Baaghi TV

Tag: عمران خان

  • ملک کا نظام عدالتوں ،پارلیمنٹ کے ہاتھ سے نکل کر کہیں اور جا چکا،عدالت

    ملک کا نظام عدالتوں ،پارلیمنٹ کے ہاتھ سے نکل کر کہیں اور جا چکا،عدالت

    عدالتی حکم کے باوجود عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی،

    راولپنڈی پولیس کے حکام اور درخواست گزار علی اعجاز بٹر اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے ۔ راولپنڈی پولیس کے آر پی او اور جیل سپرنٹینڈنٹ عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نا کرانے پر توہین عدالت کیس،غیر مشروط معافی چاہتے ہیں ، سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے بیان حلفی عدالت میں پیش کر دیا گیا ،سپریڈنٹ اڈیالہ جیل عبد الغفور انجم عدالت کے سامنے پیش ہوئے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ عدالتی حکم کے حوالے سے پولیس کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا ، ہم سوچ بھی نہیں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کریں ، عدالت نے کہا کہ ان کے بیان حلفی کے مطابق دو بجے وہ اڈیالہ جیل کے گیٹ پر تھے چار بجے تک وہ موجود رہے ،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ بچے بچے کو معلوم تھا کورٹ نے آرڈر کیا تھا آپ کہہ رہے ہیں ہمیں یہ آرڈر معلوم ہی نہیں ،ریجنل پولیس افسر راولپنڈی اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل بتا دیں کہ آپکو پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات روکنے کا کس نے کہا تھا تو کارروائی آپکے نہیں بلکہ اُن کے خلاف کروں گا ورنہ مجھے آپکے خلاف کارروائی کرنی پڑے گی،

    شعیب شاہین نے کہا کہ ہم گیٹ کے اندر موجود تھے اس کی ویڈیوز موجود ہیں ،اپوزیشن لیڈر کو گھسیٹتے ہوئے لیکر جاتے ہیں ،کوئی اور بندے نہیں تھے وہ صرف 5 بندے ہی موجود تھے

    عدالتی احکامات کے باوجود اڈیالہ جیل جانے سے روکنے کی عمر ایوب کی درخواست پر سماعت کے دوران شعیب شاہین نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود چار چار گھنٹے مجھے اڈیالہ جیل کے گیٹ پر بیٹھایا جاتا ہے ، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ شعیب صاحب غصہ ان پر نکال رہے ہیں غصہ کسی اور پر نکالیں ،

    عدالتی حکم کے باوجود عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ،عدالت نے سپریڈنٹ اڈیالہ جیل اور آر پی او راولپنڈی کی غیر مشروط معافی منظور کر لی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی کاروائی شروع نا کرنے کا فیصلہ کر لیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے آر پی او راولپنڈی اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی معافی قبول کر لی عدالت نے کہا کہ آپکو یہ آخری بار موقع دیا جا رہا ہے،عدالت نے ہدایات کے ساتھ توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی

    شعیب شاہین نے کہا کہ ہمارے ملک کا نظام ہی ایسا ہے ، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ شعیب صاحب ملک کا نظام ایک یا دو عدالتوں سے ٹھیک نہیں ہو گا،آپ کے ملک کا نظام عدالتوں کے ہاتھ سے نکل کر پارلیمنٹ کے ہاتھ سے نکل کر کہیں اور جا چکا ہے ،

    بشری بی بی کے شریعت ختم کرنے کےالزام،جنرل باجوہ کا ردعمل

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    24 نومبر حتمی ، سب نکلیں،بشری بی بی کا برقع میں خطاب

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

  • بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    مسلم لیگ ن کے رہنما،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو سیاسی مفادات کے لیے نشانہ بنانا افسوسناک ہے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سعودی عرب سے متعلق بیان پر رد عمل دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اقدام مایوس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے،سیاسی قوتیں اپنے مقاصد کیلیے خارجہ پالیسی پر سمجھوتہ کرنے سے باز رہیں،پاکستان اور سعودی عرب برادر ملک ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہیں،  ہمیں سعودی عرب کی ترقی اور خوشحالی کے سفر پر فخر ہے، پاکستان بھی سعودیہ سے قریبی تعلقات پر فخر کرتا ہے، سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے بشریٰ بی بی کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے ان سے گھڑی لے کر بیچ سکتے ہیں، کروڑوں کا منافع بنا سکتے ہیں، اب سٹوری فلوٹ کردی گئی کہ باجوہ نے کسی سے بات کی اس نے کسی اور سے بات کی، یہ سیاسی فائدے کیلئے کس حد تک جا سکتے ہیں، اب شریعت کارڈ کا بھی استعمال ہوگا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بشریٰ بی بی کے سعودی عرب سے متعلق بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی نے جس ملک پر الزام لگایا وہیں اپنی بیٹی کی شادی کی، اسی ملک نے انہیں تحائف دیے جنہیں بشریٰ بی بی نے بلیک مارکیٹ میں بیچ دیا۔

    دوسری جانب مشیراطلاعات خیبر پختون خوا بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی خود وضاحت کریں گی کہ یہ ان کا ذاتی بیان ہے یا پارٹی کا مؤقف ہے،بشریٰ بی بی کے پاس پارٹی کا کوئی تنظیمی عہدہ اور کوئی تنظیمی ذمے داری نہیں،پارٹی کا مؤقف تو پارٹی کا چیئرمین یا سیکریٹری جنرل ہی بیان کرے گا، بشریٰ بی بی کا اپنا نکتۂ نظریہ ہے، اس کے ساتھ پارٹی کا تعلق جوڑنا بے بنیاد ہے،عمران خان کو سعودی عرب نے سزا دلوائی یا حکومت سے ہٹایا اس پر پارٹی نے آج تک بیان نہیں دیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بشریٰ بی بی نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان جب مدینہ ننگے پاؤں گئے اور واپس آئے تو جنرل باجوہ کو کالز آنا شروع ہوگئیں کہ یہ آپ کس شخص کو لے آئے۔

    بشری بی بی کے شریعت ختم کرنے کےالزام،جنرل باجوہ کا ردعمل

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

    24 نومبر حتمی ، سب نکلیں،بشری بی بی کا برقع میں خطاب

  • آفر کی گئی،10 دن احتجاج ملتوی کریں تو بات چیت کیلئے تیار ہیں،عمران خان

    آفر کی گئی،10 دن احتجاج ملتوی کریں تو بات چیت کیلئے تیار ہیں،عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ روز سُنتے ہیں عمران خان ڈیل کررہا ہے، اگر ڈیل کرنا تھی تو ڈیڑھ سال جیل میں رہتے؟ 5 دن کیلئے عمران خان مزاحیہ کیس پر اب پولیس کی کسٹڈی میں ہیں،

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کسی سے ڈیل نہیں کرے گا، کیا انہوں نے فسطائیت گزار کر ڈیل کرنی تھی، عمران خان نے جیل میں رہ کر یہ سب کرنا تھا؟ عمران خان کی ضمانت میرٹ پر ہوئی، سب کیسز ختم ہوئے، جب کیسز نے دم توڑا تو پنجاب پولیس نے گرفتار کر لیا، کل ہمیں کہا گیا کہ عمران خان رہا ہو جائیں گے تو ہمیں یقین نہیں آ رہا تھا، ہمیں خوشی تھی لیکن اعتبار تھا کہ یہ عمران خان کو رہا نہیں کریں گے،جب سارے کیسز ختم ہو گئے تو ایک مزاحیہ قسم کا کیس میں عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا، عمران خان کا پانچ دن کا آج جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے،پولیس تحقیقات کرنا چاہ رہی ہے، ایک پولیس والے نے یہ بتایا کہ گاڑی کو آگ لگائی جانے لگی تھی اور پولیس نے بچا لیا، ایک پولیس والے کے گریبان کا بٹن ٹوٹا، عمران خان نے جیل میں بیٹھ کر اکسایا اس وجہ سے یہ سب ہوا،

    علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نےکہا کل مجھےانہوں نےآفر کی آپ 10 دن کیلئے احتجاج ملتوی کریں ہم بات چیت کیلئے تیارہیں،میں نے کہا ٹھیک ہے ،پہلا قدم ہے جو ناحق قید میں ہیں،پہلےبے گناہ لوگوں کو رہا کرو،بجائے رہائی کے مجھ پر کیس بنا دیا، اس سے واضح ہوا طاقتور لوگ جس وقت چاہئیں آپ کو قید میں رکھ لیں اور رہا کردیں،عدالت حکم دے گی رہائی کا پھر بھی وہ قید میں رکھیں گے، اور جس طرح چاہیں رہا بھی کر سکتے ہیں جیسے نواز شریف کے دو دن میں کیسز ختم ہو گئے،عمران خان نے کہا ورغلایا جارہا ہے، 24 نومبر میری فائنل کال ہے، 8 فروری کو نکلنے کا کہا تھا، اب 24 نومبر کو دوسری کال دے رہا ہوں، سارے قوم نکلے،عمران خان نے کہا ہے پوری دنیا میں پاکستانی احتجاج کیلئے نکلیں گے،کیونکہ ان کے ملک آزاد ہیں وہ وہاں پر نکل سکیں گے، اگر پاکستا ن میں آزادی ہوئی تو ہم بھی نکل سکیں گے، ہمارا پیسہ، لوگ باہر جا رہے ہیں، نوجوان نسل باہر جا رہی ،کیسے ہم نے دوبارہ پاکستان کو بنانا؟

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    ہمیں حکومت کی نیت کا پتہ چل چُکا ،احتجاج بھی ہوگا مذاکرات بھی چلتے رہیں گے، عمران خان
    دوسری جانب عمران خان نے میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر گوہر کے ذریعے آفر آئی کہ احتجاج ملتوی کر دیں،24 نومبر کا احتجاج ہر صورت ہو گا، مذاکرات چلتے رہتے ہیں مگر یہ پتہ چل گیا کہ یہ سیریس نہیں تھے،یہ صرف احتجاج ملتوی کرانا چاہتے تھے،ہائی کورٹ نے کل ضمانت منظور کی حکومت کے پاس سنہری موقع تھاکہ مجھے رہا کر دیتے، واضح ہو گیا کہ حکومت مجھے انگیج کر کے معاملے کو طول دینا چاہتی ہے،یہ بھی واضح ہو گیا کہ اصل طاقت جس کے پاس ہے اسی نے یہ سب کیا،یہ سب کچھ یہ بتانے کے لیے کیا گیا کہ وہ جو چاہیں کریں وہ قانون سے بالاتر ہیں، میں جیل میں ہوں اور مجھ پر کیسز پر کیسز بنائے جا رہے ہیں،ہائی کورٹ ضمانت منظور کرتی ہے اور یہاں پہلے سے طے ہو جاتا ہے کہ رہائی نہیں دینی، 26 ویں آئینی ترمیم مکمل نافذ ہو گئی تو کہیں سے ریلیف نہیں ملے گا،ہمارے پاس زندہ قوم کی طرح احتجاج کے علاوہ کوئی راستہ نہیں،24 نومبر کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ریکارڈ احتجاج ہوگا، ہمیں حکومت کی نیت کا پتہ چل چُکا ہے،احتجاج بھی ہوگا مذاکرات بھی چلتے رہیں گے، اب واضح ہو چکا ہے کہ مجھے 24 نومبر سے پہلے رہا نہیں کریں گے،ہم ان کی کیا بات مانیں مذاکرات ہوں گے تو بات آگے چلے گی،اگر وہ بات چیت میں سنجیدہ ہیں تو ہمارے لوگوں کو رہا کیا جائے،جیل میں رہتے ہوئے مجھ پر 60 کیسز ہو چکے ہیں،نواز شریف نے کتنے شورٹی بانڈ جمع کروائے تھے،نواز شریف کی بائیو میٹرک بھی ایئرپورٹ گئی تھی،مذاکرات جن سے ہو رہے ہیں نام نہیں بتا سکتا، ہمارے چارٹر آف ڈیمانڈ میں سب گرفتار لوگوں کی رہائی ہے،سارے مین کیسز میں میری ضمانت ہو چکی ہے،یہ جو مذاکرات تھے اس میں سنجیدگی نظر نہیں آئی،میں نے خود سمیت انڈر ٹرائل لوگوں کی رہائی کا مطالبہ رکھا تھا،یہ ڈیمانڈ وہ تھی جو فوری طور پر پوری ہو سکتی تھی جو انھوں نے نہیں کی،

  • اسلام آباد ہائیکورٹ ، توشہ خانہ ون کیس، سزا کے خلاف اپیلیں میرٹ پر سننے کا فیصلہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، توشہ خانہ ون کیس، سزا کے خلاف اپیلیں میرٹ پر سننے کا فیصلہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ ،توشہ خانہ ون کیس میں عمران خان اور بشری بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی.

    بیرسٹر علی ظفر اور نیب ٹیم کمرہ عدالت پہنچ گئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کیس میں میرٹ پر دلائل شروع کرنے سے پہلے کچھ کہنا چاہوں گا ، آپ نے مجھے کہا تھا کہ میں بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کر لوں ، مجھے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی ،مجھے اب لیگل ٹیم سے ان ڈائریکٹ ہدایات مل چکیں ہیں ، میں ان اپیلوں پر اپنے دلائل شروع کروں گا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے سائفر کیس سنتے ہوئے میوزک فیس کیا ہے،پھر بنچ پر بات آتی ہے دو ماہ ہو چکے فیصلہ نہیں ہوا ،اس کیس میں 342 بھی نہیں ہوا کچھ گواہوں پر جرح بھی نہیں ہوئی ،ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ کیا ہم کیس کے میرٹ کی طرف جا بھی سکتے ہیں ،علی ظفر نے کہا کہ اس کیس میں غلطی پراسیکوشن کی ہے وہ میں آپ کو دکھاؤں گا ،امجد پرویز نے کہا کہ انہوں نے کورٹ زیچ کیا جس کے بعد یہ ہوا میں دکھاؤں گا ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ون کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں میرٹ پر سننے کا فیصلہ کر لیا،توشہ خانہ ون کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 27 نومبر تک ملتوی کر دی گئی،آئیندہ سماعت پر بیرسٹر علی ظفر میرٹ پر دلائل دیں گے ،

    پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

  • توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ پر پھر فردجرم عائد نہ ہوسکی،بشریٰ بیمار

    توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ پر پھر فردجرم عائد نہ ہوسکی،بشریٰ بیمار

    اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس پر سماعت ہوئی

    سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس پر سماعت کی ،بانی پی ٹی آئی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا ،عمران خان اور بشری بی بی پر توشہ خانہ ٹو کیس میں فرد جرم عائد نہ ہو سکی ،بشری بی بی کی طبی بنیادوں پر حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کی گئی ،وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی میڈیکل چیک اپ رپورٹ بھی حاضری سے استثنی کی درخواست کے ساتھ منسلک ہے۔

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر کی جانب سے بشری بی بی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ فرد جرم کو تاخیر کا شکار کرنے کے لیے حاضری سے استثنی کی درخواستیں دی جا رہی ہیں ۔ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں گواہوں کے بیان نیب قانون کے تحت ریکارڈ ہوئے۔ توشہ خانہ ٹو کیس ایف ائی اے کو ٹرانسفر ہو چکا ہے اور اب ضابطہ فوجداری قانون کے تحت چل رہا ہے۔کیس ایف ائی اے کو ٹرانسفر ہونے کے بعد ضابطہ فوجداری قانون کے لوازمات پورے نہیں کیے گئے۔

    سلمان صفدر نے توشہ خانہ ٹو کیس کاریکارڈ فراہمی کی تحریری درخواست بھی عدالت میں جمع کرا دی،عدالت نے بشری بی بی کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 26 نومبر تک ملتوی کر دی

    پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

  • پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی احتجاج، انٹرنیٹ،موبائل سروس بند کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا 24 نومبر کو احتجاج، 23 نومبر سے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس جزوی معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس اسلام آباد، کے پی اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں معطل کی جا سکتی ہے،پی ٹی اے کی جانب سے 22 نومبر سے موبائل انٹرنیٹ سروس پر فائر وال ایکٹیو کر دی جائے گی، فائر وال ایکٹیو ہونے سے انٹرنیٹ سروس سلو جبکہ سوشل میڈیا ایپز پر ویڈیوز، آڈیوز ڈؤان لوڈ نہیں ہو سکیں گی،احتجاج کی صورتِ حال دیکھتے ہوئے کسی بھی وقت مخصوص مقامات پر انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل کی جا سکتی ہے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے احتجاج کی تیاریاں جاری ہیں، پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کہتے ہیں کہ 24 نومبر احتجاج کےلئے ہم نے حکمت عملی تبدیل کی ہوئی ہے، پشاور، مردان، چارسدہ اور نوشہرہ کے کارکن صوابی سے اسلام آباد جائیں گے، باقی اضلاع کے کارکن مختلف روٹس سے ہوتے ہوئے اسلام آباد کی طرف مارچ کرینگے

    علاوہ ازیں تحریکِ انصاف نے 24 نومبر کے احتجاج کے لیے خصوصی اسکواڈ تیارکیا ہے، اسکواڈ میں پی ٹی آئی یوتھ ونگ کے 9 ہزار کارکنان شامل ہوں گے، صوبائی وزیر مینا خان اور معاونِ خصوصی سہیل آفریدی اس اسکواڈ کی قیادت کریں گے، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے پی ٹی آئی پشاور کے اجلاس میں اسکواڈ کو جہادی قرار دیا تھا، میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اسکواڈ سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خصوصی اسکواڈ مرکزی قافلے کے آگے ہو گا اور اس اسکواڈ کو شیلنگ سے بچاؤ کا سامان بھی دے دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کا احتجاج روکنے کیلئے راولپنڈی میں کنٹینرز کا جال بچھا دیا گیا، دفعہ 144نافذ کی گئی ہے، راولپنڈی میں 26 نومبر تک دفعہ 144 نافذ، ہر قسم کے جلسے جلوس،ریلیوں اور 4 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ، تو ہیں پی ٹی آئی جلسے کو روکنے کے لئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،پی ٹی آئی کارکنوں کو اسلام آباد جانے سے روکنے کے لئے راولپنڈی کو 50 مختلف مکامات سے بند کرنے منصوبہ بنا لیا گیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق سینئر پولیس اہلکار نے تصدیق کی کہ راولپنڈی کو 50 پوائنٹس سے مال بردار کنٹینرز، اور خاردار تاروں سے سیل کر دیا جائے گا کیونکہ ایلیٹ فورس کے کمانڈوز سمیت ضلعی پولیس کو تعینات کیا جائے گا اور کسی کو احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    علاوہ ازیں وزارت داخلہ پاکستان نے چیف سیکرٹری خیبر پختون خواہ کو مراسلہ لکھ دیا ہے کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ 24 نومبر کے احتجاج میں کوئی بھی سرکاری مشینری، لوگ یا پیسہ استعمال نہیں ہو گا

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ کل عمران خان کو ریلیف ملا ہے،باقی کیسز میں بھی ملے گا،قانون کے مطابق آگے بڑھیں گے اور ریلیف مل جائے گا،پی ٹی آئی کا احتجاج کامیاب ہو گا، ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، باقی کیسز میں بھی ریلیف ملے گا،

    پولیس چھاپے کے دوران چھت سے گرنے والے پی ٹی آئی کارکن کی موت

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

  • توشہ خانہ میں ضمانت، عمران خان نئے کیس میں گرفتار

    توشہ خانہ میں ضمانت، عمران خان نئے کیس میں گرفتار

    اسلام آباد: توشہ خانہ 2 میں ضمانت کے بعد نئی گرفتاری ڈال دی گئی۔

    باغی ٹی وی : عمران خان کو تھانہ نیوٹاؤن راولپنڈی کے مقدمہ میں گرفتار کر لیا ہے مقدمہ جلاؤ گھیراؤ، پتھراؤ، پولیس سے مزاحمت، سرکاری املاک کی نقصان رسانی سمیت دیگر واقعات پر درج کیا گیا،مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات 7ATA, 21-I ATA اور 353, 186, 285,286,148, 149, 427, 109, 188 تعزیرات پاکستان کے تحت درج کیا گیا ہے،عمران خان کے خلاف تھانا نیو ٹاون میں مقدمہ 28 ستمبر کو درج کیا گیا تھا۔

    ایس ایس پی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں تفتیشی ٹیم عمران خان سے تفتیش کر رہی ہے،عمران خان کو کل جسمانی ریمانڈ کے حصول کے لئے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس ٹو میں بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت منظور کرلی اور انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے،ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو 10، 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی انہیں ٹرائل کورٹ کے سامنے بھی پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔

  • احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    احتجاج کی کال،پی ٹی آئی کی گرفتاریوں کی حقیقت فرمائشی گرفتاری نے کی بے نقاب

    تحریک انصاف نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کیا ہے اور اب تحریک انصاف یہ شور کر رہی ہے کہ اسکے کارکنان کو پولیس گرفتار کر رہی ہے تاہم ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس نے پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں کی‌حقیقت سامنے رکھ دی ہے، پی ٹی آئی کی کال پر عوام اسلام آباد جانے کو تیار نہیں، کوئی بات نہیں سن رہا اسلئے پی ٹی آئی کے مقامی رہنما از خود پولیس کو گرفتاریاں دے رہے ہیں تا کہ بدنامی سے بچا جا سکے

    تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کی کال پر پولیس نے گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ شروع کردی ہے تو وہیں کارکنان کو بھی گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے ،تاہم حقیقت میں عمران خان کی کال پر اس بار عوام نکلنے کو تیار نہیں وہیں بشریٰ بی بی کی دھمکیوں اور ہتک آمیز رویئے کے بعد اراکین اسمبلی اور پارٹی رہنما بھی نالاں ہیں کہ بشریٰ جو گھریلو خاتون ہے پارٹی سے تعلق نہیں اسکا حکم کیسے اور کیوں مانیں،اسی لئے پی ٹی آئی رہنما عوام کو نکالنے میں دلچسپی نہیں لے رہے تو ہیں عوام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے پی ٹی آئی کے مقامی رہنما بھی مایوس ہو چکے ہیں اور از خود پولیس کو گرفتاریاں دینا شروع کر دی ہین، ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں پی ٹی آئی کا مقامی رہنما از خود پولیس کو گرفتاری دے رہا ہے،اس ویڈیو نے پی ٹی آئی کے احتجاج کی کال کی پول کھول دی ہے،

    تحریک انصاف کے سیاسی معاملات اور حکمت عملی کے حوالے سے حالیہ صورتحال نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ عوامی جلسوں اور مظاہروں کے دوران کم ہوتی ہوئی عوامی شرکت کے ساتھ، پارٹی کے اندرونی معاملات اور موجودہ حکومتی دباؤ نے سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی اپنی سابقہ مقبولیت کو برقرار رکھ سکے گی؟پی ٹی آئی کے ترجمانوں کی جانب سے بارہا دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پارٹی کارکنان اور رہنماؤں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، یہ گرفتاریاں حکومت کی جانب سے سیاسی دباؤ ڈالنے کا ایک حربہ ہیں۔ دوسری طرف، حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کرتی ہے کہ کارروائیاں قانونی طور پر کی جا رہی ہیں اور یہ صرف ان افراد کے خلاف ہیں جنہوں نے قانون توڑا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ نو مئی, اکیس ستمبر اور پانچ اکتوبر پرتشدد احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات پر گرفتاریاں شروع ہوئیں ،ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر 92 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ۔گرفتار ملزمان نو مئی کے پر تشدد واقعات اکیس ستمبر کے جلسہ اور پانچ اکتوبر لاہور احتجاج میں ملوث ہیں ۔زیر التواء گرفتاریاں مکمل کرکے ملزمان کو مقدمات میں نامزد کیا جارہا ہے ،ملزمان کی شناخت کلوزسرکٹ فوٹیجز اور دیگر شواہد کی بناء پر کی جاچکی ہے ۔گرفتاریاں شاہدرہ ۔ راوی روڈ ۔ بادامی باغ ۔ مناواں کے علاقوں سے کی گئیں ۔ گرفتار ملزمان کے حوالے سے موجود شواہد پر تفتیشی دستاویزات مرتب کی جائیں گی ۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری مہنگائی اور بے روزگاری کے سبب عوام پریشان ہے، احتجاج ، دھرنوں سے جہاں سب کچھ بند ہو جاتا ہے وہیں دیہاڑی دار،مزدور کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس وجہ سے عوام نہیں نکل رہے تو وہیں پارٹی کے اندرونی اختلافات اور رہنماؤں کی تقسیم کی وجہ سے بھی کارکنان بھی نکل نہیں رہے کیونکہ پچھلی بار علی امین گنڈا پور اسلام آباد آ کر غائب ہو گئے تھے اور کوئی دیگر پارٹی رہنما منظر پر ہی نہیں آئے تھے،پارٹی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اپنی حکمت عملی کو بہتر نہ بنا سکی تو اسے مزید سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ پی ٹی آئی کی کال پر اب کوئی نکلنےکو تیار نہیں، وکیلوں نے تو پی ٹی آئی کا بیڑہ غرق کیا ہی تھا اب باقی کسر بشریٰ بی بی اور علیمہ خان نکال رہی ہیں

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

  • ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    پی ٹی آئی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان کو ضمانت ملنے پر اتنی جلدی خوشیاں منانے کی ضرورت نہیں

    آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ ٹو میں بانی پی ٹی آئی کو ضمانت دے دی – یہ ایک روٹین کا فیصلہ ہے کیونکہ اس سے پہلے بشری بی بی کو بھی عدالت ریلیف دے چکی ہے، اس لیے ابھی خوشیاں منانے میں جلدی نا کی جائے ،عمران خان جیل سے باہر نہیں آ پائیں گے کیونکہ ابھی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کی بریَت کی درخواست ہائی کورٹ نے مسترد کر دی ہوئی ہے اور ٹرائل کورٹ میں کیس چل رہا ہے اور اس کیس میں سزا لازمی نظر آ رہی ہے

    اِسی طرح ۹ مئی کے پانچ مقدمات میں عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں اور 27 نومبر کو اس کیس پر سماعت بھی ہے اور انکے ضمانتی مچلکے بھی جمع نہیں اس لیے پنجاب پولیس ان مقدمات پر بھی گرفتاری ڈال دے گی، یاسمین راشد اور شاہ محمود قریشی کی تاریخیں ڈلتی جا رہی ہیں اور ضمانت کی درخواست پر فیصلے ہوتے نظر نہیں آتے اِسی طرح قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس بھی اُسی طرح نپٹایا جائے گا

    دوسری بات یہ کہ یہ محض اتفاق نہیں کہ آج عمران نیازی کو اچانک ضمانت مل گئی ہے – کچھ عرصہ پہلے بشریٰ بی بی کو بھی رہا کر دیا گیا تھا – جیل میں ملاقاتیں بھی اِسی سلسلے کی کڑی ہے – پہلے ہی واضح تھا کہ پی ٹی آئی نورا کشتی کھیل رہی ہے اور 24 نومبر کو احتجاج کا اعلان صرف ڈرامہ رچایا جا رہا ہے آج یہ بھی ثابت ہو گیا،

    پی ٹی آئی والے جن عدالتوں کو یہ دن رات گالیاں دیتے ہیں وہی ان کو ہر مقدمے اور اپیل میں ریلیف دیتی جا رہی ہے کس منہ سے یہ لوگ عدلیہ پر تنقید کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کے ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا یہ ٹوپی ڈرامہ بھی عوام اچھی طرح سمجھ چکے ہیں

    عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

  • عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    اڈیالہ جیل میں قیدسابق وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظور کر لی ہےتاہم عمران خان کی رہائی نہیں ہو گی وہ جیل میں ہی رہیں گے، عمران خان پر نومئی کے مقدمات ہیں، پنجاب اور اسلام آباد میں درج کچھ مقدمات میں عمران خان کی ضمانت نہیں ہوئی، تو وہیں عمران خان کو آج ملنے والا ریلیف عارضی ہے

    قانونی ماہرین کے مطابق عمران خان کو توشہ خانہ ٹو کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت کا ریلیف صرف تکنیکی بنیادوں پر حاصل ہوا ہے۔ عمران خان اب بھی توشہ خانہ سے چیزیں لینے میں قصوروار ہیں، اور دورانِ ٹرائل ان پر فردِ جرم عائد ہونے کا امکان موجود ہے۔عدالت میں ان پر کیس چل رہا ہے، بشریٰ بی بی بھی اس کیس میں ضمانت پر ہیں اور آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضمانت کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی اے پرا سکیوٹر کو کہا کہ اگر بشریٰ بی بی کیس میں پیش نہیں ہو رہیں تو ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کر دی

    اس سے پہلے بھی توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی، جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے ختم کردیا تھا۔ موجودہ ضمانت کا سبب نیب وکلا کی جانب سے کیس کو موثر انداز میں نہ لڑنا بتایا جارہا ہے،عمران خان کو اس کیس میں ضمانت تو مل گئی تا ہم عمران خان صادق اور امین نہیں قرار پائے، عمران خان کا توشہ خانہ کیس کا ٹرائل چل رہا ہے اور عدالت نے دوبارہ ٹرائل کا حکم دیا ہے۔ عمران خان کے ضمانت ملنے کے فیصلے پر مٹھائی بانٹنے والوں کو جان لینا چاہئے کہ عمران خان کو عارضی ریلیف ملا ہے، عمران خان کے لیے قانونی مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں، اسی کیس میں عمران خان کو سزا بھی مل سکتی ہے

    عمران خان کے خلاف لاہور میں درج 9 مئی کے 3 کیسز میں ضمانت خارج کی گئی تھی، عمران خان کی راولپنڈی 9 مئی کے 14 مقدمات میں ضمانت کے باوجود ضمانتی مچلکے جمع نہیں کروائے گئے۔عمران خان کے خلاف راولپنڈی میں 28 ستمبر اور 5 اکتوبر کو بھی دہشت گردی کے مقدمات درج ہیں۔

    واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی پر توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی وکلا مسلسل تاخیر کے حربے استعمال کر رہے ہیں، قوی امکان ہے کہ جب فیصلہ آئے گا تو اس کیس میں عمران خان کو سزا ہو گی، کیونکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے قانون کی خلاف ورزی کی، ملنے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کروانے کی بجائے بیچ ڈالے،