Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی متحرک ہو گئی ہیں

    بشریٰ بی بی نے پشاور میں رہ کر پی ٹی آئی کی کمان سنبھال لی ہے اور 24 نومبر کو ہونے والے احتجاج بارے اجلاسوں کی صدارت اور ملاقاتیں کرنا شروع کر دی ہیں، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد پشاور پہنچیں، عمران خان کی ہدایات پر وہ متحرک ہوئی ہیں، اطلاعات کے مطابق بشریٰ بی بی نے مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کر دی ہیں اور پارٹی کے تنظیمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔بشریٰ بی بی کا مقصد تحریک انصاف کے کارکنان میں اتحاد اور حوصلہ بحال کرنا ہے۔ پشاور میں ان کے قیام کو تحریک انصاف کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، بشریٰ بی بی کی سرگرمیوں کو سیاسی تجزیہ کار بھی قریب سے دیکھ رہے ہیں اور ان کی پارٹی میں سیاسی انٹری کے حوالہ سے مختلف تجزیات کر رہے ہیں جس میں کہا جا رہا ہے کہ موروثی سیاست کے خاتمے کے دعویدار عمران خان نے پارٹی قیادت بشریٰ بی بی کو سونپ دی ہے

    پشاور میںبشریٰ بی بی نے انصاف اسٹوڈنٹس اور یوتھ لیڈرز کے ساتھ ملاقات کی ہے،ملاقات میں مینا خان، شاہد خٹک اور سہیل آفریدی شریک تھے،بشریٰ بی بی نے ملاقات میں بانی پی ٹی آئی کا پیغام انصاف اسٹوڈنٹس اور یوتھ لیڈرز کو پہنچایا،اس موقع پر بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی نوجوانوں سے بہت توقعات ہیں، وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں پی ٹی آئی ہزارہ، ملاکنڈ اور بلوچستان کے عہدیداروں کے اجلاس ہوئے، تمام اجلاسوں میں بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے بات چیت کی اور خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں ،عہدیداروں کو اہم ہدایات دیں،

    بشریٰ بی بی کی پشاور موجودگی کی وجہ سے وزیراعلیٰ ہاؤس خیبر بختونخوا ہاؤس پی ٹی آئی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا، 24 نومبر کے احتجاج کی تیاریاں جاری ہیں،بشریٰ بی بی آج بھی پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کریں گی اور اہم ہدایات دیں گی،

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    علیمہ خان نے بشریٰ بی بی کے انتشارکو بےنقاب کیا،عطا تارڑ

    بشریٰ بی بی ڈس انفارمیشن سیل چلا رہی، علیمہ خان کا اعتراف

  • پاکستانی حکومت کا عمران خان کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا ارادہ نہیں، برطانوی وزیر خارجہ

    پاکستانی حکومت کا عمران خان کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا ارادہ نہیں، برطانوی وزیر خارجہ

    لندن: برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے اس بات کے کوئی حالیہ اشارے نہیں ملے ہیں کہ وہ سابق وزیر اعظم اورپی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی وزیر برائے خارجہ، دولت مشترکہ اور ترقیاتی امور نے یہ بات کم جانسن کے خط کے جواب میں کہی جو انہوں نے عمران خان کے مشیر برائے بین الاقوامی امور زلفی بخاری کی درخواست پر برطانوی حکومت کو لکھا تھا زلفی بخاری نے ایک ماہ قبل تمام جماعتوں کے 20 ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے برطانوی حکومت کے لیے ایک خط لکھا تھا، جس میں عدلیہ میں تبدیلیوں اور 26 ویں ترمیم کی منظوری کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

    جس پر برطانوی ممبر پارلیمنٹ نے خط میں لکھا تھا کہ ’برطانوی ممبران پارلیمنٹ کو عمران خان سمیت عام شہریوں کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے فوجی عدالتوں کے ممکنہ استعمال پر تشویش ہے کیونکہ فوجی عدالتوں میں شفافیت اور آزادانہ جانچ پڑتال کا فقدان ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی طور پر انصاف کے معیار کی تعمیل کا اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے۔

    ڈیوڈ لیمی کے نام خط پر دستخط کرنے والوں میں جانسن ایم پی، پاولا بارکر ایم پی، اپسانا بیگم، لیام بائرن، روزی ڈوفیلڈ، گل فرنس، پاؤلیٹ ہیملٹن، پیٹر لیمب، اینڈی میکڈونلڈ، ابتسام محمد، بیل ریبیرو ایڈی، زارا سلطانہ، اسٹیو ویدرڈن، نادیہ وٹوم، بیرونس جون بیکویل، بیرونس جان بیکویل، بیرونس کرسٹین بلور، لارڈ پیٹر ہین، لارڈ جان ہینڈی اور لارڈ ٹوڈونفیل شامل ہیں۔

    اس خط کے جواب میں برطانوی وزیر خارجہ نے لکھا کہ ہمیں پاکستانی حکام کی جانب سے ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں کہ وہ عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اگرچہ پاکستان کا عدالتی نظام داخلی معاملہ ہے لیکن ہم بہت واضح رہے ہیں کہ پاکستانی حکام کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق اور بنیادی انسانی آزادیوں کے احترام کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت پر زور دیں، جس میں منصفانہ ٹرائل کا حق، مناسب طریقہ کار اور حراست جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اس کا اطلاق عمران خان پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ پاکستان کے تمام شہریوں پر ہوتا ہے۔

    ڈیوڈ لیمی نے جواب میں لکھا کہ آپ کی طرح میں بھی اظہار رائے اور شخصی آزادیوں پر پابندیوں کے بارے میں فکرمند ہوں، برطانوی حکومت پاکستانی حکام کے ساتھ اپنے رابطوں میں اس بات پر زور دیتے رہتے ہیں کہ سنسرشپ، ڈرانے دھمکانے یا غیر ضروری پابندیوں کے بغیر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی جمہوریت میں انتہائی اہم حیثیت رکھتی ہے، ایف سی ڈی او (فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس) کے وزیر برائے پاکستان فالکنر نے پاکستان کے وزیر برائے انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ کے سامنے شہری اور سیاسی حقوق کو مدنظر رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر فالکنر اس سال کے آخر میں پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں اور میں نے ان سے کہا ہے کہ وہ واپسی پر آپ اور دیگر دلچسپی رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ سے ملاقات کا انتظام کریں، جہاں تک پاکستان کی آئینی ترامیم کا تعلق ہے تو ہمارے علم میں ہے کہ یہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے اکتوبر میں منظور کی تھیں اگرچہ پاکستان کے آئین میں کوئی بھی ترمیم پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، لیکن ہم واضح رہے ہیں کہ ایک آزاد عدلیہ، جو دیگر ریاستی اداروں پر چیک اور بیلنس رکھنے کا اختیار رکھتی ہو ، ایک فعال جمہوریت کے لیے اہم ہے، اس حوالے سے برطانیہ اپنے مشترکہ مفادات کے دائرے میں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

  • 46 امریکی اراکین کانگریس کا عمران کی حمایت میں خط،اندرونی معاملات میں مداخلت

    46 امریکی اراکین کانگریس کا عمران کی حمایت میں خط،اندرونی معاملات میں مداخلت

    تحریک انصاف کے امریکی حمایتیوں کا ایک اور یوٹرن: "امریکی مداخلت نامنظور” سے "امریکی عدم مداخلت نامنظور” تک کا حیرت انگیز سفر ،طے کر لیا

    امریکی کانگریس کے 46 اراکین نےعمران خان کی حمایت میں ایک اور خط لکھ دیا،عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر دیا، اس سے قبل 60 اراکین جو بائیڈن انتظامیہ کو خط لکھ چکے ہیں جن میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکن اراکین دونوں شامل ہیں۔تحریک انصاف کے چند امریکی حمایتیوں نے ایک بار پھر قومی مفاد کو نظرانداز کرتے ہوئے سیاسی مفادات کو ترجیح دی ہے۔ حال ہی میں 46 امریکی کانگریس اراکین نے صدر جو بائیڈن کو ایک خط لکھا ہے، جو مختلف سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ خط میں تحریک انصاف کے لیے امریکی اثر و رسوخ استعمال کرنے کی درخواست کی گئی ہے، لیکن پاکستان کے اصل مسائل، جیسے کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم، دہشت گردی، یا معاشی مدد کی ضرورت کا کوئی ذکر نہیں۔اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ حمایتی واقعی بااثر ہیں یا کہانی کچھ اور ہے؟

    خط میں پاکستان کے اندرونی معاملات، خاص طور پر انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر زور دیا گیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی تحریک انصاف نے "غلامی نامنظور” کے نعرے کے ساتھ امریکی مداخلت کی سخت مخالفت کی تھی۔خط میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور سفیر کے کردار پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، اور ان کے رویے میں تبدیلی کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔

    ماضی میں عمران خان اور تحریک انصاف نے امریکی سفارت خانے کی سرگرمیوں کے خلاف سخت بیانیہ اپنایا تھا۔ لیکن اب یہی جماعت امریکی مداخلت کی کھل کر درخواست کر رہی ہے، جس سے ان کے بیانیے کی ساکھ پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنی تھی، تو کشمیری عوام کے حق میں کبھی کوئی خط کیوں نہیں لکھوایا گیا؟کیا تحریک انصاف کے حمایتی صرف اپنی جماعت کے مفاد میں امریکی اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہتے ہیں؟کیا تحریک انصاف کی یہ حکمت عملی سیاسی مفادات کو ترجیح دینے کی واضح مثال نہیں؟

    تحریک انصاف کے حمایتیوں کی یہ پالیسی ان کے اپنے بیانیے سے متصادم ہے۔ "غلامی نامنظور” اور "امریکی مداخلت نامنظور” کے نعروں سے شروع ہونے والا سفر اب "امریکی عدم مداخلت نامنظور” کے مطالبے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف تحریک انصاف کی پالیسیوں کی غیر مستقل مزاجی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ان کی سیاسی حکمت عملی پر بھی کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر آمنہ امان کہتی ہیں کہ امریکی کانگریس کے 46 اراکین کا صدر بائیڈن کو عمران خان کی رہائی کے لیے خط لکھنا غیر ملکی مداخلت کی دعوت دینا ہے۔ اس کے پیچھے صیہونی اور بھارتی لابی کی مشترکہ کوشش واضح طور پر جھلکتی ہے۔ ان میں سے اکثر اراکین جیسا کے بریڈشرمن اسرائیلی لابی اے آئی پی اے سی اور ہاؤس انڈیا کاکس کے ساتھ وابستہ ہیں، جو امریکہ کے اندر مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہیں۔ یہ عناصر پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے ذریعے ایک ایسے رہنما کو اقتدار میں واپس لانے کے خواہاں ہیں جو ان کے مفادات کو پورا کر سکے۔ ان کوششوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لابیز پاکستانی خودمختاری کو پس پشت ڈال کر اپنے سیاسی اور جغرافیائی عزائم کو تقویت دینا چاہتی ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف پاکستان کے داخلی معاملات میں غیر ضروری مداخلت ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی ہے۔ہاؤس انڈیا کاکس کا چیئرمین روکھنہ عمران خان کا قریبی دوست ہے جو اس کی رہائی کے لیے کافی سرگرم ہے

    https://twitter.com/Amna__Aman/status/1857760712531062893

    امریکی کانگریس اراکین کا عمران کی رہائی بارے خط،پاکستانی اراکین پارلیمنٹ بھی متحرک

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    جمائما گولڈ اسمتھ کا عمران خان کے بارے بیان،خواجہ آصف کا شدید ردعمل

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

    اسرائیلی پیسہ استعمال کرکے عمران خان کورہاکرانےکی کوشش ہورہی ،شرجیل میمن
    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ مریکی ارکان کانگریس سے خط لکھوانا گولڈ اسمتھ فیملی کی ہی کارستانی ہے ، اسرائیلی پیسہ استعمال کرکے عمران خان کورہاکرانےکی کوشش ہورہی ہے،ارکان کانگریس سےبائیڈن کو خط کس نے لکھوایا اور کیا مقصد ہے سب جانتےہیں ، کیاامریکی ارکان کانگریس نےفلسطین اورکشمیرکی صورتحال پرکبھی خط لکھا؟ امریکا میں لابسٹ کو ہائر کیاگیاہےتاکہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئےدباؤڈالاجائے، پاکستان میں پی ٹی آئی کی فنڈنگ کے کروڑوں امریکا میں لابسٹ پرخرچ ہورہےہیں، عالمی لابسٹ کو ہائرکیا جارہا ہےتاکہ پاکستان کے اندرونی معاملےمیں مداخلت کریں،پی ٹی آئی کاایک ہی ایجنڈاہےکہ حکومت پر دباؤ ڈال کر بانی کو رہا کرائیں، عدم اعتماد کےوقت پی ٹی آئی کہتی تھی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور ہم غلام نہیں ، پی ٹی آئی نے امریکا پرہی اپنی حکومت گرانے کی سازش کاالزام لگایا تھا اور آج پی ٹی آئی لابسٹ کےذریعے اُس ہی امریکی حکومت کوخط لکھوا رہی ہے، امریکی ارکان کانگریس سے خط لکھوانا گولڈ اسمتھ فیملی کی ہی کارستانی ہے، گولڈ اسمتھ فیملی اسرائیل کی لابسٹ ہے،بانی پی ٹی آئی پاکستان میں اسرائیل کا اثاثہ ہے، اسرائیلی جریدوں میں آرٹیکلز ہیں کہ پاکستان میں بانی ہی اسرائیل کو سوٹ کرتا ہے، خط وہ لکھوا رہے ہیں جن کا ایجنڈا ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے، ڈاکٹر اسرار نے 20، 25سال پہلے ہی بانی پی ٹی آئی سےمتعلق بتا دیاتھا۔ اسرائیلی پیسہ استعمال کرکے بانی کو رہا کرانے کی کوشش ہورہی ہے، بانی اپنے دور میں سیاسی مخالفین کےخلاف نیب کو استعمال کرتےتھے،اس وقت خط کہاں تھے؟ اگریہ پاکستانی لابسٹ ہوتے تو کیا کشمیرکیلئے کبھی خط نہیں لکھواتے؟ پی ٹی آئی بانی کی رہائی کےون پوائنٹ ایجنڈےکیلئے ہر حد تک جائے گی، بانی پی ٹی آئی پاکستان میں اسرائیل کا اسٹرٹیجک اثاثہ ہے، بانی کی رہائی کیلئےپی ٹی آئی کی طرف سے حیران کن چیزیں ابھی مزیدسامنےآئیں گی۔

    امریکی ارکان کانگریس کا خط پاکستان کے سیاسی نظام اورعدلیہ کی خودمختاری کو چیلنج کرتا ہے،شیری رحمان
    پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ امریکی ارکان کانگریس کا خط پاکستان کے داخلی معاملات میں واضح مداخلت ہے ،ارکان کانگریس کا بائیڈن کو خط حقیقی آزادی کے بیانیے کے تابوت میں ایک اور کیل ہے، کسی بھی دوسرے ملک کے سیاسی و قانونی معاملات میں مداخلت عالمی اصولوں کے خلاف ہے،امریکی ارکان کانگریس کا خط پاکستان کے سیاسی نظام اورعدلیہ کی خودمختاری کو چیلنج کرتا ہے، کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کو جائز سمجھنا خطرناک مثال قائم کرتا ہے،پی ٹی آئی کی امریکا میں پاکستان کے خلاف لابنگ کی کوششیں بھی قابل مذمت ہیں، یہ وہی سیاسی جماعت ہے جو ماضی میں امریکی مداخلت پر بیانیہ بناکرسیاست کرتی رہی، پی ٹی آئی کی جانب سے خود اسی طرح کی مداخلت کا سہارا لینا دہرا معیار ہے۔صدر آصف علی زرداری نے 12 سال جیل میں گزارے، انہوں نے کبھی بیرونی لابی فرمز کو ایسی درخواستیں لکھنے کے لیے استعمال نہیں کیا، ملکی سیاسی جماعتیں مسائل، قانونی جدوجہد کے لیے ملکی اداروں پر ہی اعتماد رکھتی ہیں۔

  • سنبھلتی معیشت پی ٹی آئی کو نہ”بھائی”عمران خان کی ایک بار پھر انتشار کی کوشش

    سنبھلتی معیشت پی ٹی آئی کو نہ”بھائی”عمران خان کی ایک بار پھر انتشار کی کوشش

    پاکستان بڑی مشکل سے سنبھلا ہے، لیکن ایک بار پھر انتشار کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ عمران خان، جنہیں ماضی میں بھی اسلام آباد کو سیاسی تجربات کا مرکز بنانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، اب 190 ملین پاؤنڈ کیس اور 9 مئی کیس کے آخری مراحل میں داخل ہونے پر شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعت کے باقی ماندہ افراد کو قربانی کا بکرا بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    پشاور میں بشریٰ بی بی کی ارکان اسمبلی کو دھمکیاں، جس میں انہوں نے کہا کہ ہزاروں افراد کو انتشار کے لئے نہیں لے کر آئیں گےتو پارٹی میں جگہ نہیں ہو گی،عمران خان اور بشریٰ بی بی کی شدید مایوسی اور پریشانی کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ ان کی جماعت جھوٹے پراپیگنڈے، دھمکیوں، اور مالی وسائل کے ذریعے عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ان کے غیر ملکی مفادات پورے ہو سکیں۔

    عمران خان کے وہ بیانات جن میں انہوں نے ملک کی تباہی کو اپنے اقتدار سے مشروط کیا، ان کے عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے لاکھوں شہری بارہا ان کی اقتدار کی خواہش کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ حکومتی اقدامات، جیسے کنٹینرز لگا کر راستے بند کرنا اور موبائل سروس معطل کرنا، شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔اس دوران عام آدمی کے مسائل جیسے روزگار، بیماروں کی ہسپتال تک رسائی، اور اشیائے خوراک کی ترسیل بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ اگر 24 نومبر کے قریب بھی ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو ذمہ دار وہی لوگ ہوں گے، جو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے عوام کو مشکلات میں ڈال رہے ہیں۔اور حکومت کو انتہائی اقدام پر مجبور کرتے ہیں، 24 نومبر کے قریب حکومت انتشاریوں کو روکنے کے لیے ممکنہ اقدامات کرے گی، شہریوں کو آنے والی مشکلات کا ذمہ دار اڈیالہ میں قید مجرم عمران خان اور اسکے ملکی اور غیر ملکی سرپرست ہوں گی

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

  • جی ایچ کیو حملہ کیس ، عمران خان پر فرد جرم تیسری بار ٹل گئی

    جی ایچ کیو حملہ کیس ، عمران خان پر فرد جرم تیسری بار ٹل گئی

    سانحہ 9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت میں جاری ہے، تاہم بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر پر فرد جرم تیسری بار بھی ٹل گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کے روبرو شیخ رشید احمد، امجد خان نیازی، عمر تنویر بٹ، واثق قیوم، میجر طاہر صادق، عمر ایوب و دیگر کے وکلا نے اپنے دلائل دیے۔اس موقع پر پراسیکیوٹرز نے وکالت ناموں کے بغیر دلائل دینے پر اعتراض کرتے ہوئے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ صرف وہی وکلا دلائل دیں جنہوں نے وکالت نامے داخل کروا رکھے ہیں۔ پبلک پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے کہا کہ مقدمے میں نامزد 102 ملزمان کے وکلا کے وکالت نامے ہی نہیں۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت ملزمان کے کیسز کی پیروی کے لیے اسٹیٹ کونسل مقرر کرے۔علاوہ ازیں شیریں مزاری اور شکیل نیازی و دیگر کے وکلا نے بھی اپنے دلائل مکمل کرلیے، جس کے بعد پراسیکیوشن کی جانب سے دلائل دیے گئے۔عدالت نے سرکاری وکلا کو شیخ رشید، شیریں مزاری، امجد نیازی و دیگر کی بریت کی درخواستوں پر آج ہی دلائل دینے کا حکم دیا جب کہ پیش ہونے والے تمام ملزمان کو حاضری کے بعد جانے کی اجازت دے دی۔بعد ازاں عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں پیش نہ ہونے والے ملزمان کو چالان کی اضافی نقول تقسیم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 25 نومبر تک ملتوی کر دی۔ آئندہ تاریخ پر سرکاری وکلا بریت کی درخواستوں پر جوابی دلائل دیں گے۔سماعت سے قبل عدالت نے شاہ محمود قریشی کو بھی لاہور سے طلب کیا گیا تھا۔ ان کے علاوہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو بھی فرد جرم کے لیے عدالت نے طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا۔واضح رہے کہ آج ہونے والی سانحہ 9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت میں بانی پی ٹی آئی سمیت تمام 125 ملزمان پر فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان تھا۔ پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فرد جرم عائد کیے جانے کی کارروائی کے لیے آج میں آیا ہوں۔ عدالت میں پیش ہوا ہوں، پچھلی دفعہ بھی پیش ہوا تھا۔ 24 نومبر کے حوالے سے ہماری تیاریاں جاری ہیں، احتجاج کریں گے اور ضرور کریں گے۔

    آسٹریلیا کا پاکستان کے خلاف جارحانہ آغاز

    قلات میں دہشت گردوں کا حملہ، 7 سیکیورٹی اہلکار شہید

    برطانیہ سے آئے شخص کے قتل میں بیوی ملوث نکلی

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے لیے شاہ محمود کو عدالت پہنچا دیا گیا

  • ڈیل نہ ڈھیل،فوج کا عمران خان کو جواب، برطانوی اخبار

    ڈیل نہ ڈھیل،فوج کا عمران خان کو جواب، برطانوی اخبار

    پاکستان کی فوج کے سینئر ذرائع نے گارڈین کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات یا ڈیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، یہ بات اس وقت سامنے آئی جب عمران خان نے کہا کہ وہ جیل سے فوجی قیادت سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    عمران خان، جو اس وقت پاکستان کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، گارڈین نے ان کی قانونی ٹیم کے ذریعے سوالات ارسال کیے تھے۔جس کے عمران خان نے جواب دیئے، عمران خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی گرفتاری اور اگست 2022 میں جیل جانے کے بعد سے فوج کے ساتھ کوئی ذاتی بات چیت نہیں کی۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان کے طاقتور فوجی ادارے کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کرنے سے انکار نہیں کرتے، حالانکہ ماضی میں انہوں نے فوج کو اپنی حکومت گرانے اور قید میں ڈالنے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

    عمران خان نے گارڈین کو بتایا، "فوج کے ساتھ کسی ڈیل کا معاملہ اصولوں پر مبنی ہوگا اور عوام کے مفاد میں ہوگا، نہ کہ ذاتی فائدے یا ان سمجھوتوں پر جو پاکستان کی جمہوری اقدار کو نقصان پہنچائیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ "اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر جیل میں زندگی گزارنے کو ترجیح دیں گے۔”

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمران خان، 2018 میں فوج کی حمایت سے اقتدار میں آئے تھے، کیونکہ پاکستانی سیاست میں فوج ہمیشہ سے ایک طاقتور کھلاڑی سمجھی جاتی ہے ،عمران خان کے فوجی قیادت کے ساتھ تعلقات 2022 میں ٹوٹ گئے تھے، جس کے بعد وہ اقتدار سے ہٹ گئے تھے اور پھر فوج پر اپنی حکومت کے خاتمے اور گرفتاری میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ ا

    عمران خان اس وقت درجنوں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جنہیں وہ فوج اور سیاسی حریفوں کا منصوبہ قرار دیتے ہیں۔ جون میں اقوام متحدہ کی ورکنگ گروپ برائے غیرقانونی حراست نے کہا تھا کہ خان کی حراست غیرقانونی ہے۔

    تاہم، جیل میں اپنے وقت کے دوران عمران خان کا فوجی قیادت کے لئےلہجہ نرم پڑا ہے۔ جولائی میں عمران خان نے فوج کے ساتھ "مشروط” بات چیت کرنے کی پیشکش کی تھی، بشرطیکہ وہ "صاف اور شفاف” انتخابات کرانے پر رضا مند ہوں۔ عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 2023 کے فروری کے انتخابات کو غیر شفاف قرار دیتے ہوئے ان میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں، اور یہ دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے عوامی ووٹ سے انتخابات جیتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، حالیہ مہینوں میں عمران خان نے فوج کے ساتھ بات چیت کے لیے اور اپنی رہائی کے لیے "غیر مشروط” مذاکرات کی پیشکش کی تھی، تاہم فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ خان کو اپنے مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا اور فوج کسی قسم کی ڈیل یا مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔

    ایک فوجی ذرائع نے کہا، ” عمران خان کو اپنے مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا، وہ فوج سے کسی قسم کی ڈیل کی توقع نہیں کر سکتے۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ سب لوگ قانون کے تحت عمل کریں، لیکن وہ خود اس قانون کا اطلاق اپنے لیے نہیں چاہتے۔”

    موجودہ حکومت، جو کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں ایک اتحادی حکومت ہے، کو فوج کی حمایت حاصل ہے۔ حالیہ مہینوں میں انہوں نے فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں پانچ سال کی توسیع اور سپریم کورٹ کے حوالے سے بعض آئینی ترامیم کی ہیں، جسے پی ٹی آئی نے فوج کے ایجنڈے کی تکمیل اور خان کی رہائی کی راہ روکنے کے لیے قرار دیا ہے۔

    اس دوران عمران خان نے حکومت کے اقدامات اور انتخابات میں دھاندلی کے خلاف 24 نومبر کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کی ایک "آخری کال” دی ہے۔ پی ٹی آئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ایک مسلسل کریک ڈاؤن کا سامنا ہے اور پارٹی کی بیشتر قیادت جیل یا جلاوطن ہو چکی ہے۔حکومت ابھی تک یہ واضح نہیں کر سکی کہ عمران خان کو کسی فوجی عدالت میں لے جایا جائے گا یا نہیں، جہاں ان پر رشوت ستانی اور دہشت گردی جیسے سنگین الزامات عائد ہیں۔ عمران خان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایک سابق وزیر اعظم کو فوجی عدالت میں پیش کرنا مضحکہ خیز ہے۔

    عمران خان نے کہا، "کسی بھی سول فرد کو فوجی عدالت میں کیوں پیش کیا جائے، خاص طور پر ایک سابق وزیر اعظم کو؟ یہ مضحکہ خیز ہے۔ فوجی عدالت میں کسی شہری کو مقدمہ چلانے کی واحد وجہ یہ ہے کہ کوئی اور عدالت مجھے سزا نہیں دے سکتی۔”

    عمران خان کی جیل کی حالت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ، ان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو انفرادی حراست میں رکھا جا رہا ہے اور انہیں اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ حکومت نے اس الزام کی تردید کی ہے،تاہم عمران خان نے اس بات کی تردید کی کہ انہیں کوئی خصوصی سہولت فراہم کی گئی ہے اور کہا کہ انہیں ان حالات میں رکھا جا رہا ہے جو انہیں ذہنی طور پر توڑنے اور ان کا حوصلہ پست کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ 15 دن تک، میری کسی سے ملاقات نہیں کروائی گئی سیل میں بجلی نہیں تھی اور بغیر رسائی کے 24 گھنٹے لاک اپ میں رکھا گیا تھا۔

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

  • بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

    عمران خان کی تحریک انصاف پر کس کا قبضہ ہو گا ؟ بشریٰ بی بی اور علیمہ خان میں جنگ چھڑ گئی،

    موروثی سیاست کے خلاف کام کرنے والے عمران خان نے تصدیق کر دی کہ بشریٰ بی بی پارٹی رہنماؤں کو میرا پیغام پہنچائیں گی،بشریٰ بی بی پشاور میں مقیم ہیں، اور انہوں نے مشاورت اجلاس میں علیمہ خان کے قریبی افراد کو مدعو نہیں کیا،جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے آپسی اختلافات جو کئی ماہ سے چل رہے تھے شدت اختیار کر چکے ہیں، علیمہ خان نے 24 نومبر کو احتجاج کی کال کا اعلان کیا جو بشریٰ بی بی کو نہ بھایا ، بشریٰ بی بی نے علیمہ خان کے احتجاج کی کال کے بعد پارٹی رہنماؤں کو پشاور بلا لیا لیکن علیمہ خان کے قریب رہنے والے افراد کو نظر انداز کیا گیاہے.

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بیوی بشریٰ بی بی اور ان کی بہن علیمہ خان کے درمیان پارٹی پر قبضے کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ دونوں خواتین کی سیاسی اثر و رسوخ اور فیصلہ سازی میں بڑھتی ہوئی مداخلت نے پارٹی کے اندرونی معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔پارٹی کی مرکزی قیادت اس وقت پریشان ہے کہ کس کا ساتھ دیا جائے ایک طرف عمران خان کی بہن تو دوسری طرف بیوی ہے،بیرسٹر گوہر سے لے کراسد قیصر،عمر ایوب سب پریشان ہیں کہ اس صورتحال میں کیا فیصلہ کیا جائے،ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے درمیان اختلافات حالیہ مہینوں میں بڑھ گئے ہیں، جس کی وجہ سے تحریک انصاف کے اندر ایک طاقتور گروپ تشکیل پا چکا ہے۔ بشریٰ بی بی کو عمران خان کی سیاسی مشیر کے طور پر جانا جاتا ہے جبکہ علیمہ خان کی سیاسی سرگرمیاں بھی کئی اہم فیصلوں میں نظر آتی ہیں،علیمہ خان نے گزشتہ دنوں بھی احتجاج کو لیڈ کیا تھا جب پارٹی رہنما نہیں نکلے تھے اور علیمہ خان کو گرفتار کر لیا گیا تھا،

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، بشریٰ بی بی اور علیمہ خان دونوں خواتین کی سیاسی سرگرمیاں ایک نئی نوعیت کی سیاسی چپقلش کا باعث بن رہی ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کا اثر و رسوخ عمران خان کے قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ ہے جبکہ علیمہ خان نے ہمیشہ اپنی سیاسی طاقت کو عوامی سطح پر ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق، دونوں خواتین کے اختلافات نے تحریک انصاف میں دراڑیں ڈال دی ہیں، اس تمام صورتحال کے باوجود، عمران خان نے اپنے اہل خانہ کے درمیان اختلافات کو کم کرنے کے لئے کسی بھی عوامی بیان دینے سے گریز کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر یہ اختلافات مزید شدت اختیار کرتے ہیں تو پاکستان تحریک انصاف کے لئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر قیادت کی جنگ بھی جاری رہ سکتی ہے، جو عمران خان کی سیاسی حکمت عملی کو متاثر کر سکتی ہے۔

    علیمہ خان نے بشریٰ بی بی کے انتشارکو بےنقاب کیا،عطا تارڑ

    بشریٰ بی بی ڈس انفارمیشن سیل چلا رہی، علیمہ خان کا اعتراف

    تفتیشی افسر نے علیمہ خان سے فون نمبر مانگ لیا

    ہمیں علیمہ خان نہیں بلکہ عمران خان کو فالو کرنا ہے،علی امین گنڈا پور

    جج کے پیچھے پولیس کھڑی ہوتی تا کہ جج کو ڈرایا جائے،علیمہ خان

    جس کیس سے متعلق کوئی بات نہ کر سکیں اس پر کیا کہیں،علیمہ خان

    شیر افضل مروت کی لاٹری نکل آئی، نواز کا دکھڑا،علیمہ کی پنکی سے چھیڑچھاڑ

    پی ٹی آئی چیئرمین کیسا ہو، بشریٰ بی بی جیسا ہو،علیمہ باجی کا پارٹی پر قبضہ نامنظور ،نعرے لگ گئے

  • بشریٰ میرا پیغام پہنچائیں گی،عمران خان کی تصدیق

    بشریٰ میرا پیغام پہنچائیں گی،عمران خان کی تصدیق

    سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کی پارٹی مشاورت میں شامل ہونے کی تصدیق کر دی

    عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی کی پارٹی مشاو رت میں شمولیت کے حوالہ سے عمران خان کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی سیاست میں حصہ نہیں لے رہیں اور نہ ہی سیاست میں حصہ لیں گی تاہم عمران خان سے پارٹی رہنماؤں کو ملاقات کی اجازت نہیں مل رہی تو کسی نے تو ان کا پیغام پہنچانا ہے،بشریٰ بی بی پارٹی رہنماؤں کو پیغام دیں گی

    عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی جو رہا چکی ہیں اور آج کل پشاور میں مقیم ہیں نے گزشتہ روز پشاور سے ملک بھر کی تنظیم کو احکامات جاری کیے تھے، بشریٰ بی بی نے آج شام پارٹی رہنماؤں کو پشاور میں ملاقات کے لیے بلایا ہے،پنجاب کے اراکین اسمبلی کو بھی پشاور بلایا گیا ہے تاہم بشریٰ بی بی نے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے قریب رہنے والے رہنماؤں کو ملاقات کے لیے نہیں بلایا، بشریٰ بی بی نے علیمہ خان کے قریبی سیاسی رہنماوں کو آج پارٹی مشاورت میں شرکت کےلئے بھی دعوت نہیں دی،

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ اگر بیوی اپنے خاوند کے لیے احتجاج میں شرکت کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سیاست میں آ گئی ہے اگر بہن اپنے بھائی کے لیے احتجاج میں شرکت کرتی ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ سیاست میں آ گئی ہیں ۔

    دوسری جانب عمران خان کی جانب سے جاری پیغام میں عمران خان نے کہا ہے کہ ایک سال مجھے اور میری اہلیہ کو جیل میں رکھنے کے بعد ہائی کورٹ میں پراسیکیوٹر جنرل نے خود اعتراف کر لیا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں مس ٹرائل ہوا اور اس دوران انصاف کے تقاضوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ یہ اعتراف ریاست پر قابض مافیا کی جانب سے نیب کے ذریعے سیاسی انتقام کا اعتراف اور ہمارے نظام انصاف پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس اعتراف کے بعد میں چئیرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اور تفتیشی افسران اور متعلقہ ججز کے استعفوں کا مطالبہ کرتا ہوں۔ قابض مافیا کی ایما پر ملک کے مقبول ترین لیڈر کے مِس ٹرائل پر ان کے خلاف تادیبی کاروائی ہونی چاہیے۔مجھے 5 جھوٹے کیسز میں ایسے ہی مضحکہ خیز انداز میں سزائیں دلوائی گئیں اور مزید 2 جھوٹے ٹرائل اسی سپیڈ سے چلائے جا رہے ہیں تاکہ مجھے حقیقی آزادی کی تحریک سے پیچھے ہٹا سکیں لیکن میں اپنے خون کے آخری قطرے تک پاکستانیوں کی حقیقی آزادی کی جنگ جاری رکھوں گا،26ویں آئینی ترمیم کے بعد سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو کینگرو کورٹس بنا دیا گیا ہے، اور اب ان کی حیثیت سرکاری محکموں سے زیادہ نہیں رہی۔ عدلیہ کی طاقت کو سلب کر لینے سے ملک میں انصاف کا نظام جو پہلے ہی مخدوش تھا، بالکل ٹھپ ہو جائے گا۔ کہا جاتا ہے جمہوریت خطرے میں ہے، ملک میں جمہوریت ہے کہاں؟ جمہوریت کا مطلب تو آزادی، قانون کی حاکمیت اور انصاف کی آزادانہ فراہمی ہوتا ہے۔ ملک میں جمہوریت کا قتل کر دیا گیا ہے۔
    ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیا گیا ہےاسی لیے پاکستانی قوم کو کال دے رہا ہوں کہ یہی وقت ہے، 24 نومبر کو نہ صرف خود نکلیں بلکہ ہر فرد ذمہ داری لے کر لوگوں کو بڑے پیمانے پر متحرک کرنے کی تحریک چلائے۔ اس تحریک سے حقیقی آزادی کا خواب پورا ہو گا ورنہ زندگی بھر کی غلامی قوم کا مقدر بن جائے گی۔

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • 190ملین پاؤنڈ ریفرنس،کاروائی آج بھی آگے نہ بڑھ سکی

    190ملین پاؤنڈ ریفرنس،کاروائی آج بھی آگے نہ بڑھ سکی

    اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی،

    احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے ریفرنس پر سماعت کی، بشریٰ بی بی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی جو عدالت نے منظور کر لی ،عمران خان کو عدالت پیش کیا گیا، دوران سماعت وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ پہلے ملزمان کی بریت پر ٹرائل کورٹ فیصلہ کرے۔ احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے ابھی تک کوئی حکم نامہ موصول نہیں ہوا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ تحریری طور پر کہہ رہے ہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے حکم دیا گیا تھا،نیب پراسیکوٹر نے کہا کہ جن وکلاء نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دلائل دیے انہی کی جانب سے تحریری طور پر آگاہ کیا جانا چاہیے تھا، اگر وکلاء تحریری طور پر عدالت کو دے رہے ہیں تو عدالت اس معاملے کو دیکھ لے، عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر سماعت 18 نومبر تک ملتوی کردی۔

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

  • بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی بریت درخواست خارج کا تفصیلی آرڈر جاری

    بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی بریت درخواست خارج کا تفصیلی آرڈر جاری

    اسلام آباد: اسپیشل جج سنٹرل نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی بریت درخواست خارج کا تفصیلی آرڈر جاری کردیا-

    باغی ٹ وی : اسپیشل جج سنٹرل شاہ رخ ارجمند کی جانب سے جاری 5 صفحات پر مشتمل تفصیلی آرڈر میں لکھا گیا ہے کہ درخواست گزاروں پر الزام ہے انہوں نے 2021 میں سعودی عرب کے ولی عہد سے بلغاری جیولری سیٹ وصول کیا، جیولری سیٹ میں بریسلیٹ، انگوٹھی، جھمکے اور نیکلیس شامل تھے، مذکورہ تحفہ مبینہ طور پر توشہ خانہ میں جمع نہیں کرایا گیا۔

    تفصیلی آرڈر میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈپٹی ملٹری سیکرٹری نے جیولری سیٹ کی اطلاع قیمت کے تعین کے ساتھ دی تھی، قیمت کا تعین پرائیویٹ اپریزر صہیب عباس اور پھر کسٹم حکام کے ذریعے کیا گیا، انڈر ویلیو تخمینہ حاصل کرنے کیلئے اثرو رسوخ استعمال کیا گیا۔

    تفصیلی آرڈر میں کہا گیا ہے کہ 2018 میں توشہ خانہ قوانین میں ترمیم کے بعد موصول ہونے والا ہر تحفہ توشہ خانہ میں جمع کرانا لازمی ہے، بلغاری جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع کرایا گیا نہ صحیح قیمت لگائی گئی، پرائیویٹ اپریزر صہیب عباس کے مطابق درخواست گزار کے پرائیویٹ سیکرٹری انعام شاہ نے کم تخمینے کیلئے دباؤ ڈالا، عدالت میں پیش کیے گئے شواہد ہی عدالت کو کسی نتیجے پر پہنچنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

    تفصیلی آرڈر کے مطابق استغاثہ کی جانب سے پیش گئے شواہد کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، مقدمے کے ٹرائل کے دوران تمام متعلقہ حقائق ریکارڈ پر لانے کیلئے استغاثہ کو منصفانہ موقع فراہم کیا جانا چاہیے، ملزمان کو گواہوں کی جانچ پڑتال اور جرح کا بھی موقع ملے گا، شہادتیں ریکارڈ کرنے کے بعد عدالت منصفانہ فیصلہ دے سکتی ہے۔

    تفصیلی آرڈر کے مطابق ملزمان کے خلاف توشہ خانہ کے پہلے ریفرنس کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، توشہ خانہ کا نیا مقدمہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، توشہ خانہ کے نئے مقدمے میں ابھی چارج فریم ہونا باقی ہے توشہ خانہ کے دونوں کیس ایک جیسے ہیں لیکن الزامات الگ الگ ہیں، مشاہدات کے ساتھ ملزمان کی بریت کیلئے دائر کی گئی درخواست بریت خارج کی جاتی ہے۔