Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • عمران خان کو جے آئی ٹی نے ایک بار پھر طلب کر لیا

    عمران خان کو جے آئی ٹی نے ایک بار پھر طلب کر لیا

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جے آئی ٹی نے ایک بار پھر طلب کر لیا

    جے آئی ٹی کی جانب سے عمران خان کو پیشی کا نوٹس بھجوا دیا گیا عمران خان کو شام 5 بجے تھانہ مارگلہ میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے،عدالت نے عمران خان کو جے آئی ٹی میں شامل تفتیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے عمران خان کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس بذریعہ انسپکٹر بھجوایا گیا ،عمران خان نے گزشتہ روز وکلا کے ذریعے جواب جے آئی ٹی کو بھجوایا تھا جے آئی ٹی نے مذید تفتیش کے لیے عمران خان کو طلب کیا ہے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین نے عمران خان نے گزشتہ روز وکلا کے ذریعے جواب جے آئی ٹی کو بھجوایا تھا جے آئی ٹی نے مزید تفتیش کے لیے عمران خان کو طلب کیا ہے تحریری جواب میں سابق وزیراعظم نے کہا تھا کہ تحریک انصاف کا چیئرمین ہوں اور پاکستان کا وزیراعظم رہ چکا ہوں کوئی غیر قانونی عمل کیا اور نہ ہی کسی کو نقصان پہنچایا، تقریر میں جو کچھ کہا دہشتگردی کے زمرے میں نہیں آتا۔ میں بے گناہ ہوں مقدمہ خارج کیا جائے حکومت نے سیاسی مخالفت کی وجہ سے شہباز گل پر تشدد کیا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں داخل رپورٹ میں شہباز گل پر تشدد ثابت ہوا

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

  • ‏عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کو گھٹیا آدمی قرار دے دیا

    ‏عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کو گھٹیا آدمی قرار دے دیا

    ‏عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کو گھٹیا آدمی قرار دے دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جب سے حکومت گئی ہے وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں

    میں کال دوں گا کا نعرہ لگا کر کارکنان کو اکٹھا کرتے ہیں اور پھر خود کبھی بنی گالہ، کبھی خیبر پختونخوا ہاؤس چھپ جاتے ہیں، اداروں پر تنقید عمران خان نے وطیرہ بنا لیا ہے، الیکشن کمیشن کے خلاف بھی عمران خان نے محاذ آرائی شروع کر رکھی ہے، عمران خان سمجھتے ہیں کہ بس صرف میں ہی ٹھیک ہوں باقی سب غلط، پاکستان میں جس نے جو بھی کرنا ہے وہ مجھ سے پوچھ کر ہی کرے، خواہ آئین و قانون کو پاؤں تلے کیوں نہ روند دیا جائے لیکن جو میں کہوں وہی ہو، کیونکہ آئین شکنی میں عمران خان کا نام آ چکا ہے

    عمران خان مسلسل اداروں پر تنقید کر رہے ہیں، اب انہوں نے ایک نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں چیف الیکشن کمشنر کو گھٹیا آدمی قرار دے دیا ہے، عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کو گھٹیا آدمی قرار دیا او کہا کہ انہیں شرم ہی نہیں آتی کبھی توشہ خانہ کا کیس آ جاتا ہے، کبھی فنڈنگ کا کیس آ جاتا ہے ، تحریک انصاف کے چیئرمین ،سابق وزیراعظم عمران خان نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ انہیں سیاست سے الگ کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔

    موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی عمران خان نے ہی کی تھی، انکے دورحکومت میں ہی اپنی مرضی سے عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کو تعینات کیا تھا، اب عمران خان حکومت جانے کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے خلاف نہ صرف احتجاج کرتے ہیں بلکہ انہیں گھٹیا آدمی بھی کہتے ہیں، عمران خان کو فارن فنڈنگ کیس سمیت دیگر کئی مقدمات میں نااہل ہونے کا خوف ہے اسی وجہ سے انہیں سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا بولیں،کس کو بولیں کیونکہ سب تعیناتیاں و تقرریاں انہوں نے اپنے دور میں خود کیں اور اب پھر غصہ بھی نکالتے ہیں

    ن لیگی رہنما، رکن پنجاب اسمبلی، حنا پرویز بٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کیلئے نازیبا الفاظ کی شدید مذمت کرتی ہوں۔ یہ شخص اداروں کے سربراہوں کو دباؤ میں لانے کیلئے اس طرح کے الفاظ استعمال کرتا ہے، سلیوٹ ہے ان تمام سربراہوں کو جو اس گھٹیا فتنے کے دباؤمیں نہیں آ رہے۔

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    یوں محسوس ہوتا ہے کہ بنی گالہ کے اندر ع سے عمران، ع سے عثمان بزدار والی جو پریکٹسز چل رہی تھیں وہ سب الٹی ہو گئی ہیں اور سب عمل کا ردعمل الٹا آنا شروع ہو چکا ہے

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

  • سماعت میں التوا مانگنے پر عمران خان پر5 ہزار روپے جرمانہ عائد

    سماعت میں التوا مانگنے پر عمران خان پر5 ہزار روپے جرمانہ عائد

    عمران خان کا خواجہ آصف کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانہ کیس کی سماعت ہوئی

    عمران خان پر سماعت میں التوا مانگنے پر 5 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا گیا، عمران خان کی جلسوں میں مصروفیات کے باعث عدالت میں التوا کی درخواست دی گئی جس کے بعد ایڈیشنل سیشن جج عدنان خان نے التوا مانگنے پر 5 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا ،خواجہ آصف کے وکیل علی شاہ گیلانی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے خواجہ آصف کے وکیل نے عمران خان کے بیان پر جرح موخر کر دی گئی، عمران خان کے وکلا کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا منظور کر لی گئی، عمران خان کے دس ارب روپے ہرجانے کے دعوی کی سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    میڈم یہ کہتے ہیں بچے کو نہیں ملے گی،فردوس عاشق اعوان کو بچے نے پکڑ لیا

    بے بس عوام:بےحس افسران:ACسیالکوٹ اورفردوس عاشق کےدرمیان ہونے والی نوک جھوک:ویڈیووائرل

  • اسلام آباد:شامل تفتیش نہ ہونے پرعمران خان کو نوٹس

    اسلام آباد:شامل تفتیش نہ ہونے پرعمران خان کو نوٹس

    اسلام آباد:پولیس نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو شامل تفتیش نہ ہونے پر نوٹس جاری کردیا۔عدالتی حکم کے باوجود چیئرمین تحریک انصاف عمران خان دہشت گردی کے مقدمے میں اب تک شامل تفتیش نہیں ہوئے۔

    عمران خان کو جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جےآئی ٹی) نے آج دن 3 بجے تھانہ مارگلہ میں طلب کیا تھا، عمران خان نے 12 ستمبر تک انسداد دہشت گردی کی عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کررکھی ہے۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف 20 اگست کی تقریر پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض یکم ستمبر تک عبوری ضمانت منظور کی تھی، یکم ستمبر کو عمران خان عدالت پیش نہ ہوئے تو انہیں عدالت کی جانب سے پیش ہونے کا حکم دے دیا گیا۔

    عمران خان یکم ستمبر کی دوپہر انسداد دہشت گردی عدالت پیش ہوئے، جس پر عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے 12 ستمبر تک توسیع دے دی۔عمران خان کی عدم حاضری پر پولیس مؤقف کے ساتھ چالان عدالت میں جمع کرائے گی۔عمران خان کو جے آئی ٹی میں پیش ہونے کا نوٹس ان کے سکیورٹی افسر ایس پی راجہ طاہر کے ذریعے بھجوایا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد کی ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینےکےکیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چالان جمع کرانے سے روکتے ہوئے عمران خان کو دہشت گردی کے مقدمے میں شامل تفتیش ہونےکا حکم دیا تھا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • خود داری کا چورن بیچنے والا بھارتی اوراسرائیلی فنڈ پر پلتا رہا،ترجمان جے یو آئی

    خود داری کا چورن بیچنے والا بھارتی اوراسرائیلی فنڈ پر پلتا رہا،ترجمان جے یو آئی

    عمران نیازی کے ملتان تقریر پر ترجمان جے یو آئی اسلم غوری نے کہا ہے کہ عمران نیازی کا ہر بیانیہ جھوٹا ،پاکستان کے خلاف بڑی رقم لے کر کرکٹ کھیلی ۔

    ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کا کہنا تھا کہ انگلینڈ ٹیم 1978 میں پاکستان آئی تو موصوف بڑی رقم لے کر آسٹریلیا کی ٹیم میں کھیلنے چلے گئے۔ عمران نیازی کا کردار ہر شعبے میں غیروں کے ایجنٹ اور اپنے ملک کو نقصان پہنچانے کا رہا ہے۔ آزادی کی بات کرنے والا لندن میں ایک پاکستانی مسلمان کے مقابلے میں اپنے سابقہ یہودی سالے کی انتخابی کمپین چلاتا رہا۔خود داری کا چورن بیچنے والا بھارتی اور اسرائیلی فنڈ پر پلتا رہا کرپشن کے خلاف بات کرنے والے کے دامن میں فنانشل ٹائمزکی رپورٹ اور ابراج گروپ سمیت کرپشن کی لمبی داستانیں ہیں ۔انصاف کے نام پر نام نہاد جماعت قائم کی لیکن خاتون جج کو سر عام دھمکیاں دیں ۔ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں عمران نیازی کا کوئی ثانی نہیں ۔

    جے یو آئی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ نیازی اینڈ کمپنی کے جھوٹ سن سن کر عوام تنگ آ چکی ، عوام اس کے دور اقتدار کی نالائقی بھولی نہیں ۔عمران نیازی مداری ہے ۔مداریوں کی طرح کچھ وقت تک تو جھوٹے وعدوں سے قوم کو دھوکہ دیا لیکن اب عوام پر اس کی اصلیت آشکارا ہو چکی ہے عمران نیازی جھوٹے پروپیگنڈے،الزام تراشی اور قومی اداروں پر تنقید کرکے اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ساڑھے تین سالہ ناکام حکومت نیازی کے گلے کا طوق ہے اور یہ طوق دوسروں پرتنقید کرکے نہیں اتارا جاسکتا۔ سیلاب متاثرین کے امداد میں مصروف ہیں ،فارغ ہوکر نیازی کا بقایا حساب منافع سمیت واپس کریں گے ۔عوام تکلیف میں مبتلاء ہیں اور انسانیت سے عاری نیازی کو اپنی سیاست کی پڑی ہوئی ہے ۔نیازی اینڈ کمپنی کو عوام کی کوئی فکر نہیں ،اایسی کمپنی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

    پاکستان میں تعینات چینی ناظم الامور مس پینگ چَن شِیؤکی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ سے ملاقات ہ

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

  • مخالفین الیکشن سےبھاگ گئے،عمران خان،الیکشن ملتوی ہونے پر مایوسی ہوئی،بلاول بھٹو

    مخالفین الیکشن سےبھاگ گئے،عمران خان،الیکشن ملتوی ہونے پر مایوسی ہوئی،بلاول بھٹو

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مخالفین الیکشن سےبھاگ گئے ہیں، مجھے پورا یقین تھا جلسے دیکھ کران کی کانپیں ٹانگنا شروع ہوگئی تھیں، ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن، انتظامیہ، مسٹرایکس کی مدد کے باوجود ان کا الیکشن میں صفایا ہو گیا، اب یہ ڈر رہے ہیں اگر اتوار کو الیکشن ہو جاتا تو ان کی تین وکٹیں مزید گر جانی تھیں،میرا چیلنج ہے جب بھی 9 حلقوں میں الیکشن ہو گا، تمام سیٹیں پی ٹی آئی جیتے گی، یہ اپنے امپائر ہونے کے باوجود نہیں جیت سکتے۔یہ ہارنے کے خوف سے وکٹیں اٹھا کر لے گئے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملتان کے جذبے اورجنون کوسلام پیش کرتا ہوں، خواتین کو بھی سلام پیش کرتا ہوں،مہر بانو قریشی کا مخالف امیدوار پیسے کی پوجا کرتا ہے،کبھی پیسے کی پوجا نہیں کرنی،آجکل میرے ایم پی ایز کو پارٹی چھوڑنے کے لیے دھمکیاں دی جارہی ہیں،اینکرز، صحافیوں کو ڈرایا جا رہا ہے، پیسے کے بت کے علاوہ ایک خوف کا بت بھی ہے،خوف کے بت سے ڈرنے والا کبھی بڑا کام نہیں کر سکتا، ہم نے رحمت اللعامین اتھارٹی بنائی تاکہ بچوں کونبی کی زندگی بارے پتا چلے،مدینہ کی ریاست دنیا کا سب سے بڑا انقلاب تھا۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ اپنے نبی ﷺ کے راستے پر چلو، میری کوشش ہے ہم اپنے نبی ﷺکے راستے پر چلیں، نبی ﷺ کے راستے پر چل کر ہم ایک عظیم قوم بن سکتے ہیں،ہم نے حقیقی آزادی لیکر ملک کو آزاد کرنا ہے،زرداری، نوازشریف ملک کا پیسہ 30 سال سے لوٹ رہے ہیں،یہ وہ لوگ ہے جو بیرونی ملکوں کے حکم پر ہمارے فیصلے کرتے ہیں،یہ امریکی سازش کے تحت اقتدار میں آئے،یہ روس سے سستا تیل نہیں لے سکتے کیونکہ اپنے آقا سے ڈرتے ہیں۔

    ی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے ملک کواپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہو گا، جب تک اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوتے ہرے پاسپورٹ کی عزت نہیں ہو گی، دو ماہ میں پاکستان کی معیشت نیچے جا رہی ہے، بجلی، ڈیزل کی قیمت دُگنا ہو چکی ہے، کسان کا برا حال ہے، ملک میں انڈسٹری بند اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے، ہمارے دورمیں ریکارڈ ایکسپورٹ ہو رہی تھی، ہمارے دورمیں چار بڑی فصلوں کی تاریخی پیداوار ہوئی، ہماری حکومت میں کسانوں کو پہلی دفعہ پورا معاوضہ دیا گیا، ہماری حکومت نے ہر خاندان کو 10 لاکھ کی انشورنس دی۔

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین اور وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر تمام ضمنی الیکشن ملتوی کرنے کے اعلان پر مایوسی کا اظہار کردیا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے لکھا کہ عمران خان آخر کب تک لاڈلہ رہے گا؟ میرے ملتان اور کراچی کے امیدوار ضمنی انتخابات کے اچانک التواء سے مایوس ہوئے ہیں، وہ طویل عرصے سے نمائندگی سے محروم اپنے حلقہ انتخابات میں خدمات سرانجام دینا چاہتے ہیں۔

    وفاقی وزیر نے اپنے ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ بالکل آخری لمحات میں پی ٹی آئی کو انتخابات سے فرار کا راستہ مہیا کیا جاتا۔

  • توہین عدالت کیس: عمران خان کا جواب مسترد، 22 ستمبر کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

    توہین عدالت کیس: عمران خان کا جواب مسترد، 22 ستمبر کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین کیخلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کا جواب مسترد کرتے ہوئے 22 ستمبر کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے خاتون جج کو دھمکی دینے کے معاملے پر توہین عدالت کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا گیا۔
    تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ فریقین کے وکلا، اٹارنی جنرل اور عدالتی معاونین کو سنا گیا، عمران خان کا جواب تسلی بخش نہیں۔حکم نامے میں کہا گیا کہ عمران خان پر 22 ستمبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔تحریری حکم نامہ 2 صفحات پر مشتمل ہے، جسے 5 رکنی لارجر بینچ نے جاری کیا۔تحریری حکم نامہ کے مطابق 22 ستمبر کو دن ڈھائی بجے کیس کی سماعت ہو گی۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللّٰہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ ببینچ میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار شامل ہیں۔

    عمران خان کے خلاف خاتون جج زیبا چودھری کو دھمکی دینے سے متعلق توہین عدالت کیس کی چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا 5 رکنی بنچ نے سماعت کی، دیگر ججز میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار شامل ہیں۔ عمران خان کی عدالت آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ سماعت کے دوران روسٹرم پر زیادہ وکلا آنے پر چیف جسٹس نے دیگر وکلا کو بیٹھنے کا کہہ دیا اور پھر عمران خان کے وکیل حامد خان نے دلائل دینا شروع کیے۔

    قبل ازیں حامد خان نے مؤقف اپنایا عدالت میں ضمنی جواب جمع کرایا گیا تھا، جواب گزشتہ سماعت پر عدالت کی آبزرویشنز کی بنیاد پر تشکیل دیا ہے، ہم نے جواب کے ساتھ دو سپریم کورٹ کی ججمنٹس لگائی ہیں۔ چاہتے ہیں توہین عدالت کیس کو بند کردیا جائے۔

    دلائل کے دوران وکیل حامد خان نے دانیال عزیز کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے سپریم کورٹ کے توہین عدالت کیسز کا جائزہ لینے کا حکم دیا تھا، گزشتہ سماعت کے حکم نامے میں عدالت نے دانیال عزیز اور طلال چوہدری کے مقدمات کا حوالہ دیا۔

    پی ٹی آئی وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کا کیس دانیال عزیز اور طلال چودھری کے مقدمات سے مختلف ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل، سول اور کریمنل 3 طرح کی توہین عدالت ہوتی ہیں، دانیال عزیز اور طلال چودھری کے مقدمے میں کریمنل توہین نہیں تھی، انہوں نے عدالت کے کردار پر بات کی تھی۔ عمران خان کی کریمنل توہین ہے، زیر التوا مقدمے پر بات کی گئی، آپ کا جواب پڑھ لیا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے ہم پر بائنڈنگ ہیں، سپریم کورٹ کے تین فیصلوں کو ہائی لائٹ کرنا مقصد تھا۔

    عدالت عالیہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فردوس عاشق اعوان کیس میں 3 قسم کی توہین عدالت کا ذکر ہے، ہم نے عدالت کو سکینڈلائز کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی شروع نہیں کی، عدالت پر تنقید کریں، ہم سکینڈلائز کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی نہیں کریں گے، کریمنل توہین عدالت بہت سنجیدہ نوعیت کی ہوتی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کریمنل توہین عدالت میں دانست غیرمتعلقہ ہو جاتی ہے، اسے نہیں دیکھا جاتا، کریمنل توہین عدالت میں یہ نہیں کہا جاتا بات کرنے کا مقصد کیا تھا، ہم نے آپکو سمجھایا تھا کہ یہ کریمنل توہین عدالت ہے۔ آپکا جواب حتمی تھا اور ہم نے تفصیلی پڑھا، آپ کو ہدایت کی تھی کہ سوچ سمجھ کر اپنا جواب داخل کریں۔

    حامد خان نے کہا کہ معافی کو تسلیم کرنا یا نہ کرنا عدالت کے اطمینان پر منحصر ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہم اظہار رائے کی آزادی کے محافظ ہیں لیکن اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کریمنل توہین عدالت بہت حساس معاملہ ہوتا ہے، اس عدالت کے لیے ڈسٹرکٹ کورٹ ریڈ لائن ہے، اگر کسی جج کے فیصلے سے متاثر ہوں تو اس کا طریقہ کار قانون میں موجود ہے، توہین آمیز بات کون اور کہاں کرتا ہے یہ بات بہت اہم ہوتی ہے۔ سوسائٹی اتنی پولرائز ہے فالورز مخالفین کو پبلک مقامات پر بےعزت کرتے ہیں، اگر یہی کام وہ اس جج کیساتھ کریں تو پھر کیا ہو گا؟ کیا لب لہجہ کسی سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے جج کے لئے استعمال کی جا سکتا ہے؟

  • جمہوریت اور نفرت — بلال شوکت آزاد

    جمہوریت اور نفرت — بلال شوکت آزاد

    کوئی مجھ سے پوچھے کہ جمہوریت کی سب سے بڑی خامی کیا ہے؟

    تو میرا جواب ہوگا۔

    نفرت,

    جی بلکل نفرت اس جمہوریت کی وہ بدترین خامی ہے جو پوری شد ومد کے ساتھ اس کا حصہ ہے۔

    وہ کیسے؟

    وہ ایسے کہ جمہوریت, آزادی رائے اور حق خود ارادیت کے سنہرے خوابوں کی آڑھ میں جو انتخاب کا حق تفویض کرتی ہے اسکی بنیاد طرفین میں نفرت کو پروران چڑھانا ہوتا ہے۔

    سادہ الفاظ میں بیان کروں تو جمہور نفرت کے بغیر انتخاب جیسا عمل تکمیل تک نہیں لیکر جاسکتے۔

    چونکہ جمہوریت ہر انسان کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ حکمران بننے کا اہل ہے مگر جمہور کے انتخاب اور طاقت سے تو عوامی رائے تقسیم ہوجاتی ہے۔

    عوامی رائے کا منقسم ہونا, دو امیدواروں میں سے کسی ایک کا نفرت اور حقارت کے نتیجے میں رد ہونا اور دوسرے کا منتخب ہونا ہی دراصل جمہوریت ہے۔

    کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟

    کیا پاکستان کی بیس کروڑ عوام اس وقت اسی جمہوریت کی بدولت منتشر اور ایک دوسرے سے متنفر نہیں؟

    کیا نواز شریف کے ووٹر اور سپورٹر عمران خان اور دیگر متضاد جمہوری لیڈروں, انکی پارٹیوں اور انکے ووٹران و سپورٹران سے شدید متنفر نہیں؟

    کیا عمران خان کے ووٹر اور سپورٹر نواز شریف اور دیگر متضاد جمہوری لیڈروں, انکی پارٹیوں اور انکے ووٹران و سپورٹران سے شدید متنفر نہیں؟

    اسی طرح باقی سیاسی لیڈران اور اور انکے ووٹران و سپورٹران آپس میں سیاسی, جمہوری اور ذاتی بنیادوں پر متنفر نہیں؟

    جب یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ جب تک طرفین ایک دوسرے کے لیئے نفرت اور حقارت دل میں نہیں پالیں گے تب تک جیت انکا مقدر نہیں ہوگی تو پھر کیوں اس نظام کو اتنا سینوں سے لگایا جاتا ہے؟

    کوئی بھی مجھے اس کے رد میں دلیل نہیں دے سکتا؟

    خواہ کتنا ہی مہذب معاشرہ کنگھال لیں جہاں جمہوریت ہوگی وہاں نفرت کا عنصر عوامی سطح پر غالب ہوگا۔

    نواز شریف اور عمران کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    ذرداری اور نواز شریف کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    عمران اور ذرداری کی جنگ جمہوری نہیں نفرتی ہے۔

    غرض ہر سیاستدان جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو ہی فروغ دے رہا ہے۔

    ہر مذہبی لیڈر جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو پروان چڑھا رہا ہے۔

    ہر سیکولر سربراہ جمہوریت کی آڑ میں نفرت کو سہلا رہا ہے۔

    عوام محدود پیمانے کی یکطرفہ محبت میں مبتلا ہوکر میں, میرا اور میرے لیئے کی خاطر نفرتوں میں الجھ کر جمہوریت جمہوریت کھیل رہی ہے مگر دراصل اپنا قومی اور ملی تشخص چند لوگوں کے ذاتی مفادات کی خاطر انکے پاس ہی گروی رکھ کر نفرتوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔

    اس جمہوری نفرت نے خواص و عوام کو دھڑوں میں تقسیم درد تقسیم کردیا ہے۔

    یہاں تک کہ آج ایک ہی گھر کے چار افراد ہوں تو سب کی محبت الگ الگ سیاسی لیڈروں سے منسلک ہوگی اور نفرت کا تو یہ حال ہوگا کہ رشتے بھی اس میں رکاوٹ نہیں ہوتے۔

    بلا تخصیص اور بلا تفریق نفرت فی سبیل ﷲ نے اس قوم کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔

    وجہ صرف یہ جمہوریت ہے۔

    جمہوریت میں انتخاب کا لولی پوپ دیا جاتا ہے جو دراصل کوٹڈ ہوتا ہے۔جیسے جیسے اسکی مٹھاس ماند پڑتی ہے ویسے ویسے نفرت کی کڑواہٹ اپنا اثر دکھانا شروع کردیتی ہے۔

    جمہوریت میں انتخاب بغیر نفرت کے ممکن نہیں اس لیئے جمہوریت کوئی اخلاقی نظام نہیں۔

    نفرت اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

    رہ گئی بات مذہب کی تو مذہب تو جمہوریت کے ویسے ہی خلاف ہے۔

    شاید اسکی یہی وجہ ہے۔

    بہرحال اگر نفرتوں سے دل برادشتہ ہیں تو جمہوریت کا نشہ اتاریں اپنے سروں سے یا پھر اس جمہوریت کی تلاش کریں جو نفرت کی بنیادوں پر استوار نہ ہو۔

  • توہین عدالت کیس: عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نئی درخواست دائر کردی

    توہین عدالت کیس: عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نئی درخواست دائر کردی

    توہین عدالت کیس میں عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نئی درخواست دائر کردی ہے.

    پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان نے توہین عدالت کیس میں تحریری دلائل جمع کرانے کی متفرق درخواست دائر کردی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سو مو ٹو ہائی کورٹ کا اختیار نہیں۔ توہین عدالت کیس ناقابل سماعت ہونے پر دلائل کو ریکارڈ پر رکھا جائے۔ تحریری دلائل کی وضاحت سماعت کے دوران زبانی دلائل میں بھی کی جائے گی۔

    کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ ( چیف جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیر اور جسٹس بابر ستار) کیس کی سماعت کی، عمران خان اس کیس میں آج دوسری بار عدالت کے سامنے پیش ہونے تھے۔ گزشتہ سماعت میں دیئے گئے عدالتی حکم کے تحت عمران خان کی جانب سے آج دوبارہ جواب جمع کرایا گیا ہے.

    اس سے قبل ہونے والی سماعت کا 2 صفحات پر مشتمل عبوری حکم نامے جاری کیا گیا تھا، جس میں لکھا گیا تھا کہ عمران خان کا جواب غیر تسلی بخش ہے، اس لئے شوکاز نوٹس واپس نہیں لے رہے۔ یکم ستمبر کو ہونے والی سماعت میں عدالت کی جانب سے پاکستان بار کونسل، منیر اے ملک اور مخدوم علی خان کو عدالتی معاونین بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    واضح‌ ریے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے رجسٹرار کی رپورٹ پر 22 اگست کو معاملے کا نوٹس لیا تھا، جس کے بعد 23 اگست کو تین رکنی بینچ نے کیس پر پہلی سماعت کی تھی ۔ عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 31 اگست کو طلب کیا گیا تھا۔ عدالت نے معاملے پر لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ دوسری جانب عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کے نوٹس پر جواب داخل کرادیا گیا ہے۔ عمران خان کی جانب سے ایڈووکیٹ حامد خان اور بیرسٹر سلمان صفدر نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس پر جواب جمع کرایا۔

    اپنے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ میں سمجھا تھا کہ زیبا چوہدری جوڈیشل نہیں ایگزیکٹو مجسٹریٹ ہیں، مجھ سے سمجھنے میں غلطی ہوئی، تاہم اپنے جواب میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے بینچ پر اعتراض بھی لگایا گیا۔ پی ٹی آئی کے سربراہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے استدعا کی کہ جن ججوں نے کیس شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی وہ خود کو بینچ سے دستبردار ہونے پر غور کریں، کیونکہ انہوں نے اس معاملے کا پہلے سے فیصلہ کرلیا تھا۔ ساتھ ہی پی ٹی آئی کے سربراہ نے اپنے ساتھی کے بارے میں کہا کہ حکومت شہباز گل کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور انہیں پامال کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

    جواب میں استدلال کیا گیا کہ مدعا علیہ کی طرف سے کوئی توہین نہیں کی گئی اور ڈپٹی رجسٹرار نے 20 اگست کو اسلام آباد کے ایف 9 پارک میں جلسہ عام کے دوران کی گئی تقریر سے چن کر لفظوں کا انتخاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان الفاظ کو سیاق و سباق سے بالکل ہٹ کر لیا گیا اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر یہ تاثر دینے کے لیے چھیڑ دیا گیا کہ گویا مدعا علیہ (عمران خان) قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔

    عمران خان نے 20 اگست کو اسلام آباد میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ دینے والی ایڈیشنل جج زیبا چوہدری کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ آپ کے خلاف کارروائی کریں گے۔ شہباز گل کی گرفتاری اور جسمانی ریمانڈ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ شہباز گل کو جس طرح اٹھایا اور دو دن جو تشدد کیا، اس طرح رکھا جیسا ملک کا کوئی بڑا غدار پکڑا ہو، آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی کو ہم نے نہیں چھوڑنا، ہم نے آپ کے اوپر کیس کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ مجسٹریٹ زیبا صاحبہ آپ بھی تیار ہوجائیں، آپ کے اوپر بھی ہم ایکشن لیں گے، آپ سب کو شرم آنی چاہیے کہ ایک آدمی کو تشدد کیا، کمزور آدمی ملا اسی کو آپ نے یہ کرنا تھا، فضل الرحمان سے جان جاتی ہے۔

    دوسری طرف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے 25 مئی کے لانگ مارچ میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی عبوری ضمانت میں 27 ستمبر تک توسیع کردی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کامران بشاورت مفتی نے توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے کیس میں عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، جس میں وکیل بابر اعوان نے عمران خان کی حاضری سے استثنا کی درخواست دائر کردی۔

    جج نے استفسار کیا کہ عمران خان کب پیش ہو سکتے ہیں؟، کیا عمران خان نے شامل تفتیش ہوئے ہیں؟۔ جس پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ جی بذریعہ کونسل عمران خان شامل تفتیش ہو گئے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے لانگ مارچ میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے کیس میں عمران خان کی عبوری ضمانت میں 27 ستمبر تک توسیع کرتے ہوئے حاضری سے استثنا کی درخواست بھی منظور کرلی۔

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف تھانہ کوہسار میں مقدمہ نمبر 425 درج ہے۔

  • عمران خان نے اپنے دور میں جھوٹ بولنے کے سوا کچھ نہیں کیا، مصدق ملک

    عمران خان نے اپنے دور میں جھوٹ بولنے کے سوا کچھ نہیں کیا، مصدق ملک

    وزیر مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ عمران خان نے اپنے دور میں جھوٹ بولنے کے سوا کچھ نہیں کیا، ملک کو برباد کرنے والے ہی خود کو مسیحا سمجھتے ہیں، جو بھی قانون و آئین توڑے گا پکڑا جائے گا، کسی کو تفتیش کیلئے بلایا جا رہا ہے تو اسے صفائی دینے کیلئے پیش ہونا چاہئے، چار سالوں میں گردشی قرضہ 11 سو ارب روپے سے 25 سو ارب روپے تک اور بجلی کی قیمت ساڑھے 14 روپے سے 24 روپے فی یونٹ تک پہنچا گئے، بلین ٹری سونامی کرپشن کا منصوبہ تھا، بجلی کی قیمت کی ری بیسنگ اڑھائی سال پہلے ہو جاتی تو فیول ایڈجسٹمنٹ کی رقم نہ بنتی، موجودہ حکومت فیول ایڈجسٹمنٹ نہ لے کر عوام کو ریلیف دے رہی ہے، سیلاب متاثرین کیلئے 70 ارب روپے کی فوری منظوری دی گئی ہے، پچھلے سال کے مقابلہ میں رواں سال موسم سرما میں گیس کی صورتحال بہتر ہو گی۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ بدقسمتی یہ ہے کہ ملک کو برباد کرنے والے خود کومسیحا سمجھتے ہیں، 2013ء میں جب مسلم لیگ (ن) نے حکومت سنبھالی تھی تو 13 سے 14 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ معمول تھی، ملک میں بجلی اور گیس کا بحران عروج پر تھا، مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت نے 11 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی اور قطر سے سستی گیس کے معاہدے کئے، اس وقت 2 ارب مکعب فٹ یومیہ گیس کی کمی تھی، ہم نے 1.2 ارب مکعب فٹ ایل این جی کی ری گیسیفیکیشن کے منصوبے لگائے، مسلم لیگ (ن) نے اپنے سابقہ دور میں 8 سے 9 ہزار کلومیٹر سڑکوں کا جال بچھایا اور روزگار کے مواقع پیدا کئے، محمد نواز شریف سی پیک کی صورت میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ملک میں لائے، عمران خان چار سال چور چور کا راگ الاپتے رہے، بجلی کی پیداوار کیلئے کچھ بھی نہ کیا، عمران خان بتائیں کیا اس نے اپنے دور میں ایک میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی؟،

    پی ٹی آئی والے بتائیں کیا انہوں نے اپنے دور میں ایک کلومیٹر سڑک بنائی؟، پی ٹی آئی نے گذشتہ چار سال مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دور کے ترقیاتی منصوبوں کے فیتے کاٹے، بلین ٹری سونامی کرپشن کا منصوبہ تھا، جو کروڑوں درخت لگائے تھے وہ کہاں گئے؟، ہمیں مہنگی بجلی پیدا کرنے کا الزام دیا جاتا تھا لیکن 2018ء میں بجلی کی پیداواری لاگت 10 روپے 40 پیسے فی یونٹ تھی جسے پی ٹی آئی نے چار سال میں 15 روپے 40 پیسے فی یونٹ تک پہنچا دیا، اسی طرح ہمارے دور میں بجلی کی فی یونٹ قیمت 14 روپے 50 پیسے تھی جسے سابق دور میں 23 سے 24 روپے فی یونٹ تک پہنچا دیا، ہمارے دور میں گردشی قرضہ 11 سو ارب روپے تھا،

    عمران خان دور میں گردشی قرضہ 25 سو ارب روپے کی سطح تک پہنچا، عمران خان نے اپنے دور میں جھوٹ بولنے کے سوا کچھ نہ کیا، ان کے دور میں بجلی کے واجبات کی وصولی کم ہو گئی لیکن چوری میں اضافہ ہوا، جب دنیا میں سستی ترین گیس مل رہی تھی تو سابق دور میں کیوں نہ لی گئی؟ شوکت ترین نے آئی ایم ایف معاہدہ ناکام بنانے کیلئے صوبائی وزراء خزانہ کو خط لکھنے کا کہا، یہ ملک کو دیوالیہ کرنے کی کوشش تھی لیکن موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کو مکمل کیا ہے، قطر اور متحدہ عرب امارات نے تین تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا ہے، صرف آئل ریفائنری میں 2 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہو گی،

    عمران خان نے چین، قطر اور امریکہ سمیت سب ممالک پر الزامات لگائے، کشمیر پر ثالثی امریکہ کو دی پھر اسی امریکہ پر سازش کا الزام بھی لگا دیا، سابق دور میں ملک کو معاشی دیوالیہ پن کی دہلیز پر پہنچا دیا گیا، عمران خان کی انا نے ملکی معیشت اور خارجہ پالیسی تباہ کی اور یہی انا آج ان کی بربادی کا سبب بن رہی ہے۔ مصدق ملک نے کہا کہ قانون ان لوگوں کو پکڑے گا جو بغاوت پر اکساتے ہیں، قانون شکنی اور آئین شکنی کرنے والا پکڑا جائے گا، کسی کو تفتیش کیلئے بلایا جا رہا ہے تو اسے صفائی دینے کیلئے پیش ہونا چاہئے لیکن اگر کسی کے غیر ظاہر شدہ اکائونٹس سے 78 کروڑ روپے نکلے ہیں تو اسے بتانا چاہئے کہ یہ رقم کہاں سے آئی اور کس نے وصول کی،

    ایٹمی پروگرام کے مخالف ڈیوڈ فینٹن کو اپنا لابسٹ مقرر کرنے، ملک ریاض سے 450 کنال زمین لے کر 250 ملین ڈالر اسے دینے اور عارف نقوی سے 3 ملین پائونڈ لے کر اسے 250 ارب روپے کا فائدہ پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی، ملک ریاض کے کیس میں تحقیقات ہو رہی ہیں، یہ بات نہیںچلے گی کہ کوئی سمجھے کہ میں طاقتور یا مقبول ہوں اس لئے مجھے کوئی نہیں پکڑ سکتا۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گیس کنکشن پر پابندی سابق حکومت کے دور میں لگائی گئی تھی، اس کے ساتھ ساتھ ایک قانون بھی وہ بنائے گئے، ہم نئی پالیسی لا رہے ہیں تاکہ ملک کے اندر گیس کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ درآمد بھی بڑھائیں، وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو یہ تمام معاملات حل کرنے کی ہدایت کی ہے، رواں سال موسم سرما میں پچھلے سال کے مقابلہ میں گیس کی صورتحال بہتر ہو گی۔

    ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت کی ری بیسنگ اڑھائی سال پہلے کر دی جاتی تو فیول ایڈجسٹمنٹ نہ بنتی، موجودہ حکومت فیول ایڈجسٹمنٹ نہ لے کر لوگوں کو ریلیف دے رہی ہے، سیلاب متاثرین کیلئے وفاقی کابینہ نے 70 ارب روپے کی منظوری دی ہے، وزیراعظم خود بھی متاثرہ علاقوں کے دورے کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کے دکھ درد کو بانٹا جا سکے، سابق حکومت جاتے جاتے عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ کے باوجود ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کر دیں لیکن اس کیلئے کوئی فنڈز مختص نہ کئے اور اس فیصلہ سے ماہانہ 110 سے 120 ارب روپے کا خزانہ کو نقصان ہوا