Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • دفترخارجہ کا’’پاکستان میں انتخابات اورعمران خان کی گرفتاری‘‘ سےمتعلق کازلمےخلیل زاد کا بیان مسترد

    دفترخارجہ کا’’پاکستان میں انتخابات اورعمران خان کی گرفتاری‘‘ سےمتعلق کازلمےخلیل زاد کا بیان مسترد

    اسلام آباد: دفتر خارجہ نے ’’پاکستان میں انتخابات اور عمران خان کی گرفتاری‘‘ سے متعلق افغانستان میں سابق امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کے بیان کو مسترد کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ سابق امریکی ایلچی کے سلسلہ وار ٹوئٹس کے جواب میں سامنے آیا ہے جہاں انہوں نے پاکستان کو “سیاسی، اقتصادی اور سلامتی سطح پر بحران” سے نمٹنے کے لیے “اقدامات” کرنے کی تجویز دی تھی۔

    آج جو عمران کررہاہے ،ہم کرتے تو ہماری مائیں ہمیں تلاش کررہی ہوتیں- خالد مقبول

    دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو سیاسی اور معاشی سطح پر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کسی سے لیکچرز یا مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔

    زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ عمران خان کی گرفتاری سے پاکستان میں جاری سیاسی بحران مزید سنگین ہوجائے گا، پاکستان کی موجودہ صورتحال میں تجاویز دیتا ہوں کہ جون میں قومی سطح پر انتخابات کا اعلان کیا جائے تاکہ تباہی سے بچا جاسکے۔

    زلمے خلیل زاد کے مشورے کو مسترد کرتے ہوئے، دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ایک مضبوط قوم کے طور پرہم موجودہ مشکل صورتحال سے ثابت قدمی سے نکلیں گے۔

    پنجاب اسمبلی کے انتخابات :حمزہ شہباز نے 3 حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے

  • عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں عدالت نے وارنٹ جاری کیے تو عمران خان پیش نہ ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیش ہونے کا حکم دیا اسکے باوجود عمران خان عدالت نہ گئے ،عمران خان کے وارنٹ دوبارہ بحال ہوئے تو اگلے روز اسلام آباد پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے لاہور پہنچ گئی، منگل کی شام تقریبا ساڑھے چار بجے پولیس زمان پارک پہنچی، بکتر بند گاڑی، واٹر کینن، بھاری نفری لیکن تقریبا 20 گھنٹے مسلسل جدوجہد کے باوجود عمران خان کو گرفتار نہیں کر سکی، کیونکہ عمران خان نے گرفتاری سے بچنے کے لئے کارکنان کو ڈھال بنایا ہوا ہے، تحریک انصاف کے درجنوں کارکنان زمان پارک موجود رہتے ہیں، ممکنہ گرفتاری کی خبر پھیلنے کے بعد کارکنان کی آمد کا سلسلہ بھی بڑھ گیا، پولیس نے رات کو بھی کوشش کی لیکن گرفتاری نہ ہو سکی، صبح بھی کوشش کی گئی لیکن پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس کو آگے نہ بڑھنے دیا، اس دوران دونوں طرف سے آنکھ مچولی ہوتی رہی، پی ٹی آئی کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا تو پولیس نے لاٹھی چارج، آنسو گیس کے شیل اور واٹر کینن کا استعمال کیا، 50 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنکو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، دوسری جانب تحریک انصاف کے کارکنان بھی زخمی ہیں لیکن انکی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہو سکی، فرح حبیب تو یہ بھی دعویٰ کرتے رہے کہ کارکنوں کی موت بھی ہوئی لیکن ابھی تک کوئی لاش سامنے نہیں لائی جا سکی،

    پولیس جب زمان پارک پہنچی تو سب سے پہلے عمران خان کے قریبی افراد نے جھوٹ بولا کہ عمران خان زمان پارک نہیں ہیں، بعد ازاں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا عمران خان زمان پارک میں ہی موجود ہیں، عمران خان نے 20 گھنٹے تقریبا کارکنان کو ڈھال بنائے رکھا اور گرفتاری نہین دی، شاید عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت گرفتاری نہ دینے کو بڑی کامیابی سمجھ رہے ہیں لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے، عمران خان کی گرفتاری اگر حکومت نے کرنی ہوتی تو ایک رپورٹ کے مطابق دس منٹ میں عمران خان کو گرفتار کیا جا سکتا تھا، اب ان 20 گھنٹوں میں تحریک انصاف نے لاقانونیت کی انتہا کی ہے، ایک طرف عمران خان کے وارنٹ،اور اس میں رکاوٹیں ڈالی گئیں،پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، پولیس کی املاک کو آگ لگائی گئی، پولیس سے جھوٹ بولا گیا، قانون کو ہاتھ میں لیا گیا، پولیس پر پٹرول بم برسائے گئے، اور اس ساری منصوبہ بندی میں مبینہ طور پر عمران خان سمیت تحریک انصاف کی دیگر قیادت بھی شریک تھی، کیونکہ آج ہی یاسمین راشد اور صدر مملکت کی ایک آڈیو لیک ہوئی ہے جس میں یہ ساری باتیں کی گئی ہین کہ زمان پارک میں کیا ہو رہا ہے،پٹرول بم چلانے کا بھی اعتراف اس آڈیو میں ہے، صحافی محسن بلال نے بھی ایک ویڈیو ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پٹرول سے بھرا ہوا ڈرم۔ زمان پارک سے مال روڈ اشارے پر پہنچایا گیا۔ جس کے بعد پولیس اور کارکنان کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ پولیس شیلنگ کرتی رہی اور تحریک انصاف کے کارکنان شیشے کی بوتلوں میں پٹرول بم پھینکتے رہے۔

    صحافی نوید شیخ کہتے ہیں کہ ویڈیو میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے کپتان کے گھر کے اندر سے کے پی کے سے آئے دہشتگرد سیکورٹی اہلکاروں پر پیڑول بم مار رہے ہیں جبکہ اہلکاروں کے پاس خالی ڈنڈے ہیں ۔

    پولیس کا زمان پارک میں آپریشن جاری تھا تو تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کی جانب سے ہمیشہ کی طرح فیک ویڈیوز اور فیک خبریں وائرل کرنے کی بھی کوشش کی گئی،تاہم سوشل میڈیا پر انکا مسلسل کاؤنٹر کیا جاتا رہا، اسلام آباد پولیس سے لے کر پنجاب حکومت تک سب نے فوری فیک خبروں کو کاؤنٹر کیا اورتحریک انصاف کے پروپگنڈے کو بے نقاب کیا،ان حالات میں جو تحریک انصاف نے ان 20 گھنٹوں میں کیا ایسے میں تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کہلوانے کا کوئی حق نہیں رہا، کیونکہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس طرح کا تشدد نہیں کرتی اور نہ ہی قانون ہاتھ میں لیتی ہے بلکہ سیاسی رہنما تو قانون پر عمل کر کے دوسروں کے لئے مثال قائم کرتے ہیں، ایسے میں قانون پر عمل کرتے ہوئے تحریک انصاف پر سے سیاسی جماعت کا لیبل ختم ہونا چاہئے اور اسے کالعدم قرار دینا چاہئے، پاکستان بڑی مشکل سے دہشت گردی سے نکلا ایسے میں پاکستان کو کسی بھی مشکل میں مزید نہیں دھکیلا جا سکتا، ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ قانون کا ہاتھ قانون کے مطابق ہی رکھا جائے کسی قسم کی مزید رعایت تحریک انصاف کو مزید شدت پسندی کی طرف راغب کرے گی،

    لاہور سے صحافی نجم ولی خان کہتے ہیں کہ عمران خان غداری اور بغاوت کے لئے بچھائے گئے ٹریپ میں مکمل طور پر آ گئے ہیں۔ ان کی صفوں میں ان کے مخالفین کے ایجنٹوں نے انہیں آج "پوائنٹ آف نو ریٹرن” پر پہنچا دیا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ عمران خان کے ساتھ وہ ہو گا کہ اکبر بگتی، الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی مثالیں بھول جائیں گی۔

    نجم ولی خان مزید کہتے ہیں کہ جو عمران خان نیازی اور اس کا گروہ کر رہا ہے وہ اگر گرفتاری کی کوشش پر نوازشریف، اصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، فاروق ستار، الطاف حسین، اسفند یار ولی، آفتاب شیر پاو، سراج الحق، سعد رضوی، محمود خان اچکزئی میں سے کوئی کرتا تو ۔۔۔؟ تو کیا ہوتا؟

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر احسن اقبال کہتے ہیں کہ عمران نیازی اندھے پیروکاروں کے زور پہ پاکستان کا ہٹلر، پی ٹی آئی نازی پارٹی بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ہٹلر کی گرم تقریروں نے جرمن قوم کو فریب میں مبتلا کیا، جج، صحافی،دانشور اور عوام اس کے جھانسے میں آئے اسے ووٹ دئیے اور اقتدار میں آ کے اسنے جرمن قوم اور دنیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔

    ایک ٹویٹر صارف کرن نازنے لکھا کہ خان صاحب جو کرتوت خود کرتے ہیں،وہی دوسروں پر ڈالتے ہیں۔کیاآپکے احکامات پر فورسز نےلبیک والوں کی گھروں کی دیواریں نہیں پھلانگی تھیں؟کیا آپ نے پولیس اور فورسز سےTLP پر سٹریٹ فائر نہیں کروائے تھے؟آپ اتنے بھولے کیوں ہیں؟فورسز کو عوام کے سامنے آپ نے کھڑا نہیں کیا؟

    https://twitter.com/kiran_Naaz12/status/1635951799822606340

    ایک صارف لکھتے ہیں کہ عمران خان معلوم انسانی تاریخ کے وہ پہلے سرخیل ہیں جنہوں نے محاذ آرائی و جنگ کی صف بندی کی ترتیب ہی الٹ کر رکھ دی ہے،پہلے جنگ میں رہنما سب آگے ہوتا تھا اس کے دائیں بائیں وزراء ہوتے تھے،پھر پیچھے گھڑ سوار سپاہی،یہاں منظر نامہ کچھ یوں ہے کہ پہلی صف سے معذور و بوڑھے لیڈ کر رہے دوسری صف سے خواتین و بچے واویلا کر رہے،تیسری صف میں ہجیڑے کھڑے بدعائیں دے رہے،اور آخری صفوں سے پیچھے اوٹ میں چھپے لیڈر سے احکامات لے کر آگے پہنچاتے وزرا و مشران دکھائی دے رہے.

  • آج عمران خان کہتا ہے کہ میں ایماندار ہوں تو سب سے بڑا جھوٹ ہے،وزیراعظم

    آج عمران خان کہتا ہے کہ میں ایماندار ہوں تو سب سے بڑا جھوٹ ہے،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان کے حوالہ سے وہ کچھ نہیں کر رہے، عمران خان کی گرفتاری کے نوٹس عدالتوں سے جاری ہورہے ہیں

    سی پی این ای کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط کا سامنا ہے پاکستان کو معاشی، خارجی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے تاہم دیوالیہ پن کا جو خوف تھا وہ ختم ہوگیا عمران خان نے حکومت کے خاتمے کے خوف سے آئی ایم ایف کے معاہدے کی دھجیاں اڑائیں آئی ایم ایف نے ہماری حکومت کو کہا کہ معاہدے کو من وعن ماننا ہوگا آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول کا معاہدہ جلد ہوجائے گا تاثر تھا شہباز شریف حکومت نہیں چلا سکے گا لیکن ہم آگے بڑھ رہے ہیں الیکشن وقت پرہوں گے تو آئین، قانون اور ریاست جاندار ہوگی، ملک آگے چلے گا عمران خان نے اپنا گھر ریگولرائز کرالیا غریبوں کے گھر کو گرا دیا، حکومت نے توشہ خانہ سے متعلق نئے قوانین بنائے ہیں

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں مردم شماری کا آغاز ہوچکا ہے فنڈز مہیا کردیے گئے ہیں، صوبائی حکومتوں نے مردم شماری میں حصہ ڈالنا ہے صوبائی حکومت کے مردم شماری سے متعلق تحفظات ہیں،تحفظات دور کریں گے تو آگے چلیں گے ،وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ شام سے بنی گالہ میں عمران خان کی گرفتاری کے لئے ہونے والے آپریشن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے عمران خان اس وقت بیماری، بزرگی اور لاچاری کا واویلا کر رہے ہیں عدالتوں پردھاوے اور ججز پرفقرے کسے جا رہے ہیں، نوازشریف روز عدالت جاتے تھے ان پر جعلی کیسز بنائے گئے تھے، کبھی کسی نے کہا کہ میں نہیں پیش ہوں گا میں تو کچھ نہیں کررہا،گرفتاری کے نوٹس عدالتوں سےجاری ہورہے ہیں،ایک شخص جو خود کرتا تھا اس کا الزام ہمیں دے رہا ہے، آج عمران خان کہتا ہے کہ میں ایماندار ہوں تو سب سے بڑا جھوٹ ہے،

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

  • آصف زرداری نے دی تھی مسکراتے ہوئے گرفتاری، ویڈیو وائرل

    آصف زرداری نے دی تھی مسکراتے ہوئے گرفتاری، ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کو پولیس گرفتار کرنے کے لئے زمان پارک پہنچی ہے تا ہم ابھی تک گرفتار نہیں کر سکی کیونکہ عمران خان نے کارکنان کو ڈھال بنایا ہوا ہے

    دوسری جانب عمران خان کے دور حکومت میں اسوقت کے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین آصف زرداری، شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ آصف، فریال تالپور سمیت دیگر کو گرفتار کیا گیا تو سب نے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے گرفتاری دی کہیں کوئی احتجاج نہیں کیا اور نہ ہی کارکنان کو ڈھال بنایا

    صحافی اعزاز سید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ویڈیو شیئر کی ہے اور کہا ہے کہ جون 2019کو جناب آصف زرداری نے نیب کو یوں ہنستے مسکراتے اپنے بچوں کے ہمراہ گرفتاری دی۔ کوئی احتجاج کیا نہ اپنے کارکنوں کو پولیس سے لڑنے کی ہدایت کی ۔

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے حوالہ سے بھی اعزاز سید نے ویڈیو ٹویٹ کی ہے اور کہا ہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی 18 جولائی 2019 کو لاہور میں تھے نیب اور پولیس نے گاڑی گھیرے میں لی , بولے وارنٹ دکھائیں آپکے ساتھ جاؤں گا’۔ عباسی بھی ہنستے کھیلتے گرفتار ہوئے ، شکایت کی نہ اپنے کارکنوں کو پولیس پر حملوں کا حکم دیا۔

    شہباز شریف، خواجہ آصف، سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی گرفتاریاں دیں تو کسی نے بھی کارکنان کو ڈھال نہیں بنایا اسکے مقابلے میں عمران خان نے زمان پارک کو سٹیٹ کے اندر سٹیٹ بنایا ہوا ہے،عمران خان زمان پارک بیٹھے اور سب کارکنان کو بلا کر انکو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

  • توشہ خانہ وارنٹ، عمران خان کی درخواست خارج

    توشہ خانہ وارنٹ، عمران خان کی درخواست خارج

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے وارنٹ منسوخی کی درخواست نمٹا دی،عدالت نے عمران خان کی درخواست خارج کر دی،

    سابق وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کی درخواست پراسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ،عدالت عالیہ نے قرار دیا ہے کہ عمران خان کی انڈر ٹیکنگ ٹرائل کورٹ میں پیش کی جائے، ٹرائل کورٹ انڈر ٹیکنگ پر قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کا عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم برقرار رہے گا

    ‏اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری منسوخی کی درخواست پر سماعت ہوئی ،عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے،اور کہا کہ 13 مارچ کو عمران خان عدالت کے سامنے پیش نہیں ہو سکے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وہ اس دن کہاں تھے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ عمران خان اس روز گھر پر تھے،‏میں نے توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت نہ ہونے پر دلائل دیے لیکن الیکشن کمیشن کے وکیل نے کیس کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے کے لیے وقت مانگا ‏میں نے ٹرائل کورٹ سے کہا کہ کیس کے قابل سماعت پر فیصلہ کر دیں ،عمران خان پیش ہو جائیں گے ‏ہم نے ٹرائل کورٹ کو بتایا کہ وارنٹ گرفتاری جاری کرنا بنتا ہی نہیں، فوجداری مقدمات اور ضمانت کی کیسز میں فرق ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے وارنٹ فیلڈ میں تھے اور ابھی بھی ہیں ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہم نے ٹرائل کورٹ سے کہا تھا کہ وارنٹ گرفتاری جاری نہ کریں جب تک درخواست قابل سماعت نہ ہو، الیکشن کمیشن ایکٹ کے تحت ہی وہ شکایت درج ہی نہیں کرائی گئی،الیکشن ایکٹ کے سیکشن 6 کے تحت الیکشن کمیشن خود ہی شکایت درج کرسکتا ہے،سیکرٹری الیکشن کمیشن کی جانب سے شکایت درج کرائی گئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏عدالت فرد جرم عائد کرنے سے پہلے آپ کے اعتراضات پر فیصلہ کر سکتی تھی ،لیکن آپ کے کلائنٹ کو پیش ہونا چاہئے تھا ،وکیل نے کہاکہ ‏ٹرائل کورٹ کے جج نے میرے قابل سماعت کے دلائل پر آرڈر میں کچھ نہیں لکھا ،‏جو کچھ لاہور میں ہورہا ہے وہ بدقسمتی ہے ،میں نے عمران خان سے بات کی ہے ،عمران خان نے تحریری یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ 18 مارچ کو پیش ہوں گے ،

    ‏ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد روسٹرم پر طلب کر لئے گئے،خواجہ حارث نے کہا کہ ‏میں ذاتی یقین دہانی کراتا ہوں کہ عمران خان پیش ہوں گے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لاہور میں ہورہا ہے وہ ضروری ہے لیکن اس سے ضروری میرے لیے اپنی عدالتوں کا احترام ہے ،قانون سب کے لیے ایک ہونا چاہیے ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ‏آج ٹرائل کورٹ کو بتایا ہے کہ کمپلینٹ ہی قابل سماعت نہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وارنٹ دوبارہ جاری ہونے کا ایشو نہیں، عدالت نے کہا تھا تیرہ مارچ کو پیش ہوں ورنہ وارنٹ بحال ہو جائے گا،وکیل نے کہا کہ قانون کے مطابق الیکشن کمیشن کمپلینٹ دائر کر سکتا ہے،الیکشن کمشنر یا کسی افسر کو کمپلینٹ دائر کرنے کی اتھارٹی دی جا سکتی ہے، جب کمپلینٹ دائر کرنے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے،اس صورت میں وارنٹ جاری کرنے کی کارروائی بھی درست نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی کریمنل کیس میں سمن جاری ہو تو کیا عدالت پیش ہونا ضروری نہیں؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ‏ٹرائل کورٹ کو ہم نے بتایا کہ پہلے کچھ گذارشات پر ہمیں سنیں، ہماری درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہا ہم وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس جو بھی ہو مگر ملزم کا عدالت میں پیش ہونا ضروری ہے ، جو کچھ لاہور میں ہو رہا ہے، ہم دنیا کو قانون کی بے توقیری دکھا رہے ہیں،ہم تو قبائلی علاقوں کا سنتے تھے کہ وہاں گولیاں بھی چلتی ہیں، مارٹر گولے بھی آج یہ سب کچھ لاہور زمان پارک میں ہو رہا ہے،زمان پارک اس وقت میدان جنگ بنا ہوا ہے،عدالت چھوٹی ہو یا بڑی ،ہمیں احترام کرنا چاہئے ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے دلائل سننے کے بعد عمران خان کی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

  • لاہور ہائیکورٹ کا زمان پارک میں پولیس کا آپریشن فوری روکنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کا زمان پارک میں پولیس کا آپریشن فوری روکنے کا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے زمان پارک میں پولیس کا آپریشن فوری روکنے کا حکم دے دیا

    عدالت نے حکم دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے تک آپریشن روک دیا جائے، جسٹس طرق سلیم شیخ نے پولیس اور انتظامیہ کو حکم دیا، عدالت نے حکم دیا کہ زمان پارک میں آپریشن فوری روک دیں، لاہور ہائیکورٹ میں زمان پارک پولیس آپریشن کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،آئی جی پنجاب پولیس عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس طارق سلیم شیخ نے استفسار کیا اور کہا کہ بتائیں آئی جی صاحب !مسئلے کا کیا حل ہے؟ آئی جی پنجاب نے کہا کہ جب اسلام آباد پولیس نے نفری مانگی اس وقت الیکشن کمیشن کی میٹنگ میں تھا،ڈی آئی جی شہزاد بخاری نے لاہور پولیس سے معاونت کی درخواست کی عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ ہیں اورہم نے گرفتار کرنا ہے، ڈی آئی جی اور15 افسران سمیت 59 پولیس اہلکار زخمی ہیں، یہ طے تھا کہ کسی کے پاس اسلحہ نہیں ہوگا،اس طرح کا واقعہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں ہو چکا ہے، ہمارے اوپر پٹرول بم پھینکے گئے، واٹرکینن تباہ، کئی پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی، ہم نے رینجرز کو بلایا تو ان پر بھی پٹرول بم پھینکے گئے ،

    عدالت نے استفسار کیا کہ اگر اسلام آباد ہائیکورٹ فیصلے تک آپریشن روک دیں تو کوئی اعتراض ہے؟ آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ ہم عدالت کے ہر حکم پر عملدرآمد کے پابند ہیں،ہم نے مختلف اضلاع سے فورس لگائی ہے، عدالت نے کہا کہ اگر آپ 200 فٹ پیچھے بھی ہو جائیں گے تو کوئی فرق نہیں پڑتا ،عدالت نے سماعت کل صبح 10 بجے تک ملتوی کردی، لاہورہائیکورٹ نےکل صبح 10:00 بجے تک زمان پارک آپریشن روک دیا،عدالت نے حکم دیا کہ پولیس مال روڈ، کینال پل، دھرم پورہ تک محدودرہے گی، ہم نے سیز فائر کروایا ہے،حتمی فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہوگا،

    قبل ازیں تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی رہائشگاہ زمان پارک میں پولیس آپریشن رکوانے کے لئے درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہے،تحریک انصاف کی درخواست پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے سماعت کی،درخواست گزار نے کہا کہ ایک ورانٹ گرفتاری پر عملدرآمد کرانے کے لیے پورے شہر کو سیل کیا ہوا ہے الیکشن کرانے کی بات کریں تو کہتے ہیں فورس نہیں ہے ، اگر وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو عدالت کے پاس اشتہاری کی کارروائی کا اختیار ہے عدالت سی سی پی او کو طلب کرے ، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی درخواست کی استدعا پڑھیں

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے زمان پارک میں پولیس آپریشن روکنے کی درخواست پر ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو فوری طلب کرلیا،عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایات لے کرپیش ہونے کی ہدایت کردی عدالت نے کیس کی سماعت دو بجے تک کے لئے ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ زمان پارک میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان آمنے سامنے ہیں،تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراو کیا جاتا ہے تو پولیس کی جانب سے آنسو گیس، کے شیل پھینکے جاتے ہیں ،زمان پارک کی جانب آنے والی تمام سڑکوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں اب تک دونوں جانب سے 64 افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں 54 پولیس اہلکار اور 10 شہری شامل ہیں 51 پولیس اہلکار سروس ہسپتال اور تین میو ہسپتال میں لایا گیا ہے ۔عمران خان کے گھر کے باہر وکلا کی ایک بڑی تعداد بھی پہنچ چکی ہے، وکلاء نے فواد چودھری کی موجودگی میں مال روڈ پر پولیس کی گاڑی توڑنے کی کوشش کی، وکلا نے بھی ڈنڈے اٹھائے ہوئے ہیں اور زمان پارک پہنچے ہیں،

    عمران خان بھی زمان پارک میں موجود ہیں، عمران خان آج صبح بھی باہر نکلے اور کارکنان کے ساتھ کچھ وقت گزارا، اب پھر عمران خان کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں عمران خان گھر سے باہر آئے ہیں، اور کارکنان کے ہمراہ موجود ہیں، اطلاعات کے مطابق عمران خان ایسے وقت میں گھر سے باہر نکلے جب پولیس زمان پارک کے قریب نہیں تھی بلکہ کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی،عمران خان نے چہرے پر ماسک پہن رکھا تھا

    علاوہ ازیں آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ کسی نوجوان کیخلاف انسداد دہشتگردی کا مقدمہ درج ہوا تو اس کا مستقبل خراب ہو جائے گا والدین کو چاہئے بچوں کو ان حرکتوں سے باز رکھیں زمان پارک میں آپریشن نہیں، عدالتی حکم کی تعمیل ہو رہی ہے ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد بخاری وارنٹ لیکر لاہور پہنچے تھے،لاہور پولیس نے قانون کے مطابق ان کی مدد کی تمام فورسز پر امن اور کسی کو نقصان نہ پہنچانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ، ڈنڈا بردار موجود ہیں ، رینجرز ، ایلیٹ ، پولیس اور میڈیاکی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ،آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ پی ایس ایل انٹرنیشنل ایونٹ ہے ، اسے ڈسٹرب نہیں ہونے دیں گے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • بندے لے کر پہنچو ورنہ ٹکٹ نہیں ملے گا، یاسمین راشد کی آڈیو لیک

    بندے لے کر پہنچو ورنہ ٹکٹ نہیں ملے گا، یاسمین راشد کی آڈیو لیک

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے لئے پولیس گزشتہ شب سے زمان پارک میں موجود ہے

    پولیس ابھی تک عمران خان کو گرفتار نہیں کر سکی کیونکہ عمران خان نے کارکنان کو ڈھال بنایا ہوا ہے، تحریک انصاف مسلسل کارکنان کو کال کر ہی ہے کہ وہ زمان پارک پہنچیں، اب تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے، اس آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ یاسمین راشد اعجاز شاہ کو کہہ رہی ہیں کہ سب ایم این ایز ، ایم پی ایز کو فون کریں کہ وہ بندے لے کر پہنچیں، جو نہیں پہنچے گا اسکو ٹکٹ نہیں ملے گا، میری ڈائریکٹ خان سے بات ہوئی ہے،یاسمین راشد کے مطابق عمران خان کہہ رہے ہیں ان کوکہو فوری پہنچیں جو نہیں پہنچے گا اسے میں ٹکٹ نہیں دوں گا خان صاحب نے یہ بات ڈائریکلی کہی ہے

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی آڈیو لیک ہونے پر یاسمین راشد کا ردعمل سامنے آیا ہے،یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ آڈیو میں کوئی متنازع بات نہیں ہے میں پارٹی کی صدرہوں کیا اپنے لوگوں کو نہیں بلاﺅں گی؟ 23 گھنٹے ہو گئے ہیں ہمارے لوگ سڑکوں پر ہیں ان پر شیلنگ اور تشدد کیا جا رہا ہے

    قبل ازیں شاہ محمود قریشی نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کے تمام اراکین، ٹکٹ ہولڈرز لاہور پہنچیں اور عمران خان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں، واضح رہے کہ زمان پارک میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان آمنے سامنے ہیں،تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراو کیا جاتا ہے تو پولیس کی جانب سے آنسو گیس، کے شیل پھینکے جاتے ہیں ،زمان پارک کی جانب آنے والی تمام سڑکوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں اب تک دونوں جانب سے 64 افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں 54 پولیس اہلکار اور 10 شہری شامل ہیں 51 پولیس اہلکار سروس ہسپتال اور تین میو ہسپتال میں لایا گیا ہے ۔

    ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ شرپسند بدستور نہتے پولیس والوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور درجن سے زائد گاڑیوں اور موٹرسائیکل کو جلا چکے ہیں پولیس پر تشدد کرنے والوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے خلاف بھی سخت کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے،

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • جو ڈر گیا وہ مر گیا، آپ کی سیاسی موت ہوچکی،مریم اورنگزیب

    جو ڈر گیا وہ مر گیا، آپ کی سیاسی موت ہوچکی،مریم اورنگزیب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان پاکستان میں سول وار، افراتفری چاہتے ہیں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ یہ شخص انسانی مورچوں کو استعمال کررہا ہے، توہین عدالت کا مجرم پولیس سے بھاگ رہا ہے، تاثر دے رہا ہے کہ بزرگ ہوں اور میری جان کو خطرہ ہے، شام کو 2 جھنڈوں کے درمیان بیٹھ کر جھوٹ بولتے ہیں، یہ منافق، بزدل اور جھوٹا شخص ہے، حکومت نے گرفتار کرنا ہوتا تو ریاستی طاقت اور اختیار موجود تھا، عمران خان صاحب! آپ کو پتا ہونا چاہیے جو ڈر گیا وہ مر گیا، آپ کی سیاسی موت ہو چکی ہے،65 پولیس افسران عدالتی حکم پر عمل کرانے کیلئے زخمی ہوچکے ہیں،یہ کوئی سیاسی جماعت نہیں، دہشتگردوں کا ٹولا ہے،

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    واضح ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی رہائشگاہ زمان پارک پر کل شام سے گرفتاری کے لئے پولیس کا آپریشن جاری ہے تا ہم کارکنان کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے پولیس کو ابھی تک ناکامی کا سامنا ہے،عمران خان کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراو کیا جاتا ہے تو پولیس کی جانب سے آنسو گیس، کے شیل پھینکے جاتے ہیں ،زمان پارک کی جانب آنے والی تمام سڑکوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں اب تک دونوں جانب سے 64 افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں 54 پولیس اہلکار اور 10 شہری شامل ہیں 51 پولیس اہلکار سروس ہسپتال اور تین میو ہسپتال میں لایا گیا ہے ۔

  • زمان پارک،ٹرانسفارمر دھماکے سے پھٹ گیا، بجلی معطل

    زمان پارک،ٹرانسفارمر دھماکے سے پھٹ گیا، بجلی معطل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی رہائشگاہ زمان پارک پر کل شام سے گرفتاری کے لئے پولیس کا آپریشن جاری ہے تا ہم کارکنان کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے پولیس کو ابھی تک ناکامی کا سامنا ہے،عمران خان کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا، تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراو کیا جاتا ہے تو پولیس کی جانب سے آنسو گیس، کے شیل پھینکے جاتے ہیں

    عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر ٹرانسفارمر دھماکے سے پھٹ گیا ہے جس کے بعد سے زمان پارک کی بجلی معطل ہو کررہ گئی ہے، زمان پارک میں انٹرنیٹ پہلے سے ہی بند ہے، میڈیا رپورتس کے مطابق ٹرانسفارمر مبینہ طور پر پٹرول بم پھینکے جانے سے پھٹا، پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنوں کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹرکینن کا استعمال کیا جارہا ہے پولیس کی جانب سے کارکنوں پر ربڑکی گولیاں بھی برسائی گئی ہیں جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے اور اس ویڈیو کو تحریک انصاف والے سیدھا فائر کہہ کر پروپیگنڈہ کر رہے ہیں،

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    زمان پارک کی جانب آنے والی تمام سڑکوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں اب تک دونوں جانب سے 64 افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں 54 پولیس اہلکار اور 10 شہری شامل ہیں 51 پولیس اہلکار سروس ہسپتال اور تین میو ہسپتال میں لایا گیا ہے ۔

  • وارنٹ کی منسوخی کا کوئی فیصلہ مجھے دے دیں؟ عدالت، عمران خان نے درخواست لی واپس

    وارنٹ کی منسوخی کا کوئی فیصلہ مجھے دے دیں؟ عدالت، عمران خان نے درخواست لی واپس

    اسلام آباد کی مقامی عدالت میں توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کے وارنٹ منسوخی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،

    ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں وکیل فیصل چودھری پیش ہوئے ،وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان کہہ رہے ہیں عدالت آنا چاہتا ہوں عمران خان کو عدالت پیش ہونے کا سیف ایگزٹ دیں کسی کے وارنٹ جاری کرتے ہوئے دیگر شہریوں کی زندگیاں تو خطرے میں نہیں ڈالی جا سکتی وارنٹ کا اختیار کیا ہے؟ کون جاری کر سکتا ہے؟ ہم وارنٹ معطل کرنے کی بات کررہے ہیں عمران خان لکھ کر دینے کو تیار ہیں عدالت پیش ہوں گے

    جج نے ہدایت کی وارنٹ کی منسوخی کا کوئی فیصلہ مجھے دے دیں وکیل نے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے عمران خان کیخلاف مقدے کا کیس نہیں شکایت کا کیس ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 3 سال سے کم کی سزا پر قابل ضمانت وارنٹ جاری ہوتے ہیں کیس میں 3 سال سزا ہو سکتی ہے ،وکیل عمران خان نے کہا کہ زمان پارک کے اردگرد سکیورٹی تعینات ہے عمران خان کو 18مارچ کو سیشن عدالت نے بلایا ہے 4 دن پہلے گرفتار کرکے عمران خان کو کہاں رکھا جائے گا؟ ہیلی کاپٹر عمران خان کی رہائشگاہ پر پہنچا ہوا ہے، ہائیکورٹ میں وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست دائر ہوئی لیکن مقرر نہیں ہوئی ایسا ماحول تو افتخار چودھری یا مارشل لا میں بھی نہیں ہوا ،

    وکیل فیصل چودھری نے وارنٹ منسوخی درخواست سیشن عدالت سے واپس لیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ میں وارنٹ منسوخی کی درخواست زیرالتوا ہے وکیل فیصل چودھری نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ آنے تک درخواست واپس لیتے ہیں ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے مسکراہٹ کیساتھ درخواست واپس لینے کی اجازت دے دی

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے