باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان نے اعتراف کرلیا کہ وہ ملک میں مارشل لا لگوانا چاہتے ہیں
ن لیگی رہنما مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان خون خرابے سے انقلاب چاہتے ہیں ایک طرف ادب دوسری طرف گالی، دماغ کی خرابی اور فرسٹیشن ہے بندوق سے انقلاب لانے کا ماسٹر مائنڈ کسے دھمکیاں دے رہے ہیں؟ ذلت و رسوائی فارن فنڈد فتنے کے مقدر میں لکھی جاچکی ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا تھا کہ غیر ضروری سچ نہیں بولنا چاہتے،
وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف 2 روزہ سرکاری دورے پر چین روانہ ہوئے وزیر اعظم کو چینی صدر شی جن پنگ نے خصوصی دعوت دی تھی وزیراعظم شہباز شریف چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے،وزیراعظم چینی حکام سے سی پیک منصوبوں پر بات کریں گے سی پیک چارسال سے تاخیر کا شکار رہا ہے سی پیک میں اہم منصوبوں کا ایک نیا دورشروع ہورہا ہے عمران خان لانگ مارچ کی تقاریرمیں دھمکیاں دیتے ہیں ،لوگوں کو عمران خان کے منصوبے کاعلم ہےعمران خان کا مقصد الیکشن ہی نہیں ،خون خرابہ اور مارشل لا ہےعمران خان ملک میں ایمرجنسی کے خواہاں ہیں عمران خان کہتے ہیں کہ میڈیا آزاد نہیں ،آزاد نہ ہوتا آپ کی آواز یہاں تک نہ آتی،ریاست اپنے لوگوں کی حفاظت کرنا جانتی ہے عمران خان نے کہا انہیں کہاگیا کہ یہ لوگ کرپٹ اور چور ہیں ،تو پھر آپ نے کیوں جیلوں میں ڈالا،عمران خان کو گھر بھیج دیں گے،انہیں اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے،
سابق وفاقی وزیر ، ن لیگی رہنما، خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ صحافی صدف نعیم کی شہادت پر افسوس ہے صحافیوں نے بھی قربانیاں دی ہیں،لانگ مارچ کےلیے نامناسب وقت کا انتخاب کیا گیا 2014 میں بھی چینی صدر نے پاکستان کا دورہ کرنا تھا ، عمران خان فاشسٹ سوچ کے مالک ہیں،عمران خان کی مرضی کی تعیناتی نہیں ہوسکتی،تعیناتی عمران کی مرضی کی نہیں بلکہ آئین کے مطابق ہوگی الیکشن مقرر ہ وقت پر ہونگے ،اسمبلیوں کو اپنا وقت پورا کرنا چاہیے ،
عمران خان کے لانگ مارچ کو آج پانچواں روز ہے، عمران خان آج گوجرانوالہ سے لانگ مارچ میں شریک ہوں گے،عمران خان کا کنٹینرگوجرانوالہ میں موجود ہے ، عمران خان کی قیادت میں لانگ مارچ جی ٹی روڈ کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا اسلام آباد پہنچے گا، اسلام آباد کی انتظامیہ نے ابھی تک جلسے کی اجازت نہیں دی جس پر پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کیا ہے،
تحریک انصاف کا حقیقی آزادی مارچ راولپنڈی مریڑ سے اسلام آباد داخلہ کے لیے مری روڈ کا استعمال کیا جائے گا ،مرکزی قیادت کی جانب سے مقامی ایم این اے،ایم پی ایز کو استقبالیہ کیمپ لگانے کی ہدایت کر دی گئی، عمران خان راولپنڈی پنجاب ہاوس میں قیام کریں گے، تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں، لانگ مارچ پنڈی کب پہنچتا ہے اس بارے تاحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ عمران خان روزانہ رات کو مارچ کے شرکاء کو چھوڑ کر لاہور آ جاتے ہیں
واشنگٹن: امریکا کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے رجیم چینج کے الزامات حقائق پرمبنی نہیں ہیں-
باغی ٹی وی : امریکی محکمہ خارجہ کےترجمان نیڈ پرائس نے میڈیا بریفنگ میں کہاکہ پہلےبھی متعدد بار واضح کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے حکومت کی تبدیلی کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہےعمران خان کے رجیم چینج کے الزامات حقائق پرمبنی نہیں ہیں۔
نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکا ان بے بنیاد پروپیگنڈے، مس انفارمیشن یا ڈس انفارمیشن کو پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی راہ میں نہیں آنے دے گا۔
ترجمان محکمہ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں ابھی الیکشن شیڈول کا اعلان نہیں ہوا ہے تاہم امریکا پاکستان سمیت دنیا بھر میں پرامن آئینی اور جمہوری اصولوں پر عمل در آمد کی حمایت کرتا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس میں کچھ بھی نہیں ہے، ہماری جماعت نے سیاسی فنڈریزنگ کی مگر جو پاکستانی پیسے دیتے ہیں ان کو غیرملکی بنا دیا گیا رجیم چینج کی سازش اب بھی جاری ہے، انہوں نے ہماری پارٹی کو توڑنے کا پلان بنایا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بھیجے گئے پیسے کو فارن فنڈنگ کہا جارہا ہے،2012 میں پاکستان کے رائزنگ اسٹار کا نام عارف نقوی تھا، بل گیٹس بھی عارف نقوی کے فنڈ میں پیسے دیتا تھا کرپٹ جماعتیں کبھی فنڈریزنگ نہیں کرسکتیں۔ سرٹیفکیٹ کے اوپر مجھے نا اہل کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ سازش کی جارہی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کو فوج سے لڑایا جائے، پی ٹی آئی اور فوج کو لڑانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ سب سے زیادہ کہتے تھے کہ عمران خان فوج کی کٹھ پتلی ہے، بھارت کہتا تھا عمران خان فوجی پتلا ہے، بھارت کو تکلیف تھی کہ فوج اورحکومت ایک پیج پر ہے رجیم چینج کی سازش اب بھی جاری ہے، آج یہ بتایا جارہا ہے کہ ہم فوج مخالف ہیں اور یہ لوگ محب وطن ہیں ایک پارٹی جو پورے پاکستان سے ووٹ لے کر اقتدار میں تھی، اگر ایسی پارٹی کو فوج کے لڑوایا گیا تو اس کے خطرناک نتائج ہوں گے۔
سابق وزیراعظم و مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ 10لاکھ لانے کا دعوی کرنے والا ابھی تک 2 ہزار بندے اکٹھے نہیں کر سکا۔
باغی ٹی وی : پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ 10 لاکھ لانے کا دعویٰ کرنے والا ابھی تک 2000 بندے اکٹھے نہیں کر سکا، عوام کی لا تعلقی کی وجہ وہ شر انگیز جھوٹ ہیں جن کا کچا چٹھہ قوم کے سامنے آ چکا ہے۔
دس لاکھ لانے کا دعوی کرنے والا ابھی تک دو ہزار بندے اکٹھے نہیں کر سکا۔ عوام کی لا تعالقی کی وجہ وہ شر انگیز جھوٹ ہیں جن کا کچا چٹھہ قوم کے سامنے آ چکا ہے۔ اس نے ایک کے بعد ایک جھوٹ اتنی بے دردی اور ڈھٹائی سے بولا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کو مجبوراً اپنی خاموشی توڑ کر قوم کو سچ۔۔۔1/3
سابق وزیراعظم نے کہا کہ جھوٹ اتنی ڈھٹائی سے بولا ڈی جی آئی ایس آئی کو مجبوراً خاموشی توڑ کر قوم کو سچ بتانا پڑا،اتنے دن بعد بھی یہ لوگ جواب نہیں دے سکے، اسی لیے سارا زور صرف گالم گلوچ تک محدود ہے۔
۔۔۔ بتانا پڑا جس کا جواب یہ اتنے دن گزرنے کے بعد بھی نہیں دے سکا۔ اسی لیے اس کا سارا زور حسبِ عادت صرف گالی گلوچ تک محدود ہے۔ میں نے شہباز شریف سے کہ دیا ہے کہ یہ ۲۰۰۰ کا جتھہ لے آئے یا ۲۰۰۰۰ کا، نہ اس فتنے کا کوئی مطالبہ سننا ہے نا ہی اسے کوئی فیس-سیونگ دینی ہے۔۔۔2/3
انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف سے کہہ دیا ہے 2 ہزار کا جتھہ لے آئے یا 20 ہزار،اس فتنے کا کوئی مطالبہ سننا ہے نا ہی اس فتنے کو فیس سیونگ دینی ہے،جس کے لیے یہ بیتاب ہے ،وزیراعظم کو اپنی تمام تر توجہ عوامی خدمت پر مرکوز رکھنی چاہیے۔
۔۔۔ جس کے لیے یہ بیتاب ہے۔ وزیر اعظم کو اپنی تمام تر توجہ عوامی خدمت پر مرکوز رکھنی چاہیے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صھافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ حقیقی آزادی مارچ کو دیکھ کر ماوزے تنگ کی روح اپنے آپ کو کوس رہی ہے کہ اس نے عمران خان کی طرح انقلاب برپا کیوں نہیں کیا۔
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیوں اسنے لاکھوں لوگ، اپنے پیارے رشتے دار اور فیملی کو اس انقلاب میں مروا دیا جبکہ انقلاب تو ائیر کنڈیشنر والے کنٹینر میں بیٹھ کر بھی آ سکتا ہے۔کیوں اس نے ہزاروں میل کا سفر طے کیا اور سڑکوں پر راتیں گزاری جبکہ انقلاب تو شام کو چار گھنٹے سڑکوں پر اور ساری رات اپنے گھر میں نرم بستر پر سو کر بھی آ سکتا ہے۔وہ انقلاب جس میں صبح کے وقت سو بندے بھی نہیں ہوتے لیکن شام کو اپنے سارے کام کاج کر کے انقلاب کو شروع کر دیتے ہیں ۔ وہ انقلاب جو شاہدرہ پر رات کو رکتا ہے لیکن صبح آنکھ کھلتی ہے تو انقلاب کامونکی پہنچ چکا ہو تا ہے اور لیڈر زمان پار ک میں نیند کی سرگوشیوں میں مصروف ہوتا ہے۔وہ انقلاب جو لیڈر اور عوام کے بغیر کئی سو کلو میٹر کا سفر خود ہئ طے کر لیتا ہے۔اللہ ایسا پرسکون، آسائیشوں والا انقلاب ساری دنیا کو نصیب فرمائے۔لیکن ماوزے تنگ تم کان کھل کے سن لو تم کبھی بھی ہمارے کپتان کو نہیں پہنچ سکتے۔ کیونکہ ہمارے کپتان کے پاس ارسلان بیٹاہے۔ ہمارے کپتان کے پاس سوشل میڈیا پر ایسے مداری ہیں جو شام ہوتے ہیں انقلاب میں ایک نئی روح پھونک دیں گے وہ انقلاب جو صبح گیارہ بجے دم توڑ چکا ہوتا ہے سوشل میڈیا کے وینٹیلیٹر پرشام کو ہشاش بشاش ہو کے بھاگنے لگے گا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر جادو گر بیٹھ کر لوگوں کو بتائیں گے کہ کیسے یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا مارچ ہے کیسے لاکھوں کروڑون لوگ کنٹینر کے ٹائروں سے چپکے ہوئے ہیں۔ کیسے روح پرور مناظر اس مارچ میں دیکھنے کو مل رہے ہیں اور کیسے پورا پاکستان اپنے سارے کام چھوڑ کے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ جبکہ حقیقت بلکل اس کے برعکس ہو گی اس لیے ماوزے تنگ میرا تمھیں مشورہ ہے کہ خام خواہ میں میرے کپتان سے مقابلہ کر کے پنگا مت لو ورنہ تم بھی اپنی قوم کے غدار قرار پاو گے۔
کیونکہ ہمارا کپتان کوئی عام آدمی نہیں ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو
پاکستان کے سپہ سالار کو غدار کہتا ہے جو
پاکستان کے وزیر اعظم کو چور بھکاری کہتا ہے جو
پاکستان کی عوام جو اس کا ساتھ نہیں دے رہی اسے غلام اور جاہل کہتا ہے جو
پاکستان کے صحافیوں کو جو اس کی حقیقت بے نقاب کرتے انہیں لفافہ، کہتا ہے۔
پاکستان کے الیکشن کمشنر کو مخالفین کا ذاتی غلام کہتا ہے ۔
پاک فوج کے جرنیلوں اور اعلی افسران کو وحشی کہہ کر پکارتا ہے۔
پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے چیف کو جلسوں میں للکارتا ہے۔
جو سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ ثابت کرنے میں اعلی محارت رکھتا ہے
ماوزے تنگ سن لو اگر تم نے اس سے پنگا لیا تو یہ تمھیں تمھاری اپنی قوم کے سامنے ایسا غدار بنا کر ایسی تمھاری مٹی پلیت کرے گا کہ تاریخ کا دھارا بدل جائے گا۔ اس لیے ہمارے کپتان سے پنگا نہیں لینا۔
کیونکہ ہمارا کپتان وہ کپتان ہے
جس نے اپنے مفاد کے لیے معاشرے میں نفرت پرو کر اس کی جڑ یں کھوکھلی کر دی۔
جس کے شر سے کوئی گھر اور کسی کا گھر بھی محفوظ نہیں تھا۔ میرا اشارہ خاور مانیکا کی طرف نہیں ہے۔
تاریخ بتاوئے گی کہ ہمارا کپتان کیسا تھا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا کپتان جو سوشل میڈیا پر اربوں روپے خرچ کر کے جعلی اکاونٹوں سے معصوم لوگوں کے ذہنوں سے کھیلتا تھا۔ کبھی کسی کی جعلی امی بنا دیتا تھا، کبھی کسی انگریر کے نام سے جعلی اکاونٹ بنوا کے اس پر اپنی تصویر لگوا دیتا تھا کہ میں نے اس کی وجہ سے اسلام قبول کر لیا۔
کبھی بنی گالہ میں بیٹھا ہوا ۔۔۔ لونڈا۔۔ کینیا کا صحافی بن جاتا ہے، کبھی سائفر کا معاملہ ہو تو یہی امریکی صحافی بن کر کہتا کہ عمران خان کے خلاف سازش ہوئی ہے۔ قصہ مختصر عمران خان کے کالے کرتوتوں پر ایک آدھ کتاب نہیں بلکہ پوری پوری سیریز اور جلدیں لکھی جائیں گی لیکن اسکے گھناونے کاموں کی فہرست پھر بھی نا مکمل ہو گی۔اس لیے ماوزے تنگ ہمارے کپتان سے پنگا نہیں لینا۔لیکن میری مجبوری ہے اپنی قوم کے مستقبل کے لیے میں پنگا لے چکا ہوں اس لیے میں عمران خان کا اصلی چہری بے نقاب کروں گا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ لانگ مارچ، رانگ مارچ، خونی مارچ اور حقیقی آزادی کی مارچ اس وقت ملکی سالمیت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے اور ایک بہت بڑا سانحہ رونما ہونے کا انتظار کر رہاہے،
انتہائی خطرناک کھیل شروع ہو چکا ہے۔ اس بات پر چاہے حکومت ہو یا اپوزیشن سب اتفاق کر رہے ہیں کہ اس مارچ میں خون بہایا جائے گا، جنازعے اٹھائے جائیں گے۔اور اس کے لیے کھیل تیار ہو چکا ہے جبکہ اس کھیل کے کچھ کرداروں کی فون کالز بھی منظر عام پر آ چکی ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جب گیدڑ کی گیدڑ بھبکیاں جنگل میں کام کرنا شروع کر دیں تو وہ شہر کا رخ کر لیتا ہے اور وہیں اس کی موت واقع ہوتی ہے۔ عمران خان اپنی سیاسی موت کو دعوت دے چکے ہیں۔ ان کے جھوٹ، فراڈ، دھوکے بازی سر چڑھ کر بول رہی ہے اور بولیں بھی کیوں نہ۔ انہوں نے منافقت کی چادر اوڑھی ہوئی ہے اور مسلسل نوجوان نسل کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان کی محرومیوں سے کھیل رہے ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ نے عوام کو بہت مایوس کیا۔ان کی کرپشن کی کہانیوں نے عوام کو بہت دکھی کیا۔ان کے مافیا نے عوام کو بری طرح سے محروم کیا۔ اور عمران خان جو خود تو کچھ نہ کر سکے، اس مافیا کا حصہ بن کر اقتدار میں آئے اب خود ہی
ان کی محرومیوں سے خوب کھیل رہے ہیں، ناراض لوگوں کی دل کی بات کر رہے ہیں لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔مثال کے طور پر عمران خان کی منافقت دیکھیں کہ لوگوں کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے کہتا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کان کھول کے سن لو۔ میرے پاس بھی راز ہیں۔میں کہتا ہوں عمران خان تم نے نہ پہلے شرم کی اور نہ ہی تم اب کرو گے۔ کیونکہ جس میں جو چیز ہو ہی نہ تو وہ کام وہ کیسے کر ے گا۔کیا بتاو گے تم عوام کو میں بتا دیتا ہوںتم عوام کو بتاو گے کہ کیسے تمھارے صبح شام پیمپر بدلے گئے۔کیسے تمھیں مقبول اور پھر قبول کروایا گیا۔کیسےتم نے اقتدار کے لیے صحیح اور غلط کا فرق ختم کیا۔ کیسے تمھیں Electables جاگیر دار، وڈیرے، صنعتکار لا لا کر تمھاری گود میں ڈالے گئے۔کیسے تمھاری خواہش پر تمھارے سیاسی مخالفین کو نااہل کر کے تمھارے لیے میدان صاف کیا گیا۔کیسے ان لوگوں کی پکڑ دھکڑ کی گئی جو تمھیں پسند نہیں تھے۔ کیسے لوگوں پر جعلی ڈرگ کے کیس ڈالے گئے۔عمران خان تمھارے پاس بتا نے کو ہے کیا۔ تم یہ بتاو گے کہ کیسے اکثریت نہ ہونے کے باوجود چیئر مین سینٹ منتخب ہوا۔ کیسے تمھارے بحٹ پاس ہوئے۔کیسے تم نے ادارے کی سپورٹ حاصل کرنے کے بعد اسے ہائی جیک کرنے کی کوشش کی۔کیسے تم نے کلبھوش یادیو کے لیے قانون سازی کرنے میں دن رات ایک کیئے۔ کیسے ابھی نندن کو بھارت کے حوالے کیا۔تمھارے کون کون سے راز بتاوں۔ جن کی ایک لمبی فہرست ہے۔احتساب کے نام پر آئے تھے اور گندی ویڈیوز سے تم چیئرمین نیب کو ہی بلیک میل کرتے رہے۔ اب کہتے ہو حقیقی آزادی مارچ۔ کون سی مارچ اور کون سی آزادی۔آج تمھیں اقتدار مل جائے۔ پھر بھاڑ میں جائے آزادی، بھاڑ میں جائیں غریب ، بھا ڑمیں جائے سب کچھ۔ تم لوگوں کی محرمیوں کو صرف اقتدار کے لیے استعمال کر رہے ہو۔وہی ہو نہ تم جو باہر لوگون کو مشرک کہہ رہے تھے اور اندر ہی اندر پانچ خرید رہے تھے۔وہی ہو نہ تم جو ایک کاغذ کو بیرونی سازش کہہ کر لہرا رہے تھے اور اپنے لوگوں کو کہہ رہے تھے کہ Lets play with it. وہی ہو نہ تم جس نے گوگی گینگ کی سربراہی کی۔وہی ہو نہ تم جس کا وزیر صحت، وزیر احتساب، وزیر پٹرولیم، اور دیگر وزیر کرپٹ نکلے ۔وہی ہو نہ تم جو ارسلان بیٹا کو کہہ کر دنیا بھر کی پگڑیاں اچھلواتے ہو۔وہی ہو نہ تم جو عوام کی فلا ح کا کام کرنے میں بری طرح ناکام اور اپنے ذاتی مشہوری کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہو۔نہ تمھارا ماضی اچھا، نہ تمھارا حال اچھا۔ مستقبل کی کسی کو خبر نہیں جھوٹ کی بنیاد پر جعلی نیک بننے سے کوئی نیک نہیں ہو جاتا۔ ہٹلر کے نقش قسم پر چلتے ہوئے پاکستان میں بھی اپنی جماعت بالکل اسی فارمولے پر چلا رہے ہو۔ لوگوں کی نفسیات سے کھیل رہے ہو ۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ
جھوٹ اور مفاد پرستی میں عمران خان کو کوئی ٹکر نہیں دے سکتا ۔ جس طرح یہ اپنے محسنوں کو کاٹ کے پھینکتا ہے اس میں بھی کوئی اس کا ثانی نہیں۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بات مفاد پرستی اور سیاسی قلابازیوں کی ، کی جائے تو اس میں بھی عمران خان کا کوئی ثانی نہیں ۔ کس کو کس وقت اپنے سیاسی مقاصد کےلیے استعمال کرنا ہے اور کس کو استعمال کر کے کچرے کے ڈھیر میں پھینکنا ہے یہ انھیں اچھی طرح سے آتاہے۔ بیانیہ بنانے میں بھی ان کی مثال نہیں ۔ ایک جھوٹ کو بار بار ایسے بولنا کہ وہ سچ لگنے لگے اس میں بھی ان کی مہارت کو کوئی ٹکر نہیں دے سکتا ۔ امریکی سازش، اسلامی ٹچ، کفر کے فتووں سے لے کر غداری کارڈ تک انھیں اچھی طرح خبروں کی زینت بننا آتا ہے۔ لیکن حقیت بلکل اسکے برعکس ہے۔نااہل تم ہو، خود غرضی کا مجسمہ تم ہو ، شاطر چالوں کے شہنشاہ تم ہو، بدترین گورننس کی مثال تم ہو۔ جھوٹ کو یوٹرن کا نام تم دیتے ہو۔ سارے بے کردار لوٹے تم نے اکھٹے کیئے ہوئے ہیں۔ خود غرضی تم میں انتہا سے زیادہ ہے اور تم لوگوں کی کردار کشی کر کے خود بڑا بننے کی کوشش کرتے ہو۔لوگوں کے سامنے تسبیح گھما کر مذہبی ٹچ دیتے ہو اور پس منظر میں کہتے ہو کہ غلط اور صحیح مت دیکھو ہم نے ہر صورت اقتدار میں آنا ہے۔لوگوں پر غداری کے فتوے لگاتے ہو اور خود فارن فنڈنگ پر پلتے ہو۔ امریکی سی آئی اے کی ایجنسی سے اپنی پی آر کرواتے ہو۔ شہباز گل سے تم اداروں پر حملے کرواتے ہو۔ بغاوت اور پھوٹ کی کوشش کرواتے ہو۔ملک کے سپہ سالار پر اعظم سواتی سے حملہ کرواتے ہو تاکہ چوروں کا ساتھ دینے کا بیانیہ بنا سکے۔ آدھی بات اپنے چیلوں سے کرواتے ہو اور پھر تشریخ خود کرتے ہو۔نام اپنے چیلوں سے دلواتے ہو اور اور پھر نام لیے بغیر زہر پاشی خود کرتے ہو۔پھر کہتے ہو کیا ہم بھیڑ بکڑیاں ہیں۔ نہیں تم بھیر بکریاں نہیں باقی پورا پاکستان آتے کی بوری ہے۔ تم جو مرضی کہو، تم جو مرضی سازش رچاو۔ تم جس کی مرضی عزت کے ساتھ کھیلو۔ تم جس کی مرضی بدنامی اور ساکھ کے ساتھ کھیلو۔ اور اگر ادارے حرکت میں آئیں تو پھر کہتے ہو کیا ہم بھیڑ بکریاں ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب یہ کسی پر کوئی الزام لگائے سمجھ جائیں پس منظر میں یہی کھیل یہ کھیل رہا ہے۔سائفر پر ملکی سالمیت کے ساتھ کھیل کے غداری کی اور اپنے مخالفین پر غداری کا الزام لگا دیا۔خود ہارس ٹریڈنگ اور خرید و فروخت کر رہا تھا جو آڈیو لیک میں ثابت بھی ہو گیا اور دوسروں کو مشرق اور پچیس کروڑ کے الزام لگا رہا تھا۔کہتا تھا شریفوں اور بھٹو خاندان نے قوم کو ذہنی غلام بنا لیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے ایک بڑے طبقے کو اپنا ذہنی غلام بنا لیا ہے، اور ان کے سامنے جب عمران خان آتا ہے تو ساری منطق، دلیل، عقل ، شعور ۔۔سکتے کے عالم میں چلا جاتا ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لانگ مارچ میں عمران خان کے خطاب کے بعد ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ عمران خان پر برس پڑیں
ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان جیسا جھوٹا انسان آج تک نہیں دیکھا، عدالت نے ابھی اسکی نااہلی ختم نہیں کی صرف میانوالی میں ضمنی الیکشن سے روکا ہے اور یہ ڈنکے کی چوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔اسلام آباد ہائیکورٹ کیا نوٹس لے گی؟؟؟
عمران خان جیسا جھوٹا انسان آج تک نہیں دیکھا، عدالت نے ابھی اسکی نااہلی ختم نہیں کی صرف میانوالی میں ضمنی الیکشن سے روکا ہے اور یہ ڈنکے کی چوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔اسلام آباد ہائیکورٹ کیا نوٹس لے گی؟؟؟ pic.twitter.com/62HuNqvIUW
ایک اور ٹویٹ میں حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ نیازی نے جس طرح سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان کیخلاف غلیظ زبان استعمال کی اور ان کو دھمکیاں دیں، میں اسکی شدید مذمت کرتی ہوں۔۔یہ بدزبان شخص کب تک لوگوں کی پگڑیاں اچھالتا رہے گا، اس لاڈلے کو کوئی لگام ڈالنے والا نہیں؟؟؟
ایک اور ٹویٹ میں ن لیگی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ کہتی ہیں کہ آج تو نیازی بیچارہ واقعی خطاب کے دوران اسٹیبلشمنٹ کے پاؤں پڑ گیا کہ خدا کا واسطہ ہے مجھے واپس لے آؤ۔۔۔یہ بزدل آدمی ایک طرف دھمکیاں دیتا اور دوسرے لمحے ہی ہاتھ جوڑ کر منتیں شروع کر دیتا ہے۔
ہمیں اسلام آباد پہنچتے ہوئے 8،9 دن لگیں گے، عمران خان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمشنر شریف خاندان کا ملازم ہیں چیف الیکشن کمشنر پر 10 ارب روپے کا ہرجانہ کروں گا،
کامونکی میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمشنر نے مجھ پر توشہ خانہ اور ممنوعہ فنڈنگ کا الزام لگایا، الیکشن کمشنر نے میری دیانت داری پر سوال اٹھایا الیکشن کمشنر کے خلاف ہرجانہ کروں گا تاکہ آئندہ کسی کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچائیں الیکشن کمشنر کو پیچھے سے بھی ہدایات مل رہی ہیں،شوکت خانم کے لیے ہر سال 9 ارب روپے اکٹھے ہوتے ہیں،سب سے بڑا شوکت خانم اسپتال کراچی میں بن رہا ہے، وزیراعظم شہبازشریف کے پاس کوئی اختیار نہیں ،کرم میں الیکشن مہم کے لیے 3بار جلسہ منسوخ کرنا پڑا ہم بھیڑ بکریاں نہیں ،انسان ہیں، اللہ نے کہا ظلم کا مقابلہ کرو، شہباز شریف نے ساری زندگی کیا کیا ہے؟حکمرانوں نے ملک کو لوٹا، لوگوں نے مجھے ووٹ دیئے، ڈرائی کلین کر کے حکمرانوں کو پھر ہم پر مسلط کر دیا،
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کو جانور نہ سمجھیں ، ہم گائے بھینسیں نہیں ہیں، یہ ملک تب تگڑا ہوگا، جب ادارے مضبوط ہوں گے،ادارے تب تگڑے ہوتے ہیں جب قوم ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، میں نے لندن میں فلیٹ نہیں بنائے، میراجینا مرنا پاکستان میں ہے ،ایک بھی غیر قانونی کام کیا ہو تو عدالتی فیصلے کا انتظار نہیں کروں گا خود چھوڑ دوں گا
لانگ مارچ میں ایک دوسرے مقام پرخطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی سیاست نہیں جہاد ہے، جب تک پاکستان رہے گا ہم قائد اعظم کا شکریہ ادا کرتے رہیں گے، میرا ایک ہی مقصد ہے کہ میری قوم حقیقی طورپر آزاد ہو، آزادی ملنے تک یہ مارچ رکنے والا نہیں،جیلو ں میں صرف غریب لوگ قید ہیں، امیر چور بیرون ملک فرار ہوجاتے ہیں، قانون کی بالادستی نہیں ہوگی تو ملک کو نقصان پہنچے گا،ایمن آباد کے لوگوں کے ساتھ ملکر حقیقی آزادی حاصل کریں گے، نواز شریف کو دوسال کی تحقیقات کے بعد سزا ملی،قوم اس وقت آزاد ہوگی جب امیر اور غریب کیلئے ایک قانون ہوگا،ہمارے دور میں ملک خوشحالی کی طرف جا رہا تھا، بیرونی سازش کے تحت آنےوالے لوگوں نے ملکی معیشت کو تباہ کر دیا ہے، نواز شریف ماحول کے سازگار ہونے کا انتظار کرر ہے ہیں ہمیں اسلام آباد پہنچتے ہوئے 8،9 دن لگیں گے، سارے پارکستان سے اسلام آباد کی طرف قافلے نکلیں گے،
عمران خان کے لانگ مارچ کا آج چوتھا روز ہے، جمعہ کو لاہور لبرٹی سے لانگ مارچ کا آغاز ہوا تھا، لانگ مارچ مقررہ مقام اور شیڈول کے مطابق نہیں چل رہا، اطلاعات کے مطابق لانگ مارچ میں افرادی قوت کم ہونے کی وجہ سے عمران خان شدید پریشان ہیں اور اسی وجہ سے کارکنان کو رات کو سڑکوں پر چھوڑ کر خود لاہور آ جاتے ہیں
پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل کے حادثے میں ہماری بہن کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں بدقسمتی سے یہ خونی مارچ ارشد شریف کی شہادت سے شروع ہوا اور اب صدف نعیم تک پہنچ گیا ہے
جاوید لطیف کا کہنا تھا ہک عمران خان کبھی آزادی کے لئے نکلتا ہے تو کبھی یہ اسٹیبلشمنٹ کے پاوں پڑتا ہے جس شخص نے 3 یا 4 لاکھ لوگ لے کر نکلنے کا دعوی کیا تھا، وہ 3، 4 ہزار افراد دیکھ کر فرسٹیٹ ہو گیا ہے اسے پتہ نہیں چل رہا کہ کس کے پاوں پڑے یا کس سے مذاکرات کرے ایک پیج کا دعوی کرتا رہا جب وہ پیج پھٹا تو زرداری کے گھٹنوں میں پڑا ،پھر اس نے نواز شریف کی جانب بڑھنے کی کوشش کی اور پھر یہ دوبارہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب بڑھا ناکامی ہوئی تو یہ دوبارہ انقلاب کہ جانب گامزن ہو گیا آج پھر یو ٹرن لے رہا ہے کہ زرداری اور نواز شریف کی کرپشن بارے مجھے اسٹیبلشمنٹ نے بتایا تھا اگر اس وقت کسی نے اس کے کان میں کچھ کہہ دیا تھا تو وہ ادارے کا بیانیہ نہیں تھا آج ادارے کے ترجمان کچھ کہہ رہے ہیں تو یہ اسے کیوں نہیں مان رہا اس نے اللہ رسول کا نام لے کر کثرت سے جھوٹ بولا آج ادارے کہہ رہے ہیں کہ اس نے معیشت سے کھلواڑ کیا جب ہم یہ بات کرتے تھے تو یہ ہم پر غداری کے مقدمات بناتا تھا آج اداروں میں بیٹھے لوگ یہ بات کر رہے ہیں کہ مذہب سے کھیلنے کی اسے اجازت نہیں دینگے
وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف کا مزید کہنا تھا کہ اس نے اپنی پالیسیوں کی وجہ سے کروڑوں لوگوں کی چھتیں چھین لیں انہوں نے جن جگہوں پر خونریزی کی پلاننگ کر رکھی ہے، ان کا ہمیں علم ہے ایک جگہ ان میں سے گجرات ہے علی امین گنڈا پور دن اور رات شہد پیتا ہے حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ اس کا گند لوگوں کے سامنے لے کر آئے چاہے یہ جتنی بھی درخواستیں کرے یہ قومی و ملی فریضہ ہے میں کہتا ہوں کہ کابینہ میں اس کا فیصلہ کیا جائے کہ 8، 8 سال تک اس کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے کیسز لٹکائے نہیں جا سکتے بنی گالہ کا محل راتوں رات کیوں ریگولرائز کیوں کیا گیا ؟ اس کی کرپشن کے ثبوت موجود ہیں ادارے سچے ہیں کہ انہوں نے بتا دیا اب ذمہ داری حکومت وقت کی ہے اس نے 60 کروڑ روپے جلسوں پر خرچ کیا لانگ مارچ پر اربوں روپے کی فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے؟ کیا لانگ مارچ پر پیسہ کے پی یا پنجاب کی حکومت کر رہی ہے؟ اس لانگ مارچ کا مقصد کیا ہے؟ کیونکہ قبل از وقت الیکشن سے تو یہ پہلے ہی ہٹ چکا ہے ہم نے آئین و قانون کا ہاتھ اس کے گریبان تک نہیں لے جانا بلکہ عوام کو اس کی اصلیت دکھانی ہے ہم عوام میں جا رہے ہیں اور اس کے کرتوت لوگوں کو دکھائیں گے اس کے روٹ پر ہم جلسہ نہیں کرینگے تاکہ خونریزی کا اس کا منصوبہ کامیاب نہ ہو سکے حکومت پنجاب اور پنجاب پولیس اس لانگ مارچ کا ساتھ دے رہی ہے لوگ اسے ہر جگہ گھڑی چور کے نعرے اور طعنے دے رہے ہیں انتظامیہ اس کیخلاف وال چاکنگ ختم کرنے میں لگی ہوئی ہے فتنہ خان کی ویڈیوز پبلک کرنی چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو گمراہ نا کر سکے
وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف کا مزید کہنا تھا کہ ہم کسی صورت بھی خونریزی نہیں ہونے دینگے عمران خان کا باب بند ہو چکا ہے، اس کا اسے علم ہے یہ اپنے کیسز کو لازمی فیس کرے گا عارف علوی پی ٹی آئی پر حملے کی مبارکباد دے رہا تھا تو ایسے لوگوں سے آئین و قانون کی توقع کیسے کر سکتے ہیں جو بھی عوامی محرومیوں کا اعتراف کرے گا تو لوگ اس کا ساتھ لازمی دینگے اور وہ مقبول ہو گا قائد نواز شریف نے ہدایت کر دی ہے کہ ہم پورے پاکستان میں جلسے کرینگے
پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا
درخواست پی ٹی آئی اسلام آباد صدر علی نواز اعوان کی ذریعے دائر کی گئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ لانگ مارچ کے کیلئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سے رجوع کیا 26اکتوبر کو خط لکھا گیا لیکن تاحال این او سی نہیں ملا،پی ٹی آئی کے کارکنان کو ہراساں نہ کیا جائے،
عمران خان کے لانگ مارچ کو آج چوتھا روز ہے، عمران خان آج کامونکی سے لانگ مارچ میں شریک ہوں گے،عمران خان کا کنٹینر کامونکی شہر کے داخلی دروازے پر پہنچا دیا گیاہے، عمران خان کی قیادت میں لانگ مارچ جی ٹی روڈ کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا اسلام آباد پہنچے گا، اسلام آباد کی انتظامیہ نے ابھی تک جلسے کی اجازت نہیں دی جس پر پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کیا ہے،
تحریک انصاف کا حقیقی آزادی مارچ راولپنڈی مریڑ سے اسلام آباد داخلہ کے لیے مری روڈ کا استعمال کیا جائے گا ،مرکزی قیادت کی جانب سے مقامی ایم این اے،ایم پی ایز کو استقبالیہ کیمپ لگانے کی ہدایت کر دی گئی، عمران خان راولپنڈی پنجاب ہاوس میں قیام کریں گے، تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں، لانگ مارچ پنڈی کب پہنچتا ہے اس بارے تاحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ عمران خان روزانہ رات کو مارچ کے شرکاء کو چھوڑ کر لاہور آ جاتے ہیں
تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ پتہ چلا ہے کہ پی ڈی ایم نے بھی 4 تاریخ کسی اجتماع کا اعلان کیا ،اگر کوئی نقصان ہوتا ہے حکمران ذمہ دار ہوں گے ، ہم نے کبھی تصادم کی سیاست نہیں کی، ہم سادہ بات کررہے ہیں کہ الیکشن کروائیں،
علاوہ ازیں پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ لانگ مارچ کا دوسرا مرحلہ آج شروع ہو رہا ہے آج سندھ کا قافلہ کراچی سے براستہ حیدر آباد، سکھر، ملتان اسلام آباد کےلیے روانہ ہو گا بدھ والے دن گلگت بلتستان اور KP کے کچھ اضلاع کے قافلے اپنا سفر شروع کریں گے عمران خان جی ٹی روڈ پر موجود شہروں اور قصبوں کو موبلائز کریں گے بدھ یا جمعرات کو جنوبی پنجاب کے قافلے اسلام آباد کی جانب روانہ ہونگے جمعرات اور جمعے کو آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے قافلے روانہ ہونگے جمعے والا دن مارچ اسلام آباد پہنچے گا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد ہوئی ہے
عمران خان پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ صدف نعیم کے گھر پہنچے اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا، عمران خان کے ہمراہ اسد عمر ،میاں اسلم و دیگر بھی موجود تھے،عمران خان نے لانگ مارچ میں شہید ہونے والی خاتون صحافی کے لئے دعائے مغفرت کی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی. صدف نعیم کی والدہ عمران خان کو دیکھ کر زاروقطار روتی رہیں ، شفقت محمود بھی عمران خان کے ہمراہ تھے،
صدف نعیم گزشتہ روز لانگ مارچ کے دوران کینیٹر کے نیچے آ کر شہید ہو گئی تھیں، صدف نعیم کی نماز جنازہ گزشتہ شب اچھرہ میں ادا کی گئی بعد ازاں مقامی قبرستان میں تدفین کی گئی، صدف نعیم کے شوہر نے کوئی بھی کاروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا تا ہم یہ بھی اطلاعات ہیں کہ صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے کامونکی جاتے ہوئے راستے میں عمران خان کے کنٹینر کے نیچے آکرنجی ٹی وی کی خاتون رپورٹر جاں بحق ہوگئیں حادثے کے فوری بعد سابق وزیراعظم عمران خان نے مارچ منسوخ کردیا۔کہا کہ بدقسمتی سے ایک حادثہ ہوا ہے، ہم نے کامونکی جانا تھا لیکن حادثے کی وجہ سے کینسل کردیا ہے ہم اپنے مارچ کو ختم کر رہے ہیں اور کل کامونکی سے اپنا مارچ شروع کریں گے،
فارن فنڈڈ فتنے نےانقلاب نہیں خونی مارچ کااعتراف کرلیا ،مریم اورنگزیب
ن لیگ کی رہنما وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فارن فنڈڈ فتنہ نے انقلاب نہیں اپنے خونی مارچ نامنظور کا اعتراف کر لیا ہے ‘بیلٹ’ پر ‘بلڈ شیڈ ‘ بندوقوں’ سے انقلاب لانے کا ثبوت ہے۔ 6 ماہ سے انقلاب نہیں،عوام نے فارن فنڈد فتنہ توشہ خانہ ڈکیتیاں بشرا بی بی کے ہیرے,زمین کے ٹکڑوں پر ملکی مفاد کے سودے,شہدا کے خلاف مہم دیکھی ہے اگر الیکشن مقصد تھا تو جب اقتدار عمران خا ن کے پاس تھا توانتخابات کا اعلان کیوں نہیں کیا کُرسی کے لیے مدت ملازمت میں توسیع کی آفر کر سکتے تھے تو الیکشن کا اعلان کیوں نہیں کیا؟ عمران خان اب الیکشن اور اقتدار گالی اور بندوقوں سے نہیں ملے گا
فارن فنڈڈ فتنہ نے انقلاب نہیں اپنے #خونی_مارچ_نامنظور کا اعتراف کر لیا ہے 'بیلٹ' پر 'بلڈ شیڈ ' بندوقوں' سے انقلاب لانے کا ثبوت ہے۔6 ماہ سے انقلاب نہیں،عوام نے فارن فنڈد فتنہ توشہ خانہ ڈکیتیاں بشرا بی بی کے ہیرے,زمین کے ٹکڑوں پر ملکی مفاد کے سودے,شہدا کے خلاف مہم دیکھی ہے https://t.co/mOKktpyOLd
سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ اقتدار کی حوس میں عمران خان ہر حد پار کرنے لیے تیار ہیں، عمران خان کی خواہش ہے کہ خونریزی ہو؟ عمران خان ڈکٹیٹر کی نرسری کے ٹیسٹ ٹیوب بیبی رہے ہیں، عمران خان اب اسی پرتنقید کرکے ہیرو بننے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں،عمران خان پر توشہ خانہ،فارن فنڈنگ اورمنی لانڈرنگ کے مقدمات ہیں،
جی ٹی روڈ پر ہمارے مارچ کے ہمراہ عوام کا سمندر۔ میں 6 ماہ سےملک میں ایک انقلاب کا مشاہدہ کررہا ہوں۔سوال صرف یہ ہے کہ آیا یہ بیلٹ باکس کےذریعے نرم ہوگا یا خونریزی کے ذریعے تباہ کن؟ pic.twitter.com/U4G9FiN84W
واضح رہے کہ عمران خان نےلانگ مارچ کی ایک ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی تھی اور کہا تھا کہ جی ٹی روڈ پر ہمارے مارچ کے ہمراہ عوام کا سمندر۔ میں 6 ماہ سےملک میں ایک انقلاب کا مشاہدہ کررہا ہوں۔سوال صرف یہ ہے کہ آیا یہ بیلٹ باکس کے ذریعے نرم ہوگا یا خونریزی کے ذریعے تباہ کن؟
عمران خان کے لانگ مارچ کا آج چوتھا روز ہے، جمعہ کو لاہور لبرٹی سے لانگ مارچ کا آغاز ہوا تھا، لانگ مارچ مقررہ مقام اور شیڈول کے مطابق نہیں چل رہا، اطلاعات کے مطابق لانگ مارچ میں افرادی قوت کم ہونے کی وجہ سے عمران خان شدید پریشان ہیں اور اسی وجہ سے کارکنان کو رات کو سڑکوں پر چھوڑ کر خود لاہور آ جاتے ہیں