائے گی ،ہم آئین اور قانون کے مطابق ریلی نکال رہے ہیں،ہم آج زمان پارک سے ریلی نکال رہے ہیں پولیس ہمارے ساتھ تعاون کرے،عمران خان کی جان کو خطر ہ ہے عمران خان کو گرفتار اورنااہل کرنے کا کوئی جواز نہیں مائنس ون والا فارمولہ ماضی میں بھی ناکام ہوا آج بھی ہوگا اداروں پر تنقید ہماری پالیسی کا حصہ نہیں الیکشن کمیشن پر ہمیں اعتراضات تھے اور ہیں،الیکشن کمیشن کا کام صاف شفاف انتخابات کرانا ہوتا ہے ،ظل شاہ کی ہلاکت پر حکومتی بیانیہ تسلیم نہیں کرتے ظل شاہ کی ہلاکت پرجوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیاہے

    پنجاب حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کو لاہور میں ریلی کی اجازت دے دی گئی ہے، ریلی کی قیادت عمران خان کریں گے، صدر پی ٹی آئی لاہور شیخ امتیاز نے ریلی کا شیڈول جاری کیا ہے جس کے مطابق ریلی دوپہر 2 بجے زمان پارک سے نکلے گی جو علامہ اقبال روڈ، ریلوے اسٹیشن اور شاہ عالم مارکیٹ چوک سے ہوتی ہوئی داتا دربار پہنچ کر اختتام پذیر ہوگی، ریلی کی سیکورٹی کے لئے سخت انتظامات کئے جائیں گے، تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی ریلی میں شریک ہوں گے،

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

    ضلعی انتظامیہ لاہور نے پی ٹی قیادت کو واضح کیا ہے کہ ریلی میں عدلیہ اور اداروں یا انکے سربراہان کیخلاف تقاریر، نعرے بازی کی اجازت نہیں ہوگی بصورت دیگر منتظمین کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے ،بعد ازاں ڈپٹی کمشنر لاہور رافع حیدر نے اجازت نامے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے حلف لینے کے بعد اجازت دی گئی ہے۔ شرط کے مطابق ریلی میں عدلیہ اور اداروں کی خلاف تقاریر کی اجازت نہیں ہوگی، سیکیورٹی کو بہتر بنانے کےلئے فوکل پرسن اور پی ٹی آئی زمہ داران متعلقہ سیکیورٹی اور ضلعی انتظامیہ کیساتھ تعاون کریں گے، ٹریفک میں خلل نہ ڈالنے اور رواں دواں رکھنے کےلئے پی ٹی آئی زمہ داران ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کیساتھ مکمل تعاون کریں گے